58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! (آداب مجلس کو اچھی طرح سمجھ لو اور) جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھا کرو اللہ تم کو کشادگی عطا فرمائے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو کھڑے ہوجایا کرو اور اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جن کو علم عطا کیا گیا ہے درجات بلند کرے گا اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو

ایمان والوں کی ایمانی زندگی کو پاک و صاف کرنے والی باتوں کی تلقین 11 ؎ ( اذا قیل لکمم تفتسحوا) جب تم سے کہا جائے کہ کشادہ ہو جائو ۔ یہ اس آخری صورت حال کا ذکر کیا گیا ہے حالانکہ اصل اول تو یہ ہے کہ جب ایک حلقہ میں چند لوگ بیٹھے ہوں تو کوئی آدمی آجائے اور حلقہ میں جگہ خالی نہ ہو تو حلقہ میں مل کر بیٹھنے والے خود بخود حلقہ کو اتنا کھول دیں کہ حلقہ میں اس آدمی کی گنجائش پیدا ہوجائے لیکن فرض کیا کہ بیٹھنے والوں میں سے کسی کو اس کا خیال نہیں آیا اور میر مجلس نے کہہ دیا کہ بھائی ذرا ذرا کشادہ ہو جائو تاکہ آنے والے کی حلقہ میں گنجائش پیدا ہوجائے تو ضروری ہے کہ مجلس میں بٹھنے والے کشادہ ہوجائیں اور گنجائش پیدا ہوجائے تاکہ وہ مجلس کے آداب کے مطابق مجلس میں شریک ہوجائے۔ ہاں ! جگہ کی گنجائش نہ ہو تو پہلے حلقے کے بعد دوسرا حلقہ شروع کردیں اور دوسرے حلقہ میں لوگ بیٹھنا شروع کردیں تو اس کی ممانعت ہے تا ہم اس میں ترتیب کے ساتھ بیٹھنے کی تلقین کی گئی ہے جس کا خیال نہایت ضروری ہے ( تفسحوا) کا اصل مادہس ح ہے جس کے معیھ میں تم کشادگی کرو۔ تم کھل کر بیٹھو ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ (فافسحوا) پس کھل جایا کرو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اس وسعت کا تم کا اجر عطا کرے گا اور تم دنیا میں بلند اخلاق ہو جائو گے۔ اس طرح گویا اس آیت میں یہ ایک حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو اس کی ہدایت کریں اور اس طرح یہ حکم عام ہے بیٹھنے والے خواہ کون کون ہوں اور آنے والے خواہ کون ہو اس میں کسی اونچ نیچ کا خیال کرنا جائز نہیں ہے اور اس آیت میں دوسرا حکم یہ دیا جا رہا ہے کہ اگر تم کہا جائے کہ ( انشزوا) تم اٹھ کھڑے ہو اور اس کا اصل مادہ ن ش ز ہے اور نشز کے معنی اٹھ کھڑے ہونے کے ہیں ۔ امر کا صیغہ جمع ذکر حاضر ۔ نشوزا زیادتی اور ناموافقت کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ عورت کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت خاوند کی نافرمان ہے اور اس کو دل سے نہیں چاہتی اور مرد کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے نفرت کرتا ہے اور اس کو دل سے نہیں چاہتا اور اس سے دوری کو پسند کرتا ہے اور اس کے قریب نہیں جاتا ۔ زیر نظر آیت میں حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی مصلحت کے تحت تم کو مجلس برخاست کرنے کا کہا جائے تو اٹھ کھڑے ہونے میں زیادہ دیر نہ لگائو اور نہ دل کے اندر کسی طرح کی کوئی کدورت رکھ لو کہ ہم اٹھ جانے کا کیوں کہا گیا ۔ جس طرح قبل ازیں کھل جانے کے معاملہ میں آخری صورت کا ذکر کیا گیا تھا اسی طرح زیر نظم حکم میں بھی آخری صورت حال کا ذکر فرمایا گیا کہ تم کو کہا جائے کہ اٹھ جائو حالانکہ جس مقصد کے لیے انسان بیٹھے جب وہ حاصل ہوجائے تو خود بخود ہی وہاں سے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور زیادہ دیر تک وہاں بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر اس بات کا خیال نہ رکھا گیا تو آخری صورت یہ ہے کہ اگر صاحب خانہ ، صاحب مجلس کسی کو کہہ دیں یا کسی وقت کہہ دیں تو ان کے اس طرح کہنے کو برا مت جانو بلکہ اس بات کو محسوس کرو کہ ہم نے غلطی کی کہ خواہ مخواہ اور فضول اہل خانہ یا میر مجلس کو تکلیف دی جس کا ہمیں حق نہ تھا۔ بلا شبہ اس طرح تمہارے درجات بلند ہوں گے اور آداب مجلس کا یہ خیال تمہارا مرتبہ مزید بلند کر دے گا ۔ فرمایا گیا ہے کہ بلند خیال اور بلند مقال لوگ ان ہی باتوں سے پہچانے جاتے ہیں اور علم و حلم کے لوگوں کی اس سے شناخت ہوجاتی ہے اور آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ تم جس طرح عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے اور تمہاری کوئی بات اور کوئی حرکت اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس معاملہ میں احادیث میں بھی اس طرح کے احکام دیئے گئے ہیں ۔ (1) ( عن ابن عمر ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لا یقیمن احد کم رجل من مجلسہ ثم یجلس فیہ ولکن تفسحوا وتوسعوا یفسح اللہ لکم وکان ابن عمر ؓ اذا قام لہ رجل من مجلسہ لم یجلس فیہ) صحیح بخاری و صحیح مسلم) ” عبد اللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجلس سے کسی ایک شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ تم میں سے کوئی شخص مت بیٹھے لیکن کھل کر بیٹھا کرو اور فراخ ہوجایا کرو ۔ اللہ تعالیٰ تم کو جنت میں فراخ جگہ دے گا اور ابن عمر ؓ کا اپنا معمول نہ تھا کہ اگر کوئی شخص آپ کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوتا اور اپنی جگہ بیٹھنے کا کہتا تو بھی آپ ایسا نہ کرتے اور نہ ہی اس کی جگہ بیٹھتے تھے۔ (2) ( عن وھب ابن حذیفۃ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ اذا خرج الرجل لحاجنہ ثم عاد فھوا حق بمجلسہ) (ترمذی) ” وہب بن حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی کسی ضرورت کے لیے مجلس سے اٹھے اور اس کی ضرورت پوری کرنے کے بعد واپس لوٹنا ہو تو اس کی جگہ کوئی دوسرانہ بیٹھے اس لیے کہ اس جگہ کا وہ حق دار ہے کہ وہی اس جگہ آ بیٹھے “۔ (3) ( عن جابر بن سمرۃ ؓ قان کنا اذا اتینا النبی ﷺ مجلس احدنا حیث ینتھی) (ابو دائود) ” جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم جب نبی کریم ﷺ کی مجلس میں آتے تو جس شخص کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا “ مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ ایک مجلس میں جہاں بیٹھ گئے وہ جگہ اس مجلس میں بھنے کے لیے تو اس کو حق ہے لیکن جب مجلس برخاست ہوگئی اور دوبارہ کسی نشست میں بیٹھے یا دوبارہ کبھی پھر بیٹھتے تو اس کے لیے یہ جگہ مخصوص نہ ہوگی بلکہ جب کوئی آئے گا تو جس طرح جس جگہ اس کو جگہ ملی وہ بیٹھے گا گویا مسجد میں یا کسی دوسری جگہ جہاں روزانہ مجلس ہوتی ہو وہاں کسی ایک آدمی کے لیے مخصوص سیٹ نہیں رکھی جاسکتی اور نہ ہی اس کا حکم دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ جس شخص کی مجلس میں بیٹھنے کے لیے دوسروں کو حاضر ہونا ہے اس کی نشست مخصوص کرنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ یہ ضروری ہے کہ اس کے لیے ایک مخصوص نشست موجود ہوتا کہ وہ جب آئے تو وہاں بیٹھ جائے اور یہ بھی خیال رہے کہ مجالس کی اقسام الگ الگ ہیں اور ہر مجلس کے لیے آداب بھی الگ الگ ہیں لیکن قرآن کریم میں وہی آداب بتائے گئے ہیں جو ہر جگہ اور ہر نشست کے لیے ایک ہی طرح سے جائز اور درست ہیں ۔ دوسرے آداب ان ہی سے استنباط کرلیے گئے ہیں جن کی تفصیل آداب کی کتب میں مل جائے گی اور یہ بھی خیال رہے کہ جب آداب کا ذکر کتاب و سنت میں کیا گیا ہے ان کی خلاف ورزی کسی حال بھی جائز اور درست نہیں اور ان کا خلاف مستوجب سزا ہے اور ان آداب مجلس کا تعلق بھی اس (نجوی) سے ہے جس کا اصل ذکر اس جگہ ہو رہا ہے۔ زیر نظر آیت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ میر مجلس کسی کو مجلس سے اٹھ کر دوسری جگہ آنے کا حکم دے سکتا ہے اور ضرورت ہو تو یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں صاحب مجلس سے اٹھ کر باہر تشریف لے آئیں ، اس میں کوئی مصلحت ہوگی اگر کہیں ایسا معاملہ ہوجائے تو جس کو بلایا گیا ہے یا جس سے کچھ کہا گیا ہے اس کو میر مجلس کی ہدایت کے مطابق عمل کرنا ہوگا اور اس مصلحت کو میر مجلس ہی سمجھتا ہے اور یہ اسی کی ذمہ داری ہے۔ ایک طرف یہ ہدایات ہیں جو اسلام نے دی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں ہے اور ایک طرف ہماری پارلمنٹ اور کونسلیں ہیں ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کا حال ہے ، جو کچھ وہاں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے لوگ کرتے ہیں وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ایک گھوڑوں کے اصطبل ، گدھوں کے توبیلے اور اونٹوں کے باڑے میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لو اور فلہوڑ آپ ہی پر رہا کہ ان میں نمبر ایک پر کون ہے اور دو پر کون ؟ استغفر اللہ ، استغفر اللہ لا حول ولا وۃ الا باللہ۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

ایمان والو ! جب تم رسول اللہ ﷺ کے کان میں کوئی بات کہو تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کرلیا کرو یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور پاکیزہ بات ہے پھر ہاں ! اگر تم مقدور نہ رکھتے ہو تو (مضائقہ نہیں) اللہ بڑا ہی بخشنے والا پیار کرنے والا ہے

عام مسلمانوں کو اگر نبی اعظم و آخر ﷺ سے مشورہ طلب کرنا ہے تو اس کے لیے ہدایت 12 ؎ محاورہ ہے کہ ” چور کی داڑھی میں تنکا “ گزشتہ آیات جب نازل ہوئی اور وہ پڑھی جانے لگیں تو جن جن لوگوں کے اندر اس طرح کی بیماری موجود تھی انکے کان کھڑے ہوگئے حالانکہ قرآن کریم نے کسی انسان کا نام نہیں لیا بلکہ ایک عام حکم دیا ہے اور سب کو مخاطب کر کے ایک ہدایت دی ہے اور کسی کو مخاطب کرکے کچھ نہیں کہا لیکن جب ان آیات کی تلاوت ہوت تو منافقین کے چہرے اتر جاتے کیونکہ ان ہی لوگوں کی عادت یہ تھی کہ جس مجلس میں بٹھتے سرگوشیاں کرتے اور سر جوڑتے اگر ان کے ساتھ کوئی غریب مسلمان بیٹھ جاتا تو ان کو اس کا بیٹھنا اچھا نہ لگتا اور ان کی تیوری چڑھ جاتی۔ اس طرح اگر ان کو کوئی اپنا ساتھ مل جاتا تو اس کے ساتھ مل کر بیٹھتے اور باتوں کو سننے کے ساتھ ساتھ ہی آپس میں ایک دوسرے کو اشارہ کر جاتے اور ان آیات کریمات کے آنے کے بعد ان کے دل کا چور ان کو مجبور کرتا کہ وہ نبی کریم ﷺ سے تخلیہ میں مل کر اپنی صفائی پیش کریں اور آپ ﷺ سے ملاقات کرنے کا دوسروں سے ذکر کریں تاکہ مسلمانوں کو جو ان کے متعلق شکوک و شبہات تھے وہ رفع ہوجائیں۔ اس لیے انہوں نے برابر نبی کریم ﷺ سے الگ تخلیہ میں ملاقاتیں شروع کریں اور اس طرح ایک نے جب ملاقات کی تو ملاقات کرنے کے بعد اس کا پروپیگنڈا شروع کردیا کہ میں فلاں وقت آپ ﷺ سے ملنے گیا اور کسی نجی بات کے متعلق مشورہ طلب کیا اور میں نے یہ کیا اور وہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو یہ بات پہلے تھی اور ان لوگوں کے امتحان کا ایک نیا راستہ کھول دیا اور حکم دیا کہ ایمان والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اگر نبی کریم ﷺ سے کوئی نجی بات کرنا چاہتے ہیں اور کسی مشورہ کے لیے الگ وقت ان کو درکار ہے تو اپنی بساط کے مطابق مشورہ طلب کرنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کرلیا کریں ۔ یہ بات ان کے امتحان کے لیے کیسی کہی گئی ؟ ایسے کہ وہ اللہ کی راہ میں اس طرح کا مخفی خرچ کردینا جس کے متعلق کسی کو بھی کچھ معلوم نہ ہو وہ کبھی پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ کام تو وہ آدمی کرے جس کا آخرت پر یقین ہو اور وہ چاہے کہ اس کا اجرمجھ کو آخرت میں ملے اور اس کا ایمان ہو کہ اللہ کی رضا کے لیے دیا ہوا میرا کبھی ضائع نہیں جائے گا بلکہ یہی وہ مال ہے جو آخرت میں مجھے کام دے گا ۔ منافقین تو جو کچھ خرچ کرتے تھے محض دنیاوی نام و نمود کے لیے خرچ کرتے تھے اور اس طرح وہ انہیں کاموں میں خرچ کرتے جہاں ان کا خرچ کیا ہوا سب کو معلوم ہو اور سب کو پتہ چلے کہ فلاں نے اتنا دیا ہے اور فلاں جگہ اس کو خرچ کیا ہے اور لینے والا بھی ان کے ناموں کی فہرست آویزاں کرے تاکہ سب کو پتہ چل جائے کہ فلاں میاں صاحب ، فلاں شیخ صاحب ، فلاں چودھری صاحب ، فلاں ڈاکٹر صاحب اور فلاں سیٹھ صاحب نے اتنا دیا ہے ۔ اس طرح ان کے امتحان کے لیے لازم کردیا کہ اگر تم محمد رسول اللہ ﷺ سے کوئی مشورہ چاہتے ہو اور علیحدگی میں ملاقات کرنا تمہارا ضروری ہے تو جو کچھ تم کو توفیق ہے اس ملاقات سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور ظاہر ہے کہ اس طرح کا خرچ کیا ہوا مال تو وہ مال ہے جس کا کوئی اشتہار نہیں اور کسی کو بتایا نہیں جائے گا اس لیے ان لوگوں پر یہ مشورہ بہت بھاری ہوگیا اس لیے کہ اگر کچھ خرچ کرتے ہیں تو مال ضائع کیونکہ اس طرح تو کسی کو بھی کچھ معلوم نہ ہوا کہ کس نے دیا اور کتنا دیا لیکن ان کے اندر کا چور ان کو اپنے فاسد عقیدہ کے باعث القا کرتا تھا کہ اگر نہ دیا اور کہہ دیا ہے تو بھی محمد رسول اللہ ﷺ کو علم ہو ہی جائے گا کیونکہ جو بھی اس کو بتایا ہے خواہ وہ اس کا جادو ہے یا اس کے قبضہ میں کوئی جن ہے یا بقول اس کے اس کو اللہ بتا دیتا ہے بہر حال جو صورت حال بھی ہے معلوم تو ان کو ہوگیا اور اگر دیتے ہیں تو مال ضائع ہوتا ہے۔ بہرحال اس طرح ان کی وہ ملاقاتیں جو وہ خواہ مخواہ وقت ضائع کرنے کے لیے اور آپ ﷺ کو دکھ دینے کے لیے ایک سلسلہ چلا رہے تھے اس میں کافی حد تک اعتدال آگیا ۔ لیکن جہاں اس پابندی سے خاصا قائدہ ہوا وہاں کچھ نقصان بھی ضروری تھا کیونکہ جب یہ قانون ہوگیا تو اس سے سچے اور پکے مسلمانوں کو جو نادرا اور کمزور و غریب تھے آپ ﷺ سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ ہوتی ۔ اس لیے ساتھ اس بات کا اعلان بھی کردیا کہ جو شخص صدقہ و خیرات کرنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر معاشرہ میں غریب اور نادرا لوگوں کو لوگ جانتے اور پہچانتے ہیں اور اس طرح بڑے لوگ کبھی اس طرح کی ناداری کو قبول نہیں کرتے کہ خواہ مخواہ ناداروں میں وہ شمار ہونے لگیں ۔ بلا شبہ وہ نادروں اور غریبوں کے مال کو کھاتے ہیں بلکہ بعض اوقات سارا ہی کھا جاتے ہیں لیکن اس کا طریقہ یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ ان کا نادراروں کی لسٹ میں نام آگیا ہے نہیں وہ سیٹھ رہتے ہوئے اور وڈیروں میں شمار ہوتے ہوئے غریبوں کا مال کھانے کے طریقے اختیار کرتے ہیں لیکن اس جگہ ان طریقوں کی بات نہیں ہے بلکہ ناداروں میں شامل ہونا ہے جو ان کے بس کاروگ نہیں ۔ بہر حال اس سے ان لوگوں کو مستثنیٰ قرار دے دیا گیا کہ غریب و نادرا لوگ جو صدقہ و خیرات کی طاقت نہیں رکھتے وہ اس قانون سے مسیٰن ہیں اور اس سے اس کی وضاحت بھی نکل آئی کہ ایک قانون نافذ کرنے کے بعد اس میں ضرورت کے مطابق اس کے بعض حصوں کو قانون میں رہتے ہوئے وضاحت کی جاسکتی ہے بلکہ جہاں ضرورت پڑے تو قانون کی وضاحت کی جاسکتی ہے اور اس وضاحت کو قانون کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے اور اس میں بہت بڑی وسعت موجود ہے اور اگر متفقہ مضبوط ہو اور قانون کو سمجھنے والے بھی موجود ہوں تو اس گنجائش سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور خصوصاً جو وقتی طور پر بعض مجبوریوں کے باعث کوئی قانون بنایا جاتا ہے اس کی وضاحت کا حق دیا جانا بھی قانون کی رو سے ضروری ہوتا ہے۔ بہر حال اس آیت نے خود ہی اس قانون کی وضاحت کردی کہ جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ان کے لیے اللہ غفورو رحیم ہے وہ اس قانون کی مزید وضاحت فرمادے گا ۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس آیت ہی کو منسوخ قراردے دیا اور ہم اس کی وضاحت سورة البقرہ کی تفسیر میں کرچکے ہیں کہ ناسخ و منسوخ کا یہ مطلب سمجھنا ہی غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ارشاد کردہ کسی بات کو منسوخ کرکے اس کی جگہ کوئی دوسری بات لازم کرے ۔ ہاں ! ایک بات کی وضاحت نہ کی گئی ہو کہ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں اور پھر ضرورت کے مطابق اس کی وضاحت کردی جائے تو یہ دوسری بات ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے تو اس کو منسوخ نہیں کیا اور نہ ہی صاحب قرآن محمد رسول اللہ ﷺ نے کسی آیت کے منسوخ ہونے کا ارشاد فرمایا ۔ یہ سب ہمارے مفسرین کی اپنی ہی اختراعات ہیں تا ہم انہوں نے قانون بنانے والوں کے لیے یہ سہولت تجویز کردی کہ اگر کوئی قانون پاس ہوجائے تو اس کے پاس کرتے ہی منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے اور اس سہولت نے ہمارے ان اداروں کو جو قانون بنانے اور منسوخ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں وہ اپنی ضرورت کے مطابق اوپر نیچے کرتے رہتے ہیں اور جس کے نتیجہ میں ہمارے ملک کی سب سے ” بڑی “ مقتدر شخصیت کو لانے اور ہٹانے میں ان کو چار چھ گھنٹے کا وقفہ درکار ہوتا ہے اور اس کے جواز کے لیے ہمارے مفسرین نے اس سے سند جواز نکال کر لوگوں کے سامنے رکھ دی ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ ادھر یہ آیت نازل ہوئی اور ادھر حضرت علی ؓ جو گویا اسی انتظار میں تھے نے فوراً صدقہ و خیرات کیا اور آپ ﷺ سے ایک طرح کی سر گوشی کرلی اور دس باتیں آپ ﷺ سے پوچھ لیں جو درج ذیل ہیں : علی ؓ نے پوچھا (1) وفا کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : توحید اور توحید کی شہادت دینا علی ؓ نے پوچھا (2) فساد کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہ وہ کفر و شرک ہے علی ؓ نے پوچھا (3) حق کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اسلام ، قرآن اور ولایت جب تجھے ملے ۔ علی ؓ نے پوچھا (4) حیلہ یعنی تدبیر کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ترک حیلہ علی ؓ نے پوچھا (5) اللہ تعالیٰ سے دعا کیسے مانگوں آپ ﷺ نے فرمایا : صدق و یقین کے ساتھ علی ؓ نے پوچھا (6) مجھ پر کیا لازم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت علی ؓ نے پوچھا (7) اللہ تعالیٰ سے کیا کیا مانگوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عافیت ( اور ایک جگہ) عاقبت کا لفظ ہے۔ علی ؓ نے پوچھا (8) اپنی نجات کے لیے کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ جنت ہے۔ علی ؓ نے پوچھا (9) سرور کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ جنت ہے۔ علی ؓ نے پوچھا (10) راحت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کا دیدار کہتے ہیں ادھر حضرت علی ؓ سوالات سے فارغ ہوئے اور ادھر یہ آیت منسوخ ہوگئی اور سیدنا علی ؓ کے سوا کسی کو اس پر عمل کرنے کا وقت ہی نہ ملا اور یہ باتیں جو سیدنا علی ؓ کی طرف منسوب کی گئی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کی تھیں یہ محض تیسرے نمبر کے لیے بیان کی گئیں تاکہ یہ بات اہل سنہ کو ہضم ہو سکے اور لاریب اہل سنت والجماعت نے اس کو خوب ہضم کیا کہ حضرت الافاضل مراد آبادی نے اس آیت کی شان نزولیں ان کو درج کرلیا اور وہاں سے جب انتخاب کرنے کا وقت آیا تو پیر کرم شاہ صاحب (رح) نے بھی ان کو انتخاب کر کے اپنی تفسیر کی زینت بنا دیا ۔ گویا اس سند کو ایک طرح سے مزید تقویت مل گئی ۔ حق کیا ہے ؟ کے جواب میں جس طرح زہر ملایا گیا وہ آنکھوں والوں کو نظر آ رہا ہے اور حضرت الافاضل (رح) نے ایک اور ٹیکہ بھی اس کے ساتھ اس بےحس و حرکت قوم کو لگانے کی کوشش کی لیکن پیر صاحب (رح) نے اس کو کیوں حذف کردیا ؟ اس کی حقیقت کو وہی جانتے ہیں ، چناچہ مراد آبادی (رح) اس تفسیر کے بعد راقم طراز ہیں کہ : ” حضرت مترجم قدس سرہ ( مراد احمد رضا خاں بریلوی (رح) نے فرمایا یہ اس کی اصل ہے جو مزارات اولیاء پر تصدق کے لیے شیرینی وغیرہ لے جاتے ہیں “۔ قارئنا سمجھ لیں کہ اس فرقہ کے استدلال کا کیا حال ہے کہ بقول ان کے آیت تو منسوخ ہوگئی لیکن اس کا حکم مزاروں پر منت و چڑھاوا چڑھانے کا باقی رہا اور اس کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ چوری اور سینہ زوری کہ محترم سواد اعظم کے نشہ میں مخمور ایک پنتھ دو کاج والا کام کر گئے اور اس پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ” یک نشد دو شد “
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) کیا تم ڈر گئے کہ سرگوشی کرنے سے پہلے خیرات کرنا پڑتی ہے (اچھا اگر یہ مشکل ہے تو) پس جب تم یہ نہ کرسکے اور اللہ نے تمہارے حال پر رحم فرمایا (یہ پابندی لازم نہ ٹھہرائی) تو اب نماز پڑھتے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمانبردار رہو اور اللہ کو خوب علم ہے جو کچھ تم کرتے ہو

13 ؎ صدقہ و خیرات کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی مزید وضاحت فرما دی کہ صدقہ و خیرات کرنے کا حکم تو ان کو ہے جو صدقہ اور خیرات کی طاقت و قوت رکھتے ہیں اور معاشرہ میں جہاں صدقہ و خیرات دینے والے موجود ہوتے ہیں وہاں لینے والے بھی ہوتے ہیں ۔ اب ان لوگوں کو جن کو پہلے صدقہ اور خیرات لینے کا حق دیا گیا ہے ان کی تفہیم کرائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کے پاس مال ہی نہیں ہے ان کو نبی کریم ﷺ سے بات کرنے کی ممانعت نہیں کی جا رہی تم اس حکم سے کیوں ڈر گئے ؟ اللہ تعالیٰ کسی پر ایسی پابندی تو نہیں لگاتا جو اس کی برداشت سے باہر ہو۔ معاشرہ کے اندر جو لوگ پہلے ہی اس کے مستحق ہیں کہ ان کو صدقہ و خیرات دیا جائے ان کو یہ حکم تو نہیں دیا گیا۔ یہ حکم تو محض ان ہی لوگوں کو ہے جن کے پاس دولت کے ڈھیر ہیں لیکن وہ سوائے نام و نمود کے اس کو خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کے خرچ کرنے کی جگہ وہی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ ان کو ضد ہے کہ نام بھی استعمال کرنا ہے اسلام کا اور کام بھی اسلام کا ایک نہیں کریں گے کیونکہ اللہ بڑا ہے صحیح ہے لیکن آخر وہ بھی چھوٹے کب ہیں ؟ بہر حال زیر نظر آیت میں اس کی وضاحت جس طرح کردی گئی ہے کسی کو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں رہا ہوگا ۔ فرمایا جب تم لوگ صدقہ کر ہی نہیں سکتے تو تم کو آخر اللہ تعالیٰ مجبورکیوں کرے گا ۔ اب سن لو اور کان کھول کر سن لو کہ تم لوگ نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا کہا مانو اور تم اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے اور اس سے تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ تم نے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی اس لیے تم سے یہ غلطی سرزد ہوئی۔ جو لوگ صدقہ و خیرات کرنے کے متحمل نہیں ہیں وہ تو پہلے ہی اس حکم سے مستثنیٰ کردیئے گئے ہیں اور اب اس کی مزید وضاحت بھی کردی گئی ہے۔
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس قوم سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا اور یہ لوگ نہ تم میں ہیں اور نہ ان (کفار) میں اور وہ جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں اور وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں

ایمان والوں کو مزید تسلی دی جا رہی ہے اور منافقین کے عمل کی مزید وضاحت 14 ؎ ایمان والوں کو مخاطب کر کے ان کو مزید تسلی دی جا رہی ہے کہ تم کو ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہے جنہوں نے اپنے مسلمانوں کو چھوڑ کر پیار کی پینگیں غیروں سے چڑھا رکھی ہیں اور اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ وہ قوم بھی ایسی قوم ہے جس کو اللہ نے من حیث القوم اپنے غضب کا مستحق قرار دیا ہے کہ ان میں نیکی کی قطعا ً صلاحیت ہی نہیں رہی اور اسی کے باعث وہ در بدر ٹھوکریں کھاتے ہوئے یہاں آ کر آباد ہوگئے ہیں اور ذہن و فکر کے لحاظ سے وہ مہاجن ہیں کہ حالات کچھ بھی ہوں ان کو بلا سے ان کو تو محض ملا و دولت کے سمے ٹنھ کی دھن ہے اور وہ اسی میں مگن ہیں اور رہے یہ منافق لوگ تو ان کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ تو تم میں سے ہیں اور نہ ہی ان یہود میں سے ، یہ اپنی غرض کے پجاری ہیں اور اگر اسلام کی طرف آتے ہیں تو اس لیے نہیں آتے کہ اسلام ان کے دلوں میں گھر کر گیا ہے اور اب وہ اسلام کے سوا زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہرگز نہیں وہ تمہاری طرف آ کر شامل ہوئے ہیں تو بھی ان کی اپنی غرض ہے اور یہود کی طرف جھکتے ہیں تو بھی وہاں سے کچھ فوائد ان کو نظر آ رہے ہیں ۔ ان کا کام ہی کیا ہے کہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو باور کرا دینا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جس طرف کا پلڑا بھاری دیکھا وہ اس کے ساتھ ہوگئے اور یہ وہی ہیں جن کا مطمع نظر ہم چوما دیگرے نیست ہے اور وہ اپنے مقابلہ میں سب کو ہیچ سمجھتے ہیں اور جہاں سے ان کی دنیوی غرض پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے وہ وہاں کی طرف جانے کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور آج کل کی اصطلاح میں ایسے ہی لوگوں کو لوگ ” لوٹے “ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور تعجب کریں گے کہ آج لوٹوں کو بھی زبان دی گئی ہے اور وہ بھی لوٹے لوٹے ہی کا شور ڈال رہے ہیں اور یہ کہاوت تو بہت پرانی ہے کہ چور بھی کہے چور چور اور اس وقت ان کا نام سیاست میں منجھے ہوئے لوگ ہیں ۔ اس لیے کہ سیاست کو خباثت کے وزن پر رکھ کر دیکھنے والوں نے دونوں کو آپس میں ایسا منطبق کیا ہے کہ اب واقعی دونوں میں کوئی فرق نہیں رہا کیونکہ ان کا قالب بھی ایک ہے اور جان بھی ۔
Ayah 58:15

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے بلاشبہ وہ کام بہت برے ہیں جو وہ کرتے ہیں

ان لوگوں کے لیے سخت عذاب ہے اور بہت برے اعمال ان کے 15 ؎ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ عمل اور اس کا نتیجہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ اگر ان کے اعمال اچھے نہیں تو ان کا نتیجہ کیسے اچھا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب ان کے اعمال برے ہیں تو ان کے اعمال کا نتیجہ بھی یقینا برا ہی ہوگا اور وہی عذاب کی صورت میں ان کی سامنے لایا جائے گا جس کی پاداش میں وہ دوزخ میں داخل کرا دیئے جائیں گے۔
Ayah 58:16

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

اُنہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پھر لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، سو ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے

ایمان کو ان لوگوں نے محض ایک ڈھال بنا رکھا تھا ، اس کے بدلہ میں ان کو عذاب دیا جائے گا 16 ؎ کافر ایسے مومن سے کیوں بہتر ہے ؟ اس لیے کہ وہ کافر ہے اور وہ بھی اپنے کفر کو جانتا ہے اور اہل ایمان بھی اس کے کفر سے واقف ہیں ۔ اس لیے اس سے کبھی وہ دھوکا نہیں کھائیں گے اور نہ ہی وہ کبھی دھوکا ان کو دے سکے گا لیکن جس نے بظاہر اسلام قبول کیا ہے اور عمل کے لحاظ سے وہ پکا کافر ہے اس نے ایک تو کفر کیا ہے اور دوسرا دھوکا بھی دیا ہے کہ اہل ایمان اس کو اہل اسلام میں سے سمجھتے اور جانتے ہیں ۔ اس طرح گویا وہ گھر کا بھیدی ہے اور مسلمانوں کو رازوں سے اچھی طرح با خبر ہے اور اس کا نقصان بھی اسلام کو زیاد ہے۔ غور کرو کہ ان منافقین نے کس کس طریقہ سے اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ؟ آج پورے اسلام کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے اور جو حقیقی اسلام ہے وہ آج کہیں نظر ہی نہیں آتا یہاں تک کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے تراجم کو اس طرح بگاڑ کر رکھ دیا گیا کہ انکے تراجم کو پڑھ کر بھی اصل حقیقت تک کما حقہ پہنچنا نہایت مشکل ہوچکا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرو کہ ان کی چالوں کو کس طرح اس نے طشت ازبام کیا ہے اور ان کی سزا کیا مقرر کی ہے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے اپنی سادگی اور اس کو کما حقہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی موجودگی میں اگر وہ نہیں ہنپ سکا تو آپ کی وفات کے بعد اس نے پر پرزے نکالنے کی کوششیں شروع کردیں اور خلفائے راشدہ کا دور ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے انڈے ، بچے دینے شروع کردیئے اور اس نے اپنا گھونسلہ ایسی جگہ لگایا کہ وہ جلد ہی اپنی ذریت کو پھیلانے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا ۔ حالانکہ قرآن کریم کی یہ آیت اور اس جیسی بیسیوں آیات کریمات بھی برابر پڑھی جاتی رہیں اور پڑھی جا رہی ہیں ۔ فرمایا انہوں نے اپنے ایمانوں کو ڈھال بنایا اور اس طرح وہ خود بھی اسلام کی صحیح راہ سے رکے اور دوسروں کو بھی رکنے کی پوری کوشش کی اور کر رہے ہیں ۔ اس لیے فرمایا کہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ لاریب ان لوگوں کی دنیا میں بھی رسوائی ہوتی رہی اور آخرت کی رسوائی کا سرٹیفکیٹ بھی اس آیت میں دے دیا گیا اور اس وقت بھی جو اس بیماری میں مبتلا ہیں ان کا یہی حشر ہونے والا ہے اگرچہ اس وقت وہ تعداد میں زیادہ ہوچکے ہیں ۔
Ayah 58:17

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

(منکرین اور کفر کرنے والوں کو) ان کا مال اور ان کی اولاد ان کو ہرگز اللہ سے نہ بچا سکیں گے (بلکہ ان کی ہلاکت کا باعث ہوں گے) یہ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے

ان کے مالوں اور اولادوں نے نہ تو ان کو اس جگہ کفایت کیا اور نہ آخرت میں 17 ؎ فرمایا دنیا میں ترقیاں پانے کے جو اصول اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہیں ان کے باعث یہ لوگ اور ان کے علاوہ دوسرے کھلے کافر اگر ترقیاں حاصل کر رہے ہیں تو یہ محض اس لیے کہ ان ترقیوں کے لیے جو اصول اللہ نے مقرر کیے ہیں ان میں یہ طے نہیں کیا کہ اگر کوئی مسلمان ان اصولوں کے مطابق دنیوی زندگی گزارے گا تو اس کو ترقی ملے گی اور کوئی دوسرا ان ہی اصولوں کو اپنائے گا تو اس کو ترقی نہیں دی جائے گی۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ دنیا کے لیے اصول خدا وندی یہ ہے کہ جو بھی ان اصولوں کو اپنائے گا اس کو ترقی دی جائے گی خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو ۔ رہی آخرت تو اس کے لیے اعلان کیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ آخرت میں نہ تو ان لوگوں کے مال ان سے کفایت کریں گے اور نہ ہی اولادیں اور ان سب کو خواہ دنیا میں کتنا بڑا نام رکھتے تھے اور کتنے ہی بڑے بڑے کام ان کے کنٹرول میں تھے اور کہاں کہاں ان کا نام چلتا تھا لیکن وہاں ان کی کچھ بھی قدر و قیمت نہیں ہوگی اور ان کو پکڑ کر جہنم میں اوندھا کردیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے اور کوئی بھی ان کا پرسان حال نہیں ہوگا ۔ یہ قرآن کریم اللہ کی کتاب کا فیصلہ ہے ۔ آیت کا مضمون چاہو جتنی بار خود پڑھ لو ہم کو معلوم ہے کہ ہماری یہ باتیں سن کر کہہ دیں گے کہ ” ایں خیال است و محال است و جنوں “ بلا شبہ جن لوگوں کے دل ان باتوں پر یقین نہیں کرتے ان کے دلوں میں یہ بیماری راسخ ہوچکی ہے اور اگر نفاق کا کوئی بھی مریض اپنے مرض کو تسلیم کرلے تو وہ آخر منافق ہی کیوں ہو ؟ اور اس کو منافق کیسے کہا جاسکتا ہے منافق کا تو مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ دلیل بھی نہ رکھتا ہو اور بات کو تسلیم بھی نہ کرتا ہو اور اسلام کا نام بھی استعمال کر رہا ہو۔
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو یہ اس کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جس طرح کہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور خیال کریں گے کہ ٹھیک بات کہہ رہے ہیں حالانکہ بلاشبہ یہ لوگ جھوٹے ہیں

ایسے جھوٹوں کی کیا ہی بات ہے کہ یہ نہ آج مانتے ہیں اور نہ ہی آنے والے کل مانیں گے 18 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ تو انکی دنیوی زندگی کی بات ہے جس میں ان کے ساتھ جو ہوا سو ہوا اور انہوں نے جو کیا سو کیا ، ہم آپ ﷺ کو بتاتے ہیں کہ یہ لوگ تو جھوٹ میں اتنے ماہر ہیں کہ جس روز اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ اٹھائے گا تو وہ اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جیسا کہ آج وہ تمہارے سامنے قسمیں کھا کھا کر باور کراتے ہیں ۔ وہ اسی رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے بھی اس جرم سے باز نہیں آئیں گے اور اس طرح وہ سمجھیں گے کہ ہم یہاں بھی انہی قسموں کے سہارے نجات پا جائیں گے حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے۔ ہم وہاں ان کے سامنے ان کے جھوٹ کو ثابت کردیں گے اور ان کو یقینا اپنے جرموں کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ ان کا یہ جھوٹ کس طرح ثابت کیا جائے گا ۔ فرمایا ہم ان کے مونہوں پر مہریں لگا دیں گے اور انکے ہاتھ اور پائوں اور ان کی کھالیں بول بول کر ان پر شہادت پیش کریں گی اور اس طرح وہ اس روز سم گم ہو کر رہ جائیں گے۔ اگر وضاحت چاہتے ہوں تو عروۃ الوثقیٰ کی ساتویں جلد کو نکال کر اس میں سورة یٰسین کی آیت 65 ، 66 کی تفسیر دیکھ لیں وہاں سے مکمل وضاحت آپ کو مل جائے گی ۔ اس جگہ آپ کی معلومات کے لیے ایک مزید ارشارہ دیا جاتا ہے اگر آپ نے سمجھنے کی کوشش کی تو ان شاء اللہ بہت کچھ سمجھ لو گے۔ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن کریم نے مشرکوں اور منافوں کو ایک مقام پر رکھا ہے اور اس کی وضاحت عروۃ الوثقیٰ جلد ششم سورة النور کی آیت 3 میں کردی گئی ہے اور اس جگہ جو ان کے جھوٹ کا ذکر کیا گیا ہے تو بالکل اسی طرح کے جھوٹ کا مشرکوں کے حق میں پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں جہاں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ مشرک بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے شرک کی تردید میں کہیں گے کہ ہم تو کبھی شرک نہیں کیا کرتے تھے اور اس کی وضاحت جلد سوم سورة الانعام کی آیت 23 میں گزر چکی ہے۔ وہاں جو بیان مشرکوں نے دیا ہے وہی اس جگہ ان منافقوں کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ، اس کو کہتے ہیں کہ ؎ کند ہم جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز باباز قرآن کریم نے جو ان کو ہم جنس اور ہم زبان ، ہم خیال اور ہم مشرب قرار دیا ہے اس کی وضاحت بھی کس طرح پیش کردی ہے۔ رہیں ان کے نفاق کی کارستانیاں تو ان کے متعلق ہم نے اسی سورت کی آیت 12 کی تفسیر میں اشارہ کردیا ہے اگر آپ غور کریں گے تو وہاں سے آپ کو بہت کچھ حاصل ہوجائے گا کہ یہ لوگ حق اور سچ میں زہر کس طرح ملاتے ہیں اور ان کی سکیمیں کتنی گہری ہیں ۔ کیوں نہ ان کو دوزخ کے نچلے سے نچلے درکات میں پھینکا جائے گا ۔
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان (منافقوں اور کافروں) پر شیطان نے قابو پا لیا ہے پھر اس نے اللہ کی یاد ان سے بھلا دی ، یہی لوگ شیطان کی پارٹی ہیں اور سن لو کہ شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے

شیطان نے ان پر کس طرح تسلط جما لیا ہے اس کی مکمل وضاحت 19 ؎ (استحوذ) کا اصل مادہ ح و ذ ہے جس کے معنی ہیں کہ اس نے قابو میں کرلیا ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ فرمایا دراصل شیطان نے ان لوگوں پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے اور وہ اپنا قبضہ جما کر بیٹھ گیا ہے اور اس نے ان لوگوں کو اللہ کی یاد سے بالکل غافل کردیا ہے اور دنیا کی ہو ہوا میں اس قدر اس نے ان کو مست کردیا ہے کہ وہ ادھرادھر کسی طرف کبھی دیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ دن رات ، سوتے جاگتے میں ان کو نہ تو کبھی موت یاد آئی ہے اور نہ ہی کبھی آخرت کی فکر لا حق ہوئی ہے۔ وہ خود سوچنے سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں ۔ جو مت و ظالم ان کو دیتا ہے اس کو بڑے دھیان سے سنتے ہیں اور جس راہ پر وہ ان کو چلاتا ہے آنکھیں بند کر کے چل پڑتے ہیں ۔ ان کو کبھی ذکر الٰہی کی فرصت ہی نہیں ملتی اور انہوں نے اپنے پروردگار کی یاد کو اس طرح بھلا دیا ہے کہ گویا ان کا کوئی پروردگار ہے ہی نہیں ۔ بلا شبہ وہ شیطان کی فوج میں بھرتی ہوچکے ہیں اور جس کو شیطان بھرتی کرلیتا ہے اس کے لیے کوئی ریٹائرمنٹ نہیں ہے سوائے اس کے کہ موت آ کر اس کا کام تمام کر دے۔ بلا شبہ کافر کے مسلمان ہونے کی امید کی جاسکتی ہے اور وہ کسی وقت بھی اسلام قبول کرسکتا ہے اور اس پر شیطان کی اتنی سخت گرفت نہیں ہوتی اور تاریخ و احادیث کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ کتنے کتنے بڑے کافروں نے اسلام قبول کیا اور انہوں نے اسلام میں کارہائے نمایاں انجام دیئے لیکن کسی منافق کے بارے کتاب و سنت نے ایمان لانے یعنی سچے دل سے ایمان کو قبول کرنے کی تصدیق نہیں کی اور اس کی کوئی مثال ہم کو دستیاب نہیں ہوئی ۔ فرمایا سن لو اور کان کھول کر سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ شیطان کا گروہ آخرت کے روز یقینا خسارے میں رہے گا اور اس کا خسارہ پورا ہونے کی بھی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ غور کرو کہ شیطان کی یہ جماعت شیطانوں سے ہے یا انسانوں سے ؟ بلا شبہ یہ شیطان ہی کی جماعت ہے لیکن شکل و صورت کے لحاظ سے اور جنس کے لحاظ سے ان کو انسان ہی کہا جاتا ہے اور اس گروہ کو ہم نے دوسری جگہ جنوں کا گروہ قرار دیا ہے جو مکلف جن ہیں اس کی وضاحت پیچھے سورة الرحمن میں گزر چکی ہے وہاں چونکہ ان کو لفظ جن سے تعبیر کیا گیا ہے اس لیے آپ کی تفسیر پر تعجب ہوا ہوگا لیکن اس جگہ خود قرآن کریم نے ان کو شیطان کی جماعت قرار دیا ہے اور اس جگہ آپ بھی سر ہلا کر تصدیق کر رہے ہیں اور شیطان اور جن میں آخر فرق ہی کیا ہے ؟ دراصل یہی وہ پردہ ہے جو انسان کے دل و دماغ پر پڑجاتا ہے اور سیدھی اور سچی بات کو ماننے کو بھی انسان تیار نہیں ہوتا اور اس طرح ایک بات کو سنتا ہے اور نئی بات سمجھ کر اس کو دل و دماغ میں جگہ نہیں دیتا اس لیے ہم اکثر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ بھرے ہوئے برتن میں جو کچھ بھی ڈالیں گے وہ ضائع ہوجائے گا کیونکہ اس میں کسی جگہ گنجائش باقی ہی نہیں ہے اور جب تک انسان خالی الذہن ہو کر کتاب و سنت کا عقل و فکر کے ساتھ نہایت گہرائی میں اتر کا مطالعہ نہ کرے اس کو کچھ حاصل نہیں ہوتا خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو اور ملائیت نے مسلمانوں پر یہ ظلم کیا ہے کہ جو ان کو باور کرا دیا ہے کہ مذہب میں عقل و فکر کی کوئی ددخل نہیں اور شیطان کو یہ ہتھیار ایسا ملا ہے کہ وہ اس کو کبھی اپنے گلے سے نہیں اتار تا اور اس سوگرداروں کے برابر ایک ہی گر پر وہ لوگوں کا پکا کرتا ہے اور وہ کسی دوسرے کی بات کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ پھر ذر غور کرو کہ اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کی کون کوشش نہیں کرتا ۔ شیطان تو جو کچھ ہے اس کو اچھی طرح معلوم ہے اور انسان کو چت کرنے کے لیے جو اس نے مہلت طلب کی تھی وہ بھی اس کو مل گئی ہے اور اب اگر انسان خسارے میں رہیں گے تو یہی اس کی مراد ہے۔
Ayah 58:20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب ہی بڑے ذلیل ہیں

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کی مخالفت کرنے والے ذلیل ہوں گے 20 ؎ اس سورت کی آیت 5 میں جن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مخالفین کا ذکر گزر چکا ہے ان ہی کا ذکر دوبارہ کیا جا رہا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا دعویٰ تو ایمان کا ہے لیکن ان کے کام کفر کے ہیں اور اسلام کی زبان میں ان کو منافق کہا جاتا ہے۔ گزشتہ آیت 5 میں ارشاد فرمایا تھا کہ ان لوگوں کو منہ کے بل گرایا جائے گا اور اس جگہ ان کے متعلق ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ان کا شمار ذلیل ترین لوگوں میں ہوگا کیونکہ یہ لوگ دوہرے مجرم ہیں کہ ان کے اعمال تو کفر کے اعمال ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے انہوں نے بظاہر اسلام قبول کرلیا ہے اور اس طرح گویا وہ شیطان کے ساتھی ہیں لہٰذا وہ خود بھی ذلیل ہے اور اس کے ساتھ بھی ضروری ہے کہ اس طرح کے ذلیل ہوں اور یہی بات ارشاد فرمائی جا رہی ہے۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے بلاشبہ اللہ بڑا قوت والا غلبہ والا ہے

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا غالب آنا لازم قرار دیا گیا ہے 21 ؎ یہ گویا تحدی اور چیلنج ہے اور اس کو معجزہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ گویا تحدی اور چیلنج معجزہ کے لیے شرط خاص ہے۔ اگر معجزات کے شیدائی صرف اس بات کو ذہن میں رکھے تو ان کو سمجھنا آسان ہوجاتا کہ وہ جس کے متعلق معجزہ معجزہ کی رٹ لگا رہے ہیں وہ معجزہ کے نام سے موسوم بھی کیا جاسکتا یا نہیں ؟ آپ کسی شخص سے معجزہ کی تعریف پوچھ کر دیکھ لیں کہ اتنی بات تو بتا دو کہ معجزہ کی تعریف کیا ہے ؟ تاکہ اس کی پہچان آسان ہوجائے ۔ غور کرو کہ زیر نظر آیات میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں یہ طے شدہ امر ہے گویا اس کا خلاف ممکن ہی نہیں ۔ اس کو عربی میں تحدی کہتے ہیں اور ہماری اردو زبان میں چیلنج (Challange) وہ طے شدہ امر کیا ہے ؟ فرمایا وہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولوں کا غالب آنا ضروری ہے۔ آپ اس ایک ہی بات کو ذہن نشین رکھیں اور کسی نبی و رسول کی سرگزشت کو اٹھا لیں جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا ہے کہ جب اس نے اللہ کا پیغام اپنی قوم کے سامنے پیش کیا اور قوم نے اس کو پیغام کو ماننے سے انکار کردیا اور یہ سلسلہ خواہ کتنی مدت چلتا رہا انجام اس کا کیا ہوا ؟ یہی کہ پوری مخالف قوم کو اس رسول کی موجودگی میں تباہ و برباد کردیا گیا اور انجام کار کامیابی اسی رسول ہی کے حصہ میں آئی اور اس طرح جو چیلنج کیا گیا تھا وہ بحمد اللہ پورا ہوا۔ اس بات کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے اور یہ بات بتا کر نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو گزشتہ دعوتوں کا انجام ہوا وہی آپ ﷺ کی دعوت کا بھی ہوگا یعنی انجام کار کامیابی و کامرانی آپ ﷺ کے قدم چومے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کو پورا ہو کر رہنا ہے جس قانون کا اس نے ان دعوتوں کے حق میں اعلان کر رکھا ہے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہی کچھ ہوا جو اللہ رب کریم نے تحدی اور چیلنج کے ساتھ بیان کیا ، جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے عطا کیے گئے معجزات میں و سے ایک معجزہ ہے۔ (ان اللہ قوی عزیز)
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

آپ ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں خواہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان ہی کے لوگ کیوں نہ ہوں ، یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ثبت کردیا ہے اور ان کو اپنے فیض خاص سے تقویت بخشی ہے اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ لوگ اللہ ہی کی جماعت ہیں یاد رکھو کہ اللہ ہی کی جماعت فلاح پانے والی ہے

سچے اور پکے مومنوں کی نشانی جس سے ان کی شناخت کی جاسکتی ہے 22 ؎ بلا شبہ جہاں اصل ہوتی ہے وہاں اس کی نقل بھی موجود ہوتی ہے وہاں اس کی نقل بھی موجود ہوتی ہے۔ جہاں کھرا ہوتا ہے وہاں کھوٹا بھی لیکن یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اصل اور نقل ، کھرے اور کھوٹے کی پہچان کریں ۔ بیوقوف ہیں وہ جو نقل کی شناخت کرنے کی بجائے اصل کو بھی چھوڑ دیں اور کھوٹے کی شناخت کرنے کی بجائے کھرے کو پھینک دیں ۔ آپ پیچھے سے بھی بڑھتے چلے آ رہے ہیں اور زیر نظر سورت میں بھی وضاحت سے پڑھ چکے ہیں کہ ہجرت مدینہ کے بعد جہاں ایمان لانے والوں میں بہت اضافہ ہوا وہاں ان ایمان لانے والوں میں ایک منافقوں کا گروہ بھی پیدا ہوگیا وہ اس طرح کہ بعض لوگوں نے اپنی قومی اور خاندانی ساکھ کو قائم رکھنے کے لیے بظاہر اسلام قبول کرلیا تاکہ ان کی خاندانی سیادت اپنی جگہ قائم رہے کیونکہ ان کے خاندان کے اکثر لوگ ایمان لے آئے تھے اور بعض طبائع ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ وقتی مصلحت کے پیش نظر اس تحریک سے وابستہ ہوجاتے ہیں جس تحریک میں کچھ فوائد حاصل ہونے کی توقع رکھتے ہیں ۔ اس لیے جو لوگ ان مصلحتوں کے تحت ایمان لائے تھے ایمان ان کے دلوں میں تو یقینا داخل نہیں ہوا تھا اور اس کے بعد جب اسلامی تحریک کامیابی سے ہم کنارہو گئی تو وہ لوگ کفر میں واپس جانے سے تو رہ گئے اور انہوں نے اسلام لانے کے باوجود اپنی عادات و خصائل کو نہ بدلا اور عمل کے لحاظ سے وہ کافر کے کافر ہی رہے اور ان کی ظاہری وابستگی کے باعث ان کو کافر بھی نہیں کہا جاسکتا تھا اس لیے ان کو منافق کے ناموں سے موسوم کیا گیا ۔ اس جگہ پکے اور سچے مومنوں کی شناخت کرائی جا رہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت رکھنے والوں کو کبھی دوست نہیں بنا سکتے خواہ وہ ان کے عزیز و اقارب ہی کیوں نہ ہوں اور عزیز و اقارب میں جو بہت ہی زیادہ قریب کے لوگ ہوتے ہیں ان کے واضح طور پر نام لے لیے گئے یعنی اگرچہ وہ ان کے باپ ، بیٹے ، بھائی اور اسی طرح دوسرے اقارب خواہ وہ کتنے ہی قریب کے لوگ ہوں وہ اسلام کے مقابلہ میں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مقابلہ میں ان سے محبت نہیں کرسکتے اور نہ ہی وہ ان کو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں و محبوب رکھتے ہیں اور نہ ہی محبوب رکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ فرمایا یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایمان کی دولت سے مزین کردیا اور ان کو اپنی طرف سے ایک خاص فیضان روحانی سے نوازا اور ان کی ایمانی قوت کو اتنا مضبوط کردیا کہ وہ اپنے ایمان کو اپنے والدین ، بیٹوں ، بھائیوں اور دوسرے سارے عزیز و اقارب پر فوقیت دینے لگے اور اس طرح ایمان کے پکے اور سچے لوگوں کی وضاحت ہوگئی اور کھوٹے اور کھرے کا فرق واضح طور پر نظر آنے لگا اور ان کی یہ پہچان اس قدر واضح اور عیاں ہے کہ قیامت تک آنے والوں کے لیے اس پہچان سے ان ایمان کے کھرے اور کھوٹے لوگوں کو پہچانا جاتا رہے گا ۔ اب غور کرو کہ اس پہچان سے اگر اس وقت لوگوں کے ایمان کی شناخت کی جائے تو کتنے ایمان والے ہم میں سے نکل آئیں گے ؟ آج ہم میں سے وہ کون ہے جو اس ایمان کی کسوٹی پر پورا اترتا نظر آتا ہو۔ ہماری اپیل ہے کہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر ہم میں سے ہر ایک شخص خواہ وہ کون ہے ، کیسا ہے اور کہاں ہے اپنے ایمان کو خود پرکھنے کی کوشش کرے اور اگر کسی طرح کی کمزوری محسوس کرے تو اس کو دور کرنے کی خود ہی کوشش کرے تو کافی حد تک اصلاح ہو سکتی ہے اور اصلاح کا یہی طریقہ کارگر ہو سکتا ہے ، اگر ہو سکتا ہے ۔ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کی اصلاح نہیں کرسکتا اور بلا شبہ ہر ایک انسان خود اپنی اصلاح کرسکتا ہے اگر وہ اصلاح کرنا چاہے۔ پکے اور سچے ایمان کی نشانیاں پیچھے بھی بتائی گئی ہیں جیسے سورة التوبہ کی آیت 33 ، 24 میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے اور سورة التوبہ عروۃ الوثقی کی جلد چہارم میں ملے گی ۔ اہل حق کے سچے اور پکے ایمان لانے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے صلہ میں ان کو جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری سنادی اور واضح فرما دیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور جنت میں جہاں ان کو سکونت پذیر ہونا ہے وہاں عجیب و غریب منظر کا وہ نظارہ کریں گے جہاں مختلف طرح کی چیزوں کی نہریں بہہ رہی ہوں گی مثلاً ٹھنڈے میٹھے اور صاف و شفاف پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شراب کی نہریں اور خالص شہد کی نہریں اور جنت کے ان انعامات سے بڑھ کر جو انعام ملے گا اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندیوں کا ہے کہ اللہ ان سے راضی اور وہ اپنے اللہ سے راضی ہوں گے اور بلا شبہ یہ جماعت اللہ کی جماعت ہوگی اور اللہ کی جماعت کی کامیابی میں کون کلام کرسکتا ہے اور ان کی سربلندی اور بلند اقبالی کا کون معترف نہیں ہے۔ لاریب یہ لوگ فیروزبخت ہیں جن کو اللہ جماعت کا سرٹیفکیٹ مل گیا ۔ رضی اللہ عنھم ورضواعنہ۔ اولئک حزب اللہ ۔ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون فالحمد للہ علی ذلک اللھم اجعلنا معھم۔ اسی پر عام پر ہم سورة المجادلہ کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں ۔