Ayah 57:14وہ اہل جنت کو پکاریں گے اور پھر ان کی طرف سے ان کو نقد جواب سنایا جائے گا
14 ؎ گزشتہ آیت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ منافقین نے جب مومنوں کو مخاطب کر کے ان کی روشنی سے اقتباس حاصل کرنے کی اپیل کی تو کیا ہوا تھا ؟ یہی کہ ابھی مومنوں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ان کے سوال کا عملاً جواب دے دیا اور وہ جواب یہ تھا کہ ایک طرف سے تو ان کے سامنے ایک دیوار کی آڑ پیدا کردی اور دوسری طرف انہوں نے ان کو دھتکارتے ہوئے واپس جا کر اپنے نور کی تلاش کرنے کا حکم سنایا تھا لیکن وہ واپس جاتے تو کیسے ، کیوں ؟ اس لیے کہ اب تو ان کی واپسی کا راستہ ہی بند تھا اور سامنے کی دیوار میں بھی صرف ایک درواز رکھا گیا ان کو دکھائی دیتا تھا جس دروازہ سے وہ تاک جھانک تو سکتے تھے لیکن داخل ہونے کی اجازت ان کو نہیں تھی اور اس طرح وہ گویا ایک جگہ پابند ہو کر رہ گئے جہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اب جو ان کی نظر اس دروازہ پر پڑی تو وہ دروازہ سے جھانک کر گویا پھر بولیں گے کہ اے بندگان خدا ! کیا دنیا میں ہم بھی تمہارے ساتھ ہی نہ تھے ، ہمارا تمہارا رہنا سہنا اکٹھا نہ تھا کیا ہم تمہارے دوست نہ تھے ، کیا میں اور تم میں رشتہ داری نہ تھی ، کیا تم سے دنیا میں بھی دل لگی نہ کیا کرتے تھے ؟ آج تم لوگوں نے ہم سے کیوں منہ موڑ لیا ہے اور کیوں ایسے نظر آنے لگے ہو کہ گویا کبھی ہم اور تم میں شناسنائی ہی نہ تھی ۔
اب اہل جنت کی طرف سے ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ اہل جنت ان سے مخاطب ہو کر فرمائیں گے ( بلی) کیوں نہیں ، بلا شبہ دنیا میں تم ہمارے ساتھ تھے ، ہمارا تمہارا رہنا سہنا بھی اکٹھا ہی تھا ، ہم میں اور تم میں رشتہ داریاں بھی تھیں ، دل لگی بھی تھی لیکن تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈال دیا یعنی تم نے اپنے نفسوں کو ابتلاء میں اور عذاب میں پھینک دیا تھا اور تم نے وہاں بھی فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا رکھی تھی یہ چونکہ منافقین تھے ، اسلام کا دعویٰ تو بہر حال ان کا تھا لیکن ان کی حالت فالحقیقت ایسی ہی تھی کہ اسلام پر جب بھی کوئی کٹھن گھڑی آئی تو انہوں نے اسلام کی مشکلات میں اضافہ کرنے میں اپنے سارے وسائل صرف کردیئے ( و تربضتم) اور تم انتظار کرتے رہو کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور پانسہ کس کے حق میں پلٹتا ہے۔ گویا کفر و اسلام کی کش مکش جب عروج پر تھی تو تمہارا فرض تھا کہ تم نتائج سے بےپرواہ ہو کر اپنی قسمت اسلام کے ساتھ وابستہ کردیتے اور توحید و رسالت کی جو شہادت تم نے زبان سے دی تھی تم پر لازم تھا کہ تم اس کو اپنے عمل سے سچا کر دکھاتے لیکن تمہارا ساری زندگی شک ہی دور نہ ہوا ( وارتبتم) کا اصل مادہ ری ب ہے۔ تم شک میں پڑے ، ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایمان لانے کے بعد ساری زندگی تم شک ہی میں مبتلا رہے اور ایمان جس کا دوسرا نام یقین بھی ہے وہ تمہارے دل میں کبھی پیدا ہی نہ ہوا اور اس دولت سے تم محروم ہی رہے۔ تم جو ایمان لائے تو محض دیکھا دیکھی ، بھیڑ چال کے تحت ایمان لے آئے یقین کی دولت سے تم کبھی بھی مالا مال نہ ہوئے اور دعویٰ ایمان کے باوجود تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو شک ہی کی نگاہ سے دیکھا اور اللہ کی کتاب پر جس طرح ایمان لانا چاہئے تھا ویسا ایمان نہ لائے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا وقت آیا تو تم نے آنکھیں موند لیں اور تمہارے دل دھک دھک کرنے لگتے تھے۔ تم کو جھوٹی آرزوئوں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا کہ فلاں بزرگ بڑی کرنی والے ہیں اور ہم ان کو پیر مان چکے ہیں ، وہ ہماری سفارش کردیں گے ، فلاں سے ہمارے تعلقات بہت گہرے ہیں وہ ہمارے کام آجائے گا ۔ تم ایسی ہی آرزوئوں میں پڑے رہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آگیا یعنی تم پر موت وارد ہوگئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کے سارے تعلقات تم سے منقطع ہو کر رہ گئے اور آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ کوئی شخص بھی تمہاری مدد کو نہ آیا اور اس طرح جس نے تم کو اس طرح کے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ اس طرح تم بظاہرتو ہمارے ساتھ ہی تھے لیکن یہ بات بھی تو تم کو معلوم ہے کہ تمہارے باطن میں کیا پنہا تھا بس وہی تمہاری تباہی و بربادی کا باعث ہوا۔ یہ تو ان کی حالت تھی جس کا ذکر کے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت ہی ہم کو آگاہ کردیا لیکن ہم جو اس وقت زندہ وجاوید ہیں اور قرآن کریم کو پڑھتے ہیں ہمارا حال کیا ہے اور ان آیات کریمات کو پڑھ کر جو ہم مردوں کو ثواب پہنچاتے ہیں اس سے بھی حقیقت کا کیا تعلق ہے اگر غور کرو گے تو کیا جن کا حال زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے آج ہماری حالت ان سے بھی گئی گزری نہیں ہے ؟ کیا وہ حقیقت کو نہ سمجھ سکے تو ہم سمجھ رہے ہیں ؟ اگر وہ جن باتوں پر ایمان لائے تھے ان پر ایمان لانے کے باوجود شک میں رہے ہیں تو کیا ہمارا شک نکل چکا ہے ؟ اگر وہ جس طرح ایمان لانا چاہئے تھا ایمان لائے تو کیا ہم ویسا ہی ایمان لے آئے ہیں ؟ اگر نہیں اور یقینا تو کیا جو حال ان کا ہونے والا ہے وہ ہمارا نہیں ہوگا۔ ہماری اپیل ہے کہ اس آیت کو ایک بار مزید پڑھیں اور غورو فکر کے ساتھ پڑھیں اور اپنے متعلق خود ہی فیصلہ کرلیں کہ یہ بات ہی تمہارے لیے مفید ہوگی اور فائدہ کی بات جہاں سے بھی میسر آئے لینا عقل مندی کی نشانی ہے نہ کہ بےعقلی اور ناسمجھی کی ۔ اگر عروۃ الوثقی کا باقاعدہ مطالعہ آپ نے کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ گزشتہ اقوام کی تباہی اور ہلاکت کا اصل موجب یہی ( الامالی) یعنی آرزوئیں تھیں اور ہماری قوم مسلم کو تباہی کے دہانے تک لے جانے والی بھی ییر آرزوئیں ہیں جو گھڑ لی گئی ہیں۔
Ayah 57:15قیامت کا دن ہی ایسا دن ہے کہ اس میں کسی سے بدلہ نہیں لیا جائے گا
15 ؎ یہ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت ہے جس میں آرزوئوں کے سہارے زندگی بسر کرنے والوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آرزو ایک ایسی چیز ہے جو دنیا میں بھی بہت کم ہیں کسی کو پوری ہوتی ہے کیونکہ اگر کسی کی ایک آرزو پوری ہو تو دس ایک کی جگہ پیدا ہوجاتی ہیں پھر ان کے پورا ہونے کا سوال ہی آخر کیونکر پیدا ہو سکتا ہے اس لیے قرآن کریم ایسے مقامات پر پہنچ کر ایک بیماری کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرتا ہے اور پر سے کاٹ دینے کی نہیں ۔ غور کرو کہ زیر نظر آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ آخرت میں فدیہ دینے کے لیے کسی شخص کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ حالانکہ اگر وہ بات کہتا تو بھی لاریب وہ صحیح اور درست ہوتی لیکن اس نے اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے فرمایا کہ اچھی طرح یاد رکھو کہ آخرت میں کسی سے کسی طرح کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اس لیے اگر تم میں سے کسی شخص نے بھی اس طرح کی کوئی آرزو اختیار کرلی تو وہ بےفائدہ ہوگی ۔ پھر کسی سے بھی فدیہ قبول نہ کرنے کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی کہ منافقین جو ظاہری طور پر ایمان لانے کے مدعی ہیں وہ بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ ان کو اس طرح کی منافقت کا ایمان کچھ نقصان تو دے سکتا ہے لیکن فائدہ ہرگز نہیں دے سکتا اور انجام کے لحاظ سے ان کا انجام کفر ہی کے ساتھ ہوگا اور اس طرح ان کی ظاہر داری کا ایمان ان کے کچھ کام نہیں آئے گا اور اس طرح کے دونوں گروہوں کا حشر ایک ساتھ ہوگا اور دونوں کو برابری کے طور پر دوزخ میں داخل کردیا جائے گا اور بعض جگہ اس کی وضاحت بھی فرما دی کہ منافقوں کو نچلے در کہ میں گرایا جائے اور کافر ان کے اوپر والے در کہ میں ہوں گے۔ وہاں پہنچ کر جس چیز سے تمہارا واسطہ پڑے گا اور جو چیز تمہاری رفاقت میں ہوگی وہ آگ ہی آگ ہوگی اور آگ کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا اور پھر فرمایا کہ یہ بات تم کو معلوم ہی ہے کہ آگ کیسا ٹھکانہ ہے ؟ ظاہر ہے کہ سارے ٹھکانوں سے بڑا ٹھکانہ یہی ہے معلوم ہوگیا کہ مولی علی ؓ کہنے والے کی جو آرزو ہے وہ سب کو معلوم ہے لیکن لاریب یہ آرزو ان کی کبھی پوری ہونے والی نہیں ، ہاں ! ان کی آرزو کے بدلہ میں ان کو یقینا آگ ہی میسر آئے گی اس لیے کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے تو ایک اور صرف ایک ہی مولا ہے اور ان کے لیے تو یہی ہدایت ہے کہ تم لوگ سمجھ لو اور جان لو کہ بل اللہ مولا کم و ھو خیر الناصرین
Ayah 57:16ایمان لانے والوں کی ذمہ داری اور اس سے ان کا انحراف
16 ؎ گزشتہ آیت کی طرح زیر نظر آیت میں بھی جن لوگوں کو ایمان والے کہہ کر خطاب کیا گیا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا محض ان کے مونہوں تک ہی اٹک کر رہ گیا ہے لیکن تا ہم جب ان کو ایمان کا دعویٰ ہے تو ان کے دعویٰ کے مطابق ان کو اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں ہو رہا ہے کہ دعویٰ ایمان کا اور کام سارے کفر کے اللہ معاف فرمائے اور اللہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ ( یان) کی اصل ا ن ی ہے اور اس کے معنی قرب اور نزدیک ہونے کے ہیں اور اسی جگہ وقت کے قریب یا نزدیک آنے میں استعمال ہوا ہے یعنی کیا ابھی وہ وقت قریب نہیں آیا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے ایمان کو اپنے دلوں کے قریب بھی جانے دیں تاکہ ان کے دل ڈر جائیں اور وہ اللہ کی یاد میں مصروف ہوں اور جو کلام ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے اس کو دل و جان سے قبول کرلیں ۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ سورة مدنی ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدینہ کے اوائل میں نازل نہیں ہوئی بلکہ فتح کے قریب ہی نازل ہوئی ہے یعنی اسوقت مدینہ میں اسلام کے قدم جم چکے تھے اور یہ بات آپ کو معلوم ہے کہ بعض لوگ نبی کریم ﷺ کے مدینہ آتے ہی محض اس لیے اسلام میں داخل ہوگئے کہ ان کے قبائل ان کی مرضی کے بغیر تحریک اسلام سے وابستہ ہوگئے اور انہوں نے سمجھا کہ خاندان اور برادری تو ساری نے اسلام قبول کرلیا ہے اب اگر ہم اپنے کفر پر ڈٹے رہے تو برادری اور خاندان میں تو ہمارا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہ رہا اور اگر برادری اور خاندان ہی نہ رہا تو ہمارا کیا بنے گا ہم کو تو دوسرے کھا پی کر ہضم کردیں گے اس لیے انہوں نے ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو “ کی پالیسی اختیار کی اور اپنے اسلام کا دعویٰ کردیا تاکہ برادری اور خاندنا میں ان کی ساکھ قائم رہے ، انہی لوگوں میں عبد اللہ بن ابی سلول بھی تھا۔ ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ یہ لوگ اسلام کو دل و جان سے قبول کرلیں کیونکہ اب تو اسلام کو آئے ہوئے سا لہا سال گزر چکے اور اسلام کی جڑیں بحمد اللہ خوب گڑ چکی ہیں اور انہوں نے اسلام کی کامیابیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہیں اور اسلام کی کامیابی پر ان کو یقین آچکا ہے اب تو ان کو سیدھا ہوجانا چاہئے تھا اگر ابھی تک یہ لوگ کتے کی دم کی طرح ٹیڑھے کے ٹیڑھے ہی ہیں تو ان کے سیدھے ہونے کی کوئی صورت اب نہیں رہی ہے جس کو دیکھ کر ان کے دل دہل جائیں اور ڈر کر یہ لوگ ایمان لے آئیں ویسے بھی لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے کب ہوا کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ دلائل اور شواہد سے ماننے والے ہوتے تو ان کی کمی تو اب نہیں رہی ، اگر اب تک ان کی حالت نہیں بدلی تو اب ان کی حالت بدلنے کی کوئی صورت باقی نہیں ہے کہ ان پر اس بات کی ڈھارس باندھ لی جائے کہ ایمان کی صداقت کو کبھی دل سے قبول بھی کرلیں گے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے ڈرنے بھی لگیں گے حالانکہ قرآن کریم کی تعلیمات پر اگر یہ لوگ ذرا غور کرتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ جو بات قرآن کریم نے روز اول سے کہی تھی وہ اس کو کہتا آیا ہے اور کہہ رہا ہے اور کہتا رہے گا اور اس کے حق اور سچ ہونے میں سرمو بھی فرق نہیں آیا اور جو حدف پیغمبر اسلام ﷺ نے قائم کیا اس کو حاصل کر کے دم لیا خواہ اس پر کتنا وقت لگا اور جو قدم اٹھایا اس طرح اٹھایا کہ پھر پیچھے کو اٹھانے کی ضرورت پیش نہیں آئی بلکہ قدم بہ قدم آگے ہی کو بڑھا اور سچائی کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے ، مثل ہے کہ جادو وہ جو سر چڑھ بولے۔
ان کو بطور نصیحت کہا جا رہا ہے کہ ان کی بد بختی کا عالم یہ ہے کہ یہ دعویٰ تو ایمان کا کرتے ہیں اور کام وہی کرتے ہیں جو یہود و نصاریٰ کرتے آئے ہیں کہ دعویٰ ہی دعویٰ ان کے پاس تھا ان کے انبیاء و رسل کو آئے ہوئے ایک مدت گزر چکی تھی اور وہ اب ان کو بطور نام ہی یش کیا کرتے تھے بطور کام تو ان کی مکمل طور پر بغاوت تھی جیسا کہ قرآن کریم میں ان کی حالت کو واضح طور پر بیان کیا جا چکا ہے خصوصا ًسورۃ المائدہ اور النساء میں ان کا خوب ذکر کیا جاچکا ہے اور ان کی ایک ایک حرکت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے جو مسلمان کہلانے والے پڑھتے چلے آ رہے ہیں پھر جب ان کی حرکات کے باعث ان کا انجام بھی ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے تو اب انکے شکوک و شبہات کو رفع ہوجانا چاہئے تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی نظر اپنے وقتی فائدے سے آگے نہیں بڑھتی اور اپنے مطلب ہی سے ان لوگوں کی غرض وابستہ ہے اور اسی غرض کی تکمیل کے لیے انہوں نے دعوت اسلام پر لبیک کہی ہے اور اب جس طرح اہل کتاب کو ڈھیل نے سست کردیا تھا اور ان کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے تھے کہ ان پر کوئی بات بھی اثر نہیں کرتی تھی وہ ایسے زنگ آلود تھے کہ اب ان کے صیقل ہونے کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آتی تھی اور اب یہی حال ان نام کے مسلمانوں کا ہوچکا ہے کہ فسق و فجور میں انہوں نے یہود و نصاریٰ کے بھی کان کاٹ کرر کھ دیئے ہیں ۔
قابل غور بات پر پھر غور کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس سے نئے نئے انکشافات ہوتے ہیں جو انسانی زندگی کے لیے ہمیشہ مفید ہی ثابت ہوتے ہیں اس لیے ایک بار پھر اس پر غور کرو کہ یہود و نصاریٰ نے کیا کیا ؟ یہی کہ جن لوگوں نے موسیٰ و عیسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست فیض حاصل کیا تھا بلا شبہ ان کے دلوں میں عجز و نیاز پیدا ہوگیا تھا لیکن جوں جوں عرصہ گزرتا گیا تو وہ فیض بھی مانند پڑتا گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں آنے والے لوگوں کے دل سے سخت تر ہوتے چلے گئے اور فسق و فجور کی رغبت بڑھتی ہی چلی گئی پھر انجام اس کا کیا ہوا ؟ یہی کہ انہوں نے آبائو اجداد کی اس راہ کو چھوڑ کر ایک نئی راہ نکال لی اور جب اس پر چل نکلے تو ظاہر ہے کہ اب فطرت نے ان کے آبائو اجداد بھی بدل دیئے کیونکہ اس دنیا میں کوئی شخص بھی ہمیشہ کے لیے تو پیدا ہی نہیں کیا گیا۔ اس طرح کرتے کرتے جب آبائو اجداد ہی بدل گئے تو ان کا سارا طریقہ کار بھی بدل دیا گیا اور اپنے گزشتہ آبائو اجداد کی جگہ یہ نئے آبائو اجداد آگئے اور وہ اپنی دعوت میں ان کا حوالہ دینے لگے اور چونکہ اب وہ سلف تو ہی ہوچکے تھے زمانہ نے ان کو پہلے اسلاف کی جگہ یہ نئے اسلاف مہیا کردیئے اور انہوں نے اسلاف کا نام یاد رکھا اور یہ پہلے اور پچھلے کو درمیان سے ویسے ہی ہٹا دیا کہ طول کلامی اچھی نہیں ہوتی وہ تو خیر یہود و نصاریٰ کی بات ہے لیکن آج بد قسمتی سے ہم مسلمانوں کا بھی وہی حال ہے بلکہ اس معاملہ میں ہم پیچھے آ کر ان سے بہت آگے نکل گئے ہیں کہ بد عات و محدثات کی دنیا میں آج ہمارا نمبر سب سے اول ہے اب ہم دوسروں کی بات کریں تو آخر کس منہ سے ۔
Ayah 57:17(20) ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہی تو ہے جو زمین کو مردہ ہونے کے بعد پھر زندہ کردیتا ہے
17 ؎ مختلف رنگ بدل بدل کر ان نام نہاد مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے تاکہ جس بات کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے اس دعویٰ میں وہ سچے ہوجائیں اور اس طرح دنیا اور آخرت دونوں جگہ ان کو کامیابی و کامرانی نصیب ہوجائے۔ زیر نظر آیت میں بھی اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اور ان کو یقین دلانے کی سعی و کوشش کی گئی ہے اور ان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہاری یہ ساری بےیقینی محض اس لیے ہے کہ تم کو آخرت پر یقین نہیں ہے اگر تمہارا آخرت پر یقین ہوتا اور تم سچے دل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیتے اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب تصور کرتے تو تمہاری حالت اس بےیقینی سے مکمل طور پر یقین کی طرف منتقل ہوجاتی حالانکہ قیامت ایک معلوم و معروف حقیقت ہے جس کے آنے میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے فرمایا تم اپنی روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہو کہ زمین جب مردہ ہوجاتی ہے اور ہر یاول کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آتا اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھ کر ٹھیکرے کی طرح بجنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کو زندگی بخشنا چاہتی ہے تو کیا ہوتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ابر کا ایک ٹکڑا نظر آتا ہے لیکن ایک بالکل مختصر وقت میں بعض اوقات بادل چھا جاتے ہیں اور پھر کیا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مردہ زمین پر بارش کو اتارنا شروع کردیتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ؟ یہی کہ دو تین روز کے اندر ہی اندر زمین پر ہر بادل آنا شروع ہوجاتی ہے اور چند ہی دنوں کے بعد زمین گویا زندہ وجاوید ہوجاتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ شاید اس زمین پر کبھی خزاں آئی ہی نہیں تھی اور نہ ہی یہ زمین کبھی مردہ ہوئی ہے حالانکہ یہ وہی زمین ہے جو آج سے چار ہی روز قبل سب کو مردہ نظر آرہی تھی ۔ فرمایا وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات تو ہے جس نے اس زمین پر ابر رحمت برسایا اور اس کو اس سے زندگی بخش دی اور یہی حال تمہارا ہے کہ جب قیامت آجائے گی اس وقت نہ تو زمین یہ زمین ہوگی اور نہ آسمان ہی یہ آسمان ہوں گے اور پھر کیا ہوگا ؟ یہی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دھرتی کو بنا دیا اور پھیلا دیا وہی اس نئی دھرتی کو پھیلا دے گا اور وہ دھرتی وہ ہوگی جس میں یہ نشیب و فراز نہیں ہوں گے بلکہ ایک جیسی برابر اور ہموار زمین ہوگی جس کو وہ لا کھڑا کرے گا اس طرح گویا زمین جس طرح آج مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے اس طرح اس وقت بھی دوبارہ زندہ ہوجائے گی۔ فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں کھول کھول کر تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے تاکہ تم آخرت کی زندگی کو سمجھ جائو اور اس پر یقین کرنے لگے ۔
Ayah 57:18بلا شبہ سچے لوگوں نے اللہ کو قرض دیا ، وہ اس کو دوگنا کر دے گا
18 ؎ اس سے پہلے آیت گیارہ میں یہ مضمون گزر چکا ہے اور اسی کو دوبارہ دہرایا جا رہا ہے تاکہ ان لوگوں کو باور کرایا جائے کہ اگر ان سے اپیل کی جائے کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کریں جس خرچ کرنے سے مال یہی نہیں کہ ایک طرح سے خرچ ہوجاتا ہے بلکہ مال میں اضافہ ہوتا ہے اور یہی دیا ہوا مال تو شہ آخرت بن جائے گا یہ خرچ کرنا گویا محض خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ مال کو نفع پر لگانا ہے جس سے مال کے بڑھنے کی امید ہوتی ہے کم ہونے کی امید پر کوئی خرچ نہیں کرتا اور پھر ظاہر ہے کہ جو لوگ خواہ مرد ہوں یا عورتیں اللہ کی راہ میں اسی نظریہ کے مطابق مال خرچ کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جنہوں نے اس پیغام کی تصدیق کی ہے اور اس کو جھٹلایا نہیں ہے اور جو لوگ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ظاہر ہے کہ وہ اس حقیقت پر ایمان نہیں رکھتے نہ تو وہ قیامت کے تصور کو مانتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھائے جانے کو اور نہ ہی اس پیغام کو سچا سمجھتے ہیں جس میں مال خرچ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے وہ مال کے جمع کرنے کے شیدائی ہوتے ہیں اور اسی دھن میں وہ ساری زندگی لگے رہتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ یہی کہ ایک دن آجاتا ہے کہ مال کو وہ چھوڑ کر خود رخصت ہوجاتے ہیں اور واپس آ کر پھر وہ کبھی نہیں دیکھتے کہ ان کا اس طرح سے جمع کیا ہوا مال اڑانے والوں نے کس طرح اڑادیا ؟ مختصر یہ ہے کہ دعویٰ ایمان میں سچے لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے قطعا ً گریز نہیں کرتے بلکہ وہ ان کو جب کوئی ایسا موقع ہاتھ آجاتا ہے تو محض اس نظریہ پر بےدھڑک خرچ کردیتے ہیں اور جو ایسا کرتے ہیں انکے لیے دو گنا سہ گنا بلکہ دس گنا اجر ملے گا اور اللہ جس کے لیے چاہے گا اس سے بھی کئی گنا زیادہ دیدے گا اور بلا شبہ ان کو دیا جانے والا اجر ان کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر بھی خاص کر کے کیا گیا ہے جس سے اس بات کی خود بخود وضاحت ہوجاتی ہے کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی اپنی ملکیت رکھتی ہیں اور ان کو بھی حق ہے کہ وہ اپنے مالوں کو اس طرح کے عمل میں لائیں کہ ان کا مال بڑھے اور وہ اپنی مرضی کے ساتھ رضائے الٰہی کے لیے خرچ کرسکیں اور ان کی ملکیت کو تسلیم نہ کرنا اور مال کو فقط مردوں ہی کے ہاتھوں میں رکھنا ، ترکہ کی تقسیم میں بیھ ان کو مردوں کے ساتھ شرعی حصہ میں شریک نہ کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے اور یہ الگ بات ہے کہ ہمارے معاشرہ نے اس ظلم کو بہت سارے دوسرے ظلموں کی طرح جائز اور روا سمجھ لیا ہے جس کی اسلام میں مکمل طور پر نفی کی گئی ہے۔
Ayah 57:19صدیقین اور شہداء کی تعریف اور ان کے اجر کا ذکر
19 ؎ گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو نام کے مسلم اور کام کے کافر تھے اور زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو نام کے مسلمان ہیں اور کام کے بھی جیسا کہ آیت 7 میں ایسے ہی مومنوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ایمان کے دعوے میں بہر حال سچے ہیں اور دل کی گہرائی سے ایمان باللہ اور ایمان بالرسالۃ کو قبول کرتے ہیں اور تن من دھن سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے دعویٰ ایمان کی صداقت کو ثابت کردیتے ہیں اور اس جگہ چونکہ اصل موضوع مال خرچ کرنے کا ہے کہ کون ہے جو اللہ کی رضا کے لیے مال کو بےدریغ خرچ کرنے میں ذرا نہیں جھکتا ؟ فرمایا صدیقین اور شہداء کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ مالوں کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کر کے بہت خوش ہوتے ہیں ، ان کو مال کے جمع کرنے سے نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مزہ آتا ہے ۔ وہ نام و نمود اور شہرت نہیں چاہتے بلکہ ان کا اصل مدعا اللہ کی رضا ہی ہوتا ہے ۔ ” صدیق “ کے لفظ میں یہ مفہوم پوشیدہ ہے کہ اس کے قول و عمل میں مکمل یگانگت اور مطابقت ہوتی ہے اور اس کا خلاف ان سے ممکن ہی نہیں ہوتا گویا سچائی اس کی طبیعت میں راسخ ہوجاتی ہے اور شہید سے بھی اس جگہ وہی شہید مراد ہیں جس کا رواں رواں ایمان کی شہادت دے رہا ہو اور اسی شہادت ایمانی کے باعث وہ لوگوں پر ایک طرح کا گواہ بن جاتا ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد اول میں سورة البقرہ کی آیت 143 میں کر آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت پانے والوں کا ذکر بھی جلد دوم میں سورة النساء کی آیت 40 میں گزر چکا ہے اور ان کے لیے جس درجہ اور روشنی کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اس کا بیان اسی صورت میں پیچھے آیت 12 میں وضاحت سے گزر چکا ہے اور جس روشنی کے نتیجہ میں وہ (بشر لکم الیوم) کی خوشخبری سنائے گئے ہیں اس کا ذکر اس جگہ بھی کیا گیا ہے ۔ رہے وہ لوگ جو کفر پر قائم رہے اور انہوں نے حق کے آجانے کے بعد بھی حق کو تسلیم نہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلانے پر تلے رہے تو ظاہر ہے ان کا انجام دوزخ کے سوا کیا ہو سکتا ہے ۔ بلا شبہ ہر کفر ہی جھوٹ ہے اور خصوصاً جب کفر کے مقابلے میں ایمان پیش کیا جا رہا ہو اور یہ بھی کہ اس کی شناخت بھی کروا دی جائے اور کفر کی پہچان کرنے کے بعد بھی کوئی شخص کفر کی حمایت جاری رکھے اور اسی پر ڈٹا رہے تو وہ صرف کافر ہی نہ ہوا بلکہ ایمان کی تکذیب کر کے کاذب بھی ٹھہرا اور اسی کذب کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اور ان کا انجام دوزخ بتایا گیا ہے جو ایک واضح حقیقت ہے
Ayah 57:20دنیا کی زندگی اور اس کی مصروفیات کی مثال اور انجام
20 ؎ (لعب) حاصل مصدر ہے جس کے معنی کھیل کے ہیں لعب لعب لعب لعبۃ سب کے معنی کھیل ہی کے ہیں اور کھلاڑی کو بھی کہا جاتا ہے اور اس کا استعمال قرآن کریم میں چار بار ہوا ہے اور اسی طرح ( لھو) کا لفظ ہے اور یہ بھی اسم مصدر ، سنجیدگی چھوڑ کر مزاح کی طرف میلان اور جھکائو ( لھو) کہلاتا ہے اور کسی ایسے غیر مفید کام میں مشغول ہونا جس کے شغل میں مفید کام ترک ہوجائے ( لھو) کہتے ہیں اور بعض نے اس حالت کو ( لعب ) سے بھی تعبیر کیا ہے اور دراصل (لھو) جماع کو کہتے ہیں اور اسی سے بعد میں خود عورت ہی کو (لھو) کہنے لگے اور پھر ہر غیر دانشمندانہ تفریح کا نام بھی (لھو) ہوگیا اور عام طور پر (لعب و لھو) کے معنی کھیل تماشا سے کیے جاتے ہیں اور لاریب دنیا کی زندگی (لعب و لھو) ہی ہے کیونکہ اس کی مصروفیات انسان کو آخرت سے غافل کردیتی ہے بعینہٖ اسی طریقہ سے جس طرح انسان کسی کھیل میں مصروف ہو کر غافل ہوجاتا ہے اس کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور وقت بہت تیزی سے نکل جاتا ہے اور بالکل یہی حالت جنسی خواہشات کی ہے۔ غور کرو کہ ہم لوگ دنیوی زندگی پر کس قدر فریفتہ ہیں کہ ہم کو عاقبت سنوارنے کی فکر کبھی دامن گیر ہی نہیں ہوئی ۔ ہم اس دنیوی زندگی کے لیے بڑی سے بڑی مصیبت کو بخوشی برداشت کر جاتے ہیں ، اس کے لیے قانون شکنی ، ملت فروشی اور وطن سے غداری سے مرتکب ہونے سے بھی بعض اوقات باز نہیں آتے۔ آیت زیر نظرہم کو پکار پکار کر کیا کہہ رہی ہے ؟ یہی کہ اس کم ظرفی اور کم عقلی سے باز آ جائو لیکن ہم نے اس کا نام کم ظرفی اور کم عقلی سے بدل کر فہم و فراست رکھ لیا ہے اور پھر اسی کھیل و تماشا میں اس طرح مصروف ہوگئے ہیں کہ جن لوگوں کا منصب ہی اس سے آگاہ کرنا تھا وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر سب کچھ ترک کر بیٹھے ہیں اور انہوں نے اسی راہ کو راہ نجات قرار دے لیا ہے ۔ یہ تو ہماری ( لعب و لھو) کا حال ہے اور اب ان کھلونوں کا ذکر بھی سن لو جو اس کھیل میں کام آ رہے ہیں اور جن کے ذریعہ یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے فرمایا وہ سامان آرائش ہے جس سے ظاہری زینت بنتی ہے اور انسان سج دھج سے نکلتا ہے۔ اب اس پر غور کرو گے تو لباس اور بدن کی زیبائش سے لے کر کھانے پینے اور سواری جیسے معاملات میں کیا ہم زینت ہی زینت کے شوقین نہیں ہیں اور پھر ان چیزوں کی مصروفیات میں ہم ایک دوسرے سے بازی لے جانا نہیں چاہتے ؟ کیا حسب و نسب کے لحاظ سے اہم ایک دوسرے پر فخر نہیں کرتے ؟ کیا ہم مال و اولاد کی کثرت نہیں چاہتے ؟ آج ہماری اولادوں میں کس قدر بگاڑ آگیا ہے کیا ہم میں سے کوئی ہے جو اس بگاڑ کو سنوارنے کی سعی و کوشش میں لگا ہوا ہو ؟ کیا ہم کو ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی نے عین جہنم کے گڑھے کے کنارے لا کر کھڑا نہیں کردیا ؟ کیا ہم میں سے کسی کے دل کے اندر ایک بندہ مومن بننے کی تڑپ باقی رہ گئی ہے ؟ کیا ہم 24 گھنٹے کے دن رات میں صرف اور صرف چار گھنٹے ہی اللہ کی رضا کے لیے وقف کرسکے ہیں ، اچھا چار نہیں تو ایک گھنٹہ ہی سہی ۔ عوام تو عوام رہے جو لوگ دین کے ٹھیکہ دار ہیں کیا وہ محض اللہ کی رضا کے لیے دین کا کوئی کام کر رہے ہیں یا دین کو انہوں نے ذریعہ معاش بنا لیا ہے خواہ وہ کسی حیثیت میں بھی ہے ؟ کیا جن لوگوں نے حرام حلال کے خزانے اکٹھے کرلیے ہیں کیا اب ان کے دل رج گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اس قول و فعل سے توبہ کرلی ہے ؟ کیا بچوں کی طرح اپنی زندگیوں کو ( لعب و لھو) میں برباد نہیں کر رہے ہیں ؟ کیا اللہ نے انسان کو ایک ( احسن تقویم) میں پیدا نہیں کیا کیا ہم کو یہ ( احسن تقویم) پسند آئی ہے یا اس پر اتنی حاشیہ آرائیاں شروع کردیں ہیں کہ وہ ( احسن تقویم) کا حسن بالکل ہی بدل کر نہیں رکھ دیا ہے ؟ کیا آج ہمارے مذہبی رہنما زبان قال سے ع ” حاجت مساط نیست روئے دل آرام را “ کہہ کہہ کر اس ظاہری نمود و نمائش میں مصروف نہیں ہیں ؟ اگر ہیں اور یقینا ہیں تو کیا ایسا انسان اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں بھی معزز و مکرم ہو سکتا ہے ؟ پھر ہم کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں ؟ اچھا اسی ڈگر پر ہم قائم رہنا چاہتے ہیں یا اس کو بدلنے کے لیے تیار ہیں ؟
اب قرآن کریم اس دنیوی زندگی کی ساری سج دھج کے بارے میں ایک مثال پیش کرتا ہے اس کو ذرا دھیان سے سن لو فرمایا اس زندگی کی مثال کو اس طرح سمجھ لو کہ بارش برستی ہے تو فصلیں لہلہانے لگتی ہیں اور ان کی سبزی و شادابی کو دیکھ کر اس کھیتی کا مالک خوشی سے پھولا نہیں سماتا اور اس کی سبزی جو سیاہی میں بدلتی نظر آتی ہے ہر دیکھنے والے کو بھی اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے اور وہ ادھر ادھر ہو کر اس کو بغور دیکھتا ہے لیکن اس کی حالت بھی یہ ہے کہ وہ کاشت کرنے والے کو داد شجاعت دیتا ہے کہ بیچ اور پرورش کے بارے میں پوچھتا ہے اور اس کھیتی کا مالک ہے کہ وہ پھولا نہیں سماتا ، اسکے بیج اور زمین کی تیاری اور نلائی و بیجائی کی وضاحت کرتا ہے ، اس کی دیکھ بھال میں جو اس نے دلچسپی لی ہے اس کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے ، کھاد کی قسم بتاتا ہے اور ساتھ ہی پیداوارکا اپنا ہدف بھی بیان کردیتا ہے۔ انسان یہ سب کچھ بیان بھی کرتا رہتا ہے کہ وہ وقت نافذ ہوجاتا ہے اور اس کی سبزی و شادابی زردی میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے اور انجام کار وہ ریزہ ریزہ ہو کر رہ جاتی ہے اور پھر کبھی تو انسان غلہ سے مالا مال ہوجاتا ہے اور کبھی اصل زر کو بھی ضائع کر بیٹھتا ہے جو اس نے اس کھیتی پر صرف کیا ہوتا ہے۔ اگر غور کرو گے تو تم کو انسانی زندگی پر بھی یہ مثال فٹ ہوتی نظر آئے گی ۔ ایک وقت تھا کہ وہ طفل مکتب تھا ، پھر وہ عہد شباب میں داخل ہوا تو اس کی کیا ہی سج دھج اور شان و شوکت تھی کہ دلکش چہرہ ، جو قوت و توانائی سے بھر پور تھا ایسا کہ گویا اس کے انگ انگ سے جوانی پھوٹ کر باہر نکل رہی ہے لیکن پھر کیا ہوتا ہے ؟ یہی کہ وہ اس جوانی کو دیکھتا ہی دیکھتا رہ جاتا ہے اور وہ بڑھاپے میں بدلنا شروع ہوجاتی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو اس کی جوانی کو بحال رکھ سکے بس اس کی رنگت بدلنی شروع ہوجاتی ہے۔ چہرے پر جھریاں نمایاں ہوجاتی ہیں اور ہاتھ پائوں کی گرفت ماند پڑجاتی ہے اور دل میں شرا فگنی کے ولولے سرد پڑجاتے ہیں اور انجام کا رضعف اتنا غالب آتا ہے کہ کروٹ بدلنا بھی مشکل ہوجاتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ؟ یہی کہ موت کا ایک جھونکا اس کے چراغ زیست کو ہمیشہ کے لیے بجھا کر رکھ دیتا ہے اور انجام کار دوسرے کندھا دے کر اس کے جنازے کو اٹھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں اس کو یا تو زمین میں دبا دیتے ہیں اور یا لکڑوں کے ایک الائو میں رکھ کر پھونک دیتے ہیں ۔ اس طرح اس کی ساری ٹھاٹھ باٹھ اور عزت و احتشام کو زمین میں دبا دیا جاتا ہے یا راکھ کردیا جاتا ہے اور راکھ کو گنگا کے سپرد کردیا جاتا ہے۔
پھرکامیاب ہیں وہ جن کی آخرت کی زندگی سنور جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا کر اس کی مغفرت و رحمت کے سایہ میں چلے جاتے ہیں اور وہاں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندیاں ہی رضا مندیاں ہیں جو آخرت کی سب سے بڑی اور بھاری نعمت ہے۔ مبارک ہیں وہ جن کو آخرت کی خوشیاں نصیب ہوگئیں اور یقینا وہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیوی زندگی سے صحیح فائدہ اٹھایا اور اس دنیا کی موت ان کا کچھ بگاڑ نہ سکی بلکہ اس نے جن انعامات سے روک رکھا تھا وہ انعامات موت کے آنے سے اس کو مل گئے۔ اس طرح غور کرو کہ وہ دنیوی زندگی کی موت بلا شبہ مرا لیکن آخرت کی زندگی کا سارا چین اس نے حاصل کرلیا اور وہ اس شاباش کا مستحق ٹھہرا جس شاباش نے اس کو مسرتوں اور خوشیوں سے مالا مال کردیا اور بد بخت ٹھہرے وہ جنہوں نے اس دنیاوی زندگی ہی میں اپنے آپ کو ضائع کردیا اور آخرت کو برباد کر بیٹھے اور دنیوی زندگی کے دھوکا اور فریب میں مبتلا ہو کر عزیز زندگی کو برباد کردیا لیکن افسوس کہ آج ہم اس بربادی پر خوش ہیں اور سنوارنے کا ہم کو کبھی خیال ہی پیدا نہیں ہوا ۔ جو چلے گئے وہ تو خیر جس حال میں تھے چلے گئے لیکن ہم جو ابھی دنیوی زندگی کی ان عارضی رنگینیوں میں مصروف ہیں ہم کو کتنی فکر لا حق ہے اس کا بھی تو ہم کو معلوم ہی ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ (وما الحیوۃ الدنیا الا منا الغرور ) جو لوگ اپنی دنیاوی زندگی میں اپنی آخرت کو نہیں سنوارتے ان کے لیے دنیا کے سارے سازو سامان میں دھوکا اور فریب کے سوا کچھ بھی نہیں خواہ وہ کون ہوں ، کہاں ہوں اور کیسے ہوں ( ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی لل ایمان ان امنوا بربکم فامنا ربنا فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سباتنا و توفنا مع الابرار )
اس آیت کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 58 ، سورة الانعام کی آیت 32 ، سورة الاعراف کی آیت 51 ، جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 64 ، جلد ہشتم سورة محمد کی آیت 36 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 57:21اپنے رب کی مغفرت چاہتے ہو تو نیکیوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرو
21 ؎ سنت اللہ یہی ہے کہ ہر وہ شخص جو تلاش کرتا ہے پا لیتا ہے بشرطیکہ وہ تلاش کرنے میں سچاہو ۔ کیا پاتا ہے ؟ وہی چیز جس کا وہ متلاشی ہو۔ اگر آخرت کا متلاشی ہے تو اس کی تلاش کا طریقہ بتایا جا رہا ہے کہ تلاش آسان ہوجائے اور یہ بھی کہ معلوم ہوجائے کیا فی الواقع ہم آخرت کی تلاش میں مصروف ہی ہیں یا نام آخرت کالے کر دنیا کی تلاش میں مصروف ہیں فرمایا اگر تم کو آخرت کی تلاش ہے تو نیکیوں میں سبقت لے جائو ۔ شاید کوئی صاحب پوچھ لیں کہ اس آیت میں تو صرف ( سابقوا الی مغفرۃ من ربکم) کے الفاظ ہیں کہ ” اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو “ ہاں ! لاریب زیر نظر آیت میں الفاظ یہی ہیں لیکن اس کی وضاحت خود ہی رب کریم نے فرما دی جہاں ارشاد فرمایا کہ ( فاسبقوا الخیرات) البقرہ : 148) بھلائوں اور نیکیوں کی طرف دوڑو کہ یہی مغفرت الٰہی کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں جن کا ما حصل جنت ہے ۔ دنیا کے طلب گاروں کے درمیا نمقابلہ کی دوڑ کس طرح جاری ہے کہ ہر ایک دوسرے سے اس میدان میں آ گے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ایک چاہتا ہے کہ میں دوسرے سے مال و دولت زیادہ جمع کرلوں ، ایک کی دوڑ ہے کہ میرا محل دوسرے سے بہتر ہونا چاہئے ، ایک چاہتا ہے کہ میرا باغ دوسرے سے وسیع تر ہو ، ایک چاہتا ہے کہ میری زمین دوسرے سے زیادہ ہو ۔ اسی طرح ایک دوسرے کی مسابقت کا خیال کرتے جائو اور غور کرو کہ یہ مقابلہ ہمارا کس قدر جاری ہے اور کہاں کہاں جاری ہے اور کس کس رنگ میں جاری ہے ؟ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم آخرت کے طلب گار ہو تو اللہ رب کریم کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو تم کو وسیع و عریض جنت کا وارث بنا دیا جائے گا جس کی وسعت اتنی زیادہ ہے کہ جیسے یہ زمین و آسمان کا عرض تم کو نظر آ رہا ہے اور پھر یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے تیار کی ہے جو سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے والے ہیں کہ اس کے بہاریں تمہارے لیے چشم براہ ہیں اور وہاں کیے انعامات تمہارے انتظار میں ہیں ، اٹھو ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کی کوشش کو کبھی رائیگاں نہیں کرتا ، اللہ کی رحمت سے تم ہرگز مایوس نہ ہو ، ہمت کرو کہ ہمت مرداں مدد خدا ۔ جنت کیا ہے ؟ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت ہی کا نام ہے اور اللہ نے اس کے لیے جو قانون بنا دیا ہے اسی کے مطابق اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہی فضل عظیم کا مالک ہے اور اس کا بنایا ہوا قانون ہی اس کی حقیقی چاہت ہے۔ مزید وضاحت کے لیے عروۃ الوثقی ، جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 23 کی تفسیر کو غور سے دیکھیں۔
Ayah 57:22رب کریم کے قانون کی وضاحت اور علم الٰہی کی وسعت کا بیان
22 ؎ ( اصاب) کی اصل ص و ب ہے جس کا معنی پہنچنے کے ہیں ( اصاب) وہ پہنچا ، وہ آ پڑا ، اس نے پا لیا ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (مصیبۃ) بھی اسی مادہ ص و ب ہی سے ہے۔ اسم فاعل واحد مؤنث مرفوع نکرہ اصابۃ مصدر غم ، تکلیف ، دکھ ، سختی پہنچانے والی ہرچیز کو مصیبت کہتے ہیں دراصل ( مصیبۃ) صفت کا صیغہ ہے اور اسی کے معنی میں بہت وسعت ہے ۔ صیب جس کے منی بارش کے ہیں اور وہ بھی مادہ سے ہے یعنی ص و ب (نبراھا) جمع متکلم مضارع برء مصدر ہے اور اصل اس کی ب ر ا ہے۔ ہم ان کو پیدا کریں ۔ باری پیدا کرنے والا الذی خلق الخلق اس دنیوی زندگی میں انسان کو کیسے کیسے حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ؟ اپنی زندگی ہی پر غور و فکر کرلو اگر تمہاری عمر اس وقت چالیس سال سے اوپر کو چلی جا رہی ہے تو اپنے بچپنے سے لے کر اس وقت تک کی پختہ عمر تک اپنے ہی حالات کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایک بار گھما کر دیکھو گے تو تیس بتیس سال کی سر گزشت چند سیکنڈوں میں تمہاری سامنے آجائے گی اور اب بٹن آن (Button on) ہوگیا ۔ ذرا غور کرتے جائو تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آتا جائے گا ۔ غور کرو کہ بچپن کی شرارتیں ، امرد ہونے کے اوقات اور پھر جوانی کی رعنائیاں ، اپنے بچہ ہونے کی ضد ، گیند بلے کا دور ، کالج و یونیورسٹی کا زمانہ ، محبت اور پیار کی پینگیں ، کاروبار کا انتخاب ، کمائی کی دھن ، آئیڈیل کا انتخاب ، باپ بننے کی خواہش ، بیٹے کی مبارکبادیاں اور اب اولاد کی شادیوں کی فکر ، ایک ایک حالت پر غور کرتے جائو کہ تم کو کہاں کہاں ٹھوکر لگی اور تم کہاں کہاں رکے اور پھر کس طرح دوبارہ زندگی کی امنگیں پیدا ہوئیں اور تم کو اس تھوڑے سے دور میں کیا کیا کرنا پڑا ؟ دس منٹ کے اس منظر (Scene) میں تم سب کچھ ملاحظہ کر جائو گے ۔ اب غور کرو کہ تم کو اپنی کسی حالت کا اس حالت کے پیش آنے سے پہلے علم تھا ؟ اس حالت کے گزر جانے کے بعد تم کو وہ حالت کتنی مدت تک یاد رہی اور کس طرح یاد رہی اور پھر تم کس حال کو بھول گئے اور کونسا حال یاد رکھا اور اب جس دور سے تم گزر رہے ہو تمہاری خواہشات کیا ہیں اور ابھی کن کن حالات سے آگے کو گزرنا ہے ، آپ کو کچھ معلوم نہیں ، مجھے کچھ معلوم نہیں اور ہم میں سے کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں لیکن جس جس حالت سے بھی آپ دو چار ہوئے ہیں ، میں دو چار ہوا اور ہم میں سے ایک ایک فرد جس حالت سے دو چار ہوا وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود ہے ایک بار پھر غور کرو کہ ان حالات میں کتنی ہی باتیں ہیں جو ہمارے اپنے وجود ، جسم اور جان سے متعلق ہیں لیکن ہم کو کچھ علم نہیں تھا کہ یہ مصیبتیں ہم پر اپنے ہی جسم و جان سے وارد ہوجائیں گی لیکن وہ وارد ہوئیں اور ہم کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ سب علم الٰہی میں اسی طرح موجود تھیں اور جو موجود تھیں وہ واقع ہو کر رہیں اس لیے کہ ان کو واقع ہونا ہی تھا۔ لاریب یہ کسی کے ٹالے ٹل نہ سکی تھیں تعجب ہے کہ انسان جب کسی مصیبت میں گھر جاتا ہے حالانکہ اس مصیبت میں گھرنے کا اصل باعث وہ خود ہی ہوتا ہے لیکن یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی کہ میں اس کا باعث کیسے بن گیا اس لیے وہ ادھر ادھر دھکے کھاتا ہے اور اس مصیبت اور دکھ کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس وقت اس کو بالکل بھول جاتا ہے کہ ہر مصیبت قانون الٰہی کے مطابق آتی ہے اور قانون الٰہی کے مطابق ہی وہ پیچھا چھوڑتی ہے ۔ وہ اپنی ہی قوت و ہمہ کے نرغے میں آجاتا ہے اور وہ اس کو در در پھراتی ہے ۔ کبھی پیروں کے پاس ، کبھی نجومیوں کے پاس ، کبھی ہاتھ کی لکیریں دیکھنے والوں (Pdlmit) کے پاس ، کبھی جنات کے تسخیر کرنے والوں کے پاس ، کبھی تعویذ اور گنڈے کرنے والوں کے پاس اور بہت ہی کم ہوتے ہیں جو ایسے حالات سے دو چار ہونے کے بعد بھی ایک اللہ ہی کے دروازے پر پڑے رہے اور ہر حالت میں اس پر انحصار رکھیں ۔ اس جگہ پہنچ کر بڑوں بڑوں کے پائوں میں لغزش آجاتی ہے اور ایک کی قوت و ہمہ دوسرے کو متاثر کردیتی ہے۔
کوئی صاحب پوچھ سکتے ہیں کہ علم نجوم ، علم دست شناسی ، علم الاعداد اور اسی طرح تعویذ اور گنڈوں کا تعلق علوم سے نہیں ہے ؟ تو ہم جواب دیں گے کہ بالکل علوم سے ہیں اور یہ ایسے ہی علوم ہیں جیسے جادو اور کہانت ، دھوکہ اور فریب ، کذب و افتراء ، چوری اور نقب زنی ، جو اور قمار بازی ، قال اور شگون وغیرہ سب علوم ہیں پھر آپ اپنے دل ہی سے پوچھ لیں کہ آپ کا دل ان میں سے کس کس علم پر جمتا ہے ؟ رہی شریعت الٰہی تو وہ دن میں سے ایک ایک کی تردید کرچکی ہے اور نبی کریم ﷺ نے ان سارے لوگوں کے لیے جو ان علوم کو سیکھتے ہیں کفر و فسق کا فتویٰ دیا ہے اور تفصیل اس کی ہمارے پمفلٹ ” جادو کیا ہے ؟ “ میں مل جائے گی ۔ اختصا اس کا یہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد ہے :
(من اتی عرافا فسالہ عن شی ، فصدقہ بما یقول لم تقبل لہ صلوۃ اربعین یوما) (صحیح مسلم عن بعض ازواج النبی ﷺ عن ابی ہریرہ ؓ عن النبی ﷺ قال من اتی کاھنا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما انزل علی محمد ﷺ) رواء ابودائود) ( من اتی عرافاً او کاھنا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما انزل علی محمد ﷺ ( لابی یعلی بسند جید عن ابن مسعود مثلہ موقوفا ً ) لیس منا من تطیر الو تطیر لہ او تکھن اوتکھن لہ او سحر او سحرلہٗ و من اتی کاھنا ً فصلفہ بما یقول فقد کفر بما انزل علی محمد ﷺ (رواہ الزار بسند جید عن عمان بن حصین ؓ مرفوعا ً )
صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کی بعض ازواج مطہرات ؓ سے مروی ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا کہ ” جس شخص نے کسی نجومی کے پاس جا کر کچھ پوچھا اور اس کی تصدیق کی تو اس کی چالیس رو تک نماز قبول نہ ہوگی “۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” جو شخص کسی کاہن اور نجومی کے پاس کوئی سوال پوچھنے کے لیے گیا اور پھر اس کے جواب کی تصدیق بھی کی تو اس نے شریعت اسلامیہ کا انکار کیا “ ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا کہ ” جو شخص کسی نجومی اور کاہن کے پاس جائے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے شریعت محمدیہ کا انکار کردیا “۔ یہ روایت مسند ابو یعلی میں سند جید سے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اسی طرح موقوفاً مروی ہے اور حضرت عمران بن حصین ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص خود فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے یا خود کاہن بنے یا اس کے لیے کوئی دوسرا شخص کاہن تجویز کرے یا جو شخص خود جادوگر ہو یا اس کے لیے کوئی دوسرا شخص جادوگر تجویز کے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو گویا اس نے شریعت محمدیہ سے کفر کا ارتکاب کیا “۔
زیر نظر آیت کا مطلب و مفہوم ایک بار پھر سن لو اور یاد رکھو کہ ” کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوئی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے اس کو لکھ نہ دیا ہو اور یہ اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ بہت آسان ہے “ یہ بات سم سے کیوں کی جا رہی ہے ؟ اس کا ذکر آنے والی آیت بہت وضاحت سے پیش کر رہی ہے۔
Ayah 57:23تم سے جو چیز چلی جائے اس پر زیادہ افسردہ اور چیز مل جائے اس پر زیادہ خوش نہ ہو
23 ؎ گزشتہ آیت میں جو تم کو بتایا گیا ہے وہ اس لیے بتایا گیا ہے کہ زندگی میں سے جو چیز چلی جائے تم اس پر اس قدر غمگین نہ ہو کہ اس کے غم واندوہ میں تم بھی ہلاک ہونے لگو اور نہ اس چیز پر جو تم کو ملی ہے اترانے لگے اور فخر کرنے لگو کہ اپنے آپ سے باہر نکلنے لگو ۔ ہر بات میں اعتدال کرو اس لیے جو تم سے چلا گیا اس کو ہر حال میں جانا ہی تھا اور جو چیز تم کو دی گئی اس کو ہر حال میں دیا ہی جانا تھا۔ عام انسانوں کا وطیرا کیا ہے ؟ یہی کہ جب کوئی مصیبت ان پر پڑی تو وہ دل شکستہ اور مایوس ہو کر بیٹھ گئے اور اپنی قسمت کو کو سنے دینے لگے ، گردش روزگار کو سخت سست کہنے لگے اور حوصلہ ہار بیٹھے ، اٹھے تو کبھی پیروں کے پاس ، کبھی نجومیوں اور راملیوں کے پاس ، کبھی پامسٹوں اور جو گیوں کے پاس ، کبھی اعدادیوں اور اسی قبیل کے دوسرے لوگوں کے پاس کہ ہم کیا ہوا ، ہمارے کاروبار کو کیا ہوا ، ہماری بہو اور بیٹے کو کیا ہوا ، ہمارے خاندان اور برادری کو کیا ہوا اور اگر حالات ساز گار ہوئے ، کاروبار میں نفع ہونے لگا اور کھیتی باڑی اور باغات سے خوب فائدہ پہنچا تو پھر خوشی سے پھولے نہ سمائے ، لگے بھگنڑے ڈالنے ، ناچنے اور کو دنے کہ یہ ساری ہماری پیروں ، بزرگوں اور ولیوں کی برکت ہے اور اگر یہ نہیں تو اپنے فہم و ادراک اور زیر کی ڈینگیں مارنے لگے کہ یہ ساری کامیابیاں ان کی اپنی ہی ذہانت اور ہوش مندی کا نتیجہ ہیں ۔ اس طرح یہ دونوں حالتیں ہی انسان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوتی ہیں ۔ ان دونوں آیات کا مضمون ملا کر دیکھو تو تم پر حقیقت واضح ہوجائے گی کہ جو مصیبت تم پر گزری اس سے تم کو کوئی مغر ہی نہ تھا وہ تمہارے مقدر میں تھی تم اس سے بچنے کی ساری صورتیں کرتے تو کبھی بچ ہی نہ سکتے تھے اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اس کو نوشتہ تقدیر کہہ کر خاموش ہو جائو اور صبر کا دامن مضبوطی سے تھام لو اگر لے سکتے ہو تو اپنا جائزہ لو اور اپنی صحیح جدوجہد جاری رکھو اور جو نعمتیں تم کو بخشی گئی ہیں وہ بھی تمہارے پیدا ہونے سے بھی پہلے جہاں تمہا را پیدا ہونا لکھا تھا وہ بھی لکھی تھیں تم ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جس نے تم پر یہ انعامات کیے ہیں ، یہ اس کا فضل ہے وہی تم کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی تم کو یہ خوشیاں عطا کرنے والا ہے ، تم اپنے مالک حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہو جائو اور اسی کے سامنے جھک جائو اور یاد رکھو کہ وہ شیخی بھگارنے والوں اور تکبر کرنے والوں کو کبھی پسند نہیں کرتا ۔
جس ماحول میں یہ سورت اور آیت نازل ہوئی اس ماحول پر نظر رکھو تو بات اور بھی واضح ہوجائے گی کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو اسوقت حالات کیا تھے ؟ یہی کہ ایک طرف دشمنوں کا ہر وقت خطرہ لگا ہوا تھا اور پے در پے لڑائیاں جاری تھیں۔ مسلمانوں کے ساتھ معاشی مقاطعہ کیا جاچکا تھا ، عرب کے کونے کونے میں ایمان لانے والوں سے ظلم و ستم ڈھائے جا رہے تھے ، بس اس طرح کی حالت تھی جس سے مسلمان گزر رہے تھے ۔ کفار ان کی بد شگونی کا نشان تصور کرتے تھے اور منافق ان کو اپنے شکوک و شبہات کی تائید میں استعمال کرتے تھے ۔ مخلص مسلمان ہی تھے جو ان حالات کے سامنے سینہ سپر تھے اور نہایت ثابت قدمی کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کر رہے تھے ۔ تا ہم انسان انسان ہی ہے وہ بعض اوقات مصائب کے ہجوم کے سامنے ڈھیلا بھی پڑ سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ان کو سہارا دیا اور ایسا گر ان کے سامنے پیش کردیا جو ہر طرح کی زندگی میں کام آنے والا تھا اور پھر اس کی اتنی سچی تصویر کھینچی جس سے زیادہ سچی تصویر نہیں کھینچی جاسکتی تھی اور مسلمانوں کو اس حالت سے نکالنے کے لیے ان کی اس طرف ہمت بندھائی کہ وہ کسی معاملہ میں اگر ڈھیلے ہو بھی رہے تھے تو انکی قوت ایمانی کو اور زیادہ مضبوط کردیا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام پہنچا کہ تم یاد رکھو کہ تم پر کوئی مصیبت بھی معاذ اللہ تمہارے رب کی بیخبر ی کے باعث نازل نہیں ہوگئی ، جو کچھ تم کو پیش آ رہا ہے یہ مشیت خداوندی کے مطابق ہے گویا یہ تمہاری آزمائش ہے جو آزمائش پر آزمائش کے طور پر کی جا رہی ہے اور یہ رب کریم کی ایک سکیم کے تحت ہو رہا ہے جو کچھ ہو رہا ہے۔ جو کام تم سے اللہ تعالیٰ نے لینے ہیں وہ لینے ہی ہیں ، تم کو ڈھیل ملی ، یقین نہیں بلکہ پختہ یقین ہونا چاہئے جہاں مشکلات ہیں وہاں آسانیاں بھی ہیں ، جہاں مصیبت ہے وہاں خوشیاں بھی ہیں ۔ یہ دنیا اضداد پر قائم ہے اچھی طرح سمجھ لو ، سن لو اور یاد رکھو کہ ہر تعمیر سے پہلے تخریب لازم و ضروری ہے جب تخریب نہیں ہوگی تو تعمیر کا وجود قائم ہی نہیں ہو سکتا اس لیے ہمت نہ ہارو قدم بہ قدم آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور جب تم کو ان مصائب کی جگہ خوشیاں نصیب ہوں جو یقینا ہوں گی تو اس وقت بھی یہ اصول تم کو یاد رکھنا ہوگا کہ ان خوشیوں کے دور میں ہم کو اترانا اور پھولنا نہیں ہے بلکہ اس کی حمد کے گیت گانے ہیں جو مصائب کو دور کرنے والا اور خوشیاں لوٹانے والا ہے ، پھر مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔
Ayah 57:24جو لوگ بخل کرتے اور بخل کا حکم دیتے ہیں ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ غنی ، تعریف کیا گیا ہے
24 ؎ ( بخل) کیا ہے ؟ بخل رذائل میں سے ہے اور ہر رذالت بد اخلاقی ہے۔ گویا بخل بھی اساسی بد اخلاقیوں میں سے ایک بد اخلاقی ہے اور ایسی بد اخلاقی ہے جو بہت سی بد اخلاقیوں کی جڑ ہے۔ خیانت ، بد دیانتی ، بےمروتی ، بےرحمی ، بد سلوکی اور دنائت اس کی اولاد ہیں۔ حرص ، طمع ، لالچ ، تنگ نظری ، کم ہمتی ، پست ہمتی اور اس طرح کی بہت سی بد اخلاقیاں اس کی جڑیں اور شاخیں ہیں ۔ اسلام نے جھوٹ کے بعد اس نامراد بیماری کا قلع قمع کیا ہے اس کی وہ مذمت کی ہے کہ اس کو اسلام کے اندر کہیں جگہ نہیں ملی اور جہاں یہ نامراد بیماری موجود ہو وہاں اسلام کبھی داخل نہیں ہوتا ۔ مختصر طور پر آپ اس طرح سمجھ لیں کہ کنجوسی کا دوسرا نام ہے ۔ یعنی مال و متاع کو اس جگہ خرچ کرنے سے روک رکھنا جہاں خرچ کرنا چاہئے اسی کا نام بخل ہے جو جود و سخاوت کی ضد ہے۔ بخیل کی دو قسمیں ہیں ایک خود مناسب جگہ خرچ نہ کرنا دوسرے غیر کو بھی خرچ کرنے سے روک دینا اور یہ اور بھی زیادہ قابل مذمت ہے اور زیر نظر آیت میں دونوں ہی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 180 جلد سوم سورة النساء کی آیت 37 ، جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 76 ، جلد ہشتم سورة محمد کی آیت 37 میں کرچکے ہیں اس لیے محولہ سورتوں کی محولہ آیتوں کی تفسیر کو دیکھ لیں ۔ اس جگہ یہ آیت گزشتہ آیت کی مزید تشریح کے طور پر آئی ہے جو دراصل گزشتہ آیت کے دو الفاظ (محتال فخور) کی وضاحت ہے۔ لاریب بخیل اس نکتہ کو بھول جاتا ہے کہ مال و دولت مقصود بالذات چیز نہیں بلکہ وہ صرف چیزوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔ سونے چاندی کی اینٹیں خود بخود روٹی ، کپڑا اور مکان کی چار دیوری نہیں بن سکتیں اس لیے ان کو سمیٹ کر رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ۔ ان کو ضروری اور اعلیٰ مقصود کے حصول میں خرچ کرنا ہے ، ان کا صحیح مصرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بتائی ہوئی جگہیں ہی ہو سکتی ہیں ۔ منافق اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں لیکن ان جگہوں پر جہاں ان کو شہرت حاصل ہو اور ان کی نمود و نمائش ہو اور جس جگہ ان کو یہ مقصد حاصل نہ ہو وہاں وہ ایک پائی تک کا خرچ کرنا جان دینے سے مشکل تصور کرتے ہیں لیکن جہاں ان کو نمود و نمائش حاصل ہو وہاں وہ تجوریوں کا منہ کھول دیتے ہیں ، مال تو ان کا بھی خرچ ہوجاتا ہے اور ان کا بھی جو رضائے الٰہی کے حصول کے لیے خرچ کرتے ہیں لیکن ایک کا انجام دوزخ ہے اور دوسرے کا انجام جنت ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس شخص نے بخل کے باعث اس دنیا کے مال کو گلے کا ہار بنا رکھا تھا وہ قیامت کے روز واقعی اس کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا لیکن وہ اس روز زہریلے سانپ کی طرح ہوگا کہ اس کو ڈسے گا اور اترے گا بھی نہیں ۔ قرآن کریم نے بخل کی مثال قارون کے نام سے دی ہے جو بنی اسرائیل ہی کا ایک آدمی تھا جس کے مال و متاع کی چابی بردار ایک بہت بڑی طاقت ور جماعت تھی اور اس کو تذاتہٖ دولت کے ڈھیروں کا کچھ پتہ تک نہ تھا لیکن جب اس کا پکڑ کا وقت آیا تو اس کی شان و شوکت اس کے کچھ کام نہ آسکی اور اس کے بعد کتنے قارونوں کا حال ہم تاریخ میں پڑھ چکے ہیں اور آج کے قرونوں کی حالت بھی یقینا دیدنی ہوگی جب ان کی پکڑ کا وقت آئے گا تو سارا کروفر ہوا ہوجائے گا اور تقدیر میں لکھا ان کو مل کر رہے گا ۔