Explained with ayahs 28–29
مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال
اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا جیسے کہ سورة قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخض جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
سورة الْحَدِیْد 55
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنْوْا، کا خطاب ان لوگوں سے ہے جو حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اب محمد ﷺ پر ایمان لاؤ، تمہیں اس پر دہرا اجر ملے گا، ایک اجر ایمان بر عیسیٰ کا اور دوسرا اجر ایمان بر محمد کا۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہ خطاب محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں سے ہے۔ ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ تم محض زبان سے آپ کی نبوت کا اقرار کر کے نہ رہ جاؤ، بلکہ صدق دل سے ایمان لاؤ اور ایمان لانے کا حق ادا کرو۔ اس پر تمہیں دہرا اجر ملے گا۔ ایک اجر کفر سے اسلام کی طرف آنے کا، اور دوسرا اجر…
Read the full tafseer →لِّئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ ، اس میں لا زائدہ ہے، معنی لیعلم اہل الکتب کے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ مذکور الصدر احکام اس لئے بیان کئے گئے تاکہ اہل کتاب سمجھ لیں کہ وہ اپنی موجودہ حالت میں ........ کہ صرف حضرت عیسیٰ ؑ پر تو ایمان ہے، رسول اللہ ﷺ پر نہیں، اس حالت میں وہ اللہ کے کسی فضل کے مستحق نہیں جب تک حضرت خاتم الانبیاء پر ایمان نہ لے آئیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
تمت سورة الحدید
بحمد اللہ تعالیٰ وعونہ للسادس و العشرین من الربیع الثانی
یوم الاثنین بعد العشاء و یتلوہ انشاء اللہ سورة المجادلتہ
Read the full tafseer →(لئلا یعلم اھل الکتب الا یقددون علی شیء من فضل اللہ وان الفضل بید اللہ یوتیہ من یشا واللہ ذوالفضل العظیم) (29)۔
(یہود کے حسد کی طرف اشارہ)۔ یہ ان لوگوں کو ابھارا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے اس فضل عظیم کے حاصل کرنے کے لیے سبقت کرو اور حاسد یہود کو چھوڑو، وہ نبی امی اور ان پر ایمان لانے والوں کے خلاف حسد کی جس آگ میں جل رہے ہیں اسی میں جلتے رہیں۔ ان کے اس حسد کا سبب ان کی یہ جہالت ہے کہ وہ اللہ کے تمام فضل کا اجارہ دار اپنے کو سمجھتے ہیں۔ ان پر یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ اللہ کے فضل کے مالک وہ نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کا مالک خود ہے وہ اس کو بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ بڑے فضل والا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28-1یہ دگنا اجر اہل ایمان کو ملے گا جو نبی سے قبل پہلے کسی رسول پر ایمان رکھتے تھے پھر نبی پر بھی ایمان لے آئے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے (صحیح بخاری) ایک دوسری تفسیر کے مطابق جب اہل کتاب نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انہیں دوگنا اجر ملے گا، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی۔ (تفصیل کیلئے دیکھئے، تفسیر ابن کثیر)
Read the full tafseer →28: اس فقرے میں اہل کتاب کا تذکرہ فرماتے ہوئے دو اہم حقیقتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ایک یہ کہ جو یہودی یا عیسائی آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائے تھے، ان میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو صرف اس حسد کے مارے ایمان سے محروم رہے کہ نبی آخرالزماں ﷺ بنو اسرائیل کے بجائے بنو اسماعیل میں کیوں بھیج دئیے گئے، ان سے کہا جارہا ہے کہ نبوت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، یہ تمہارے اختیار کا معاملہ نہیں ہے کہ جس کو تم چاہو اسی کو دیا جائے، دوسری حقیقت یہ ہے کہ عیسائیوں میں ایک زمانے میں یہ طریقہ عام ہوگیا تھا کہ عیسائی پادری پیسے لے کر لوگوں کے لئے مغفرت نامے جاری کردیتے تھے، وہ…
Read the full tafseer →لئلا یعلم ................ من یشاء (75 : 92) ” تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے “ اہل کتاب یہ گھمنڈ رکھتے تھے کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں اور وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔
وقالوا .................... تھتدوا ” وہ کہتے ہیں کہ یہودی بن جاؤ یا نصاریٰ بن جاؤ تمہیں ہدایت مل جائے گی “ تو اللہ تعالیٰ مومنین کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت ، اس کی جنت ، اس کی مغفرت اور اس کے انعامات کے مستحق ہوجاؤ اور میں تم پر ان چیزوں کی بارش کروں گا تب اہل کتاب کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ تو زعم باطل…
Read the full tafseer →13 یعنی اہل کتاب پہلے پیغمبروں کے احوال سن کر پچھتاتے کہ افسوس ہم ان سے دور پڑگئے۔ ہم کو وہ درجے ملنے محال ہیں جو نبیوں کی صحبت سے حاصل ہوتے ہیں۔ سو یہ رسول، اللہ نے کھڑا کیا اس کی صحبت میں پہلے سے دونا کمال اور بزرگی مل سکتی ہے۔ اور اللہ کا فضل بند نہیں ہوگیا۔
(تنبیہ) حضرت شاہ صاحب نے آیت کی تفسیر اسی طرح کی ہے۔ لیکن اکثر سلف سے یہ منقول ہے کہ یہاں " لِئَلَّایَعْلَمَ " بمعنی " لِکَیْ یَعْلَمَ " کے ہے۔ یعنی تاکہ جان لیں اہل کتاب (جو ایمان نہیں لائے) کہ وہ دسترس نہیں رکھتے اللہ کے فضل پر۔ اور فضل صرف اللہ کے ہاتھ ہے جس پر چاہے کر دے۔ چناچہ اہل کتاب میں سے جو خاتم الانبیاء پر ایمان لائے ان پر…
Read the full tafseer →آیت 29{ لِئَــلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَ لاَّ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ } ”یہ اس لیے ہے تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ کے فضل پر اب ان کا کوئی حق نہیں ہے“
گزشتہ آیت کی تشریح کے دوران میں نے ذکر کیا تھا کہ { یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ } کے خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے۔ یہ بات اس آیت میں اب بالکل واضح ہوگئی ہے۔ جن مفسرین کا ذہن اس طرف نہیں گیا کہ گزشتہ آیت میں خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے انہیں زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ یہاں لِئَــلاَّ میں لاَ زائد ہے اور اصل میں یہاں مراد لِکَیْ…
Read the full tafseer →53 ( لِئَلاَّ ) کا لفظ یہاں لکی لا کا معنی دے رہا ہے۔ یعنی ایمان لانے والے اہل کتاب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ دوہرا اجر فقط انہیں کے لئے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ اللہ بڑا صاحب فضل ہے وہ چاہے تو دوسرے مسلمانوں کو بھی دوہرا اجر دے سکتا ہے اور وہ صاحب اختیار بھی ہے وہ اپنا فضل تقسیم کرنے میں کسی دوسرے کی خواہش کا پابند نہیں۔
Read the full tafseer →52۔ (اسے یہ سرکش ونافرمان ذرا سا بھی موقع دیتے تو ان کی نجات ومغفرت رکھی ہوئی تھی) (آیت) ” اھل الکتب “۔ یہ وہی لوگ ہیں۔ جنہیں ابھی ابھی (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ سے مخاطب کیا گیا تھا۔ انہیں محض (آیت) ” اھل الکتب “۔ کہنے میں اشارہ یہ ہے کہ ابھی یہ صرف اہل کتاب ہیں محض انبیاء قدیم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان ظاہر کرنا اور جتلانا انہیں مومن رہنے کیلئے کافی نہیں۔ (آیت) ’ لئلا یعلم “۔ علم یہاں تحقیق کے معنی میں ہے۔ اے لیتحققوا (ابن جریر) (آیت) ” لئلا “۔ یہاں کے یال کے مفہوم میں ہے۔ اے لیعلم ولا مزیدۃ (کشاف) اکثر المفسرین والنحویین علی ان لازائدۃ والمعنی لیعلم…
Read the full tafseer →لئلا یعلم اھل الکتاب اس میں لازائد ہے معنی لیعلم اھل الکتاب کے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ مذکورۃ الصدر احکام اس لئے بیان کئے گئے تاکہ اہل کتاب سمجھ لیں کہ وہ اپنی موجودہ حالت میں کہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و اسلام پر تو ایمان ہے، رسول اللہ ﷺ پر نہیں، اس حالت میں وہ اللہ کے کسی فضل کے مستحق نہیں جب تک حضرت خاتم النبین پر ایمان نہ لے آئیں۔ (معارف)
Read the full tafseer →لئلا یعلم اھل الکتب الا یقدرون علی شی ءٍ من فضل اللہ وان الفضل بید اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم .
”(یہ عنایت اس لیے کرے گا) تاکہ اہل کتاب کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ ان کو اللہ کے فضل کے کسی حصہ پر بھی دسترس نہیں ہے اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے عطا فرما دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “
لِّءَلاَّ یَعْلَمَ : تاکہ اہل کتاب جان لیں۔ لا (نافیہ) زائد ہے۔
اَلاَّ یَقْدِرُوْنَ : یعنی اہل کتاب جان لیں کہ اللہ کی مشیت کے بغیر اللہ کے فضل کا کوئی حصہ اپنے اختیار سے وہ حاصل نہیں کرسکتے۔ آیت کی یہ تشریح جو قتادہ سے مروی ہے اس روایت کے مطابق ہے جو طبرانی نے حضرت ابن عباس کی طرف اور…
Read the full tafseer →تاکہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کو ثواب خداوندی کے کسی خبر پر بھی دستر نہیں، فضل وثواب اللہ کے ہاتھ میں ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے وہ اسے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ مومنین پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا سے یہاں تک یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضرت ابی بن کعب اور ان کے ساتھیوں پر فخر کیا کہ ہمارے لیے دہرا ثواب ہے اور تمہارے لیے اکہرا۔
Read the full tafseer →1۔ لِّئَـلَّا یَعْلَمَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْئٍ مِّنْ فَضْلِ اللہ ِ : یعنی اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی رحمت میں سے دو حصے اور عظیم نور دینے کی بشارت اس لیے دی ہے تا کہ اہل کتاب تمہارے متعلق یہ نہ جانیں کہ یہ مسلمان اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔
2۔ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللہ ِ۔۔۔۔: سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے ”ولیعلموا“ (اور تا کہ وہ جان لیں) محذوف ہے ، یعنی اور تا کہ وہ جان لیں کہ فضل اہل کتاب یا کسی اور کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ چناچہ اس نے اپنی مشیت سے اس آخری نبی پر اخلاص کے ساتھ…
Read the full tafseer →لئلایعلم اھل الکتب تاکہ اہل کتاب جان لیں۔ ان لا زائدہ ہے تاکید کا فائدہ دے رہا ہے ! یہ اخفش کا قول ہے۔ فراء نے کہا : معنی ہے کہ وہ جان لیں۔ لاہر اس کلام میں زائد ہوتا ہے جس پر لام حجد داخل ہو۔ قتادہ نے کہا، اہل کتاب نے مسلمانوں سے حسد کیا تو یہ آیت نازل ہوئی لئلا یعلم اھل الکتب معنی ہے تاکہ اہل کتاب جان لیں۔
الا یقدرون علی شیء من فضل اللہ وان الفضل بید اللہ مجاہد نے کہا : یہودیوں نے کہا قریب ہے کہ ہم میں سے ایک ایسا نبی ظاہر ہو جو ہاتھ پائوں کاٹے، جب اس نبی کا ظوہر عربوں میں ہوا تو انہوں نے اس نبی کا انکار کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی لائلا یعلم تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اس پر قادر نہیں جس طرح…
Read the full tafseer →13۔ عبد بن حمید نے یزید بن حازم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ اور عبداللہ بن ابی سلمہ رحمہما اللہ دونوں کو سنا کہ ان میں سے ایک نے اس طرح پڑھا آیت لئلا یعلم اہل الکتب اور دوسرے نے یوں پڑھا آیت لیعلم اہل الکتب۔
امت محمدیہ ﷺ کا اجر وثواب
14۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عمل کو تقسیم فرمایا پھر اجر کو تقسیم کردیا۔ اور دوسری روایت میں اجر کی بجائے اجل کے لفظ ہیں۔ یہودیوں سے کہا گیا تم عمل کرو تو انہوں نے آدھے دن تک عمل کیا۔ اور ان سے کہا گیا کہ تمہارے لیے ایک قریاط ثواب ہے پھر نصاری سے کہا گیا تم بھی عمل کرو انہوں نے آدھے دن سے عصر تک عمل…
Read the full tafseer →[لِئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ : تاکہ نہ جانیں اہل کتاب ][ اَلَّا يَــقْدِرُوْنَ : کہ وہ قدرت نہیں رکھتے ][عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر ][ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ : اللہ کے فضل میں سے ][ وَان الْفَضْلَ : اور یہ کہ کل کا کل فضل ][ بِيَدِ اللّٰهِ : اللہ کے ہاتھ میں ہے ][يُؤْتِيْهِ : وہ دیتا ہے اسے (فضل کو)][مَنْ يَّشَاۗءُ : اس کو جسے وہ چاہتا ہے ][وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : اور اللہ عظیم فضل والا ہے ]
نوٹ۔ 4 آیت ۔ 29 ۔ میں اَھْلُ الْکِتٰبِ سے مراد یہود و نصاریٰ دونوں ہی ہوسکتے ہیں لیکن قرینہ دلیل یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد یہود ہیں۔ کیونکہ وہ ہی اس خبط میں مبتلا تھے (اور ہیں) کہ اللہ…
Read the full tafseer →﴿ لِّئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ ﴾ (الی آخر السورۃ) اس سے پہلے فَعَلَ یَا اِعْلَمْ مقد رہے اور لا زائدہ ہے اور ان مخففہ من المثقلہ ہے مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں عطا فرمائیں تاکہ قیامت کے دن اہل کتاب پر اپنے بارے میں یہ واضح ہوجائے کہ ان کو اللہ کے فضل کے کسی جزو پر بھی دسترس نہیں ہے اور تا کہ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ اسے جس کو چاہے دیدے (بیان القرآن میں اس جگہ پر سوال و جواب دیکھ لیا جائے)
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان نہیں لائے انہوں نے کہا کہ چلو جو اہل کتاب تمہارے نبی ﷺ پر ایمان لائیں ان کے لئے دہرا اجر ہے اور اہل کتاب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
بعثت انبیاء (علیہم السلام) برائے ہدایت عالم وعطاء اسباب رشد و فلاح :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ارسلنا رسلنا بالبینت ...... الی ..... واللہ ذوالفضل العظیم “۔
(ربط) سابقہ آیات میں دنیا اور دنیا کی ہر راحت ونعمت کی ناپائیداری اور بےثباتی کا ذکر تھا اور یہ کہ انسان کو چاہئے کہ آخرت کی فکر کرے دنیا سر اسر دھوکہ ہے اس سے غرور وتکبر اور غفلت میں پڑجانا سب سے بڑی اور مہلک غلطی ہے تو اب ان آیات میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت نے تو ہمیشہ ہی تخلیق عالم کے بعد سے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کو بھیجا، ان پر کتابیں نازل کیں اور بینات و دلائل بھی دئیے تاکہ انسان کو رشد و فلاح کی منزل حاصل کرنے میں…
Read the full tafseer →32:۔ ” لئلا یعلم “۔ لا میں دو قول ہیں اول یہ کہ لا زائدہ برائے تاکید۔ اہل کتاب کا زعم تھا کہ رسالت و نبوت اور وحی ربانی کے مستحق صرف بنی اسرائیل ہی ہیں اور کوئی نہیں، اس لیے اب بھی اگر کوئی پیغمبر آسکتا ہے تو صرف بنی اسرائیل سے مبعوث ہوسکتا ہے تو ان کے زعم باطل کا رد فرمایا کہ ہم نے محمد ﷺ پر ایمان لانے اور دوہرا ثواب دینے کا اس لیے وعدہ کیا ہے تاکہ اہل کتاب کو آپ کی نبوت کا یقین ہوجائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل و احسان کی تقسیم ان کے اختیار وقدرت میں نہیں اور نبوت و رسالت جو اللہ کا سب سے بڑا فضل ہے ان کے تصرف میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے وہ جسے چاہے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں دین کے تمام بنیادی مسائل کا ذکر ہوا ہے خصوصاً انفاق فی سبیل اللہ پر زیادہ توجہ دی گئی ہے مسئلہ توحید ، اللہ کی صفات ، ایمان تخلیق کائنات اس کی حکمت ، نزول کتاب رسالت کا ذکر اور پھر آگے دوسرے جہاں میں نکلنے والے نتائج کا تذکرہ ہے۔ پھر منافقوں کی مذمت اور ایمان والوں کو تنبیہ کی گئی ہے خدا کے راستے میں مال صرف کرنے والوں کے اجروثواب کی بات کی گئی ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی زندگی کی طلب کا ذکر ہے۔ بخل کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ پھر رسولوں کی بعثت کی حکمت ، نزول کتاب ، قیام میزان عدل کا ذکر ہے۔ لوہے کی تخلیق کی حکمت اور فلسفہ بیان کیا گیا ہے اور دین حق…
Read the full tafseer →لِّئَلَّا يَعْلَمَ اَہْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا يَــقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللہِ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 29 ۧ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ،
( ک ت ب ) الکتب ۔
الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
تفسیر : اس کے بعد ان اللہ قوی عزیز بھی فرما دیا کہ اللہ کو کسی کی مدد کی حاجت نہیں۔ صرف تمہارا امتحان مقصود ہے کہ آیا تم بھی اس کے دین کے باقی رہنے اور شائع ہونے میں مدد کرتے ہو ؟ ورنہ وہ تو خود قوی ‘ زبردست ہے، آپ قائم کر کے رہے گا۔ رسولوں کے اجمالی ذکر کے بعد چند اولوالعزم رسولوں کا ذکر کرتا ہے تاکہ عرب کو محمد ﷺ کی نبوت میں اچنبھا نہ معلوم ہو۔ فقال ولقد ارسلنا نوحاً الخ کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کو بھیجا اور ان کی نسل میں کتاب و نبوت کو قائم رکھا۔ ان کے بعد بھی ان کی نسل میں سے صاحب کتاب نبی اٹھے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) و دائود (علیہ السلام) یکے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ وَیَجْعَلْ لَّـکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ وَیَغْفِرْلَـکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ لِّئَلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَلاَّ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِاللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (الحدید : 28، 29)
(اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہوں، اللہ سے ڈرو، اور اس کے رسول (محمد ﷺ پر ایمان لائو، اللہ تمہیں اپنی رحمت میں سے دو حصے دے گا اور تمہیں وہ نور عطا کرے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان نہیں لائیں گے انہیں انتباہ کیا گیا ہے۔
اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کے الفاظ صرف یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ یہاں بھی اہل کتاب سے مراد دونوں فریق ہیں جن کی اکثریت حسد اور بغض کی بنا پر نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان نہیں لاتی بالخصوص یہودیوں کی کیفیت یہ تھی اور ہے کہ وہ کسی صورت بھی نبی ﷺ پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہوتے۔ اہل کتاب کی کثیر تعداد چاہتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے ایمان سے پھیر دیا جائے حالانکہ ان کے سامنے حق واضح کردیا گیا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے حسد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا…
Read the full tafseer →29 : لِئَلَّا یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ (تاکہ اہل کتاب کو یہ بات معلوم ہوجائے) ۔ اس سے وہ اہل کتاب مراد ہیں جو اسلام نہ لائے۔
نحو : لئلا یعلم کالاؔ زائدہ ہے۔
اَ لَّا یَقدِرُوْنَ (کہ ان کو دسترس حاصل نہیں) اَلاَّ میں ان مخففہ من المثقلہ ہے اس کی اصل یہ ہے انہ لا یقدرون یعنی اَنَّ الشأن لا یقدرون۔ شان یہ ہے کہ وہ قدرت و دسترس نہیں رکھتے۔ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے فضل کے کسی حصہ پر بھی) یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کے اس فضل میں سے کچھ بھی نہ ملے گا۔ جس کا ذکر فرمایا گیا کہ دو حصے رحمت اور نور اور مغفرت کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لائے ( جو کہ اس فضل کو ملنے کیلئے شرط…
Read the full tafseer →28 ۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ “ خطاب یہود و نصاریٰ کے اہل کتاب کو ہے۔ اے وہ لوگو ! جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہا السلام) پر ایمان لائے تم اللہ تعالیٰ سے محمد ﷺ کے بارے میں ڈرو۔ ” وامنوا برسولہ “ محمد ﷺ پر ” یوتکم کفلین “ دو حصے۔ ” من رحمتہ “ یعنی تمہیں دو اجر دے گا تمہارے عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل پر ایمان لانے اور محمد ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے کی وجہ سے۔ اور ایک قوم نے کا ہے کہ کلام اللہ تعالیٰ کے قول ” ورحمۃ “ کے پاس ختم ہوگئی ہے۔ پھر فرمایا ” ورھبانیۃ ابتدعوھا “ کیونکہ انہوں نے حق کو چھوڑ دیا اور ۔۔۔۔۔ پئیں اور جنابت سے وضو وغسل کرنے کو چھوڑ دیا اور ختنہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 29۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ آیت ایماندار اہل کتاب کی شان میں ہے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو لوگ موسیٰ (علیہ السلام) ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات اور انجیل پر ایمان لا چکے ہیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف بھی ہے ان کو قرآن اور نبی آخر الزمان پر بھی ضرور ایمان لانا چاہئے کیونکہ بغیر اس کے تورات و انجیل میں جو اللہ کا عہد ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ وہ عہد ہے جس کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ پھر فرمایا اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو ان کے دونوں زمانے کے عمل قابل اجر قرار پا کر ان کو دوہرا اجر دیا جائے گا ورنہ عہد شکنی کے گناہ میں ان سے مواخذہ کیا جائے گا صحیح مسلم…
Read the full tafseer →(لِّئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا يَــقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ ) یعنی ہم نے تمہارے سامنے بیان کردیا ہے کہ اس شخص کو ہم اپنے فضل و احسان سے نوازتے ہیں جو عمومی ایمان سے بہرور ہوتا ہے تقوی اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی ہے تاکہ اہل کتاب کو یہ علم ہوجائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی وہ اپنی خواہشات نفس اور عقول فاسدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اس کے فضل سے روک نہیں سکتے، وہ کہتے ہیں۔ (لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصرای) (بقرہ :111) جنت میں داخل نہیں ہوگا سوائے یہودی اور نصرانی کے، اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
قول باری ہے (وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رافۃ ورحمۃ ورھبانیۃ ن ابتدعوھا، اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور نرمی رکھ دی تھی اور رہبانیت کہ انہوں نے خود ایجاد کرلیا تھا) تا آخر آیت۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ بتادیا کہ انہوں نے رہبانیت کو عبادت کے طور پر خود ایجاد کیا پھر اس رہبانیت کی رعایت نہ کرنے پر ان کی مذمت کی چناچہ ارشادہوا (فما رعوھا حق رعایتھا، انہوں نے اس کی پوری پوری رعایت نہیں کی)
ابتداع یعنی ایجاد کبھی تو قول کے ذریعے ہوتی ہے یعنی بندہ ایک چیز کی اپنی جانب سے نذر مان لیتا ہے اور اسے اپنے اوپر واجب کردیتا ہے اور کبھی فعل کے ذریعے ہوتی…
Read the full tafseer →[ 111] دین حق پر ایمان کی ترغیب اور یہود پر تعریض کا ذکر وبیان :
یہاں پر اہل الکتاب کا لفظ اگرچہ عام ہے جو اپنے ظاہر اور عموم کے اعتبار سے یہود اور نصاریٰ دونوں کو شامل ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہاں پر اس سے مراد یہود من حیث الجماعت ہیں کیونکہ اصل میں یہی لوگ اس خبط میں مبتلا تھے کہ یہی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے انعام کے وارث ومورث اور اس کے اجارہ دار ہیں اور ان کا گمان یہ تھا کہ نبوت اور رسالت ہمارا موروثی حق ہے، ہمارے سوا اور کسی کو یہ شرف مل سکتا ہی نہیں اور اسی زعم و گھمنڈ اور پندار کی بناء پر انہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کیا، بلکہ یہ اس کے سخت مخالف بن گئے اور جب…
Read the full tafseer →خلاصہ سورة الحدید
یہ سورت بھی انسان اور بندے کے تعلق کو مضبوط کرنے اور اعتقادت کو سیدھا رکھنے کے بہترین طریقوں سے بھری پڑی ہے۔ سب سے پہلے الہ العٰلمین کی صفات کا ذکر ہے پھر اس کے احکامات اور اس کی طرف سے کی گئی عنایات کے ساتھ خود کو ڈھال کر بہترین زندگی گزرانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس عارضی زندگی کی خوشیوں میں گم ہو کر وہ روشنی نہ کھو دیں جو پل صراط پر سے گزرنے کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ ہم سے پہلے بھی بڑی زور دار قومیں گزر چکی ہیں جنہوں نے اصل دین کو بگاڑ کر بدعات کی وجہ سے خود کو ذلیل و خوار کرلیا۔ ان سے سبق سیکھو۔ اور یاد رکھو کفر و شرک، مصیبت میں گھبرانا اور راحت میں اترانا اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیات 26 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے مخلوق کی ہدایت واصلاح کے لیے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا اور ابراہیم (علیہ السلام) جیسے رسول بھیجے جو صاحب شریعت تھے اور مستقل شریعت لے کرمبعوث ہوئے تھے پھر ان کی نسلوں میں مسلسل آنے والے لوگوں ک لیے نبوت کو جاری فرمایا اور کتب الٰہی کے علوم ہمیشہ انسانوں تک پہنچتے رہے خو ش نصیبوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی جبکہ ان میں سے اکثر نافرمان ہوگئے مگر سلسلہ نبوت جاری رہا اور نبی یکے بعد دیگرے مبعوث ہوتے رہے تاآنکہ پھر ایک مستقل شریعت عطا فرما کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں انجیل عطا فرمائی جسے کچھ لوگوں نے مانا اور کچھ نے انکار کردیا ۔
اخذ برکات دل…
Read the full tafseer →۔12 یہاں اللہ کے فضل سے مراد وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ یعنی دوہرا اجر اور گناہوں کی معافی13 آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” لئلاء “ میں ” لا “ کو زائدہ مانتے ہوئے اس کا ترجمہ ” تاکہ “ کیا جائے اور اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ شاہ صاحب نے بھی اس کا ترجمہ ” تاکہ جانیں کتاب والے “ ہی کیا ہے اور اس پر فائدہ میں لکھتے ہیں یعنی اہل کتاب پیغمبروں کا احوال سن کر پچھتاتے کہ ہم ان سے دورپڑے ہم کو وہ درجے ملنے محال ہیں سو یہ رسول اللہ نے کھڑا کیا اس کی صحبت میں وہ مل سکتا ہے آگے سے دو ناکمال اور اللہ کا فضل بند نہیں ہوگیا ہے۔ “
Read the full tafseer →(57:29) لئلا یعلم : میں لا نافیہ زائدہ ہے معنی ہے لیعلم۔ لام علت کا ہے یعنی یہ دوہرا ثواب، یہ نور کی عطائیگی اور یہ بخشش اس لئے ہے تاکہ اہل کتاب (اچھی طرح) جان لیں۔ الا مرکب ہے ان مصدریہ اور لا نافیہ سے۔ کہ نہیں۔
یقدرون مضارع منفی جمع مذکر غائب قدرۃ (باب ضرب) مصدر۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔
وان الفضل بید اللہ۔ جملہ کا عطف الا یقدرون پر ہے ان حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے الفضل اسم ان بید اللہ خبر۔
یؤتیہ من یشاء ۔ ان کی خبرثانی۔
واللہ ذوا الفضل العظیم۔ اور اللہ صاحب فضل عظیم ہے۔ جملہ معترضہ ہے۔ مضمون ما قبل کی تائید کے لئے لایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
لغات القرآن۔ الحدید۔ لوہا۔ باس شدید۔ زبردست قوت اور ہیبت۔ قفینا ۔ ہم نے پے در پے بھیجے۔ رافۃ ۔ نرمی۔ رھبانیۃ ۔ ترک دنیا۔ دنیا کو چھوڑ دینا۔ ابتدعوا۔ انہوں نے نئی بات نکالی۔ انہوں نے خود ہی گھڑ لیا۔ کفلین۔ دو حصے۔
تشریح : سونے اور چاندی کو پرکھنے کے لئے کسوٹی، کسی چیز کی کمی یا زیادتی کو تولنے کے لئے (میزان) ترازو ہوا کرتی ہے۔ کسوٹی یہ بتا دیتی ہے کہ سونے اور چاندی میں ملاوٹ کتنی ہے اور اصلی سونا اور چاندی کس مقدار میں ہے۔ اسی طرح ترازو کے ذریعہ اس بارت کا یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ کون سی چیز وزن میں کتنی زیادہ اور کتنی کم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے پاکیزہ نفس پیغمبروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(ف 1) شان نزول :
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ آیت ایماندار اہل کتاب کی شان میں ہے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں جو لوگ موسیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات انجیل پر ایمان لاچکے ہیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف بھی ہے ان کو قرآن اور نبی آخرالزمان پر بھی ضرور ایمان لانا چاہیے کیونکہ بغیر اس کے تورات وانجیل میں جو اللہ کا عہد ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا، یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة آل عمران میں گزرچکا ہے پھر فرمایا اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو ان کے دونوں زمانے کے عمل قابل اجراقرار پاکر ان کو دہرا اجر ملے گا ورنہ عہد شکنی کے گناہ میں ان سے مواخذہ کیا جائے گا، نور سے مقصود وہی پل صراط پر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
[39] خطاب ان نصاریٰ سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی کامل پیروی پر اجر دیا۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے، ایک اجر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اور دوسرا پیغمبر وقت محمد ﷺ کی تصدیق کا۔ یہاں اللہ سے ڈرنے کی تنبیہ اس لئے فرمائی گئی ہے کہ بہت سے نصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ محمد ﷺ وہی نبی ہیں جن کی پیشین گوئی انجیل میں وارد ہے لیکن اسلام لاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ مخالفین اسلام ان کے بھی دشمن ہوجائیں گے۔ ان کے لئے اس اندیشے کی بناء پر فرمایا کہ لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ صرف اللہ سے ڈرو۔
[40] یہ اسی طرح کی بشارت ہے جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
یہ انجیلیں اصلی نہیں ہیں
یہ واضح رہے کہ مودوہ انجیلیں ستی ، لوقاء مرتس اور یوحنا سب کی سب اصل میں حضرت مسیح کے نامکمل حالات میں جس کے بعد کے لوگوں نے قلمبند کیا ۔ ورنہ وہ انجیل جو حضرت مسیح پر نازل ہوئی ۔ ایک مستقل صحیفہ تھا ۔ جس میں ان کو زندگی کی مشکلات سے مخلصی حاصل کرنے کا طریق بتایا گیا تھا ۔ ان انجیلوں کے لکھنے والے لوگ حضرت مسیح کے حواری نہیں ۔ اور یہ بھی تفصیل کے ساتھ معلوم نہیں ۔ کہ یہ لوگ کون تھے ۔ کس قماش کے تھے ۔ اور اس وقت کی مسیحی دنیا میں ان کا درجہ اور مقام کیا تھا ۔ پھر بڑی مصیبت یہ ہے ۔ کہ صرف انہیں لوگوں نے انجیلیں نہیں لکھی ہیں ۔ بلکہ بیسیوں نے اس پر ہاتھ صاف کیا ہے ۔ جیسا…
Read the full tafseer →(29) اہل کتاب کے ساتھ اس حسن سلوک کا ذکر اس لئے کیا گیا تاکہ غیر مسلم اہل کتاب کو یہ بات معلوم ہوجائے اور وہ اس امر سے واقف ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل میں سے ان کو کسی حصے پر بھی قدرت نہیں ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل میں سے کسی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ ہر قسم کا فضل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اور تمام انواع فضل اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل والا ہے۔ اور بڑا صاحب فضل ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اجروثواب اس لئے فرمایا کہ جو اہل کتاب ایمان نہیں لائے ان کو معلوم ہوجائے کہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کا اللہ تعالیٰ کے فضل میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ان کا فضل خداوندی کی کسی…
Read the full tafseer →ف 1۔ چناچہ اس کی مشیت اس کے فضل کے ساتھ مسلمانوں سے متعلق ہوئی تو ان ہی کو عنایت فرمادیا۔
2۔ مطلب یہ کہ ان کا غرہ اور زعم ٹوٹ جاوے کہ وہ حالت موجودہ میں اپنے کو مورد فضل و محل مغفرت سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →اہل کتاب جان لیں کہ اللہ کا فضل ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے
29 ؎ ( لئلا یعلم) میں مفسرین نے لا زائد تسلیم کیا ہے اور ہم پیچھے سے عرض کرتے چلے آ رہے ہیں کہ قرآن کریم میں حروف و الفاظ کا زائد ماننا اس وقت تک درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک کسی زبان یا خصوصاً عربی زبان میں کوئی لفظ یا حرف زائد ماننے کی گنجائش موجود ہو حالانکہ اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہاں ! بعض حروف تاکید کے لیے دوبارہ استعمال کیے جاسکتے ہیں اور اس جگہ اس طرح کی بھی کوئی بات نہیں ہے اور بلا شبہ اس جگہ ” لا “ نافیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب ایسا نہ سمجھ لیں کہ اللہ کے فضل سے ان یعنی مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →لِّئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ (so that the People of the Book may know ....57:29) The negative particle la [ no ] is grammatically redundant [ but rhetorically it serves to emphasise the expression ]. This final verse states that the People of the Book need to know that faith in Prophet ` Isa (علیہ السلام) is not necessarily faith in the Prophet Muhammad ﷺ . In the circumstances, they do not deserve any Divine grace unless they embrace faith in the Last Prophet t. Allah, the Pure and Exalted, knows best!
Alhamdulillah
The Commentary on
Surah Al-Hadid
Ends here
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
55 The commentators differ in the explanation of this verse, One group says that the address here is directed to the people who believed in the Prophet Jesus. It is being said to them, "Believe in the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) now; for this you will be given a double reward, one reward for believing in the Prophet Jesus (peace be upon him) and the other reward for believing in the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings). The second group says that the followers of the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings)…
Read the full tafseer →