Ayah 57:1اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے
1 ؎۔ (سنبح) کا لفظ با کی تشدید اور زبر سے تین بار قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اگرچہ اس مادہ کے الفاظ بہت دفعہ استعمال ہوئے ہیں ۔ اس سے تسبیح ہے اور تسبیح اور تمہید اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے خاص ہے جو خاص الفاظ میں بطور وظیفہ بھی پڑھی جاتی ہے اور لا ریب وہ موجب خیر و برکت ہے لیکن اصل تسبیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان نقائص سے جو لوگوں نے خوش فہمی اور کم عقلی کی بنا پر ان کی طرف منسوب کردیئے ہیں ۔ پاک و صاف کیا جائے جس طرح اصل تمحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمالات کو ظاہر کیا جائے اور اس کی صفات کو بیان کیا جائے ، لا ریب آسمان و زمین کی ایک چیز گواہی دے رہی ہے کہ ان کا خالق ومالک ہر نقص اور عیب سے پاک ہے خواہ وہ تسبیح ان کی زبان قال سے ہو یا زبان حال سے اور زبان قال سے تسبیح کرنے والوں کے مقابلہ میں زبان حال سے تسبیح کرنے والوں کی تعداد بہر حال زیادہ ہے کیونکہ زبان قال صرف اور صرف جن و انس کے پاس ہے باقی ساری مخلوق زبان حال سے تسبیح خواں ہے جیسا کہ دوسری جگہ قرآن کریم نے ہر ایک چیز کے تسبیح کرنے کا ذکر کیا ہے اور اس کی وضاحت ہم غزوۃ الوثقیٰ ، جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 13 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 44 جلد ششم سورة النور کی آیت 36 ، 41 میں بیان کر آئے ہیں ۔ اس جگہ سورة الحشر اور سورة الصف کی ابتدائی آیات میں اس کو صیغہ ماضی یعنی ( سبح) سے بیان کیا گیا ہے لیکن سورة الجمعہ اور سورة التغابن کا شروع ( یسبح) مضارع سے کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ پہلے بھی ہر ایک چیز اس کی تسبیح کرتی رہی ہے ، اب بھی کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی اور یہ سلسلہ قیامت کے لیے ممتد ہے۔
پھرزیر نظر آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ آخر اس کی پاکیزگی کیوں بیان نہ کر یہ اور اس کی حمد کے گیت کیوں نہ گائے وہی ذات تو ہے جو عزیز بھی ہے اور رحکیم بھی اور صرف وہی ہے جو العزیز اور الحکیم ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ زبردست بھی ہے لیکن ساتھ ہی حکمت والا بھی ہے یعنی وہ جو کچھ کرتا ہے حکمت و دانائی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی کہ اکثر طاقت اور اندھا دھند طاقت کا استعمال کرتے ہیں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کوئی طاقتور طاقت کا مظاہرہ دانائی اور حکمت کے ساتھ کرے لیکن اللہ رب العزت کے لیے جہاں بھی یہ لفظ استعمال کیا گیا حکمت اور رحمت کو اس کے ساتھ ہی رکھ گیا ۔ بہت کم ایسا ہوا کہ اس کو عزیز ، العزیز اور عزیزا جس طرح بھی بیان کیا گیا اس کے ساتھ حکمت و رحمت کو نہ رکھا ہو بہت کم ایسا ہوا ہے کہ اس کے ساتھ قوی ، حبار اور مقتدر اور ذوانتقام کا لفظ استعمال ہوا ہو لیکن جہاں ہوا اس موقع اور جگہ کو دیکھنے سے معلوم ہوجائے گا کہ اس کی وہاں کیا ضرورت تھی اور اگر اس کے ساتھ حکمت و رحمت لگائی جاتی تو وہ کیوں صحیح نہ ہوتا اور اس کی وضاحت ہم کرتے آ رہے ہیں اگر ملاحظہ کرنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد 2 ، سورة ٔ آل عمران کی آیت 4 ، جلد سوم سورة ٔ المائدہ کی آیت 95 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 57:2آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے ، وہ ہرچیز پر قادر ہے
2 ؎۔ (یحی) وہ زندگی دیتا ہے ( یمیت ) وہ مارتا ہے ، جو چیز زندہ ہے اس اللہ رب کریم کے زندہ کرنے سے زندہ ہے اور جو مری ہے ، مرتی ہے یا مرے گی اس کے حکم سے مرتی ہے مر رہی ہے اور مرے گی ۔ واضح مطلب یہ ہے کہ اس نے زندگی اور موت کے لیے ایک قانون بنا دیا ہے جو زندہ ہے وہ اس قانون کے تحت زندہ ہے اور جو مرتا ہے اس قانون کے تحت مرتا ہے اور وہ اس بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ جس کو وہ زندہ رکھنا چاہے اس کو کوئی مار نہیں سکتا اور جس کو وہ مارنا چاہے اس کو کوئی بھی زندہ نہیں رکھ سکتا اور یہ بات اتنی واضح اور اتنی ظاہر ہے کہ اس کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح ہر ایک چیز کا اصل مالک وہ خود ہے کیونکہ اس کو کسی چیز کی ملکیت بدلتے کوئی دیر نہیں لگتی ۔ آج جن چیزوں کے آپ مالک ہیں ذرا غور کرلیں کہ ان کے کون کون مالک رہ چکے ہیں اور جس طرح ان کی ملکیت بدلتے اس کو کوئی دیر نہیں لگی ، کسی عدالت کی طرف رجوع نہیں کرنا پڑا ، کسی مقدمہ کی سماعت نہیں کرنا پڑی اور جب اس کا وہ قانون نافذ ہوگیا تو ملکیت خود بخود بدل گئی اور اس طرح جب تمہاری باری آئے گی تو تم کو اس طرح واپس بلا لیا جائے گا کہ سننے والے سنتے ہی ان اللہ وانا الہب راجعون کہہ دیں گے اور تمہاری ساری ملکیت تبدیل ہو کر دوسروں کی ملکیت میں چلی جائے گی اور انجام کار ہوتے ہوتے وہ وقت بھی یقینا آئے گا کہ نہ یہ چیزیں رہیں گی اور نہ ان کے مالک اور جو کچھ ہے وہ اصل مالک یعنی رب ذوالجلال والاکرام کی طرف لوٹ جائے گا اور وہ اس سارے نظام کو بدل کر ایک دوسرا نظام جو اس کے علم میں ہے چلا دے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے اور ایسا کرنے سے باز رکھ سکے وہ جس طرح اس ہر ایک چیز کو لانے پر قادر تھا اسی طرح ہر ایک چیز کو لے جانے پر بھی قادر ہے لیکن افسوس کہ اس حقیقت کو انسان بہت کم سمجھتا ہے۔
Ayah 57:3اول و آخر ، ظاہر و باطن اور ہر ایک چیز کا علم اس کے پاس ہے
3 ؎۔ اول اس لیے کہ جب کچھ نہیں تھا تو وہ موجود تھا اور جب کچھ نہیں رہے گا تو وہ پھر بھی موجود رہے گا۔ وہ ظاہر ہے ایسا کہ اس سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں ہے کیونکہ ہر ایک چیز کا وجود اس کی ذات سے قائم ہے اور اس قدر باطن ہے کہ اس کی صفات کو الگ الگ کر کے اگر اس کی ذات کو کوئی مرئی آنکھوں سے دیکھنا چاہے تو یہ بات اس دنیا میں ممکن ہی نہیں خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو جو اس کی ذات کے دیکھنے کا کہے گا وہ جھوٹ بولے گا کیونکہ اس کی ذات نہ تو کسی آلہ سے دیکھی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی طریقہ اور تدبیر سے گویا وہ ذات کے لحاظ سے ایسا باطن ہے کہ اس سے زیادہ باطن کوئی چیز ممکن ہی نہیں اور صفات کے اعتبار سے اس قدر ظاہر ہے کہ وہ کسی کے چھپانے سے بھی نہیں چھپ کیونکہ روشنی ہو یا اندھیرا اسی کی صفت سے وہ روشنی اور اس کی صفت سے وہ اندھیرا ہے ۔ لا ریب یہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے کہ ہر عقل و فکر سے وراء الوراء ہے ۔ وہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور اس کو اس دنیا میں کوئی چیز احاطہ نہیں کرسکتی اور جس کا احاطہ ممکن نہ ہو وہ کوئی سمجھے گا تو آخر کیا ؟ بلا شبہ وہ ہر ایک چیز پر محیط ہے یعنی اس کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور ہر ایک کو جانتا اور پہچانتا ہے کہ سب اس کی مخلوق ہے اور جو ایجادت انسان کرتا رہا ہے ، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا سب کا میٹریل (Material) اسی نے پیدا کیا ہے اور سب کو عقل و فکر دینے والا وہ خود ہے اور سب کو عقل و فکر دینے والا وہ خود ہے اس لیے ہر ایک چیز کا انجام اسی کی طرف لوٹتا ہے جہاں عقل کی رسائی ختم ہوجاتی ہے وہاں آگے وہی موجود ہے کیونکہ اس کی ذات ہی عقل کل ہے ، اس لیے یہ کہا گیا ہے کہ :
وہی پہلا ہے کوئی اس سے پہلے نہیں ، وہی آخر ہے کوئی اس کے بعد نہیں ، وہی ظاہر ہے کوئی اس سے اوپر نہیں ، وہی مخفی ہے کوئی چیز اس سے مخفی نہیں اور جنت و دوزخ کے فیصلہ کے بعد جو ابدی زندگی ہے ، جس کے بعد موت نہیں وہ بھی اس کے حکم سے ہے خود بخود یعنی بذاتہٖ قائم نہیں اس لیے اس طرح کا شبہ پیدا کرنا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے اور روح اور فرشتے بھی اسی کے حکم سے قائم ہیں نہ کہ بذاتہٖ ۔
Ayah 57:4وہی ہر ایک چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور ہر ایک چیز کا آخر اسی کے پاس ہے
4 ؎ وہ ذات جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ ادوار میں پیدا کردیا ( سنۃ اباء) جس کے معنی ہم نے چھ ادوار کیے ہیں اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 54 ، جلد پنجم سورة یونس کی آیت 33 ، سورة ہود کی آیت 7 ، جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 59 ، جلد ہفتم سورة السجدہ کی آیت 4 ، جلد ہشتم سورة ق کی آیت 38 میں کر آئے ہیں اس لیے اگر اس کی وضاحت دیکھنا چاہیں تو محولہ حوالوں کی طرف مراجعت کریں ( یلج) واحد مذکر غائب مضارع اس کی اصل ول ج ہے اور ولوج مصدر منصوب ہو تو معنی ہوں گے داخل ہوجائے مرفوع ہو تو معنی ہوں گے داخل ہوتا ہے اور اس جگہ مرفوع ہے ۔ رہی یہ بات کہ زمین میں کیا کچھ داخل ہوتا ہے تو اس کا مختصراً جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ جو کچھ زمین سے نکلتا ہے سب کا سب اسی میں داخل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس اشرف المخلوقات انسان کا خروج تھی اسی سے ہے اور داخل بھی وہ اسی میں ہوتا ہے اور اس طرح جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے وہ آسمان ہی کی طرف چڑھتا ہے اور مطلب اس کا صرف یہ ہے کہ زمین سے نکلنے والی چیزیں اور زمین میں داخل ہونے والی ، اسی طرح آسمانوں سے اترنے والی اور آسمانوں کی طرف عروج کرنے والی ہرچیز کو کلیات کے طور پر بھی اور جزئیات کے طور پر بھی وہ جانتا ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اور نہ ہی اس کے علم سے کوئی چیز باہر ہے ۔ وہ عرش پر بھی ہے اور تم سے بھی الگ نہیں ۔ بلا شبہ وہ نظر بھی نہیں آتا اور سب کو دیکھ بھی رہا ہے اور وہ اپنے علم اور قدرت سے تمہارا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی وضاحت آیت 3 میں گزر چکی ہے جہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی ، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور اسکے بیان کا اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ ممکن ہی نہیں کیونکہ اس کے ہاں ضد کا کوئی امکان موجود ہی نہیں ہے اسی لیے کسی نے کہا ہے ؎
ایں معیت کی نگنحد دربیاں نے زماں دارد خیر زونے مکاں
سارے انسانوں کے اعمال و افعال سے بھی اور حرکات و سکنات سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ، تم جس حال میں بھی ہو اور جہاں بھی ہو اور جو حرکت بھی کر رہے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔
Ayah 57:5وہ آسمانوں اور زمین کا مالک حقیقی ہے اور سب کام اسی کی طرف لوٹتے ہیں
5 ؎ زیر نظر آیت اس سورت کی پانچویں آیت ہے اور تیسری بار یہ بات بیان کی جا رہی ہے کہ دراصل مالک ہر ایک چیز کا اللہ رب کریم ہی ہے کیونکہ اسی کی ملکیت بدلتی نہیں باقی عارضی اور وقتی ملکیتیں ہیں جن کو بدلنے ذرا دیر نہیں لگتی بلکہ وہ آنکھ جھپکنے میں بدل جاتی ہے ۔ غور کرو اور بار بار غور کرو کہ آج جن جن چیزوں کے تم مالک ہو ان چیزوں کا کون کون مالک رہ چکا ہے اور ان چیزوں کے بارے میں کس کس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ چیز میری ہے لیکن آج ان کا نام و نشان بھی موجود نہیں ہے اور آج تم ان چیزوں کے مالک ہو اور آنے والے کل میں اس طرح تمہارا بھی نام و نشان مٹ جائے گا اور یہ چیزیں دوسروں میں تقسیم ہوجائیں گی جب سے یہ نظام قائم ہوا یہی طریقہ جاری ہے اور یہی جاری وساری رہے گا جب تک یہ نظام قائم ہے اور انجام کار ان ساری چیزوں کو لوٹ کر اسی رب کریم کی ملکیت میں باقی رہ جانا ہے اور انسانوں سے مخاطب ہو کر کہا جارہا ہے کہ تمہارے اعمال کو بھی لوٹ کر اسی اللہ تعالیٰ کی طرف جانا ہے اور تم کو خود بھی اور پھر کیا ہوگا کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے تم کو دکھا کر تمہاری فلم (Film) کو چلا دینا ہے اور تمہاری ایک ایک حرکت کو جس طرح محفوظ کرلیا گیا ہے وہ مع اس کے نتیجہ کے تمہارے سامنے پیش کردی جائے گی اور اسی مضمون کو قرآن کریم نے مختلف اشاروں اور استعاروں میں بیان کر کے تفہیم کرانے کی ساری کوشش کی ہے تاکہ انسان اپنے اردہ اور اختیار سے اس کو سمجھ کر اس کے انجام کو پیش نظر رکھ کر اپنی اصلاح کرنے کی خود کوشش کرے اور دیکھے کہ اس ساڑھے پانچ فٹ کے ڈھانچہ کو جو اس نے اختیار دیا ہے دنیا کی بڑی سے بڑی مخلوق کو بھی نہیں دیا اور پھر اس کی وضاحت آگے آنے والی آیت میں پیش کی جارہی ہے۔
Ayah 57:66 ؎ غور کرو کہ رات کا اور دن کا تعلق کس چیز پر قائم ہے ؟ تمہاری اس زمین سے جس میں تم کو اس نے بایا ہے اور تمہارے ان آسمانوں سے جن کے اندر سورج ، چاند اور کروڑوں کی تعداد میں دوسرے ستارے اور سیارے گردش کر رہے ہیں ان سب کے بندھن کا نام دن اور رات ہے اور پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کائنات میں سے جس میں یہ زمین بھی اور یہ آسمان بھی ایک چیز بھی ایسی نہیں جو ارا ادہ اختیار رکھتی ہو ہر ایک چیز اس کے قانون میں اس طرح باندھ دی گئی ہے کہ وہ نہایت پابندی کے ساتھ گردش کر رہی ہے اور انہیں کی گردش سے تمہارے دن رات پیدا ہو رہے ہیں ، وہ اپنے قانون کے مطابق چاہتا ہے تو رات کو کم کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر کم کرتے کرتے ایک جگہ پر لے جا کر کھڑا کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے دن کو کم کرنا شروع کردیتا ہے اور آہستہ آہستہ کم کرتے کرتے اپنے قانون کے مطابق ایک جگہ لے جا کر اس کو روک دیتا ہے اور پھر واپسی شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے لاریب یہ اسی مالک حقیقی کی چاہت سے ہو رہا ہے لیکن کس ترتیب کے ساتھ کہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور یہ کمی بیشی بھی بدستور جاری رہتی ہے ۔ غور کرو کہ کیا یہ اس کے چاہنے سے نہیں ہے ؟ ہاں ! بیشک یہ سب کچھ اسی کے چاہنے سے ہے۔ ایک بار پھر غور کرلو کہ جب یہ سب کچھ اسی کے چاہنے سے ہے اور تم بھی مانتے ہو کہ ہاں اسی کے چاہنے سے ہے تو پھر ہر وہ کام جو اس کے قانون کے مطابق ہو رہا ہے اس کو تم اس کی چاہت کیوں تسلیم نہیں کرتے اور کیوں ایسی باتیں گھڑتے ہو جو اس کے قانون قدرت کے خلاف ثابت کر کے تم کو تسکین آتی ہے کہ اب ہم کو تسلی ہوئی ہے کہ یہ اس کے چاہنے سے ہے مثلاً اس نے انسانی پیدائش کے لیے ایک قانون بنایا بالکل اس طرح جس طرح رات دن کی کمی بیشی کے لیے ایک قانون بنایا ۔ اب پیدائش جب اس کے قانون قدرت کے مطابق ہوتی ہے تو تم اس کو اس کی چاہت سے تعبیر نہیں کرتے اور پھر فرضی داستانیں گھڑتے ہو کہ فلاں آدمی بغیر باپ کے پیدا ہوا ، کیسے ؟ کہ بس اللہ کے چاہنے سے ۔ اس وقت تم کیوں بھول جاتے ہو کہ یہ پیدائش جو ماں باپ کے توسط سے پیدا ہو رہی ہے وہی اللہ کے چاہنے سے پیدا ہوتی ہے اور یہ بغیر باپ کے کہنا کہ اور وجہ سے ہوگا اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کا باپ کوئی نہیں تھا کیونکہ قانون الٰہی کے مطابق جو ولد ہے اس کے لیے اس کی ماں بھی لازم اور باپ بھی تب ہی جا کر وہ ولدکہلاسکتا ہے۔ ہاں ! اگر کوئی کسی کا ولد نہیں ، تو مانا جاسکتا ہے کہ اس کا کوئی باپ نہ ہو یا کوئی ماں نہ ہو اور یہ بھی کہ دونوں ہی نہ ہوں اور اس کا تعلق محض تخلیق الٰہی سے ہو مختصر یہ کہ جو اس کے قانون کے مطابق ہو رہا ہے اور ہوتا ہی چلا جا رہا ہے بلا شبہ یہ اس کے چاہنے سے ہے اور اس کی چاہت کے علاوہ کسی چیز کا وجود ممکن ہی نہیں۔ جس طرح رات اور دن کی تبدیلی ہونے کے بعد جو حصہ رات کا دن ہوجاتا ہے وہ دن ہی کہلاتا ہے نہ کہ رات اور اسی طرح جو حصہ دن کا رات ہوجاتا ہے وہ رات ہی کہلاتا ہے نہ کہ دن اور اس کو ہم رات اور دن کی کمی بیشی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ پس جو یہ اتناا بڑا کام تمہاری آنکھوں کے سامنے کر رہا ہے اور تم اس کو ان آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہو اور پھر وہ تمہارے سیٹوں کے رازوں سے بھی واقف ہے اور تمہاری کوئی حرکت وہ رات میں ہو یا دن میں ، چھپ کر کرو یا ظاہر ہو کر وہ ہر حال میں اس کو جانتا ہے پھر حرکت تو فعل و عمل اور قول پر اخلاق کرتی ہے ۔ وہ تو سیٹوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔
Ayah 57:7اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ہدایت
7 ؎ ( امنوا باللہ ورسولہ) کا خطاب کن لوگوں کو ہے ؟ ظاہر ہے کہ انہیں لوگوں کو جو ایمان لانے کے دعویدار ہیں اور اسلام قبول کرنے کا وہ دعویٰ کرچکے ہیں یعنی ایمان لانے والوں میں وہ شامل ہوچکے ہیں ۔ جو ایمان لا چکے ہیں ان کو کہنا کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو چہ معنی دارد ؟ معنی اس کے یہ بھی ہیں کہ صرف ایمان کا دعویٰ کردینے اور کلام اسلام منہ سے ادا کردینے کا نام ایمان نہیں بلکہ ایمان نام ہے دعویٰ ایمان کے بعد وہ اعمال کرنے کا جن اعمال کا کرنے کا اسلام اور ایمان تقاضا کرتا ہے اور ان اعمال کو چھوڑ دینے کا نام ایمان ہے جن اعمال کو چھوڑنے کا اسلام اور ایمان تقاضا کرتا ہے ۔ اگر ان اعمال کو اسلام کے حکم کے مطابق نہ بنایا جائے یا ان میں کوتاہی کی جائے یا کوتاہی ہوجائے تو ان کو مخاطب کرتے وقت ایمان والو ! کہہ کر ہی حکم دیا جائے گا کہ اے ایمان والو ! جنہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا ہے لیکن اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا تم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اسلام و ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو اور اس کو اس طرح بھی ادا کیا جاسکتا ہے کہ ( یا ایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ) النساء : 3 ، 136) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لائو “۔ یعنی سچے دل کے ساتھ ایمان لائو ۔ صرف دعویٰ ایمان تک ہی نہ رہو اپنے اعمال و افعال اور اقوال کو بھی اسلام کی ہدایت کے مطابق درست کرو۔ ایمان والوں کو مخاطب کر کے جو احکام دیئے گئے ہیں ان کو ہم نے غزوۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة المائدہ کے شروع میں اکٹھا کردیا ہے جن کی تعداد غالباً 84 ہوتی ہے اگر ان آیات کریمات کو ان مقامات سے نکال کر جہاں جہاں وہ قرآن میں آئی ہیں دیکھا جائے تو ان شاء اللہ بہت نفع ہوگا اور اگر کوئی صاحب ” ایمان والوں کو خطاب “ کے نام سے شائع کرنے والے کو ان شاء اللہ بہت ہی فائدہ ہوگا ، دینی بھی اور دنیاوی بھی ۔
بہرحال زیر نظر آیت میں ایمان والوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور ظاہر ہے کہ یہ سوچ کرنا زندگی ہی میں ہوگا ۔ ایک کے مرنے کے بعد دوسروں کو حکم نہیں دیا گیا کہ اے وہ لوگو جو زندہ ہو ! اپنے مرنے والوں کے لیے خرچ کرو۔ آپ اس طرح کا کوئی حکم یا کسی طرح کا کوئی اشارہ بھی کتاب و سنت سے پیش نہیں کرسکتے اور یہ بات ہم چیلنج کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ جہاں بھی اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کا حکم دیا ہے وہ زندہ کو اپنی زندگی ہی میں خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور کسی بھی زندہ کو اس کے مرنے والے کے لیے مال خرچ کرنے کی ہدایت کتاب و سنت میں نہیں دی گئی ۔ لیکن افسوس کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی زندگی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے مشکل ہی سے تیار ہوتا ہے اور اپنے مرنے والوں کے لیے ہر شخص کچھ نہ کچھ ضرور کوشش کرتا ہے خواہ وہ روٹی ، کپڑے ، جوتے اور نقدی ہی کی شکل میں ہو ۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ ہم نے نسلا ً بعد نسل ایسا کرتے لوگوں کو دیکھا ہے اور دین کے ٹھیکہ داروں نے قوم کو یہ باور کرا دیا ہے کہ مرنے والوں سے ہمدردی کا اظہار بھی ہوگا ، دنیا میں شہرت بھی ہوگی اور مرنے والوں کو جنت بھی ملے گی حالانکہ اس سے صرف اور صرف تین باتوں میں سے درمیانی بات کہ مرنے والوں کے لواحقین کو شہرت ملے گی “ کے سوا اس خرچ کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔ زیر نظر آیت پر بھی ایک بار پھر غور کرو فرمایا جا رہا ہے کہ ایمان لائو اللہ اور اسکے رسول پر اور خرچ کرو ( مما جعلکم مستخلفین فیہ) ان مالوں یا ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مال جو تمہاری اس عارضی ملکیت میں دیئے گئے ہیں ان مالوں سے اپنی زندگی میں اپنی زندگی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ یہ مال دراصل اللہ تعالیٰ کا مال ہے جو اس نے تم کو اپنے خلیفہ کی حیثیت سے عطا کیا ہے تاکہ تم اس کو اپنے تصرف میں رکھ کر اصل مالک یعنی اللہ تعالیٰ کی مرضی اور رضا کے مطابق خرچ کرو اور اس کی وضاحت ہم کئی ایک مقامات پر چکے ہیں ، چناچہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اعظم و آخر ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کس صدقہ کا اجر سب سے زیادہ ہے ؟ تو آپ ﷺ نے جوابا ً ارشاد فرمایا کہ ( ان تصدق وانت صحیح شحیح تخشی الفرو تامل الغنی ولا تمھل حتی اذا بلغت الحلقوم قلت لفلان کفار لفکان کفاو قد کان لغلان) ” تو اس وقت صدقہ کرے کہ تو صحیح اور تندرست ہو اور مال کی کمی کے باعث اس کو سنبھال کر رکھنے کی ضرورت محسوس کرتا ہو اور اس مال کو کسی کام میں لگا کر زیادہ کما لینے کی تیری امید بھی برقرار ہو اور اس کے باوجود تو سب کام چھوڑ کر اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس وقت کا انتظار نہ کرے کہ موت کا وقت قریب آجائے اور اس وقت تو کہے کہ یہ فلاں کو دیا جائے اور یہ فلاں کو کیونکہ اس وقت تو مال فلاں فلاں کو مل ہی جاتا ہے “۔ (بخاری و مسلم) غور کرو کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کیا ہے اور آج کا مذہبی ٹھیکہ دار تم کو کیا کہتا ہے اور کس طرح تم سے تمہارا مال وصول کرتا ہے ؟ ایک بار پھر سمجھنے کی کوشش کرو کہ آج کا یہ مذہبی ٹھیکہ دار اور ثواب پہنچانے کا گر جاننے والا گرو تم کو تمہاری زندگی میں خرچ کرنے کی تلقین کیوں نہیں کرتا ؟ اس لیے کہ اگر تم صحت و تندرستی کی حالت میں خرچ کرو گے تو تم خرچ کرنے کی جگہ کو بھی دیکھو گے کہ یہ مال کس طرح خرچ کیا جائے اور کیسے خرچ کیا جائے اور پھر اگر تم کو اللہ نے توفیق دے دی تو تم خود ہی جگہ کو منتخب کر کے خرچ کرو گے لیکن اگر تم ایسا کرو گے تو اس مذہبی ٹھیکہ دار اور ثواب پہنچانے والے گروہ کو کیا ملا ؟ کچھ ابھی نہیں۔ پھر اس کا سرا پھرا ہے کہ وہ تم کو مال خرچ کرنے کی خو اہ مخواہ تلقین کرے۔ ہاں ! تم مرو گے تو تمہارے عزیز و اقارب تمہاری نیت سے مال خرچ کریں تاکہ ان کو دنیا میں شہرت ملے اور تم کو اس کا اجر وثواب تو وہ مال تمہارے عزیز و اقارب اس مذہبی ٹھیکہ دار اور ثواب پہنچانے کا گر جاننے والے کو دیں گے ، وہ ان سے بل وصول کرے گا جو اس کے اور اس کے بال بچوں کے کام آئے گا اور ثواب وہ تم کو بھیج دے گا اور بھیجے گا بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی روح کے ہاتھ ۔ پھر وہ کیوں نہ تمہارے عزیز و اقارب ہی کے ذریعہ سے مال خرچ کروائے اور کیوں نہ اس طرح مال خرچ کرنے کی تلقین کے اور خواہ مخواہ اور اپنی دکانداری کو بھی خراب کرے یہ تو ملاں ازم کی بات تھی ۔ رہا قرآن کریم تو اس کو ایک بار پھر پڑھو ، وہ کہتا ہے کہ ( فالذین امنوا منکم وانفقوا لھم اجر کبیر ) ” جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور اپنے بالوں کو خود خرچ کیں گے ان کے لیے بڑا اخر ہے “ یعنی جن لوگوں نے اس قرآن کریم کے حکم کے مطابق ایمان کو قبول کیا اور سچے دل سے ایمان لائے اور خود اپنے مالوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ان کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے اور وہ اجر بھی معمولی قسم کا اجر نہیں بلکہ بہت بڑا اجر ہے کیونکہ یہ مال تم نے مال دینے والے اللہ رب کریم کی رضا کے مطابق خرچ کیا ہے اب جب تم اپنی عمر کو پورا کر کے اس فانی دنیا سے چلے جائو گے تو یہ تمہارا خرچ کیا ہوا مال جس کی رضا کے مطابق تم نے خرچ کیا ہے وہ تو زندہ ہے اور زندہ رہے گا پھر اس کے حکم کے مطابق تمہارا اجر بڑھتا ہی رہے گا اور اس طرح تمہارے وصول کرنے کے وقت وہ بہت زیادہ ہوچکا ہوگا کہ تم اس کو دیکھ کر حیران رہ جائو گی کہ میں نے اتنا مال کب خرچ کیا تھا ؟ مزید وضاحت درکار ہو تو غزوۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة لقمان کی آیت 33 کی تفسیر دیکھ لیں اور دونوں مقامات کو ملا کر پڑھنے اور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ سے سمجھ کر توفیق بھی طلب کریں پھر اگر بات سمجھ میں آجائے اور دل جم جائے تو اپنی صحت و تندرستی کی حالت اور ضروریات زندگی کو روک کر یا کم کر کے مال بچا کر اللہ کی رضا کے مطابق خرچ کریں ۔ ان شاء اللہ دین و دنیا میں نفع حاصل ہوگا ، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہے۔
Ayah 57:8تم کو کیا ہے کہ تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ تم نے پختہ وعدہ کیا ہے
8 ؎۔ یہ اس طرح کا بیان ہے جس طرح کسی کو ملامت کرتے ہوئے کہا جاتا ہے تم کو کیا تکلیف ہے کہ تم یہ کام نہیں کرتے جب کہ تم کو اس کے کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور یہ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ ایک مسلمان جب اسلام لانے کا دعویٰ کرتا ہے تو گویا وہ اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ میں نے اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی بات کو سن لیا ہے اور اس کو کرنے کا عہد کرتا ہوں لیکن اس کے بعد وہ اس عہد کو بھول جاتا ہے یعنی اس طرح نہیں کرتا جس طرح کرنے کا اس نے عہد کیا ہے تو اس سے یہ بات پوچھنے میں آدمی حق بجانب ہوتا ہے کہ ہاں ! بتائو کہ تم کو کیا پر ابلم ہے کہ تم نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا اور اسکے باوجود تم اللہ اور اسکے رسول کے حکم کی نافرمانی کر رہے ہو حالانکہ رسول لالہ ﷺ بنفس نفیس یا بذریعہ نمائندگی تم کو تمہارا عہد یاد کرا رہے ہیں اور ایمان کی دعوت دے رہے ہیں کہ تم لوگ اپنے رب کے ساتھ ایمان لائو اس طرح جس طرح ایمان لانے کا حق ہے یعنی سچے دل سے مانتے اور تسلیم کرتے ہوئے پھر اگر تم ایمان لانے کا دعویٰ میں سچے ہو تو تم کو عمل سے ثابت کرنا چاہئے کیونکہ عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ انسان اپنے دعویٰ میں سچا ہے یا نہیں ؟ پھر اس عہد کی وضاحت غزوۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 7 میں ہم کرچکے ہیں وہاں سے بھی اس کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے بھی اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ چناچہ عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ ( یا یحنا رسول اللہ ﷺ علی السمع والطاعۃ فی النشاط والکسل و علی النفقۃ فی العسر والیسر وعلی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر و علی ان نقول فی اللہ تعالیٰ ولا تخاف لومۃ لا ئم) ( مسند احمد) ” ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم خوشی اور غمی ، چشتی اور سستی ہر حال میں سمع وطاعت پر قائم رہیں گے اور ہر طرح اور ہر طریقہ میں اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے ، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور اللہ کی رضا کے لیے حق بات کہیں گے اور اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کو ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ ” معلوم ہوا کہ زیر نظر آیت سے دو باتیں واضح ہوگئیں۔ (1) یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر اس کام کو کرے جس کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ہر اس کام سے رک جائے جس سے رکنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اگر ایسا نہ کرے تو گویا اس نے ایمان کا جو دعویٰ کیا وہ اس دعویٰ میں سچا نہیں ہوگا۔ (2 ) یہ ایمان عقیدہ اور عمل دونوں کے ملنے کا نام ہے اور اس کی آبیاری کے لیے انفاق فی سبیل اللہ نہایت ضروری اور لازمی ہے کیونکہ اسی سے عمل و عقیدہ نشو ونما پاتا ہے اور اگر انفاق فی سبیل اللہ میں کمزوری آئے گی تو یقینا عمل و عقیدہ بھی سست ہوگا اور اسی سے انسان اپنا تجزیہ بھی کرسکتا ہے۔
Ayah 57:9قرآن کریم کے نزول کا اصل مقصد اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جانا ہے
9 ؎ (ایات بینات) (ایات) کا لفظ قرآن کریم میں 15 بار آیا ہے اور ( ایات بینات) کا لفظ بھی اسی تعداد میں شامل ہے ہمارے مفسرین نے جہاں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد معجزات ہی لیے ہیں لیکن زیر نظر آیت نہ معلوم ان کی نظر سے کیسے بچ گئی کہ اکثر مفسرین نے تو یہاں کوئی بات ہی نہیں کی اور جن مفسرین نے کچھ بیان کیا انہوں نے بھی اس لفظ سے مراد عام تعلیمات اسلام ہی لی ہیں جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے ذریعہ سے لوگوں کو مل رہی تھیں لیکن ہماری تفہیم کے مطابق اس جگہ ( ایات بینات) ان آیات کریمات کو کہا گیا ہے جو انفاق فی سبی اللہ اور جہادفی سبیل اللہ کا حکم دیتی ہے اور یہ بات ان شاء اللہ آپ کو آگے چل کر اسی سورت میں واضح ہوجائے گی کہ جو مراد ہم نے اس جگہ ( ایات بینات) سے لی ہے وہ صحیح اور درست ہے اور ( عبدہ ) سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور وہ مراد لیے جاسکتے ہیں اور آگے اس آیت میں ( ایات بینات) کا مقصود مفہوم بتایا اور سمجھایا گیا ہے یعنی انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ سے کیا حاصل ہوتا ہے ؟ فرمایا اس سے قوم اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آتی ہے کیونکہ دنیا کی محبت جو سراسر تاریکی ہی تاریکی ہے اور آخرت سے پیار روشنی ہی روشنی پھر جس کی محبت دنیا سے ہوگی وہ انفاق فی سبی اللہ سے رک جائے گا اور اس کے سامنے دنیا کی ایک ایک خواہش حجاب اور پردہ بن کر کھڑی ہوجائے گی اور اس کے مقابلہ میں جو شخص جو انفاق فی سبیل اللہ میں سبقت حاصل کرے گا اور اپنی نہایت محنت و مشقت سے کمائی ہوئی دولت کا ایک کا فی حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردے گا وہ ان حجابات کو ہٹا کر اس روشنی میں داخل ہوگا جس کا تعلق براہ راست جنتی زندگی کے ساتھ ہے اور آخرت آیت میں یہ بات مزید بتا دی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ شفقت کرنے والا اور پیار کرنے والا ہے اور اس کی شفقت اور پیار کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے سامنے سے دنیا کا حجاب اور پردہ اٹھ جائے جس کی ظاہری علامت یہ ہے کہ انسان انفاق فی سبیل اللہ کی طرف راغب ہوجائے اور جب بھی اور جہاں بھی موقع اس کو میسر آئے تو بےدھڑک اس میں حصہ لینے لگے۔
Ayah 57:10جب یہ معلوم ہوگیا کہ اصل مالک ہرچیز کا اللہ ہے پھر بھی وہ خرچ نہ کرے تو اس پر تعجب ہوگا ۔
10 ؎ غور کرو کہ گزشتہ آیت میں ایمان والوں ہی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ جب تم نے ایمان و اسلام کو قبول کرلیا ہے تو پھر آخرت کیا وجہ ہے کہ تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان نہیں لاتے جس کا صاف صاف مطلب یہ اور صرف یہ نکلتا ہے کہ بعض لوگ ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود ایمان لانے کا حق ادا نہیں کرتے یعنی جیسے ایمان لانا چاہئے ویسا ایمان نہیں لاتے بلکہ زبان ہے اقرار کرلینے اور کاغذات میں مذہب کی جگہ کے سامنے اسلام لکھ دینے پر اکتفا کرتے ہیں اور وہ بھی محض اس لیے کہ یا تو ان کو اس میں بظاہر کوئی نظر آیا ہے یا وہ باپ دادا سے ایسا ہی لکھتے اور کہتے چلے آ رہے ہیں ۔ ویسے اسلام کے احکام ماننے اور تسلیم کرنے میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس لیے ان کو مخاطب کرتے ہوئے اس طرح مخاطب کیا گیا ہے کہ گویا وہ مسلمان نہیں بلکہ کسی دوسرے گروہ ہی سے ان کا تعلق ہے اور زیر نظر آیت میں بھی اسی طریقہ ، نہج اور اصول پر کیا جا رہا ہے کہ جب تم نے اسلام کو قبول کرلیا ہے اور اس کا اقرار کر رہے ہو تو آخر وجہ کیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسکی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں حالانکہ تم یہ بات مانتے اور تسلیم بھی کرتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ تعجب ہے تم پر کہ مال کو جمع کرتے وقت وقت تو حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتے اور جب جمع کرلیتے ہو تو ایک بہت بڑی عمارت شروع کرتے ہو اور بغیر کسی ضرورت کے لاکھوں روپیہ اس پر خرچ کرلینے کے بعد دروازہ کے اوپر خوبصورت انداز میں لکھ دیتے ہو ھذا من فضل ربی اور کبھی کسی کو نے پر لکھ دیتے ہو کہ ” مالک ہر شے کا خدا ہے “ عدالتوں اور کچہریوں میں بڑے بڑے کتبے لگا دیتے ہو کہ الراشی والمرتشی کلا ھمانی النار اور اندر بیٹھ کر رشوت کے سودے کرتے ہو ۔ بڑی بڑی منڈیوں میں بڑے بڑے پوسٹر لگاتے ہو کہ من غشی فلیس منا اور منڈیوں میں جو بیچتے اور خریدتے ہو سب میں ملاوٹ کرتے ہو ، کھوٹ ملاتے ہو ، اوپر اور نیچے میں فرق رکھتے ہو ۔ سٹہ بای کرتے ہو ، مطلب یہ ہے کہ مال جمع کرنے کے لیے ہر حربہ اختیار کرتے ہو اور حلال و حرام کی قطعا ً تمیز نہیں کرتے ہو حالانکہ ان ساری چیزوں سے تم کو اسلام نے سختی سے منع کیا ہے لیکن تم ہو کہ اسلام ، اسلام کے نعرے بھی لگاتے جاتے ہو اور حکم بھی اسلام کا ایک نہیں مانتے ، اسلام نے تم کو فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور تم جو کچھ خرچ کرتے ہو محض نام و نمود کے لیے خرچ کرتے ہو ، اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کو تمہارا دل نہیں مانتا اور جن کاموں سے تم کو اللہ نے سختی سے منع کیا ہے ان کو تم فن اور مہارت قرار دیتے ہو ، نام اسلام کا ، کام شیطان کا ۔ تم پر حیرت اور افسوس نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے ؟ اچھا ماننا نہ ماننا تمہاری مرضی ہے تو ہماری بات بھی کان کھول کر سن لو کہ ” وہ شخص جس نے فتح نے پہلے خرچ کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جس نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا وہ دونوں اجر وثواب میں کبھی برابر نہیں ہو سکتے “ مطلب یہ ہے کہ جب اسلام کی ضرورت تھی اور حالات نہایت نازک تھے اس وقت جن لوگوں نے لوہے کے چنے چباتے ہوئے لوگوں کی مخالفت اپنے سر لیتے ہوئے ، ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ کیے بغیر اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور ان کے مقابلے میں جب مکہ فتح ہوگیا ، حالات درست ہوگئے ، لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے ، ملک پر ملک فتح ہونے لگے ، لوگوں کی نظریں اسلام کی طرف دیکھنے لگیں اور ہر طرف سے مبارکبادیوں کے پیغام آنے لگے تو بعض لوگوں نے اس وقت مال بھی خرچ کیا اور جہاد میں بھی شریک ہوئے۔ مان لیا کہ جو انہوں نے کیا وہ بھی جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ ہی ہے اور نیک کام بہر حال نیک ہے تا ہم یہ دونوں طرح کے لوگ اجر وثواب میں کبھی برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ ان سب کے ساتھ نیکی ہی کا وعدہ کیا گیا ہوتا ہم مقام اور عہدہ ان دونوں گروہوں کا برابر نہیں ہو سکتا ۔ یہ تو اس وقت کی بات تھی جب ابھی مکہ بھی فتح نہیں ہوا تھا اور پھر وہ فتح ہوگیا لیکن ضرورت بدستور ابھی جاری تھی اور وہ لوگ اس ضرورت میں آ کر شریک ہوگئے جلدی نہ سہی دیر سے سہی لیکن ان لوگوں کی حالت کیا ہوگی جو اسلام کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن ایک کام بھی اسلام کے حکم کے مطابق کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ وہ جو کریں گے محض رسم و رواج کے لیے کریں گے اور نام و نمود کے لیے کریں گے ۔ ان کو کچھ مل جائے تو خوش ہوں گے اور خرچ کرنا پڑے تو منہ چڑھائیں گے اور باتیں بنائیں گے۔ دنیوی شہرت حاصل کرنے کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیں گے اور اللہ کی رضا کا نام سن کر پیٹ میں بل شروع ہوجائیں گے اور مروڑ پڑنے لگیں گے۔ آخر ان کا کیا ہوگا ؟ اس بات کو اس جگہ ختم کیا جائے گا کہ تم جیسے کیسے بھی اعمال کر رہے ہو اللہ تعالیٰ ان سے خبردار رہے اور اس کا فیصلہ اس کے علم کے مطابق ہوگا اور یقینا وہ اس کا فیصلہ کر دے گا ۔ بس آپ اس فیصلے کے دن کا انتظار کریں۔
بات تو لمبی ہو رہی ہے لیکن آیت کے اس ٹکڑے کو ایک بار پھر پڑھو ( لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد و قاتلوا) ” تم میں سے جو لوگ فتح سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے تھے اور جہاد کرنے والے تھے وہ فتح کے بعد خرچ کرنے والوں کے برابر نہیں ہیں بلکہ پہلے خرچ کرنے والے اور جہاد کرنے والے درجات میں بہت بلند ہیں ۔ فتح کے بعد اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور جہاد کرنے والوں سے ۔ ” فتح سے مراد دو میں سے ایک لے لو چاہے صلح حدیبیہ اور چاہے فتح مکہ کیونکہ قرآن کریم نے دونوں ہی کو فتح کے نام سے موسوم کیا ہے جو فی الواقع حقیقت ہے ۔ فتح سے پہلے حالات بہت نازک تھے ، ہر لحظہ اس بات کا خطرہ تھا کہ کفار کا سیلاب کسی وقت آجائے اور گلشن اسلام پر یلغار شروع کر دے اور ان غیر یقینی حالات میں جن لوگوں نے اپنے مالوں کو دل کھول کر اور نہایت ذوق و شوق اور بہادری و دلیری کے ساتھ اللہ کی راہ میں پیش کیا اور اسی طرح اپنی جانوں کو بھی ظاہر ہے کہ انکے پیش نظر فقط اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی رضا تھی ۔ کسی قسم کی مالی یا سیاسی منفعت کا خیال تک نہ تھا اور یہ بھی کہ اس وقت تک قربانیوں کی ضرورت بھی شدید تھی اور قربانی پیش کرنے والے بھی بہت کم تھے لیکن فتح کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ اب اسلام ایک سیاسی قوت کی حیثیت سے ابھر آیا اور ان لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور اب صلح کی شرائط کے باعث خطرہ جنگ بھی ایک حد تک ٹل گیا اور جہاد کا رخ یکسر بدل گیا ۔ بیشتر دشمن نہ صرف یہ کہ وہ دشمن نہ رہے بلکہ دلی دوست بن گئے اس لیے انہوں نے بھی اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے مال اور جانیں اسلام کے سامنے پیش کردیں ۔ اس لیے یہ حقیقت ثابت ہوگئی کہ اس فتح سے پہلے مال اور جانیں اللہ کی راہ میں پیش کرنے والے فتح کے بعد پیش کرنے والوں سے اجر میں بھی بہت زیادہ تھے۔ اب غور کرو کہ صدیق اکبر ، عمر فاروق ، عثمان غنی اور علی ؓ نے جو جانی اور مالی قربانیاں پیش کی وہ فتح سے پہلے تھیں یا بعد میں تھیں ؟ ظاہر ہے کہ فتح سے بہت پہلے تھیں بلکہ ان ہی لوگوں کی قربانیوں سے یہ فتح اللہ نے عطا فرمائی پھر وہ لوگ جو اصحاب ثلاثہ کی قربانیوں کے باوجود ان کی عظمت شان کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کے حق میں گستاخی کرتے ہیں ان کا کیا ہوگا اور وہ کیسے ہوں گے ؟ بہتر ہے کہ وہ خود ہی غور کریں اور بتائیں کہ ان صحابہ کرام ؓ کے بارے میں اللہ کا فیصلہ حق ہے یا ان کا فیصلہ ؟ کیا ہم اللہ کی بات کو تسلیم کریں یا ان کی بات کو ؟ قرآن کریم کی شہادت کو سچ سمجھیں یا ان کی اس ہزلہ گوئی کو ۔ آخر الکلام یہ کہ ( من اصدق من اللہ قیلاً ) (4 : 122) ( ومن اصدق من اللہ حدیثا) (4 : 87)
Ayah 57:11جو شحص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ دوگنے اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے
11 ؎ گزشتہ آیت میں اللہ کی راہ میں مال اور جان کو قربان کرنے یعنی خرچ کرنے کا ذکر تھا اور زیر نظر آیت میں اس طرح اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال کو قرض سے تعبیر کیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو تم خرچ کرتے ہو اس کی حیثیت فرض کی سی ہے لہٰذا جس کو قرض دیا جاتا ہے اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اس کو واپس کرے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو تم خرچ کرتے ہو وہ اللہ کے ذمہ گویا قرض ہے اس لیے یقینا وہ اس کو واپس لوٹائے گا ۔ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی قرآن کریم میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی تلقین کی ہے اس کو قرض ہی سے تعبیر کیا اور قرض کو بھی قرض حسنہ کہا ہے اور قرض حسنہ وہی قرض ہوتا ہے جو قرض دینے والے نے جائز اور حلال طریقہ سے جمع کیا ہوتا کہ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کرسکے اور دینے والا اسی نیت کے ساتھ دے کہ لینے والے کی جب ضرورت پوری ہوجائے تو وہ واپس لوٹاتے وقت اتنا ہی مال واپس کرنے کا ذمہ دار ہوگا جتنا کہ اس وقت میں اس کو دے رہا ہوں اور پھر یہ بھی کہ جب وہ مال اللہ کی رضا کے لیے دے رہا ہے تو وہ مال حلال ہو ، اعلیٰ درجہ کا ہو ، اس مال کی اس کو خود بھی اشد ضرورت ہوتی لیکن اپنی ضرورت کو روک کر دو اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہو اور جس کو دے رہا ہو اس طرح مخفی طریقہ سے دے رہا ہو کہ گویا یہ اس کی امانت تھی جو اس کو واپس لوٹا رہا ہے۔ جس کو دیا ہے اس پر کسی طرح کا احسان نہ جتائے اور نہ ہی اس کو کسی طرح کی اذیت پہنچائے۔ اس کا مقصد رضائے الٰہی ہو اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ ہونے والے مال کو جو قرض سے تعبیر کیا گیا ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے بھی بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں اگر تفصیل چاہتے وہ تو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 245 ، جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 12 کی تفسیر ملاحظہ کریں اور سورة التغابن اور سورة المزمل میں بھی اس کا ذکر آئے گا۔ جب اس طرح کی آیات کا نزول ہوتا تو صحابہ کرام ؓ اپنے مالوں کو خرچ کرنے کے لیے والہانہ طور پر تیار ہوجاتے اور اس طرح کے کارہائے نمایاں انجام دیتے کہ ان کی یاد آج تک تاریخ میں تازہ ہے اور ان کو پڑھ کر ایمان تازہ ہوتا ہے اور ان کے ایمان کی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان کا ایمان کیا ہی ایمان تھا ، سبحان اللہ !
اسی طرح کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بار صحابی ؓ نبی اعظم و آخر ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! اسی طرح اللہ کی راہ میں دیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کے ذمہ قرض ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، ہاں ! یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ قرض مانگتا ہے ؟ فرمایا ، ہاں ! وہ بولے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میرا فلاں باغ مجھے بہت پسند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! وہ فی الحقیقت ایک پسندیدہ باغ ہے۔ تو وہ کہنے لگے آپ ﷺ گواہ رہیں یا رسول اللہ ﷺ کہ میں نے وہ باغ اللہ کی راہ میں قرض دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس باغ میں چھ سو کھجوروں کے درخت تھے۔ آپ ﷺ سے صرف یہ عرض کیا اور چلے گئے اس وقت تک ان صحابی کی رہائش بھی اس باغ ہی کے اندر تھی ، ان کا نام ابو الدحداح ؓ تھا ، وہ باغ کے قریب گئے اور باہر کھڑے ہو کر اپنی بیوی کو آواز دی کہ اے الدحداح کی ماں ! اس نے جواب دیا لبیک ۔ فرمایا اخر جی قد اقرضتہ ربی عزوجل اس اللہ کی نیک بندی نے جب خاوند کی یہ آواز سنی تو وہ پکار اٹھیں بح بیعک یا ابا الدحداح اے الدحداح کے باپ آپ نے بہت نفع والا سودا کیا ۔ زبان سے اس طرح جواب دیا اور عملاً یہ کیا کہ اپنے مال بچوں کے ساتھ لیا اور باغ سے باہرآئیں اور اپنے سازو سامان کو بھی وہاں سے نکال لیا ۔ غور کرو کہ آج ہم میں سے کوئی ایک ہے جو ان کے ایمان کی ایک ادنیٰ سی جھلک بھی دکھا سکے اور وہ لوگ کس ایمان و عظم کے پہاڑ تھے جن کے ایمان کی عظمت کے گیت آج تک گائے جا رہ ہیں ۔ ( اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا)
قرآن کریم کی آیت آج بھی اسی طرح درس دے رہی ہے اور پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ آج بھی جو شخص تم میں سے اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا تو وہ اسی کو کئی گنا زیادہ کر کے واپس لوٹائے گا اور علاوہ ازیں وہ شاندار اجر کا مستحق بھی ٹھہرے گا ۔ اس طرح گویا صدائے عام ہے آئے جس کا جی چاہے اور آزمائے جس کا دل مانے۔
رب یسر ولا تعسرو تمم بالخیر
Ayah 57:12وہ دن کہ ایمان والے مردوں اور عورتوں کو خوش خبریاں پیش کی جائیں گی
12 ؎ ( یوم) یوم کا لفظ بلا شبہ نکرہ ہے لیکن اس جگہ سے اس ایک خاص دن مراد ہے کوئی ایک دن مراد نہیں ۔ اہل زبان اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ آگے آنے والے مضمون نے خود بخود اس کو معرفہ بنا دیا ہے اور یہ ( یوم) الیوم ہوگیا ہے کیونکہ یہ خاص اسی دن کا ذکر ہے جس دن مومن مرد اور مومن عورتوں کے آگے آگے اور دائیں طرف روشنی ہی روشنی پھیلی ہوگی اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد قیامت ہی کا دن ہے جس کو حشر کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات ہم نے اس لیے عرض کی ہے کہ ( لم یمسنی بشر) کی بحث میں ہمارے مفسرین بہت زور دے کر لکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ دیکھو ( بشر) کا لفظ نکرہ ہے جس کے معنی کسی بشر کے ہیں اور مریم ؓ نفی کر رہی ہیں کہ مجھے کسی بشر نے نہیں چھوا ، حالانکہ بشر کے ساتھ جو مس کا لفظ آیا ہے وہ اس کو خاص بشر کردیتا ہے ” مس “ کا طلال فعل کے لیے ہے حرام مس کا اطلاق ہی نہیں ہوتا اور پھر آگے خود سیدہ مریم ؓ نے فرمایا ہے کہ ( ولم اک بغیا) کہ میں بد کار بھی نہیں حالانکہ کسی مرد کا چھونا تو سراسر بدکاری ہے جس کی بقول آپ کے وہ پہلے ہی نفی کرچکی ہیں پھر جس کی نفی انہوں نے پہلے کردی دوبارہ نفی کرنے کا مطلب کیا ؟ پھر تعجب ہے کہ جتنے مفسرین نے عربی میں تفاسیر لکھی ہیں ان میں سے ایک ایک کی تفسیر دیکھتے جائو وہ نئے ہوں یا پرانے سب کے سب ( لم یمسنی بشرہ) کی تفسیر میں ای زوج کے الفاظ لائے ہیں اور ظاہر ہے کہ زوج کسی بشر کو نہیں بلکہ خاص بشر ہی کو کہتے ہیں جس کو ہماری زبان میں خاوند یا اپنا مرد کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس لیے اس جگہ صحیح ترجمہ یہی ہے کہ مریم ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے خاوند نے تو ہاتھ نہیں لگایا اور بد کار میں نہیں ہوں۔
ہمیں معلوم ہے کہ ہماری جماعت اہلحدیث کے ایک امیر علامہ اسماعیل (رح) آف ڈھونیکے گوجرانوالہ نے حافظ عنایت اللہ اثری وزیر آبادی (رح) کو ایک خط لکھا اور اس میں تحریر فرمایا کہ ” مجھے معلوم ہے کہ آپ درختوں کے پتوں کو بھی دیکھیں گے تو آپ کو وہاں بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ ہی نظر آئے گا “ اور یہ تحریر کر کے علامہ مرحوم نے کس بات کا اعتراف کیا ہے ؟ ہمیں یہ بھی معلوم ہے لیکن ہم تو اس جگہ صرف نکرہ اور معرفہ کی بات کر رہے ہیں اور یہ بات تو محض ضمناً بیان کردی ہے ورنہ علمائے اسلام سب کے سب حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اہل زبان کے ہاں نکرہ معرفہ کیسے بنتا ہے اور معرفہ نکرہ کیونکر ہو کر رہ جاتا ہے خاص سے عام کس طرح مراد لیا جاتا ہے اور عام سے خاص کس طرح مراد ہوتا ہے اور یہ بھی کہ خاص کو عام اور عام کو خاص کیونکر بیان کیا جاتا ہے۔
فرمایا ایمان والے مرد ہوں یا ایمان والی عورتیں حشر کے روز ان کی عجیب شان ہوگی کہ ان کے آگے اور دائیں طرف روشنی اور نورہی نور ہوگا اور یہ نور ہر شخص کی قوت ایمانی اور اعمال حسنہ کے مطابق ہوگا ۔ اس دارفانی میں رہ کر جس قدر انہوں نے ایمان کی پختگی کا مظاہرہ کیا ہوگا اور جس قدر نیکیاں کمائی ہوں گی اسی نسبت سے ان کا نور بھی ضوفشاں ہوگا ۔ اس طرح ان کو سامنے اور دائیں طرف کی روشنی نے ہر طرف سے روشن کردیا ہوگا لیکن ان کے مقابلہ میں منافق ، مشرک ، کافر اور فاسق اپنے نفاق ، شرک ، کفر اور فسق کے باعث اندھیرے میں ٹکریں مارتے ہوں گے اور ان کے ارد گرد اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا ۔ اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ روشنی ایمان اور نیک اعمال ہی کے باعث ہوگی اور اسی طرح اندھیرا بھی کفر اور برے اعمال ہی کا نتیجہ ہوگا ۔ یہ دن ایسا دن ہوگا کہ مومن مرد اور عورتوں کے لیے خوشخبری ہی خوشخبری ہوگی معلوم ہوگا ہے کہ اس روز فرشتے بھی ان کو مبارکباد یاں پیش کریں گے اور اہل ایمان بھی ایک دوسرے کو خوش آمدید کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت جو ان کے حصہ کی ہوگی ان کے سامنے حاضر کردی جائے گی ایسی جنت جس میں دوسرے انعامات اور سہولتوں کے ساتھ ساتھ نہریں بھی بہتی ہوں گی اور یہ ان باغات کی ترو تازگی کی زندہ علامت ہوں گی اور لاریب یہ دن ان کی بہت بڑی کامیابی کا دن ہوگا جس کا تصور اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ہے۔
Ayah 57:13منافق مرد اور عورتیں ایمان والوں سے روشنی مستعار لینے کی اپیل کریں گے
(13 ؎ (یوم) سے وہی دن مراد ہے جس کا ذکر گزشتہ میں کیا گیا اور یہ وہی طریقہ بیان ہے جو گزشتہ آیت میں بیان ہوا ہے اور یہ گزشتہ آیت کا گویا ایک عکس ہے جو بیان کیا جا رہا ہے۔ فرمایا منافق مرد اور عورتیں جو اس دنیا میں اپنے آپ کو بڑے زیرک ، ہوشیار اور عقل مند سمجھتے تھے قیامت کے روز ان کی حالت دیدنی ہوگی کہ چاروں طرف وہ گھپ اندھیرے میں ہوں گے اور اندھیرے سے نکلنے کی وہ جو سعی و کوشش بھی کریں گے وہ یقینا نا کام ہوجائے گی اور پھر وہ مومن مردوں سے اپیل کریں گے کہ ذرا ہمارا بھی انتظار کردیا یہ کہ ہماری طرف بھی دیکھو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کرلیں یہ بات ان کی ایمان والوں کو پہنچے گی لیکن وہ بھی ان کو جواب نہیں دے چکے ہوں گے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے فرشتے جواب سنا دیں گے کہ دور ہو جائو اور پیچھے ہٹ جائو اور ایک جگہ ارشاد فرمایا ( اقیل اخسئوا) کہ دفع ہو جائو ( وراء کم) جدھر سے آئے ہو ادھر ہی جا کر اپنے لیے نور کی تلاش کرو یہاں سے تم اقتباس نہیں کرسکتے ۔ ان کی ایک طرف سے یہ جھڑکی دی جا رہی ہوگی دوسری طرف ان کے اور اہل جنت کے درمیان ایک دیوارحائل کردی جائے گی کہ اس میں فقط ایک دروازہ ہوگا تاکہ وہ تاک جھانک کر اندر کا منظر دیکھ لیں کہ وہ تاکنے اور جھانکنے ہی کے عادی تھے اور ان پر یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے گی کہ اس دیوار کے اس پار تو اللہ کی رحمت ہی رحمت ہے اور اس جگہ جہاں وہ ہیں اللہ کا عذاب ہی عذاب چاروں طرف پھیلا ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد ان کی بےبسی کو ظاہر کرنا ہے کہ ایک آدمی اپنی آنکھوں کے سامنے ایک چیز کو دیکھ رہا ہو لیکن آگے ہاتھ بڑھا کر اس کو لے لینا اور حاصل کرلینا تو درکنار وہ اس کو دیکھ بھی نہ سکے تو اس کو بچا ارگی کا کیا عالم ہوگا ۔ غور و فکر کر کے فیصلہ خود کرلو اور یہ بھی یاد رکھو کہ یہ وہی لوگ ہیں جو دنیا میں اقتدار پر قابض رہے اور اپنے آپ کو باپ دادا والے لوگ سمجھا کرتے تھے اور ہم چو ما دیگرے نیست کی ڈینگیں مارا کرتے تھے گویا جس قدر وہ آزاد تھے اس قدر ان کو پابند بنا کر رکھ دیا گیا ۔