56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 56:1–2

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب قیامت واقع ہوگی

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کو جھٹلانے والا کوئی نہ ہوگا

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة واقعہ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابو عبید نے اپنے فضائل میں وابو یعلی وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کہ جس نے ہر رات کو ” سورة واقعہ “ پڑھی اسے کبھی فاقہ نہیں پہنچے گا۔ سورۃ واقعہ کی فضیلت 4۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہر رات کو سورة واقعہ پڑھی اسے کبھی فاقہ نہیں پہنچے گا۔ 5۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة واقعہ سورة الغنیٰ ہے۔ اس کو پڑھو اور اس کو اپنی اولاد کو بھی سکھاؤ۔ 6۔ الدیلمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی عورتوں کو سورة واقعہ سکھاؤ کیونکہ یہ سورة الغنی ہے۔ 7۔ ابو عبید نے سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عورتوں سے فرمایا۔ کوئی تم میں سے سورة واقعہ پڑھنے سے عاجز نہ ہوجائے۔ 8۔ عبدالرزاق واحمد ابن خزیمہ وابن حبان والحاکم اور طبرانی نے الاوسط میں جابر بن سمرۃ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فجر (کی نماز) میں سورة واقعہ اور اس جیسی سورتوں میں سے پڑھتے تھے۔ 9۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ( سورة ) واقعہ آیت الحاقہ عم یتساء لون، النازعات، آیت اذا الشمس کورت واذا لسماء انفطرت باصرار (یعنی باربار) پڑھا کرتے تھے تو اس سے فقر وفاقہ اڑجاتا (یعنی ختم ہوجاتا) ابوبکر ؓ نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کی طرف فقر بڑی تیزی سے بڑھتا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ مجھے سورة ہود اور اس کے ساتھ والی دیگر سورتوں نے بوڑھا کردیا۔ 10۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اذا وقعت الواقعۃ سے مراد ہے قیامت کے دن (قیامت برپا ہوجائے گی) آیت لیس لوقعتہا کاذبہ (کہ اس واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں) سے مراد یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی لوٹانے والا نہیں کہ اس کو واپس لوٹا دے۔ آیت خافضہ رافعہ (پست کرنے والی اور بلند کرنے والی) یعنی بعض لوگوں کو پست کردے گی اور بعض دوسروں کو بلند کردے گی۔
Ayahs 56:3–5

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

وہ پست کردے گی بلند کردے گی

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے

خافضہ کی تفسیر 11۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت خافضہ رافعہ سے مراد ہے کہ وہ اپنی آواز قری والوں کو اور دور والوں کو سنادے گی۔ 12۔ ابن جریر وابن ابی حاتم عن عثمان بن سراقہ عن خالد عمر بن خطاب ؓ سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف پستی میں لے جائے گی اور اللہ کے دوستوں کو جنت کی طرف بلند کردے گی۔ 13۔ سعید بن منصور وابن المنذور وابوا الشیخ نے العظمہ میں محمد بن کعب (رح) سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ ان لوگوں کو نیچا کردے گی جو دنیا میں اونچے تھے۔ اور ان لوگوں کو اونچا کردے گی۔ جو دنیا میں نیچے تھے۔ 14۔ ابو الشیخ نے سدی (رح) آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ متکبرین کو نیچا کردے گی اور عاجزی کرنے والوں کو اونچا کردے گی 15۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت نازل ہوئی آیت اذا وقعت الواقعۃ (جب واقع ہوگی واقع ہونے والی یعنی قیامت) پھر اس کے ساتھ یہ آیت نازل ہوئی آیت لیس لوقعتھا کاذبہ (کہ اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں) اور آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں فرمایا کہ ایک قوم کو اللہ کے عذاب میں پستی میں گرادے گی اور ایک قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت و کرامت میں اونچا کردے گی۔ آیت اذا رجت الارض رجا (جب زمین میں سخت زلزلہ آئے گا) یعنی (زمین) میں شدید زلزلہ آئے گا آیت وبست الجبال بسا (اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے) یعنی بالکل ریزہ ریزہ۔
Ayah 56:6

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے

آیت فکانت ہباء منبثا ( پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) جیسے خشک درختوں کے پتوں کو ہوائیں دائیں اور بائیں اڑا کرلے جاتی ہیں۔ 16۔ ابن ابی شیبہ نے زید بن اسلم (رح) سے آیت خافضۃ رافعہ کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص اس دن پست ہوگیا وہ کبھی بلند نہ ہوگا اور جو شخص اس دن بلند ہوگیا وہ کبھی پست نہ ہوگا۔ 17۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا رجت الارض رجا یعنی جب (زمین پر) زلزلہ آئے گا۔ آیت وبست الجبال بسا۔ یعنی پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے۔ آیت فکانت ہباء منبثا (پھر وہ پراگندہ غبار ہوجائیں گے) سورج کی کرنوں کی طرح غبار بن کر بکھر جائیں گے ْ 18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا رجت الارض یعنی زمین کانپنے لگے گی۔ اور اس میں زلزلہ آجائے گی۔ آیت وبست الجبال بسا۔ یعنی پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ 19۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ آیت اذا رجت الارض رجا یعنی زلزلہ آجائے گا۔ آیت وبست الجبال بسا یعنی پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ 20۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت فکان ہباء منبثا کے بارے میں روایت کی کہ اس سے مراد ہے کہ آگ کی وہ چنگاریاں کہ جب آگ بھڑکتی ہے تو اس میں سے چنگاریاں اڑتی ہیں جب وہ چنگاریاں نیچے گرتی ہیں تو وہ کوئی چیز نہیں ہوتی۔ 21۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے حضرت علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ الھباء المنبث سے مراد ہے پراگندہ اڑایا ہوا غبار اور الہباء المنثور سے رماد سورج کا وہ غبار جو تو اس کو روشندان کے شعاعوں کے ساتھ روشندان میں سے نکلتا ہے۔ 24۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہباء منبثا سے وہ شعاع مراد ہے جو روشندان میں ہوتی ہے۔ 25۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ہباء منبثا سے مراد ہے وہ غبار جو تو اس کو دھوپ میں دیکھتا ہے جب وہ دھوپ روشندان سے کمرے میں داخل ہوتی ہیں۔
Ayah 56:7

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم تین قسم ہوجاؤ گے

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وکنتم ازواجا ثلٰثہ سے مراد ہے کہ تم لوگ تین قسموں میں تقسیم کردئیے جاؤگے۔ 2۔ ابن المنذور ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وکنتم ازواجا ثلثہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہی ہے جس کا ذکر سورة الملائکہ (یعنی سورة فاطر) میں ہے (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) آیت ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا فمنہم ظالم لنفسہ، ومنہم مقتصد، ومنہم سابق بالخیرات، (فاطر : آیت 32) (پھر ہم نے اپنی کتاب کا ان کو وارث بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا پس بعض ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں سے میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے اللہ کے حکم سے نیکیوں میں پیش قدمی کرنے والے ہیں۔ 3۔ ابن المنذور نے ابن عباس ؓ سے آیت وکنتم ازواجا ثلثہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اس وقت ہوگا جب لوگوں کی منزلیں متفرق ہوں گی۔ ان میں سے کچھ اصحاب الیمین کچھ اصحاب الشمال اور کچھ سابقین ہوں گے۔
Ayahs 56:8–9

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

سو جو داہنے والے ہیں وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں

۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکنتم ازواجا ثلثہ سے مراد ہے قیامت کے دن لوگوں کی منزلیں تین قسم کی ہوں گی۔ آیت فاصحاب المیمۃ ما اصحاب المیمنۃ (اور دائیں طرف والے کیسے اچھے ہوں گے دائیں طرف والے) یعنی کیا ہی شان ہوگی۔ دائیں ہاتھ والوں کی اور جو کچھ ان کے لیے تیار کیا گیا۔ آیت واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ (اور بائیں طرف والے کیا ہی برے ہوں گے بائیں طرف والے) یعنی کیا ہی برا حال ہوگا بائیں ہاتھ والوں کا اور جو کچھ تیار کیا گیا ان کے لیے آیت والسبقون السابقون (اور جو اعلیٰ درجہ کے ہاں گے وہ تو اعلیٰ درجہ کے ہوں گے) یعنی ہر امت میں سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن جریر نے حسن (رح) سے آیت وکنتم ازواجا ثلثہ سے لے کر آیت وثلۃ من الاٰ خرین تک کے بارے میں روایت کیا کہ برابری اور مساوات کردی جائے گی۔ سابقہ امتوں کے دائیں ہاتھ والوں اور اس امت کے دائیں ہاتھ والوں کے درمیان۔ اور نیکیوں میں سبقت لے جانے والے پہلی امتوں میں سے زیادہ ہوں گے اس امت کے نیکیوں میں سبقت لے جانے والوں میں سے۔
Ayahs 56:10–14

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور جو آگے بڑھنے والے وہ آگے بڑھنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہ خاص قرب رکھنے والے ہیں

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

یہ لوگ آرام کے باغوں میں ہوں گے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

ان کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے

4 سبقت کرنے والوں کی چار قسمیں 6۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والسبقون السبقون سے مراد ہے کہ یوشع بن نون آگے بڑھے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف۔ اور آل یسین کے مومن آگے بڑھے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اور علی بن ابی طالب ؓ آگے بڑھے رسول اللہ ﷺ کی طرف (اور سبقت لے گئے ) ۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبقت کرنے والے قیامت کے دن چار قسم کے ہوں گے۔ بس میں عربوں سے سبقت لے جانے والا ہوں اور سلمان ؓ اہل فارس سے سبقت لے جانے والے ہیں اور حضرت بلال ؓ اہل حبشہ سے سبقت لے جانے والے ہیں اور صہیب ؓ اہل روم میں سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ 8۔ ابو نعیم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت والسبقون السبقون، اولئک المقربون (اور سبقت کرنے والے جو سبقت کرنے والے ہیں وہ تو اللہ کے مقرب ہوں گے) سے مراد وہ آدمی ہے جو مسجد میں سب سے پہلے داخل ہوتا ہے اور سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ 9۔ عبدبن حمید وابن المنذر نے عثمان بن ابی سودہ جو عبادہ بن صامت ؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں ان سے روایت کیا کہ ہم کو اس آیت آیت والسبقون السبقون کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ اس سے مراد ہے دوسرے سے آگے بڑھنے والے مسجدوں کی طرف اور اللہ کے راستے میں نکلنے والے 10۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت والسبقون السبقون کے بارے میں روایت کیا کہ سبقت کرنے والے ہر امت میں سے ہوں گے۔ 11۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت آیت والسبقون السبقون حزقیل مومن آل فرعون، حبیب نجار جس کا ذکر سورة یسین میں ہے اور علی ابن ابی طالب ؓ کے بارے میں نزال ہوئی۔ ان میں سے ہر آدمی اپنی امت میں سبقت کرنے والا ہے اور علی ؓ ان سب سے افضل ہیں سبقت کرنے والوں میں سے۔ 13۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت آیت واذا لنفوس زوجت کے بارے میں فرمایا کہ ہر آدمی اس قوم کے ساتھ مل کر ایک قسم ہے جو وہ ان جیسے اعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت وکنتم ازواجا ثلثہ، فاصحب المیمنۃ ما اصحب المیمنۃ، واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ والسبقون السبقون اولئک المقربون، فرمایا کہ یہ ان کی قسمیں ہیں۔ 14۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ثلۃ سے رماد ہے گروہ یا جماعت۔ 15۔ احمد وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی، آیت ثلۃ من الولین، وقلیل من الاٰخرین۔ (ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے) تو یہ (حکم) رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ پر بہت بھاری گذرا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی، آیت ثلۃ من الاولین، وثلۃ من الاٰخرین۔ (ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم جنت والوں میں سے چوتھائی ہوگے یا تہائی ہوگے بلکہ تم جنت والوں میں سے آدھے ہوگے یا تم اہل جنت کا ایک شطر ہوگے۔ اور دوسرے شطر میں سے بھی تم ان کو تقسیم کرو گے ( یعنی اس سے بھی کچھ لے لو گے) ۔ 16۔ ابن مردویہ وابن عساکر نے عروہ بن رویم کے طریق سے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت اذا وقعت الواقعہ نازل ہوئی اور اس میں یہ ذکر کیا گیا کہ آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰ خرین تو عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمر ! آجاؤ اور سنو جو اللہ تعالیی نے نازل فرمایا (یعنی آیت) آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین (پھر فرمایا) خبردار سنو ! کہ بیشک آدم (علیہ السلام) سے لے کر مجھ تک ایک بڑا گروہ ہے اور میری امت بھی ایک بڑا گروہ ہے اور ہم ہرگز اپنے گروہ کو مکمل نہیں کریں گے یہاں تک کہ ہم مدد لیں گے ان اونٹ چرانے والے حبشیوں سے جو یہ گواہی دیتے ہیں کہ اکیلے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور ابن حاتم نے ایک دوسری سنت سے عروہ بن رویم سے اسی روایت کو مرسلاً ذکر کیا۔ (یہ روایت مرسل ہے) 17۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) آیت ثلۃ من الاولین وقلیل من الاٰخرین۔ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ غمگین ہوگئے۔ اور انہوں نے کہا تب تو محمد ﷺ کی امت میں سے تھوڑے لوگ ہوں گے تو نصف النہار کے وقت یہ آیت آیت ثلۃ من الاولین وقلیل من الاٰخرین نازل ہوگئی۔ یعنی تم لوگوں کے مقابل ہو گے (یعنی ان کے برابر ہوگے) تو یہ آیت) آیت وقلیل من الاٰخرین منسوخ ہوگئی۔ 18۔ ابن المنذور نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثلۃ من الاولین سے مراد ہے ان لوگوں میں سے جو گزر چکے اور آیت وقلیل من الاٰخرین سے مراد ہے اس امت سے۔
Ayah 56:15

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

وہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر

جنت کے پلنگ کا ذکر 19۔ ابن جریر وابن المنذر و بیہقی نے البعث ونشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت علی سرر موضونۃ (وہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر ہوں گے) یعنی ان پلنگوں پر جو بچجھے ہوئے ہوں گے۔ 20۔ سعید بن منصور وہناد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے آیت علی سرر موضونۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ان پلنگوں پر جو بنے ہوئے ہوں گے سونے کی تاروں سے۔ 21۔ ابن ابی شیبہ وہناد ووعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت موضونہ سے مراد ہے سونے کی تاروں سے بنا ہوا۔ 22۔ ہناد نے سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 23۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ موضونہ سے مراد ہے بنا ہوا اور یہ بہت مضبوط پلنگ ہوتا ہے۔ 24۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن رزق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت علی سرر موضونہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ” الموضونہ “ سے مراد ہے ایسا پلنگ جس کو چاندی کی تاروں سے بنا جائے اور اس پر ستر بستر ہوں پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کا یہ شعر نہیں سنا اعددت للہیجاء موضونۃ فضفاضۃ بالنہی بالباقع ترجمہ : میں نے تیار کیا ہیجا کے لیے ایک کشادہ پلنگ انتہائی دانش مندی اور زیرک مندی کے ساتھ
Ayah 56:16

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

25۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” متکئین علیہا متقبلین “ (تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے) یعنی ان میں کوئی اپنے ساتھی کی گدی کو نہیں دیکھے گا۔ (کیونکہ وہ آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے) ۔ 26۔ ابن جریر نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت ” متکئین علیہا ناعمین “۔
Ayah 56:17

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ چیزیں لے کر آمدورفت کیا کریں گے

27۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یطوف علیہ ولدان مخلدون “ (ان کے پاس ایسے لڑکے آتے جاتے رہیں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے) سے مراد ہے کہ ان کی نیکیاں نہیں ہوں گی کہ ان کو بدلہ دیا جائے اور نہ ان کی برائیں ہوں گی کہ ان کو سزادی جائے تو ان کو ہمیشہ ان جگہوں میں رکھا جائے گا (یعنی وہ ہمیشہ جنت والوں کے ارد گرد گشت کرتے رہیں گے۔ 28۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یطوف علیہ ولدان مخلدون سے مراد ایسے آبخورے جن کے دستے نہیں ہوتے اور اباریق سے مراد ایسے آفتابے جن کے دستے ہوتے ہیں۔ آیت ” وکأس من معین “ (اور جاری ہونے والی شراب سے بھرے ہوئے جام) یعنی سفید شراب سے بھرے ہوئے جام۔ آیت ” لا یصدعون عنہا ولا ینزفون “ (اس شراب سے نہ درد سر ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا) یعنی نہ اس کے سروں میں درد ہوگا اور نہ ان کو قے آئے گی۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ان کی عقلیں خراب نہیں ہوں گی۔
Ayah 56:18

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی شراب سے بھراجائے گا

29۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ابو رجا (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن (رح) سے ” اکواب “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ وہ آفتابے ہوں گے کہ جن سے کسی چیز کو انڈیلا جاتا ہے۔ 30۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” اکواب “ سے مراد ہیں پیالے۔
Ayahs 56:19–20

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور ایسے میوے لیے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں

31۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکأس من معین “ سے مراد ہے وہ جام جو شراب سے چھلکتے ہوئے ہوں گے۔ اور شراب وہاں پر جاری ہوگی ” معین “ سے مراد ہے جاری آیت ” لایصدعون عنہا ولا ینزفون “ یعنی اس کی وجہ سے نہ تو درد سر ہوگا اور نہ کسی کی عقل مغلوب ہوگی۔ (یعنی عقل میں فتور نہیں آئے گا) 32۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لا یصدعون عنہا ولا ینزفون “ سے مراد ہے کہ نہ ان کے سروں میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں ضائع ہوں گی۔ جنتیوں کو سر درد نہ ہوگا۔ 33۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لایصدعون عنہا ولا ینزفون “ سے مراد ہے کہ ان کے سروں میں درد نہیں ہوگا اور نہ ان کی عقلوں میں فتور آئے گا۔ 34۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت ” لایصدعون عنہا ولا ینزفون “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت والے کھائیں گے اور پئیں گے اور ان کی عقل میں فتور نہیں آئے گا جیسے دنیا والوں کی عقل میں فتور آتا ہے جب وہ زیادہ کھا اور پی لیں اور فرماتے ہیں کہ وہ نہیں اکتائیں گے۔ 35۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت ” لایصدعون عنہا ولا ینزفون “ یاء کے رفع اور زاء کے کسرہ کے ساتھ۔ 36۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اہل جنت میں سے ایک آدمی کے پاس ایک پیالہ لایا جائے گا۔ اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوگا اور وہ اسے پی لے گا پھر وہ اپنی بیوی کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا تحقیق میں نے اپنی نگاہوں میں ستر گنا اضافہ کرلیا ہے۔
Ayah 56:21

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولحم طیر ممایشتھون “ (اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا) یعنی وہ جس چیز کی بھی خواہش کریں گے تو وہ ان کے سامنے ہوگی۔ وہ اس میں سے اپنی ضرورت پوری کرلیں گے پھر وہ (پرندہ) اڑ کر چلا جائے گا۔ 2۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنہ میں والبزار وابن مردویہ والبیہقی نے البعث میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا بلاشبہ تو جنت میں ایک پرندہ کی طرف دیکھے گا اور اس کی خواہش کرے گا تو وہ تیرے آگے بھنا ہوا گرپڑے گا۔ 3۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کے پرندے کا ذکر فرمایا تو ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ وہ تو بہت عمدہ اور اچھا ہوگا۔ پھر فرمایا جو اس میں سے کھائے گا وہ اس سے زیادہ عمدہ اور افضل ہوگا اور میں امید کرتا ہوں کہ تو بھی اس میں سے کھائے گا۔ 4۔ الخطیب نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس آیت آیت ” وفرش مرفوعۃ “ کے بارے میں سنا کہ اس میں ہر قالین کی موٹائی اتنی ہوگی جیسے آسمان و زمین کے درمیان (فاصلہ) ہے۔ 5۔ احمد والترمذی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کا پرندہ بختی اونٹ کی طرح ہوگا۔ جو جنت کے درختوں سے چرے گا۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ پرندے تو البتہ بڑے عمدہ اور اعلیٰ ہوں گے۔ آپ نے فرمایا ان کو کھانے والا ان سے زیادہ عمدہ اور اعلیٰ ہوگا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ تو بھی ان کھانے والوں میں سے ہوگا۔ 6۔ بیہقی نے البعث میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں پرندے بختی اونٹوں کی طرح ہوں گے۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! بلاشبہ وہ تو انتہائی عمدہ اور اعلیٰ ہوں گے۔ فرمایا وہ اس سے زیادہ عمدہ اور اعلیٰ ہوگا جو اس میں سے کھائے گا اور تو بھی ان میں سے ہوگا جو ان کو کھائیں گے اور تو بھی اس کے کھانے والوں میں سے ہوگا۔ 7۔ ابن ابی شیبہ وہناد نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں پرندے بختی اونٹ کی طرح ہیں۔ وہ آدمی کے پاس آئے گا اور جب وہ اس سے اپنی حاجت پوری کرلے گا تو وہ پرندہ چلا جائے گا گویا کہ اس میں کوئی چیز کم نہیں ہوئی۔ جنتیوں کی خواہش کی تکمیل 8۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنۃ میں ابو امامہ ؓ سے روایت کی کہ ایک آدمی جنت میں جنت کے پرندوں میں سے ایک پرندے کی خواہش کرے گا۔ تو وہ اس کے ہاتھ میں بھنا ہوا اور پکا ہوا اس کے ہاتھ میں آجائے گا۔ 9۔ ابن ابی الدنیا نے میمونہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی جنت میں پرندے کی خواہش کرے گا تو بختی اونٹ کی طرح پرندہ آجائے گا۔ یہاں تک کہ اس کے دسترکوان پر گرپڑے گا۔ نہ اس کو کوئی دھواں لگا ہوگا اور نہ اس کو آگ نے اسے چھوا ہوگا پس وہ آدمی اس میں سیر ہو کر کھائے گا پھر وہ اڑ جائے گا۔ 10۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک پرندہ ہے اس کے ستر ہزار پر ہیں۔ جب دسترخوان رکھا جائے گا۔ اللہ کے والی اور دوست کے سامنے تو پرندہ اس پر گرپڑے گا۔ اور وہ اپنے پروں کو جھاڑے گا تو ہر پر میں سے ایک رنگ نکلے گا۔ جو شہد سے زیادہ لذیذ اور مکھن سے زیادہ نرم ہوگا۔ اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ پھر وہ پرندہ اڑ جائے گا۔ 11۔ ہناد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک پرندہ ہوگا کہ اس میں ستر ہزار پر ہوں گے۔ وہ آئے گا اور اہل جنت میں سے ایک آدمی کے پیالے پر بیٹھ جائے گا۔ پھر وہ پروں کو جھاڑے گا تو اس کے ہر پر سے ایک رنگ نکلے گا جو زیادہ سفید ہوگا برف سے۔ اور زیادہ نرم ہوگا مکھن سے اور زیادہ میٹھا ہوگا شہد سے اس میں ایسا رنگ نہیں ہوگا جو دوسرے سے مشابہت رکھتا ہو۔ پھر وہ اڑ کر چلا جائے گا۔
Ayahs 56:22–24

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے پوشیدہ رکھا ہوا موتی

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا

قولہ تعالیٰ : آیت وحور عین : 12۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے عاصم بن بہدلہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو عبدالرحمن السلمی (رح) نے مجھے اس طرح پڑھایا آیت وحور عین۔ 13 عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت وحور عین یعنی ان دنوں میں رفع اور تنوین کے ساتھ۔ 14۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحور عین سے مراد ہے کہ ان میں آنکھیں بہت خوبصورت بنائی گئیں۔ 15۔ ابن المنذر نے ابن عباس رضی عنہما سے روایت کیا کہ کأمثال اللؤلؤ المکنون (جیسے پوشیدہ رکھا ہوا موتی) یعنی وہ موتی جو ابھی تک صدف میں ہو اور اس پر ہاتھ نہیں لگا ہو۔ 16۔ ہناد بن السری نے ضحاک (رح) سے آیت کأمثال اللؤلؤ المکنون، کے بارے میں روایت کیا کہ ” اللو لو “ سے مراد ہے کہ وہ ان بڑے بڑے موتیوں کی طرح ہوں گے جن کو کسی چیز کے چھونے کے خوف سے چھپا دیا گیا۔ آیت لایسمعون فیہا لغوا ولا تأتیہا الایۃ۔
Ayahs 56:25–26

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں نہ بک بک سنیں گے اور نہ اور کوئی بےہودہ بات

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

بس سلام ہی سلام کی آواز آئے گی

قولہ تعالیٰ آیت لا یسمعون فیہا لغوا الایۃ۔ جنت میں جھوٹ نہ ہوگا 17۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا یسمعون فیہا لغوا (کہ وہاں وہ بیہودہ بات نہ سنیں گے) یعنی لغو سے مراد ہے باطل کلام آیت ولا تأثیما، اور تاثیما سے مراد ہے جھوٹ (یعنی وہ جنت میں باطل کلام اور جھوٹ کو نہیں سنیں گے ) 18۔ ہناد نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لایسمعون فیہا لغوا سے مراد ہے بےکار بات اور ” التاثیم “ سے مراد ہے جھوٹ آیت ما اصحب الیمین۔ 19۔ سعید بن منصور ابن المنذر و بیہقی نے البعث میں حصین کے طریق سے عطاء اور مجاہد دونوں حضرات سے روایت کیا کہ اہل طائف نے جب وادی کا سوال کیا جو ان کی حفاظ کرے۔ اور اس میں شہد بھی ہو تو ایسا ہی کیا گیا تو وہ انہتائی تعجب کیز وادی تھی تو انہوں نے لوگوں سے سنا کہ صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ جنت میں اس طرح اور اس طرح ہوگا۔ کہنے لگے کاش کہ ہمارے لیے جنت میں اس طرح کی وادی ہوتی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت واصحب الیمین، ما اصحب الیمین، فی سدر مخضود، (اور دائیں طرف والے وہ کیسے اچھے ہوں گے دائیں طرف والے اور وہ ایسے باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی) 20۔ عبد بن حمید وابن جریر والبیہقی نے البعث میں دوسری سند سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اہل طائف وادی ” وج “ اور اس میں کیلے اور بیری کے سایوں کو پسند کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت واصحب الیمین ماصحب الیمین، فی سدر مخضود، وطلح منضود۔ (اور دائیں طرف والے وہ کیسے اچھے ہوں گے دائیں طرف والے وہ ایسے باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں اور تہ بہ تہ کیلے اور لمبے سائے ہوں گے ) ۔
Ayah 56:27

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور جو داہنے والے ہیں وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں

21۔ احمد نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت آیت واصحب الیمین ما اصحب الیمین، واصحب الشمال ما اصحب الشمال۔ تلاوت فرمائی اور اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ بند کرتے ہوئے فرمایا یہ جنت میں ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ دوزخ میں ہے مجھے کوئی پروا نہیں۔ جنت میں بیری کا درکت بغیر کانٹے کے
Ayah 56:28

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

وہ ان باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی

22۔ الحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اعراب اور ان کے مسائل کے سبب نفع پہنچاتا ہے ایک دیک دیہاتی آیا اور کہا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ قرآن میں ایسے درخت کا ذکر کیا ہے جو تکلیف دینے والا ہے اور میں نہیں دیکھتا ہوں کہ جنت میں ایسا درخت ہو جو اپنے مالک کے لیے تکلیف دینے والا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا وہ کون سا درکت ہے۔ اس نے کہا بیری کا درخت کہ اس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا آیت فی سدر مخضود کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کانٹوں کو کاٹ دے گا اور ہر کانٹے کی جگہ پھل لگا دے گا۔ بلاشبہ وہ پھل کو اگائے گا اور اس پھل میں سے ستر رنگ کے کھانے برآمد ہوں گے۔ اس میں ایک رنگ دوسرے سے مشابہ نہیں ہوگا۔ 23۔ ابن ابی داوٗد نے البعث میں والطبرانی وابو نعیم نے الحیلیہ میں وابن مردویہ نے عقبہ بن عبداللہ السلمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک دیہاتی آکر کہنے لگا اے اللہ کے رسول میں نے آپ سے سنا کہ آپ جنت میں ایسے درخت کا ذکر فرما رہے تھے کہ میں اس سے زیادہ کانٹوں والا درخت نہیں جانتا۔ یعنی کیکر کا درخت۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس میں سے ہر کانٹے کے بدلے میں پھل پیدا کردیں گے خصی کے ہوئے مینڈھے کے خصیوں کی طرح، اس میں کھانے کے ستر رنگ ہوں گے کہ اس میں ایک کھانا دوسرے کے مشابہ نہیں ہوگا۔ 24۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی سدر مخضود سے مراد ہے کہ اس کو کمزور کردیا ہے اس کے بوجھ نے اس کو اٹھانے سے۔ 25۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس رضی عنہما سے روایت کیا کہ آیت فی سدر مخضود میں ” المخضود سے مراد ہے ایسی بیر جس میں کانٹا نہ ہو۔ 26۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” المخضود “ سے مراد ہے ایسے پھلوں سے لدا ہوا جس میں کانٹا نہیں ہوگا۔ 27۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے یزید رقاشی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی سدر مخضود سے مراد ہے کہ اس کے بیر مٹکوں سے بڑے ہوں گے۔ 28۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فی سدر مخضود کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا وہ بیری جس میں کانٹا نہ ہو پھر فرمایا کیا کعرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ۃ ان کیا تو نے امیہ بن ابی صلت کا مقلہ نہیں سنا : ان الحدائق فی الجنان ظلیلۃ فیہا الکواعب سدرہا مخضود ترجمہ : جنتوں میں سایہ دار باغات ہیں ان میں خوبصورت سینے والی دوشیزائیں بھی ہیں اور بےخار بیریاں بھی ہیں۔ ؂ 29۔ عبدالرزاق والفریابی وہناد وعبد بن حمید وابن جریر وابن امردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت وطلب منضود (تہ بہ تہ کیلے) اور وہ کیلے مراد ہیں۔
Ayah 56:29

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بتہ کیلے ہوں گے

30۔ الفریابی وہناد و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو سعید خدر ؓ نے فرمایا کہ آیت وطلح منضود سے مراد ہیں کیلے۔ 31۔ عبد بن حمید نے حسن اور قتادہ رحمہما اللہ نے اسی طرح روایت کیا۔ 32۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے اس طرح پڑھا آیت وطلح منضود 33۔ ابن جریر وابن الانباری المصاحف میں قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت علی ؓ کے سامنے یہ آیت پڑھی آیت وطلح منضود تو علی ؓ نے فرمایا کہ ” الطلح “ کیا ہے کیا تو ’ وطلح “ (عین کے ساتھ “ نہیں پڑھتا۔ پھر فرمایا آیت وطلح نضید ہے (خوشے تہ بہ تہ) ان سے کہا گیا اے امیر المؤمنین کیا ہم اسے مصاحف سے مٹادیں فرمایا اب قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ جنت میں کیلے کا درخت۔ 34۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” منضود “ سے مراد ہے کہ بعض کا بعض پر چڑھا ہونا (یعنی کیلوں کا گچھا) (۔ 35۔ ہناد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی سدر مخضود سے مراد ہے پھلوں سے لدی ہوئی آیت وطلح منضود یعنی کیلوں کا گچھا۔ 36۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی دیوار میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہوگی اور جنت کی زمین سونے کی ہے اور اس کی کنکریاں موتی کی ہیں۔ اور اس کی گیلی مٹی مشک کی ہے اور اس کی خشک مٹی زعفران کی ہے اور ان کے درمیان بغیر کانٹے والی بیریاں اور تہ بہ تہ کیلے اور لمبے لمبے سائے اور جاری پانی ہوگا۔ 37۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وہناد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ ایک سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلے گا اس کا سایہ ختم نہ ہوگا اگر تم چاہو تو یہ آیت آیت وظل ممدود پڑھ لو۔ 38۔ احمد بخاری والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے کہ ایک سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلے گا مگر اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت آیت وظل ممدود، وماء مسکوب، پڑھ لو۔ 39۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے کہ ایک سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلے گا مگر اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔ اور یہی لمبے سائے ہیں۔
Ayah 56:30

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبا لمبا سایہ ہوگا

40۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وظل ممدود سے مراد جنت میں ایک سایہ دار درکت ہے جو ایک تنے پر ہے اس کا سایہ اس قدر ہوگا کہ ہر جانب ایک سوار سو سال تک چل سکتا ہے۔ پس جنت والے اور کمروں والے اور ان کے علاوہ دوسرے اہل جنت بھی اس کی طرف نکلیں گے اور اس کے سائے میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کریں گے ان میں بعض چاہیں گے اور وہ دنیا کے کھیل کود یاد کریں گے تو اللہ تعالیٰ جنت میں سے ایک ہوا کو بھیجیں گے اور وہ درخت دنیا کے ہر کھیل کے ساتھ حرکت کرے گا۔ جنت میں سایہ دار درخت کا ذکر 14۔ ابن ابی الدنیا نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں ایک درخت ہے وہ کوئی پھل نہیں دے گا اور اس یس صرف سایہ حاصل کیا جائے گا۔ 42۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ آیت وظل ممدود سے مراد ہے کہ وہ سایہ ستر ہزار سال کی مسافت میں پھیلا ہوگا۔
Ayahs 56:31–33

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور چلتا ہوا پانی ہوگا

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور کثرت سے میوے ہوں گے

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ ختم ہوں گے اور نہ ان کی روک ٹوک ہوگی

43۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وماء مسکوب سے مراد ہے جاری پانی۔ 44۔ ہناد وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت کے کھجور کی شاخوں سے ان کے چھوٹ کپڑے اور ان کا لباس بنا ہوا ہوگا۔ 45۔ ہناد وابن المنذر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ جنت کے پھلوں کے خوشے تیرے اور صنعاء کے درمیان فاصلہ کے برابر ہوں گے۔ اور صنعا سے مراد شام ہے۔
Ayah 56:34

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے اونچے فرش ہوں گے

1۔ احمد والترمذی وحسنہ والنسائی وابن ابی الدنیا فی الصفۃ الجنۃ وابن حبان وابن جریر وابن ابی حاتم والرویانی وابن مردویہ وابو لشیخ فی العظمہ اور بیہقی نے البعث میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت وفرش مرفوعہ (اور اونچے اونچے بستر) سے مراد ہے کہ ان کی اونچائی اتنی ہے جتنی زمین و آسمان کے درمیان ہے اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ 2۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت وفرش مرفوعۃ کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ نے فرمایا اگر بستر کو اس کے اوپر سے گرایا جائے تو اسے اس کی قرار کی جہگ تک پہنچتے پہنچتے سو سال لگ جائیں۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وہناد وابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنۃ میں ابو امامہ ؓ سے آیت وفرش مرفوعۃ کے بارے میں روایت کیا اگ راس کو اوپر سے گرایا جائے تو وہ نیچے والے حصے تک چالیس سال میں پہنچے گا۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے مرفوع حدیث میں آیت وفرش مرفوعۃ کے بارے میں روایت کیا اگر اس کے اوپر سے کوئی چیز پھینکی جائے تو اپنی قرار گاہ پر سو سال میں پہنچے گی۔ 5۔ ہناد نے حسن (رح) سے آیت وفرش مرفوعہ کے بارے میں روایت کیا کہ اہل جنت کے پلنگوں کی اونچائی اسی سال کی مسافت ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 56:35

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے

6۔ الفریابی وعبد بن حمید وہناد والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں انس ؓ سے ورایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انا انشأنہن انشاء کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ وہ عورتیں جن کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا دنیا میں بوڑھی سفید بالوں والی، کم بینائی والی اور آنکھوں میں میل بہنے والی تھیں۔ 7۔ الطیالسی وابن جریر وابن ابی الدنیا والطبرانی وابن مردویہ وابن القانع و بیہقی نے الکبعث میں سلمۃ بن زید جعنفی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ آیت انا انشأنہن انشاء سے مراد ہے کہ ہم نے ان کی بیوہ اور کنواری بیویوں کو پیدا کیا جو دنیا میں تھیں۔ 8۔ عبد بن حمید والترمذی فی الشمائل وابن المنذر والبیہقی نے البعث میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک بڑھیا آپ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردے۔ آپ نے فرمایا اے فلانے کی ماں ً کہ جنت میں کوئی بوڑھی داخل نہ ہوگی۔ وہ روتی ہوئی لوٹ گئی۔ آپ نے فرمایا اس کو بتادو کہ تو بوڑھی ہونے کی حالت میں داخل نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ آیت انا انشأنہن انشاء فجعلنہن ابکارا۔ (ہم نے ان عورتوں کو عجیب انداز سے پیدا کیا اور ان کو کنواریاں بنا دیا۔ ) ۔ جنت اور بڑھیا۔ 9۔ البیہقی نے الشعب میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ میرے پا ستشریف لائے اور میرے پاس ایک بڑھیا بیٹھی ہوئی تھی۔ پوچھا یہ کون ہے ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا میری خالاؤں میں سے ایک خالہ ہے آپ نے فرمایا کہ جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی اور جتنا اللہ نے چاہا وہ بڑھیا وہاں رہی پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہم ان کو دوسری پیدائش میں پیدا کریں گے۔ 10۔ الطبرانی نے الاوسط میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں ایک بڑھیا نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردے۔ آپ نے فرمایا جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی۔ پھر آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے پھر واپس لوٹ کر آئے تو عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ اس عورت نے آپ کی اس بات کی وجہ سے تکلیف کا سامنا کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ وہ اسی طرح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جب ان کو جنت میں داخل کریں گے۔ تو ان کو کنواری حالت میں تبدیل کردیں گے۔ 11۔ ابن مردویہ نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت انا انشأنہن انشاء سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو پیدا کیا۔ 11۔ ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا انشأنہن انشاء سے مراد ہے کہ ہم ان کو پہلی پیدائش کے علاوہ دوسری پیدائش میں پیدا فرمائیں گے۔ 12۔ الطبرانی نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت والے جب اپنی عورتوں سے جماع کرچکیں گے تو وہ پھر بکارت کی طرف لوٹ جائیں گی۔
Ayah 56:36

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں

13۔ ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فجلعنہن ابکارا سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو کنواریاں بنادیا۔
Ayahs 56:37–38

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

محبوبہ ہیں، ہم عمر ہیں

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

یہ سب چیزیں داہنے والوں کے لیے ہیں

14۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے عشق و محبت کرنے والیاں ” اترابا “ یعنی ہم عمر۔ شوہروں سے محبت کرنے والی عورتیں۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے اپنے شوہروں سے عشق و محبت رکھنے والیاں اور ان کے شوہر بھی ان سے عشق و محبت کرنے والے ہوں گے ” اترابا “ سے مراد ہے سب کی عمر ایک ہوگی یعنی تینتیس سال۔ 26۔ ابن جریر وابن ابی حاتم عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” العرب “ سے مراد ہے ملاقات کرنے والی اپنے شوہر سے۔ 17۔ ابن جریر نے العوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” العرب “ سے مراد ہے محبت ومودت رکھنے والیاں اپنے شوہروں سے۔ 18۔ ہناد نے الکلبی کے طریق سے ابوصالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” العرب “ سے مراد ہے ناز نخرے والی۔ اور اہل مدینہ کے قول میں اس کا معنی ہے ” الشکلہ “ یعنی ناز ونخری یا ہمشکل ہونا۔ 19۔ عبدالرزاق سعید بن مبصور عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے ناز نخرے والی۔ 20۔ سعید بن منصور نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے کہ وہ ناز نخرے کرنے والیاں۔ 21۔ سفیان وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو نر کی خواہش رکھتی ہو تو اس کو عربہ کہا جاتا ہے۔ 22۔ ابن جریر وابن المنذر نے بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ ” عربا “ مکہ کی لغت میں اس سے مراد ہے ناز ونخرے کرنے والیاں ہم یم شکل اور اہل مدینہ کی لغت میں ” المغنوجہ “ مراد ہے یعنی جس پر فخر وناز کیا جائے۔ 23۔ ابن جریر وابن المنذر نے عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ ” العربہ “ سے مراد وہ عورت ہے جو اپنے شوہر کی طرف میلان رکھتی ہو۔ 24۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” عربا اترابا “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ عورتیں جو اپنے شوہروں سے عشق و محبت والی ہوں گی کہ جن کو زعفران سے پیدا کیا گیا اور ” اتراب “ سے مراد ہے ہم عمر پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ بنی ذبیان کا مقولہ نہیں سنا وہ کہتا ہے عہدت بہا سعدی وسعدی عزیزۃ عروب تہادی فی جوار خرائد ترجمہ : سعدی نے اس کے ساتھ ملاقات کی اور سعدی انتہائی عزیز ہے اور وہ پڑوس میں شرمیلی دوشیزاؤں کو تحائف بھیجتی ہے۔ 25۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہن ابکارا “ سے مراد ہے کنواری ” عربا “ سے مراد ہے اپنے شوہروں سے عشق کرنے والیں ” اترابا “ سے مراد ہے ہم عمر۔ 26۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ عربا سے مراد ہے جس پر ناز ونخرہ کیا جائے اور ” عربہ “ سے مراد ہے ناز ونخرہ۔ 27۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن عبید بن عمیر حمہ اللہ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” عربا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تو نے نہیں سنا کہ محرم سے کہا جاتا ہے تو اس سے ایسی بات نہ کر جو اسے لذیذ ہو اور اس سے مراد محرم عورت ہے۔ 28۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر نے تمیم بن جدلم رضی الہ عنہ سے روایت ہے کیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے تھے کہ ” العربۃ “ سے مراد ہے خاوند کی اچھی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والی عورت اور عرب کے لوگ اسی عورت کے بارے میں کہتے تھے جب وہ اچھی اطاعت کرتی تھی کہ انہا عربۃ بےیہ تو ” عربہ “ ہے۔ 29۔ ہناد بن السری وعبد بن حمید وابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے اپنے شوہروں کو چاہنے والیاں۔ 30۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ” عربا “ سے مراد ہے دل وجان سے عشق و محبت کرنے والیاں۔ 31۔ ہناد بن السری وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے اپنے شوہروں سے عشق و محبت کرنے والیاں ” اترابا “ ہم عمر۔ 32۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے ورایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے اپنے شوہروں سے عشق و محبت کرنے والیاں ” والاتراب “ سے مراد ہے ہم عمر عورتیں۔ 34۔ ہناد بن اسری وعبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے کہ اپنے شوہروں سے محبت کرنے والیاں۔ اور ” الاتراب “ سے مراد ہے ہم عمر عورتیں۔ 35۔ سفیان بن عیینہ وعبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” عربا “ ‘ سے مراد ہے کہ وہ اپنے شوہروں سے بےحد محبت کرنے والیاں ہوں گے۔ ” اترابا “ سے مراد ہے کہ وہ ہم مثل یعنی ایک ہی طرح کی ہوں گی۔ 36۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” العرب “ سے مراد ہے اپنے شوہروں سے محبت کرنے والیاں 37۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ ” العربۃ “ سے مراد ہے اچھی کلام کرنے والیاں۔ 38۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ” عربا “ سے مراد ہے عشق و محبت کرنے والیاں اور ” اترابا “ سے مراد ہے ہم عمر۔ 39۔ وکیع فی الغرر اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ہلال بن ابی بردہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے کہا عورتوں میں سے عروب کون سی ہیں ؟ تو وہ پریشان ہوگئے۔ اسحاق بن عبداللہ بن الحرث النوفلی (رح) متوجہ ہوئے اور فرمایا تمہارے پاس وہ آچکا جو تم کو اس بارے میں خبر دے گا تو ان لوگوں نے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا کہ اپنے شوہر کے لیے بہت شرم وحیا کرنے والی اور بچھنے والی اور یہ شعر پڑھا : یعر بن عند بعولہن اذا خلو واذا ہم خرجو فہن کفار۔ ترجمہ : وہ بچھ جاتی ہیں اپنے شوہروں کے لیے جب وہ خلوت میں ہوں اور جب وہ چلے جائیں تو وہ شرم وحیا کا پیکر ہوتی ہیں۔ 40۔ ابن عدی نے ضعیف سند کے ساتھ انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے بہترین عورتوں میں سے وہ عورت ہے جو پاکدامن ہو اور شہوت کے جذبات بھی رکھتی ہو۔ ابن عساکر نے معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی فاختہ بنت قرطہ کی طرف خواہش کا اظہار کیا تو وہ شہوت کے خراٹے لینے لگی پھر اس نے اپنے ہاتھ کو اپنے چہرے پر رکھ دیا تو انہوں نے کہا تجھ پر کوئی برائی نہیں۔ اللہ کی قسم ! خراٹے لینے والیاں اور ناک اور حلق سے آواز نکالنے والیاں ہی تم میں سے بہترین عورتیں ہیں۔ 42۔ ابن ابی حاتم نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” عربا “ سے مراد ہے کہ ان کی کلام عربی ہوگی۔
Ayahs 56:39–40

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

ان کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور ایک بڑٓ گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا

43۔ عبد بن حمید نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین۔ (ایک بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے) یعنی بہت لوگ پہلے لوگوں میں سے اور بہت لوگ پچھلے لوگوں میں سے۔ 44۔ مسدد نے اپنی مسند میں وابن النذر والبطرانی وابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں جماعتیں اس امت میں سے ہوں گی۔ 45۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن عدی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰ خرین کے بارے میں فرمایا کہ وہ دونوں جماعتیں میری اس امت میں سے ہوں گی۔ 46۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین۔ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ دنوں بڑی جماعتیں اس امت میں سے ہوں گے۔ 47۔ حسن بن سفیان وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں امید رکھتا ہوں کہ میری تابعداری کرنے والے میری امت میں سے اہل جنت کا چوتھائی ہوں گے۔ تو ہم نے تکبیر کہی پھر آپ نے فرمایا میں یہ امید رکھتا ہوں میری امت میں سے اہل جنت آدھے ہوں گے۔ پھر آپ نے (یہ آیت) ثلۃ من الاولین، وثلۃ من الاٰخرین پڑھی۔ انبیاء (علیہم السلام) کی امتیوں کی تعداد 48۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتے رہے جب ہم نے صبح کی تو ہم صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو آپ نے فرمایا مجھ پر سابقہ انبیاء اور ان کی امتوں میں سے ان کی تابعداری کرنے والوں کو پیش کیا گیا پس کسی نبی کے ساتھ اس کی امت میں سے صرف تین آدمی تھے اور کسی نبی کے ساتھ ایک بھی امتی نہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم کو لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے اور فرمایا کیا تم میں سے کوئی عقلمند آدمی نہیں یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) گزرے اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل میں سے تھے۔ میں نے عرض کیا اے میرے رب ! میری امت کہاں ہے فرمایا اپنے داہنی طرف کو دیکھو میں نے دیکھا کہ افق لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ﷺ ! کیا تو راضی ہے میں نے عرض کیا اے میرے رب ! میں راضی ہوگیا۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ عکاشہ بن محص اسدی ؓ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں سے بنادے۔ آپ نے دعا فرمائی اے اللہ اس کو ان میں سے کردے۔ پھر دوسرا آدمی کھڑٓ ہوا اور کہا یارسول اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپ نے فرمایا عکاشہ تجھ سے سبقت کرگیا۔ پھر نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اگر تم طاقت رکھتے ہو میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں کہ تم ستر میں سے ہوجاؤ تو ہوجاؤ۔ اگر تم عاجز رہوا اور قاصر رہو تو ٹیلوں والوں میں سے ہوجاؤ اگر تم عاجز ہوجاؤ اور قاصر رہو تو اصحاب افق سے ہوجاؤ۔ بلاشبہ میں بےبہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا کر رہے تھے پھر فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت میں سے آدھے ہوگے۔ تو صحابہ ؓ نے تکبیر کہی۔ پھر آپ نے آیت ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرین تلاوت فرمائی۔ اور انہوں نے آپس میں ان ستر ہزار کے بارے میں تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جادو منتر نہیں کرتے اور نہ برے شگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔