Al-Mujaadila 58:5

Al-Mujaadila · from ayah 5

58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ ؕ— وَلِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ۟ۚاِنَّ الَّذِيۡنَ يُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ كُبِتُوۡا كَمَا كُبِتَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ وَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ‌ ؕ وَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ‌

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (اسی طرح) ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں۔ جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who oppose Allah and His Messenger are abased as those before them were abased. And We have certainly sent down verses of clear evidence. And for the disbelievers is a humiliating punishment.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mujaadila

All translations of 58:5

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل و خوار کر دیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جا چکے ہیں ہم نے صاف صاف آیات نازل کر دی ہیں، اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (اسی طرح) ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں۔ جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وه ذلیل کیے جائیں گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کیے گئے تھے، اور بیشک ہم واضح آیتیں اتار چکے ہیں اور کافروں کے لیے تو ذلت واﻻ عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ایسے ہی ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے تھے اور ہم نے کھلی کھلی آیتیں نازل کردی ہیں اور کافروں کے لیے ایسا عذاب ہے جو خوار کر کے رکھ دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے جیسے ان سے اگلوں کو ذلت دی گئی اور بیشک ہم نے روشن آیتیں اتاریں اور کافروں کے لیے خواری کا عذاب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے عداوت رکھتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح اُن سے پہلے لوگ ذلیل کئے جاچکے ہیں اور بیشک ہم نے واضح آیتیں نازل فرما دی ہیں، اور کافروں کے لئے ذِلت انگیز عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل کیے جائیں گے، جیسے وہ لوگ ذلیل کیے گئے جو ان سے پہلے تھے اور بلاشبہ ہم نے واضح آیات نازل کی ہیں اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کئے جاچکے ہیں۔ اور ہم نے واضح احکام نازل کردیئے ہیں اور انکار کرنے والوں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں وہ ذلیل ہوں گے جس طرح ان سے پہلے ان کے ہم مشرب ذلیل ہوئے اور ہم نے نہایت واضح تنبیہات اتار دی ہیں اور کافروں کے لیے نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلا شبہ جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جس طرح کہ ان سے پہلے والے لوگ ذلیل و خوار ہوچکے ہیں بلاشبہ ہم نے (حق و حقیقت کو واضح کرنے کے لئے) کھلی کھلی آیتیں نازل کردی ہیں اور کافروں کے لئے ایک بڑا ہی رسوا کن عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے رہتے ہیں یہ خوار ہوں گے جیسے ان کے قبل کے لوگ خوار ہوچکے ہیں۔ اور ہم نے کھلے کھلے احکام نازل کئے ہیں اور کافروں کیلئے ذلت کا عذاب ہونا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا وہ لوگ جو تل گئے ہیں مخالفت کرنے پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اور ہم اتار چکے ہیں روشن آیات۔ اور کافروں کے لیے بہت ذلت والاعذاب ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں اور کفار کو ذلت کا عذاب ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily those who oppose Allah and His Messenger shall be brought low even as those before them were brought low. Surely We have sent down Clear Signs; and a humiliating chastisement awaits the unbelievers;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely those who oppose Allah and His Messenger shall be disgraced, just as those before them were disgraced. We have sent down clear verses, and for the disbelievers there is a humiliating punishment

— Muhammad Taqi Usmani

Surely those who oppose Allah and His Messenger shall be disgraced, just as those before them were disgraced. We have sent down clear verses, and for the disbelievers there is a humiliating punishment

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who oppose Allah and His Messenger will be disgraced as those before them were disgraced. And We have sent down clear Ayat. And for the disbelievers is a disgraceful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who oppose Allah and His messenger will be abased even as those before them were abased; and We have sent down clear tokens, and for disbelievers is a shameful doom

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who oppose Allah and His Messenger are abased as those before them were abased. And We have certainly sent down verses of clear evidence. And for the disbelievers is a humiliating punishment.

— Saheeh International

Those who oppose God and His Messenger will be humiliated like those who lived before. We have sent illustrious revelations and those who disbelieve will suffer a humiliating torment.

— Muhammad Sarwar

Surely those who act in opposition to Allah and His Apostle shall be laid down prostrate as those before them were laid down prostrate; and indeed We have revealed clear communications, and the unbelievers shall have an abasing chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who oppose Allah and His apostle shall be abased even as those before them were abased; and of a surety We have sent down manifest signs. And for the infidels will be a torment ignominious.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who resist Allah and His Messenger will be humbled to dust, as were those before them: for We have already sent down Clear Signs. And the Unbelievers (will have) a humiliating Penalty,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 58:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–7

احکامات رسول اللہ ﷺ اور ہم فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرع سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کردیئے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کردی ہیں اور نشانیاں ظاہر کردی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بےانتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُجَادِلَة 14 مخالفت کرنے سے مراد اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو نہ ماننا اور ان کے بجائے کچھ دوسری حدیں مقرر کرلینا ہے۔ ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر یہ کرتے ہیں ای یخالفون فی حدودہ و فرائضہ فیجعلون حدوداً غیر حدودہ۔ " یعنی وہ لوگ جو اللہ کی حدود اور اس کے فرائض کے معاملہ میں اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں کی جگہ دوسرے حدیں تجویز کرلیتے ہیں "۔ بیضاوی نے اس کی تفسیر یہ کی ہے ای یعادو نھما ویشاقونھما اویضعون او یختارون حدوداً غیر حدودھما۔ " یعنی اللہ اور اس کے رسول سے مخاصمت اور جھگڑا کرتے ہیں، یا ان کی مقرر کی ہوئی حدوں کے سوا دوسری حدیں خود وضع کرلیتے ہیں یا دوسروں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَاۗدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَـمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ، سابقہ آیت میں حدود اللہ اور شریعت اسلام کے احکام کی پابندی کی تاکید کی تھی، اس میں ان لوگوں پر وعید ہے جو حدود اللہ کے مخالف اور منکر ہیں، اس وعید میں ان کے لئے دنیا میں بھی انجام کار ذلت و خواری اور ان کے کفر یہ عزائم کی ناکامی کا بیان ہے اور آخرت میں عذاب الیم کا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے آیات 5۔ 11 کا مضمون مجادلہ حسن کے بعد اب آگے ان لوگوں کا کردار بیان ہو رہا ہے جو محادہ یعنی اسلام دشمنی اور رسول دشمنی کے روگ میں مبتلا تھے۔ اگرچہ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے اندر شامل تھے لیکن یہ ساختہ پر داختہ یہود کے تھے اور مسلمانوں کے اندر ان کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ ان لوگوں کا مخصوص طریقہ کار یہ تھا کہ یہ کسی چیز کو بہانہ بنا کر اسلام اور پیغمبر ﷺ کے خلاف مسلمانوں کے اندر سرگوشیاں کرتے تاکہ ان کے عقیدے کو متزلزل اور اسلام کے مستقبل سے ان کو مایوس کریں۔ یہاں ان کی انہی ریشہ دوانیوں سے پردہ اٹھایا اور ان کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ایک ایک سرگوشی سے اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 کتبوا، ماضی مجہول کا صیغہ ہے مستقبل میں ہونے والے واقعے کو ماضی سے تعبیر کر کے واضح کردیا کہ اس کا وقوع اور تحقق اسی طرح یقینی ہے جیسے کہ وہ ہوچکا ہے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ یہ مشرکین مکہ بدر والے دن ذلیل کیے گئے کچھ مارے گئے کچھ قیدی ہوگئے اور مسلمان ان پر غالب رہے مسلمانوں کا غلبہ بھی ان کے حق میں نہایت ذلت تھا۔ 5۔ 2 اس سے مراد گزشتہ امتیں ہیں جو اسی مخالفت کی وجہ سے ہلاک ہوئیں

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–6

3: یہاں سے ظہار کا حکم بیان فرمایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ ظہار کے بعد میاں بیوی کے لئے اپنے مخصوص تعلقات یعنی جماع بوس وکنار وغیرہ جائز نہیں رہتے، البتہ ظہار سے رجوع ہوسکتا ہے، جس کے بعد میاں بیوی والے تعلقات بحال ہوجاتے ہیں، لیکن اس کے لئے کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، ان آیتوں میں کفارہ یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی کے لئے ایک غلام کو آزاد کرنا ممکن ہو تو اس کے ذمے واجب ہے کہ وہ غلام آزاد کرنے کی صورت میں کفارہ ادا کرے ؛ لیکن اگر کسی کو غلام کی قدرت نہ ہو (جیسے کہ آج کل غلاموں کا وجود ہی نہیں رہا) تو اس کو دو مہینے متواتر روزے رکھنے ہوں گے، اور اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

پہلے پیراگراف میں یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ اہل اسلام کے ساتھ کس قدر مہربانی کرنے والا ہے اور جماعت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کے لئے وہ ہر وقت تیار ہے۔ یہ دوسرا پیراگراف کافروں کی سرکوبی کے لئے ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور رسول اللہ کی دشمنی پر اتر آئے ہیں یعنی وہ مسلمانوں کی حدود پر متضاد اور مخالفانہ موقف اختیار کرتے ہیں اور محاذ آرائی کرتے ہیں۔ پہلے چونکہ حدود اللہ کا ذکر ہے اور حدود پر جو جھگڑتا ہے وہ دشمن ہوتا ہے یعنی سرحدوں پر جو لڑتا ہے اس لئے یہاں ایسے دشمنان اسلام کا ذکر کردیا گیا۔ جو رسول اللہ کے مقابلے میں حد پر کھڑے ہیں اور مقابلے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس سے دو مقابل فریقوں کی ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی مومنین کا کام نہیں کہ اللہ کی باندھی ہوئی حدود سے تجاوز کریں۔ باقی رہے کافر جو حدود اللہ کی پروا نہیں کرتے اور خود اپنی رائے و خواہش سے حدیں مقرر کرتے ہیں۔ انہیں چھوڑیے کہ ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔ ایسے لوگ پہلے زمانہ میں بھی ذلیل و خوار ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں۔ اللہ کی روشن اور صاف صاف آیتیں سن لینے کے بعد انکار پر جمے رہنا اور خدائی احکام کی عزت و احترام نہ کرنا اپنے کو ذلت کے عذاب میں پھنسا نے کے مترادف ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”یقینا وہ لوگ جو تل گئے ہیں مخالفت کرنے پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی“ اس مضمون کا تعلق سورة الحدید کے مرکزی مضمون کے ساتھ ہے۔ سورة الحدید کی آیت 25 میں انبیاء و رسل علیہ السلام کی بعثت اور کتاب و میزان کے نزول کا مقصد یہ بتایا گیا ہے : لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ تاکہ انسانی معاشرے میں اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے نظامِ عدل وقسط کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔ اب ظاہر ہے اہل ایمان جونہی اس مشن کے علمبردار بن کر اٹھیں گے تو شیطانی قوتیں بھی ان کا راستہ روکنے کے لیے پوری قوت سے سرگرم عمل ہوجائیں گی۔ ان حالات میں معاشرے کا سرمایہ دار اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 حاد کا لغوی مفہوم :۔ (یُحَادُّوْنَ ) ۔ حد النظر بمعنی تیز نظر سے گھورنا اور حادَّ سے مراد ایسی مخالفت اور دشمنی ہے جس سے انسان غضب ناک ہو کر مقابلہ اور انتقام پر تل آئے۔ مخالفت کی ابتدائی شکل تو یہ ہے کہ انسان اللہ کا حکم تسلیم نہ کرے۔ دوسرا اقدام یہ ہے کہ انسان اللہ کے احکام کا مذاق اڑانا شروع کردے اور تیسرا اقدام یہ ہے کہ اللہ کے قانون یا سزا یا تعزیر کے بجائے کوئی دوسری سزا یا تعزیر مقرر کرلے اور اللہ کے احکام کو نظر انداز کر دے۔ یا اس کی مخالفت میں آکر شرعی احکام کو مصلحت پر مبنی ہونے کے بجائے اسے معاشرہ کے لیے نقصان دہ یا غیر مہذب ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ یہ سب صورتیں حاد کے ضمن میں آتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (قتل سے، قید سے، شکست سے وغیرہا) (آیت) ” الذین ..... رسولہ “۔ اس کے تحت میں ریاست مکہ سے مشرکین اور یہود عرب دونوں آگئے۔ اور سزائے سخت یعنی حقیر و ذلیل ہونے کہ پیشگوئی دونوں کے حق میں جلد ہی پوری ہوکررہی۔ یہ لوگ وہی ہوتے ہیں، جو اللہ اور اس کے رسول کے مقرر کئے ہوئے حدود کو چھوڑ کر اپنی طرف سے حدود وضع کرتے ہیں۔ اے یضعون اور یختارون حدودا غیر حدودھا (بیضاوی) آیت کو وسیع مفہوم میں لے کر بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ جو مسلمان ملوک وامراء سوء نے شریعت اسلامی سے الگ ہو ہو کر قانون نکالے ہیں، وہ سب اسی وعید کے تحت میں آجاتے ہیں، لیکن صاحب روح نے ایک اسی قسم کے رسالہ کا ذکر کرکے لکھا ہے کہ کاش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–6

قاعدہ : والذین یطھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالوا، لما قالوا میں لام، عن کے معنی میں ہے۔ مامصدریہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں، اس آیت سے یہ قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ کفارہ کا وجوب بیوی کے ساتھ اختلاط حلال ہونے کی غرض سے ہے، بیوی کفارہ کے بغیر حلال نہ ہوگی، خود ظہارہ کفارہ کی علت نہیں، اسی سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور وہ اس سے اختلاط کا خواہشمند نہیں تو کفارہ لازم نہیں، البتہ بیوی کی حق تلفی ناجائز ہے، اگر وہ مطالبہ کرے تو کفارہ ادا کر کے اختلاط کرنا یا پھر طلاق دیکر آزاد کرنا واجب ہے، اگر یہ شوہر خود نہ کرے تو بیوی حاکم کی طرف مراجعت کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین یحادون اللہ و رسولہ کبتوا کما کبت الذین من قبلھم و قد انزلنا ایت بینت وللکفرین عذاب مھین . ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ (دُنیا میں بھی) ایسے ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے اور ہم نے کھلے کھلے احکام نازل کردیئے ہیں اور کافروں کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ “ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُوْنَ..... یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے عداوت رکھتے اور انکے احکام کی مخالفت کرتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی قائم کردہ حدوں کو چھوڑ کر دوسری حدود قائم کرتے ہیں۔ کُبِتُوْا : صاحب قاموس نے لکھا ہے : کَبَتَہٗ : اس کو پچھاڑ دیا ‘ اس کو رسوا کردیا ‘ اس کو پھیر دیا ‘ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جو لوگ دین میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور اس سے دشمنی رکھتے ہیں یعنی وہ کفار مکہ وہ خندق کے دن اس طرح قتل و شکست کے ساتھ پکڑے جائیں گے جیسا کہ ان سے پہلے لوگ ذلیل و خوار کیے گئے جنہوں نے انبیاء کرام سے قتال کیا اور ہم نے بذریعہ جبریل امین اور امر و نواہی حلال و حرام کے بارے میں احکامات نازل کیے ہیں اور احکام خداوندی کا انکار کرنے والوں کو ذلت کا عذاب یا یہ کہ سخت ترین عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللہ وَرَسُوْلَہٗ۔۔۔۔:”یحادون“ ”حد“ سے مشتق ہے جس کا معنی جانب ہے۔ ایک مغاعلہ عموماً مقابلہ کے معنی کے لیے آتا ہے ، یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ، اللہ اور اس کے رسول ایک جانب ہوں تو وہ ان کے مقابلے میں دوسری جانب ہوتے ہیں۔”کبتوا“ ”کبت یکبت کبتا“ (ض) ذلیل کرنا ، ہلاک کرنا ، لعنت کرنا ، دھکے دے کر نکال دینا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع سورت سے یہاں تک ظہار کی حرمت اور اس کے کفارہ کے احکام بیان فرمائے اور بتایا کہ یہ احکام اس لیے مقرر کیے گئے ہیں کہ لوگ ظہار اور اس جیسی بری رسوم سے باز آجائیں جن کے وہ جاہلیت میں عادی تھے ، تا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–6

ان الذین یحآدون اللہ و رسولہ جب ممونین کا ذکر کیا جو اس کی حدود پر رکج اتے ہیں تو اس کی مخالفت کرنے والوں کا بھی ذکر کیا۔ محاورہ کا معنی دشمنی کرنا اور حدود کی مخالفت کرنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ذلک بانھم شآقوا اللہ و رسولہ (الحشر : 4) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یحآدون اللہ کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی مخلافت کرتے ہیں جس طرح حدیث میں ہے من اھان لی ولیا فقد بار زنی بالمح اور بۃ جس نے میرے دوست کی اہانت کی اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا زجاج نے کہا، محادہ یہ ہے کہ تو ایسی حد میں ہو جو تیرے ساتھی کی حد کی مخالف ہو۔ اس کا اصل معنی ممانعت ہے اسی سے لفظ حدید ہے اسی سے لفظ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

1۔ فریابی وعبد بن حید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” یحادون “ (وہ مخالفت کرتے ہیں) یعنی جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں۔ 2۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذین یحادون اللہ ورسولہ۔ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جھگڑا کر رہے ہیں۔ آیت کبتوا کما کبت الذین من قبلہم۔ وہ دنیا میں ایسے ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے۔ یعنی ان کو اس طرح ذلیل ورسوا کیا جائے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو ذلیل ورسوا کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الَّذِينَ يُحَاۗدُّوْنَ : بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں ][اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : اللہ اور اس کے رسول کی ][ كُبِتُوْا : وہ نامراد کیے گئے ][ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ : جیسے کہ نامراد کیے گئے وہ لوگ جو ][ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ][ وَقَدْ انزَلْنَآ : حالانکہ ہم اتار چکے تھے ][ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح نشانیاں ][ وَلِلْكٰفِرِيْنَ : اور انکار کرنے الوں کے لیے ][عَذَابٌ مُّهِيْنٌ: ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے ذلیل ہوں گے ان آیات میں کافروں کا دنیا میں ذلیل ہونا اور آخرت میں ذلت کے عذاب میں مبتلا ہونا بیان فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں (جیسے کفار مکہ تھے) وہ دنیا میں ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوچکے ہیں، چناچہ غزوات میں کفار مکہ اور ان کے ساتھی ذلیل ہوئے ان کے ذلیل ہونے کا سبب بھی بتادیا ﴿وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ﴾ (اور ہم نے کھلی کھلی واضح آیات اتاریں) انہوں نے انہیں تسلیم نہ کیا لہٰذا مستحق سزا ہوئے، دنیا میں تو انہوں نے ذلت کا منہ دیکھ ہی لیا آخرت میں بھی ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

تنبیہ ووعید پر بغاوت ونافرمانی از حکم خدا اور رسول ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ آیات میں کفارۂ ظہار کا حکم بیان فرما کر اخیر میں فرما دیا گیا تھا یہ احکام اللہ کی حدود ہیں۔ اور حدود خداوندی سے تجاوز کرنا اللہ کو ہرگز گوارا نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں احکام خداوندی سے بغاوت کرنے والوں اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں پر وعیدوتنبیہ ہے فرمایا۔ بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ ذلیل و خوار ہوئے جیسا کہ ذلیل ہوئے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے اتار دی ہیں کھلی کھلی نشانیاں اور واضح احکام جن کے بعد نہ کوئی تردد ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی ابہام باقی رہ سکتا ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

7:۔ ” ان الذین یحادون “ یہ ان کفار و منافقین کے لیے زجر اور تخویف دنیوی واخروی ہے ج خدا اور رسول کے احکام کی مخافلت کرتے اور احکام شریعت پر نعطن کرتے ہیں۔ ان کو دنیا میں ذلیل و رسوا کیا جائیگا۔ جس طرح گذشتہ امتوں کے کافروں کو کیا گیا۔ حالانکہ ہم اسلام، قرآن اور پیغمبر (علیہ السلام) کی صداقت پر واضح اور روشن دلائل قائم کرچکے ہیں کہ انکار و مخالفت کی کئی گنجائش ہی باقی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان معاندین کو دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں مختلف مواقع پر نہایت ذلیل ورسوا کیا۔ جنگ بدر یا جنگ احزاب میں یا دونوں ہی مراد ہوں (بحر، روح) ۔ ” وللکفرین عذاب مھین “ دنیا میں اس ذلت و ناکامی کے علاوہ آخرت میں ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 3–6

ربط آیات : گزشتہ درس میں ظہار کی ناپسندیدگی کا ذکر تھا کیونکہ یہ ناپسندیدہ اور جھوٹی بات ہے اور دوسرے معنوی میں گناہ کبیرہ بنتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے یعنی اس کو اپنی ماں کی پشت سے تشبیہ دیتا ہے تو اس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ وہ بیوی سے عدم مباشرت اور علیحدگی کا اعلان کررہا ہے۔ مگر ایسا کہنے سے بیوی کو طاق نہیں ہوجاتی بلکہ آدمی گنہگار بن جاتا ہے اور اگر وہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ جس کا ذکر آج درس میں آرہا ہے۔ کفارہ ظہار (1) غلام کی آزادی : ارشاد باری تعالیٰ ہے والذین یظھرون من نسآء ھم جو لوگ اپنی عورتوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَاۗدُّوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ كُبِتُوْا كَـمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ۝ 0 ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ۝ 5 ۚ حدَّ الحدّ : الحاجز بين الشيئين الذي يمنع اختلاط أحدهما بالآخر، يقال : حَدَدْتُ كذا : جعلت له حدّا يميّز، وحَدُّ الدار : ما تتمیز به عن غيرها، وحَدُّ الشیء : الوصف المحیط بمعناه المميّز له عن غيره، وحَدُّ الزنا والخمر سمّي به لکونه مانعا لمتعاطيه من معاودة مثله، ومانعا لغیره أن يسلک مسلکه، قال اللہ تعالی: وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ [ الطلاق/ 1] ، وقال تعالی: تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–6

1 ؎ محاذۃ مخالفت کردن دباز داشتن حق تحاد کذلک قولہ تعالیٰ ان الذین یحادون کبت بازدگردانیدن دخوار کردن بر روئے درافگندن یقال کبت اللہ اور العدد ای صرفہ داذلہ و صرفہ بوجہ صعاک ام صراح۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَسُوْلَـہٗ کُبِتُوْا کَمَا کُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَقَدْ اَنْزَلْـنَـآ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ ط وَلِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (المجادلۃ : 5) (بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے گئے، بیشک ہم نے اتاری ہیں روشن آیتیں اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ ) محاداۃ کا مفہوم اور ایسا کرنے والوں کا انجام یُحَآدُّوْنَکا مصدر محاداۃ ہے۔ لسان العرب کے مصنف نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے المحاداۃ المماداۃ والمخالفۃ والمنازعۃ وھومفاعلۃ من الحد کان کل واحد منہما یجاوزحداہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : حدود اللہ کا خیال نہ رکھنے والوں کی دنیا میں سزا۔ جو لگ اللہ کی مقرر کردہ حدود کا خیال اور احترام نہیں کرتے حقیقت یہ ہے کہ وہ ” اللہ “ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ اسی طرح ہی ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اپنے احکام نازل کردیئے ہیں جو ان کو نہیں مانتے انہیں ذلّت ناک عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو زندہ کرے گا اور پھر انہیں بتلائے گا کہ وہ کیا عمل کیا کرتے تھے۔ لوگ اپنے اعمال کو بھول جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کو شمار کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ حدود اللہ کا خیال نہ رکھنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ (اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) یعنی دشمنی اور مخالفت کرتے ہیں۔ کُبِتُوْا (وہ ایسے ذلیل ہونگے) پکڑے اور ہلاک کیے جائیں گے کَمَا کُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (جیسے وہ لوگ ذلیل ہوئے جو ان سے پہلے تھے) یعنی انبیاء (علیہم السلام) کے دشمن وَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ (اور ہم نے کھلے کھلے احکام نازل کردیئے ہیں) جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور دین حق کی صحت پر دلالت کرتے ہیں۔ وَلِلْکٰفِرِیْنَ (اور ان آیات کا انکار کرنے والوں کیلئے) عَذَابٌ مُّھِیْنٌ (ذلت کا عذاب ہے) جو ان کی بڑائی وعزت کو ختم کرکے رکھ دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

کفارہ ظہار میں روزوں کا حکم 4 ۔” فمن لم یجد “ یعنی گردن کو۔ ” فصیام شھرین متتابعین من قبل ان یتماسا “ پس اگر اس کے پاس غلام ہو لیکن وہ اس کی خدمت کا محتاج ہو یا اس کے پاس غلام کی قیمت ہو لیکن وہ ان کا محتاج ہو اپنے اور گھر والوں کے خرچ کے لئے تو اس کے لئے جائز ہے کہ روزے کی طرف منتقل ہوجائے اور امام مالک (رح) اور اوزاعی (رح) فرماتے ہیں اس کو غلام آزاد کرنا ہی لازم ہوگا جب اس کے پاس غلام ہو یا اس کی قیمت ہو۔ اگرچہ اس کا محتاج ہی کیوں نہ ہو اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں اگر اس کے پاس غلام موجود ہے تو اس پر اس کو آزاد کرنا واجب ہے۔ اگرچہ وہ اس کا محتاج ہی کیوں نہ ہو اور اگر اس کے پاس غلام کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 2–6

2۔ 6۔ معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن 3 ؎ مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہار اسلام میں پہلا ظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں مذکور ہے اس پہلے ظہار کے مبہم ذکر کرکے بعد جو حکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورت ماں نہیں ہوسکتی۔ ماں تو وہی ہے جس کے پیٹ سے آدمی پیدا ہوتا ہے یہ ایک گھڑا ہوا غلط رواج ہے کہ غیر عورت کو ماں کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور نافرمانی ان کے ساتھ دشمنی کے زمرے میں آتی ہے خاص طور پر امور قبیحہ میں، مثلا اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرکے دشمنی کرنا اور اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا، فرمایا (كُبِتُوْا كَـمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) یعنی پوری پوری جزا کے طور پر ان کو ذلیل ورسسوا کیا گیا جیسا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو ذلیل ورسوا کیا گیا تھا اللہ کے خلاف ان کے پاس کوئی حجت نہیں کیونکہ مخلوق پر اللہ کی حجت بالغہ قائم ہوچکی ہے اللہ نے واضح دلائل اور براہین نازل فرمائے جو حقائق کو بیان اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں پس جس کسی نے ان کی اتباع کی اور ان پر عمل پیرا ہوا وہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 2–7

قول باری ہے (وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ یہ لوگ یقینا ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہہ رہے ہیں) یعنی…واللہ اعلم… بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینا بڑی نامعقول بات ہے کیونکہ ماں تو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ ہے۔ قول باری ہے (الذین یظاھرون منکم من نساء ھم تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں) یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظہار صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ اہل ذمہ اس میں شامل نہیں ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 16] محادہ کا معنی و مفہوم ؟: یحادون۔ حد سے بنا ہے جس کے معنی روکنے اور باز رہنے کے آتے ہیں، اسی لئے دربان کو حداد کہا جاتا ہے کہ وہ اندر جانے سے روکتا ہے، پس جو لوگ اللہ پاک اور اس کے رسول کے احکام کو توڑتے، اور ان کی مخالفت کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی طرف سے حدود متعین کرتے اور خود شارع بنتے ہیں، نیز مخالفت کرنے کی وجہ سے چونکہ وہ دوسری حد اور دوسری جہت میں ہوجاتے ہیں، اس لیے یہ لفظ مخالفت، دشمنی اور نافرمانی کے، معنی میں استعمال کیا جاتا ہے [ ابو السعود، خازن وغیرہ ] سو یہ لفظ " موادۃ " کا مخالف اور اس کی ضد ہے، اور اب یہاں سے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جن کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

” ظہار “ اور اس کے شرعی احکام تشریح : قرآن پاک میں بار بار نیکی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت تو خالصتاً انتہائی اہم احکامات بتا رہی ہے۔ یہ احکامات ظلم، زیادتی، کفروشرک، بےحیائی اور بد نظمی سے بچاتے ہیں۔ جیسا کہ سورت کے شروع میں ظہار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اور بیشمار دوسری تفاسیر میں احادیث و روایات میں یہی بتایا گیا ہے کہ یہ آیات خاص طور سے خولہ بنت ثعلب ؓ کے مسئلہ ظہار کو حل کرنے کے لیے نازل کی گئی تھیں جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے حدود کا درجہ رکھتی ہیں۔ واقعہ تو آیات میں بتا دیا گیا ہے یہاں ایک تو اللہ کے سمیع وبصیر ہونے کی دلیل ملتی ہے ایک اس کے رحمن ورحیم ہونے کی دلیل ملتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ مجادلہ کا معنی ایسا اصرار ہے جو انکار کردینے کے بعد بھی جاری رہے ایک صحابی حضڑت اوس بن صامت نے اپنی بیوی خولہ سے کہہ دی ا کہ ، انت علی کظہرامی ، یعنی تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے اور یہ عہد جاہلیت میں طلاق سے شدید متصور ہوتا تھا کہ طلاق کے بعد رجعت وغیرہ کی صورت تھی مگر اس میں واپسی کی کوئی صورت نہ تھی ۔ وہ خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت لائیں آپ نے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی حکم نہیں اس نے اصرار کیا اور شکایت کی کہ کیا میرے بارے وحی بھی خاموش ہے جبکہ ہر کام میں آپ پر وحی نازل ہوتی ہے تو رب جلیل نے ان کے بارے وحی نازل فرمادی اور زمانہ جاہلیت کی اس رسم کا رد…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 کھلی کھلی نشانیوں (یا آیتوں) سے مراد وہ نشانیاں (آیتیں) ہیں جو محمد ﷺ کی صداقت پر ناقابل تردید شہادت پیش کرتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(58:5) یحادون مضارع جمع مذکر غائب محادۃ (مفاعلۃ) مصدر سے وہ مخالفت کرتے ہیں۔ کبتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ کبت (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی زمین پر گرا دینا۔ دشمن کو ذلیل و خوار کرنا۔ وہ ذلیل کئے جائیں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لیقطع طرفا من الذین کفروا او یکبتہم فینقلبوا خائبین (3:27) (یہ خدا نے) اس لئے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے۔ کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن۔ سمع۔ سن لیا۔ تجادل۔ وہ جھگڑتی ہے۔ تشتکی۔ شکایت کرتی ہے ۔ تحاور۔ آپس میں بات چیت۔ یظھرون۔ وہ ظہار کرتے ہیں۔ ولدن۔ انہوں نے جنا۔ پیدا کیا۔ زور۔ جھوٹ۔ گناہ۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ تحریر۔ آزاد کرنا۔ رقبۃ۔ گردن (غلام) ۔ ان یتماسا۔ یہ کہ وہ ہاتھ لگائیں۔ شھرین متتابعین۔ مسلسل دو مہینے۔ اطعام۔ کھلانا۔ ستین۔ ساٹھ۔ یحادون ۔ ناراض کرتے ہیں۔ کبتوا۔ ذلیل کئے گئے۔ احصی۔ اس نے شمار کیا۔ تشریح : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں بہت سے من گھڑت طریقے رائج تھے جن پر وہ لوگ بڑی شدت سے جمے ہوئے تھے اور اسی کو ان لوگوں نے شریعت بنا رکھا تھا مثلا اگر میاں بیوی کے درمیان مزاجوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–6

(ف 1) معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہاراسلام میں پہلاظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں ذکر ہے اس پہلے ظہور کے مبہم ذکر کرکے بعدجوحکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپرگذرچکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی اس لیے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورتیں درحقیقت ان کی مائیں نہیں ہوجاتی اور وہ جو ان پر حرام ہیں وہ تو وہی ہیں جنہوں نے انکوجنا ہے یعنی حقیقی والدہ یا جس نے دودھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[9] مخالفت سے مراد اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو نہ ماننا اور ان کی بجائے کچھ دوسری حدیں مقرر کرلینا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–6

قانون الٰہی کا احترام ضروری ہے 1: تجادون سے مراد شدید مخالفت اور سخت ترین مظاہرہ عناد اور بغض کا ارتکاب سے مکہ والے قرآن کی تعلیمات کو حضور ﷺ کے منہ سے سنتے اور زاراہ بدبختی ان کی مخالفت کرتے اور ان کو ہدف استہزاء بناتے ۔ اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں ۔ یہ اللہ کا قانون ہے ۔ جس کا احترام بنی نوع انسان کے لئے ضروری ہے ۔ اگر ان لوگوں سے اس تذلیل کی ۔ اور انکار کیا ۔ تو پھر یاد رکھیں ۔ کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہلاکت کے گھاٹ اتاردیا گیا ہے ۔ اور جس طرح پہلے گروہوں کو ان کے مقاصد میں ناکام اور غائب و خاسر رکھا گیا ہے ۔ اسی طرح ان کو ان کی ناپاک غرضوں میں کامیاب نہیں ہونے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل ورسوا کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل ورسوا کئے گئے اور بیشک ہم نے کھلے کھلے اور واضح احکام نازل کئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے ذلیل ورسوا کن اور خوار کرنے والا عذاب ہے۔ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا شیوہ اختیار کررکھا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کے درپے رہتے ہیں تو دنیا میں بھی ان کی ذلت و رسوائی اختیار کررکھا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کے درپے رہتے ہیں تو دنیا میں بھی ان ذلت و رسوائی ہوگی جس طرح سابقہ منکرین کے ساتھ بھی یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ خواہ کسی حکم میں مخالفت کریں۔ 7۔ اس لئے ان کا انکار لا محالہ موجب سزا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ان کو باز رکھاجائے گا 5 ؎ (یحادون) جمع مذکر غائب مضارع محادۃ ً ہے وہ مخالفت کرتے ہیں اور مادہ اس کا ح د و ہے وہ لوگ جو حدود اللہ سے تجاوز کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور احکام الٰہی کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس جگہ مضمون میں وسعت آگئی ہے اور کسی ایک ہی حکم کی خلاف ورزی مراد نہیں بلکہ جس حکم میں بھی وہ لا پرواہی کرتے ہیں خواہ وہ مخصوص حکم جس کا ذکر پیچھے سے چلا آ رہا ہے یعنی ظہار میں اور خواہ کسی دوسرے حکم میں ۔ اس طرح اگر عوام ہیں تو حکم ماننے میں کوتاہی کرتے ہیں اور اگر وہ حکمران ہیں تو احکام الٰہی کو پس پشت ڈال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Fate of those who Challenge Allah and His Apostle إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ (Surely those who oppose Allah and His Messenger shall be disgraced, just as those before them were disgraced....58:5). In the preceding verse, stress was laid on keeping to Divine limits and to the sacred laws of Islam. The current verse warns those who oppose or reject them. Their profane designs shall be foiled and they shall be humiliated in this world and a condign torment shall be inflicted on them in the Hereafter.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 "So that you may believe": "So that you may adopt the attitude of a true and sincere believer. " Obviously, the addressees of this vase arc not the pagans and polytheists, but the Muslims who had already affirmed the Faith To tell them after reciting before them a Shari'ah injunction: "This is being enjoined so that you may believe in Allah and His Messenger," clearly signifies that the conduct of the person who continues to follow the traditional law of paganism even after hearing the, Divine command would be contradictory to his profession of the Faith. It is not the character of a…

Read the full tafseer →