58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی خدا نے اس کی التجا سن لی۔ اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے

مسئلہ نمبر 1 قدسمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا وتشتکی الی اللہ جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کی وہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بنت حکیم تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام جمیلہ تھا اور خولہ نام زیادہ صحیح ہے ان کے خاوند کا نام حضرت اوس بن صامت تھا جو حضتر عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔ حضتر عمر اپنے دور خلافت میں اس عورت کے پاس سے گزرے جب کہ کچھ لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے آپ گدھے پر سوار تھے اس عورت نے طویل وقت تک آپ کو رد کے رکھا آپ کو نصیحتیں کیں کہا : اے عمرچ کبھی تجھے عمیر کہا جاتا تھا، پھر تمہیں عمر جانے لگا : پھر تمہیں امیر المومنین کہا جانے لگا۔ اے عمر ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو : کیونکہ جس کو موت کا یقین ہوتا ہے وہ فوت ہنے سے ڈرتا ہے جسے حساب کا یقین ہوتا ہے وہ عذاب سے ڈرتا ہے جب کہ حرت عمر کھڑے اس کی باتیں سن رہے تھے۔ آپ سے عرض کی گئی : اے امیر المومنینچ کیا آپ اس بڑھیا کے لئے اتنا ٹھہرتے ہیں ؟ فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر یہ مجھے دن کے پہلے پہر سے آخری پہر تک رو کے رکھے تو میں کھڑا رہوں گا مگر فرض نماز کے لئے جائوں گا کیا تم جانتے ہو یہ بڑھیا کون ہے ؟ یہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ ہیں اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں سے اوپر اس کی بات کو سنا کیا رب العالمین اس کی بات کو سنے اور عمر اسکی بات کو نہ سنے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا : بڑی ہی برکتوں والی ہے وہ ذات جس کی قوت سماعت ہر شی کو وسیع ہے۔ میں حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی گفتگو سن رہی تھی اور مجھ پر کچھ گفتگو مخفی تھی جب کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی۔ وہ کہہ رہی ھی، یا رسول اللہ ! اس نے میری جوانی کو کھالیا میں نے اپنے پیٹ کو اس کے لئے بکھر دیا۔ جب میں بوڑھی ہوگئی اور مییر جانب سے ولادت کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو اس نے مجھ سے ظہار کیا۔ اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں شکایت کرتی ہوں۔ وہ وہیں تھی کہ حضرت جبرئیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ بخاری شریف میں جو روایت ہے وہ یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا، تمام تر تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی قوت سماعت تمام آوازوں کو جامع ہے۔ ایک جھگڑا کرنے والی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاض رہوئی۔ میں کمرے کے ایک کونے میں موجود تھی میں اس کی بات نہیں سن رہی تھی تو اللہ تعالیٰ اس آیت کو نازل فرمایا (1) ماوردی نے کہا، وہ حضرت خولہ بن ثعلبہ تھیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد بنت خویلد تھیں۔ ان میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ ایک ان میں سے باپ اور دوسرا دادا تھا۔ ان دونوں میں ہر ایک کی طرف اسے منسوب کیا گیا۔ ان کے خاوند حضرت اوس بن صامت تھے جو حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔ ثعلبی نے کہا، حضرت ابن عباس نے کہا مراد حضرت حولہ بنت خویلد خزرجیہ ہیں، یہ حضرت اوس بن صامت کے عقد میں تھیں۔ جو حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے یہ بڑے خوبصورت جسم کی مالک تھیں۔ ان کے خاوند نے انہیں سجدہ کرتے ہوئے دیکھ لیا اس کی سربینک و دیکھا تو معاملہ بڑا عجیب لگا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو خاوند نے ان کا ارادہ کیا تو اس نے انکار کردیا تو خاوند اس پر ناراض ہوگیا۔ حضرت عروہ نے کہا، وہ ایسا آدمی تھا جسے جنون کی کچھ تکلیف تھی اسے یہ عارضہ لاحق ہوا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا، انت علی کظھر امی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ دور جاہلیت میں ایلاء اور ظہار طلاق تھے۔ اس نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” تو اس پر حرام وہ گئی ہے۔ “ اس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اس نے طلاق کا ذکر نہیں کیا۔ پھر کہا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے فاقہ تنہائی و حشت، اپنے خاوند کے فراق اور چچا زاد بھائی کی جدائی کی شکایت کرتی ہوں میں نے اس کے لئے اپنے پیٹ کو بکھیر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تو اس پر حرام ہوگئی ہے۔ “ وہ لگاتار بات دہراتی رہی اور رسول اللہ ﷺ اسے جواب دیدتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے دور جاہلیت کے طریقوں کو منسوخ کردیا ہے جب کہ میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اس بارے میں مجھ پر کوئی وحی نہیں آئی۔ ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر ہر چیز کے بارے میں وحی کی گئی اور آپ سے اس امر کو لپیٹ دیا گیا ؟ فرمایا :” میں نے جو کچھ تجھے کہا ہے وہی کچھ ہے۔ “ اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرتی ہوں اس کے رسول کی بارگاہ میں شکایت نہیں کتری، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا و تش کی الی اللہ۔ دار قطنی نے قتادہ کی حدیث سے روایت نقل کی ہے کہ حضتر انس بن مالک نے انہیں ب یان کیا کہ حضرت اوس بن صامت نے اپنی بیوی حضرت خویلہ بنت ثعلبہ سے ظہار کیا حضرت خیولہ نے اسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں شکایت کی عرض کی : اس نے اس وقت ظہار کیا جب میری عمر بڑی ہوگئی اور میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے آیت ظہار کو نازل فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت اوس سے کہا، ” غلام کو آزاد کرو۔ “ عرض کی : میرے پاس تو کوئی غلام نہیں۔ فرمایا :” دو ماہ کے پے در پے روزے رکھو “ عرض کی : میری حالت یہ ہے کہ میں دن میں تین بار کھانا نہ کھائوں تو میری نظر کمزور ہوجاتی ہے۔ فرمایا :” ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائو “ عرض کی : میں تو کوئی چیز نہیں پاتا سوائے اس کے کہ آپ صلہ رحمی اور مدد کے طور پر میری مدد فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس کی پندرہ صاع کے ساتھ مدد کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اس مال کو جمع کردیا۔ ان اللہ سمیع بصیر۔ کی رائے ہے کہ اس صحابی کے پاس اسی کی مثل مال موجود تھا تو یہ ساٹھ مسکینوں کے لئے ہوگیا۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ حضتر سلمہ بن صخر بیاضی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” ایک غلام آزاد کرو “ کہا : میں نے اپنے ہاتھ سے اپنی گردن پر ہاتھ مارا عضر کی نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں اس کے سوا کسی کا مالک نہیں۔ فرمایا :” دو ماہ کے روزے رکھو ” میں نے عرض کی : یارسول اللہ مجھے جو مصیبت پہنچی ہے وہ روزوں کی وجہ سے ہی پہنچی ہے۔ فرمایا :’ تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو “ (1) ابن عربی نے احکام میں ذکر کیا ہے روایت کی گئی ہے کہ حضتر خواجہ بنت خدیج سے ان کے خاوند نے ظہار کیا وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے عرض کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” تو اس پر حرام ہوچکی ہے “ انہوں نے عضر کی : میں اپنی حاجت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عضر کرتی ہوں۔ وہ پھر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو اس پر حرام ہوچکی ہے ‘ اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتی ہوں جب کہ آپ ﷺ کے سر کے دائیں حصہ کو دھو رہی تھیں پھر وہ بائیں حصہ کی طرف متوجہ ہویں جب کہ وحی ان پر نازل ہوچکی تھی و دوبارہ عضر کرنے لگی۔ حضرت عائشہ نے کہا : خاموش ہوجا ! آپ پر وحی نازل ہوچکی ہے جب قرآن نازل ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خاوند سے فرمایا :” ایک غلام آزاد کرو “۔ اس نے عرض کی : میں تو کوئی غلام نہیں پاتا۔ فرمایا :’ ددو ماہ کے پے در پے روزے رکھو “ اس نے عرض کی : اگر میں دن میں تین بار کھانا نہ کھائوں تو مجھے خوف ہوجاتا ہے کہ میری آنکھیں نابینا ہی نہ ہوجائیں۔ فرمایا :” ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائو “ تو اس نے عرض کی : میری مدد کیجیے تو نبی کریم ﷺ نے اس کی مدد کی۔ ابوجعفر نحاس نے کہا، مفسرین کی رئاے ہے کہ وہ حضرت خولہ تھیں اور ان کے خاوند کا نام حضرت اوس میں صامت تھا۔ اس کے نسب میں علمئا نے اتخلاف کیا ہے بعض نے کہا : وہ ایک انصاری عورت تھی جو ثعلبہ کی بیٹ تھی۔ بعض نے کہا وہ خدیج کی بٹی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خویلد کی بٹی تھی۔ بعض نے کہا، وہ صامت کی بیٹی تھی۔ بعض نے کہا : وہ ایک لونڈی تھی جو عبداللہ بن ابی کی ملک میں تھی یہی وہ لونڈی تھی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ولاتکوھوا فتیتکم علی البغآء ان اردن تحصناً (النور : 33) کیونکہ وہ اسے بدکاری پر مجبور کیا کرتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حکیم کی بیٹی تھی۔ نحاس نے کہا، اس میں کوئی تناقص نہیں، یہ جائز ہے کہ ایک دفعہ وہ اپنے باپ کی طرف منسوب ہو، ایک دفعہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہو، ایک دفعہ اپنے دادا کی طرف منسوب ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ عبداللہ بن ابی کی لونڈی ہو تو اسے ولاء کی وجہ سے انصاریہ کہا گیا ہو کیونکہ عبداللہ انصار میں شمار ہوتا تھا اگرچہ منافق تھا۔ مسئلہ نمبر 2۔ قدسمع کو ادغام اور اظہار کی صورت میں بھی پڑھا گیا ہے۔ سماع میں اصل مسموعات کا ادراک ہے، یہ شیخ ابوالحسن کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ابن فورک نے کہا، صحیح یہ ہے کہ یہ مسموع کا ادراک ہے۔ حاکم ابوعبداللہ نے سمیع کے معنی میں کہا : وہ آوازوں کا ادراک کرتا ہے جن آوازوں کا مخلوقات کانوں سے ادراک کرتی ہے جب کہ اس کے کوئی کان نہیں۔ اس سے مراد یہ کہ آوازیں اس پر مخففین ہیں اگرچہ وہ اس حس سے متصف نہیں جو کانوں میں رکھی گئی ہے جس طرح لوگوں میں سے عاصم (بہرہ) ہوتا ہے جب اس میں حاسہ نہیں ہوتا تو وہ آواز کے ادراک کا اہل نہیں ہوتا۔ سمع اور بصر دونوں صفتیں ہیں جس طرح علم، قدرت، حیات اور ارادہ۔ یہ دونوں صفات ذات میں سے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ان سے متصف ہے۔ شکی اور اشتکی کا معنی ایک ہے اسے تحاورک بھی پڑھا گیا ہے یعنی وہ بات کو بار بار لوٹاتی تھی۔ تجادلک یعنی وہ آپ سے سوال کرتی ہے۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ہیں بیشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ خدا بڑا معاف کرنیوالا اور بخشنے والا ہے

اس میں 23 مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ الذین یظھرون ابن عامر، حمزہ، کسائی اور خلف نے یاء کے فتحہ، ظاء کی تشدید اور الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابو عمرو اور یعقوب نے یظھرون یعنی الف کو حذف کرنے، ھاء اور ظاء کی تشدید اور یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو العالیہ، عاصم اور زربن حبیش نے یظاھرون یعنی یاء کے ضمہ، ظاء کی تخفیف، الف اور ھاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سورة احزاب میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ ابی کی قرأت میں یتظاھرون ہے، یہ ابن عامر اور حمزہ کی قرأت کا معنی ہے۔ ظھر کے لفظ کا ذکررکوب کے معنی سے کنایہ ہے عورت کے بطن پر سوار ہوا جاتا ہے لیکن ظہر کو اس سے کنایۃ ذکر کیا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : نزل عن امراتہ اسے اطلاق دے دی، گویا وہ سواری سے اتر آیا۔ انت علی کظھر امی یعنی تو مجھ پر حرام ہے تیرے اوپر سوار ہونا میرے لئے حلال نہیں۔ مسئلہ نمبر 2۔ ظہار کی حقیقت یہ ہے کہ ایک ظہر کو دوسری ظہر سے تشبیہ دی جاتی ہے اس کے حکم کا موجب یہ چیز ہے کہ حلال پشت کو حرام پشت سے تشبیہ دی جاتی ہے (1) اکثر علماء کی رائے یہ ہے : اگر اس نے اپنی بیوی سے کہا انت علی کظھر بنتی اور اختی وغیرہ جب کہ جس عورت کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے وہ ذوات المحارم میں سے ہو تو وہ مظاہر ہوگا، یہ امام مالک، امام ابوحنیفہ وغیرہ کا مذہب ہے۔ امام شافعی سے اس بارے میں اختلاف مروی ہے۔ ان سے امام مالک کے قول جیسا قول بھی مروی ہے کیونکہ اس نے اپنی بیوی کو ایسی محرم کی پشت سے تشبیہ دی ہے جو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام تھی جیسے ماں۔ ان سے ابو ثور نے روایت کی ہے کہ ظہار صرف ماں کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے، یہ قتادہ اور شعبی کا مذہب ہے۔ پہلا قول حضرت حسن بصری، نخعی، زہری، اوزاعی اور ثوری کا نقطہ نظر ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ ظہار کی اصل یہ ہے کہ کوئی آدی اپنی بیوی سے کہے، انت علی کظھر امی اللہ تعالیٰ نے ظہر کا لفظ بطن سے کنایہ اور پردہ کے طور پر ذکر کیا ہے اگر وہ کہے : انت علی کامی اور ظھر کا ذکر نہیں کیا یا کہا انت علی مثل امی اگر اس صورت میں ظہار کا ارادہ کیا تو جو اس نے نیت کی وہی حکم ہوگا۔ اگر طلاق کا اراد کیا تو امام مالک کے نزدیک اسے طلاق بائنہ ہوجائے گی، اگر طلاق اور ظہار کی نیت نہ ہو تو وہ مظاہر ہوگا صریح ظہار نیت کے ساتھ طلاق کی طرف نہیں پھرے گا۔ جس طرح صریح طلاق اور معروف کنایہ ظہار کی طرف نہیں پھرے گا۔ ظہار کو جب گنایہ کی صورت میں ذکر کیا گیا تو یہ نیت کے ساتھ طلاق بائنہ کی طرف پھرجائے گا۔ مسئلہ نمبر 4۔ ظہار کے الفاظ دو قسم کے ہیں صریح، کنایہ، صریح یہ ہے انت علی کظھر امی، انت عندی و انت منی وانت معی کظھر امی، تو مجھ پر، میرے ہاں میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ اس طرح اس کا یہ قول انت علی کبطن امی اوکر اسھا او فرجھا اونحوہ اسی طرح اس کا یہ قول فرجک، راسک، ظھرک، بطنک، رجلک علی کظھر امی تو اس صورت میں بھی وہ مظاہر ہوگا۔ اس کا قول یدک، رجلک را سک، فرجک طالق تو اسے طلاق ہو جائیگی۔ امام شافعی کا ایک قول یہ ہے، وہ ظہار کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہ قول ضعیف ہے کیونکہ انہوں نے ہمارے ساتھ موافقت کی ہے کہ ان اعضاء کی طرف طلاق کو منسوب کرنا صحیح ہے۔ امام حنیفہ نے اس سے اختلاف کیا تو پس اس کی طرف ظہار کی نسبت کرنا بھی صحیح ہے۔ جس نے اپنی بیوی کو اپنی ماں، اپنی دادی خواہ باپ کی جانب سے ہو یا ماں کی جانب سے تو بغیر کسی اختلاف کے وہ ظہار ہوگا۔ اگر اس نے ان کے علاوہ کسی اور ایسی عورت سے اپنی بیوی کو تشبیہ دی جو کسی حال میں بھی اس کے لئے حلال نہیں ہوتی جس طرح بیٹی، بہن، پھوپھی اور خالہ تو اکثر فقہاء کے نزدیک وہ مظاہر ہوگا اور امام شافعی کا بھی صحیح مذہب یہی ہے۔ جو ہم نے ذکر کیا ہے اس کا کنایہ ہے کہ وہ کہے : انت علی کامی اومثل امی اس میں نیتک اعتبار ہوگا اگر ظہار کا ارادہ کیا تو ظہار ہوگا اگر ظہار کا ارادہ نہ کیا تو امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہار نہیں ہوگا۔ امام مالک کا مذہب اس کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہ دی ہے تو یہ ظہا رہو گا اس کی اصل یہ ہے کہ وہ ظہر کے لفظ کا ذکر کرے اور یہ قوی ہے کیونکہ لفظ کا معنی اس میں موجود ہے اور لفظ اپنے معین کے ساتھ ہی ہوتا ہے ظہر کا حکم اپنے لفظ کی وجہ سے لازم نہیں اسے اس کے معنی کی وجہ سے لازم کیا گیا ہے جو تحریم ہے، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ (1) مسئلہ نمبر 5۔ اگر اس نے اپنی بیوی کو اپنی ماں کے کسی عضو کے ساتھ تشبیہ دی تو وہ ظہار کرنے والا ہوگا جب کہ امام ابوحنیفہ نے اس سے اتخلاف کیا ہے آپ کا کہنا ہے : اگر خاوند نے اپنی بیوی کو کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دی جس کی طرف دیکھنا اس کے لئے حلال تھا تو وہ مظاہر نہیں ہوگا۔ یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ استمتاع کے طریقہ پر اس کی طرف دیکھنا حلال نہیں اس میں تشبیہ واقع ہے اور مظاہرے نے اس کا قصد کیا ہے۔ امام شافعی نے ایک قول میں کہا : وہ صرف اس صورت میں مظاہر ہوگا جب وہ لفظ ظہر کا ذکر کرے گا۔ یہ استدلال فاسد ہے کیونکہ اس کا ہر عضو حرام ہے تو اس قسم کے ساتھ تشبیہ ظہار ہوگا جس طرح ظہر کا لفظ ذکر کیا جائے تو ظہار ہوتا ہے کیونکہ ظہار کرنے والا حلال عورت کو حرام عورت کے ساتھ تشبیہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو حکم ضرور لازم ہوگا۔ مسئلہ نمبر 6۔ اگر اس نے اپنی بیوی کو کسی اجنبی عورت کے ساتھ تشبیہ دیا گر اس نے ظہار کا ذکر کیا تو وہ ظہار وہ گا پہلے مسئلہ پر قیاس کرتے ہوئے۔ اگر لفظ ظہر کا ذکر نہ کیا تو اس میں ہمارے علماء نے اختلاف کیا ہے ان علماء میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے کہا : یہ ظہار ہے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے کہا، یہ طلاق ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی نے کہا، یہ کچھ بھی نہیں۔ ابن عربی نے کہا یہ فاسد ہے (2) کیونکہ حلال عورت کو حرام عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے تو یہ اس کے حکم کے ساتھ مقید ہوگی جس طرح ظہر کا لفظ ہے ہمارے نزدیک اسماء معانی کیساتھ ہوتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک اپنے الفاظ کے ساتھ ہوتے ہیں یہ ان کی جانب سے اصل کے خلاف ہے۔ میں کہتا ہوں : اجنبیہ کے ساتھ جب تشبیہ دی جائے تو امام مالک کے نزدیک ظہار میں اختلاف کیا ہے۔ آپ کے اصحاب میں سے کھچ وہ ہیں جو ظہار صرف اس صورت میں تسلیم کرتے ہیں جب ذوی المحارم کے ساتھ تشبیہ دی جائے اور باقی ماندہ عورتوں کے ساتھ شبیہ دینے کی صورت میں وہ ظہار تسلیم نہیں کرتے۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو اسے کوئی چیز بھی قرار نہیں دیتے اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اجنبی میں اسے طلاق قرار دیتے ہیں۔ امام مالک کے نزدیک جب اس نے کہا، کظھر ابنی اوغلامی اور کظھر زید او کظھر اجنبیۃ تو یہ ظہار ہوگا اس عورت کے ساتھ قسم کے ہوتے ہوئے وطی کرنا حلال نہیں ہوگا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے جب غیر ذوی المحارم کے ساتھ تشبیہ دی جائے تو یہ کچھ بھی نہیں جس طرح کفو اور امام شافعی نے کہا، اور زاعی نے کہا، اگر اس خاوند نے کہا : انت علی کظھر فلان رجل تو یہ قسم ہوگی وہ اس قسم کا کافرہ دے گا۔ مسئلہ نمبر 7۔ جب اس نے کہا : انت علی حرام کظھر امی یہ ظہار ہوگا، طلاق نہیں ہوگی کیونکہ اس کا قول انت علی حرام یہ طلاق کے ساتھ حرمت کا احتمال رکھتا ہے تو اس عورت کو طلاق ہوجائے گی۔ یہ ظہار کی وجہ سے بھی حرمت کا احتمال رکھتی ہے جب اس نے وضاحت کردی تو یہ دو احتمالوں میں سے ایک کی تفسیر ہوگی اس میں اس کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔ (3) مسئلہ نمبر 8۔ ظہار ہر ایسی بیوی کے بارے میں لازم ہوجائے گا وہ مدخولہ ہو یا نہ ہو کسی بھی ایسی حالت میں جس میں اس بیوی کو طلاق جائز ہو اسی طرح امام مالک کے نزدیک اس لونڈی کے ساتھ بھی ظہار کرنا جائز ہے جس کے ساتھ اس کا وطی کرنا جائز ہے۔ جب مرد نے ان کے ساتھ ظہار کیا تو ان کے بارے میں ظہار لازم ہوجائے گا۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی نے کہا : لازم نہیں ہوگا۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : یہ ہمارے لئے بہت مشکل مسئلہ ہے کیونکہ امام مالک کہا کرتے تھے : جب اس نے اپنی لونڈی سے کہا انت علی حرام تو یہ لازم نہیں آتا۔ اس میں صریح تحریم کیسے باطل ہوگی اور کنایہ صحیح ہوگا۔ مگر لونڈی من یسآئھم کے عموم میں داخل ہے کیونکہ اس نے ان کی حلال عورتوں کا ارادہ کیا ہے۔ اس میں علت یہ ہے کہ یہ ایسا لفظ ہے جو بعض کے متعلق ہے عقد ختم کرنے کے متعلق نہیں پس لونڈی میں ظہار صحیح ہے اس کی اصل اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھانا ہے۔ مسئلہ نمبر 9۔ نکاح سے پہلے بھی ظہار ہو سکتا ہے جب وہ اس عورت سے نکاح کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہو، یہ امام مالک کا نقطہ نظر ہے۔ جب کہ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہار لازم نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے من نسآئھم جب کہ وہ عوتریں جس سے ابھی شادی نہ ہوئی ہو وہ اس کی عورتوں میں سے نہیں سورة برأت میں اس مسئلہ کی اصل آیت ومنھم من عھد اللہ (التوبہ : 75) میں گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 10۔ ذمی کا ظہار لازم نہیں ہوتا، یہ امام ابوحنیفہ نظر ہے۔ امام شافعی نے کہا : ذمی کا اظہار صحیح ہے ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے منکم یعنی مسلمانوں میں سے۔ یہ کلام ذمی کے خطاب سے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے : یہ خطاب کی دلیل سے استدلال ہے۔ ہم کہیں گے : یہ اشتقاق اور معنی سے استدلال ہے کیونکہ کفار کے نکاح فاسد اور فسخ کے مستحق ہیں ان کے ساتھ طلاق اور ظہار کا حکم متعل نہیں ہوتا، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے و اشھدوا ذوی عدل منکم (الطلاق : 2) جب نکاح صحت کی شروط سے خالی ہوں تو یہ فاسد ہوں گے نکاح فاسد میں کسی حال میں بھی ظہار نہیں (1) مسئلہ نمبر 11۔ منکم کے الفاظ غلام کے ظہار کے صحیح ہونے کا تقاضا کرتے ہیں جو اس سے منع کرتے ہیں انہوں نے اس سے اختلاف کیا ہے ثعلبی نے اسے امام مالک سے حکایت کیا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں میں سے ہے اور اس کے حق میں احکام نکاح ثابت ہیں اگرچہ اس پر غلام آزاد کرنا اور کھانا کھلانا متعذر ع ہے۔ وہ صرف روزوں پر قادر ہے۔ مسئلہ نمبر 12۔ امام مالک (رح) نے کہا، عوتریں ظہار نہیں کرسکتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الذین یتھرون منکم من نسآئھم یہ نہیں فرمایا والاللی یظھرون منکم من الجھن ظہار صرف مردوں کے لئے ہے۔ ابن عربی نے کہا کہ ابن قاسم، سالم یحییٰ بن سعید، ربیعہ اور باو زتا ونے نے یہی روایت کیا ہے معین کے اعتبار سے یہ صحیح ہے کیو کہ حل، عقد، تحلیل اور تحریم نکاح کے معاملہ میں مردوں کے ہاتھ میں ہے۔ ان میں سے عورتوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں یہی اجماع ہے۔ ابو عمر نے کہا، جمہور کے قول کے مطابق عورتوں پر کوئی ظہار نہیں۔ حسن بن زیاد نے کہا، وہ ظہار کرسکتی ہے۔ امام ثوری، امام ابوحنیفہ اور امام محمد نے کہا، نکاح سے قبل اور اس کے بعد عورت اپنے خاوند سے ظہار نہیں کرسکتی۔ امام شافعی نے کہا : عورت اپنے خاوند سے ظہار نہیں کرسکتی۔ امام اوزاعی نے کہا، جب عورت اپنے خاوند سے کہے انت علی کظھر امی او کظھر فلانہ تو یہ عورت کی جانب سے قسم ہوجائے گی وہ اس کا کفارہ دے گی۔ اسحاق نے اسی طرح کہا ہے، ایک عورت خاوند سے ظہار کرنے والی نہیں ہو سکتی لیکن اس پر قسم لازم ہوگی جس کا وہ کفار دے گی۔ زہری نے کہا، میری رئاے یہ ہے کہ وہ ظہار کا کفارہ دے اس کا یہ قول اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان حقوق زوجیت کے اعتبار سے حئال نہیں ہوگا۔ یہ روایت انسے معمر نے نقل کی ہے۔ ابن جریج نے عطا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس پر جو امر حلال کیا تھا اس نے اسے حرام کردیا اس پر کفارہ یمین ہوگا، یہ امام ابویوسف کا قول ہے۔ محمد بن حسن نے کہا، اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔ مسئلہ نمبر 13۔ جسے کچھ جنون کا مضر ہو۔ کسی موقع پر اس کے کلام میں نظم پیدا ہوجائے جب وہ ظہار کرے تو اس پر ظہار لازم ہوجائے گا، کیونکہ حدیث طیبہ میں یہ روایت مروی ہے کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ جن کے خاوند کا نام اوس بن صامت تھا اسے جنون کی کچھ شکایت تھی اور اس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا۔ مسئلہ نمبر 14۔ جس کو غصہ آئے اور وہ اپنی بیوی سے ظہار کرلے یا اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کا غصہ اس کے حکم کو ساقط نہیں کریگا۔ ایک حدیث کی سند میں ہے کہ یوسف بن عبداللہ بن سلام نے حضرت خولہ جو حضرت اوس بن صامت کی زوجہ تھیں سے روایت نقل کی ہے حضرت خولہ نے کہا، میرے اور اس کے (خاوند) کے درمیان کچھ ناراضگی ہوئی تو اس نے کہا : انت علی کظھر ایم تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر وہ اپنی قوم کی مجلس کی طرف چلے گئے۔ حضرت خولہ کا قول کان بینی وبینہ شئی میں دلیل ہے۔ کہ ان میں کوئی جھگڑا ہوا تھا جس نے انہیں مجبور کیا تو ان کے خاوند نے ان سے ظہار کرلیا۔ غضب لغو چیز ہے یہ کسی حکم کو ختم نہیں کرتی اور نہ ہی شرعی حکم میں تبدیلی کرتی ہے، اسی طرح نشہ ہے۔ مسئلہ نمبر 15۔ جب خاوند نشہ کی حالت میں ہو اور وہ اپنے قول کو سمجھتا ہو اور کلام کو منظم کرسکتا ہو تو ظہار اور طلاق کا حکم اس پر لازم آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حتی تعلموا ماتقولون (النسائ : 43) جس طرح سورة نساء میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 16۔ مظاہر اپنی بیوی کے قریب نہ آئخے، اس سے مباشرت نہ کے اور کسی بھی حوالے سے اس سے لذت حاصل نہ کرے یہاں تک کہ وہ کفارہ ادا کرے مگر امام شافعی نے اپنے دو قولوں میں سے ایک میں اختلاف کیا ہے کیونکہ خاوند کا یہ قول انت علی کظھر امی تقاضا کرتا ہے کہ ہر قسم کا استمتاع حرام ہودہ لفظ کے ساتھ ہو یا اس کے معنی یعنی عمل کی صورت میں ہو۔ مسئلہ نمبر 17۔ اگر وہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے وطی کرے تو اللہ تعالیٰ سے بخش کا طالب ہو اور اس سے رک جائے یہاں تک کہ ایک کفارہ ادا کرے۔ مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا : اس پر دو کفارے لازم ہیں۔ سعید نے قتادہ سے اور مطرف نے رجاء بن حیوہ سے وہ قبیصہ بن ذویمب سے حضرت عمرو بن عاص سے مظاہرے کے بارے میں ریات نقل کرتے ہیں : جب اس نے کفارہ ادا کرنے سے قبل وطی کی تو اس پر دو کفارے ہوں گے۔ معمر نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ قبیصہ بن ذوئیب نے کہا، اس پر دو کفارے ہوں گے۔ ائمہ کی جماتع نے روایت کی جب کہ ان میں ابن ماجہ اور نسائی بھی ہیں : ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تو کفارہ ادا کرنے سے قبل اس سے جماع کیا پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کا آپ کے سامنے ذکر کیا آپ نے پوچھا :” کس چیز نے تجھے اس امر پر برانگیختہ کیا ؟ “ اس نے عضر کی : میں نے چاند کی روشنی میں اسک پازیب کی سفیدی کو دیکھا تو میں اپنے آپ پر قابو نہ کرسکا تو میں نے اس سے جماع کرلیا۔ نبی کریم ہنس پڑے اور اسے حکم دیا کہ ” وہ اس کے قریب نہ جائے یہاں تک کہ وہ کفارہ ادا کرلے۔ “ (1) ابن ماجہ اور دارقطنی نے سلمیان بن یسار سے وہ حضرت سلمہ بن صخر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ظہار کیا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کرلیا پھر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اسے ایک کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ مسئلہ نمبر 18۔ جب کوئی مرد ایک ہی کلمہ سے چار عروتوں سے ظہار کرے جس طرح وہ کہے انت علی کظھر امی وہ ان میں سے ہر عورت سے ظہار کرنے والا ہوگا ان میں سے کسی سے بھی وطی کرنا اس کے لئے جائز نہیں ہوگا اور صرف ایک کفارہ اس کے لئے کافی ہوگا۔ امام شافعی نے کہا، اسے چار کفارے لازم ہوں گے۔ آیت میں اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ جمع کا لفظ عام مونوں کے بارے میں ہے اعتماد معنی پرہ وگا۔ دارق طنی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کہا کرتے تھے، جب ایک مرد کی چاربیویاں ہوں تو وہ ان سے ظہار کرے تو اسے ایک کافرہ ہی کافی ہوگا۔ اگر وہ ایک کے بعد دسوری سے ظہار کرے تو ہر ایک میں ایک کفارہ لازم آئے گا۔ یہی اجماع ہے۔ مسئلہ نمبر 19۔ اگر اس نے چار عورتوں سے کہا : اگر میں تم سے شادی کروں تو تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو اس نے ان میں سے ایک عورت سے شادی کی تو وہ ان کیق ریب نہ جائے یہاں تک کہ وہ کفارہ دے پھر سب عورتوں کے بارے میں اس کی قسم ختم ہو جائیگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ باقی عورتوں سے بھی وطی نہیں کرسکتا (شادی کے بعد) یہاں تک کہ وہ کفارہ ادا رکے۔ پہلا قول مذبہ ہے۔ مسئلہ نمبر 20۔ اگر اس نے اپنی بیوی سے کہا : انت علی کظھر امی وانت طالق البتہ (2) تو اسے طلاق اور ظہار دونوں لازم ہوجائیں گے، و کفارہ نہیں دے گا یہاں تک کہ اس عورت سے ایک اور خاوند کے بعد نکاح کرے اور جب اس سے نکاح کرلیا تو کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے وطی نہ کرے۔ اگر اس نے کہا، انت طالق البتۃ وا نت علی کظھر امی اسے طلاق لازم ہوجائے گی اور اسے ظہار لازم نہیں ہوگا کیونکہ جس کو طلاق بائنہ دی جا چکی ہو اسے ظہار لاحق نہیں ہو سکتا۔ مسئلہ نمبر 21۔ بعض علماء نے کہا، جس بیوی سے حقوق زوجیت ادا نہ کئے ہوں اس کے ساتھ ظہار کرنا درست نہیں۔ مزنی نے کہا، مطلقہ رجعیہ سے ظہار صحیح نہیں۔ یہق ول کچھ بھی نہیں کیونکہ دونوں صورتوں میں زویجت کے احکام بقای ہیں جس طرح ایسی عورت کو طلاق ہو سکتی ہے اسی طرح ظھار بھی ہو سکتا ہے۔ قیاس و نظر یہی ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 22 ماھن امھتھم ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں۔ عام قرأت امھاتھم ہے اہل حجاز کی لغت کے مطابق تاء مسکور ہے، جس طرح فرمایا : ماھذا بشراً (یوسف : 31) فراء نے کہا، اہل نجدا اور بنو تمیم کہتے ہیں : ماھذا بشر، ماھن امھاتھم یہ مرفوع ہے۔ ان امھتھم الا الی ولد نھم ان کی مائیں نہیں مگر جنہوں نے انہیں جنا ہے ضرب المثل ہے ولدک من دمی عقبیک تیری والدہ وہ ہے جس نے تیرے بعد خون بہایا۔ اس بارے میں گفتگو سورة احزاب میں گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 23۔ وانھم لیقولون منکرا من القول وزوراً منکر کا معنی ہے ایسی بات جو شرع میں معروف نہ ہو اور زور سے مراد جھوٹ ہے (1) وان اللہ لعفو غفور۔ وہ عفو و غفور اس اعتبار سے ہے کہ اس نے کفارہ کو اس قول سے خلاصی کے لئے ذریعہ بنا دیا ہے۔
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے بہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضرور) ہے (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصحیت کی جاتی اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

مسئلہ نمبر 1۔ والذین یظھرون من نسآئھم یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر فتحریر رقبۃ ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتی ہے اس لئے اسے حذف کردیا گیا ہے یعنی فعلھم تحریر رقبۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفارتھم عتق رقبۃ ظہار کے معاملہ میں جس قول پر تمام علماء کا اجماع ہے وہ ایک آدمی کا اپنی بیوی کو یہ کہنا ہے : انت علی کظھر امی یہ وہ قول منکر اور قول زور ہے جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں فرمایا ہے : وانھم لیقولون منکرا من القول وزوراً جس نے یہ قول کیا اس پر اپنی بیوی سے وطی کرنا حرام ہے، جس نے یہ بات کہی پھر اس سے رجوع کیا تو اس پر کفارہ ظہار لازم وہ گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نافرمان ہے والذین یظھرون من نسآء ئبھم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبۃ یہ کلام اس بات کے رد پر دلالت کرتا ہے کفارہ ظہار صرف قول سے لازم نہیں آتا یہاں تک کہ اس کے ساتھ رجوع ملا ہوا ہو۔ یہ مشکل حرف ہے اس میں اختلاف پایا جاتا ہے اس کے بارے میں سات اقوال ہیں : (1) اس سے مراد وطی پر عزم ہے یہ امام حنیفہ اور آپ کے اصحاب کا مشہور قول ہے۔ امام مالک سے مروی ہے، اگر اس نے وطی کا عزم کرلیا تو یہ عود تصور ہوگا اگر اس نے وطی کا عزم نہ کیا تو یہ عود نہ ہوگا (2) اس سے ظہار کرنے کے بعد امساک (اپنے پاس روکنے پر عزم) ، یہ امام مالک کا قول ہے (3) دونوں پر اس کا عزم یہ امام مالک کا موطا میں قول منقول ہے۔ امام مالک نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : والذین یظھرون من نسآء ئھم ثم یعودون لماقالوا کے بارے میں کہا، میں نے سنا کہ اس کی تفسیر یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے ظہار کرے پھر وہ اس کے ساتھ حقوق زویجت ادا کرے اور اس کو اپنے پاس روکنے کا پختہ عزم کرے۔ اگر اس نے یہ عزم کرلیا تو اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ اگر اس نے اسے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہ کئے اور اسے پاس رکھنے کا ارادہ نہ کیا تو اس پر کوئی کفارہ نہ ہوگا۔ امام مالک نے کہا، اگر اس نے اس سے اس کے بعد شادی کی تو جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کرے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا۔ (4) عود سے مراد وطی کرنا ہے اگر اس نے وطی نہ کی تو یہ عود نہ ہوگا، یہ حضرت حسن بصری اور امام مالک کا نقطہ نظر ہے (5) امام شافعی نے کہا، اس سے مراد ہے کہ ظہار کے بعد طلاق پر قادر ہونے کے باوجود وہ اس کو اپنی بیوی کی حیثیت سے روکے رکھے کیونکہ جب اس نے ظہار کیا تھا تو اس نے تحریم کا قصد کیا تھا اگر اس نے اس کو طلاق دے دی تو اس نے اس کے برعکس کردیا جو اس نے حرمت واقع کرنے کا قصد کیا تھا اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ طلاق دینے سے رک گیا تو وہ اس امر کی طرف لوٹ آیا جس پر وہ پہلے سے تھا تو اس پر کفارہ واجب ہوگا (6) ظہار حرمت کو ثابت کرتا ہے اسے کفارہ ہی ختم کرسکتا ہے۔ اس قول کے قائلین کے نزدیک عود کا معنی ہے اس کے ساتھ وطی کرنا مباح نہیں مگر اس صورت میں کہ پہلے وہ کفارہ ادا کرے، یہ امام ابوحنیفہ آپ کے اصحاب اور لیث بن سعد کا نقطہ نظر ہے۔ (7) اس سے مراد ظہار کے لفظ کو مکرر ذکر کرنا ہے، یہ اہل ظواہر کا قول ہے۔ جو قیاس کی نفی کرتے ہیں انہوں نے کہا، اگر اس نے ظہار کا لفظ مکرر ذکر کیا تو یہی لوٹنا ہے اگر مکرر ذکر نہیں کیا تو یہ لوٹنا نہیں، اس قول کو بکیر بن اشج، ابو العالیہ اور امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ ابو العالیہ نے کہا، آیت کا ظاہر اس کی تائید کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ثم یعودون لما قالوا یعنی جو انہوں نے کہا اس کی طرف لوٹتے ہیں۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے فرمان والذین یظھرون من نسآئھم ثم یعودون لما قالوا کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو کہتا ہے : انت علی کظھر امی جب اس نے پاین بیوی کو یہ کہا تو وہ اس پر حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ کفارہ ظہار ادا کرے (1) ابن عربی نے کہا، جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ اس سے مراد لفظ ظہار کی طرف لوٹنا ہے تو یہ قطعی طور پر باطل ہے، یہ بکیر سے ثابت نہیں یہ اس کے زیادہ مشابہ ہے کہ یہ دجائود اور اس کے متعبین کی جہالت ہے۔ ظہار کرنے والوں کے قصے روایت کئے گئے ہیں ان پر کفاروں کے واجب ہونے کے ذکر میں ان کے قول کو دوبارہ کرنے کا ذکر نہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ معنی اس کی نفی کردیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس قول کی یہ صفت بیان کی ہے کہ یہ قول منکر اور زور ہے تو اسے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے : جب تو نے ایسا قول دوبارہ کیا اور ممنوع سبب دوبارہ کیا تو تجھ پر کفارہ واجب ہوجائے گا ؟ یہ قابل فہم بات نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہر وہ سبب جو کفارہ کو واجب کرتا ہے اس میں اعادہ کئی کوئی شرط نہیں وہ قتل ہو، روزہ کی حالت میں وطی ہو یا کوئی اور چیز (1) میں کہتا ہوں : اس (ابن عربی) کا قول یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہ دائود اور اس کے پیروکاروں کی جہالت ہو یہ ابن عربی کی جابن سے اس پر ایک بات کو مسلط کرنا ہے اس نے دائود کا وہ قول کیا جس کو ہم نے اس سے ذکر کیا ہے جہاں تک امام شافعی کے قول کا تعلق ہے کہ یہ طلاق پر قدرت کے باوجود اسے ترک کرنا ہے تو تین اہم امور اس کی نفی کرتے ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ثم یہ ظاہر میں تراخی کا تقاضا کرتا ہے (2) اللہ تعالیٰ کا فرمان : ثم یعودون ایک جہت سے فعل کے وجو کا تقاضا کرتا ہے اور مرور زمانہ اس کی جانب سے فعل نہیں (3) طلاق رجعی ملک کی بقا کے منافی نہیں تو ظہار کا حکم ساقط نہیں ہوگا جس طرح ایلاء ہے۔ اگر یہ قول کیا جائے : جب اس نے اسے اپنی ماں کی حیثیت میں دیکھا ہے تو اسے اپنے پاس نہ روکے کیونکہ ماں کو نکاح میں روکنا صحیح نہیں۔ ماوراء النہر کے علماء کے قول کا انحصار اسی استدلال پر ہے۔ میں کہتا ہوں : جب اس نے اپنے قول کے خلاف کا عزم کرلیا اور اسے اپنی ماں کے خلاف دیکھا تو کفارہ ادا کردیا اور اپنے اہل کی طرف لوٹ آیا۔ اس قول کی وضاحت یہ ہے کہ عزم قول نفسی ہے یہ ایسا آدمی ہے جس نے ایسا قول کیا جو تحلیل کا تقاضا کرتا ہے وہ نکاح ہے اور اس نے ایسا قول کیا جو تحریم کا تقاضا کرتا ہے وہ ظہار ہے پھر اس نے اس کی طرف رجوع کیا جو اس نے کہا تھا وہ تحلیل ہے۔ یہ صحیح نہیں کی اس کی جانب سے عقد کی ابتداء ہو، کیونکہ عقد باقی ہے تو کوئی چیز باقی نہیں مگر یہ کہ اس نے ایسا عزم کیا جو اس کے اعتقاد کے مخلاف تھا اس نے اپنے دل میں ظہار کا قول کیا تھا جس کی خبر اس نے انت علی کظھر امی کے قول سے دی جب یہ اس طرح ہے تو اس نے کفارہ ادا کیا اور اپنے اہل کی طرف لوٹ آیا کیونکہ ارشاد ہے من قبل ان یتمآ سایہ بہت عمدہ تفسیر ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ بعض علماء نے کہا، آیت میں تقدیم و تاخیر ہے معنی ہے جو اپنی بیویوں سے ظہار کترے ہیں پھر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں جس پر وہ پہلے تھے یعنی جماع کیا تو اس پر غلام کو آزاد کرنا لازم ہے یعنی انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس کی وجہ سے ان پر غلام آزاد کرنا لازم ہے۔ لما قالوا کا حرف جار اسی محذوف کے متعلق ہے جو مبتدا کی خبر ہے وہ علیھم ہے ! یہ اخفش کا قول ہے۔ زجاج نے کہا، معنی ہے وہ جماع کے ارادہ کی طرف لٹوتے ہیں اس وجہ سے جو انہوں نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی یہ ہے وہ دور جاہلیت میں اپنی بیویوں سے ظہار کیا کرتے تھے پھر وہ دور اسلام سے اس بات کی طرف لوٹتے ہیں جو انہوں نے دور جاہلیت میں کیہ تھی تو جس نے دور اسلام میں ایسی بات کہی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے۔ فراء نے کہا، لام، عن کے معنی میں ہے معنی ہے جو انہوں نے کہا اسی سے وہ رجوع کرتے ہیں اور وطی کا ارادہ کرتے ہیں۔ اخفش نے کہا، لماقالوا اور الی قالوا دونوں ایک ہی ہیں لام اور الی ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان : الحمد اللہ الذی ھدئنا لھذا (الاعراف : 43 ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاھدوھم الی صراط الجحیم۔ (الصافات) نص کا فرمان ہے : بان ربک اوحی لھا۔ (الزلزتہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واوحی الی نوح (ہود : 36) مسئلہ نمبر 3۔ فتحریر رقبۃ اس پر غلام کا آزاد کرنا لازم ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : حررتہ یعنی میں نے اسے آزاد کردیا۔ پھر اس غلام کے لئے ضرویر ہے کہ وہ کامل ہو اور ہر عیب سے محفوظ ہو۔ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس کے کامل ہونے سے مراد اس کا مسلمان ہونا ہے جس طرح کفارہ قتل میں مسلمان غلام ہی آزاد کیا جاسکتا ہے۔ امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کے نزدیک کافر غلام بھی آزاد کیا جاسکتا ہے اسی طرح وہ غلام بھی آزاد کیا جاسکتا ہے جس میں رق کا شائبہ ہو جیسے مکاتبت وغیرہ۔ مسئلہ نمبر 4۔ اگر اس نے دو غلاموں کا ایک ایک نصف آزاد کیا تو ہمارے امام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز نہیں ہوگا۔ امام شافعی نے کہا، جائز ہے کیونکہ دو غلاموں کا نصف ایک غلام کے معنی میں ہے کیونکہ غلام کی صورت میں کفارہ کا طریقہ مال ہے تو اس میں تبعیض اور تجزیہ جائز ہے جس طرح کھانا کھلانا۔ مہاری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : فتحریر رقبۃ اس اسم سے مراد ایک شخص ہے۔ قربہ کا بعض رقبہ نہیں یہ ان چیزوں میں سے نہیں جس میں دو چیزوں کو ملا کر داخل کیا جاسکے کیونکہ وہ عبارت جو ایک رقبہ کے متعلق ہے تو دو رقبہ کا نصف اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ اس کی اصل یہ ہے کہ جب آدمی دو قربانیوں میں شریک ہوں اور اس لئے بھی کہ اگر کسی نے دوآدمیوں کو حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے ایک حج کریں تو ان میں سے کسی کے لئے جائز نہیں ہوگا کہ ان دونوں میں ایک اس کا نصف حج کرے اسی طرح یہ ہے اور اس لئے بھی کہ اگر اس نے وصیت کی کہ ایک غلام خریدا جائے اور اس کی طرف سے اسے آزاد کردیا جائے تو یہ جائز نہ ہوگا کہ دو غلام کا نصف نصف اس کی طرف سے آزاد کیا جائے اس طرح ہمارے اس مسئلہ میں ہے۔ اس بحث کے ساتھ ان کی دلیل باطل ہوجاتی ہے کھانا کھلانا وغیرہ میں بھی ہمارے نزدیک اس میں تجزی جائز نہیں۔ مسئلہ نمبر 5۔ من قبل ان یتمآسا اس کے ساتھ جماع کرنے سے پہلے۔ مظاہر کے لئے کفارہ ادا کرنے سے قبل وطی کرنا جائز نہیں (1) اگر اس نے کفارہ ادا کرنے سے قبل جماع کیا تو وہ گناہگار ہوگا، نافرمانی کرے گا اور اس سے کفارہ ساقط نہیں ہوگا۔ مجاہد سے مروی ہے : اگر اس نے کفارہ ادا کرنے میں شروع ہونے سے پہلے ہی وطی کی تو اس پر دوسرا کفارہ لازم وہ جائے گا۔ دوسرے علماء سے یہ مروی ہے : وہ کفارہ جو ظہار کی وجہ سے وابج ہوتا ہے وہ اس سے ساقط ہوجائے گا اس پر اصلاً کوئی چیز لازم نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ واجب کیا ہے اور جماع کرنا ے سے قبل اسے ادا کرنے کا حکم دیا ہے جب اس نے اسے موخر کیا یہاں تک کہ اس کے ساتھ جماع کرلیا تو اس کا وقت فوت ہوجائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ کفارہ ثابت ہوگا کیونکہ وطی کے علاوہ بوسہ، معاشرت اور لذت حاصل کرنے کا تعلق ہے تو اکثر علماء کے نزدیک حرام نہیں، یہ حضرت حسن بصری اور سفیان کا قول ہے، امام شافعی کا بھی صحیح مذہب یہ ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سب حرام ہیں اور سب کے معانی ہیں، یہ امام مالک، امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 6۔ ذلکم توعظون بہ اس کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے واللہ بماتعملون خبیر۔ یعنی تم جو کفارہ وغیرہ دیتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ مسئلہ نمبر 7۔ جو نہ غلام پائے اور نہ ہی اس کی قیمت پائے یا مالک تو ہو مگر اس غلام کی اس کو شدید ضرورت ہو یا وہ غلام کی قیمت کا مالک تو ہو مگر اس کو اپنے نفقہ کے لئے اس رقم کی ضرورت ہو یا اس کا مکسن تو ہو اس کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہ ہو اور وہ اس کے علاوہ کوئی چیز نہ پاتا ہو تو اس کے لئے روزے رکھنا جائز ہے، یہ امام شافعی کا نقطہ نظر ہے امام ابوحنیفہ نے کہا، وہ روزے نہ رکھے اس پر غلام ہی آزاد کرنا لازم ہے اگرچہ اسے اس کی ضرورت بھی ہو۔ امام مالک نے کہا، جب اس کا گھر ہو اور اس کے پاس خادم بھی ہو تو اس پر غلام آزاد کرنا لازم ہوگا۔ مسئلہ نمبر 8۔ اگر وہ غلام آزاد کرنے سے عاجز ہو تو اس پر دو ماہ کے پے در پے روزے رکھنا لازم ہوں گے اگر اس نے عذر کے بغیر ان میں افطار کیا تو وہ نئے سرے سے روزے رکھے اگر اس نے سفر یا مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بنا کرے، یہ ابن مسیب، حضرت حسن بصری، عطا بن ابی رباح، عمرو بن دینار اور امام شافعی کا نقطہ نظر ہے۔ یہ امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول ہے اور یہ ہی ان کا صحیح مذہب ہے۔ امام مالک نے کہ؁، جب وہ کفار ظہار کے روزوں میں ب یمار ہوگیا تو جب صحیح ہو تو پہلے روزوں پر بنا کرلے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کا قنطہ نظر یہ ہے کہ وہ نئے سرے سے روزیر کھے۔ امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول یہی ہے۔ مسئلہ نمبر 9۔ جب اس نے روزے شروع کردیئے پھر غلام پایا تو روزوں کو مکمل کرے، یہ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک جائز ہے کیونکہ جب وہ ان میں داخل ہوا تو اسے روزوں کا ہی حکم دیا گیا تھا۔ امام اعظم او حنیفہ اور آپ کے اصحاب کے نزدیک روزے اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائیں گے اور وہ غلام آزاد کرے گا۔ وہ اسے اس بچی پر قیاس کرتے ہیں جو پہلے بالغ تھی جو مہینوں کے اعتبار سے عدت گزار رہی تھی تو وہ عدت کے ختم ہونے سے قبل خون دیکھتی ہے علمئا کا اس پر اجتماع ہے کہ وہ نئے سرے سے حیض کے اعتبار سے عدت گزارے گی۔ جب اس نے روزوں کی حالت میں سفر شروع کیا تو اس نے روزہ افطار کردیا تو وہ نئے سرے سے روزہ رکھے گا، یہ امام مالک، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کا نقطہ نظر ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، متتابعین حضرت حسن بصری کا قول یہ ہے کہ وہ پہلے روزوں پر ہی بنا کرلے کیونکہ یہ عذر ہے اور وہ رمضان پر قیاس کرتے ہیں۔ اگر ان روزوں کے درمیان کوئی زمانہ حائل ہوجائے تو کفارہ میں اس کا روزہ حلال نہیں رہے گا جس طرح عیدین اور رمضان شریف کا مہینہ، اس سے انقطاع واقع ہوجائے گا۔ مسئلہ نمبر 10۔ ایک ظہار کرنے والے نے دونوں مہینوں کے درمیان دن میں وطی کی تو امام شافعی کے نزدیک اس کا تتابع باطل ہوجائے گا اگر رات کے وقت کی تو تتابع باطل نہیں ہوگا کیونکہ رات روزے کا محل نہیں۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ نے کہا : ہر حال میں تتابع باطل ہوجائے اور اس پر ابتداء سے کفارہ واجب ہوجائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے من قبل ان یتمآ سایہ شرط دونوں مہینوں اور ان کے بعض کی طرف لوٹ رہی ہے جب اس نے دونوں مہینوں کو ختم ہونے سے پہلے وطی کی تو یہ وہ روزے نہیں ہوں گے جن کا اسے حکم دیا گیا تھا تو نئے سرے سے روزے رکھنے لازم ہوں گے، جس طرح فرمایا : صل قبل ان تکلم زیدا تو اس نے زید سے نماز کی حالت میں کلام کیا یا کہا : صل قبل ان تبصر زیدا تو اس نے نماز کی حالت میں زید کو دیکھا تو اس پر نئے سرے سے نماز پڑھنا لازم ہوجائے گی کیونکہ یہ نماز وہ نماز نہیں جس کا اسے حکم دیا گیا تھا اسی طرح یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 11۔ جس کا مرض لمبا ہوجائے جس سے تندرست ہونے کی امید نہ ہو تو وہ بڑھاپے کی وجہ سے عاجز کے حکم میں ہوگا اور روزوں سے اطعام کی طرف عدول جائز ہوگا۔ اگر مضر ایسا ہو جس سے صحت یاب ہونے کی امید ہو اور اسے اپنی بیوی سے وطی کی حاجت ہو تو اسے اتخیار ہوگا کہ صحت مند ہونے کا انتظار کرے یہاں تک کہ روزوں پر قادر ہوجائے۔ اگر اس نے کھانا کھلا کر کفارہ دے دیا اور روزوں پر قادر ہونے کا انتظار نہ کیا تو یہ جائز ہوگا۔ مسئلہ نمبر 12۔ جس نے ظہار کیا جب کہ وہ تندگست تھا پھر خوشحلا ہوگیا تو اس کے لئے روزے رکھنا جائز نہ ہوں گے۔ جس نے ظہار کیا جب کہ وہ خوشحال تھا پھر وہ تنگدست ہوگیا جب کہ اس نے ابھی کفارہ ادا نہ کیا تھا تو وہ روزے رکھے جس دن اس نے کفارہ دیا اس کی اس دن کی حالت کو دیکھا جائے گا۔ اگر اس نے تندگست اور محرومی کی حالت میں جماع کرلیا اور اس نے روزے نہ رکھے یہاں تک کہ خوشحال ہوگیا تو اس پر غلام آزاد کرنا لازم ہوجائے گا۔ اگر اس نے روزے رکھنے شروع کئے پھر وہ خوشحال ہوگیا اگر روزوں میں سے مناسب حصہ گزر چکا تھا جیسے جمعہ یا اس کی مثل (یعنی پورا ہفتہ گزر چکا ہو) تو اس سلسلہ کو جاری رکھے اگر ایک یا دو دن گزرے ہوں تو روزے کو ترک کر دے اور آزادی کی طرف لوٹ آئے یہ اس پر واجب نہیں ہوگا کیا تو نہیں دیکھتا کہ اس پر نماز ترک کرنا واجب نہیں جس کو پانی میسر ہو جب کہ وہ تمیم کرنے کے بعد نماز میں داخل ہوچکا ہو اور نئے سرے سے وضو کرے، یہ امام مالک کا نقطہ نظر ہے۔ مسئلہ نمبر 13۔ اگر اس نے دو کفارہ ظہار کی جانب سے یا قتل اور رمضان کا روزہ توڑنے کی وجہ سے دو غلام آزاد کئے اور ان دونوں کو ہر ایک میں شریک کیا تو یہ اس کے لئے جائز نہیں ہوگا۔ یہ اس کے قائم مقام ہوگا کہ اس نے دو کفاروں کی جانب سے ایک غلام کو آزاد کیا ہو۔ اسی طرح اگر اس نے ان دونوں کی جانب سے چار ماہ کے روزے رکھے یہاں تک ان دونوں میں سے ہر ایک جابن سے دو ماہ کے روزے رکھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ اس کے لئے جائز ہوگا اگر اس نے اپنی دو عورتوں سے ظہار کیا اس نے ایک کی جانب سے ایک غلام آزاد کردیا مگر کسی عورت کا تعین نہ کیا تو اس کے لئے ان دو میں سے کسی سے بھی وطی کرنا ج ائز نہیں ہوگا یہاں تک کہ دوسرا کفارہ ادا کرے اگار ان دونوں عورتوں میں سے ایک کا تعین کرے تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس کے ساتھ وطی کرے اور دوسری کی جانب سے بعد میں کفارہ ادا کرے۔ اگر اس نے چار عورتوں سے ظہار کیا تو اس نے ان کی طرف سے تین غلام آزاد کئے اور دو ماہ کے روزے رکھے تو اس کے لئے غلام آزاد کرنا اور روزے رکھنا جائز نہ ہوگا کیونکہ اس نے ہر ایک عورت کی جانب سے پندرہ روزے رکھے ہیں اگر اس نے اس کا کفارہ کھانا کھلانے کی صورت میں دیا تو اس پر دو سو مسکینوں کو کھانا کھلاناجائز ہوگا اگر اکٹھے کھانا کھلانے پر قادر نہ ہو تو الگ الگ کھانا کھلا لے مگر غلام آزاد کرے اور روزہ رکھنے میں تفریق نہیں کرسکتا کیونکہ دو ماہ کے روزوں میں تفریق نہیں کرسکتا اور کھانا کھلانے میں تفریق کرسکتا ہے۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہو (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیے) یہ (حکم) اس لے ہے کہ تم خدا اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عزاب ہے۔

اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں کفارہ کا ذکر ترتیب وار کیا ہے روزے رکھنے کی صورت نہ ہوگی یہاں تک غلام آزاد کرنے سے عاجز نہ ہو اسی طرح کھانا اس وقت تک نہیں کھلا سکتا جب تک روزے رکھنے پر قادر ہو جو آدمی روزے نہیں رکھ سکتا اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہوگا ہر مسکین کے لئے نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے دو مد لازم ہوں گے اگر اس نے ہشام کی مد سے کھانا دیا تو 1/2/3 یا نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب 1/1/2 مدد یا تو بھی جائز ہوجائے گا۔ ابو عمر بن عبدالبر نے کہا، افضل، نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے دو مد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ ظہار میں یہ ارشاد نہیں فرمایا : من اوسط ماتطعمون (المائدہ : 89) اس لئے سیر ہو کر کھلانے کا ارادہ واجب ہے۔ ابن عربی نے کہا، امام مالک نے ابن قاسم اور ابن عبدالحکم کی روایت میں کا ایک مد ہشام کے مد کے حساب سے اور اسی سے یہاں سیر ہوا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں طعام کو مطلق ذکر کیا ہے اور وسط کا ذکر نہیں کیا۔ اشہب کی روایت میں ہے : نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے دو مد۔ انہیں کہا گیا، کیا تو ہشام کی مد کے حساب سے نہیں کہا کرتا تھا ؟ کہا : کیوں نہیں نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے مد مجھے زیادہ محبوب ہیں، ابن قاسم نے بھی اس سے اسی طرح نقل کیا۔ میں کہتا ہوں : یہ ابن وہب اور مطرف کی امام مالک سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی مد کے حساب سے دو مد دے، یہ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے۔ امام شافعی وغیرہ علماء کا مذہب یہ ہے کہ ہر مسکین کو ایک مدد سے اس پر اس سے زائد لازم نہیں ہوگا کیونکہ وہ کھانا کھلانے کی صورت میں کفارہ ادا کر رہا ہے اس پر ایک مد سے زیادہ دینا لازم نہیں ہوگا۔ اس کی بنیاد روزہ توڑنے اور قسم کا کفارہ ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاطمام ستین مکسی ناً اور اطعام جب مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مراد سیر ہونا ہے۔ یہ عادت کے مطباق ایک مد سے نہیں ہوتا بلکہ زیادہ سے ہوتا ہے۔ اشہب نے اسی طرح کہا ہے کہ میں نے امام مالک سے کہا، کیا ہمارے اور تمہارے درمیان سیر ہونا مختلف ہے ؟ فرمایا : ہاں ہمارے نزدیک سیر ہونا نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے ایک مد سے ہوتا ہے اور تمہارے نزدیک اس سے زیادہ سے ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے حق میں برکت کی دعا کی ہے تمہارے بارے میں برکت کی دعا نہیں کی، تم ہماری بنسبت زیادہ کھاتے ہو (1) ابو الحسن قابسی نے کہا، اہل مدینہ نے کفارہ ظہار میں ہشام کے مد کا حساب لگایا مقصد ظہار کرنے والوں پر سختی کرنا تھا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے گواہی دی کہ وہ منکر اور جھوٹ بولتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا (2): یہاں گفتگہ ہشام کے مد کے بارے میں ہے جس طرح تم دیکھتے ہو میں پسند کرتا ہوں کہ زمانہ اس کا ذکر مٹا دے اور تکابوں سے اس کا نشان مٹا دے کیونکہ مدینہ طیبہ جہاں وحی نازل ہوئی، رسول اللہ ﷺ وہاں مقیم ہے وہاں ہی ظہار واقع ہوا۔ اس کے بارے میں انہیں حکم دیا فاطعام ستین مکسی ناً انہوں نے اس حکم کو سمجھا اور اس کی مراد کو سمجھا اور یہی سیر ہونا ہے ان کے نزدیک اس کی مقدار معروف تھی۔ اس سیر ہونا کا ذکر روایات میں کثرت سے ہو اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں اس پر عمل ہوتا رہا یہاں تک کہ شیطان نے ہشام کے کان میں یہ پھونکا اور اس نے یہ رائے قائم کی کہ نبی کریم ﷺ کا مد بندے کو سیر نہیں کرتا شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا کہ وہ ایک ایسا مد بنائے جس میں انسان سیر ہوجائے تو اس نے مد کو دور طل کا بنا دیا اور لوگوں کو اس پر مجبور کیا جب وہ بیمار سے صحت یاب ہوا تو اس نے مدتیں رطل کا بنا دیا، اس نے سنت کو تبدیل کردیا اور برکت کے محل کو ختم کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے جب اپنے رب سے اہل مدینہ کے لئے دعا کی کہ ان کے مد اور صاع میں برکت رکھے جس طرح حضرت ابراہیم کی دعا سے اہل مکہ کے مد میں برکت رکھی نبی کریم ﷺ کی دعا سے ان کے مد میں برکت جاری رہی شیطان نے اس سنت کو تبدیل کرنے اور اس برکت کو ختم کرنے کیلئے کوشش کی ہشام کے علاوہ اس کی کسی نے بات نہیں کی۔ علماء پر لازم ہے کہ وہ اس کے ذکر کو لغو قرار دیں اور اس کے نشان کو مٹا دیں جب وہ اس کے امر کو لغو قرار نہیں دیتے مگر جب وہ احکام میں اس کا ذکر کریں اور اللہ تعالیٰ اور اور اس کے رسول نے جو ذکر کیا ہے اس کی اسے تفسیر بنائیں جب کہ یہ امر صحابہ پر پہلے ہی منتشر تھا جن پر یہ حکم نازل ہوا تو یہ بہت بڑی غلطی ہوگی، اس وجہ سے اشہب کی روایت جس میں نبی کریم ﷺ کے مد کا ذکر ہے میرے نزدیک اس روایت سے زیادہ پسندیدہ ہے جس میں ہشام کے مد کا ذکر ہے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ امام مالک نے کیسے اس امر پر متنبہ کیا جس قول کا ذکر اشہب نے کیا ہمارے نزدیک سیر ہونا نبی کریم ﷺ کے مد سے ہے اور تمہارے نزدیک سیر ہونا زیادہ سے ہوتا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہمارے حق میں برکت کی دعا کی ہے اسی وجہ سے میں یہ قول کرتا ہوں، کیونکہ و عبادت جو سنت طریقہ کے مطابق کی جائے اگر وہ بدنی ہو تو جلدی قبول ہوجاتی ہے اگر ملای ہو تو تھوڑی بھی میزان میں بھاری ہوتی ہے پکڑنے والے کے ہاتھ میں زیادہ برکت والی ہوتی ہے، منہ میں زیادہ پاکیزہ اور پیٹ میں کم آفت کا باعث اور زیادہ قوت کا باعث ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ ساٹھ سے کم مکسی نوں کو کھانا کھلائے۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے کہا، اگر ہر روز ایک ہی مسکین کو نصف صاع دے یہاں تک کہ ساٹھ کا عدد پورا ہوجائے تو یہ اس کے لئے کافی ہوجائے گا۔ مسئلہ نمبر 3۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا، عجیب و غریب بات یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ (٭) نے کہا : آزاد آدمی پر حجر کرنا باطل ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان فتحریر رقبۃ سے استدلال کیا ہے مگر رشید اور سفیہ میں فرق نہیں کیا۔ یہ کمزور فقفہ ہے جو ان کی شان کے مناسب نہیں۔ یہ آیت عام ہے اور اصحاب رسول میں حجر کا فیصلہ عام تھا اور مصالح کو پیش نظر رکھنا اس کا تقاضا کرتا ہے جس پر چھوٹی عمر یا ولایت کی وجہ سے حجر ہو اور وہ سفیہ کی حیثیت میں بالغ ہو مال اسے دینے سے منع کیا ہے تو اس کا عمل اس میں کیسے نافذ ہو گاڈ جب کہ خاص، عام پر غالب آجاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ بعض علماء کے نزدیک ظہار کا حکم اس ظہار کے لئے ناسخ ہے جو ان لوگوں میں طلاق کے طور پر موجود تھا، اس کا ہم معنی قول حضرت ابن عباس ابو قلابہ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ ذلک لتومنوا باللہ ورسولہ کفارہ میں جس تغلیظ کا ذکر کیا ہے اس لئے ہے کہ تم اس بات کی تصدیق کرو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ کفارہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے جب اس کا ذکر کیا تو اسے واجب کردیا۔ فرمایا : یہ اس لئے ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے مطیع ہو جائو، اس کی قائم کردہ حدود پر رک جائو ان سے تجاوز نہ کرو اسے تکفیر کا نام دیا کیونکہ یہ طا اعت ہے اور ایمان کی حیثیت سے حد کی رعایت کرنا ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہر وہ چیز جو اس کے مشابہ ہو وہ ایمان ہے اگر یہ سوال کیا جائے : اس کا معنی یہ ہے کہ تم ظہار کی طرف نہ لوٹو جو منکر قول اور جھوٹ ہے۔ اسے کہا جائے گا، یہ جائز ہے کہ یہ مقصود ہو اور پہلا قول بھی مقصود ہو اور معنی یہ ہو کہ یہ اس لئے ہے کہ تم قول منکر اور جھوٹ کی طرف نہ لوٹو بلکہ تم اللہ تعالیٰ کی طاعت کرتے ہئے ان دونوں کو چھوڑ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حرام قرار دیا ہے اور جن عورتوں سے ظہار کیا ہے ان سے اجتناب کرو یہاں تک کہ تم کفارہ دے لو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی عورتوں سے حقوق زویجت ادا کرنے سے منع کیا ہے اور کفارہ ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ کا حکم دیا ہے اور اس کی ادائیگی کو لازم کیا ہے اس کے ساتھ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اولے ہو جائو گے کیونکہ ایسی حدود ہیں جس کی تم حفاظت کر رہے ہو اور ایسی اطاعتیں ہیں جن کو تم ادا کرتے ہو اور اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی توفیق دینے والی ہے۔ مسئلہ نمبر 6۔ وتلک حدود اللہ اپنی نافرمانی اور اپنی طاعت کو بیان کیا اس کی معصیت ظہار ہے اور اس کی طاعت کفارہ ہے للکفرین عذاب الیم۔ جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تصدیق نہ کرے اس کے لئے عذاب جہنم ہے۔