Explained with ayahs 2–4
خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ ؓ اور مسئلہ ظہار
حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں اس سورة مجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 3
عرب میں بسا اوقات یہ صورت پیش آتی تھی کہ شوہر اور بیوی میں لڑائی ہوتی تو شوہر غصے میں آ کر کہتا انت عَلَیّ کَظَہرِ اُمیّ۔ اس کے لغوی معنی تو یہ ہیں کہ " تو میرے اوپر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ "، لیکن اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ " تجھ سے مباشرت کرنا میرے لیے ایسا ہے جیسے میں اپنی ماں سے مباشرت کروں "۔ اس زمانے میں بھی بہت سے نادان لوگ بیوی سے لڑ کر اس کو ماں، بہن، بیٹی سے تشبیہ دے بیٹھتے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی گویا اب اسے بیوی نہیں بلکہ ان عورتوں کی طرح سمجھتا ہے جو اس کے لیے حرام ہیں۔ اسی فعل کا نام ظہار ہے۔ ظَہر عربی زبان میں استعارے کے طور پر سواری کے…
Read the full tafseer →(آیت) اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ ، یظاہرون، ظہار بکسر ظآ سے مشتق ہے جو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی ایک خاص صورت کے لئے بولا جاتا ہے اور زمانہ اسلام سے پہلے رائج و معروف ہے، وہ صورت یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو یہ کہہ دے انت علی کظہر امی یعنی تو مجھ پر ایسی حرام ہے جیسے میری ماں کی پشت، اس موقع پر پشت کا ذکر شاید بطور کنایہ کے ہے کہ اصل مراد تو بطن تھا ذکر پشت کا کردیا (کما ذکرہ القرطبی)
ظہار کی تعریف اور حکم شرعی
اصطلاح شرع میں ظہار کی تعریف یہ ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی محرمات ابدیہ، ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کو دیکھنا اس کے لئے جائز…
Read the full tafseer →(الذین یظھرون منکم من نساء ھم ما ھن امھتھم ان امھتھم الا الی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا وان اللہ لعفو غفور (2)۔
(ظہار اور اس کا شرعی حکم)۔ اس سلسلہ میں پہلی اصولی بات یہ فرمائی کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو اس طرح کی کوئی بات کہہ بیٹھتے ہیں اس سے ان کی بیویاں ان کی مائوں کے حکم میں نہیں داخل ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ ان کو جو حرمت حاصل ہوئی ہے وہ جننے کے تعلق سے حاصل ہوئی ہے جو ایک فطری اور راہدی حرمت ہے یہ چیز کسی دوسری عورت کو مجرد اس بنیاد پر نہیں حاصل ہوجائے گی کہ ایک شخص نے اس کو یا اس کے کسی عضو کو اپنی ماں یا اس کے کسی عضو سے تشبیہ دی۔ اس طرح کی…
Read the full tafseer →2۔ 1 یہ اظہار کا حکم بیان فرمایا ہے کہ تمہارے کہہ دینے سے تمہاری بیوی تمہاری ماں نہیں بن جائے گی اگر ماں کے بجائے کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن وغیرہ کی پیٹھ کی طرح اپنی بیوی کو کہہ دے تو یہ ظہار ہے یا نہیں ؟ امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ اسے بھی ظہار قرار دیتے ہیں جب کہ دوسرے علماء اسے ظہار تسلیم نہیں کرتے پہلا قول ہی صحیح معلوم ہوتا ہے اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ پیٹھ کی جگہ اگر کوئی یہ کہے کہ تو میری ماں کی طرح ہے پیٹھ کا نام نہ لے تو علماء کہتے ہیں کہ اگر ظہار کی نیت سے وہ مذکورہ الفاظ کہے گا تو ظہار ہوگا بصورت دیگر نہیں امام ابوحنیفہ ؒ کہتے ہیں کہ اگر ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دے…
Read the full tafseer →2: یعنی ایسا کہنا گناہ ہے، لیکن اگلے ہی جملے میں اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ اگر کوئی اس گناہ سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیں گے۔
Read the full tafseer →الذین ........................ لعفو غفور (85 : 2) ” تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں بہنیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ “
مسئلے کا حل نہایت ہی گہرائی سے کردیا گیا۔ ایام جاہلیت میں ظہار کا جو قانون مروج تھا وہ تھا ہی بےبنیاد ، بیوی ماں تو ہوتی نہیں کہ وہ ماں کی طرح حرام ہوجائے۔ ماں تو صرف وہ ہوتی ہے جس نے جنا۔ ایک لفظ کہنے سے نہ بیوی ماں بن جاتی ہے جو حرام ہوجاتی ہے۔ یہ نہایت ہی ناپسندیدہ کلمہ ہے۔ حقیقت اس کی…
Read the full tafseer →3 یعنی بیوی (جس نے اس کو جنا نہیں) وہ اس کی واقعی ماں کیونکر بن سکتی ہے جو محض اتنے لفظ پر ہمیشہ کے لیے حقیقی ماں کی طرح حرام ہوجائے ؟ ہاں آدمی جب اپنی بدتمیزی سے ایک جھوٹی نامعقول اور بیہودہ بات کہہ دے اس کا بدلہ یہ ہے کہ کفارہ دے، تب اس کے پاس جائے ورنہ نہ جائے۔ پر عورت اسی کی رہی، محض ظہار سے طلاق نہیں پڑگئی۔
4 یعنی جاہلیت میں جو ایسی حرکت کرچکے وہ معاف ہے۔ اب ہدایت آچکنے کے بعد ایسا مت کرو۔ اگر غلطی سے کر گزرے تو توبہ کر کے اللہ سے معاف کرائے۔ اور عورت کے پاس جانے سے پہلے کفارہ ادا کرو۔
Read the full tafseer →آیت 2 { اَلَّذِیْنَ یُظٰہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِہِمْ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ } ”اے مسلمانو ! تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو مائیں کہہ بیٹھتے ہیں ‘ وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔“
جس طرح کسی کو کوئی بیٹا کہہ دے تو وہ اس کا بیٹا نہیں بن جاتا اور جس طرح منہ بولے بیٹے کی کوئی قانونی و شرعی حیثیت نہیں اسی طرح زبان سے اگر کوئی اپنی بیوی کو اپنی ماں کہہ دے تو ایسے کسی دعوے یا جملے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
{ اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا اللّٰٓئِیْ وَلَدْنَہُمْ } ”ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے۔“
{ وَاِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا } ”البتہ یہ لوگ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 ظہار سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ بیوی ماں بن سکتی ہے :۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف منہ سے کہنے پر بیوی ماں نہیں بن جاتی بلکہ بیوی ہی رہتی ہے۔ اس لیے کہ مائیں تو صرف وہ ہیں جنہوں نے تمہیں جنا ہے۔ اب جو تم انہیں ماں کہہ کر واقعی ماں سمجھ بیٹھتے ہو تو یہ ایک خلاف واقعہ، خلاف حقیقت اور جھوٹی بات ہے۔ جس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔ اللہ نے تم پر بہت رحم فرما کر اس رسم کو ختم کردیا ہے۔ اور آئندہ جو شخص ایسی باتوں سے باز رہے گا تو اس کے سابقہ گناہوں کو معاف بھی کردینے والا ہے۔
Read the full tafseer →3۔ (کہ بیوی کو ماں کہہ دینے یا ماں کے کسی حصہ جسم سے تشبیہ دے دینے سے حرمت لازم آجاتی ہے) (آیت) ” یظھرون منکم “۔ ظھار۔ اصطلاح شریعت میں یہی ہے کہ کوئی مرد اپنی بیوی سے کہے کہ ” انت علی کظھر امی “۔ (آیت) ” ماھن امھتھم “۔ نہ وہ بیویاں ان الفاظ کے تلفظ سے مائیں بن گئیں، اور نہ کوئی اور سبب حرمت کا پیدا ہوگیا،
4۔ (چنانچہ اس بارے میں بھی اگر گناہ کا تدارک کرلیاجائے تو گناہ معاف ہوجائے گا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، اے نبی یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی، جو آپ سے اپنے ظہار کرنے والے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اس کے شوہر نے اس سے کہا تھا انت علی کظھر امی تو میرے لئے میری ماں کی پیٹ کے مانند (حرام) ہے، اور آپ ﷺ سے اس عورت نے اس بارے میں دریافت کیا تھا، تو آپ نے اس کو عرف کے مطابق جواب دیا کہ وہ (تو) اس پر حرام ہوگئی جیسا کہ ان کے یہاں یہ دستور تھا کہ ظہار دائمی فرقت کا موجب مانا جاتا تھا، اور وہ خولہ بنت ثعلبہ تھی اور اس کے شوہر اوس بن صامت تھے اور اللہ سے اپنی تنہائی کی اور اپنے فاقہ کی اور چھوٹے بچوں کی شکایت کر رہی…
Read the full tafseer →الذین یظھرون منکم من نساءھم ما من امھتھم ان امھتھم الا الی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا وان اللہ لعفو غفورٌ .
” تم میں سے جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں (ہو جاتی) ہیں۔ ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے اور بلاشبہ وہ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور یقیناً اللہ بڑا معاف کرنے والا ‘ بخشنے والا ہے۔
ظہارؔ کا معنی ہے کسی شخص کا اپنی بی بی سے یہ کہہ دینا کہ تو میرے لیے ایسی (ہی حرام) ہے جیسی میری ماں کی پشت۔ جاہلیت کے زمانہ میں اس کو طلاق مانا جاتا تھا اور اس سے وہ عورت اپنے شوہر کے لیے ہمیشہ کے واسطے حرام ہوجاتی تھی۔ شریعت نے ظہار کو حرمت…
Read the full tafseer →واقعہ یہ پیش آیا کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ بن مالک حضرت اوس بن صامت انصاری کے نکاح میں تھیں اور حضرت اوس جن کے زیر اثر تھے تو وہ حضرت خولہ کے پاس ایسی حالت میں آئے کہ جس حالت میں عورتوں کے پاس نہیں آیا جاتا انہوں نے انکار کیا اس پر حضرت اوس کو غصہ آیا اور بولے اگر میں اس کام کو کرنے سے پہلے گھر سے نکلوں تو، تو میرے حق میں ایسی ہے جیسی کہ میری ماں کی پشت مجھ پر حرام ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ اب اس کا حکم بیان فرماتے ہیں کہ جو لوگ عورتوں سے ظہار کرتے ہیں مثلا اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتے : انت علی کظھر امی۔
تو وہ عورتیں ان کی مائیں نہیں ہیں حرمت ابدی میں تو ان کی مائیں وہی ہیں جنہوں نے ان کو پیدا کیا ہے…
Read the full tafseer →1۔ اَلَّذِیْنَ یُظٰہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِہِمْ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰـتِہِمْ ط۔۔۔۔۔۔:”یظھرون“”ظھر“ سے نکلا ہے جس کا معنی ”پیٹھ“ ہے۔ عرب سواری کو ”ظھر“ کہتے ہیں۔ یہ استعارہ ہے ، جس میں بیوی سے جماع کو گھوڑے وغیرہ کی پشت پر سوار ہونے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ ”انت علی کظھر امی“ (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) کا مطلب یہ ہے کہو جس طرح میرے لیے اپنی ماں پر سوار ہونا اور اس سے جماع حرام ہے ، اسی طرح تم بھی میرے لیے میری ماں کی طرح ہو۔ جاہلیت میں لوگ بیوی کو ماں کہہ دیتے تو اسے ماں کی طرح حرام قرار دے لیتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اس رسم بد کو ختم کردیا ، فرمایا منہ کے ساتھ بیوی کو ماں کہنے…
Read the full tafseer →اس میں 23 مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ الذین یظھرون ابن عامر، حمزہ، کسائی اور خلف نے یاء کے فتحہ، ظاء کی تشدید اور الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابو عمرو اور یعقوب نے یظھرون یعنی الف کو حذف کرنے، ھاء اور ظاء کی تشدید اور یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو العالیہ، عاصم اور زربن حبیش نے یظاھرون یعنی یاء کے ضمہ، ظاء کی تخفیف، الف اور ھاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سورة احزاب میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ ابی کی قرأت میں یتظاھرون ہے، یہ ابن عامر اور حمزہ کی قرأت کا معنی ہے۔ ظھر کے لفظ کا ذکررکوب کے معنی سے کنایہ ہے عورت کے بطن پر سوار ہوا جاتا ہے لیکن ظہر کو اس سے کنایۃ ذکر کیا۔ یہ جملہ بولا…
Read the full tafseer →اسلام میں سب سے پہلے ظہار کرنے والا
14۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ اسلام میں سب سے پہلے خویلہ کے خاوند نے ظہار کیا وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کیا ہے اور وہ اللہ کی بارگاہ میں شکوہ کرنے لگی نبی ﷺ نے اس سے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی چیز یعنی کوئی حکم نہیں آیا۔ اس نے کہا یارسول اللہ میں کس کے پاس جاؤں میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے وہ اسی حال پر تھی کہ اچانک وحی نازل ہوگئی۔ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت فتھریر رقبۃ من قبل ان یتماسا۔ کہ اس سے جماع کرنے پہلے ایک غلام آزاد کرو پھر وحی…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : وہ لوگ جو ][يُظٰهِرُوْنَ : ماں کہہ بیٹھتے ہیں ][ مِنْكُمْ : تم میں سے ][ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ : اپنی عورتوں (بیویوں) میں سے (کسی کو)][ مَا هُنَّ : نہیں ہیں وہ خواتین ][اُمَّهٰتِهِمْ : ان کی مائیں ][ان اُمَّهٰتُهُمْ : نہیں ہیں ان کی مائیں ][اِلَّا اڿ : سوائے ان کے جنھوں نے ][وَلَدْنَهُمْ : جنا ان کو ][ وَانهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ : اور بیشک وہ لوگ یقینا کہتے ہیں ][ مُنْكَرًا : ایک برائی ][ مِّنَ الْقَوْلِ : بات میں سے ][وَزُوْرًا : اور ایک جھوٹ ][وَان اللّٰهَ : بیشک اللہ ][ لَعَفُوٌّ: یقینا ہے انتہا درگزر کرنے والا ][ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ]
Read the full tafseer →چونکہ حضرت خولہ ؓ کے شوہر نے ظہار کرلیا تھا اور ان کے شوہر یوں سمجھ رہے تھے کہ طلاق ہوگئی اور وہ سمجھ رہی تھی کہ طلاق نہیں ہوئی اور اسی بات کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں اس لئے اولا ظہار کی شرعی حیثیت بتائی پھر اس کا کفارہ بیان فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ﴾ کہ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیتے ہیں (یعنی یوں کہہ دیتے ہیں کہ تو میرے حق میں ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت مجھ پر حرام ہے) ایسا کہہ دینے سے وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں، نہ وہ پہلے ان کی مائیں تھیں اور نہ اب ان پر ماؤں کا حکم نافذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
شکوہ والتجاخاتون پریشان حال دربارگاہ رب العزت ذی الجلال ونزول حکم ظہار :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” قد سمع اللہ قول التی تجادلک ....... الی ....... عذاب الیم “۔
(رابط) گذشتہ سورت کا مضمون انبیاء (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کے ذریعہ عالم دنیا کے لیے سامان ہدایت و رحمت کا ذکر تھا اب اس سورت کی ابتداء اس مضمون سے کی جارہی ہے کہ اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ایسے ہدایات و احکام نازل فرماتا ہے جن سے لوگ اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اپنی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی وقت پریشان ومضطرب ہوں تو خدا تعالیٰ کس طرح ان کی التجاء سنتا ہے اور احکام شریعت کے ذریعہ کس طرح ان کی پریشانیاں…
Read the full tafseer →3:۔ ” الذین یظاہرون “ یہ ظہار کرنے والوں کو تنبیہ اور اصل حقیقت کا اظہار ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیتے ہیں اور پھر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب وہ پر ماؤں کی طرح ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئیں ہیں یہ خیال غلط ہے ظہار سے بیویاں مائی نہیں بن جاتیں، مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے وہ بیویوں کو اپنی ماؤں سے تشبیہ دے کر ایک خلاف شریت، خلاف عقل اور سراسر غلط بات منہ سے نکالتے ہیں۔ ہاں جو لوگ توبہ کریں اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے ان کا گناہ معاف فرما دے گا (منکرا من القول) ینکرہ الشرع والعقل والطبع ایضا (وزورا) وکذبا باطلا منحرفا عن الھق (روح، مدارک) ۔ اس پر کفار و منافقین نے ازراہ ِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
نام اور کوائف :
اس سور ۃ مبارکہ کا نام سورة المجادلہ ہے جو اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ تجادلک سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة سورة المنافقون کے بعد نازل ہوئی ہے اس سورة مبارکہ کی بائیس آیات اور تین رکوع ہیں ، اور یہ سورة 473 الفاظ اور 1192 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
گذشتہ سورة الحدید کی طرح اس سورة میں بھی توحید اور انفاق فی سبیل اللہ کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ البتہ اس سورة میں مسئلہ ظہار بطور خاص بیان ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ اس کے کفارے کا ذکر بھی ہے۔ علاوہ ازیں آداب مجلس کے طور پر آپس میں سرگوشی کرنے کا قانون بیان ہوا اور ساتھ ساتھ نااہل لوگوں سے عدم مشاورت کا بیان ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنی شوریٰ…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يُظٰہِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــہِمْ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ 0 ۭ اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا اڿ وَلَدْنَہُمْ 0 ۭ وَاِنَّہُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا 0 ۭ وَاِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ 2
ظِّهَارُ
: أن يقول الرّجل لامرأته : أنت عليّ كَظَهْرِ أمّي، يقال : ظَاهَرَ من امرأته . قال تعالی: وَالَّذِينَ يُظاهِرُونَ مِنْ نِسائِهِمْ [ المجادلة/ 3] ، وقرئ : يظاهرون أي : يَتَظَاهَرُونَ ، فأدغم،
الظھار کے معنی ہیں خاوند کا بیوی سے یہ کہنا کہ تو میرے لئے ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت کہا جاتا ہے ظاھر من امرء تہ اس نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا ۔ قرآن پاک میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : وتشتکی معطوف علی تجادلک وقیل حال من فاعلہ ای تجادل وھی متضرعۃ الی اللہ تعالیٰ الذین موصول یظاہرون الخ صلۃ والکل مبتداء ماھن امھتھم الجملۃ خبرہ امہاتہم بکسر التاء علی انہ خبراوبضمھا علی اللغۃ والذین یظاھرون من نسائھم مبتداء فتحریر رقبۃ الجملۃ وھی فعلیھم تحریر رقبۃ خبرہ۔ ذلکم مبتداء تو عظون بہ خبرہ واللام فی لما قالوا تتعلق بیعودون ومامصدریۃ ویمکن ان تجعل بمعنی الذین ونکرۃ موصوفۃ وقیل اللام بمعنی فی وقیل بمعنی الیٰ فی الکلام تقدیم و تاخیرہ تقدیرہ ثم یعودون فعلیھم تحریر رقبۃ لماقالوا فصیام شہرین ای فعلیہ صیام شہرین ذالک ومحلہ النصب بفعل معلل بقولہ لتومنوا اوالرفع علی الابتداء یوم منصوب…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْـکُمْ مِّنْ نِّسَآئِھِمْ مَّا ھُنَّ اُمَّھٰـتِھِمْ ط اِنْ اُمَّھٰـتُھُمْ اِلاَّ الّٰـِٔیْ وَلَدْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْـکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ (المجادلۃ : 2)
(جو لوگ تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنا ہے، بیشک یہ لوگ کہتے ہیں بہت بری بات اور جھوٹ، اور بیشک اللہ تعالیٰ بہت درگزر کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے۔ )
ظہار کی حقیقت اور اس کا پہلا حکم
اس آیت کریمہ میں ظہار کا ذکر فرمانے کے بعد اس کی حیثیت واضح فرمائی ہے۔ اس لیے سب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ کی فریاد قبول کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے ظہار کے مسئلے کا حل نازل فرمادیا۔
ارشاد ہوتا ہے کہ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں ان کے کہنے سے ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اپنی بیوی کو ماں کہنا بڑی بیہودہ اور جھوٹی بات ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔
1۔ کسی کے ماں کہنے پر اس کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ہی لوگوں کے درمیان رشتہ داری قائم فرمائی ہے ان میں کچھ رشتے ہمیشہ کے لیے محرم قرار دیئے ہیں۔ کسی کو محرم یا غیرمحرم قرار…
Read the full tafseer →2 : اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْکُمْ (تم میں جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں) قراءت : عاصم نے یُظَھِّرون پڑھا ہے۔
اور حجازی، بصری وغیرہم نے یُظَاہَرُوْنَ پڑھا ہے۔ مِنْکُمْ (تم میں سے) اس میں اہل عرب کو توبیخ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ قسم تھی اور کسی امت میں یہ بات نہ تھی۔ مِّنْ نِّسَآ ئِھِمْ (اپنی بیویوں سے) مَّاھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ اول حجازی ہے۔ اُمَّھا تہم یہ تمیمی ہے۔ اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ اِلَّا اَلّٰئِیْ وَلَدْ نَھُمْ (وہ ان کی مائیں نہیں ہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں۔ جنہوں نے ان کو جنا ہے) مراد یہ ہے حقیقت میں مائیں تو جننے والیاں ہیں۔ اور دودھ پلانے والیاں دودھ کی وجہ سے مائوں سے ملا دی…
Read the full tafseer →خولہ بنت ثعلبہ کے حق میں آیت بالا کا نزول
تفسیر : یہ آیت حضرت اوس بن صامت کی بی بی حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے حق میں نازل ہوئی۔ خولہ حسین تھیں اور اوس کے مزاج میں غصہ بہت تھا۔ ایک روز اوس نے خولہ سے قربت کرنی چاہی، خولہ نے انکار کردیا۔ اوس نے کہا تو میرے لئے ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت (کہنے کو غصہ میں کہہ دیا) پھر پشیمان ہوئے کیونکہ دور اسلامی سے پہلے ظہار اور ایلاء (عورت سے محدود ایام میں کنارہ کش رہنے کی قسم) کو طلاق سمجھا جاتا تھا اس لئے اوس بن صامت نے خولہ سے کہا میرے خیال میں تو میرے لئے حرام ہوگئی۔ خولہ نے کہا : واللہ ! یہ طلاق نہیں ہے یہ کہہ کر خولہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
2۔ 6۔ معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن 3 ؎ مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہار اسلام میں پہلا ظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں مذکور ہے اس پہلے ظہار کے مبہم ذکر کرکے بعد جو حکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورت ماں نہیں ہوسکتی۔ ماں تو وہی ہے جس کے پیٹ سے آدمی پیدا ہوتا ہے یہ ایک گھڑا ہوا غلط رواج ہے کہ غیر عورت کو ماں کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →چناچہ فرمایا (اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ۭاِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اڿ وَلَدْنَهُمْ ۭ ) جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ، ، ظہار، ، کرلیتے ہیں وہ ان کی مائیں (نہیں ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا۔ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے شوہر اپنی بیوی سے کہے، تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ۔ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے، تو مجھ پر حرام ہے۔ عربوں کے ہاں اس موقع پر الظہر، پیٹھ کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ظہار سے موسوم کیا ہے، چناچہ فرمایا (اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
قول باری ہے (وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ یہ لوگ یقینا ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہہ رہے ہیں) یعنی…واللہ اعلم…
بیوی کو ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دینا بڑی نامعقول بات ہے کیونکہ ماں تو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے جبکہ اس کی بیوی اس کے قول کی بنا پر ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ ہے۔
قول باری ہے (الذین یظاھرون منکم من نساء ھم تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں) یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظہار صرف اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ اہل ذمہ اس میں شامل نہیں ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[ 3] ظہار کی بےحقیقتی کا اظہار وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے جو لوگ ظہار کرلیں اپنی بیویوں سے۔ یعنی ان کو اپنی محرمات ابدیہ میں سے کسی کے کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دے د ہیں۔ جس کو دیکھنا ان کے لیے حرام ہے، اور اس سے ان کا مقصود ان کو ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر حرام کرنا ہوتا ہے، جیسے " انت علی کظھر امی " کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، وغیرہ۔ سو یہ سب بےحقیقت ہے۔ زمانہء جاہلیت میں اس سے عورت ہمیشہ کے لیے حرام ہوجایا کرتی تھی، اور ایسی کہ اس سے رجوع کرنے کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہتی تھی، اور اس سے آگے طرح طرح کے فتنے پیدا ہوتے، اور مفاسد جنم لیتے تھے، تو اسلام نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
” ظہار “ اور اس کے شرعی احکام
تشریح : قرآن پاک میں بار بار نیکی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت تو خالصتاً انتہائی اہم احکامات بتا رہی ہے۔ یہ احکامات ظلم، زیادتی، کفروشرک، بےحیائی اور بد نظمی سے بچاتے ہیں۔ جیسا کہ سورت کے شروع میں ظہار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اور بیشمار دوسری تفاسیر میں احادیث و روایات میں یہی بتایا گیا ہے کہ یہ آیات خاص طور سے خولہ بنت ثعلب ؓ کے مسئلہ ظہار کو حل کرنے کے لیے نازل کی گئی تھیں جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے حدود کا درجہ رکھتی ہیں۔ واقعہ تو آیات میں بتا دیا گیا ہے یہاں ایک تو اللہ کے سمیع وبصیر ہونے کی دلیل ملتی ہے ایک اس کے رحمن ورحیم ہونے کی دلیل ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
مجادلہ کا معنی ایسا اصرار ہے جو انکار کردینے کے بعد بھی جاری رہے ایک صحابی حضڑت اوس بن صامت نے اپنی بیوی خولہ سے کہہ دی ا کہ ، انت علی کظہرامی ، یعنی تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے اور یہ عہد جاہلیت میں طلاق سے شدید متصور ہوتا تھا کہ طلاق کے بعد رجعت وغیرہ کی صورت تھی مگر اس میں واپسی کی کوئی صورت نہ تھی ۔ وہ خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت لائیں آپ نے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی حکم نہیں اس نے اصرار کیا اور شکایت کی کہ کیا میرے بارے وحی بھی خاموش ہے جبکہ ہر کام میں آپ پر وحی نازل ہوتی ہے تو رب جلیل نے ان کے بارے وحی نازل فرمادی اور زمانہ جاہلیت کی اس رسم کا رد…
Read the full tafseer →ف 3 اس کا کرم اور رحم ہے کہ اس نے ظہار کا کفارہ مقرر کر کے اس سے نکلنے کا راستہ پیدا کردیا۔ اگر واقعی بیوی کو ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دینے سے اسے طلاق ہوجاتی تو بڑی مشکل پڑتی۔
Read the full tafseer →(58:2) الذین یظھرون منکم من نسائھم۔ موصول و صلہ مل کر مبتداء ماھن امھاتھم۔ مبتداء کی خبر۔ بکسر التاء علیٰ انہ ، خبر اوبضمہا علی اللغۃ التمیمیتہ 12 (تفسیر حقانی) ما نافیہ حجازی استعمال میں لیس کی طرح اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔
یظھرون مضارع جمع مذکر غائب ظھر مادہ سے۔ بمعنی پشت ہے۔ باب مفاعلۃ سے منجملہ دیگر معانی کے ایک یہ بھی ہے کہ :۔ مرد عورت سے کہے کہ انت علی کظھر امی (تو میرے لئے ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت) اس کو مرد کا عورت سے اظہار کرنا کہتے ہیں
بعض کے نزدیک مرد کا عورت سے ظہار کرنا ظھر بمعنی پشت سے نہیں لیا گیا بلکہ یہ ظھر بمعنی علو سے لیا گیا ہے جس سے مراد چڑھنا ہے یعنی مرد جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
سمع۔ سن لیا۔ تجادل۔ وہ جھگڑتی ہے۔ تشتکی۔ شکایت کرتی ہے ۔ تحاور۔ آپس میں بات چیت۔ یظھرون۔ وہ ظہار کرتے ہیں۔ ولدن۔ انہوں نے جنا۔ پیدا کیا۔ زور۔ جھوٹ۔ گناہ۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ تحریر۔ آزاد کرنا۔ رقبۃ۔ گردن (غلام) ۔ ان یتماسا۔ یہ کہ وہ ہاتھ لگائیں۔ شھرین متتابعین۔ مسلسل دو مہینے۔ اطعام۔ کھلانا۔ ستین۔ ساٹھ۔ یحادون ۔ ناراض کرتے ہیں۔ کبتوا۔ ذلیل کئے گئے۔ احصی۔ اس نے شمار کیا۔
تشریح : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں بہت سے من گھڑت طریقے رائج تھے جن پر وہ لوگ بڑی شدت سے جمے ہوئے تھے اور اسی کو ان لوگوں نے شریعت بنا رکھا تھا مثلا اگر میاں بیوی کے درمیان مزاجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
(ف 1) معتبر سند سے طبرانی تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اوس بن الصامت کا ظہاراسلام میں پہلاظہار ہے جس کا مبہم طور پر شروع سورة میں ذکر ہے اس پہلے ظہور کے مبہم ذکر کرکے بعدجوحکم ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اسلام میں قائم رکھنا منظور تھا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ اوپرگذرچکا ہے کہ ظہار میں لوگ بی بی کو ماں کہہ بیٹھا کرتے تھے جس سے ساری عمر وہ عورت ظہار والے مرد پر حرام ہوجاتی تھی اس لیے فرمایا کہ اس ماں کہہ بیٹھنے سے وہ عورتیں درحقیقت ان کی مائیں نہیں ہوجاتی اور وہ جو ان پر حرام ہیں وہ تو وہی ہیں جنہوں نے انکوجنا ہے یعنی حقیقی والدہ یا جس نے دودھ…
Read the full tafseer →[2] یعنی جو شخص اشتعال میں آکر ایسی حرکت کر بیٹھے تو توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنی خطا معاف کرائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
عورت کا درجہ قانون میں
1: اسلام سے پہلے طلاق کی صورت یہ تھی کہ خاوند بیوی سے کہتا ۔ انت علی تظھرامی ۔ یعنی اب تو میرے لئے میری ماں کی حیثیت میں ہے ۔ اور بربنائے رواج پر وہ عورت دامی طور پر مفارقت اختیار کرلیتی ۔ اس کی اصطلاح میں ظہار کہتے تھے خولہ بنت ثعلیہ حضور ﷺ کے پاس فریاد لے کر آئی کہ الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ میرے اولاد بھی ہے ۔ اگر ان الفاظ سے علیحدگی واقع ہوجاتی ہے ۔ تو بڑی مشکل کا سامنا ہے ۔ اولاد کو اگر خاوند کے سپرد کرتی ہوں تو مجھے خطرہ ہے ۔ کہ وہ شفقت سے ان کی تربیت نہیں کریگا ۔ اور اگر اپنے پاس رکھتی ہوں ۔ تو اندیشہ ہے ۔ کہ بھوکوں نہ مرجائیں ۔ میں ان کو کیوں کر پالوں گی ۔ حضور ﷺ…
Read the full tafseer →(2) جولوگ تم سے اپنی بیویوں کے ساتھ ظہار کرتے ہیں یعنی بیویوں کو ماں کے ساتھ تشبیہہ دے بیٹھتے ہیں تو وہ بیویاں درحقیقت ان کی مائیں نہیں ہیں ان کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے مگر ہاں یہ ظہار کرنے والے اور بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہہ دینے والے ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ یعنی بیوی کو ماں سے یا اس کے کسی عضو خاص سے مثلاً پیٹ یا پیٹھ وغیرہ سے تشبیہہ دینے کے کوئی معنی نہیں اور نہ ایسا کہنے سے وہ اس شخص کی ماں بن جاتی ہے بلکہ حقیقی مائیں تو وہ ہیں جنہوں نے پیٹ میں رکھا اور ان کو جنا یہ ایک غلط بات ہے اور منکر بھی ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 3۔ سبب نزول آیات ابتدائیہ کا یہ ہے کہ اوس بن الصامت نے غصہ میں ایک بار اپنی بی بی خولہ کو یوں کہہ دیا کہ انت علی کظھر امی یعنی تو میرے حق میں ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت کہ مجھ پر حرام ہے، اور بعثت نبویہ کے قبل اس لفظ سے تحریم ابدی طلاق سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی، خولہ تحقیق حکم کے لئے حضور نبوی ﷺ میں حاضر ہوئیں، آپ نے اس پر بنا پر کہ ابھی اس قول مشہور کے خلاف وحی نازل نہیں ہوئی اس قول مشہور کو قابل عمل خیال کر کے فرمادیا وہ یہ سن کر کے واویلا کرنے لگیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، پس ان آیات میں ظہار کا حکم ہے، اور اس کے بعد مطلقا احکام الہیہ کا واجب التصدیق والعمل ہونا اور تصدیق پر بالخصوص…
Read the full tafseer →اپنی بیوی کو ماں کہنے والا ایک بکواس کرتا ہے اور بکواس کرنے والے کو اعتراف کرلینا چاہئے
2 ؎ ہماری زبان میں لغو اور فضول بات کرنے کو بکواس کہتے ہیں اگرچہ لفظ ذرا سخت اور ثقیل ہے لیکن ایسے حالات میں ثقیل اور بھاری الفاظ فطری طور پر انسان کے منہ سے نکلتے ہیں کیونکہ ایسی بات کہنے والا بھی تو آخر کچھ اور کہہ سکتا ہے ، اس نے ایسی ثقیل اور بھاری بات کیوں کہی کہ ایک حرام چیز کو حلال کرنے کی ناکام سعی و کوشش کی بہر حال اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے جو جواب اس اللہ کی بندی کو دیا گیا وہ ایسا پختہ جواب ہے کہ جب بھی کسی کو اس طرح کی حالت پیش آجائے تو اس کا یہی حل ہے۔ جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے…
Read the full tafseer →Zihar
الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم
مِّن نِّسَائِهِم (Those of you who declare zihar against their wives...58:2) The aorist yuzahiruna is derived from zihar. There was a cruel custom in pre-Islamic Arabia; as pointed out earlier, where the husband would utter the zihar formula اَنتِ عَلَیِّ کَظَھرِ اُمِّی 'You are to me as my mother's back', and thus she would become permanently and absolutely unlawful to him for cohabitation like the mother. Here the word zahr (back) metonymically refers to bath 'stomach or womb'. [ Qurtubi ]
Definition of zihar and its effect in Shari’ ah
In order to…
Read the full tafseer →3 Among the Arabs it often so happened that during a family quarrel, the husband in the heat of the moment would say to his wife: Ant-i alayya ka-zahr-i ammi which literally means: "You are for me as the back of my mother." But its real meaning is: "To have sexual relations with you would be like having sexual relations with my mother. " Such words are still uttered by the foolish people, who, as the result of a family quarrel, declare the wife to be like their mother, or sister, or daughter, and make her unlawful for themselves like the prohibited women. This is called zihar. Zahr in Arabic…
Read the full tafseer →