58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 58:14–18

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا آپ نے دیکھا نہیں ان لوگوں کی طرف جنہوں نے دوستی کی ایسی قوم سے جن پر اللہ کا غضب ہے وہ تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور وہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے یقیناً برے ہیں وہ کام جو وہ کر رہے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے پھر وہ اللہ کے رستے سے رک گئے ہیں پھر ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ہر گز ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے نہ ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ تعالیٰ سے ذرا بھی یہ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ تعالیٰ ان تمام کو اکٹھا کرے گا پھر وہ اللہ کے سامنے قسمیں کھائیں گے جیسا کہ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر ہیں سنو یقیناً وہ جھوٹے ہیں

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت الم تر الی الذین تولوا کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن نبتل کے بارے میں نازل ہوئی اور منافقین میں سے تھا۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا اور وہ یہودی اور منافق ہیں اور وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور وہ اپنی قسموں کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لوگ تم میں سے ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت الم تر الی الذین تولوا قوما کے بارے میں روایت کیا کہ وہ منافقین ہیں جو یہودیوں سے دوستی لگاتے ہیں یوم یبعثہم اللہ۔ جس دن اللہ تعالیٰ ان کو اٹھائیں گے الایۃ۔ یعنی منافقین قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے اس طرح قسمیں کھائیں گے جیسے وہ اپنے دوستوں سے دنیا میں قسمیں کھاتے تھے۔ شیطان کی آنکھ سے دیکھنے والا 4۔ احمد والبزار والطبرانی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم وصححہ و بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجروں میں سے ایک حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ اور آپ کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا عنقریب تمہارے پاس ایک ایسا انسان آئے گا وہ تمہاری طرف شیطان کی آنکھ سے دیکھے گا جب وہ تمہارے پاس آئے تو اس سے بات نہ کرنا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ان پر نیلی آنکھوں والا کانا آدمی نمودار ہوا۔ آپ نے جب اس کو دیکھا تو فرمایا تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو پھر آپ نے فرمایا مجھے چھوڑ تو ان کو لے کر آ، وہ گیا اور ان کو بلا کرلے آیا انہوں نے جھوٹی قسمیں کھائیں اور معذرت کرلی تو اللہ تعالیٰ نے یہ اور اس کے بعد والی آیت نازل فرمائی یوم یبعثہم اللہ جمیعا فیحلفون لہ کما یحلفون لکم۔ جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے لیے قسمیں کھائیں گے جیسے تمہارے لیے قسمیں کھاتے ہیں۔
Ayahs 58:19–20

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان ان پر غالب آگیا ہے پھر شیطان نے اللہ کا ذکر ان کو بھلا دیا ہے وہ شیطان کا گروہ ہیں سنو یقیناً شیطان کا گروہ ہی خسارہ اٹھانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

یقیناً وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہیں یہ سب سے زیادہ ذلیل لوگوں میں ہیں

1۔ ابو داوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردوی نے ابوداوٗد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی گاؤں یا کسی جنگل میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ کیا جاتا ہو۔ تو ان پر شیطان تسلط جمالیتا ہے۔ اس لیے جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا دور رہ جانے والی علیحدہ رہ جانے والی بکری کو کھاجا تا ہے۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی ضرور غالب رہیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت والا زبردست ہے

2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں کھ دیا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر آخر کار غالب رہیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو تحریر لکھ دی ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ بدر کی لڑائی میں ایمانی غیرت کا واقعہ۔ 3۔ ابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وابو نعیم فی الحلیۃ والبیہقی فی سننہ وابن عساکر نے عبداللہ بن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ ابوعبیدہ بن جراح ؓ کے والد ابو عبیدہ کو بدر کی لڑائی کے دن چیلنج کرتے رہے لیکن حضرت عبیدہ اس سے بچتے رہے لیکن جب ان کی طرف سے بار بار بکثرت ایسا ہوتا رہا تو ابوعبیدہ نے ان کو قتل کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت لاتجد قوما یومنون باللہ۔ الایۃ۔ 4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ یہ بات بیان کی گئی کہ ابو قحافہ نے نبی ﷺ کو گالی دی۔ تو ابوبکر ؓ نے اسے زور سے ایک تھپڑ رسید کیا تو وہ گرپڑے۔ یہ بات نبی ﷺ کو بتائی گئی۔ تو آپ نے فرمایا اے ابوبکر کیا تو نے ایسا کیا۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! اگر تلوار میرے قریب ہوتی تو میں اس کو ماردیتا۔ تو یہ آیت لاتجد قوما نازل ہوئی۔ 5۔ ابن مردویہ نے کثیر بن عطیہ رحمہا للہ سے اور انہوں نے ایک آدمی سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یعنی یہ دعا فرمائی۔ اللہم لاتجعل لفاجر ولا لفاسق عندی ید ولا نعمۃ فانی وجدت فیہا او حیتہ الی۔ اے اللہ کسی فاجر اور کسی فاسق کے لیے میرے پاس کوئی احسان اور نیکی نہ رکھ۔ کہ میں ان کو اس طرح پاتا ہوں جیسا کہ آپ نے ان کے بارے میں میری طرف وحی فرمائی ہے۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

آپ نہیں پاؤ گے ایسی قوم کو جو ایمان رکھتی ہے اللہ تعالیٰ پر اور آخری دن پر کہ وہ دوستی رکھتے ہیں ان سے جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہیں اگرچہ وہ ان کے باپ دادا یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کا خاندان ہی کیوں نہ ہو یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کی تائید کی ہے اپنی طرف سے روح سے اور اللہ تعالیٰ انہیں جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے یہ اللہ کا گروہ ہے سنو یقیناً اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے

6۔ آیت لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ۔ جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں ج واللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ سفیان نے کہا کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بادشاہ سے میل جول رکھتے ہیں۔ 7۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا اللہ کی رضا کے لیے محبت کر، اللہ کی رضا کے لیے بغض رکھ۔ اللہ کی رضا کے لیے دشمنی رکھ۔ اور اللہ کی رضا کے لیے دوستی قائم کر۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دوستی اور ولایت اسی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ لا تجد قوم یومنون باللہ والیوم الاٰخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ۔ الاٰیۃ۔ اللہ کے لیے دوستی اور دشمنی 8۔ ابونعیم نے الحلیہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انبیاء میں سے ایک نبی کی طرف وحی بھیجی۔ کہ فلاں عابد سے کہہ دو کہ دنیا میں تیرا زہد یہ ہے کہ تو نے اپنے نفس کی راحت و آرام کو جلدی پالیا اور دنیا میں تیرا انقطاع یعنی دنیا سے کٹ کر میری طرف متوجہ ہونا۔ یہ ہے کہ تو نے میرے ساتھ فخر کیا۔ اور قوت حاصل کی۔ پس اس بارے میں تو نے کونسا عمل کیا تو میرے لیے تجھ پر لازم ہے۔ فرمایا کیا تو نے میرے لیے کسی دوست سے دوستی کی یا تو نے میرے لیے کسی دشمن سے دشمنی کی۔ 9۔ الحکیم الترمذی نے واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے کو اٹھائیں گے کہ اس کا گناہ نہ ہوگا۔ تو اس سے فرمائیں گے دو کاموں میں سے کون سا کام تجھے محبوب ہے ؟ کہ میں تجھ کو بدلہ دوں تیرے عمل کا اور جزاء عطا کروں یا تجھ پر اپنے احسان اور مہربانی کے ساتھ تجھے جزاء عطا کروں وہ کہے گا۔ اے میرے رب ! تو جانتا ہے کہ میں نے تیری نافرمانی نہیں کی۔ پھر فرمائیں گے میرے بندے کو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے بدلے میں پکڑ لو تو اس کی ایک نیکی بھی باقی نہیں بچے گی۔ مگر یہ کہ وہ نعمت ان سب کو گھیر لے گی (پھر) وہ بندہ کہے گا اے میرے رب اپنے احسان اور اپنی رحمت کے طفیل مجھے جزاء عطا فرما یعنی جنت عطا فرمائیے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میری مہربانی اور میری رحمت کے ساتھ اپنی ذات میں انتہائی نیکی کرنے والا لایا جائے گا۔ وہ یہ گمان نہیں کرے گا کہ اس کا بھی کوئی گناہ ہے پھر اس سے کہا جائے گا کیا تو نے میرے دوستوں سے دوستی کی تھی۔ تو وہ کہے گا۔ اے میرے رب تو تو لوگوں سے سالم و محفوظ تھا۔ پھر رب کریم فرمائے گا کیا تو نے میرے دشمنوں سے دشمنی کی۔ وہ کہے گا اے میرے رب۔ میں یہ پسند نہیں کرتا تھا کہ میرے اور کسی ایک کے درمیان کوئی عداوت ہو۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائیں گے میری عزت کی قسم ! میری رحمت نہ پہنچے گی جو میرے دوستوں سے دوستی نہ کرے گا اور میری دشمنوں سے دشمنی نہ کرے گی۔ 10۔ طیالسی وابن ابی شیبہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خالص اور مضبوط ترین ایمان اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے بغض رکھنا ہے۔ 11۔ دیلمی نے حسن کے طریق سے معاذ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! کسی فاجر کے لیے میرے پاس کوئی احسان یا کوئی نعمت نہ رکھ کہ میرا دل اس سے محبت کرنے لگے۔ اور میں اس کے بارے میں وہی پاتا ہوں جو تو نے میری طرف وحی کی۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاٰخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ۔ جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہی ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔