Ayah 58:1اپنی بیوی سے اگر کوئی ظہار کرلے تو کیا کرے ؟ اس حکم کی وضاحت کی گئی ہے
1 ؎ ظہار کیا ہے ؟ ظہار جاہلیت عرب کی ایک رسم ہے کہ عرب جب اپنی بیوی کو حرام کرنا یعنی چھوڑنا چاہتے تو کہہ دیتے کہ : انٹ علی کظھر امی ” تو میرے لیے ایسی ہے جیسے میرے لیے میری ماں کی پشت “ اور اس سے مراد ان کی یہ ہوتی کہ میں زن و شو کا تعلق تجھ سے حرام کرتا ہوں یا حرام سمجھتا ہوں اور اسکے بعد وہ کبھی اس کو اپنی بیوی نہ بناتا اور نہ معاشرہ کے رواج کے مطابق بیوی بنا سکتا اور رواج ایک ایسی چیز ہے کہ یہ جب معاشرہ میں رچ بس جاتا ہے تو اس کا ترک کرنا نہایت دشوار ہوجاتا ہے بلکہ بعض اوقات رواجات کی پابندی دین کی باتوں سے بھی زیادہ ضروری سمجھی جاتی ہے اور بد قسمتی سے آج بھی یہی حالت بدستور قائم ہے کہ لوگ رواج کے ہاتھوں مجبور ہوجاتے ہیں اور ان کا جینا دو بھر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں رونما ہوگیا کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی پر ایسے الفاظ بول دیئے۔ بلاشبہ روایات اور تفاسیر میں ان صحابہ ؓ اور صحابی ؓ دونوں کا نام آیا ہے اور ان صحابہ ؓ کے نام میں اختلاف بھی پایا گیا ہے لیکن ہم نے عمداً نام چھوڑ دیئے ہیں کہ مسئلہ کی وضاحت کے لیے نام کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
جب یہ واقعہ رونما ہوگیا تو وہ صحابیہ ؓ خود نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور یہ قصہ کہہ سنایا ۔ اب ظاہر ہے کہ جو کچھ اس کے خاوند نے کہا وہ تو محض رواج کے تحت اس نے کہہ دیا لیکن یہ بات معلوم نہ تھی کہ اسلام اس کا کیا حل بتاتا ہے ؟ وہی جو عربوں کے ہاں رواج ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور صورت حال بتاتا ہے۔ اس معاملہ میں دیکھنا تو اس بات کو ہے کہ ایک بات غلط یا صحیح اس عورت کے خاوند نے کہی لیکن اس اللہ کی بندی نے مجادلہ نبی اعظم و آخر ﷺ سے شروع کردیا اور جو شکوہ اور شکایت اس کی ہوئی تو وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے۔ اس طرح بات واضح طور پر سمجھ میں نہیں آئی۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے ذرا تفصیل کی ضرورت ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ عربوں میں رواج تھا کہ جب وہ بیوی پر کسی معاملہ میں غصہ ہوتے تو اس کے متعلق وہ لفظ بول دیتے جن کا ذکر اوپر گزر چکا ، یہ ایک بد رسم تھی اور اس رسم کو روکنے کے لیے زیر نظر واقعہ سے پہلے یہ حکم آچکا تھا کہ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّٰئِیْ تُظٰہِرُوْنَ مِنْہُنَّ اُمَّہٰتِکُمْ (33 : 4) ” اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم نے ظہار کیا تمہاری مائیں نہیں بنا دیا “ ظاہر ہے کہ اس سے اتنی بات مترشح ہو رہی ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اس طرح خطاب کرتا ہے اس کے اس خطاب سے اس کی ماں تو وہ نہیں بن گئی لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس کی حیثیت بیوی کی بھی رہی یا نہ رہی ؟ اب غور کرو کہ جن خاتون کو یہ واقعہ پیش آیا ان پر اتنی بات تو اب واضح ہے کہ میں اپنے خاوند کے لیے اس کی ماں نہیں ہوگئی لیکن کیا وہ مجھے بیوی بنا سکتا ہے ؟ اس کے متعلق وہ حکم جاننا چاہتی ہیں اور اس کو جاننے کے لیے ان کو اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئے تھا اور انہیں کی طرف انہوں نے رجوع کیا اور زیر نظر آیت ( تجادلک) کا لفظ خود تقاضا کر رہا ہے کہ اس نے آپ ﷺ کی طرف بار بار مراجعت کی لیکن ظاہر ہے کہ اس کو کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ کیوں نہیں ملا ؟ اس لیے کہ اس معاملہ میں ابھی تک کوئی واضح حکم آپ ﷺ پر نازل نہ ہوا تھا تا ہم آپ ﷺ کو یقینا اس وحی کا انتظار تھا لیکن حکم دینے والا اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے ، اس کی حکمت کا کیا تقاضا تھا کہ اس معاملہ کو فوراً حل نہ کردیا گیا اور ظاہر ہے کہ جب کوئی معاملہ حل نہ ہو رہا ہو تو معاملہ حل کرنے والے سے اس کا تقاضا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔ یہ تو اس اللہ کی بندی نے آپ ﷺ کی پوری امت کو سبق دے دیا کہ انسان جس مشکل میں پھنس جائے اس کو اپنے رب کریم ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئے اگر وہ ایسا کرے گا تو یقینا کوئی نہ کوئی اس کا حل اس کے دل میں جم جائے گا اور اسی کے مطابق عمل کرنے میں یقینا خبر ہوگی ۔ اس لیے اس انتظار میں جو وقت لگا اور وہ آپ ﷺ سے اس معاملہ میں تقاضا کرتی رہی وہ فطری بات تھی نہ کہ کوئی مخاصمت اور جھگڑا تھا۔ تقاضا اور جھگڑا میں جو فرق ہے وہ سب پر روشن ہے۔ جائز حل کی تلاش کا تقاضا اس کا فطری حق تھا جو اس نے استعمال کیا اور آپ ﷺ نے بھی اس کو اس حق سے نہیں روکا بلکہ یقینا کہا تو یہی کہ اللہ تعالیٰ اس کے متعلق کوئی حکم نازل کرے گا تو بتادیا جائے گا ۔ لیکن ادھر فطرت انسانی کا مسئلہ ہے کہ اب اس خاوند کو خاوند سمجھا جائے یا نہیں اور اس طرح خاوند کے لیے یہ بات کہ آیا وہ اس کی بیوی رہی یا نہیں ؟ تو ایسے حالات میں اس کو زبان شکایت کس سے کھولنا چاہئے تھی ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول سے جن کے پاس اس کی اس معصیت کا حل تھا اور یہ امتحان نہایت مشکل امتحان تھا لیکن اس اللہ کی بندی نے ثابت کردیا کہ اگر انسان کو امتحان میں مبتلا کردیا جائے تو اس کو صبر و ثبات کو ہاتھ سے رخصت نہیں کرنا چاہئے بلکہ نہایت ثابت قدمی کے ساتھ اس امتحان میں پورا اترنا بہادری ہے اور اسلام کا یہی تقاضا ہے ۔ ان حالات میں سے وہ گزر رہی تھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ بھی ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب فرما کر واضح کردیا کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ یہ وقت گزرنے دیا جائے اور اب آپ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہوئی ہے جو اپنے خاوند کے بارے میں آپ ﷺ سے تکرار کر رہی تھی اور اللہ تعالیٰ سے بھی شکوہ کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو کو سن رہا تھا بلا شبہ اللہ تعالیٰ سننے والا ، دیکھنے والا ہے “۔ جو لوگ روایات سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور کھڑا اور کھوٹا پرکھنے کی ان میں ہمت نہیں وہ دلبرداشتہ ہو کر ایسے مقامات کی جس طرح توجیہات کرتے ہیں ۔ یہاں بھی انہوں نے کی ہے لیکن ہمیں ان کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے اور ہم کو سیدھی بات کو قبول کرنے میں کسی طرح کی کوئی پر ابلم (Problem) نہیں ہے۔ اس طرح کہہ کر بات کو آگے چلایا گیا ہے۔
Ayah 58:2اپنی بیوی کو ماں کہنے والا ایک بکواس کرتا ہے اور بکواس کرنے والے کو اعتراف کرلینا چاہئے
2 ؎ ہماری زبان میں لغو اور فضول بات کرنے کو بکواس کہتے ہیں اگرچہ لفظ ذرا سخت اور ثقیل ہے لیکن ایسے حالات میں ثقیل اور بھاری الفاظ فطری طور پر انسان کے منہ سے نکلتے ہیں کیونکہ ایسی بات کہنے والا بھی تو آخر کچھ اور کہہ سکتا ہے ، اس نے ایسی ثقیل اور بھاری بات کیوں کہی کہ ایک حرام چیز کو حلال کرنے کی ناکام سعی و کوشش کی بہر حال اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے جو جواب اس اللہ کی بندی کو دیا گیا وہ ایسا پختہ جواب ہے کہ جب بھی کسی کو اس طرح کی حالت پیش آجائے تو اس کا یہی حل ہے۔ جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے مسلمانوں کے لیے اس مسئلہ کا حل یہی ہے اور یہی رہے گا ۔ فرمایا جو لوگ اپنی بیویوں کو اس طرح کی بات کہہ بیٹھتے ہیں اس سے ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتیں یہ گویا وہ بات ہوئی جس کو سن کر ہی اس اللہ کی بندی کو یہ فکر لا حق ہوئی تھی کہ اس طرح کہہ دینے سے حقیقتیں تو نہیں بدلتی لیکن کہنے والے کے متعلق بھی اب کوئی حکم ہے یا نہیں اور اگر ہے تو وہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یاد رکھو کہ مائیں تو وہی ہوتی ہیں جو اولاد کو جنتی ہیں اور وہ اسی اولاد کے لیے مائیں ہیں جن کو انہوں نے جنم دیا ہے اور اسی سے حرمت قائم ہوتی ہے اور حقیقت حقیقت ہے اور نقل نقل ہے کسی عورت کو ماں کہہ دینے سے حرمت تو قائم نہیں ہوجاتی اور نہ ہی ہونی چاہئے اور لاریب عقل و فطرت بھی اس کا انکار کرتی ہے اور وحی الٰہی فطرت کے مطابق ہے ۔ ایک شخص نے کسی عورت کو یا کسی عورت کے کسی خاص عضو کو اپنی ماں یا کسی ابدی حرام رشتہ سے نسبت سے دی ہے تو بلاشہ اس کی بات فضول اور لغو ہے جس کو ہم نے بکواس سے تعبیر کیا ہے اس لیے وہ تادیب کا مستحق ضرور ہے لیکن اس طرح کہہ دنے سے اس کی بیوی اس پر حرام قرار نہیں دی جاسکتی ہاں ! اس کی تادیب کے لیے حکم آگے آ رہا ہے لیکن تادیبی کارروائی قانون کا پیٹ بھرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے تاکہ نظم و نسق قائم رہے۔ اصل مجرم کی معافی اللہ کے پاس ہے اگر ایسی بات کہنے والا اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرے تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ، بخش دینے والا ہے اور وہ اپنے بندوں کی لغزشوں ، خطائوں اور بدیوں کو معاف کردیتا ہے۔
(منکرا) وہ قول و فعل جس کو عقل سلیم برا جانتی ہو اور اگر حسن و قبح کو عقل نہ سمجھ سکے تو شریعت نے اس کو برا قراردیا ہو وہ منکر ہے (منکرا من القول) بہت بری بات ( زورا) زور کے معنی جھوٹ کے ہیں زور ، زور اور ازورار سے ہے جس کے معنی انحراف کے ہیں۔ ( علامہ زمحشری ، تفسیر کشاف ج 2 ص 54 طبع بالاق مصر 1281ھ)
چونکہ جھوٹ حق سے منحرف ہونا ہے اس لیے اس کو زور کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے برے بول یعنی بکواس سے فطرت کے قانون یقینا نہیں بدلتے لہٰذا بیوی محض کسی کے جھوٹ بکنے سے اس کی ماں نہیں بن جاتی یا جس حرام رشتہ سے اس نے نسبت دی جسے بہن اور بیٹی وغیرہ۔ لنکر افسوس کہ لوگوں نے آدم (علیہ السلام) ہی کے جسم سے حوا کی پیدا کرا کر اس سے نکاح کرا دیا لیکن جب کسی کی مت ماری جائے تو وہ جو مان لے بس مان لے حالانکہ کسی کے ماننے سے کبھی حقیقت بدل نہیں جاتی ۔ غور کرو کہ جس سے کوئی پیدا ہو وہ پیدا ہونے والے کی ماں ہوتی ہے اور جو پیدا ہو وہ اولاد ہوتی ہے خواہ وہ مذکر ہو یا مؤنث لیکن ہماری قوم کا باوا آدم نرالا ہے وہ جو چاہے مان لے اور پھر مکھی پر مکھی چلی جائے ، اکثریت کا دھارا اس کو درست بنا دیتا ہے۔ بہر حال قرآن کریم کی اس آیت نے واضح کردیا کہ کسی کے کچھ کہہ دینے سے حقیقت نہیں بدل جاتا کرتی وہ اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
Ayah 58:3جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہارکر بیٹھیں وہ اپنی بات واپس لیں اور جرمانہ بھی ادا کریں
3 ؎ پہلی آیت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ظہار کا مسئلہ پوچھنے والی ایک عورت تھی ، مرد نہیں تھا لیکن اب جب اس کے سوال کے اصل جواب کا مطلب آیا تو مخاطب مردوں کو کیا جا رہا ہے عورتوں کو نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ ظہار کرنے والے مرد ہیں اور جس نے فعل کیا فطری بات ہے کہ اگر کوئی اس فعل کا جرمانہ ہے تو وہ بھی اس کے فاعل کو ہی ادا کرنا ہوگا ۔ متفکر بلا شبہ جس طرح مرد تھا عورت بھی تھی بلکہ عورت مرد سے زیادہ متفکر نظر آرہی تھی اور یہ ایک فطری امر تھا اور اب بھی ہے لیکن جب حکم سنایا جا رہا ہے تو مردوں کو مخاطب کر کے سنایا جا رہا ہے کیونکہ وہی اس کے فاعل ہیں اور انہیں پر یہ جرمانہ عائد ہوتا ہے۔ ہم نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں کی مت اس طرح ماری گئی ہے کہ وہ الٹے کام کرتے ہیں اور اس کا نام فقہ رکھ دیتے ہیں لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص عقل کا نام جنون رکھ دے یا جنون کا نام عقل تو کیا اس کے کہنے سے حقیقت بدل جائے گی ؟ آپ کہیں گے کہ نہیں ، میں کہوں گا کہ نہیں بلکہ سب کہیں گے کہ نہیں لیکن جب فقہ کا نام آجائے تو اس وقت نہیں کو ہاں کہنے لگتے ہیں۔ غور کرو کہ کسی مرد نے اپنی بیوی پر طلاق ، طلاق ، طلاق کا ڈنڈا چلا دیا اور بعد میں اس کو خیال آیا کہ بچوں کا کیا ہوگا اور اس طرح کی بہت سی دوسری پریشانیوں کا حل کیا ؟ تو اس کی مت درست ہوئی اب اس نے مذہبی ٹھیکہ داروں کی طرف رجوع کیا کہ ڈنڈا تو میں نے چلا دیا لیکن اب میری بیوی کے بچنے کی کوئی صورت ؟ تو مذہبی ٹھیکہ دار کہتے ہیں کہ اتنی فیس (Fees) لائو اور بیوی صاحبہ کو بھی ایک رات ہمارے حوالے کر دو ہم اس کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندرحلال کردیتے ہیں اور اس کے سوا کوئی صورت نہیں بس یہی ایک صورت ہے کہ تمہاری بیوی کا حلالہ ہم نکال دیں اور کوئی نہیں پوچھتا کہ ڈنڈا تو مرد نے چلایا اور سزا عورت کو آخر کیوں ؟ اگر اس طرح کی کوئی سزا لازم و ضروری تھی تو وہ مرد کو ملنی چاہئے تھی عورت بیچاری کا اس میں قصور کیا ؟ اگر کوئی حلالہ نام کی سزا لازم و ضروری تھی تو وہ مرد کو ہونی چاہئے تھی عورت کو آخر کیوں ؟ طلاق ، طلاق کا قول و فعل کس کا تھا ؟ اور سزا کس کو دی گئی ؟ بات یہ چل رہی تھی کہ ظہار کا قول و فعل مرد کا تھا بات اگرچہ عورت نے چلائی تھی کیونکہ بات عورت ہی کے متعلق تھی اس لیے اس کو حق تھا کہ وہ بطور مسئلہ بات کو پوچھتی اور حقیقت کو معلوم کرتی کہ آیا خاوند کے اس قول و فعل کے باعث اب وہ اس کی بیوی رہی ہے یا نہیں ؟ لیکن جب مسئلہ بتانے والے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے مسئلہ بتایا تو اس میں مرد کو مخاطب کر کے بتایا اور جو سزا سنائی وہ مرد کو سنائی نہ کہ عورت کو اور عورت کو بتایا تو وہ یہ تھا کہ آپ تسلی رکھیں جو بات تیرے خاوند نے کہی ہے وہ سراسر جھوٹ اور لغو ہے اس میں تیرا کوئی قصور نہیں لہٰذا تو بدستور اپنے خاوند کی بیوی ہے۔ ہاں ! چونکہ تیرے خاوند نے ایک جھوٹ بولا ہے اور اس کے جھوٹ کی سزا ہم اس کو دیں گے اور وہ سزا بھی زیر نظر آیت میں سنا دی گئی ۔ وہ سزا کیا ہے ؟ فرمایا اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے بطور سزا یا جرمانہ ایک غلام یا باندی آزاد کرے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اگر کوئی غلام و باندی اس کے پاس موجود ہے تو اس کو آزاد کرے اگر نہیں تو خرید کر آزاد کرے۔ ( یعودون) جمع مذکر غائب مضارع مرفوع جس کا واحد عود ہے وہ لوٹ آئیں ، وہ رجوع کرلیں ( لما قالوا) جو انہوں نے کہا اور ظاہر ہے کہ جو کہا وہ وہی ظہار کے الفاظ تھے جس سے ایک حلال فعل کو انہوں نے حرام کرلیا اور اب وہ اس فعل کو دوبارہ حلال کرنا چاہتے ہیں تو اس کو کفارہ میں ایک گردن کو آزاد کریں۔ ( من قبل ان یتما سا) یعنی اس سے پہلے گردن کو آزاد کریں بعد میں اس حرام کیے ہوئے فعل کو حلال سمجھ لیں ۔ گویا جو انہوں نے جھوٹی بات کہی تھی اس کا ازالہ ہوگیا اور اب وہ میاں بیوی کے طور پر رہیں ۔ اس بات کی تم کو نصیحت کی جا رہی ہے اس کو اچھی طرح یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ جو تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے ، اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ تم نے جو کہا اس کو بھی وہ جانتا ہے ، جس نیت سے تم نے ایسا کیا اس کو بھی وہ جانتا ہے اور جو جرمانہ تم پر اس نے عائد کیا اس کو تم نے ادا کیا یا نہیں اس کو بھی وہ جانتا ہے اور جس طرح تم نے توبہ کی اس کا بھی اس کو علم ہے۔
(فتحریر رقبہ) سے مراد ایک گردن کو آزاد کرنا ہے اس میں مسلم غیر مسلم ، مرد یا عورت کی کوئی قید نہیں لگائی اور نہ ہی اس میں اپنے اور غیر کی کوئی قیدموجود ہے اور نہ ہی بیمار اور صحت مند کی کوئی پابندی ہے۔ ہمارے مفسرین اور فقہاء نے اس معاملہ میں بہت بحث کی ہے۔ اس کے بازو ، ٹانگ ، ہاتھ اور پائوں اور اسی طرح ہاتھ ، پائوں کے کتنے حصے کٹے ہوئے کی بحثیں کی ہیں لیکن ہم ان کو چھیڑنا نہیں چاہتے اس طرح یہ کہ ظہار کے الفاظ اگر ایک بار سے زیادہ بار بولے گئے ہوں تو کیا ہوتا ہے ؟ الگ الگ کفارے ہوں گے یا ایک ہی کفارہ سے معاملہ درست ہوجائے گا ؟ اگر زندگی میں کسی نے ایک بار ایسی بات کہی اور جو کفارہ ادا کردیا لیکن پھر کبھی اس طرح کی بات کہہ دی ہو اور اس طرح کے بہت سے مزید سوالات اٹھائے ہیں اور ان کے جواب بھی دیئے ہیں لیکن ہم ان میں سے کسی سوال پر التفات نہیں کرتے۔ ہاں ! دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لغو اور واہیات کاموں اور باتوں سے بچائے اور اگر کوئی بیوقوفی کر بیٹھے تو جو اس کا ازالہ قرآن کریم نے بتایا وہ کافی ہے اور ضمنی کوئی بات پیش آئے گی تو قرآن کریم کی اس آیت سے استدلال کرلیا جائے گا ۔
اس میں شرط یہ ہے کہ میاں بیوی کا تعلق خاص اور اسی طرح بوس و کنار سب کی ممانعت ہے ، سب کے لیے شرط یہی ہے کہ پہلے وہ اگک گردن آزاد کرے یعنی کسی باندی یا غلام کو آزاد کرے لیکن اس کے باوجود اگر کسی نے مزید بیوقوفی کرلی کہ میاں بیوی کا خاص تعلق قائم کرلیا تو اس کے لیے کیا ہے ؟ اس سوال کو اٹھا کر بعض مفسرین نے صفحات کے صفحات لکھ مارے ہیں اور اتنے جزئیں اس کی بیان کی ہیں اور وہ ” علمی جواہر پارے “ بیان کیے ہیں اور اس اس طرح کے حیلے اور بہانے بیان کیے ہیں کہ ان کو دیکھ اور پڑھ کر بوڑھے بھی جوان ہوجاتے ہیں لیکن ہم اس سوال کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے صرف ایک حدیث پیش کرتے ہیں ۔ اس حدیث میں جو آپ کی سمجھ میں آئے اسی پر اکتفا کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور بال کی کھال اتارنے سے منع کرتے ہیں ۔ فقہی موشگافیوں سے پرہیز کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ حدیث میں ہے کہ :
( عن ابن عباس ؓ ان رجلا ً انی النبی ﷺ قد ظھر من امراتہ فوقع علیھا فقال یا رسول اللہ ﷺ انی ظاھرت من امراتی فوقعت قبل ان اکفر قال وما حملک علی ذلک یرحمک اللہ قال رایت خلخالھا فی ضوء القمر فقال لا تقربھا حتیٰ تفعل ما امر اللہ عزوجل) نسائی) ” ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن پھر اس سے ہم بستر ہوگیا ۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اسی سے ہم بستر ہوگیا ۔ آپ ﷺ نے اس کی بات سنی اور فرمایا تجھ پر اللہ رحم کرے ، اس کام پر تجھ کو کس نے مجبور کیا ؟ اس نے نہایت سادگی سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ رات چاند کی چاندنی میں میں نے اس کی پازیب دیکھی تو اپنے اوپر قابو نہ پا سکا ۔ فرمایا : اب اس کے پاس مت جا یہاں تک کہ جس بات کا اللہ نے تجھے حکم دیا ہے اس کو ادا کردے یعنی کفارہ ادا کرنے سے پہلے ایسا فعل مت کرو۔ ‘ ‘ اور یہ بات آج بھی ہمارے لیے کفایت کرتی ہے اس لیے بات سے بات نکال کر خواہ مخواہ بےلذت گناہ کا مرتکب ہونا جس کو زیب دیتا ہے وہ کرتا جائے ہمیں اس بحث کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بات ہمیشہ سامع کی دیکھ کر کی جاتی ہے جس عقل کا وہ مالک ہے اسی کے مطابق اسی کی تفہیم کرا دینا کفایت کرتا ہے۔ ایک آدمی اپنی کم عقلی کے باعث ایک کام کرتا ہے اور پھر اس کو دہرا کر دوبارہ غلطی کرتا ہے اور اس غلطی پر غلطی کیے جاتا ہے تو اس کی تفہیم اس طرح ہی کرائی جاسکتی ہے کہ وہ آئندہ غلطی نہ کرے۔ یہی آپ ﷺ نے کیا اور یہی آج ہم کو کرنا چاہئے۔ فرضی سوالوں کو اٹھانے اور پھر ان کے جواب دینے سے آخر فائدہ ؟ پھر یہ بھی کہ جو سوال ممکن ہیں وہ خود رب کریم نے اٹھائے ہیں اور ان کے جواب بھی فراہم کردیئے ہیں ۔ وہ علیم وخبیر ہے ، انسان کو فطری طور پر جو باتیں پیش آسکتی ہیں ان کا حل اس نے خود بتا دیا ہے۔
Ayah 58:4جس شخص کو غلام میسر نہ آئے وہ کیا کرے ؟ ایک فطری سوال اور اس کا جواب
4 ؎ جب قرآن کریم نازل کیا جا رہا تھا تو نہ صرف عربوں میں بلکہ پوری دنیا میں غلام و باندیوں کو خریدنے اور بیچنے کا عام رواج تھا۔ اسلام نے اس کو پسند نہیں کیا لیکن اس کی اصطلاح قدم بقدم کی اور ان لوگوں کو آزاد کرنے کی کئی ایک ترغیبات دیں اور اس کا اصل منشاء یہی تھا کہ یہ رسم بالکل ختم ہوجائے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام اس بات کو خوب جانتا تھا کہ یہ معاملہ وقت کے ساتھ ساتھ خودبخود ختم ہوجائے گا کیونکہ اس کے ختم کرنے کے لیے راستے بتا دیئے گئے ہیں ۔ اس لیے اس نے اپنے کامل علم کے باعث خود ہی یہ سوال اٹھا دیا کہ اگر کسی شخص کو غلام میسر نہ آئے تو وہ کیا کرے ؟ فرمایا وہ دو مہینے کے لگا تار روزے رکھے اور ظاہر ہے کہ یہ اتنا بڑا جرمانہ ہے کہ اس کو ادا کرنا غلام آزاد کرنے سے بھی زیادہ دشوار ہے لیکن یہ جرمانہ ادا کرنے والے کو اس بات کی سمجھ دے دے گا کہ میرے منہ کی ایک غلط بات نے مجھے کس مصیبت میں مبتلا کردیا ہے ، اس لیے وہ آئندہ ضرور بر ضرور احتیاط برتے گا جو اصل منشاء ہے اور جو بات اسلام چاہتا ہے وہ اس کو حاصل ہوجائے گی کہ آدمی واہیات باتیں نہ کرے بلکہ جو کچھ کہے سمجھ سوچ کر کہے پھر یہ بھی کہ ایسے کرنے سے کہ دو ماہ کے روزے رکھنے سے اس کو بھی مت آئے گی اور دوسرے لوگ بھی اس سے سبق حاصل کریں گے اور اپنی زبانوں کو لگام دیں گے اور خصوصاً ایسی بری باتوں میں احتیاط برتیں گے جو اصل منشاء ایزدی ہے ۔ فرمایا اگر کسی شخص کو غلام میسر نہیں آتا تو وہ دو مہینے کے لگا تار روزے رکھے اور یہ جرمانہ ادا کرنے کے بعد میاں بیوی کا تعلق قائم کرے جب تک یہ جرمانہ ادا نہ کرلے میاں بیوی آپس میں تعلق پیدا نہ کریں ۔ دو مہینے کی قید بھی سخت تھی لیکن اس کو (متتابعین) کے لفظ نے مزید سخت کردیا ہے ۔ یعنی یہ روزے پے در پے ہوں ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اس دوران کوئی ناغہ کرلیا تو گنتی نئے سرے سے کرنی ہوگی اور اس طرح اگر اس دوران بیوی سے تعلق قائم کرلیا تو بھی گنتی پھر سے شروع کرنا ہوگی۔
پھر اس میں مزید آسانی پیدا کرنے کے لیے ارشاد فرمادیا کہ اگر کوئی شخص دو ماہ کے پے در پے روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھے ، خواہش نفس کے ازالہ کے باعث اور چاہے کسی بیماری کے باعث اور چاہے کسی اور وجہ سے تو اس شخص کو چاہئے کہ وہ ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دے اور اس کے بعد میاں بیوی کا سا کوئی تعلق پیدا کرے۔ گویا ایسے قول و فعل کے تین احکام یکے بعد دیگرے بیان کیے گئے ہیں اور ان تینوں میں سے جو آسانی سے کوئی شخص کرسکتا ہے وہ کردے تو گویا اس کا جرمانہ ادا ہوگیا اور آئندہ وہ خود ہی ان شاء اللہ احتیاط کرے گا اور اییی فضول بات نہیں کرے گا ۔ فرمایا اگر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہے تو ان تینوں کاموں میں سے ایک کو وہ ضرور کرے اور امانت و دیانت کے ساتھ کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حدود قائم کی گئی ہیں جن کی پابندی لازم ٹھہرائی گئی ہے اور اگر کوئی شخص حدود اللہ میں کوتاہی کرتا ہے ، ان کو بجا نہیں لاتا اور ان کی پرواہ نہیں کرتا تو ایسے ہی لوگ ہیں جن کو کافر کہا جاتا ہے اور کافروں کے لیے جو دوزخ کا درد ناک عذاب تیار کیا گیا ہے وہ اس کو بھی ملے گا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اگر حکومت اسلامی ہوگی تو اس کے لیے اس میں وسعت رکھ دی ہے کہ وہ قانون میں وقتی ضرورت اور مصلحت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان تین جرمانوں میں سے کسی ایک کا حکم صادر کرسکتی ہے لیکن عدالت کو مجرم کی رعایت رکھنا ہوگیا یعنی اس کے لیے جو جرمانہ آسانی سے وہ ادا کرسکتے وہی کرنا ہوگا ۔ اس طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے اور اس کے بعد خاموش ہوجاتا ہے تو اس کو معاشرتی طور پر بھی اور قانونی طور پر بھی مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے جرم کا ازالہ کرے یا بیوی کو طلاق دے ، درمیان میں لٹکائے رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا لیکن اس میں تقاضا عورت بھی کرسکتی ہے خواہ وہ تقاضا اصالۃ ً کرے یا وکالۃ ً ۔
Ayah 58:5جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ان کو باز رکھاجائے گا
5 ؎ (یحادون) جمع مذکر غائب مضارع محادۃ ً ہے وہ مخالفت کرتے ہیں اور مادہ اس کا ح د و ہے وہ لوگ جو حدود اللہ سے تجاوز کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور احکام الٰہی کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس جگہ مضمون میں وسعت آگئی ہے اور کسی ایک ہی حکم کی خلاف ورزی مراد نہیں بلکہ جس حکم میں بھی وہ لا پرواہی کرتے ہیں خواہ وہ مخصوص حکم جس کا ذکر پیچھے سے چلا آ رہا ہے یعنی ظہار میں اور خواہ کسی دوسرے حکم میں ۔ اس طرح اگر عوام ہیں تو حکم ماننے میں کوتاہی کرتے ہیں اور اگر وہ حکمران ہیں تو احکام الٰہی کو پس پشت ڈال کر خود قانون سازی کرتے ہیں اور احکام الٰہی کے مقابلہ میں وہ اپنے احکام نافذ کرتے ہیں اور اس طرح وہ حدود اللہ کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس طرح جہاں قانون میں وسعت ہے اور وقتی حکومت کو قانون وضع کرنے کی اجازت ہے وہاں وہ احکام اپنی مرضی کے مطابق الٰہی قانون اور حکم کے خلاف من مانی کرتے ہیں ۔ یہ ساری باتیں حدود اللہ سے تجاوز میں آجاتی ہیں ۔ ان سب لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ان کو ذلیل و رسوا کردیا جائے گا اور انہیں منہ کے بل گرا دیا جائے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو ذلیل و رسوا کیا گیا اور ذلت کے گڑھے میں گرایا گیا تھا۔ اس سے مراد اہل کتاب ہیں اور خیال رہے کہ دنیا میں کسی قوم کی سب سے بڑی رسوائی و ذلت یہ ہے کہ اس قوم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیاجائے اور ہر گروہ دوسرے کو برا سمجھے اور کہے اور ایک مذہب و ملت سے وابستہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ اینٹ کتے کا بیر ہوجائے۔ بلا شبہ اس سے بڑی ذلت اور رسوائی من حیث القوم کوئی اور نہیں ہے اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔ غور کرو کہ اس سورت میں یکے بعد دیگرے دو بار ایسے لوگوں کو جو حدود اللہ سے تجاوز کرنے والے ہیں کافر کہا گیا ہے اگرچہ ان کا دعویٰ اسلام کے ساتھ وابستگی کا موجود ہے لیکن عملی مخالفت کے باعث ان کو کافر بھی قرار دیا گیا اور درد ناک عذاب اور رسوا کرنے والے عذاب کی وعید بھی سنائی گئی۔ کیا ان آیات کریمات کو پڑھ کر ایک بار جسم کانپ نہیں جاتا کہ ہم کیا ہیں ، ہمارا دعویٰ کیا ہے اور میں وعید کیا سنائی جا رہی ہے۔ ایک بار غور کرو کہ آج سارے اسلامی فرقے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے صادر کر رہے ہیں ، اشتہارات پر نظر دوڑائو ، دیواروں کو دیکھو ، گاڑیوں ، بسوں ، لاریوں کو دیکھو یہاں تک کہ غسل خانوں اور لیٹرینوں کو دیکھو تو وہاں بھی ایک دوسرے کو کافر ، کافر لکھا نظر آئے گا لیکن قرآن کریم کی ان آیات پر بھی نظر دوڑائو کہ ادھر تو اللہ تعالیٰ نے ایسے فتنہ بازوں اور قانون شکنوں اور مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے والوں سب کو تجاوز کرنے والے قرار دے کر کافر کہا ہے۔ کیا ان سارے لوگوں کا فتویٰ کفر صحیح ہے جو ایک دوسرے کے خلاف صادر کرتے ہیں اور واضح الفاظ میں کہتے اور لکھتے ہیں کہ شیعہ کافر ، سنی کافر ، بریلوی کافر ، دیو بندی کافر ، اہل حدیث کافر ، غیر مقلد کافر ، مقلد کافر ، اہل قرآن کافر ، وہابی کافر ، بدعتی کافر یا فتویٰ وہ صحیح ہے جو خود اللہ رب کریم نے دیا ہے کہ حدود اللہ سے تجاوز کرنے والے سارے ہی کافر ہیں۔
قرآن کریم سے اس سورت کو نکال لو کہ یہ پارہ 28 کی پہلی سورت ہے جس کو ( المجادلۃ) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ دال کی زیر سے بھی اور زبر سے بھی اور اس میں سے آیت چار اور پانچ دونوں کو غور سے پڑھو ۔ آیت چار میں ( للکفرین عذاب الیم) اور پانچویں کے آخر میں ( وللکفرین عذاب مھین) کے الفاظ آئے ہیں ۔ قرآن کریم نے کسی طرح کی کوئی تخصیص نہیں کی بلکہ دونوں ہی جگہ ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں اور ظاہر ہے کہ تجاوز کرنے والے ان ہی لوگوں کو کہا جاسکتا ہے جو ایک بات کو تسلیم کرلینے کے بعد اس سے انحراف کرتے ہیں جیسا کہ اس جگہ وضاحت موجود ہے اور ان کو اس طرح واضح الفاظ میں ” کافر “ کہا گیا ہے لیکن ہمارے سارے مفسرین نے ان دونوں جگہوں پر اللہ رب کریم کی غلطی نکالی ہے اور تحریر کیا ہے کہ ” اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو آیات کا انکار کرتے ہیں ، ان کو حق تسلیم نہیں کرتے کہ حاحد اور تارک میں بہت بڑا فرق ہے ۔ ترک احکام سے انسان گناہ گار ضرور ہوتا ہے لیکن کافر نہیں ہوتا البتہ اگر احکام الٰہیہ کا انکار کرے اور انکی حقانیت کو تسلیم نہ کرے تو یقینا کافر ہے۔ “ حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے کہ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ نام کے مسلمانوں اور کام کے کافروں جن کو اکثر منافق کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس جگہ منافق نہیں کہا گیا بلکہ صاف لفظوں میں کافر کہا گیا ہے حالانکہ وہ مسلمانوں میں رہتے ہیں ، کلمہ پڑھتے ہیں اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں تا ہم عملی لحاظ سے وہ انکاری ہیں کیونکہ کتاب اللہ کے مطابق وہ عمل نہیں کرتے چونکہ آج کل یہ بیماری عام ہے اور صرف عام میں نہیں بلکہ خواص میں بھی ہے اس لیے علماء کو اس طرح کی توجیہہ کرنی پڑتی ہے جیسا کہ ہم نے اوپرذکر کیا ہے اور یہ ایک ہی بات نہیں اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن میں علمائے اسلام نے عوام کی خاطر اصلاح کردی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ایسے سخت احکام میں کچھ نرمی پیدا ہوجائے اور عوام کے شکریہ کے وہ مستحق ٹھہریں اور اس سے حیلوں اور بہانوں کے مسائل انہوں نے نکالے ہیں اور عوام کی سہولت کے لیے ان کی سند قرآن و سنت سے بھی ان کو فراہم کردی ہے۔ بہر حال منافقین کو ظاہری طور پر مسلمان معاشرہ میں جگہ دی گئی ہے لیکن ان کی مذمت اس طرح کی گئی ہے کہ ان کی حالت کو کفر کی حالت سے بھی بد تر قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 58:6جب ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو بات بالکل واضح ہوجائے گی
6۔ وہ دن جب اللہ تعالیٰ ان سب کو دوبارہ زندہ کر دے گا اور ظاہر ہے کہ ان میں وہ بھی ہوں گے جو سچے مسلمان ہیں ، وہ بھی ہوں گے جو نام کے مسلمان اور کام کے کافر یعنی منافق بیے ہوں گے اور کھلے منکر بھی جن کو اسلام نے کافر ہی سے خطاب کیا ہے اور وہ بھی ہوں گے جو علمائے قوم یا علمائے اسلام کے نام سے موسوم کیے جاتے ہیں لیکن عوام کو خوش کرنے کے لیے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے رہتے ہیں اور بلا شبہ وہاں علمائے حق بھی ہوں گے اور سب کے اعمال اور اقوال و افعال کھول کھول کر سامنے رکھ دیئے جائیں گے کیونکہ ان سارے انسانوں کا مکمل ریکارڈ (Record) اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے۔ کفار ، فاسق اور منافق جو احکام الٰہی کا انکار کرتے ہیں اور ان سے منہ پھیر لیتے ہیں شاید ان کی نظروں میں یہ غیر اہم باتیں ہوں اور ظاہر ہے کہ جب دل میں ایمان و یقین کی دولت موجود نہ ہو تو وہ اسی طرح سمجھتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے وہ محض معاشرتی پابندی کے باعث کرتا ہے ورنہ اس کے نزدیک حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی کوئی بحث ہی نہیں ہے اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ کون ہماری ان حرکتوں کو محفوظ رکھ رہا ہے بس یہ تو ایسے ہی ایک بات ہے جو پرانے زمانے سے ہوتی چلی آرہی ہے لیکن اس طرح کی سوچ ان کی غلط فہمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام حرکتوں کو گن گن کر محفوظ کر رکھا ہے جو یہ لوگ کہہ کر اور کر کے بھول گئے ہیں ۔ قیامت کے روز جب ان کو اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا تو انکے ایک ایک کرتوت پر ان کو آگاہ کردیا جائے گا اگرچہ اس وقت کی آگاہی ان کے لیے کچھ مفید ثابت نہیں ہوگی بلکہ ان کو حسرت اور افسوس ہی ہوگا اور عذاب الٰہی میں ڈال کر ان کے حسرت و افسوس میں وہ اضافہ کردیا جائے گا جو کبھی ان کا پیچھا چھوڑنے والا نہیں ہوگا خواہ وہ چیخیں یا چلائیں اور خواہ صبر کر کے اسی حالت پر قانع ہوجائیں۔
بہرحال زیر نظر آیت میں جو بات زور دے کر فرمائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارے سارے اعمال اللہ رب کریم کے ہاں محفوظ ہیں تم خواہ ان کو کرنے کے بعد بھول چکے ہو لیکن اللہ تعالیٰ ان کو نہیں بھولا کیونکہ وہ ذات بھولنے سے پاک ہے اور اس کا مطلب واضح ہے کہ تمہاری ایک ایک حرکت تم کو بتا دی جائے گی اور اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا اور تمہارے اعمال میں سے کچھ ضبط کرلیا گیا تو اس کے متعلق بھی تم کو وضاحت پشر کی جائے گی کہ تمہارے یہ اچھے اعمال تھے لیکن اس وجہ سے ان کو ضائع کردیا گیا ہے اور ان کے ضائع کرنے سے قبل ہی تم کو انکے ضائع کرنے کی وجہ بتا رہے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ تم کو ہمارے کہنے پر ابھی بھی یقین نہیں آ رہا حالانکہ تم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ ہر ایک چیز پر قادر ہے وہی تم کو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے اور وہی تم کو دوسری بار بھی پیدا کرے گا ۔
Ayah 58:7جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے ، تمہاری ہر حالت سے وہ واقف ہے
7 ؎ زیر نظر آیت گزشتہ آیات کی مزید وضاحت کر رہی ہے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے دراصل آپ ﷺ کی ساری امت بلکہ ساری انسانیت کو مخاطب کیا جا رہا ہے کیونکہ جو بات کی جا رہی ہے اس میں پوری انسانیت ہی کو مخاطب کرنا مقصود ہے خواہ پکے اور سچے مسلمان ہوں اور خواہ نام کے مسلمان اور کام کے کافر ہوں اور خواہ وہ کفر میں نہایت سچے ہوں کیونکہ سچ اور کفر دونوں منافی نہیں ہیں ۔ فرمایا جب سارے نظام کا بنانے والا اور چلانے والا اللہ ہے تو لاریب وہ ہر ایک چیز سے واقف بھی ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ، ان سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہر ایک چیز سے با خبر ہے۔ اب اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے اور وضاحت کا رنگ وہ اختیار کیا جا رہا ہے جو اس وقت کے منافقین کی حرکات و سکنات کی ترجمانی کرتا ہے اور آج کے منافقوں کی بھی اور اس طرح آنے والے زمانہ کے منافقوں کی بھی ترجمانی کرتا رہے گا کیونکہ منافقین کی عادت تھی ہے اور رہے گی کہ یہ جس شخص سے بھی حسد و بغض رکھتے ہیں اس کے منہ پر کچھ کرتے ہیں اور کہتے ہیں لیکن پیٹھ پیچھے کچھ کہتے ہیں اور کرتے ہیں اور یہ حالت نفاق کی پکی حالت ہے اس وقت بھی جو منافق تھے اسلام کا نام لیتے تھے اور اسلام کے ظاہری ارکان ادا کرتے تھے ، آپ ﷺ کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے ، آپ ﷺ کی باتوں کو خوب کان لگا کر سنتے تھے لیکن عمل کرنے کے لیے نہیں اس میں سے کوئی کمزور پہلو تلاش کرنے کے لیے پھر جب وہ غلط تقریر سننے کے بعد الگ ہوتے تو آپس میں ان سنی ہوئی باتوں پر بہت کھل کر تبصرہ کرتے اور بےپر کی اڑانے کی پوری کوشش کرتے۔ اس لیے ان کی ان حرکات کے باعث کہا جا رہا ہے کہ خوب یاد رکھو اللہ تمہاری ان حرکتوں سے خوب واقف ہے جہاں تم دو مل کر گفتگو کرتے ہو تو تیسرا اللہ ہوتا ہے اور اگر تم تین مل کر بیٹھتے ہو تو تمہارا چوتھا اللہ ہوتا ہے اور اسی طرح اگر تم چار ہو تو پانچواں اللہ ہوتا ہے اور تم دو سے کم ہو یا زیادہ جتنے بھی ہو جو کچھ تم تبصرے کرتے ہو تمہارے بصروں کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک لب و لہجہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ پھر جہاں بھی تم ہوتے ہو اور جیسے بھی ہوتے ہو اور جو جو کرتے ہو سب سے اللہ رب کریم واقف ہے تم کسی ایسی جگہ کی نشاندہی نہیں کرسکتے جہاں اللہ رب کریم موجود نہ۔ دن ہو یا رات ، اندھیرا ہو یا روشنی اس سے تمہاری کوئی حرکت پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور قیامت کے روز تمہاری ان ساری حرکتوں کا ریکارڈ مع اس کی جزء کے تمہارے سامنے پیش کردیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ تمہاری ہر ایک بات سے اچھی طرح واقف ہے۔
ان اللہ لکل شیء علیم
Ayah 58:8منافقین کی حرکتوں کی مزید نشاندہی کہ وہ کیا کچھ کرتے ہیں اور کیا کیا رنگ بدلتے ہیں ؟
8 ؎ ( نجوی) کیا ہے ؟ النجری کا مادہ ن ج و ہے اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں کثرت سے استعمال ہوئے ہیں ۔ النجوی معرف باللام ہے اور مصدر بھی اس کا یہی ہے اور اس کے معنی سرگوشی کرنے کے ہیں یعنی کسی کے کان کے قریب منہ لگا کر آہستہ آہستہ بات کرنا تاکہ کوئی دوسرا اس کو سن نہ لے اور جس طرح اکثر ظن خیر نہیں ہوتا اسی طرح اکثر سرگوشیاں بھی خیر کی نہیں ہوتیں اس لیے اسلام نے سرگوشیوں سے منع کیا ہے اور خصوصاً بعض سرگوشیوں کو بہت برا کہا ہے اور سمجھا ہے اور ہماری اردو زبان میں اس کو ” کانا پھوسی “ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ مجلس میں بیٹھنے والے وہیں بیٹھ کر ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہنا شروع کردیں یا تین آدمی ہوں اور ان میں سے ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہنا شروع کر دے یا تین بیٹھے ہوں اور ان میں سے کسی ایک کو کوئی الگ کر کے بات کہے تو اسلام کی نگاہ میں یہ اچھا عمل نہیں ہے بلکہ ایک برا عمل ہے جس سے منع کیا گیا ہے اور خصوصاً نبی کریم ﷺ کی زندگی میں آپ ﷺ کے ساتھ اسی طرح کی کوئی حرکت کرنا بھی اچھا نہیں سمجھا گیا اور پھر خصوصاً وہ سرگوشیاں جو گناہ ، عددان اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی میں کی گئی ہوں وہ تو بہت ہی بری سمجھی گئی ہیں۔
اس کے بعد منافقین کی ایک حرکت کا مخصوص طور پر ذکر کیا گیا ہے جس کو آپ ﷺ جاننے کے باوجود کسی سے بیان کرتے تھے کہ تمہاری یہ حالت تمہارے ہی لیے خطرناک حالت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے نام لے کر نہ سہی پھر بھی اس کا پردہ چاک کردیا کہ اس کردار کے لوگ آپ ﷺ کی مجلس کے اندر موجود ہیں اور جب یہ آیت اور اس طرح کی دوسری آیات اترتیں تو ان کے کان کھڑے ہوجاتے۔ زیر نظر آیت میں ان کو اس حرکت کا ذکر کیا گیا ہے جس میں وہ آپ ﷺ کو بظاہر سلام پیش کرتے لیکن اندر سے موت کا تصور رکھتے اور سلام کے الفاظ اس طرح ادا کرتے جس سے ان کے ہم جنس ان کو خوب پہچان جاتے کہ یہ صاحب بھی ہماری ہی پارٹی کے ہیں مثلاً جب کبھی آپ ﷺ کسی مجلس میں حاضر ہوتے تو اسلام علیکم کی بجائے سام علیکم کہتے حالانکہ سام کے معنی موت اور لعنت کے ہیں اور اسی طرح بظاہروہ سلام پیش کرتے لیکن السلام علیکم کی بجائے سام علیکم کہتے ہیں ۔ ان کی اس حرکت کی کلی کھولی جا رہی ہے اور ان کو بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری اس طرح کی حرکتیں ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں اور جب تم اس طرح علیک سلیک کرنے کے بعد اپنی مخصوص مجلسوں میں آ کر بیٹھتے ہو تو ایک دوسرے سے آنکھ کے اشارے سے جو بات شروع کرنے کے لیے کرتے ہو اس سے بھی ہم اچھی طرح واقف ہیں کہ جب تم بطور تبصرہ ایک دوسرے سے کہتے ہو کہ ہم نے تو یہ یہ حرکت کی تھی اگر وہ اللہ کا رسول ہوتا تو اللہ ہم کو ضرور اس کی سزا دے دیتا ، جب اللہ نے کوئی سزا نہیں دی تو معلوم ہوگیا کہ دراصل اللہ کا رسول اور نبی ہونے کا جو دعویٰ اس نے کیا ہے وہ صرف ایک دعویٰ ہی دعویٰ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یاد رکھو کہ تمہاری ان حرکتوں کے باعث تم کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا خواہ تم کون ہو ، کہاں ہو اور کیسے ہو اور دنیا میں بھی تمہارے عذاب دیئے جانے کی صورت پیدا کی جا رہی ہے اور تمہارا انجام بھی یقینا برا ہونے والا ہے گویا تمہاری دنیا بھی خراب ہے اور یقینا تمہاری عاقبت بھی خراب ہوگی اور تمہارا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف لوٹ کر جانا بھی بہت ہی برا ہے جس کی برائی کا اصل پتہ تم کو قیامت ہی کے روز لگے گا جب تمہارا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا ۔ رہی تمہاری بد دعا تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر بھی تم ہی پر مرتب ہوگا ہمارے رسول ﷺ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور نہ ہی ہو سکتا ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے عروہ الوثقیٰ جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 47 ، سورة طہٰ کی آیت 62 جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 3 میں کرچکے ہیں۔
Ayah 58:9ایمان والوں کو ( النجوی) یعنی سرگوشیوں کی مخالفت کرنے کے بعد مشروط اجازت
9 ؎ زندگی میں راز کی بات کسی نہ کسی سے انسان کو کہنا ہی پڑتی ہے اور صلاح مشورہ کو لازم بھی قرار دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ بعض مشورے ایسے بھی ہوتے ہیں جو سارے انسانوں کے سامنے نہیں کیے جاسکتے اور خصوصاً ان میں سے قومی مشورے راز دارانہ ہوتے ہیں جن کو راز میں رکھنا ضروری بھی ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں چونکہ سرگوشیوں سے منع کیا گیا تھا اس لیے زیر نظر آیت نے اس کی مزید وضاحت فرما دی اور خصوصاً تمام ایمان والوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ ایمان والو ! جب تم کو کوئی راز و نیاز کی بات کرنا ناگزیر ہو تو سمجھ لو کہ معصیتوں اور گناہ کے کاموں کے لیے کبھی آپس میں سر گوشی نہ کرو ۔ ہاں ! کوئی کار خیر ہو ، کسی کی بھلائی کی بات ہو تم کو اجازت دی جاتی ہے کہ آپس مںٓ مشورہ کیا کرو اور جو مشورے قومی راز و نیاز کے ہوں ان کو مشورہ کے لیے مخصوص لوگوں کے سامنے پیش کیا کرو اور اس میں اس بات کو نہ بھولو جو کچھ کرو اور کہو اس میں نیکی اور بھلائی کی کوئی بات ہو ، گناہ ، زیادتی اور نبی کریم ﷺ کی نافرمانی کی بات نہ ہو ۔ اب ذرا غور کرو کہ کیا اس وقت جو جمہوری نظام ہمارے ملک میں رائج ہے کیا یہ رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے سیاسی نظام کے مطابق ہے ؟ تعجب ہے کہ جو جماعتیں اس کو بر ملا اس دور کا سب سے بڑا بت تصور کرتی ہیں اور بر ملا اس کو اسی نام سے یاد کرتی ہیں وہ بھی اس کو پوج رہی ہیں اور کوئی نہیں پوچھتا کہ تم نے اس کو اس دور کا سب سے بڑا بت قرار دیا ہے پھر تم اس کو پوج بھی رہے ہو ۔ اس حرام چیز کو تم نے کس قرآن کریم کی آیت محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے حلال کرلیا ہے ، اس کی وضاحت تو کردیں ؟ اگر اس کی وضاحت بھی نہ کریں اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی میتل اور نافرمانی کے لیے برابر ایک دوسرے سے سرگوشیاں بھی کریں تو آخر قرآن کریم کی اس آیت کے وہ خلاف کر رہے ہیں یا نہیں ؟ کیا سنت کی پیروی اس کا نام ہے ؟ کیا اہل حدیث ہونے کا یہی مطلب ہے ؟ کیا ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور اس کو نہیں کہتے ؟ کیا جب کوئی شخص ، جماعت ، گروہ یا قوم کہے کچھ اور ۔ کرے کچھ اور تو اس کا نام اسلام نے منافقت نہیں رکھا ؟ کیا منافق کو قرآن کریم نے کافر سے بھی برا قرار نہیں دیا ؟ زیر نظر آیت میں ایمان والوں کو مخاطب کر کے جس کام سے منع کیا گیا ہے آج مسلمان قوم وہی کام نہیں کر رہی ہے۔ فرمانبرداری ایک چیز ہے اور اس کو اطاعت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے لیکن جہاں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے وہاں شیطان کی اطاعت سے روکا بھی گیا ہے ۔ اگر ایک شخص جماعت یا گروہ شیطان کی کھلی اطاعت کر رہا ہو اور لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے وہ زبان سے صرف یہ لفظ ادا کرتا رہے کہ میں تو اطاعت و فرمانبرداری ہی کر رہا ہوں تو بلا شبہ اس کو اطاعت گزار اور فرمانبردار کہا جائے گا لیکن شیطان کا بلا شبہ زیر نظر آیت میں ( نجوی) کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن اس ( نجوی) کی جو زیادتی کی ( نجوی) نہ ہو اور رسول اللہ ﷺ کی معصیت و نافرمانی کے لیے نہ ہو۔ اس کی بنیادبھلائی اور تقویٰ پر رکھی گئی ہو۔ مثلاً زیر نظر موضوع میں جہاں لوگ اس مقصد کے لیے مل بیٹھیں کہ اس جمہوری نظام کو جو اس دور کا بہت بڑا بت ہے اس سے رستگاری کیسے حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کو ختم کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ تو بلا شبہ یہ ( نجوی) وہ ( نجوی) ہوگی جس کی اجازت اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور اللہ کا ارشاد اچھی طرح سن لو اور یاد رکھو ، فرمایا جا رہا ہے کہ لوگوں سے نہیں ، اکثریت کی ہوا سے نہیں فقط اللہ سے ڈرو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ تم سب کو لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے۔ مذہبی رہنمائوں کو بھی اور عوام کو بھی ، سیاسی لیڈروں کو بھی اور ان کے ورکروں اور ووٹروں کو بھی ۔ قائدین کو بھی اور ان کی قیادت کے ساتھ وابستگی رکھنے والوں کو بھی اور وہاں کسی کا حال چھپا نہیں رہے گا ۔
Ayah 58:10شیطانی نجویٰ ایمان والوں کو ڈرانے کے لیے ہے لیکن ایمان والے اس سے بالکل نہیں ڈرتے
10 ؎ ایمان والوں کی ایمانی طاقت و قوت کو کس مخفی انداز سے بڑھایا جا رہا ہے کہ اے ایمان والو ! منافقین ، مخالفین ، معاندین اور کھلے کافر سب تمہارے خلاف سرگوشیوں میں مصروف ہیں لیکن تم ان سب کی سرگوشیوں کی قطعا ً پروانہ کرو ۔ یہ سب تم کو ڈرانا چاہتے ہیں تاکہ تمہارے دلوں میں خوف پیدا ہوجائے کہ اب ان کی مشاورتی کمیٹی نہ معلوم ہمارے خلاف کیا قرارداد پاس کرتی ہے۔ فرمایا وہ جو کچھ بھی پاس کرتے ہیں ان کو کرنے دو اور تم ان کے ڈراوے میں مت آئو ، وہ تمہارا کچھ نہیں بگڑا سکیں گے۔ مگر ہاں ! تمہارا جو کچھ بگڑتا یا سنورتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی بگڑتا اور سنورتا ہے ۔ یاد رکھو کہ یہی وقت ہے تمہارے امتحان کا کہ تم ایمان و ایقان میں کتنے پکے ہو۔ تمہارا فرض مخفی یہ ہے کہ تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارا مؤقف صحیح اور درست ہے وہ تم نے جان لا اور سمجھ لیا اور اسی چیز کا نام اسلام ہے۔ اب تم کو تعلیم یہ دی گئی ہے کہ اگر ایمان لانے کے بعد تم کو کسی دکھ یا مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو یہ دکھ اور مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی دور نہیں کرسکتا اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم کو کوئی بھلائی ملنا ہے تو ساری دنیا مل کر بھی اس بھلائی کو روکتی رہے تو اس بھلائی نے تم کو چل کر مبارکباد پیش کرنا ہے۔ تم گھبرائو نہیں ، جھکو نہیں ، بکو نہیں لیکن ایسا نہ ہو کہ تم یہ الفاظ محض الفاظ کی حد تک استعمال کرتے رہو اور وقت آجائے تو تمہارا سانس پھولنے لگے اور تم حواس باختہ ہو جائو ۔ اللہ پر بھروسہ کرو اور ایمانی قوت اور طاقت اتنی بھاری اور مضبوط چیز ہے کہ اس کا مقابلہ اور کوئی چیز بھی نہیں کرسکتی اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھنا چاہئے کیونکہ ایمان پر اگر موت آجائے تو اس کو خاتمہ بالخیر کہتے ہیں اور خاتمہ بالخیر اتنی بڑی کامیابی ہے کہ اس سے بڑی دنیا میں اور کوئی کامیابی نہیں ہے جس کا خاتمہ بالخیر ہوا اس نے بلا شبہ گوہر مقصود حاصل کرلیا اور اس کو وہ زندگی مل گئی جس کے بعد موت اور فنا نہیں ہے۔
اس کا تعلق ادب مجلس سے ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا : ( اذ کان ثلثۃ فلا یتناجی اثنان دون الواحد) مطلب یہ ہے کہ اگر تم میں سے کہیں تین آدمی اکٹھے بیٹھ جائیں تو تیسرے آدمی کو چھوڑ کر دو آپس میں سر گوشی نہ کریں اور ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم تین آدمی بیٹھے ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کرو اس سے اس تیسرے آدمی کو آسودگی ہوگی اور وہ آزردہ خاطر ہوگا “۔ ( عن ابن مسعود ؓ اور آگے آداب مجلس کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔