Explained with ayahs 2–4
خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ ؓ اور مسئلہ ظہار
حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں اس سورة مجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 11
یہ ہے ظہار کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم۔ فقہائے اسلام نے اس آیت کے الفاظ، رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں، اور اسلام کے اصول عامہّ سے اس مسئلے میں جو قانون اخذ کیا ہے اس کی تفصیلات یہ ہیں
(1) ظہار کا یہ قانون عرب جاہلیت کے اس رواج کو منسوخ کرتا ہے جس کی رو سے یہ فعل نکاح کے رشتے کو توڑ دیتا تھا اور عورت شوہر کے لیے ابداً حرام ہوجاتی تھی۔ اسی طرح یہ قانون ان تمام قوانین اور رواجوں کو بھی منسوخ کرتا ہے جو ظہار کو بےمعنی اور بےاثر سمجھتے ہوں اور آدمی کے لیے اس بات کو جائز رکھتے ہوں کہ وہ اپنی بیوی کا ماں یا محرمات سے تشبیہ دے کر بھی اس کے ساتھ حسب سابق زن و شَو کا تعلق جاری رکھے،…
Read the full tafseer →(آیت) ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
اس آیت میں لتومنوا فرمایا اور مراد ایمان سے شرائع و احکام پر عمل کرنا اور پھر فرمایا کہ یہ کفارہ وغیرہ کے احکام اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان میں تجاویز کرنا حرام ہے، اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اسلام نے نکاح، طلاق، ظہار اور دوسرے سب معاملات میں جاہلیت کی رسوم کو مٹا کر ان کی جگہ معتدل اور صحیح طریقوں کی تعلیم دی ہے، تم اس پر قائم رہو اور جو لوگ ان حدود شرعیہ کے منکر اور کافر ہیں ان کو درد ناک سزا ملے گی ،
Read the full tafseer →(فمن لم یجد فصیام شھرین متتابعین من قبل ان یتما شا فمن لم یسطع فا طعام ستین مسکینا ذلک لتومنوا باللہ ورسلہ وتلک حدود اللہ وللکفرین عذاب الیم) (4)۔ یعنی غلام میسر نہ آئے تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے اور اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس زمانے میں عملاً یہی دو شکلیں باقی رہیں گی اس لیے کہ غلام ختم ہوچکی ہے اور یہ بات عین متشائے اسلام کے مطابق ہوئی ہے۔ لفظ متتا بعین سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر دو ماہ کے روزے تمام ہونے سے پہلے پہلے اختلاط کرلیا تو از سر نو پورے روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہاں اگرچہ (اطعام ستین مسکینا) کے ساتھ (من قبل ان یتما سا) کی قید نہیں ہے لیکن اس صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 اب اس حکم کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ رجوع کا مطلب، بیوی سے ہم بستری کرنا چاہیں۔
3۔ 2 یعنی ہم بستری سے پہلے وہ کفارہ ادا کریں 1۔ ایک غلام آزاد کرنا 2۔ اس کی طاقت نہ ہو تو پے درپے دو مہینے کے روزے رکھنے پڑیں گے۔ عذر شرعی سے مراد بیماری یا سفر ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر مسکین کو دو مد نصف صاع یعنی سوا کلو اور بعض کہتے ہیں ایک مد کافی ہے لیکن قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا اس طرح کھلایا جائے کہ وہ شکم سیر ہوجائیں یا اتنی مقدار میں ان کو کھانا دیا جائے ایک مرتبہ ہی سب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3: یہاں سے ظہار کا حکم بیان فرمایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ ظہار کے بعد میاں بیوی کے لئے اپنے مخصوص تعلقات یعنی جماع بوس وکنار وغیرہ جائز نہیں رہتے، البتہ ظہار سے رجوع ہوسکتا ہے، جس کے بعد میاں بیوی والے تعلقات بحال ہوجاتے ہیں، لیکن اس کے لئے کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، ان آیتوں میں کفارہ یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی کے لئے ایک غلام کو آزاد کرنا ممکن ہو تو اس کے ذمے واجب ہے کہ وہ غلام آزاد کرنے کی صورت میں کفارہ ادا کرے ؛ لیکن اگر کسی کو غلام کی قدرت نہ ہو (جیسے کہ آج کل غلاموں کا وجود ہی نہیں رہا) تو اس کو دو مہینے متواتر روزے رکھنے ہوں گے، اور اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →فمن لم ................ مسکینا (85 : 4) ” اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ “
اب اس قانون کے توضیحی بیان اور مسلمانوں کو ہدایت کے لئے تبصرہ آتا ہے۔
ذلک لتومنو باللہ ورسولہ (85 : 4) ” یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ “ وہ تو پہلے سے مومن ہیں ؟ لیکن یہ بیان کہ یہ کفارات اور جرمانے اور ان کے حالات کو اللہ کے احکام وقوانین سے مربوط کرنے سے ایمان میں قوت اور اضافہ ہوتا ہے۔ عملی زندگی ایمان کے ساتھ مربوط ہوتی ہے اور عملی زندگی پر ایمان…
Read the full tafseer →8 یعنی بیچ میں دم نہ لے۔
9 " بردہ " (غلام) آزاد کرنے کا مقدور نہ ہو، تب روزے رکھ سکتا ہے۔ اور روزے رکھنے سے مجبور ہو تب کھانا دے سکتا ہے۔ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جائے۔
10 یعنی جاہلیت کی باتیں چھوڑ کر اللہ و رسول کے احکام پر چلو، جو مومن کامل کی شان ہے۔
Read the full tafseer →آیت 4 { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا } ”تو جو کوئی غلام نہ پائے وہ دو مہینوں کے روزے رکھے لگاتار ‘ اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں۔“
یعنی دو ماہ کے روزے اس طرح متواتر رکھے جائیں کہ درمیان میں کسی دن کا روزہ چھوٹنے نہ پائے۔
{ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا } ”تو جو کوئی یہ بھی نہ کرسکتا ہو تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“
اگر کوئی شخص کمزور ہے ‘ ضعیف العمر ہے یا ایسا مریض ہے کہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں تو وہ ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ اس کے لیے اوسط معیار وہی ہوگا جو…
Read the full tafseer →3 ظہار کرنا گناہ کبیرہ ہے :۔ آیت نمبر 3 اور 4 میں ظھار کا کفارہ یا ایسے معاملات کا حل شرعی بتایا جارہا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ظہار سے اگرچہ طلاق واقع نہیں ہوجاتی تاہم یہ ایک گناہ کبیرہ ہے۔ پھر کفارہ کے طور پر اس گناہ کی تین سزائیں بتادیں۔ کہ ان میں سے جو سزا کسی کے حالات کے مطابق ہو وہ اسے دی جائے۔ ان کی ترتیب یہ ہے۔
ظہار کا کفارہ :۔ (1) ایک غلام آزاد کرنا، (2) مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا یا (3) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ ان آیات میں درج ذیل امور قابل ذکر ہیں۔
ظہار سے متعلق احکام : 1۔ لڑائی جھگڑا زوجین کے درمیان ہوتا ہے لیکن ظہار کے لفظ خاوند بولتا ہے۔ اس لیے سزا صرف خاوند کے لئے ہے۔…
Read the full tafseer →7۔ یہاں یہ بتایا کہ جس کسی کے پاس غلام یا باندی سرے سے ہو نہیں (خواہ اس لئے کہ اسے اتنی مقدرت ہی نہ ہو اور خواہ وہ ملک ایسا ہو جہاں مملوک شرعی کا وجود نہ پایا جاتا ہو۔ مثلا آج کا ہندوستان) تو اس کے لئے دوسرا متبادل کفارہ یہ مسلسل دو (2) مہینہ کے روزے ہیں۔
8۔ تیسرا متبادل کفارہ یہ ہوا۔ (آیت) ” ستین مسکینا “۔ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ایک ہی مسکین کو 60 دن تک کھلاتے رہیں تو بھی درست ہے۔ (آیت) ” فمن لم یستطع “۔ غیرمستطیع سے اس سیاق میں وہ شخص مراد ہے جو بسبب ضعف یا مرض روزہ پر قادر نہ ہو۔
9۔ (انہیں معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہ کرو، یاد رکھو کہ یہ الہی ضابطے ہیں) (آیت) ” ذلک لتؤمنوا باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
قاعدہ : والذین یطھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالوا، لما قالوا میں لام، عن کے معنی میں ہے۔
مامصدریہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں، اس آیت سے یہ قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ کفارہ کا وجوب بیوی کے ساتھ اختلاط حلال ہونے کی غرض سے ہے، بیوی کفارہ کے بغیر حلال نہ ہوگی، خود ظہارہ کفارہ کی علت نہیں، اسی سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور وہ اس سے اختلاط کا خواہشمند نہیں تو کفارہ لازم نہیں، البتہ بیوی کی حق تلفی ناجائز ہے، اگر وہ مطالبہ کرے تو کفارہ ادا کر کے اختلاط کرنا یا پھر طلاق دیکر آزاد کرنا واجب ہے، اگر یہ شوہر خود نہ کرے تو بیوی حاکم کی طرف مراجعت کر…
Read the full tafseer →فمن لم یجد فیصایم شھرین متتابعین من قبل ان یتماسا .
” پھر جس کو غلام یا باندی میسر نہ ہو تو اسکے ذمہ لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں ‘ قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں۔ “
فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ : یعنی جس کے پاس غلام یا باندی موجود نہ ہو اور حاصل بھی نہ کرسکتا ہو ‘ خواہ اس کی وجہ یہ ہو کہ غلام خریدنے کی قیمت میسر نہ ہو یا غلام دستیاب نہ ہوسکتا ہو اور قیمت موجود ہو یا غلام کی جتنی قیمت ہو اتنا ہی ظہار کرنے والا مقروض ہو یا اپنے اور اپنے اہل و عیال کے مصارف کا ضرورت مند ہو۔ اگر غلام خریدتا ہے تو نفقہ اہل و عیال سے معذور ہوجاتا ہے۔ ان سب صورتوں میں امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور امام احمد (رحمہم اللہ…
Read the full tafseer →اور پھر جو شخص غلام یا لونڈی آزاد کرنے کے قابل نہ ہو تو اس کے ذمہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنے ہیں اس سے پہلے کہ دونوں باہم اختلاف کریں اور پھر کسی کمزوری کی وجہ سے روزے بھی نہ رکھے جاسکیں تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے کہ ہر ایک مسکین کو آدھا صاع گیہوں کا یا ایک صاع جو کا یا کھجور کا دے۔
اور یہ کفارہ ظہار کا حکم اس لیے ہے تاکہ فرائض خداوندی اور سنن نبوی پر ثابت قدم رہو یہ اللہ تعالیٰ کے احکام و فرائض ظہار ہیں۔
اور جو اللہ تعالیٰ کی حدود کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت دردناک عذاب ہوگا کہ اس درد کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی ابتدا سورت سے لیکر یہاں تک یہ آیات حضرت خولہ کے…
Read the full tafseer →1۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ج : اس سے معلوم ہوا کہ اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت ہے تو روزوں سے کھانا کھلاناے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔
2۔ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ : پھر جو شخص ہاتھ لگانے سے پہلے دو ماہ کے پے در پے روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ظہار کرنے والا خود کمزوری کی وجہ سے پے در پے اتنے روزے نہ رکھ سکتا ہو یا شدت شہوت کی وجہ سے اتنے دن صبر نہ کرسکتا ہو ، ”فمن لم یسطع“ میں دونوں شامل ہیں ، جیسا کہ سلمہ بن صخر بیاضی ؓ نے اپنی بیوی کو ماہ رمضان گزرنے تک کے لیے ماں کہہ دیا ، پھر کسی رات اس سے جماع کر…
Read the full tafseer →اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں کفارہ کا ذکر ترتیب وار کیا ہے روزے رکھنے کی صورت نہ ہوگی یہاں تک غلام آزاد کرنے سے عاجز نہ ہو اسی طرح کھانا اس وقت تک نہیں کھلا سکتا جب تک روزے رکھنے پر قادر ہو جو آدمی روزے نہیں رکھ سکتا اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہوگا ہر مسکین کے لئے نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے دو مد لازم ہوں گے اگر اس نے ہشام کی مد سے کھانا دیا تو 1/2/3 یا نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب 1/1/2 مدد یا تو بھی جائز ہوجائے گا۔
ابو عمر بن عبدالبر نے کہا، افضل، نبی کریم ﷺ کے مد کے حساب سے دو مد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ ظہار میں یہ ارشاد نہیں فرمایا : من اوسط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
کفارۂ ظہار میں غلام آزاد کرنا
35۔ عبدالرزاق نے المصنف میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ سلمہ بن صخر الانصاری ؓ نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر ماں کی پیٹھ کی طرح بنادیا (یعنی اپنی بیوی سے ظہار کرلیا) پھر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے گویا کہ وہ اس کو گناہ سمجھ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس نے کہا نہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا اے فروہ بن عمرو ! اس کو ایک عرق (کھجور) دے دو اور یہ ایک پندرہ یا سولہ…
Read the full tafseer →[فَمَنْ : پھر وہ جو ][ لَمْ يَجِدْ : نہ پائے (گردن آزاد کرنے کو)][فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ : تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا ہے (اس کے لیے)][مِنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ ][يَّتماۗسَّا : وہ دونوں ایک دوسرے کو چھویں ][ فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ : پھر وہ جو (اس کی) طاقت نہیں رکھتا ][فَاِطْعَامُ سِـتِّيْنَ مِسْكِيْنًا : تو (اس کے لیے) ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے ][ذٰلِكَ : یہ (اس لیے)][ لِتُؤْمِنُوْا : تاکہ تم لوگ ایمان رکھو ][ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : اللہ پر ار اس کے رسول پر ][ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ : اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ ) حدیں ہیں ][وَلِلْكٰفِرِيْنَ : اور (ان کا)…
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا ﴾ (سو جو شخص غلام نہ پائے تو اس کے ذمہ لگا تار دو مہینے کے روزے رکھنا ہے اس سے پہلے کہ آپس میں ایک دوسرے کو چھوئیں) یہ کفارہ ظہار کا حکم نمبر 2 ہے اور علی سبیل التنزیل ہے مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ ہو (مال ہی نہ ہو یا غلام ہی نہ ملتے ہوں جیسا کہ آج کل شرعی جہاد نہ کرنے کی وجہ سے مسلمان غلاموں اور باندیوں سے محروم ہیں) تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے اور جب تک بلاناغہ پورے دو ماہ کے روزے نہ رکھ لے دونوں میاں بیوی الگ رہیں۔
پھر فرمایا ﴿ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
شکوہ والتجاخاتون پریشان حال دربارگاہ رب العزت ذی الجلال ونزول حکم ظہار :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” قد سمع اللہ قول التی تجادلک ....... الی ....... عذاب الیم “۔
(رابط) گذشتہ سورت کا مضمون انبیاء (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کے ذریعہ عالم دنیا کے لیے سامان ہدایت و رحمت کا ذکر تھا اب اس سورت کی ابتداء اس مضمون سے کی جارہی ہے کہ اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ایسے ہدایات و احکام نازل فرماتا ہے جن سے لوگ اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اپنی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی وقت پریشان ومضطرب ہوں تو خدا تعالیٰ کس طرح ان کی التجاء سنتا ہے اور احکام شریعت کے ذریعہ کس طرح ان کی پریشانیاں…
Read the full tafseer →5:۔ ” فمن لم یجد “ کفارہ ظہار کی دوسری صورت، جس کی مالی حالت کمزور ہو اور وہ غلام آزاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو اس پر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے لازم ہیں۔ اس میں ایک شرط تو وہی ہے کہ بیوی کے پاس جانے سے پہلے دو ماہ کے روزے رکھے دوسری شرط یہ ہے کہ روزے لگاتار رکھے اور درمیان میں ناغہ نہ کرے۔ اگر کسی شخص نے دو ماہ کے دوران ایک دن کا روزہ ناغہ کردیا، یا اس دوران میں رات کو اس بیوی سے صحبت کرلی جس سے ظہار کیا ہے تو دونوں صورتوں میں از سر نو دو ماہ کے متواتر روزے رکھنے لازم ہوں گے۔
ٖ 6:۔ ” فمن لم یستطع “ یہ کفارہ ظہار کی تیسری صورت ہے۔ اگر کوئی شخص بیماری یا بڑھاپے یا کسی دوسرے مانع کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ربط آیات :
گزشتہ درس میں ظہار کی ناپسندیدگی کا ذکر تھا کیونکہ یہ ناپسندیدہ اور جھوٹی بات ہے اور دوسرے معنوی میں گناہ کبیرہ بنتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے یعنی اس کو اپنی ماں کی پشت سے تشبیہ دیتا ہے تو اس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ وہ بیوی سے عدم مباشرت اور علیحدگی کا اعلان کررہا ہے۔ مگر ایسا کہنے سے بیوی کو طاق نہیں ہوجاتی بلکہ آدمی گنہگار بن جاتا ہے اور اگر وہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ جس کا ذکر آج درس میں آرہا ہے۔
کفارہ ظہار (1) غلام کی آزادی :
ارشاد باری تعالیٰ ہے والذین یظھرون من نسآء ھم جو لوگ اپنی عورتوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَہْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَـاۗسَّا 0 ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِـتِّيْنَ مِسْكِيْنًا 0 ۭ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ 0 ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ 0 ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 4
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه .
ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : وتشتکی معطوف علی تجادلک وقیل حال من فاعلہ ای تجادل وھی متضرعۃ الی اللہ تعالیٰ الذین موصول یظاہرون الخ صلۃ والکل مبتداء ماھن امھتھم الجملۃ خبرہ امہاتہم بکسر التاء علی انہ خبراوبضمھا علی اللغۃ والذین یظاھرون من نسائھم مبتداء فتحریر رقبۃ الجملۃ وھی فعلیھم تحریر رقبۃ خبرہ۔ ذلکم مبتداء تو عظون بہ خبرہ واللام فی لما قالوا تتعلق بیعودون ومامصدریۃ ویمکن ان تجعل بمعنی الذین ونکرۃ موصوفۃ وقیل اللام بمعنی فی وقیل بمعنی الیٰ فی الکلام تقدیم و تاخیرہ تقدیرہ ثم یعودون فعلیھم تحریر رقبۃ لماقالوا فصیام شہرین ای فعلیہ صیام شہرین ذالک ومحلہ النصب بفعل معلل بقولہ لتومنوا اوالرفع علی الابتداء یوم منصوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ط ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ج فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ط ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط وَتِلْکَ حُدُوْدُاللّٰہِ ط وَلِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (المجادلۃ : 3، 4)
(جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر وہ پلٹنا چاہیں اس بات سے جو انھوں نے کہی، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : ظہار کا کفارہ۔
جو شخص اپنی بیوی کو محرم رشتوں میں سے کسی ایک رشتہ کے برابرکہہ دے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی گویا کہ وہ اب اس کی بیوی نہیں رہی، البتہ جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کرے اور پھر اس بات پر شرمندہ ہو کر اپنی بات سے رجوع کرنا چاہے تو بیوی کو چھونے سے پہلے اسے درج ذیل کاموں میں سے کوئی ایک کام کرنا ہوگا۔
1 ۔ ایک غلام آزاد کرنا۔ اگر غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو یا غلامی کا رواج ختم ہوچکا ہو تو۔ 2 ۔ دومہینوں کے مسلسل روزے رکھے اگر شرعی عذر کے بغیر ناغہ کیا تو اسے ازسر نو دو مہینوں کے روزے پورے کرنے ہوں گے۔ 3 ۔ روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو ساٹھ مسکینوں…
Read the full tafseer →4 : فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ (پس جس کو غلام یا باندی میسر نہ ہو) ۔ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ (تو اس کے ذمہ لگا تار دو مہینے کے روزے ہیں) مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآ سَّا فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ (قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں۔ پھر جس سے یہ بھی نہ ہوسکے) یعنی روزے کی طاقت نہ ہو۔ فَاِطْعَامُ (تو اس کے ذمہ کھانا کھلانا ہے) سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا (ساٹھ مساکین کو) اس طرح کہ ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا ایک صاع دوسری چیزوں میں سے اور قربت سے پہلے کھا ناکھلائے۔ اگر کھانا کھلانے کے دوران اس نے قربت کرلی تو دوبارہ کھانا کھلانا نہ پڑے گا۔ ذٰلِکَ (یہ حکم اس لئے ہے) یہ احکام کی تعلیم اور وضاحت۔…
Read the full tafseer →3 ۔” والذین یظاھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالواتحریر رقبۃ “ پھر ظہار کا حکم یہ ہے کہ خاوند پر اسی سے وطی کرنا حرام ہوجاتا ہے ظہار کے بعد جب تک کفار ہ نہ دے اور کفارہ ظہار کے بعد لوٹنے (جماع) کی وجہ سے واجب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ثم یعودون لما قالواتحریر رقبۃ “ کی وجہ سے۔ اور اہل علم کا العود کی تفسیر میں اختلاف ہوا ہے۔ پس اہل ظاہر کہتے ہیں یہ حفظ ظہار کو لوٹانا ہے اور یہی ابوالعالیہ (رح) کا قول ہے۔
ثم یعودون لما قالوا کی تفسیر
اور فرمایا ” ثم یعودون لما قالوا “ یعنی ” الی ماقالوا “ یعنی دوسری مرتبہ اس بات کا اعادہ کریں۔ پس اگر لفظ کا تکرار نہ کریں تو کوئی کفارہ نہیں ہے اور ایک قوم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
2۔ 6۔ معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن 3 ؎ مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہار اسلام میں پہلا ظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں مذکور ہے اس پہلے ظہار کے مبہم ذکر کرکے بعد جو حکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورت ماں نہیں ہوسکتی۔ ماں تو وہی ہے جس کے پیٹ سے آدمی پیدا ہوتا ہے یہ ایک گھڑا ہوا غلط رواج ہے کہ غیر عورت کو ماں کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →) فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ ) پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے ( فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَـاۗسَّا ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ ) تو مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو (فاطعام ستین مسکینا) تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلنا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انہیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے، جو صدقہ فطر میں کفایت کرتی ہو نصف صاع عطا کرے جیسا کہ مفسرین کے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
قول باری ہے (وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ یہ لوگ یقینا ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہہ رہے ہیں) یعنی…واللہ اعلم…
بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینا بڑی نامعقول بات ہے کیونکہ ماں تو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ ہے۔
قول باری ہے (الذین یظاھرون منکم من نساء ھم تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں) یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظہار صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ اہل ذمہ اس میں شامل نہیں ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول…
Read the full tafseer →[ 10] غلام نہ ملنے کی صورت میں حکم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جس کو یہ میسر نہ ہو یعنی غلام نہ مل سکے کہ سرے سے غلام ہی نہی پائے جاتے ہوں، جیسا کہ آج کل ہے، یا خریفنے کی طاقت نہ ہو، دونوں صورتوں میں ایسے شخص کے ذمے روزے رکھنا ہے، سو ایسی صورت میں یہ شخص لگاتار دو ماہ کے روزے رکھے، اور تسلسل اور پابندی کے ساتھ اس طرح رکھے کہ بیچ میں کوئی ناغہ نہ ہو، جیسا کہ آگے آرہا ہے کہ کفارہ کے ان روزوں میں تسلسل ضروری ہے، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر کفارہء ظہار کی ادائیگی کے سلسلے میں غلام باندی کو آزاد کرنے کی صورت میسر نہ ہو کہ یا سرے سے غلام باندی ہی کہیں موجود نہ ہوں یا وہ شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
” ظہار “ اور اس کے شرعی احکام
تشریح : قرآن پاک میں بار بار نیکی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت تو خالصتاً انتہائی اہم احکامات بتا رہی ہے۔ یہ احکامات ظلم، زیادتی، کفروشرک، بےحیائی اور بد نظمی سے بچاتے ہیں۔ جیسا کہ سورت کے شروع میں ظہار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اور بیشمار دوسری تفاسیر میں احادیث و روایات میں یہی بتایا گیا ہے کہ یہ آیات خاص طور سے خولہ بنت ثعلب ؓ کے مسئلہ ظہار کو حل کرنے کے لیے نازل کی گئی تھیں جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے حدود کا درجہ رکھتی ہیں۔ واقعہ تو آیات میں بتا دیا گیا ہے یہاں ایک تو اللہ کے سمیع وبصیر ہونے کی دلیل ملتی ہے ایک اس کے رحمن ورحیم ہونے کی دلیل ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
مجادلہ کا معنی ایسا اصرار ہے جو انکار کردینے کے بعد بھی جاری رہے ایک صحابی حضڑت اوس بن صامت نے اپنی بیوی خولہ سے کہہ دی ا کہ ، انت علی کظہرامی ، یعنی تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے اور یہ عہد جاہلیت میں طلاق سے شدید متصور ہوتا تھا کہ طلاق کے بعد رجعت وغیرہ کی صورت تھی مگر اس میں واپسی کی کوئی صورت نہ تھی ۔ وہ خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت لائیں آپ نے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی حکم نہیں اس نے اصرار کیا اور شکایت کی کہ کیا میرے بارے وحی بھی خاموش ہے جبکہ ہر کام میں آپ پر وحی نازل ہوتی ہے تو رب جلیل نے ان کے بارے وحی نازل فرمادی اور زمانہ جاہلیت کی اس رسم کا رد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4 اگر بلا عذر ایک روزہ بھی ناغہ کرے تواز سر نو دو مہینے کے روزے رکھے اور اگر عذر سے ناغہ کرے۔ (جیسے سفر یا بیماری کی وجہ سے) تو امام سعید بن مسیب حسن بصری مالک اور شافعی کہتے ہیں کہ صرف بقیہ روزے پورے اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ دوبارہ از سر نو دو مہینے کے روزے رکھے۔ (فتح القدیر)5 ضروری نہیں کہ سب کو ایک وقت میں کھانا کھلائے، بلکہ یہ جائز ہے کہ بعض کو ایک دن کھانا کھلائے اور بعض کو کسی اور دن۔ (فتح القدیر)6 اصل لفظ کافرین استعمال ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکموں کہو نہیں مانتے، وہ حقیقت میں کافر ہیں چاہے مردم شماری کی رو سے مسلمانوں میں شمار ہوتے ہوں۔7 حضرت ابن عباس کا…
Read the full tafseer →(58:4) فمن لم یجد :تعقیب کا ہے من موصولہ، لم یجد صلہ۔ اس کا مفعول محذوف ہے ۔ ای فمن لم یجد رقبۃ۔ پھر جس جو غلام میسر نہ ہو۔
فصیام شھرین متتابعین ای فعلیہ صیام شھرین متتابعین۔ تو اس کے ذمہ لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں۔تعقیب کا ہے صیام مضاف۔ شھرین متتابعین موصوف مل کر مضاف الیہ۔ متتابعین : اسم فاعل تثنیہ مذکر تتابع (تفاعل) مصدر سے بمعنی پے در پے لگاتار۔ شھرین : دو مہینے، شھر سے تثنیہ کا صیغہ۔
فمن لم یستطع۔ ای فمن لم یستطع صیام شھرین متتابعین۔ پھر جو طاقت نہ رکھے دو مہینوں کے لگاتار روزوں کی۔
فاطعام۔ ای فعلیہ اطعام ستین مسکینا۔ تو اس کے ذمہ ہے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
وللکفرین عذاب الیم :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
سمع۔ سن لیا۔ تجادل۔ وہ جھگڑتی ہے۔ تشتکی۔ شکایت کرتی ہے ۔ تحاور۔ آپس میں بات چیت۔ یظھرون۔ وہ ظہار کرتے ہیں۔ ولدن۔ انہوں نے جنا۔ پیدا کیا۔ زور۔ جھوٹ۔ گناہ۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ تحریر۔ آزاد کرنا۔ رقبۃ۔ گردن (غلام) ۔ ان یتماسا۔ یہ کہ وہ ہاتھ لگائیں۔ شھرین متتابعین۔ مسلسل دو مہینے۔ اطعام۔ کھلانا۔ ستین۔ ساٹھ۔ یحادون ۔ ناراض کرتے ہیں۔ کبتوا۔ ذلیل کئے گئے۔ احصی۔ اس نے شمار کیا۔
تشریح : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں بہت سے من گھڑت طریقے رائج تھے جن پر وہ لوگ بڑی شدت سے جمے ہوئے تھے اور اسی کو ان لوگوں نے شریعت بنا رکھا تھا مثلا اگر میاں بیوی کے درمیان مزاجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
(ف 1) معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہاراسلام میں پہلاظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں ذکر ہے اس پہلے ظہور کے مبہم ذکر کرکے بعدجوحکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپرگذرچکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی اس لیے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورتیں درحقیقت ان کی مائیں نہیں ہوجاتی اور وہ جو ان پر حرام ہیں وہ تو وہی ہیں جنہوں نے انکوجنا ہے یعنی حقیقی والدہ یا جس نے دودھ…
Read the full tafseer →[5] یعنی روزے مسلسل رکھے جائیں، بیچ میں کوئی روزہ نہ چھوٹے ورنہ ازسرنو روزے رکھنے پڑیں گے۔
[6] یعنی جب روزے رکھنے سے مجبور ہو تو کھانا دے سکتا ہے۔
[7] ایمان تو اصل میں عقیدے کا نام ہے مگر اس کی تکمیل عمل سے ہوتی ہے اگر کوئی شخص اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہے اور پابند شرع نہیں تو وہ پورا مسلمان نہیں۔
[8] یعنی اللہ کے باندھے ہوئے حدود توڑنے والے کافر ہیں اور ان کے لئے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
عورت کا درجہ قانون میں
1: اسلام سے پہلے طلاق کی صورت یہ تھی کہ خاوند بیوی سے کہتا ۔ انت علی تظھرامی ۔ یعنی اب تو میرے لئے میری ماں کی حیثیت میں ہے ۔ اور بربنائے رواج پر وہ عورت دامی طور پر مفارقت اختیار کرلیتی ۔ اس کی اصطلاح میں ظہار کہتے تھے خولہ بنت ثعلیہ حضور ﷺ کے پاس فریاد لے کر آئی کہ الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ میرے اولاد بھی ہے ۔ اگر ان الفاظ سے علیحدگی واقع ہوجاتی ہے ۔ تو بڑی مشکل کا سامنا ہے ۔ اولاد کو اگر خاوند کے سپرد کرتی ہوں تو مجھے خطرہ ہے ۔ کہ وہ شفقت سے ان کی تربیت نہیں کریگا ۔ اور اگر اپنے پاس رکھتی ہوں ۔ تو اندیشہ ہے ۔ کہ بھوکوں نہ مرجائیں ۔ میں ان کو کیوں کر پالوں گی ۔ حضور ﷺ…
Read the full tafseer →(4) پھر جو بردہ یعنی غلا یا باندی آزاد کرنے کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اس کے ذمے اس سے پہلے کہ وہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں دو مہینے کے لگاتار اور پے درپے روزے ہیں پھر جو دو مہینے کے روزوں کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کے ذمے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یہ حکم اس لئے ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور یہ احکام اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور منکروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بردے کا مقدور ہو تو روزہ نہیں روزہ ہوسکے تو کھانا نہیں آخر کو کھانا ہے اگر پکار کر کھلادے تو سالن…
Read the full tafseer →ف 5۔ (مسئلہ 1) ظہار کے معنی ہیں اپنی بی بی کو کسی ایسی عورت کے جو اس شخص پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو (جیسے ماں، بہن، بیٹی وغیرہ) کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف بلا ضرورت نظر کرنا حرام ہے، جیسے ظہر اور بطن اور فخذ وغیرہ۔
(مسئلہ 2) بدون کفارہ ادا کئے ہوئے صحبت اور دواعی صحبت حرام ہے۔
Read the full tafseer →جس شخص کو غلام میسر نہ آئے وہ کیا کرے ؟ ایک فطری سوال اور اس کا جواب
4 ؎ جب قرآن کریم نازل کیا جا رہا تھا تو نہ صرف عربوں میں بلکہ پوری دنیا میں غلام و باندیوں کو خریدنے اور بیچنے کا عام رواج تھا۔ اسلام نے اس کو پسند نہیں کیا لیکن اس کی اصطلاح قدم بقدم کی اور ان لوگوں کو آزاد کرنے کی کئی ایک ترغیبات دیں اور اس کا اصل منشاء یہی تھا کہ یہ رسم بالکل ختم ہوجائے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام اس بات کو خوب جانتا تھا کہ یہ معاملہ وقت کے ساتھ ساتھ خودبخود ختم ہوجائے گا کیونکہ اس کے ختم کرنے کے لیے راستے بتا دیئے گئے ہیں ۔ اس لیے اس نے اپنے کامل علم کے باعث خود ہی یہ سوال اٹھا دیا کہ اگر کسی شخص کو…
Read the full tafseer →ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ (...This is [ laid down ] so that you believe in Allah and His Messenger. And these are the limits set by Allah. And for the disbelievers there is a painful chastisement. 58:4) This part of the verse contains the phrase 'so that you believe'. Belief here implies 'to act upon the sacred laws, ordinances and injunctions or obey the commandments of Allah and His Messenger'. Then the verse says that the laws of expiation are limits set by Allah. It is prohibited to exceed them. It indicates…
Read the full tafseer →11 This is the Divine commandment in respect of zihar. The following arc the details of the law that the Jurists of Islam have derived from the words of this verse, the judgements of the Holy Messenger of Allah (upon whom be Allah's peace and blessings) and the general principles of Islam.
(1) This law of zahir abrogates the Arabian custom of ignorance according to which the marriage contract stood annulled and the woman became permanently forbidden to the husband. Likewise, this law annuls all those laws and customs which regard zihar as a meaningless custom, which is of no legal effect, and…
Read the full tafseer →