56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 56:1

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی

جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی 1 ؎ کسی چیز کی حقیقت کی اولین گرہ کشائی اس کے نام کی وضاحت سے ہوتی ہے ۔ قرآن کریم میں قیامت کے تقریباً 29 نام ذکر کئے گئے ہیں جن کو ہم پیچھے ذکر کرچکے ہیں اور ان میں سے ہر ایک نام اس کے ایک خاص پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ اس کا پہلا نام جو قرآن کریم کی پہلی ہی سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ وہ (یوم الدین) ہے یعنی جزا و سزا کا دن اور زیر نظر آیت میں (الواقعہ) سے مراد بھی قیامت ہی کا دن ہے۔ قیامت کی احوال و اہوال کے پیش نظر اس کو وقوع پذیر ہونے والی کہا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا واقع ہونا حق ہے۔ اس کا واقع ہونا یقینی امر ہے۔ اس کے وقوع پذیر ہونے سے اس کو کوئی روک نہیں سکتا کیونکہ اس کے واقع کرنے کا حکم اللہ رب کریم کی طرف سے ہے۔ یہ گویا ایک طرح کی تحدی اور چیلنج ہے جس کا اعلان کیا جا رہا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جس طرح ہر ایک انسان کی موت کا ایک دن مقرر ہے اور کوئی نہیں جو اس سے بچ سکے اور کوئی نہیں جو اس سے بچا سکے تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ مرنے کا جی کسی کا بھی نہیں ہوتا لیکن ہر ایک شخص جو پیدا ہوا ہے ہو مرنے ہی کیلئے پیدا ہوا ہے خواہ وہ امیر ہے یا غریب ؟ موت تو ہر ایک چیز کو ہے لیکن ساری چیزوں میں سے بہتر اور اشرف المخلوقات کہلانے والا انسان جو ایک دو نہیں ہزاروں چیزوں کا موجد ہے اور لاکھوں تجربات اس نے کئے ہیں لیکن موت کا کوئی علاج نہ وہ تجویز کرسکا اور نہ ہی کبھی کرسکے گا پھر جس طرح ہر ایک انسان کیلئے موت ہے اسی طرح پوری کائنات کی موت بھی یقینی ہے اور پھر جب سب کچھ درہم برہم ہوجائے گا تو پہلی بار پیدا کرنے والا اور اس نظام کو مربوط بنیادوں پر قائم کرنے والا ‘ دوبارہ انسانوں کو پیدا کرے گا تاکہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ان کو دیا جاسکے۔ جو شخص اس دنیا میں پیدا ہوا ہے وہ ہر حال میں عمل کرتا ہے اور بہت سے اعمال ایسے ہوتے ہیں جو زندہ رہتے ہیں لیکن عمل کرنے والا مر جاتا ہے پھر جب تک یہ نظام قائم ہے وہ اعمال جو زندہ ہیں خواہ وہ اچھے ہیں یا برے ان کا بدلہ بھی جاری وساری رہنا لازم و ضروری ہے اور یہ بدلہ اس کو تب ہی مل سکتا ہے کہ یا تو وہ اس کائنات کے نظام کے قائم رہنے تک زندہ رہے یا پھر دوبارہ اس نظام کے درہم برہم ہونے کے بعد اس کو زندہ کردیا جائے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کائنات کا نظام جاری ہے اور اعمال کرنے والے آتے ہیں اور جاتے ہیں یعنی آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں اور پھرجانے والوں کو اس نظام کے درہم برہم ہونے کے بعد جب نظام قائم ہوگا تو یقینا ان کو زندہ کیا جائے گا اور یہی بات اس وقت کہی جا رہی ہے کہ جب واقع ہونے والی واقع ہوگی تو اس کے واقع ہونے کا یہی مقصد ہے کہ ہر انسان کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 56:2

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کے واقع ہونے میں کچھ بھی جھوٹ نہیں ہے

اس کے واقع ہونے میں ذرا بھی جھوٹ نہیں ہے 2 ؎ اس کا واقع ہونا اتنا ہی یقینی ہے جتنا ہر انسان کا پیدا ہونا یعنی پہلی بار جو شخص پیدا ہوچکا ہو کیا اس کے پیدا ہونے میں کوئی سبہ ہے۔ اس کو جو پیدا ہوا ہے یا ان کو جو اس کو پیدا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اگر پیدا ہونے والے کا پیدا ہونا جھوٹ ہے تو اس بات کو بھی آپ جھوٹ کہہ سکتے ہیں لیکن اگر انسانوں کا پیدا ہونا ایک یقینی امر ہے اور پیدا ہونے والے سمجھتے ہیں کہ وہ پیدا ہوئے ہیں تو ان کے زندہ ہونے کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا۔ جو لو اس کے واقع ہونے سے انکاری ہیں وہ اس وقت جان لیں گے کہ واقع ہونے والی واقع ہوگئی لیکن اس وقت ان کے جان لینے کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ (کاذبۃ) ای لا یردھا شی یعنی کوئی چیز اس کو رد نہیں کرسکتی۔ کفار نے جتنی سختی سے اس کا انکار کیا ہے قرآن کریم نے اتنی ہی تاکید سے اس کو بیان کیا ہے۔ کفار سمجھتے تھے کہ مرنے کے بعد جی اٹھنا ناممکن ہے ‘ ان سے کہا گیا کہ ان کا پہلی بار پیدا ہونا کیسے ممکن ہوگیا اس امکان کی کوئی صورت وہ سمجھا سکتے ہیں ؟ اگر نہین تو وہ یہ تو بتا سکتے ہیں کہ وہ پیدا ہوئے ہیں یا نہیں ‘ کیا اس میں بھی ان کو کوئی شک و شبہ ہے ؟ اگر نہیں تو وہ اس کو اسی طرح سمجھ لیں کہ جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا ہے اس پر ان کا دوسری بار پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ وہ یہ تسلیم نہیں کرتے تھے کہ یہ آسمان و زمین ایک بار فنا ہونے کے بعد دوبارہ ہوں گے۔ ان سے کہا گیا کہ کیا اس آسمان و زمین کا پہلی بار پیدا ہونا وہ مانتے ہیں ‘ اگر مانتے ہیں تو وہ بتا سکتے ہیں کہ اس آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اگر وہ اس کا نام لینا نہیں چاہتے تو بھی اتنی بات وہ سمجھ لیں کہ جس نے ان کو پہلی بار پیدا ہے وہی ان کو فنا کرے گا اور پھر دوسری بار پیدا بھی کر دے گا اور اس کے لئے یہ بات کوئی مشکل نئ ہیں ہے کہ وہ دوسری بار پیدا کرے۔
Ayah 56:3

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

وہ پست کرنے والی بلند کرنے والی ہو گی

وہ پست کرنے والی ‘ بلند کرنے والی ہو گی 3 ؎ (حافضۃ) پست کردینے والی۔ نیچا کردینے والی۔ خفض سے جس کے معنی پست ہونے ‘ پست کرنے اور جھکا دینے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مونث۔ (رافعۃ) بلند کرنی والی ‘ اونچا کرنے والی رفع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مونث۔ مراد اس سے وہی قیامت کی گھڑی ہے جس سے کتنے ہی لوگ ہوں گے جو دنیا میں بلند بنے بیٹھے تھے لیکن اس روز وہ پست ہو کر رہ جائیں گے اور کتنے ہی ایسے ہوں گے جو بہت پست تھے لیکن وہ اس روز بلند ہوجائیں گے۔ جیسا کہ فاروق اعظم ؓ کا ارشاد ہے کہ : خفضت اعداء اللہ فی النار و رفعت اولیاء اللہ فی الجنۃ یعنی قیامت اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو آتش جہنم میں نگوں سار کر دے گی اور اللہ تعالیٰ کے دوستوں کو جنت میں سربلند و سرفراز کرے گی۔ اس طرح جو کچھ ہوگا وہ یقینا لوگوں کے اپنے اعمال ہی کے باعچ ہوگا جن کے اعمال ان کو پست کردینے کے ہوں گے وہ پست ہوجائیں گے اور جن کے اعمال ان کو بلند کردینے والے ہوں گے وہ بلند ہوجائیں گے لیکن یہ کب ہوگا ؟ جب دارالعمل سے انسان نکل جائے گا اور دارالجزاء میں داخل ہوجائے گا۔ یہ صحیح ہے کہ موت آنے کے بعد انسان دارالعمل سے نکل جاتا ہے لیکن دارالجزاء میں بھی داخل نہیں ہوتا کیونکہ دارالجزاء دارالعمل کے فنا کے بعد ہی سے شروع ہوگا۔ ایک انسان جب دارالعمل سے نکل گیا اور دارالجزاء میں وہ ابھی پہنچا نہین تو درمیان کے زمانہ کا نام دارالبرزخ رکھا گیا۔ گویا یہ زمانہ پردہ میں ہے اور جب دارالجزاء کو تسلیم کرلیا گیا تو اس پردہ کے زمانہ کو برزخ تسلیم کرنے میں کیا مشکل حائل ہوئی جب کہ دارالجزاء بھی آخرت سے متعلق ہے اور دارالبرزخ بھی مشاہدہ کی چیز نہیں اور یہ نام تو محض تفہیم کے لئے اختیار کئے گئے ہیں تاکہ اس طرح بات کا سمجھنا آسان ہوجائے۔ دارالبرزخ کا دوسرا نام قبر ہے جو اس گڑھے کے نام سے موسوم کی جاتی ہے جس گڑھے میں انسان کو مرنے کے بعد منتقل کیا جاتا ہے حالانکہ یہ ایک علامت ہے جو فطری طور پر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اگرچہ اس گڑھے کے اندر کچھ نہیں ہے۔ آپ غور کریں کہ مرنے کے بعد اس نعش کے اندر کوئی چیز ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک بت ہے جو ایک دو دن کے بعد متعفن ہو کر دوسروں کو بیزار کر دے گا یا اس کو رکھنے کیلئے کوئی خاص طریقہ استعمال کرنا ہوگا لیکن اس کے ساتھ جو فطری لگائو ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن جب اس کو کسی گڑھے میں منتقل کردیا جائے تو اس گڑھے سے عبرت حاصل کرنے کے لئے اس کی طرف منتقل ہونا بھی ایک فطری عمل ہے اور زندوں کی تفہیم کے لئے اس کو بطور استعارہ اور اشارہ استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے بھی اس کو بطور استعارہ و اشارہ استعمال کیا ہے کہ اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے یا اس صاحب قبر کی قبر وسیع ہوگئی ہے۔ اس گڑھے کا اندر کیا ہے ؟ ایک تعفن کا ڈھیر ہی تو ہے لیکن اس کے اوپر چڑھنا ‘ اوپر بیٹھنا جب کہ قبر کا نشان موجود ہو اسلام میں منع کیا گیا ہی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ بےحرمتی میں داخل ہے لیکن قبر کا نشان باقی رکھنے کی ہدایت نہیں کی گئی کہ وہ مٹتے مٹتے خود بخود مٹ جائے تو یہ دوسری بات ہے کسی نعش کی بےحرمتی ‘ اس کا کوئی اعضا کاٹ دینا یا کسی طرح کا کوئی ناجائز عمل کرنا بالکل اسی طرح ہے جس طرح زندہ انسان سے ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کی انسانیت کا احترام ہے کہ وہ ڈھانچہ ایک انسان کا ہے۔ لیکن افسوس کہ جنہوں نے ان باتوں کو مانا انہوں نے اکثر شرک کا ارتکاب کیا اور جنہوں نے تسلیم نہ کیا انہوں نے خواہ مخواہ تنقید شروع کردی حالانکہ ترغیب و ترہیب سے انسانی اصلاح ممکن ہے اور اصلاح کے لئے جو استعارات و اشارات کئے گئے ہیں وہ قرآن کریم میں کثرت سے موجود ہیں۔ یہ جنت و دوزخ اور جنت و دوزخ کے عذاب وثواب کیا ہیں ؟ جب کہ یہ بات واضح ہے کہ جنت اور دوزخ دراصل انسان کے اپنے اعمال کے نتائج کا نام ہے۔ اعمال ہی انسان کو پست کرنے والے ہیں اور اعمال ہی بلند کرنے والے ہیں۔
Ayah 56:4

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین کپکپا کر لرزنے لگے گی

جب زمین کپکپا کر لرزنے لگے گی 4 ؎ یہ اس قیامت کی علامت بیان کی جا رہی ہے کہ جب وہ واقعہ ہونے والی واقع ہوگی جس کے واقع ہونے میں کسی طرح کا کوئی سک و شبہ نہیں ہے ‘ جو پست کر دینی والی اور بلند کردینے والی ہے ‘ جب وہ آئے گی تو زمین ایک ہی بار کانپ کر رہ جائے گی اور اس کی تھرتھراہٹ ہی زمنہ کو اور اہل زمین کو ختم کر کے رکھ دے گی اور اس کو واقع ہونے میں کوئی زیادہ دیر تو نہیں لگے گی۔ وہ لوگ جنہوں نے زلزلہ کے کسی جھتکا کو دیکھا ہے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ زلزلہ کتنی دیر لگاتا ہے اور اس سے کیا ہوتا ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں انسان روزانہ ایک خوراک کھاتا ہے اور اسی خوراک پر اس کی زندگی کا انحصار ہے لیکن آپ نے بارہا یہ بات سنی اور دیکھی ہوگی کہ جب انسان کا وقت آجاتا ہے تو وہی خوراک اس کی موت کا باعث بن جاتی ہے اور انسان کے اندر ہی سے کوئی ایسی صورت اٹھتی ہے جو اس کو موت سے دوچار کردیتی ہے اور یہی معاملہ اس زمین کے ساتھ ہوگا۔ زمین کیا ہے ؟ ایک سیارہ ہی تو ہے جس طرح کے سیارے آپ کو اپنے سروں پر کروڑوں کی تعداد میں نظر آ رہے ہیں اور جس طرح ان سب کا آپس میں ربط قائم ہے یقینا اس ہماری زمین کا ربط بھی ان سے وابستہ ہے اور ان سارے سیاروں میں سے کسی ایک کا فنا ہونا سب کے فنا ہوجانے کی پکی اور پختہ دلیل ہے اگر تجربہ کرنا چاہو تو وہی تسبیح جو ایک سو یا ایک ہزار موتیوں کی لڑی کے طور پر تم نے سنبھال رکھ ہے اور ان سارے موتیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ کرنے کے لئے آپ نے ایک دھاگا یا ڈور استعمال کی ہے اس ڈور یا اس دھاگا کو ایک جگہ سے توڑ کر دیکھو کہ کیا ہوتا ہے کہ اچانک سارے موتی جھڑ کر زمین پر بکھرجاتے ہیں اور پھر لڑھکنے لگتے ہیں ‘ کوئی کسی طرف لڑھک جاتا ہے اور کوئی کسی طرف اور تمہاے ہاتھ میں سوائے ڈور کے کچھ بھی نہیں رہتا اور اس معاملہ میں کتنی دیر لگے گی بس اس زمین کے کپکپانے کا یہی نتیجہ ظاہر ہوگا اور اچانک ہوگا۔ (رجت) کا مادہ ر ج ج ہے۔ اس کے معنی کسی چیز کے ہلانے اور جنبش دینے کے ہیں۔
Ayah 56:5

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے

اور پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے 5 ؎ یہ حرکت اتنی شدید ہوگی کہ اس سے زمین اس طرح کپکپا جائے گی کہ پہاڑ جن کا مقصد زمین کو ہلنے سے بچانا ہے وہ خود اکھڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ (بست) کی اصل ب س س ہے ‘ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ آہستہ آہستہ چلائی گئی بس سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مونث غائب۔ عربی کا قاعدہ ہے کہ جب فاعل اسم ظاہر ہوتا ہے تو فعل کو واحد لاتے ہیں اور جمع مکسر کا ہکم یعنی جس میں واحد کا وزن سلامت نہ رہے مونث غیر حقیقی کا حکم ہے کہ اس کے لئے مذکر کا صیغہ بھی لایا جاتا ہے اور مونث کا بھی جیسا کہ اس جگہ ہوا ہے کہ (بست الجبال بسا) میں چونکہ (جبال) جمع مکسر ہے اس کے لئے واحد مونث کا صیغہ لایا گیا ہے لہٰذا اس جگہ (بست) کے ترجمہ میں صیغہ جمع کے معنی لینے ہوں گے یعنی پہاڑ آہستہ آہستہ چلائے جائیں گے اور ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ (بشاء ) خلط ملط کرنا ‘ اجزا کا باہم دگر ملا دینا ‘ ریزہ ریزہ کرنا۔ مصدر ہے۔ اور بعض نے اس کے معنی آہستہ آہستہ ہانکنے اور چلانے کے لئے ہیں۔ عربوں کی عادت ہے کہ جب اونٹ یا بکری کا ریوڑ ہانکتے ہیں تو ہانکتے وقت بس بس یا بس بس زبان سے کہتے جاتے ہیں۔ چناچہ اس طرح آہستہ آہستہ ہانکنے کا نام (بس) ہے۔ پہاڑوں کو چلائے جانے کے لئے بولا گیا ہے اور اس طرح پہاڑوں کو چلائے جانے کے لئے اور الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جیسے (کالعھن المنفوش) اور (نسیر الجبال) وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 56:6

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر غبار ہو کر اڑنے لگیں گے

پھر وہ غبار ہو کر اڑنے لگیں گے 6 ؎ یہ پہاڑوں کے اڑائے جانے یا زلزلہ کے ساتھ ریزہ ریزہ ہوجانے کی مزید تشریح کی گئی ہے۔ پہاڑوں کی طرف نظر کرو اور پھر زیر نطر آیت پر غور کرو کہ وہ حادثہ کیسا حادثہ ہوگا فرمایا جا رہا ہے کہ پہاڑ اس طرح اڑیں گے جیسے دھول اڑا کرتی ہے کیونکہ (ھبار) کے معنی ہیں باریک خاک اور گرد و غبار۔ باریک ذرات خاک جو روسن دان سے دھوپ اندر داخل ہو رہی ہو تو اس طرح نظر کر کے دیکھو تم پر بات واضح ہوجائے گی اس دھوپ کے اندر جو ذرات آپ کو نظر آئیں گے یہی ذرات ہیں جن کی طرف نسبت دی جا رہی ہے کہ پہاڑ اس طرح ہوں گے جیسے غبار ہوتا ہے۔ (منبا) اسم فاعل واحد مذکر اصل میں منبث تھا یا اسم مفعول اصل میں منث تھا پراگندہ ‘ منتشر پھیلا ہوا ‘ اڑتا ہوا۔ بت اور بتی اسی سے ہے اور اسی طرح المبثوث بھی۔ مطلب یہ ہے کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑنے لگیں گے جیسے گرد و غبار اڑا کرتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ ایٹم میں ابھی مزید ترقی ہوگی اور اتنی طاقت کے مزید تباہ کن ایٹم بن تیار ہوں گے جن سے اس طرح کی صورت حال پیدا ہوگی جیسا کہ قرآن کریم کی زیر نظر آیت اور اس کی مثل بہت سی اور آیتیں وضاحت کر رہی ہیں اور ہم یقینا قیامت کے حادثہ کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہے ہیں اگرچہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے قیامت صغریٰ کے کئی مناظر ابھی ہم کو دیکھنا ہوں گے جو اتفاقی ہوں گے یا کسی سر پھرے کی حماقت سے جو ہیرو شیما اور ناگا سا کی کی یاد کو بالکل بھلا کر رکھ دیں گے اور ہم اس کی وضاحت سورة الم السجدہ کی آیت 31 میں کر آئے ہیں۔
Ayah 56:7

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم لوگ تین حصوں میں تقسیم ہوجاؤ گے

اور تم لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائو گے 7 ؎ (زوج) کی جمع ہے ازواج جوڑے ‘ ہم مثل چیزیں ‘ اقران ‘ حیوانات کے جوڑے میں سے نر ہو یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں اور اسی طرح غیر حیوانات میں ہر اس شے کو جو دوسری شے کے قرین ہو خواہ وہ مماثل ہو یا متضاد زوج کہتے ہیں۔ اسی سے ازواجا ہے یعنی اصناف۔ مطلب یہ ہے کہ حشر و نشر کے روز لوگوں کو تین گروہوں میں بانٹ دیا جائے گا اور تینوں گروہوں کے الگ الگ نام بتائے گئے ہیں یہ وہ موٹی موٹی تقسیم ہوگی ‘ ان کے اندر چھوٹی چھوٹی تقسی میں بھی ہوں گی لیکن ان کی شناخت کے لئے ان کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا اور مقصود اس سے تفہیم ہے تاکہ ان کی شناخت جو آگے بیان کی جا رہی ہے اس کو سن کر ‘ پڑھ کر ابھی انسان سمجھ جائے کہ یہ میرا حشر کن لوگوں میں ہونے والا ہے اگر میں نے یہی کچھ کیا جو میں کر رہا ہوں۔ ہاں ! اگر میں اس وقت اپنی حالت بدل لوں اور اگر میر شمار کسی ایسے گروہ میں نظر آ رہا ہے تو میں اپنا گروہ تبدیل کرلوں کیونکہ جب تک سانس ہے تب تک آنس ہے اور ان تین گروہوں میں سے جو گروہ پسند ہے اس گروہ والے اعمال شروع کر دے اور اپنے آپ کو بدل کر اگر اس کو اپنا آپ کسی برے گروہ میں نظر آ رہا ہے تو بدلنے کی کوشش کر کے اس کو بدل دے کیونکہ ان تین گروہوں کی اعمال ہی نے ان کو تقسیم کردیا ہے نہ کہ بزور ان کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اب ان تین گروہ کے الگ الگ نام ذکر کئے گئے ہیں اور ان کی شناخت ان کے اعمال سے کرا دی گئی ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
Ayah 56:8

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

پس داہنے ہاتھ والے کیا کہنا ان داہنے ہاتھ والوں کا

پس داہنے ہاتھ والے ‘ کیا کہنا ان داہنے ہاتھ والوں کا 8 ؎ (المیمنۃ) کا اصل مادہ ی م ن ہے اور میمنۃ یا تو ایمن سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے دایاں ہاتھ کیونکہ نیک لوگوں کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا یا یہ کہ نیک لوگوں کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر فرشتے جنت میں داخل کریں گے۔ بہرحال یہ گروہ ایک پسندیدہ لوگوں کا گروہ ہوگا جس کے اعمال کے آگے ذکر آئی گا اور جو لوگ دائیں کے مستحق ہوں گے ان کا تفصیلی ذکر آگے آنے والا ہے لہٰذا ایسے اعمال کر کے آدمی اپنے آپ کو دائیں میں شامل کرا سکتا ہے کیونکہ تقدیر میں جہاں ان کا دائیں بائیں میں ہونا موجود ہے وہاں ان کے اعمال بھی موجود ہیں اور جو کوشش کرتا ہے وہ یقینا پاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھیر نگری نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف رہے وہ یقینا (اصحاب المیمنۃ) میں شامل ہوں گے بلکہ انہوں نے اگر بہت کوشش کی تو وہ (اصحاب المیمنۃ) سے بھی آگے بڑھ جائیں گے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ جس طرح ایک پاس ہونا ہے اور ایک وظیفہ حاصل کرلینا اور ایک پاس ہونا ہے اور ایک فسٹ ڈویژن میں پاس ہوناتو دونوں میں جو فرق ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاس ہونا بہرحال پاس ہونا ہی ہے۔ اس لئے اس کے لئے جو انداز بیان ہے اس پر غور کریں ‘ فرمایا جا رہا ہے کہ ” پس داہنے ہاتھ والے کیا کہنا ہے ان داہنے ہاتھ والوں کا “۔
Ayah 56:9

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے کیا برا حال ہوگا بائیں ہاتھ والوں کا

بائیں ہاتھ والے کیا برا حال ہوگا بائیں ہاتھ والوں کا 9 ؎ (المشئمۃ) کی اصل ش ء م ہے اور ” الشوم “ ضد ہے الیمن کی اور السعد کی۔ اسم ہے۔ بائیں جانب والے (جلالین ) شومی بائیں جانب یا طرف شوم ۔ بدشگونی ‘ بدشگونی لینا ‘ دراصل عرب میں الٹے ہاتھ کو شو می یعنی منحسوس قرار دیتے تھے اور سیدھے ہاتھ کو سعد اور مبارک سمجھتے تھے اس لئے جیسا زبان اور بول چال میں ہوتا ہے کہ کسی اصل کی بناء پر ایک بات کہنا شروع کردی جاتی ہے اور اہل زبان میں وہ بولی جانے لگتی ہے اس کی وہ اصل بن جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اہل عرب دائیں سمت والوں سے مراد اہل سعادت لینے لگے اور بائیں سمت والوں سے اہل شقاوت اور بدبخت لوگ۔ پھر دائیں ہاتھ سے جتنے اچھے کام ہیں وہ کئے جاتے ہیں۔ کوئی کام ہو تو وہ دائیں ہاتھ سے شروع ہوتا ہے۔ اسی سے محاورہ کے طور پر اہل جنت کو (اصحاب المیمنۃ) اور اہل دوزخ کو (اصہاب المشئمۃ) کہا جانے لگا اور زبان کے مطابق قرآن کریم میں بھی یہ دونوں الفاظ اسی غرض وغایت کے لئے استعمال کئے گئے۔ (اصحاب المیمنۃ) اور (اصحاب المئمۃ) کہنے کی توجیہ میں اگرچہ اختلاف ہے لکنگ تمام مختلف اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے کہ (اصحاب المیمنۃ) اہل سعادت لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ اور (اصحاب المشئمۃ) اہل شقاوت ہوں گے۔ اس لئے امام راغب کی تشریح سب کو حاوی ہے۔ چناچہ امام صاحب رقم طراز ہیں کہ : ” یمن کا اصل معنی سیدھا ہاتھ ہے۔ اس کے بعد سیدھے رخ کو یمن کہنے لگے پھر ہر خیر اور سعادت کو یمین سے مراد لی جانے لگی پھر وسیلہ سعادت پر اس کا اطلاق ہونے لگا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ (الاحجر الاسود یمین اللہ) ” حجر اسود سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور حصول سعادت کیلئے ہے “ اور چونکہ معاہدہ عموماً سیدھے ہاتھ پر سیدھا ہاتھ مار کر کیا جاتا ہے اور قول وقرار کا یہی طریقہ بکثرت اقوام عالم میں جاری ہے اس لئے یمین کا معنی قسم ‘ عہد اور حلف ہوگیا اور مولی الیمین معاہد کو کہنے لگے۔ “ اور عام طور پر خریدو فروخت سیدھے ہاتھ سے ہوتی ہے اس لئے باندی ‘ غلام کے مالک ہونے کو ملک یمین کہنے لگے۔ یوں کہا جائے کہ جس طژرح رقبہ (گردن) اور ناصیہ (پیشانی) سے کنایہ پوری شخصیت مراد ہوتی ہے اور ملک رقبہ یا مالک ناصیہ ہونے سے مراد پوری ملکیت اور کامل اقتدار ہوتا ہے اسی طرح دائیں ہاتھ سے مراد بھی پوری شخصیت ہوتی ہے اور دائیں ہاتھ کے مالک ہونی سے مراد غلام یا باندی کا مالک ہونا ہے۔ یمین سے ہی یمن برکت وسعادت ماخوذ ہے۔ اور یمن ہی سے میمون بنا ہے جس کے معنی مبارک کے ہیں اور تیمن (تفعیل) برکت ڈھونڈنا اور برکت طلب کرنا مراد ہے۔ اب دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھو گے تو انشاء اللہ (اصحاب الیمن ) اور (اصحاب المشئمۃ) کے معنی و مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آجائیں گے۔
Ayah 56:10

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور سبقت لے جانے والے تو سبقت ہی لے جانے والے ہوں گے

اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہوں گے 10 ؎ اس آیت می ناس تیسرے گروہ کا ذکر ہے جو (اصحاب الیمین) سے بھی افضل ہے اور ان کو (السبقون) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور سابقون کے معنی ہیں آگے پہنچنے والے ‘ آگے بڑھنے والے۔ سبق سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت رفع سابق کی جمع ہے اور (السقبون الالون) کا ذکر پیچھے غزوہ الوثقیٰ جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 100 میں گزر چکا ہے اور حافظ ابن عبدالبر نے اپنی مشہور کتاب الاستیعاب فی اسماء والاصحاب میں حسب ذیل اقوال نقل کئے ہیں۔ (1) ابن سیرین کہتے ہیں کہ (السبقون الاولون) سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازیں ادا کی ہیں۔ عمر بن الحنفیہ اور سعید بن المسیب کا بھی یہی قول ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں ابو موسیٰ اشعری ‘ حسن بصری اور قتادہ ؓ سے بھی یہی نقل کی ا ہے۔ امام مالک رحمتہ اللہ ‘ یحییٰ بن سعید سے وہ سعید بن مسیب سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھ ماہ تک بیت المقدس کی طرف نماز ادا کی پھر واقعہ بدر سے دو مہینے پہلے آپ ﷺ کا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ (2) محمد بن کعب قرظی اور عطاء بن یساط کا قول ہے کہ یہ اہل بدر ہیں جن کی تعداد تین سو تیرہ یا تین سو چودہ بتائی گئی ہے۔ (3) شعبی کا بیان ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیعت رضوان میں شرکت کی ہے۔ جابر بن عبداللہ ‘ معقل بن یسار اور عبداللہ بن اوفی ؓ کا بیان ہے کہ ان کی تعداد چودہ سو تھی اور یہ تینوں بھی اسی بیعت میں شریک تھے اور ایک روایت میں جابر بن عبداللہ ؓ سے پندرہ سو کی تعداد بھی آئی ہے۔ (الاستیعاب جلد اول ص لغایت ص 7 طبع مصر 1328 ھ برحاشیہ الاصحابہ) یہ اقوال ہم نے درج کردیئے ہیں جو آج تک مفسرین نے نقل کئے ہیں اور پھر کسی نے کسی قول کو ترجیح دی ہے اور کسی نے کسی کو لیکن ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ بلاریب یہ لوگ (اصحاب الیمین) سے تو بہتر ہیں جو درجات میں بھی بلند ہوں گے لیکن آنے والی آیات ان اقوام کی تصدیق نہیں کرتیں کیونکہ وہ زمانہ متعین کرنے کے حق میں نہیں بلکہ ان کے مضمون میں وسعت زیادہ ہے۔ اسی وسعت کے پیش نظر ہم جو بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کردیئے جائیں گے کیونکہ ان کا تعلق پہلوں سے بھی ہے اور پچھلوں سے بھی اور بغیر ہساب کے جنت میں داخل ہونے والے پہلوں سے بھی ہوں گے اور پچھلوں سے بھی اس لحاظ سے اس جگہ (السبقون) سے مراد ( السبقون الاولون) نہیں ہیں اور جو باتیں اوپر مذکور ہیں۔ وہ (السبقون الاولون) سے ہیں نہ کہ فقط (السبقون) سے اور اس جگہ بیان فقط (السبقون) کا ہے جس کی وضاحت آنے والی آیت کر رہی ہے۔
Ayah 56:11

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

یہی مقرب بارگاہ ایزدی ہوں گے

یہی وہ لوگ ہوں گے جو بارگاہ ایزدی میں مقرب ہوں گے 11 ؎ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے دعویٰ نبوت کیا تو ان لوگوں نے آپ ﷺ کے دعویٰ کو قبول کرنے میں زیادہ دیر نہ کی اور اس طرح جب وہ پیدا ہوئے اور ہوش سنبھالا تو وہ عین عالم شباب ہی میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنے لگے اور دین کی طرف رغبت شروع کردی اور اس معاملہ میں فقط آبائو اجداد کے دین پر انحصار نہ کیا بلکہ عقل و فکر سے کام لے کر مقرب بارگاہ ایزدی ہوئے اور جہاں بھی تھے اور جیسے بھی تھے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوگئے اور (اولئک یسار عون فی الخیرات و ھم لھا سابقون) (المومنون : 61) ” یہ وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں کے لئے تیزگام ہیں اور یہی ہیں جو اس راہ مین ب سے آگے نکل جانے والے ہیں ‘ ’ اور ان کا تفصیلی ذکر پیچھے گزر چکا ہے یعنی یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے حق پیش کیا جاتا ہے تو وہ بلا تامل اسے قبول کرلیتے ہیں اور جب ان کو مال و جان کی قربانی دینے کو کہا جاتا ہے تو وہ ہرچیز دینے پر رضامند ہوتے ہیں اور ہرگز ہرگز لیت و لعل نہیں کرتے اور جب ان کو اقتدار مل جاتا ہے اور وہ حکومت کی مسند پر بھتے ہیں تو لوگوں کے سامنے وہ وہی معاملہ پیش کرتے ہیں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو (المقربین) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور گزشتہ آیت میں ان ہی کو (مقربین السبقون) کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
Ayah 56:12

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمتوں سے بھرپور جنتوں میں

نعمتوں سے بھرپور جنت میں رہیں گے 12 ؎ جن کی تعریف اوپر کی آیات میں (السبقون) اور (المقربون) سے کی گئی ہے یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کے باغوں یعنی جنت میں عیش و آرام کی زندگی بسر کریں گے اور ان کو کسی طرح کا کام غم واندوہ نہیں ہوگا چونکہ جنت میں جو کچھ ان کو پیش کیا جانی والا ہی اس کا ذکر گزشتہ سورت میں بھی گزر چکا ہے اور اس سورت میں بھی آگے آ رہا ہے اس لئے اس کی تفصیل ہم بیان نہیں کر رہے۔
Ayah 56:13

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

ایک بڑا گروہ اگلوں میں سے

ایک بڑی جماعت پہلے لوگوں میں سے ہو گی 13 ؎ پہلے لوگوں میں سے (السبقون) اور (المقربون) کی کثرت ہوگی یہاں تک کہ انکا ایک انبوہ کثیر جنت میں جائے گا۔ (للہ) انبوہ کثیر اور بہت بڑی جماعت پر بولا جاتا ہے اور اصل میں ” ثلۃ “ لغت میں اون کے ایک گتھے کو کہتے ہیں اور کثرت اجتماع کی مناسبت سے انبوہ کثیر کے لئے ثلۃ کا استعمال ہوتا ہے پہلے لوگوں میں ان کی کثرت بیان کی گئی ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے جو قربانیاں اور ایثار انہوں نے اسلام کی خاطر کیا وہ دوسروں نے جو ان کے بعد میں آنے والے تھے نہ کرسکے اور جوں جوں وقت گزرتا گیا لاریب ان کی تعدا دمیں کمی آتی گئی اور اس وقت جو حال ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ کارخیر کے لئے دعوت دینے والے بھی خود غرض ہوچکے ہیں وہ دعوت الٰہی کو پیش کریں گے تو محض اس لئے کہ ان کا بھی اس میں کچھ فائدہ ہو ورنہ وہ ذاتی فوائد کے علاوہ دین کی بات کہنے اور سننے کے لئے قطعاً تیار نہیں۔
Ayah 56:14

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور کم پچھلوں میں سے

اور پچھلوں میں وہ بہت کم ہوں گے 14 ؎ (السبقون) اور (المقربون) کی تعداد پچھلوں میں بہت کم ہوگی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ دن بدن بھلائی کی دعوت کم دی جا رہی ہے اور دعوت دینے والے اللہ کی رضا کے لئے کام نہیں کرتے بلکہ خود غرض ہوچکے ہیں ‘ ان کی غرض پوری ہوگی تو وہ دین کی بات بھی کریں گے ورنہ دین کی بات بھی مفت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ دعوت دینے والوں کا حال ہے اور دعوت قبول کرنے والوں کی حالت اس سے بھی گئی گزری ہے کہ اگر ان کے رواج اور رسم کا نام دین رکھ کر ان کی رسوم کی پابندی کی جائے اور اس کا نام کار خیر رکھ دیا جائے تو وہ کھلانے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر رسومات کی مخالفت کرتے ہوئے فقط دین کی ابت کی جائے جو ان کے رسم و رواج کے خلاف ہو تو وہ برداشت کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ اس دنیا میں بھلائی کا بول بالا کرنے کے لئے وڈیروں کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کریں گے تو و ڈیرے ان کو اچھی نظروں سے دیکھیں گے لیکن اگر کوئی بات انہوں نے وڈیروں کے خلاف کہہ دی تو وہ مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے اور وڈیروں کی مخالفت کو دریا مین رہ کر مگرمچھوں سے بیر کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے لہٰذا وہ دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر کرنا نہیں چاہتے اس لئے وہ ” نو نقد چنگے اور تیرہ ادھار مندے “ کا سبق یاد کئے ہوئے ہیں جو ان کو ازبر ہے اس لئی ظاہر ہے کہ ان کی تعداد بعد میں آنے والوں سے کم ہونا ضروری ہے لہٰذا قرآن کریم میں جو بطور پیش گوئی بیان کیا گیا ہے وہ بالکل صحیح اور درست ثابت ہو رہا ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ (السبقون) اور (المقربون) کی تعداد میں کمی ہی آتی جا رہی ہے اور یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے کہ پچھلوں میں ان کی تعداد کم ہوگی۔
Ayah 56:15

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

(مقربین) سونے کے مرصع تختوں پر ہوں گے

مقربین سونے کے مرصع تختوں پر ہوں گے 15 ؎ زیر نظر آیت سے ان (المقربون) اور (السابقون) کے انعامات کا ذکر شروع ہو رہا ہے کہ جنت میں جو انعامات ان کو دیئے جانے والے ہیں ان میں سے پہلے انعام کا ذکر اس جگہ جو کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ جنت میں مرصع تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ (سرر) تخت سریر کی جم ع ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں کہ سریر وہ ہے جس پر سرور سے بیٹھا جائے اور ظاہر ہے کہ یہ ارباب نعمت اور حکتم ہی کے پاس ہوتا ہے اس کی جمع اسرۃ اور سرر ہے موضرنۃ اسم مفعول واحد مونث وضن مصدر باب ضرب سونے کے پتھروں اور تاروں سے بنے ہوئے جڑائو (محلی) زرہ کی کڑیوں کی طرح بنے ہوئے۔ (بغوی) سونے کے تاروں سے گھنی بناوٹ والے جواہرات سے جڑے ہوئے۔ قطار در قطار رعکھے ہوئے۔ (ضحاک) بہرحال اہل جنت میں وہ لوگ جو بغیر حساب کے داخل ہوں گے اور جن کو (المقربون) اور (السبقون) کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے ان کے لئے جو انعامات جنت میں ہوں گے ان کا ذکر کرتے ہوئے اس جگہ پہلا انعام خوبصورت پلنگوں پر جو نہایت ہی مناسب انداز سے پڑے ہوئے اور بچے ہوئے ہوں گے اور جن پر گائو تکے لگائے گئے ہوں گے وہاں آرام کے ساتھ ان کو بیٹھنے ‘ لیٹنے اور آرام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور یہی ان کے لئے پہلا انعام ہوگا۔
Ayah 56:16

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

ایک دوسرے کے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

ایک دوسرے کے آمنے سامنے تکئے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے 16 ؎ یہ سب اہل جنت جو (المقربون) اور (السبقون) کے خطاب سے نوازے گیی ہیں اکٹھے ایک مجلس میں بیٹھیں گے یا اپنے محلات میں جو جنت میں ان خے لئے بنائے گئے ہیں ان میں اپنے اپنے محلات میں بیتھنے کا ذکر ہے اگر یہ بات ہے تو آمنے سامنے بیٹھنی سے مراد اہل جنت کا اپنی ازواج کے ساتھ مل کر بیٹھنے کا ذکر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے پلنگوں پر جو نہایت خوبصورت بستروں والے اور نہایت ترتیب کے ساتھ بچھائے گئے ہوں گے وہاں وہ بیٹھیں گے اور اگر یہ بیٹھنا اہل مجلس کا ہے تو بھی سب کامل کر بیٹھنا اور اللہ تعالیٰ کی حمد اور اچھی تعریف کے گیت گانا ان کا کام ہوگا وہ نہایت خوشی اور سرور کے ساتھ بیٹھے ہوں گے انہیں کسی کو بھی کوئی فکر و اندیشہ نہیں ہوگا اور جو وہ چاہیں گے ان کو پیش کیا جائے گا۔
Ayah 56:17

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہیں گے ان کے درمیان آتے جاتے ہوں گے

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہیں گے اور ان کے درمیان آئیں جائیں گے 17 ؎ نوجوان لڑکے جو پھرتی سے کام کاج کو کرسکتے ہیں اور نہایت چستی اور پھرتی سے ادھری ادھر جاتے ہیں اور خدمت کے لئے ہر وقت تیار ت ہے ہیں نہ تو وہ اتنے چھوٹے ہوں کہ کام کاج کو جلد نہ انجام دے سکیں اور نہ ہی اتنے بڑے کہ ان کا آنا جانا کسی کے لئے ناگوار گزرے ‘ جو خوبصورت بھی ہوں اور خوب سیرت بھی اور جس کام پر ان کو لگایا جائے نہایت تیزی اور پھرتی سے اس کو سرانجام دے دیں اور اتنی طاقت و قوت بھی رکھتے ہوں کہ ادھر ادھر آنے جانے میں ان کو کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے وہ لا ریب ہر طبعت کو لبھاتے ہیں اور ان کے آنے جانے سے آدمی مسرور ہوتا ہے فرمایا جنت میں یہ لر کے اہل جنت کے سامنے چیزیں لانے اور رکھنے کے لئے آئیں گے اور یہ لڑکے ایسے ہوں گے جو ہمیشہ لر کے ہی رہیں گے اور ان کی خدمت کرتے رہین گے یہ نہیں کہ وہ اب جوان ہوجائیں بلکہ ہمیشہ نوجوان ہی رہیں گے اور اہل جنت کی خدمت پر مامور رہیں گے۔ احادیث کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ لڑکے مشرکین کے نابالغ بچے ہوں گے جو نابالغ ہونے کے باعث ابھی مکلف نہیں ہوں گے کہ ان پر گرفت آئے وہ دوزخ میں نہیں جاسکتے اور والدین کے ساتھ رہنا ان کو محض اس لئی نہیں کہ وہ مشرکوں کی اولاد ہیں اب ان کو ہم عمر بنا کر اس خدمت پر مامور کردیا جائے گا تاکہ وہ جنت میں بھی رہین گے اور اہل جنت کی خدمت پر مامور رہ کر ان کے اتھ رہنے اور ان کی سنگت میں رہنے کا موقع بھی ان کو مسر آئی اور ظاہر ہے کہ گھریلو ملازم کی حیثیت اہل خانہ کے افراد ہی کی طرح ہوتی ہے۔ اس کا کھانا ‘ پینا اور رہنا سہنا ویسا ہی ہوتا ہے جو اہل خانہ کا ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ خاندان سے متعلق نہیں ہوتا بلکہ اس خدمت کے تعلق کے باعث اس کو ساتھ رہنے کا موقع میسر آجاتا ہے اور یہی حالت ان نوخیز نوجوانوں کی ہوگی جن کو پندرہ سولہ سال کی عمر عنایت کردی جائے گی اور وہ ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے اور اسی خدمت پر مامور رہیں گے۔
Ayah 56:18

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

آبخورے اور آفتابے اور پاکیزہ شراب کے پیالے (لے کر)

آب خورے اور آفتابے اور پاکیزہ شراب کے پیالے لے کر 18 ؎ (اکواب) کو زے ‘ آب کورے کو ب کی جمع جس کے معنی کو زے اور پیالے کے ہیں۔ قرآن کریم میں چار بار یہ لفظ استعمال ہوا ہے (اباریق) لوٹے اور جگ ابریق کی جم ع ہے جس کے معنی لوٹے اور جگ کے ہیں یہ آب ریز کا معرب ہے۔ کو ب اور ابریق میں فرق یہ ہے کہ کو ب کے ساتھ ہتھی نہیں ہوتی جہاں سے اس کو پکڑا جائے لیکن ابریق کے ساتھ ہتھی ہوتی ہے جہاں سے اس کو پکڑا جاتا ہے۔ اور یہی حال جگ اور لوٹے کا ہے کہ اس کے ساتھ ہتھی یعنی پکڑنے کی جگہ جس کو عربی میں ” عروہ “ کہتے ہیں پکڑنے کا سہارا اس کے ساتھ لگا ہوتا ہے جس سے لوٹے اور جگ کو پکڑا جاتا ہے۔ (کاس) مفرور مجرور۔ جام شراب ‘ شراب اور شراب سے بھرا ہوا جام اور اس جگہ مراد شراب طہور سے بھرے ہوئے جام ہی سے ہے۔ اوپر کی آیات میں جن لوگوں کو (السبقون) اور (المقربون) کے نام سے یاد کیا گیا ہے ان کو جب بغیر حساب کے جنت میں داخل کردیا جائے گا اور وہاں ان کی نشست و برخاست کا جو انتظام ہوگا اس کا ذکر کرنے کے بعد ان کی ضیافت میں جو مشروب پیش کئے جائیں گے ان کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اور اس سے پہلے پیش کرنے والے نوخیز نوجوانوں کا ذکر گزر چکا ہے جو پندرہ سولہ سال کی عمر کے ہوں گے وہ پیش کریں گے اور جن برتنوں میں پیش کریں گے اور جو مشروب پیش کریں گے اس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے اور یہ آخر میں بتا دیا گیا کہ وہ مشروب یعنی شراب طہور کہاں سے حاصل کریں گے تو اس کے لئے (معین ) کا لفظ وضاحت پیش کرتا ہے یعنی وہ شراب طہور وہ ہوگی جس کی جنت میں نہریں بہہ رہی ہوں گی کیونکہ (معین) صیغہ صفت بروزن فعیل جس کے معنی جاری ہونے کے ہیں یعنی ان جگوں ‘ لوٹوں ‘ آبخوروں اور پیالوں میں جو بھرا ہوگا وہ شراب طہور ہوگی جس کی نہریں بہشت میں جاری ہیں اور دوسری جگہ اس کی وضاحت کردی گئی کہ شراب طہور اس لئے کہ اس کو پینے والوں کی عقل خطا نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کے پینے والے کوئی غل غپاڑہ کریں گے بلکہ یہ پینے والے محض لذت حاصل کریں گے۔ وضاحت آگے آرہی ہے۔
Ayah 56:19

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

(جس سے) نہ درد سر ہوگا اور نہ عقل ہی میں فتور آئے گا

جس سے نہ تو سردرد ہوگا اور نہ ہی عقل میں فتور آئے گا 19 ؎ (یصدعون) جمع مذکر غائیب مضارع مجہول اس جگہ نفی کا صیغہ ہے تصدیع مصدر (لا یصدعون ) یعنی ان کو دوران سر نہ ہوگا۔ ان کی سر نہیں چکرائیں گے۔ دراصل شراب پینے والوں کو جب عادت بن جاتی ہے تو ان کے سر پھٹنے لگتے ہیں اور وہ بےچین ہوجاتے ہیں اس لئے مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس کو پئیں اور اس طرح کرتے کرتے اگر ان کو کسی وقت میسر نہ آئی تو وہ گویا درد سر سے پاگل ہونے کو ہوتے ہیں۔ فرمایا یہ شراب مہض نام کے لحاظ سے ہے اس سے پینے والوں کو درد سر نہیں ہوگا اور نہ طبیعت ان کو مجبور کرے گی۔ (ینزفون) بھی جمع مذکر غائب مضارع مجہول نفی کا صیغہ ہے یعنی ان کی عقلوں میں کسی قسم کا فتور نہیں آئے گا جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے کہ پینے والا پی کر عقل و فکر کھو دیتا ہے اور غل غپاڑا شروع کردیتا ہے لیکن آخرت کی شراب سے مدہوشی کی حالت بھی نہیں ہوگی کیونکہ وہ مشروب ہوگا نہ کہ پھلوں اور دانوں کا شرا ہوا متعفن پانی۔ مزید وضاحت کے لئے غزوہ الوثقیٰ جلد ہفتم سورة الصافات کی آیت 47 جلد ہذا سورة محمد کی آیت 15 سورة الطور کی آیت 23 کا ترجمہ اور تفسیر دیکھیں۔
Ayah 56:20

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوے جو وہ پسند کریں گے (پیش کیے جائیں گے)

اور میوے جو وہ پسند کریں گے ان کے سامنے پیش کئے جائیں گے 20 ؎ (یتخیرون) کی اصل خ ی ر ہے جمع مذکر غائب مضارع تخیر مصدر (تفعل ) وہ پسند کریں گے۔ (فاکھۃ) ہر قسم کا میوہ ہے اور پھل جیسے انگور ‘ انار ‘ سنگترہ ‘ انجیر ‘ گولر ‘ بہی ‘ آلو بکارا ‘ آلو چا ‘ لیچی ‘ لوکاٹ ‘ آڑو ‘ سیب ‘ ناشپاتی ‘ چوٹا ‘ کیلا ‘ امرود ‘ توت ‘ شتوت ‘ آم ‘ کھٹل ‘ پیپتا ‘ خوبانی ‘ فالسہ ‘ جامن ‘ بیر ‘ لسوڑا ‘ گوندی ‘ عناب ‘ پستہ ‘ چلغوزہ ‘ ناریل ‘ کھوپرا ‘ کھرنی ‘ اخروٹ ‘ چلغوزہ ‘ رس بھری ‘ شاہ بلوط ‘ لیمون ‘ نارنگی ‘ کتھا ‘ گل گل ‘ میٹھا ‘ کھٹا ‘ مالٹا ‘ مسمی ‘ کینو ریڈ بلڈ ‘ خربوزہ ‘ تربوز اور ککڑی وغیرہ سب کے سب پھلوں میں داخل ہیں اور (فاکھۃ) اسم فاعل کا صیغہ ہے بروزن فاعل اور تاء آخر میں مبالغہ کی ہے یہ ظریف اور ہنس ہن کر باتیں کرنے والے کو کہتے ہیں یعنی بہت زیادہ ہنس مکھ ‘ ظریف ‘ دوستوں سے ہنسی کرنے والے اور خوب ٹھٹھے لگانے والے۔ (قاموس) لیکن اس جگہ مراد پھل اور میوے بھی ہوسکتے ہیں جن کو وہ مقربین پسند کریں گے اور جن کی خواہش و اشتہاء ان کو پیدا ہوگی وہ فوراً ان کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے اور پیش کرنے والوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی پھل کا خیال کرتے ہی وہ ان کے سامنے آجائے گا اور ان کو توڑنے کی زحمت بھی نہیں کرنا پڑے گی۔
Ayah 56:21

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جس کی وہ خواہش کریں گے

اور پرندوں کا گوشت جس کی وہ خواہش کریں گے 21 ؎ پرندوں کا گوشت انسان کے لئے ایک مرغوب غذا ہے اور خصوصاً تیتر ‘ بٹیر ‘ مرغابی ‘ سفید بگلہ ‘ فاختہ اور کئی قسم کی چڑیاں بہت پسند کی جاتی ہیں اور یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے کہ ہر پرندے کا گوشت ان کو مہیا کیا جائے گا جس کی ان کو اشتہا ہوگی یعنی جس کو وہ پسند کریں گے اور چاہیں گے۔
Ayah 56:22

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور حوریں کشادہ آنکھوں والی

اور حوریں کشادہ آنکھوں والی ان کی معیت میں ہوں گی 22 ؎ (حور) کے متعلق ہم پیچھے بیان کرچکے ہیں کہ وہ انسان کی اپنی ہی جنس کی عورتیں ہوں گی۔ نہ کہ کوئی نوری مخلوق جیسا کہ اکثر سمجھا گیا ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے سورة الطور کی آیت 20 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں اور سورة الرحمن کی آیت 72 میں بھی اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
Ayah 56:23

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے پوشیدہ رکھے ہوئے موتی ہوں

جیسے پوشیدہ رکھے ہوئے موتی ہوں 23 ؎ (حورعین) کو تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ عورتیں کیا ہیں ؟ ایسے لگتا ہے کہ گویا حسین موتی ہیں جو کہیں چھپا کر رکھے گئے ہیں۔ (لو لو) کی وضاحت ہم پیچھے سورة رحمن کی آیت 22 کی تفسیر میں کرچکے ہیں اور (مکنون) اسم مفعول واحد مذکر ہے اور (کنون) مصدر باب (نصر) چھپا ہوا۔ صاف ‘ محفوظ (کنان ‘ تکنین) دھوپ کی تیزی سے بچانا (کنان) لباس ‘ ہرچیز کا پردہ۔ زیر نظر آیت میں معنی محفوظ اور چھپا کر رکھنے کے ہیں جو خوبصورت کے اظہار کی خاطر بیان ہوئے ہیں۔
Ayah 56:24

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ اجر ہوگا ان کے (نیک) اعمال کا

یہ اجر ہوگا ان کے نیک اعمال کا 24 ؎ مقربین کو جنت میں جو کچھ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان کو ان کے اعمال کے عوض میں پیش کیا جائے گا اس لئے ہم قبل ازیں اس کی کتنی بار وضاحت کرچکے ہیں کہ جنت اور دوزخ انسان کے اپنے اعمال کے نتائج کا نام ہے اور جیسا کرو گے ویس ابھرو گے محاورہ عام ہے اور اس طرح کہ اجاتا ہے کہ جو بیجو گے وہ کاٹو گے مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جیسے اعمال انسنا کرے گا ویسا ہی اس کا نتیجہ قیامت کے روز اس کے سامنے آجائے گا۔ کیونکہ ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ وابستہ کردیا گیا ہے۔
Ayah 56:25

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

اس (جنت) میں نہ وہ فضول بکواس سنیں گے اور نہ ہی گناہ کی باتیں

اس میں نہ وہ فضول بکواس سنیں گے اور نہ ہی گناہ کی باتیں 25 ؎ گزشتہ آیات میں جنت کی جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں وہی چیزیں بیان کی گئی ہیں جو اس دنیاوی زندگی میں انسان کے لئے مرغوب بنائی گئی ہیں اور ہر انسان کے دل میں ان کی چاہت موجود ہے لیکن جن لوگوں کو اس دنیا میں وہ فراوانی سے میسر ہیں اور وہ ان کو استعمال کرتے ہیں ان کی زندگیاں پاکیزہ نہیں بلکہ ان کی زندگیوں میں شور و غوغا اور شر و فساد زیادہ پایا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان چیزوں کی فراوانی ہو تو شاید شرو فساد لازم و ضروری ہے کیونکہ انسان جب کھانے پینے اور پہننے میں آزاد ہو اور اس کو ہر طرح کی سہولت فراہم ہو تو وہ جو گل کھلاتا ہے وہ سب کے سامنے ہیں اور ان ساری چیزوں کی فراوانی کا بیان کیا گیا ہے مثلاً یہ کہ اہل جنت نہایت سرور کے ساتھ بہترین پلنگوں پر بیٹھیں گے ‘ وہ پلنگ بہترین بستروں اور تکیوں اور گدوں کے ساتھ بچھائے گیی ہوں گے۔ کھانے پطینے کی فراوانی ہوگی ‘ گوشت اور وہ بھی پرندوں کا ان کو پیش کیا جائے گا اور شراب کا دور بھی چلے گا اور پھل اور مویوں کی بھی بہتات ہوگی اور جس پھل اور میوہ کا وہ تصور کریں گے ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور پیش کرنے والے مسیں بھیگے نوجوان اور امرد لڑکے ہوں گے جو خدمت پر متعین کئے جائیں گے اور وہا ان جنتیوں کے پاس ہم عمر کنواریاں عورتیں بھی ہوں گی جن کی خوبصورتی معروف ہوگی ان ساری باتوں کا تصور انسان کو اس دنیوی زندگی میں جس طرف کی راہنمائی کرتا ہے وہ ظاہر ہے اور معروف ہے اس لئے کہا جا رہا ہے کہ سامعین اور قارئین ان باتوں کو پڑھ کر ‘ سمجھ کر کوئی غلط تصور قائم نہ کریں یہ دنیوی زندگی نہیں بلکہ آخروی زندگی کی بات ہے جس میں کسی برائی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے بلکہ وہاں کی زندگی بالکل پاکیزہ اور معصوم ہوگی وہاں کوئی بیہودہ بات اور گناہ کا کام نہیں کیا جائے گا کیونکہ بیہودہ باتیں اور گناہ کے کام کی طاقت و قوت ہی وہاں اہل جنت میں موجود نہیں ہوگی اور یہ جو کچھ پیش کرنے کو کہا گیا ہے یہ محض نام ہوں گے ان کے اندر یہ خاصیت نہ ہوگی کہ کوئی انسان ان چیزوں کو استعمال کر کے کسی طرح کی خرسمتی کرے اور اس سے کوئی گناہ سرزد ہو وہ زندگی ایک معصومیت کی زندگی ہوگی جس میں گناہ کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہوگا نہ تو وہاں کوئی لغو بات ہوگی اور نہ اس طرح کی کوئی لغو بات کسی طرف سے سنی جائے گی۔ لاریب یہ بھی جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہوگی کہ انسان کے کان وہاں بیہودگی ‘ یا وہ گوئی ‘ جھوٹ ‘ غیبت ‘ چغل ‘ بہتان ‘ گالی گلوچ ‘ لاف و گزاف ‘ طنز و تمسخر اور طعن و تیعسر ‘ بد زبانی اور بدتمیزی کی کوئی بات نہیں سنے گا اور نہ ہی ان رذائل کا صدور وہاں کسی سے ہوگا۔ رذائل وہ اخلاق ذمیمہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی لوگوں سے ان کا صدور ناپسند کرتا ہی اور ان سے بچنے کا حکم اسنے دیا ہے اور اسکی خاص بندے جن کا ذکر اس جگہ کیا جارہاے وہ اس دنیا میں بھی ان سے بچتے ہیں اور ان کا صلہ ان کو جنت کی صورت بھی دیا گیا ہے اور وہاں ان رذائل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔
Ayah 56:26

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

بس ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آئے گی

پس ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز وہاں آئے گی 26 ؎ وہاں جنت میں ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو آنے جانی والے وہاں منہ اٹھا کر چلے نہیں آئیں گے بلکہ اجازت طلب کریں گے ‘ سلام علیکم کی خوشخبری کی ساتھ ایک دوسرے کو ملین گے اور دوسری بات یہ ہے کہ ان میں جو گفتگو ہوگی اس میں کسی طرح کی کوئی معیوب بات نہیں ہوگی بلکہ پاک اور منزہ موضوع پر گفتگو ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کے گیت گائیں گے۔
Ayah 56:27

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے (طرف) والے کیا کہنا ہے ان دا ہنی (طرف) والوں کا

اور داہنی طرف والے بس کیا کہنا ہے ان داہنی طرف والوں کا 27 ؎ (اصحاب الیمین) وہی ہیں جو پیچھے (اصحاب الیمین) کے تحت ذکر کئے گئے ہیں دائیں طرف والے وہی ہیں وار ان کو دائیں طرف والے کیوں کہا گیا ہے اس کی وضاحت پیچھے آیت 8 ‘ 9 میں کی جا چکی ہے۔ زیر نظر آیت سے ان پر کی جانے والی نوازشات کا ذکر شروع ہو رہا ہے اور زیر نظر آیت سے لے کر آیت 40 تک مسلسل ان کا ذکر چلا گیا ہے۔ یہ وہ پاک باطن لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی متقی اور پرہیزگار رہ کر گزاری اور آخرت میں ان کے ساتھ ان مسلمانوں کو بھی شامل کر دیاجائے گا جن کے اسلام لانے میں تو کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہوگا لیکن ان سے مختلف غلطیاں سرزد ہوئی ہوں گی اور اب خواہ ان کی غلطیاں اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور خواہ ان کو سزا دے کر ان غلطیوں سے پاک و صاف کر دے بہرحال دونوں طرح سے وہ اہل جنت قرار پائیں گے اور ان انعامات کے مستحق ٹھہریں گے جن کا ذکر آ رہا ہے۔
Ayah 56:28

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

بےخار بیریوں میں (ہوں گے)

وہ بےخار بیریوں میں ہوں گے 28 ؎ (سدر) بیری کے درخت کو کہتے ہیں اور بیری کا درخت معروف درخت ہے اور یہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک اصل بیری اور دوسرا پیوند لگایا گیا ج کے بیروں میں کافی مواد موجود ہوتا ہے اور اس کا پھل بھی بہت بڑا ہوجاتا ہے اور پھر اس جنت کے درخت کی خاص علامت بھی بتائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پر کانٹے نہیں ہوں گے اور پیوند کاری سے جو درخت تیار کئے جاتے ہیں ان پر کانٹے فی الواقع نہیں ہوتے اور ان کا پھل بھی بہت بڑا ہوتا ہے ممکن ہے کہ یہ تشبیہہ ان پیوند لگائے گئے درختوں سے دی گئی ہو۔ بہرحال (سدر وہ درخت ہے جو کھانے میں ناکافی ہوتا ہے کیونکہ اس پر کھانے کی چیز بہت کم مقدار میں ہوتی ہے اور (سدر) جمع ہے سدرۃ کی اور آج کل جو پیوند کاری سے درخت تیار کئے جاتے ہیں یہ بہت گھنے ہوتے ہیں اور ان کا سایہ بھی بہت گھنا ہوتا ہے اور پھل بھی کثرت سے لگتا ہے اور کھانے میں وہ کفایت کرتا ہے۔ امام راغب (رح) نے جو تشریح کی ہے وہ آج کل کے حالات کے مطابق صحیح نہیں اگرچہ اس وقت وہ کھانے میں ناکافی ہوگا لیکن جدید دور کی بیریوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کا پھل اور سایہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں ! جن بیریوں کا ذکر سورة سبا کی آیت 16 میں ہے وہ جھاڑیوں کی مانند ایک چیز ہے جو اب بھی جنگلوں میں موجود ہے اور اس کا پھل ان بیریوں کے پھل سے ملتا جلتا ہے مگر وہ بیریوں کی نسبت بےکار ہوتا ہے لیکن ان جنت کی بیریوں کے پھل کے ساتھ (مخضود) کا لفظ ایسا ہے جو سورة سبا کی 0 سدر) کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ (اثل) کا لفظ آیا ہے جو جھاڑیوں اور جھائو پر بولا جاتا ہے۔ ہاں ! پھل کی نسبت سے اس کو 0 سدر) کہا گیا ہے اس لئے ہر بیری کا پھل ناکارہ چیز نہیں ہے۔
Ayah 56:29

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بہ تہ کیلوں میں

اور تہ در تہ کیلوں میں ہوں گے 29 ؎ (طلع) موز یعنی کیلا ہے اور ) (طلع) کھجور کے پھل کو بھی کہتے ہیں اور اس پھل یعنی کیلے کی صفت منضود بیان کی گئی ہے جس کے معنی تہ بہ تہ کے ہیں گویا کیلے کا پھل جن کو ہماری زبان میں لنگر کے نام سے یاد کی اجاتا ہے جتنا پھل قریب ہو اور بہت گھتا ہوا ہوا اتنا ہی لذیذ اور مزہ دار ہوتا ہے اور جب وہ پک کر تیار ہوتا ہے تو اس کا مزہ بہت سی خوب ہوتا ہے اور خوشبو بھی بہت ہی پیاری لگتی ہے اس لئے اس کی صفت میں منضود کا لفظ بھی بیان کیا گیا ہے جو اس کیلے کے خوشہ کی گویا صفت ہے جو اس کے خوب سے خوب تر ہونے کے لئے بیان کی گئی ہے۔
Ayah 56:30

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے لمبے سایوں میں

اور یہ لوگ لمبے لمبے سایوں میں ہوں گے 30 ؎ عرب جیسے ملک میں جو بہت گرم ملک ہے اور جہاں سایہ دار درخت بہت کم ہوتے ہیں اور اگر ہوتے بھی ہیں تو وہ پہاڑی علاقہ کی وجہ سے جھاڑیاں اور جھائو کی مانند ہی ہوتے ہیں وہاں گھنے اور لمبے سایہ کا تصور بہت خوبصورت تصور ہے اور جو سایہ بہت دور تک پھیلا ہو ہو اس کی افادیت اور خوبصورتی بہت ہی طبیعت کو بھاتی ہے اور فطری چیز ہے کہ جچیز کی جہاں کمی ہو وہاں اس کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں جہاں اس چیز کی بہتات ہو اس کی قدر و قیمت بھی بہت کم ہوتی ہے اور اس وقت عرب کے ان علاقوں میں بھی بڑے بڑے سایہ دار درخت لگوائے جا رہی ہیں جہاں آج سے پہلے کبھی تصور بھی ان کا نہیں کیا جاسکتا تھا اور بہت محنت سے ان کی پرورش کی جا رہی ہے اور اس وقت تقریباً ان کوششوں میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی نظر آ رہے ہیں لیکن اب بھی سایہ دار درختوں کا تصور وہاں کی سرزمین کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے اور جنت کی سائے تو بہرحال وہاں کی ساری چیزوں کی طرح کبھی ختم نہیں ہوں گے کیونکہ ج طرح یہاں کی ہرچیز فانی ہے وہاں کی ہرچیز کو دوام ہے خواہ اس کا ذکر کیا جائے یا نہ کی اجائے اور یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ جس طرح دنیا کی ہرچیز کا لطف اور مزہ موت سے ہوتا ہے اسی طرح آخرت کی ہرچیز کا لطف اور مزہ دوام سے ہے یہاں اگر موت نہ ہوتی تو زندگی کا کوئی لطف نہ ہوتا اور وہاں اس کا بالکل عکس ہے اس لئے دنیا دنیا ہے اور آخرت بہرحال آخرت ہی ہے اور دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ضدین کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔
Ayah 56:31

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور گرائے جانے والے پانیوں پر

اور یہ لوگ گرائے جانے والے پانیوں پر ہوں گے 31 ؎ (مسکوب) اسم مفعول واحد مذکر مجرور سکب مصدر بہتا ہوا جاری پانی۔ سکب سکوب ‘ سکاب پانی کا بہنا ‘ پانی کا برسنا اور خصوصاً بڑی بڑی بوندوں کے ساتھ برسنا اور پیہم برنس اور موٹے قطروں کی بارش وغیرہ کبھی آپ کو کسی ایسے علاقہ کی طرف جانے کا اتفاق ہوا ہو جہاں پہاری علاقوں میں قدرتی چشمے بہتے ہوں اور خصوصاً جس جگہ وہ فراز سے نسیب کو گر رہے ہوں وہاں کا منظر کتنا پیارا ظر آتا ہے اور خصوصاً جب گرمی عروج پر ہو اور چشمنوں کا پانی نہایت ٹھنڈا اور یخ ہو اس کے کے چھینٹے کتنا سہانا منظر پیش کرتے ہیں کہ ہرگز رنے والے مسافر کا خواہ مخواہ جی چاہتا ہے کہ یہاں رک جائوں اور تھوڑی دیر کے لئی اس گرتے پانی کے منظر کو دیکھوں اور محظوظ ہوں اور یہ مفت کا لطف اٹھانے کے لئے فطری طور پر انسان مجبور ہوجاتا ہے اور پھر عرب جیسے سخت گرم ملک میں جہاں کی گرمی اور لو بھون کر رکھ دیتی ہے ایسی قدرتی ٹھنڈک اگر میسر آجائے جو کھلی فضا کے اندر موجود ہو تو اس چسمہ کے گرتے ہوئے پانی کے لطف کو دوبالا سہ بالر کر دے گا۔ اس لئے زیر نظر آیت میں اہل جنت کے انعامات میں سے یہ انعام بھی رکھا گیا ہے کہ چسمہ کے گرتے ہوئے پانی کی بوندا باندی میں کھڑے ہو کر لطف اندوز ہوں گے اور ان پانیوں کے گرتے منظر کو بھی یقینا دوام حاصل ہوگا اور چشمے کبھی خشک ہونے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی موسم میں کوئی رد و بدل ہوگا۔
Ayah 56:32

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور بہت سے پھلوں میں ہوں گے

اور وہ بہت سے پھلوں میں ہوں گے 32 ؎ یہ لوگ جن کا ذکر خیر اس جگہ جاری ہے یہ وہ لوگ ہیں جو (اصحاب الیمین) کہلاتے ہیں اگرچہ (مقربون) اور (سابقون) سے یہ لوگ درجہ میں کم ہوں گے لیکن ان کا کم درجہ بھی دنیا کے اونچے سے اونچے درجوں سے بھی بہت بلند ہوگا کہ اس کا تصو ربھی اس دنیا میں رہ کر مشکل ہے زیر نظر آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ پھلوں کی بہتات میں ہوں گے یعنی ایس انہیں ہوگا کہ وہاں موسم کے لحاظ سے ان کو پھل پیش ہوں گے بلکہ ہقیقت یہ ہے کہ نہ تو موسم ہی میں کوئی تبدیلی آئے گی اور نہ پھلوں میں کوئی کمی بیشی ہوگی کہ ایک وقت میں ایک پھل ملتا ہے لیکن کسی دوسرے موسم میں وہ نہیں ملتا۔ قرآن کریم نے دوام کا تصور پیش کیا کہ تر و تازہ پھل ملیں گے اور بغیر موسم کے پھل ملیں گے اور اس وقت آہستہ آہستہ یہ بات مشاہدہ میں آرہی ہے کہ موسم میں بھی تغیر و تبدل ہو رہا ہے اور پھلوں میں بھی کہ پہلے کی نسبت ان کا زمانہ تقریباً دوگنا سے بھی زیادہ ہوچکا ہے اور لوگ کچھ کہیں بہرحال یہ تصور قرآن کریم ہی نے پیش کیا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو چند سالوں اندر تقریباً ہر پھل پورا سال مہیا ہوا کریں گے اور یہ بات مشاہدہ میں آجائے گی کہ جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے وہ سوفیصد صحیح ثابت ہوا اور قران کریم کی جتنی پیش گوئیاں ہیں وہ پوری ہوتی چلی آرہی ہیں جو اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ قیامت کی پیش گوئی بھی یقینا پوری ہو کر رہے گی۔
Ayah 56:33

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جس کی فصل نہ ختم ہوگی اور نہ ہی (ان کے لیے کوئی روک ٹوک ہو گی

جو پھل نہ تو کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان کے حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ ہو گی 33 ؎ (مقطوعۃ) اسم مفعول اور مونث قطع مصدر۔ قطع کردہ جن کا سلسلہ عطا کاٹ دیا گیا ہو اور ختم کردیا گیا ہو نفی کا صیغہ ہے یعنی وہ پھل جو (اصحاب الیمین) کے لئے تیار کئے گئے ہیں وہ کبھی مقطوع یعنی ختم نہیں ہوں گے نہ ہی اہل جنت کو ان کو کھانے اور حاصل کرنے کی کبھی ممانعت ہوگی کہ ان کو روک دیا جائے کہ اب تم ان کو استعمال نہیں کرسکتے نہ روزوں کی طرح جزوی طور پر اور نہ ابدی طور پر بلکہ عام اجازت ہوگی کہ وہ جب چاہیں اور مہیا کرانا چاہیں ان کو یقینا ملے گا ہاں ! کسی پھل کے کھانے اور استعمال کرنے پر ان کو مجبور نہیں کی اجائے گا وہ بخوشی جو چاہیں گے وہ اپنی سامنے موجود پائیں گے۔ یہ بات تو سارے اہل جنت کی لئے یکساں ہے یہی وجہ ہے کہ یہ پیچھے مقربین کے لئے بھی اسی طرح بیان کی گئی ہے اور یہاں (اصحاب الیمین) کے لئے بھی۔
Ayah 56:34

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے فرش ہوں گے

ان کے لئے اونچے فرش ہوں گے 34 ؎ (فرش) جمع ہے فراش بچھی ہوئی چیز کو کہا جاتا ہے۔ (مرفوعۃ) اس مفعول واحد مونث مجرور اور مرفوع۔ اونچے یا عالی مرتبہ یعنی ان کے لئے جو بستر بچھائے جائیں گے وہ عالی مرتبہ ہوں گے اور اونچے اونچے پلنگوں پر بچھائے جائیں گے تاکہ اہل جنت پائوں لٹکا کر نہ بیٹھیں بلکہ پائوں ان پلنگوں کے اوپر رکھیں اور آرام سے بیٹھیں گویا ان کے بستر زمین سے اوپر بھی ہوں گے اور نہایت خوبصورت بستروں سے سجے ہوئے بھی تاکہ (اصحاب الیمین) نہایت آرام و سکون کی ساتھ بیٹھ سکیں اور وہ بہت ہی پر تکلف ہوں گے لیکن استعمال کرنے والوں کے لئے نہایت آرام دہ کہ ان کا نام سن کر ہی آدمی لطف اندوز ہوجائے بلاشبہ کانوں اور دلوں کا لطف تو اسی سے حاصل ہو رہا ہے لیکن زبان کا لطف پھل کھانے اور آنکھ کا لطف ان پھلوں کو دیکھنے ہی سے حاصل ہوگا۔
Ayah 56:35

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

بلاشبہ (ان کے لیے ایک خاص طرح کی) عورتیں پیدا کی ہوں گی

بلاشبہ ان کے لئے ہم نے خاص طرح کی عورتیں پیدا کی ہیں 35 ؎ (انشانھن) ہم نے ان عورتوں کو پیدا کیا ہے اور ہم نے ان کی پرورش کی ہے۔ ھن ضمیر جمع مونث غائب ہے۔ انشاء پیدا کرنا ‘ پرورش کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جہاں اہل جنت کے لئے ان کے کھانے پینے ‘ بیٹھنے ‘ لیٹنے اور نشست و برخاست کا بندوبست جنت میں کردیا ہے اسی طرح ان کی لئے ایسی عورتیں بھی پیدا کردی ہیں جو بلاسبہ ان کے سکون کا باعچ ہوں گی اور اہل جنت کو جہاں دوسرے انعامات عطا کئے جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی اس عطاء سے بھی محروم نہیں رہیں گے اور یہ بھی کہ وہ عورتیں دنیا کی عورتوں کی طرح نفسانی خواہش کے ازالہ کے لئے نہیں بلکہ زندگی میں ایک پر لطف ماحول کو دوبالا کرنے کے لئے ایک دوسرے کے لئے باعث سکون ہوں گے جو یک جان دو قالب ہوں گے ‘ جو کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے کیونکہ الگ کردینے کی آلائش ان کے ساتھ نہیں ہوگی۔