حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات حمد وثناء کے لائق ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیر رکھا ہے، یہ شکایت کرنے والی خاتون آکر آنحضرت ﷺ سے اس طرح چپکے چپکے باتیں کر رہی تھیں کہ باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میں مطلقاً نہ سن سکی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس پوشیدہ آواز کو بھی سن لیا اور یہ آیت اتری (بخاری و مسند وغیرہ) اور روایت میں آپ کا یہ فرمان اس طرح منقول ہے کہ بابرکت ہے وہ الہ جو ہر اونچی نیچی آواز کو سنتا ہے، یہ شکایت کرنے والی بی بی صاحبہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو اس طرح سرگوشیاں کر رہی تھیں کہ کوئی لفظ تو کان تک پہنچ جاتا…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 1
یہاں سننے سے محض سن لینا نہیں ہے بلکہ فریاد رسی کرنا ہے، جیسے ہم اردو زبان میں کہتے ہیں اللہ نے دعا سن لی اور اس سے مراد دعا قبول کرلینا ہوتا ہے۔
سورة الْمُجَادِلَة 2
عام طور پر مترجمین نے اس مقام پر مجادلہ کر رہی تھی، فریاد کر رہی تھی، اور اللہ سن رہا تھا ترجمہ کیا ہے جس سے پڑھنے والے کا ذہن یہ مفہوم اخذ کرتا ہے کہ وہ خاتون اپنی شکایت سنا کر چلی گئی ہوں گی اور بعد میں کسی وقت رسول اللہ ﷺ پر وحی آئی ہوگی، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس عورت کی بات ہم نے سن لی جو تم سے تکرار اور ہم سے فریاد کر رہی تھی، اور ہم اس وقت تم دونوں کی بات سن رہے تھے۔ لیکن اس واقعہ کے…
Read the full tafseer →سبب نزول
اس سورت کی ابتدائی آیات کے نزول کا سبب ایک خاص واقعہ ہے کہ حضرت اوس بن الصامت نے ایک مرتبہ اپنی بیوی خولہ کو یہ کہہ دیا کہ انت علی کظہر امی ”تو میرے حق میں ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت یعنی حرام ہے، آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں یہ لفظ ابدی اور دائمی حرمت کے لئے بولے جاتے تھے، جو طلاق مغلظہ سے بھی زیادہ سخت ہے، حضرت خولہ یہ واقعہ پیش آنے پر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس کا حکم شرعی معلوم کرنے کے لئے حاضر ہوئیں، اس وقت تک اس خاص مسئلے کے متعلق آنحضرت ﷺ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی تھی، اس لئے آپ نے قول مشہور کے موافق ان سے فرما دیا ما اراک الا قد حرمت علیہ یعنی میری رائے میں تو تم…
Read the full tafseer →1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا وتشتکی الی اللہ واللہ یسمع تحاور کما ان اللہ سمیع بصیر (1)
(سن قبول کرنے کے معنی میں)۔ (قد سمیع اللہ) کے معنی موقع کلام دلیل ہے کہ یہاں صرف سن لینے کے نہیں بلکہ قبول کرلینے کے ہیں۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے اور عربی زبان میں بھی معروف ہے بلکہ ہماری زبان میں بھی سننا قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (تجاد لک) سے پہلے عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن خاتون کا واقعہ یہاں مذکور ہے ان کو اپنا معاملہ پیش کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بار بار حاضر ہونا…
Read the full tafseer →1۔ 1 یہ اشارہ ہے حضرت خولہ بنت مالک بن ثعلبہ ؓ کے واقعہ کی طرف جن کے خاوند حضرت اوس بن صامت ؓ نے ان سے ظہار کرلیا تھا ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا حضرت خولہ ؓ سخت پریشان ہوئیں اس وقت تک اس کی بابت کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے بھی کچھ توقف فرمایا اور وہ آپ ﷺ سے بحث و تکرار کرتی رہیں جس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں مسئلہ ظہار اور اس کا حکم و کفارہ بیان فرمادیا گیا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح لوگوں کی باتیں سننے والا ہے کہ یہ عورت گھر کے ایک کونے میں نبی ﷺ سے مجادلہ کرتی اور اپنے خاوند کی شکایت کرتی رہی مگر میں اس کی باتیں نہیں سنتی تھی لیکن…
Read the full tafseer →1: اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت خولہ ایک خاتون تھیں جو حضرت اوس بن صامت ؓ کے نکاح میں تھیں جو بوڑ ہے ہوچکے تھے، اور ایک مرتبہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو یہ کہہ دیا کہ، تم میرے لئے میری ماں کی پشت کی طرح ہو (یعنی میں نے تم کو اپنے اوپر ماں کی پشت کی طرح حرام کرلیا ہے) جب کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ جملہ کہہ دے تو اسی کو ظہار کہتے ہیں، اسلام سے پہلے ظہار کے نتیجے میں میاں بیوی ہمیشہ کے لئے جدا ہوجایا کرتے تھے، اور پھر ان کے ملاپ کا کوئی راستہ نہیں رہتا تھا، اگرچہ حضرت اوس بن صامت یہ جملہ جذبات میں آکر کہہ تو گئے تھے، لیکن بعد میں شرمندہ ہوئے تو یہ خاتون پریشان ہو کر حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں آئیں،…
Read the full tafseer →جاہلیت کا یہ قانون تھا کہ مرد کسی وجہ سے بیوی سے ناراض ہوجاتا تو اسے یہ کہہ دیتا ” تو میرے لئے اس طرح ہے جس طرح میری ماں کی پیٹھ “۔ اس فقرے سے نہ عورت طلاق ہوتی تھی اور نہ وہ اس کے ساتھ تعلق زناشوئی قائم کرسکتا تھا۔ یوں یہ عورت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معلق رہ جاتی تھی۔ یہ دوسرے مظالم کے علاوہ ایک ظلم تھا جس میں کوئی عورت زمانہ جاہلیت میں مبتلا ہوجاتی تھی۔
جب اسلام ظہور پذیر ہوا تو اسلامی سوسائٹی میں اظہار کا یہ پہلا واقعہ پیش آیا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ ابھی تک اسلامی قانون اظہار نافذ نہ ہوا تھا۔ امام احمد روایت کرتے ہیں۔ سعد ابن ابراہیم اور یعقوب سے ، یہ دونوں ابی سے ، وہ محمد ابن اسحاق…
Read the full tafseer →1 اسلام سے پہلے مرد اگر اپنی عورت کو کہتا کہ تو میری ماں ہے تو سمجھتے تھے کہ ساری عمر کے لیے اس پر حرام ہوگئی پھر کوئی صورت ان کے ملنے کی نہ تھی۔ آنحضرت ﷺ کے وقت میں ایک مسلمان (اوس بن الصامت) اپنی عورت (خولہ بنت ثعلبہ) کو یہ ہی کہہ بیٹھا۔ عورت حضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچی اور سب ماجرا کہہ سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے ابھی تک کوئی خاص حکم نہیں دیا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہوگئی۔ اب تم دونوں کیونکر مل سکتے ہو۔ وہ شکوہ وزاری کرنے لگی کہ گھر ویران ہوتا ہے اولاد پریشان ہوتی ہے۔ کبھی حضور ﷺ سے جھگڑتی کہ یا رسول اللہ ! اس نے ان الفاظ سے طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا۔…
Read the full tafseer →آیت 1 { قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا } ”اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اے نبی ﷺ ! آپ سے جھگڑ رہی ہے اپنے شوہر کے بارے میں“
{ وَتَشْتَـکِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } ”اور وہ اللہ سے بھی فریاد کر رہی ہے۔“
{ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا } ”اور اللہ سن رہا ہے آپ دونوں کے مابین ہونے والی گفتگو۔“
{ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ۔ } ”یقینا اللہ سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“
”قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ“ کے معنی یہاں محض سن لینے کے نہیں ‘ بلکہ قبول کرلینے اور فریاد رسی کرنے کے ہیں۔ یہ ”ظہار“ کے معاملے کا ذکر ہے جو ایک صحابی حضرت اوس رض بن صامت انصاری اور ان کی…
Read the full tafseer →1 ظہار کے احکام کا پس منظر :۔ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب میاں بیوی میں لڑائی ہوجاتی تو خاوند غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو یوں کہہ دیتا کہ (أنْتِ عََلَیَّ کَظَھْرِ أمِّی) یعنی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ تو اسے دائمی طلاق سمجھا جاتا تھا۔ یہ صرف معمولی طلاق ہی نہ تھی بلکہ شدید قسم کی طلاق سمجھی جاتی تھی۔ جس کے بعد ان دونوں میاں بیوی کے مل بیٹھنے کی کوئی صورت باقی نہ رہتی تھی۔ اس بےہودہ رسم کے متعلق پہلے سورة احزاب کی آیت نمبر 4 میں مسلمانوں کو یہ تو بتایا جاچکا تھا کہ کسی کے ظہار کرنے یعنی اپنی بیوی کو ماں کی پیٹھ کی طرح کہہ دینے سے وہ اس کی ماں نہیں بن جاتی اور نہ ہی اللہ نے کوئی…
Read the full tafseer →1۔ ان بی بی صاحب کا نام خولہ بن ثعلبہ تھا۔ ان کے شوہر اوس بن صامت نے ایک بارغصہ میں آکر ان سے کہہ دیا ” انت علی کظھر امی “۔ (تو میرے حق میں ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت) اس کو اصطلاح میں ظہار کہتے ہیں اور عرب میں اس سے طلاق واقع ہوجاتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان بی بی کا قصہ سن کر اسی قول مشہور کے مطابق فرمایا کہ میری رائے میں تو تو حرام ہوگئی۔ انہوں نے احتجاج کیا کہ شوہر نے لفظ طلاق تو کہا نہی نہیں، اور حق تعالیٰ سے فریاد کرنے لگیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ آیت سے ایک علم یہ بھی حاصل ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر ادنی سے ادنی بندہ اور بندی کی باتیں سنتا رہتا ہے (آیت) ” قد سمع اللہ “۔ قد توقع کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، اے نبی یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی، جو آپ سے اپنے ظہار کرنے والے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اس کے شوہر نے اس سے کہا تھا انت علی کظھر امی تو میرے لئے میری ماں کی پیٹ کے مانند (حرام) ہے، اور آپ ﷺ سے اس عورت نے اس بارے میں دریافت کیا تھا، تو آپ نے اس کو عرف کے مطابق جواب دیا کہ وہ (تو) اس پر حرام ہوگئی جیسا کہ ان کے یہاں یہ دستور تھا کہ ظہار دائمی فرقت کا موجب مانا جاتا تھا، اور وہ خولہ بنت ثعلبہ تھی اور اس کے شوہر اوس بن صامت تھے اور اللہ سے اپنی تنہائی کی اور اپنے فاقہ کی اور چھوٹے بچوں کی شکایت کر رہی…
Read the full tafseer →قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا و تشتکی الی اللہ واللہ یسمع تحاورکما ان اللہ سمیع بصیر .
” بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے جھگڑ رہی تھی اور (اپنے رنج و غم کا) اللہ سے شکوہ کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا اور اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔
قَدْ سَمِعَ اللہ : لفظ قَدْ نے سَمِعَ کو ماضی قریب بنا دیا۔ یہ لفظ بتارہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یا اس عورت کو توقع تھی کہ اللہ اس عورت کی گفتگو اور شکوہ کو سن رہا ہے اور اس کے دکھ کو دور فرما دے گا۔
تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا : خولہ کے شوہر تھے اوس بن صامت۔ مجادلہ کا (لغوی) معنی ہے شدت…
Read the full tafseer →حضرت محمد آپ کو اطلاع کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملہ میں جھگڑتی اور گفتگو کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی صورت حال پیش کرنے کے لیے آہ وزاری کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ تمہاری اور اس عورت کی باہم گفتگو سن رہا تھا بیشک اللہ تعالیٰ اس کی بات کو سننے والا اور اس صورت حال کو دیکھنے والا ہے۔
شان نزول : قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ (الخ)
امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت عائشہ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں پاک ہے وہ ذات جس کی قوت سمع ہر ایک چیز پر محیط پر میں حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی گفتگو سن رہی تھی اور مجھ سے بعض باتیں مخفی رہیں وہ اپنے…
Read the full tafseer →1۔ قَدْ سَمِعَ اللہ ُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا : یہ آیات خولہ بنت ثعلبہ ؓ کے بارے میں اتریں۔ بعض روایات میں ان کا نام خویلہ اور بعض میں جمیلہ آیا ہے۔ ان کے خاوند اوس بن صامت انصاری ؓ تھے جو عباد ہ بن صامت ؓ کے بھائی تھے ، بوڑھے تھے اور خولہ کے ان سے بچے بھی تھے۔ انہوں نے کسی بات پر ناراض ہو کر ان سے ظہار کرلیا ، یعنی یہ کہہ دیا : ”انت علی کظھر امی“ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹ کی طرح ہے۔“ جاہلیت میں جو شخص بیوی سے ظہار کرتا وہ اسے ماں ہی کی طرح ہمیشہ کے لیے حرام سمجھ لیتا تھا۔ خولہ کے سامنے تو دنیا اندھیرا ہوگئی ، اس عمر میں کہاں رہوں گی ، بچوں کا کیا کروں گی ؟ باپ کے پاس رہے…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1 قدسمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا وتشتکی الی اللہ جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کی وہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بنت حکیم تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام جمیلہ تھا اور خولہ نام زیادہ صحیح ہے ان کے خاوند کا نام حضرت اوس بن صامت تھا جو حضتر عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔ حضتر عمر اپنے دور خلافت میں اس عورت کے پاس سے گزرے جب کہ کچھ لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے آپ گدھے پر سوار تھے اس عورت نے طویل وقت تک آپ کو رد کے رکھا آپ کو نصیحتیں کیں کہا : اے عمرچ کبھی تجھے عمیر کہا جاتا تھا، پھر تمہیں عمر جانے لگا : پھر تمہیں امیر المومنین کہا جانے لگا۔ اے عمر !…
Read the full tafseer →1۔ ابن الضریس والنحاس وابو الشیخ نے الفضہ میں والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة مجادلہ مدینہ
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ واللہ اعلم
1۔ سعید بن منصور والبخاری تعلیقاً وعبد بن حمید والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں کہ اس کی سماعت تمام آوازوں کو وسیع ہے یعنی اس کی قوت سماعت تمام آوازوں کو محیط ہے۔ ایک جھگڑا کرنے والی عورت نبی ﷺ کے پاس آکر باتیں کرنے لگی اور میں گھر کے ایک کونے میں تھی۔ جو وہ کہہ رہی تھی میں اس کو نہیں سن رہی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی…
Read the full tafseer →[قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ : سن لی ہے اللہ نے ][ قَوْلَ الَّتِيْ : اس خاتون کی بات جو ][ تُجَادِلُكَ : حجت کرتی ہے آپ ﷺ سے ][ فِيْ زَوْجِهَا : اپنے جوے (شوہر کے بارے میں)][وَتَشْـتَكِيْٓ: اور وہ شکوہ کرتی ہے ][ اِلَى اللّٰهِ : اللہ سے ][وَاللّٰهُ يَسْمَعُ : اور اللہ سن رہا ہے ][ تَحَاوُرَكُمَا : تم دونوں کے باہمی گفتگو کرنے کو ][ان اللّٰهَ : یقینا اللہ ][ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ: ہمیشہ سننے والا دیکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →ظہار کی مذمت اور اس کے احکام و مسائل
ان آیات میں ایک صحابی خاتون ؓ کے ایک واقعہ کا اور شوہر و بیوی سے متعلق ایک مسئلہ کا ذکر ہے، جس عورت کا یہ واقعہ ہے اس کے بارے میں چونکہ ﴿ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا ﴾ فرمایا ہے اس لئے اس سورت کا نام سورة المجادلۃ معروف اور مشہور ہوگیا، آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ زمانہ اسلام سے پہلے اہل عرب میں لفظ طلاق کے علاوہ عورت اپنے اوپر حرام کرنے کے دو طریقے اور بھی تھے ایک ایلاء اور ایک ظہار، ایلاء اس بات کو کہتے تھے کہ شوہر بیوی کو خطاب کر کے قسم کھالیتا تھا کہ میں تیرے پاس نہیں آؤں گا اس کا بیان سورة البقرہ کی آیت ﴿ لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
شکوہ والتجاخاتون پریشان حال دربارگاہ رب العزت ذی الجلال ونزول حکم ظہار :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” قد سمع اللہ قول التی تجادلک ....... الی ....... عذاب الیم “۔
(رابط) گذشتہ سورت کا مضمون انبیاء (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کے ذریعہ عالم دنیا کے لیے سامان ہدایت و رحمت کا ذکر تھا اب اس سورت کی ابتداء اس مضمون سے کی جارہی ہے کہ اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ایسے ہدایات و احکام نازل فرماتا ہے جن سے لوگ اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اپنی زندگی کے کسی شعبہ میں بھی وقت پریشان ومضطرب ہوں تو خدا تعالیٰ کس طرح ان کی التجاء سنتا ہے اور احکام شریعت کے ذریعہ کس طرح ان کی پریشانیاں…
Read the full tafseer →2:۔ ” قد سمع اللہ “ بیان حکم ظہار بطور تمہید برائے زجرات منافقین۔ ظہار سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو اپنی والدہ یا کسی اور ذی رحم محرم پشت سے تشبیہ دے دے۔ زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق قرار دیا جاتا تھا۔ اور ظہار کے بعد بالکل بیوی کو الگ کردیا جاتا۔ حکم ظہار کے نزول سے پہلے اسلام میں بھی اسے طلاق ہی سمجھا جاتا تھا۔ وکان الظہار بالمعنی السابق طلاقا فی الجاھلیۃ، قیل واول الاسلام (روح ج 28 ص 4) ۔ ایک شخص اوس بن صامت ؓ کی اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ بن مالک ؓ سے کسی معاملہ میں تکرار ہوگئی تو انہوں نے اس سے اظہار کر کے بعد میں پشیمان ہوئے ان کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عرض کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
نام اور کوائف :
اس سور ۃ مبارکہ کا نام سورة المجادلہ ہے جو اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ تجادلک سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة سورة المنافقون کے بعد نازل ہوئی ہے اس سورة مبارکہ کی بائیس آیات اور تین رکوع ہیں ، اور یہ سورة 473 الفاظ اور 1192 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
گذشتہ سورة الحدید کی طرح اس سورة میں بھی توحید اور انفاق فی سبیل اللہ کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ البتہ اس سورة میں مسئلہ ظہار بطور خاص بیان ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ اس کے کفارے کا ذکر بھی ہے۔ علاوہ ازیں آداب مجلس کے طور پر آپس میں سرگوشی کرنے کا قانون بیان ہوا اور ساتھ ساتھ نااہل لوگوں سے عدم مشاورت کا بیان ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنی شوریٰ…
Read the full tafseer →قَدْسَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِہَا وَتَشْـتَكِيْٓ اِلَى اللہِ 0 ۤ ۖ وَاللہُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا 0 ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 1
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : وتشتکی معطوف علی تجادلک وقیل حال من فاعلہ ای تجادل وھی متضرعۃ الی اللہ تعالیٰ الذین موصول یظاہرون الخ صلۃ والکل مبتداء ماھن امھتھم الجملۃ خبرہ امہاتہم بکسر التاء علی انہ خبراوبضمھا علی اللغۃ والذین یظاھرون من نسائھم مبتداء فتحریر رقبۃ الجملۃ وھی فعلیھم تحریر رقبۃ خبرہ۔ ذلکم مبتداء تو عظون بہ خبرہ واللام فی لما قالوا تتعلق بیعودون ومامصدریۃ ویمکن ان تجعل بمعنی الذین ونکرۃ موصوفۃ وقیل اللام بمعنی فی وقیل بمعنی الیٰ فی الکلام تقدیم و تاخیرہ تقدیرہ ثم یعودون فعلیھم تحریر رقبۃ لماقالوا فصیام شہرین ای فعلیہ صیام شہرین ذالک ومحلہ النصب بفعل معلل بقولہ لتومنوا اوالرفع علی الابتداء یوم منصوب…
Read the full tafseer →قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُـکَ فِیْ زَوْجِھَا وَتَشْتَـکِیْٓ اِلَی اللّٰہِصلے ق وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔ (المجادلۃ : 1)
(اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے تکرار کررہی تھی، اور ساتھ ہی اللہ سے فریاد کیے جارہی تھی، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ )
شانِ نزول
اسلام میں سب سے پہلے ظہار کا جو واقعہ پیش آیا وہ حضرت اوس ( رض) ابن الصامت اور حضرت خولہ ( رض) بنت ثعلبہ کے درمیان پیش آیا۔ اس آیت کا شان نزول وہی واقعہ ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک روز حضرت عبادہ (…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورت : سورة الحدید کے آخر میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ فضل و کرم صرف ” اللہ “ کے ہاتھ اور اس کے اختیار میں ہے۔ سورة المجاد لہ کی ابتدا ایسے واقعہ سے ہورہی ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ واقعتا فضل وکرم اور اختیارات کا مالک صرف ایک اللہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک بی بی نبی ﷺ کو اپنا دکھڑا سنا رہی تھی تو آپ ﷺ کے پاس اس وقت اس مسئلے کا کوئی حل نہیں تھا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اس بی بی پر اپنا فضل کیا اور اس کا مسئلہ حل فرما دیا۔
مدینہ طیبہ میں اوس قبیلے کے سردار عبادہ بن صامت ؓ کی بھاوج جو اوس بن صامت ؓ کی بیوی تھی اس کے خاوند اوس بن صامت ؓ نے طیش میں آکر اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ؓ کو یہ…
Read the full tafseer →خولہ بنت ثعلبہ کا واقعہ :
1 : قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ تجادل بمعنی تحاور : گفتگو کرنا۔ اور اس طرح پڑھا بھی گیا ہے۔ وہ عورت خولہ بنت ثعلبہ تھی جو کہ اوس بن صامت جو عبادہ بن صامت کے بھائی تھے ان کی زوجہ تھیں۔ معاملہ اس طرح پیش آیا کہ اوس نے اس کو نماز پڑھتے دیکھا۔ ان کا جسم حسین تھا۔ جب اس نے سلام پھیرا تو ان کے دل میں قربت کی خواہش ہوئی اس نے انکار کیا۔ یہ غصے میں آئے اور اس سے ظہار کردیا۔ خولہ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس طرح گویا ہوئیں کہ اوس نے مجھ سے اس وقت نکاح کیا۔ جبکہ میں جوان تھی۔ اور اس کو میری طرف رغبت تھی۔ جب میری جوانی بیت گئی اور میرا کنبہ بچھڑ گیا…
Read the full tafseer →سورة المجادلہ
یہ سورة مدنی ہے اس میں 22 آیات اور 3 رکوع ہیں
Read the full tafseer →1۔ مسند امام احمد ‘ نسائی ‘ ابو داؤود 1 ؎‘ مستدر حاکم وغیرہ میں خولہ اور حضرت عائشہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص اوس بن الصامت نے اپنی بی بی خولہ کو ظہار کے طور پر طلاق دے دی تھی خولہ اس طلاق سے ناراض تھی۔
اس لئے اس نے آنحضرت ﷺ کے پاس آ کر اس طلاق کی طرح طرح کی خرابیاں بیان کیں۔ اسی جھگڑے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ ظہار کے طریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی بی بی کو اپنی ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے کر انت علی کظھر امی کہا کرتے تھے۔ حاکم نے اس 2 ؎ شان نزول کو صحیح کہا ہے۔ ایلا اور ظہار زمانہ جاہلیت کی دونوں طلاقیں ہیں۔ ایلا کا ذکر تو سورة بقر میں گزر چکا۔ ظہار…
Read the full tafseer →یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے دیا تو اس کی بیوی نے اللہ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ ایک بوڑھا شخص تھا اس خاتون نے اللہ اور رسول اللہ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا جرات کے ساتھ اس کا اعادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْـتَكِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ڰ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۭ ) اے پیغمبر جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث…
Read the full tafseer →ظہار کے مسائل
قول باری ہے (قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا ۔ اللہ نے بیشک اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کررہی تھی) تا قول باری (وان اللہ لعفو غفور۔ اور بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے) ۔
سلیمان بن خالد نے ابو قلابہ سے روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایلا اور ظہار سے طلاق واقع ہوجاتی تھی اور یہی ان کی طلاق کا طریقہ تھا۔ جب اسلام آگیا تو ظہار اور ایلاء کے سلسلے میں اسلام کا اپنا حکم جاری ہوگیا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ عورتیں ظہار کی وجہ سے حرام ہوجاتی تھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیتیں نازل فرمادیں۔
وہ عورت کون تھی جس نے اپنے شوہر کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[ 3] ظہار کی بےحقیقتی کا اظہار وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے جو لوگ ظہار کرلیں اپنی بیویوں سے۔ یعنی ان کو اپنی محرمات ابدیہ میں سے کسی کے کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دے د ہیں۔ جس کو دیکھنا ان کے لیے حرام ہے، اور اس سے ان کا مقصود ان کو ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر حرام کرنا ہوتا ہے، جیسے " انت علی کظھر امی " کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، وغیرہ۔ سو یہ سب بےحقیقت ہے۔ زمانہء جاہلیت میں اس سے عورت ہمیشہ کے لیے حرام ہوجایا کرتی تھی، اور ایسی کہ اس سے رجوع کرنے کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہتی تھی، اور اس سے آگے طرح طرح کے فتنے پیدا ہوتے، اور مفاسد جنم لیتے تھے، تو اسلام نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
” ظہار “ اور اس کے شرعی احکام
تشریح : قرآن پاک میں بار بار نیکی کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت تو خالصتاً انتہائی اہم احکامات بتا رہی ہے۔ یہ احکامات ظلم، زیادتی، کفروشرک، بےحیائی اور بد نظمی سے بچاتے ہیں۔ جیسا کہ سورت کے شروع میں ظہار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اور بیشمار دوسری تفاسیر میں احادیث و روایات میں یہی بتایا گیا ہے کہ یہ آیات خاص طور سے خولہ بنت ثعلب ؓ کے مسئلہ ظہار کو حل کرنے کے لیے نازل کی گئی تھیں جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے حدود کا درجہ رکھتی ہیں۔ واقعہ تو آیات میں بتا دیا گیا ہے یہاں ایک تو اللہ کے سمیع وبصیر ہونے کی دلیل ملتی ہے ایک اس کے رحمن ورحیم ہونے کی دلیل ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
مجادلہ کا معنی ایسا اصرار ہے جو انکار کردینے کے بعد بھی جاری رہے ایک صحابی حضڑت اوس بن صامت نے اپنی بیوی خولہ سے کہہ دی ا کہ ، انت علی کظہرامی ، یعنی تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے اور یہ عہد جاہلیت میں طلاق سے شدید متصور ہوتا تھا کہ طلاق کے بعد رجعت وغیرہ کی صورت تھی مگر اس میں واپسی کی کوئی صورت نہ تھی ۔ وہ خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت لائیں آپ نے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی حکم نہیں اس نے اصرار کیا اور شکایت کی کہ کیا میرے بارے وحی بھی خاموش ہے جبکہ ہر کام میں آپ پر وحی نازل ہوتی ہے تو رب جلیل نے ان کے بارے وحی نازل فرمادی اور زمانہ جاہلیت کی اس رسم کا رد…
Read the full tafseer →ف 2 یہ عورت جیسا کہ تعلقات صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عائشہ اور بعض دوسرے صحابہ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ خولہ بنت ثعلثہ تھیں۔ ہوا یہ کہ ان کے خاوند اوس بن صامت پر دماغی عدم توازن کا اخر تھا۔ ایک متربہ انہیں دورہ پڑا تو انہوں نے خولہ سے یہ کہہ دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ اصطلاح میں اسے ظہار کہتے ہیں اور یہ زمانہ جاہلیت میں طلاق شمار ہوتات ھا۔ اس کے بعد اوس شرمندہ ہوئے اور خولہ مسئلہ دریافت کرنے کے لئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی خاص حکم نازل نہیں فرمایا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہوگئی۔ اب تم دونوں کیونکر مل سکتے…
Read the full tafseer →(58:1) قد سمع اللہ : قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کا معنی دیتا ہے اور ماضی کے ساتھ ہی تقریب کا فائدہ بھی دیتا ہے یعنی اس کو زمانہ حال کے قریب بنا دیتا ہے۔ بیشک اللہ نے سن لیا ہے (قول کو)
قول التی تجادلک : قول مفعول فعل سمع کا التی اسم موصول واحد مؤنث ۔ تجادل فعل مضارع واحد مؤنث غائب۔ مجادلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ جھگڑا کرنا۔ باہم جھگڑنا۔ ک ضمیر واحد مؤنث حاضر۔ صلہ۔ موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر مضاف الیہ اس عورت کا قول جو آپ سے تکرار کر رہی تھی۔
فی زوجھا۔ اپنے خاوند کے بارے میں۔
وتشتکی واؤ عاطفہ۔ تشتکی مضارع واحد مؤنث غائب۔ معطوف، جس کا عطف تجادلک پر ہے۔ وقیل حال من فاعلہ ای تجادلک وہی متضرعۃ الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
سمع۔ سن لیا۔ تجادل۔ وہ جھگڑتی ہے۔ تشتکی۔ شکایت کرتی ہے ۔ تحاور۔ آپس میں بات چیت۔ یظھرون۔ وہ ظہار کرتے ہیں۔ ولدن۔ انہوں نے جنا۔ پیدا کیا۔ زور۔ جھوٹ۔ گناہ۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ تحریر۔ آزاد کرنا۔ رقبۃ۔ گردن (غلام) ۔ ان یتماسا۔ یہ کہ وہ ہاتھ لگائیں۔ شھرین متتابعین۔ مسلسل دو مہینے۔ اطعام۔ کھلانا۔ ستین۔ ساٹھ۔ یحادون ۔ ناراض کرتے ہیں۔ کبتوا۔ ذلیل کئے گئے۔ احصی۔ اس نے شمار کیا۔
تشریح : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں بہت سے من گھڑت طریقے رائج تھے جن پر وہ لوگ بڑی شدت سے جمے ہوئے تھے اور اسی کو ان لوگوں نے شریعت بنا رکھا تھا مثلا اگر میاں بیوی کے درمیان مزاجوں…
Read the full tafseer →اپنی بی بی کو ماں کہہ بیٹھنے کا ذکر، ظہار اور اس کے احکام۔
(ف 1) شان نزول : مسند امام احمد ، نسائی و ابوداؤد مستدرک حاکم وغیرہ میں خولہ اور حضرت عائشہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص اوس بن الصامت نے اپنی بی بی خولہ سے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے یہ کہنے کے بعد اس کو ندامت ہوئی ، یہ کلمہ زمانہ جاہلیت میں طلاق تھا، اس نے کہا میرے خیال میں تو مجھ پر حرام ہوگئی ، خولہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکرتمام واقعات عرض کیے اور عرض کیا کہ میرا مال ختم ہوچکا، ماں باپ گذرگئے عمر زیادہ ہوگئی بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ان کو باپ کے پاس چھوڑوں تو ہلاک ہوجائیں اور اپنے ساتھ رکھوں تو…
Read the full tafseer →[1] یہ خاتون جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی خولہ بنت ثعلبہ تھیں جن کے شوہر نے ان سے ظہار کیا تھا۔ (ظہار کی تشریح سورة احزاب حاشیہ 1 میں گزر چکی ہے) ۔ عرب جاہلیت میں کیونکہ ظہار سے طلاق واقع ہوجاتی تھی اس لئے یہ خاتون واویلا کرتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کی پریشانی کا کوئی حل بتائیں۔ آپ ﷺ کے سامنے وحی الٰہی کی کوئی واضح رہنمائی اس بارے میں موجود نہ تھی اس لئے آپ ﷺ نے قول مشہور کے مطابق فرمایا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ تم اپنے شوہر پر حرام ہوگئی ہو۔ انہوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ شوہر نے لفظ طلاق تو کہا نہیں اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے لگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
عورت کا درجہ قانون میں
1: اسلام سے پہلے طلاق کی صورت یہ تھی کہ خاوند بیوی سے کہتا ۔ انت علی تظھرامی ۔ یعنی اب تو میرے لئے میری ماں کی حیثیت میں ہے ۔ اور بربنائے رواج پر وہ عورت دامی طور پر مفارقت اختیار کرلیتی ۔ اس کی اصطلاح میں ظہار کہتے تھے خولہ بنت ثعلیہ حضور ﷺ کے پاس فریاد لے کر آئی کہ الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ میرے اولاد بھی ہے ۔ اگر ان الفاظ سے علیحدگی واقع ہوجاتی ہے ۔ تو بڑی مشکل کا سامنا ہے ۔ اولاد کو اگر خاوند کے سپرد کرتی ہوں تو مجھے خطرہ ہے ۔ کہ وہ شفقت سے ان کی تربیت نہیں کریگا ۔ اور اگر اپنے پاس رکھتی ہوں ۔ تو اندیشہ ہے ۔ کہ بھوکوں نہ مرجائیں ۔ میں ان کو کیوں کر پالوں گی ۔ حضور ﷺ…
Read the full tafseer →(1) اللہ تعالیٰ نے یقینا اس عورت کی بات سن لی جو اے نبی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑتی تھی ۔
اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں شکوہ و شکایت کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا بلاشبہ اللہ تمہارے سب سننے والا دیکھنے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اسلام سے پہلے مرد اگر اپنی عورت کو کہتا کہ تو میری ماں ہے تو ساری عمر وہ اس پر حرام گنتے حضرت کے وقت میں ایک مسلمان کہہ بیٹھا اپنی عورت کو پھر دونوں پچھتائے عورت آئی حضرت کے پاس ، حضرت نے فرمایا اب کیوں کہ تم مل سکتے ہو وہ شکوہ کرنے لگی کہ گھرویران ہوتا ہے اولاد پریشان ہوتی ہے اس میں یہ حکم اترا فرمایا کہ جن نے جنا نہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 3۔ سبب نزول آیات ابتدائیہ کا یہ ہے کہ اوس بن الصامت نے غصہ میں ایک بار اپنی بی بی خولہ کو یوں کہہ دیا کہ انت علی کظھر امی یعنی تو میرے حق میں ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت کہ مجھ پر حرام ہے، اور بعثت نبویہ کے قبل اس لفظ سے تحریم ابدی طلاق سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی، خولہ تحقیق حکم کے لئے حضور نبوی ﷺ میں حاضر ہوئیں، آپ نے اس پر بنا پر کہ ابھی اس قول مشہور کے خلاف وحی نازل نہیں ہوئی اس قول مشہور کو قابل عمل خیال کر کے فرمادیا وہ یہ سن کر کے واویلا کرنے لگیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، پس ان آیات میں ظہار کا حکم ہے، اور اس کے بعد مطلقا احکام الہیہ کا واجب التصدیق والعمل ہونا اور تصدیق پر بالخصوص…
Read the full tafseer →اپنی بیوی سے اگر کوئی ظہار کرلے تو کیا کرے ؟ اس حکم کی وضاحت کی گئی ہے
1 ؎ ظہار کیا ہے ؟ ظہار جاہلیت عرب کی ایک رسم ہے کہ عرب جب اپنی بیوی کو حرام کرنا یعنی چھوڑنا چاہتے تو کہہ دیتے کہ : انٹ علی کظھر امی ” تو میرے لیے ایسی ہے جیسے میرے لیے میری ماں کی پشت “ اور اس سے مراد ان کی یہ ہوتی کہ میں زن و شو کا تعلق تجھ سے حرام کرتا ہوں یا حرام سمجھتا ہوں اور اسکے بعد وہ کبھی اس کو اپنی بیوی نہ بناتا اور نہ معاشرہ کے رواج کے مطابق بیوی بنا سکتا اور رواج ایک ایسی چیز ہے کہ یہ جب معاشرہ میں رچ بس جاتا ہے تو اس کا ترک کرنا نہایت دشوار ہوجاتا ہے بلکہ بعض اوقات رواجات کی پابندی دین کی باتوں سے بھی زیادہ…
Read the full tafseer →(1) Zihar is a term denoting a custom of the Arabs in the days of Ignorance. In case of disagreement with their wives they used to say to them, "You are for me like the back of my mother." After saying this, they used to take their wives as their real mothers in being prohibited for them, and the ties of marriage were held to have been broken for good, with no possibility of their restoration. These verses have been revealed in a similar case where a husband (Aus ibn. Samit) had declared ?ihar against his wife (Khawlah) who approached the Holy Prophet and complained about her husband. The…
Read the full tafseer →1 Here, hearing does not merely imply hearing a complaint but also redressing the grievances
2 The translators generally have translated these sentences in the past tense, which tends to give the meaning that the woman had left after relating her complaint and the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) some time later might have received this Revelation. That is why Allah has said: We indeed heard what the woman said, who was pleading with you and complaining to Us, and We were at that time hearing the conversation of both of you." But in most of the traditions that have been reported in…
Read the full tafseer →