Explained with ayahs 2–4
خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ ؓ اور مسئلہ ظہار
حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں اس سورة مجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 7
یہاں سے ظہار کے قانونی حکم کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ظہار کے وہ واقعات نگاہ میں رہیں جو نبی ﷺ کے عہد مبارک میں پیش آئے تھے، کیونکہ اسلام میں ظہار کا مفصل قانون انہی آیات اور ان فیصلوں سے ماخوذ ہے جو ان آیات کے نزول کے بعد حضور نے پیش آمدہ واقعات میں صادر فرمائے۔
حضرت عبداللہ بن عباس کے بیان کے مطابق اسلام میں ظہار کا پہلا واقعہ اوس بن صامت انصاری کا ہے جن کی بیوی خَوْلَہ کی فریاد پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ محدثین نے اس واقعہ کی جو تفصیلات متعدد راویوں سے نقل کی ہیں ان میں فروعی اختلافات تو بہت سے ہیں، مگر قانونی اہمیت رکھنے والے…
Read the full tafseer →اگلی آیت میں (آیت) وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا کا یہی مطلب ہے، یعودون لما قالوا میں حرف لام کو عن کے معنی میں لیا گیا، یعنی رجوع کرتے ہیں وہ اپنے قول سے اور حضرت ابن عباس سے یعودون کی تفسیر بلفظ یندمون بھی منقول ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول کہنے کے بعد وہ اپنے قول پر نادم ہوجائیں اور پھر بیوی سے اختلاط کرنا چاہیں (مظہری)
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کفارہ کا وجوب بیوی کے ساتھ اختلاط حلال ہونے کی غرض سے ہے اس کے بغیر حلال نہیں، خود ظہار اس کفارہ کی علت نہیں، بلکہ ظہار کرنا ایک گناہ ہے جس کا کفارہ توبہ و استغفار ہے، جس کی طرف آیت کے آخر میں…
Read the full tafseer →(والذین یظھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالوا فتحریررقبۃ من قبل ان یتعاسا ذلکم تو عظون بہ واللہ بما تعملون خیبر (3)۔
(ظہار کا کفارہ)۔ یہ اس کا حل بتایا ہے کہ جو شخص اپنی سے ظہار کر بیٹھے پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹنا چاہے جس کو اس نے حرام ٹھہرایا تو اس کو اس سے پہلے کفارہ کے طور پر ایک غلام آزاد کرنا ہو گا۔ یعنی اس کی بیوی اس کے ظہار کے سبب سے اس کی ماں کی طرح حرام تو نہیں ہوجائے گی لیکن چونکہ نکاح و طلاق کے اثرات معاشرتی زندگی پر نہایت دور رس ہوتے ہیں اس وجہ سے اس معاملے میں جدوہزل دونوں ہی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ چیز مقتضی ہے کہ ایسے شخص کو کچھ تنبیہ و تادیب کی جائے، تاکہ وہ بھی آئندہ احتیاط کی روش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 اب اس حکم کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ رجوع کا مطلب، بیوی سے ہم بستری کرنا چاہیں۔
3۔ 2 یعنی ہم بستری سے پہلے وہ کفارہ ادا کریں 1۔ ایک غلام آزاد کرنا 2۔ اس کی طاقت نہ ہو تو پے درپے دو مہینے کے روزے رکھنے پڑیں گے۔ عذر شرعی سے مراد بیماری یا سفر ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر مسکین کو دو مد نصف صاع یعنی سوا کلو اور بعض کہتے ہیں ایک مد کافی ہے لیکن قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا اس طرح کھلایا جائے کہ وہ شکم سیر ہوجائیں یا اتنی مقدار میں ان کو کھانا دیا جائے ایک مرتبہ ہی سب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3: یہاں سے ظہار کا حکم بیان فرمایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ ظہار کے بعد میاں بیوی کے لئے اپنے مخصوص تعلقات یعنی جماع بوس وکنار وغیرہ جائز نہیں رہتے، البتہ ظہار سے رجوع ہوسکتا ہے، جس کے بعد میاں بیوی والے تعلقات بحال ہوجاتے ہیں، لیکن اس کے لئے کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، ان آیتوں میں کفارہ یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی کے لئے ایک غلام کو آزاد کرنا ممکن ہو تو اس کے ذمے واجب ہے کہ وہ غلام آزاد کرنے کی صورت میں کفارہ ادا کرے ؛ لیکن اگر کسی کو غلام کی قدرت نہ ہو (جیسے کہ آج کل غلاموں کا وجود ہی نہیں رہا) تو اس کو دو مہینے متواتر روزے رکھنے ہوں گے، اور اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →والذین .................... خبیر (85 : 3) ” جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی ، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے کئی کفاروں میں غلام کی آزادی کی تجویز رکھی ہے۔ یہ اسلام نے دنیا سے غلامی کو ختم کرنے کے لئے ایک تدبیر کی تھی۔ کیونکہ اس دور میں جنگ کے بین الاقوامی قوانین میں غلامی کو جائز رکھا گیا تھا۔ اسلام نے بہرحال اس کے ختم کرنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کیں۔ یہاں آیت۔
ثم یعودون لمام قالوا (85 : 3) ” پھر وہ اس بات…
Read the full tafseer →5 یعنی یہ لفظ (اَنْتِ عَلیَّ کَظَہْرِ اُمِّی) کہا صحبت موقوف کرنے کو۔ پھر صحبت کرنا چاہیں تو پہلے ایک غلام آزاد کرلیں اس کے بعد ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ ( تنبیہ) حنفیہ کے ہاں کفارہ دینے سے پہلے جماع اور دواعی جماع دونوں ممنوع ہیں۔ بعض احادیث میں ہے " اَمَرَہ، اَنْ لَّا یَقْرُبَہَا حَتّٰی یُکَفِّرُ ۔ "
6 یعنی کفارہ کی مشروعیت تمہاری تنبیہ و نصیحت کے لیے ہے کہ پھر ایسی غلطی نہ کرو۔ اور دوسرے بھی باز آئیں۔
7 یعنی تمہارے احوال کے مناسب احکام بھیجتا ہے اور خبر رکھتا ہے کہ تم کس حد تک ان پر عمل کرتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 3 { وَالَّذِیْنَ یُظٰہِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُـوْا } ”اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کربیٹھیں ‘ پھر وہ اپنی کہی ہوئی بات سے واپس لوٹنا چاہیں“
{ فَتَحْرِیْرُ رَقَـبَۃٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ یَّـتَمَآسَّا } ”تو ایک غلام کا آزاد کرنا ہوگا ‘ اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو مس کریں۔“
یعنی اس معاملے کا کفارہ ادا کرو اور پھر سے میاں بیوی کی طرح رہو !
{ ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ } ”یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جا رہی ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 ظہار سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ بیوی ماں بن سکتی ہے :۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف منہ سے کہنے پر بیوی ماں نہیں بن جاتی بلکہ بیوی ہی رہتی ہے۔ اس لیے کہ مائیں تو صرف وہ ہیں جنہوں نے تمہیں جنا ہے۔ اب جو تم انہیں ماں کہہ کر واقعی ماں سمجھ بیٹھتے ہو تو یہ ایک خلاف واقعہ، خلاف حقیقت اور جھوٹی بات ہے۔ جس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔ اللہ نے تم پر بہت رحم فرما کر اس رسم کو ختم کردیا ہے۔ اور آئندہ جو شخص ایسی باتوں سے باز رہے گا تو اس کے سابقہ گناہوں کو معاف بھی کردینے والا ہے۔
Read the full tafseer →5۔ اور مملوک میں غلام اور باندی دونوں شامل ہیں۔ (آیت) ” رقبۃ “۔ کے لفظی معنی ” گردن “ کے ہیں قرآنی کنایہ میں مراد مملوک سے ہوتی ہے۔ (آیت) ’ فتحریر رقبۃ “۔ غلاموں، باندیوں کی گلوخلاصی اور آزادی کو مختلف گناہوں کا کفارہ بنادینا اس کے مرادف تھا کہ یہ گلوخلاصی اسلام میں بہرحال ایک امر مستحسن ہے۔ (آیت) ” ثم ..... قالوا “۔ یعنی تحریم زوجہ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ (آیت) ” من قبل ان یتمآسا “۔ یعنی قبل اس کے کہ میاں بیوی اختلاط کریں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ مس یا اختلاط کرلیا، تو اب اور کوئی مزید جزاء اس پر لازم نہ آئے گی، وہ کفارہ کافی ہوگا، البتہ اپنے اس عمل پر ندامت و توبہ بہرحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
قاعدہ : والذین یطھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالوا، لما قالوا میں لام، عن کے معنی میں ہے۔
مامصدریہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں، اس آیت سے یہ قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ کفارہ کا وجوب بیوی کے ساتھ اختلاط حلال ہونے کی غرض سے ہے، بیوی کفارہ کے بغیر حلال نہ ہوگی، خود ظہارہ کفارہ کی علت نہیں، اسی سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اور وہ اس سے اختلاط کا خواہشمند نہیں تو کفارہ لازم نہیں، البتہ بیوی کی حق تلفی ناجائز ہے، اگر وہ مطالبہ کرے تو کفارہ ادا کر کے اختلاط کرنا یا پھر طلاق دیکر آزاد کرنا واجب ہے، اگر یہ شوہر خود نہ کرے تو بیوی حاکم کی طرف مراجعت کر…
Read the full tafseer →والذین یظھرون من نساء ھم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبۃ من قبل ان یتما سا ذلکم تو عظون بہ واللہ تعملون خبیر . ” اور جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں ‘ پھر اپنی کہی ہوئی
بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمہ ایک بردہ آزاد کرنا ہے۔ دونوں کے باہم اختلاط کرنے (یعنی قربت صنفی کرنے) سے پہلے اس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے سارے اعمال سے پورا باخبر ہے۔ “
ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا : اہل علم کے نزدیک اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ اہل ظاہر نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لفظ پہلے کہا تھا اس کی طرف لوٹتے ہیں یعنی لفظ ظہار مکرر کہتے ہیں۔ اسی تشریح کی وجہ سے علماء ظاہر کے نزدیک…
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ ظہار کے کفارے کے بارے میں بیان فرماتے ہیں جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر کے ان کو خود حرام کرلیتے ہیں اور پھر اپنی اس کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمہ ایک غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اس سے پہلے کہ دونوں میاں بیوی باہم اختلاط کریں اس آزادی سے تمہیں ظہار کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کو کفارہ ظہار کی ادائیگی اور عدم ادائیگی کی پوری خبر ہے۔
Read the full tafseer →1۔ وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِ ھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا۔۔۔۔۔۔۔۔۔:”ثم یعودون لما قالوا“ کی تفسیر میں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں ان پر پہلی بار کوئی مؤاخذہ نہیں ، البتہ اگر یہی بات دوبارہ کریں تو ان پر یہ کفار ہے ، مگر یہ بات اس لیے درست نہیں کہ آیت جس واقعہ پر نازل ہوئی اس میں خاوند نے خولہ ؓ کو ایک ہی بار ”انت علی کظھر امی“ کہا تھا۔ دوسری مرتبہ یا بار با ایسا کہنے کا کہیں ذکر نہیں ، اس لیے آیت کا وہی مطلب درست ہوگا جو صحیح حدیث کے مطابق ہو ، چناچہ ”یعودن لما قالوا“ کا مطلب فراء اور بعض مفسرین نے تو یہ لیا ہے کہ یہاں…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1۔ والذین یظھرون من نسآئھم یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر فتحریر رقبۃ ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتی ہے اس لئے اسے حذف کردیا گیا ہے یعنی فعلھم تحریر رقبۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفارتھم عتق رقبۃ ظہار کے معاملہ میں جس قول پر تمام علماء کا اجماع ہے وہ ایک آدمی کا اپنی بیوی کو یہ کہنا ہے : انت علی کظھر امی یہ وہ قول منکر اور قول زور ہے جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں فرمایا ہے : وانھم لیقولون منکرا من القول وزوراً جس نے یہ قول کیا اس پر اپنی بیوی سے وطی کرنا حرام ہے، جس نے یہ بات کہی پھر اس سے رجوع کیا تو اس پر کفارہ ظہار لازم وہ گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نافرمان ہے والذین یظھرون من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
کفارۂ ظہار میں غلام آزاد کرنا
35۔ عبدالرزاق نے المصنف میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ سلمہ بن صخر الانصاری ؓ نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر ماں کی پیٹھ کی طرح بنادیا (یعنی اپنی بیوی سے ظہار کرلیا) پھر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے گویا کہ وہ اس کو گناہ سمجھ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس نے کہا نہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا اے فروہ بن عمرو ! اس کو ایک عرق (کھجور) دے دو اور یہ ایک پندرہ یا سولہ…
Read the full tafseer →[وَالَّذِينَ يُظٰهِرُوْنَ : اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھتے ہیں ][ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ : اپنی عورتوں میں سے ][ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ : پھر وہ دوبارہ کرتے ہیں ][ لِمَا : وہ جس کے لیے ][ قَالُوْا : انھوں نے کہا تھا ][ فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ : تو ایک گردن کا آزاد کرنا ہے ][ مِّنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ ][يَّـتماۗسَّا : وہ دونوں ایک دوسرے کو چھویں ][ذٰلِكُمْ : یہ (وہ ہے)][ تُوْعَظُوْنَ : تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ][ بِهٖ : جس کے ذریعے سے ][وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ][خَبِيْرٌ: ہمیشہ باخبر ہے ]
نوٹ۔ 1: عرب میں بسا اوقات شوہر اور بیوی میں لڑائی ہوتی تو غصے میں شوہر…
Read the full tafseer →کفارہ ظہار
اس کے بعد ظہار کا کفارہ بیان فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ (الی قولہ تعالیٰ ) فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا ﴾ اس میں علی الترتیب تین چیزیں ذکر فرمائیں۔ ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیتے ہیں پھر چاہتے ہیں کہ جو بات کہی ہے اس کی تلافی کریں سو جس کسی نے بھی ایسا کیا ہو وہ ایک غلام آزاد کرے اور غلام آزاد کرنے سے پہلے میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کو نہ چھوئیں، یہ ﴿ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا ﴾ کا ترجمہ ہے یہ لفظ فرما کر یہ بتادیا کہ غلام آزاد کرنے سے پہلے نہ جماع کریں نہ دواعی جماع یعنی بوس و کنار اور مس وتقبیل کے ذریعہ استمتاع اور استلذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
شکوہ والتجاخاتون پریشان حال دربارگاہ رب العزت ذی الجلال ونزول حکم ظہار :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” قد سمع اللہ قول التی تجادلک ....... الی ....... عذاب الیم “۔
(رابط) گذشتہ سورت کا مضمون انبیاء (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کے ذریعہ عالم دنیا کے لیے سامان ہدایت و رحمت کا ذکر تھا اب اس سورت کی ابتداء اس مضمون سے کی جارہی ہے کہ اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ایسے ہدایات و احکام نازل فرماتا ہے جن سے لوگ اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اپنی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی وقت پریشان ومضطرب ہوں تو خدا تعالیٰ کس طرح ان کی التجاء سنتا ہے اور احکام شریعت کے ذریعہ کس طرح ان کی پریشانیاں…
Read the full tafseer →4:۔ ” والذین یظاہرون “ یہ کفارہ ظہار کا بیان ہے کفارہ ظہار کی تین صورتیں ہیں۔ اس آیت میں پہلی صورت کا بیان ہے۔ قالوا ای لنقض ما قالوا (مدارک) ۔ ” فتحریر رقبۃ “ یہ خبر مقدر کا مبتدا ہے ای فعلیہم تحریر رقبۃ (مظہری) ۔ یعنی جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں لیکن اس کے بعد وہ اپنی کہی ہوئی بات کو کالعدم اور اس کی تلافی کرنا چاہیں تو ان پر بطور کفارہ ایک غلام کا آزاد کرنا لازم ہے لیکن اس کے شرط یہ ہے کہ ظہار کے بعد بیوی کے پاس جانے سے پہلے غلام آزاد کریں۔ یہ کفارہ ادا کرنے حکم تمہیں تنبیہ کے لیے کیا جارہا ہے تاکہ تم آئندہ اس فعل شنیع کا ارتکاب نہ کرو اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ربط آیات :
گزشتہ درس میں ظہار کی ناپسندیدگی کا ذکر تھا کیونکہ یہ ناپسندیدہ اور جھوٹی بات ہے اور دوسرے معنوی میں گناہ کبیرہ بنتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے یعنی اس کو اپنی ماں کی پشت سے تشبیہ دیتا ہے تو اس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ وہ بیوی سے عدم مباشرت اور علیحدگی کا اعلان کررہا ہے۔ مگر ایسا کہنے سے بیوی کو طاق نہیں ہوجاتی بلکہ آدمی گنہگار بن جاتا ہے اور اگر وہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ جس کا ذکر آج درس میں آرہا ہے۔
کفارہ ظہار (1) غلام کی آزادی :
ارشاد باری تعالیٰ ہے والذین یظھرون من نسآء ھم جو لوگ اپنی عورتوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُظٰہِرُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕہِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّـتَـمَاۗسَّا 0 ۭ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 3
ظِّهَارُ
: أن يقول الرّجل لامرأته : أنت عليّ كَظَهْرِ أمّي، يقال : ظَاهَرَ من امرأته . قال تعالی: وَالَّذِينَ يُظاهِرُونَ مِنْ نِسائِهِمْ [ المجادلة/ 3] ، وقرئ : يظاهرون أي : يَتَظَاهَرُونَ ، فأدغم،
الظھار کے معنی ہیں خاوند کا بیوی سے یہ کہنا کہ تو میرے لئے ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت کہا جاتا ہے ظاھر من امرء تہ اس نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : وتشتکی معطوف علی تجادلک وقیل حال من فاعلہ ای تجادل وھی متضرعۃ الی اللہ تعالیٰ الذین موصول یظاہرون الخ صلۃ والکل مبتداء ماھن امھتھم الجملۃ خبرہ امہاتہم بکسر التاء علی انہ خبراوبضمھا علی اللغۃ والذین یظاھرون من نسائھم مبتداء فتحریر رقبۃ الجملۃ وھی فعلیھم تحریر رقبۃ خبرہ۔ ذلکم مبتداء تو عظون بہ خبرہ واللام فی لما قالوا تتعلق بیعودون ومامصدریۃ ویمکن ان تجعل بمعنی الذین ونکرۃ موصوفۃ وقیل اللام بمعنی فی وقیل بمعنی الیٰ فی الکلام تقدیم و تاخیرہ تقدیرہ ثم یعودون فعلیھم تحریر رقبۃ لماقالوا فصیام شہرین ای فعلیہ صیام شہرین ذالک ومحلہ النصب بفعل معلل بقولہ لتومنوا اوالرفع علی الابتداء یوم منصوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ط ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ج فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ط ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط وَتِلْکَ حُدُوْدُاللّٰہِ ط وَلِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (المجادلۃ : 3، 4)
(جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر وہ پلٹنا چاہیں اس بات سے جو انھوں نے کہی، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : ظہار کا کفارہ۔
جو شخص اپنی بیوی کو محرم رشتوں میں سے کسی ایک رشتہ کے برابرکہہ دے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی گویا کہ وہ اب اس کی بیوی نہیں رہی، البتہ جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کرے اور پھر اس بات پر شرمندہ ہو کر اپنی بات سے رجوع کرنا چاہے تو بیوی کو چھونے سے پہلے اسے درج ذیل کاموں میں سے کوئی ایک کام کرنا ہوگا۔
1 ۔ ایک غلام آزاد کرنا۔ اگر غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو یا غلامی کا رواج ختم ہوچکا ہو تو۔ 2 ۔ دومہینوں کے مسلسل روزے رکھے اگر شرعی عذر کے بغیر ناغہ کیا تو اسے ازسر نو دو مہینوں کے روزے پورے کرنے ہوں گے۔ 3 ۔ روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو ساٹھ مسکینوں…
Read the full tafseer →3 : وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآ ئِھِمْ (اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں) پہلی آیت میں بتلا دیا کہ یہ منکر اور جھوٹی بات ہے اور اس آیت میں ظہار کا حکم بیان فرمایا۔ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا (پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں) العودؔ ابتداء یا بناء ایک سے دوسری حالت کی طرف لوٹنا۔ ابتداء ًلوٹنے کی مثال یہ آیت ہے : حتی عاد کالعرجون القدیم ] یٰسٓؔ : 39[ اور بناء ًلوٹنے کی مثال، ان عدتم عدنا۔ ] الاسراء : 8[ اور یہ متعدی بنفسہٖ ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں عدتہ جبکہ تم اس کے پاس آئے اور اس تک پہنچے اور حرف جر کے ساتھ متعدی بھی استعمال ہوتا ہے۔ وہ چار صلے ہیں الی، علی،…
Read the full tafseer →تفسیر : الذین یظاھرون منکم من نسائھم عاصم نے یظاہرون یاء کے ضمہ اور ظاء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس کے بعد الف ابن عامر، جعفر، حمزہ، کسائی وغیرہ نے یاء کے فتحہ اور ھا کے فتحہ کے ساتھ اور ظاء کی تشدید کے ساتھ۔ دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ ظاء اور ھاء کی تشدید بغیر الف کے (ماھن امھاتھم) جن کو انہوں نے جن کو اپنے لئے بیویاں مقرر کردی ہیں وہ حقیقت میں ان کی مائیں نہیں ہیں کہ مائوں کی طرح وہ حرام ہوں۔ (ان امھاتھم) نہیں ہیں ان کی مائیں مگر (الا الالی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول) جنہوں نے ان کو جنا۔ (وزورا) بمعنی جھوٹ۔ منکر۔ وان اللہ لعفو غفور اللہ تعالیٰ ان کے اس گناہ کو معاف کردیں گے جب وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
2۔ 6۔ معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن 3 ؎ مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہار اسلام میں پہلا ظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں مذکور ہے اس پہلے ظہار کے مبہم ذکر کرکے بعد جو حکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورت ماں نہیں ہوسکتی۔ ماں تو وہی ہے جس کے پیٹ سے آدمی پیدا ہوتا ہے یہ ایک گھڑا ہوا غلط رواج ہے کہ غیر عورت کو ماں کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →(وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا) اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کربیٹھیں، پھر انہوں نے جو کہا اس سے رجوع کرلیں، رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں چناچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکور کفارہ واجب ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی حقیقی جماع کے ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا (ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
قول باری ہے (وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ یہ لوگ یقینا ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہہ رہے ہیں) یعنی…واللہ اعلم…
بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینا بڑی نامعقول بات ہے کیونکہ ماں تو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ ہے۔
قول باری ہے (الذین یظاھرون منکم من نساء ھم تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں) یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظہار صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ اہل ذمہ اس میں شامل نہیں ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول…
Read the full tafseer →[ 6] ظہار کے حکم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں پھر وہ اپنی کہی ہوئی بات سے پھرنا چاہیں، یعنی ان سے زن و شوئی کے تعلقات پھر قائم کرنا چاہیں تو اس کیلئے یہ حکم اور یہ طریقہ ہے جو آگے بیان ہو رہا ہے اور یہ اس ارشاد کا ایک معنی و مفہوم ہے، اور اپنے ظہار کا نقص و ازالہ کرنا چاہتے ہیں، اور اپنے کیے پر نادم ہو کر اس کو بدلنا چاہیں تو ان کیلئے یہ حکم اور یہ طریقہ ہے جو آگے بیان ہو رہا ہے اور یہ اس ارشاد کا ایک معنی و مفہوم ہے، جب کہ دوسرا مفہوم اس ارشاد کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایسی ہی بات پھر کرنا چاہتے ہوں [ خازن، مراغی، اور صفوۃ وغیرہ ] مگر ظاہر پہلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
” ظہار “ اور اس کے شرعی احکام
تشریح : قرآن پاک میں بار بار نیکی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت تو خالصتاً انتہائی اہم احکامات بتا رہی ہے۔ یہ احکامات ظلم، زیادتی، کفروشرک، بےحیائی اور بد نظمی سے بچاتے ہیں۔ جیسا کہ سورت کے شروع میں ظہار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اور بیشمار دوسری تفاسیر میں احادیث و روایات میں یہی بتایا گیا ہے کہ یہ آیات خاص طور سے خولہ بنت ثعلب ؓ کے مسئلہ ظہار کو حل کرنے کے لیے نازل کی گئی تھیں جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے حدود کا درجہ رکھتی ہیں۔ واقعہ تو آیات میں بتا دیا گیا ہے یہاں ایک تو اللہ کے سمیع وبصیر ہونے کی دلیل ملتی ہے ایک اس کے رحمن ورحیم ہونے کی دلیل ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
مجادلہ کا معنی ایسا اصرار ہے جو انکار کردینے کے بعد بھی جاری رہے ایک صحابی حضڑت اوس بن صامت نے اپنی بیوی خولہ سے کہہ دی ا کہ ، انت علی کظہرامی ، یعنی تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے اور یہ عہد جاہلیت میں طلاق سے شدید متصور ہوتا تھا کہ طلاق کے بعد رجعت وغیرہ کی صورت تھی مگر اس میں واپسی کی کوئی صورت نہ تھی ۔ وہ خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت لائیں آپ نے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی حکم نہیں اس نے اصرار کیا اور شکایت کی کہ کیا میرے بارے وحی بھی خاموش ہے جبکہ ہر کام میں آپ پر وحی نازل ہوتی ہے تو رب جلیل نے ان کے بارے وحی نازل فرمادی اور زمانہ جاہلیت کی اس رسم کا رد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4 اگر بلا عذر ایک روزہ بھی ناغہ کرے تواز سر نو دو مہینے کے روزے رکھے اور اگر عذر سے ناغہ کرے۔ (جیسے سفر یا بیماری کی وجہ سے) تو امام سعید بن مسیب حسن بصری مالک اور شافعی کہتے ہیں کہ صرف بقیہ روزے پورے اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ دوبارہ از سر نو دو مہینے کے روزے رکھے۔ (فتح القدیر)5 ضروری نہیں کہ سب کو ایک وقت میں کھانا کھلائے، بلکہ یہ جائز ہے کہ بعض کو ایک دن کھانا کھلائے اور بعض کو کسی اور دن۔ (فتح القدیر)6 اصل لفظ کافرین استعمال ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکموں کہو نہیں مانتے، وہ حقیقت میں کافر ہیں چاہے مردم شماری کی رو سے مسلمانوں میں شمار ہوتے ہوں۔7 حضرت ابن عباس کا…
Read the full tafseer →(58:3) والذین یظھرون من نسائھم مبتداءتحریر رقبۃ۔ ای فعلیہم تحریر رقبۃ خبر۔
ثم۔ تراخی مدت کے لئے ۔ پھر۔ کچھ مدت کے بعد۔
یعودون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ عود (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ لوٹیں۔ وہ رجوع کریں۔ عود لما قالوا کے علماء نے مختلف معانی لئے ہیں۔
(1) بعض کے نزدیک لام بمعنی عن ہے یعنی اپنے پہلے قول سے لوٹ جاتے ہیں ۔ یعنی حرام کرلینے کے قول سے لوٹ کر حلت کے خواستگار ہوتے ہیں۔
(2) بیضاوی (رح) نے لکھا ہے لام بمعنی الیٰ ہے یعنی اپنے قول کی تلافی کی طرف لوٹ آتے ہیں ۔
(3) فراء نے کہا ہے کہ لام بمعنی فی ہے۔ عاد فلان لما قال کے دو معنی ہیں۔ فلاں شخص اپنی کی ہوئی بات میں لوٹ آیا، یا کہی ہوئی بات کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
سمع۔ سن لیا۔ تجادل۔ وہ جھگڑتی ہے۔ تشتکی۔ شکایت کرتی ہے ۔ تحاور۔ آپس میں بات چیت۔ یظھرون۔ وہ ظہار کرتے ہیں۔ ولدن۔ انہوں نے جنا۔ پیدا کیا۔ زور۔ جھوٹ۔ گناہ۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ تحریر۔ آزاد کرنا۔ رقبۃ۔ گردن (غلام) ۔ ان یتماسا۔ یہ کہ وہ ہاتھ لگائیں۔ شھرین متتابعین۔ مسلسل دو مہینے۔ اطعام۔ کھلانا۔ ستین۔ ساٹھ۔ یحادون ۔ ناراض کرتے ہیں۔ کبتوا۔ ذلیل کئے گئے۔ احصی۔ اس نے شمار کیا۔
تشریح : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں بہت سے من گھڑت طریقے رائج تھے جن پر وہ لوگ بڑی شدت سے جمے ہوئے تھے اور اسی کو ان لوگوں نے شریعت بنا رکھا تھا مثلا اگر میاں بیوی کے درمیان مزاجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
(ف 1) معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہاراسلام میں پہلاظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں ذکر ہے اس پہلے ظہور کے مبہم ذکر کرکے بعدجوحکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپرگذرچکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی اس لیے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورتیں درحقیقت ان کی مائیں نہیں ہوجاتی اور وہ جو ان پر حرام ہیں وہ تو وہی ہیں جنہوں نے انکوجنا ہے یعنی حقیقی والدہ یا جس نے دودھ…
Read the full tafseer →[3] یعنی جس کو حرام کہا تھا اسے اپنے لئے حلال کرنا چاہیں۔
[4] یعنی ہم بستری سے پہلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
عورت کا درجہ قانون میں
1: اسلام سے پہلے طلاق کی صورت یہ تھی کہ خاوند بیوی سے کہتا ۔ انت علی تظھرامی ۔ یعنی اب تو میرے لئے میری ماں کی حیثیت میں ہے ۔ اور بربنائے رواج پر وہ عورت دامی طور پر مفارقت اختیار کرلیتی ۔ اس کی اصطلاح میں ظہار کہتے تھے خولہ بنت ثعلیہ حضور ﷺ کے پاس فریاد لے کر آئی کہ الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ میرے اولاد بھی ہے ۔ اگر ان الفاظ سے علیحدگی واقع ہوجاتی ہے ۔ تو بڑی مشکل کا سامنا ہے ۔ اولاد کو اگر خاوند کے سپرد کرتی ہوں تو مجھے خطرہ ہے ۔ کہ وہ شفقت سے ان کی تربیت نہیں کریگا ۔ اور اگر اپنے پاس رکھتی ہوں ۔ تو اندیشہ ہے ۔ کہ بھوکوں نہ مرجائیں ۔ میں ان کو کیوں کر پالوں گی ۔ حضور ﷺ…
Read the full tafseer →(3) اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیں پھر وہ اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا اور کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہیں تو ان کے ذمے اس سے پہلے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ایک بردہ آزاد کرنا ہے یعنی ایک لونڈی یا غلام آزاد کرنا ہے اس حکم کفارہ سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ان کاموں سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخب رہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پھر وہی کام جس کو کہا ہے یعنی یہ لفظ کہا ہے صحبت موقوف کرنے کو پھر چاہیں کہ صحبت کریں تو پہلے بردہ آزاد کرلیں۔
خلاصہ : یہ کہ بیوی کو ماں کہہ دینے کے بعد اگرچہ وہ ماں نہیں ہوجاتی لیکن ایک بیہودہ اور نامعقول بات کہنے کے لئے…
Read the full tafseer →ف 4۔ پس کفارہ میں دو حکمتیں ہوگئیں، ایک تکفیر سیئہ جس کی طرف اشارہ ہے لعفو غفور میں، دوسرے زجر جس کا تو عظون میں بیان ہے۔
Read the full tafseer →جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہارکر بیٹھیں وہ اپنی بات واپس لیں اور جرمانہ بھی ادا کریں
3 ؎ پہلی آیت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ظہار کا مسئلہ پوچھنے والی ایک عورت تھی ، مرد نہیں تھا لیکن اب جب اس کے سوال کے اصل جواب کا مطلب آیا تو مخاطب مردوں کو کیا جا رہا ہے عورتوں کو نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ ظہار کرنے والے مرد ہیں اور جس نے فعل کیا فطری بات ہے کہ اگر کوئی اس فعل کا جرمانہ ہے تو وہ بھی اس کے فاعل کو ہی ادا کرنا ہوگا ۔ متفکر بلا شبہ جس طرح مرد تھا عورت بھی تھی بلکہ عورت مرد سے زیادہ متفکر نظر آرہی تھی اور یہ ایک فطری امر تھا اور اب بھی ہے لیکن جب حکم سنایا جا رہا ہے تو مردوں کو مخاطب کر کے سنایا جا رہا ہے…
Read the full tafseer →The Expiation for Zihar
وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا (And those who declare zihar against their wives, then retract what they said, ...58:3). The preposition lam in the phrase يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا "...retract what they said..." is used in the sense of ` an [ from ]. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ interprets 'retract' in the sense of 'regret': 'they regret what they said and wish to be intimate or cohabit with their wives'. [ Mazhari ]
The verse shows that the penalty has been imposed on the husband for the purpose of making the wife lawful - without…
Read the full tafseer →7 From here begins the statement of the legal injunctions concerning zihar. To understand this, it is necessary that one should keep in mind the incidents of zihar that took place in the time of the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace), for the code of law pertaining to zihar is derived from the verses and the judgements that the Holy Prophet gave after the revelation of these verses in the cases of zihar brought before him.
According to Hadrat `Abdullah bin `Abbas, the first case of zihar in Islam was the one relating to Aus bin Samit Ansari, on whose wife Khaulah's complaint Allah aeM…
Read the full tafseer →