57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں6 اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا

6 یعنی زبان حال سے یا قال یا دونوں سے۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اسی کے لیے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا جلاتا ہے اور مارتا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے7

7 یعنی آسمان و زمین میں سب جگہ اسی کا حکم اور اختیار چلتا ہے ایجاد و اعدام کی باگ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی طاقت اس کے تصرف تکوینی کو روک نہیں سکتی۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی ہے سب سے پہلا اور سب سے پچھلا8 اور باہر اور اندر اور وہ سب کچھ جانتا ہے9

8 جب کوئی نہ تھا، وہ موجود تھا، اور کوئی نہ رہے وہ موجود رہے گا، 9 ہر چیز کا وجود ظہور اس کے وجود سے ہے۔ لہذا اس کا وجود اگر ظاہر و باہر نہ ہو تو اور کس کا ہوگا۔ عرش سے فرش تک اور ذرہ سے آفتاب تک ہر چیز کی ہستی اس کی ہستی کی روشن دلیل ہے لیکن اسی کے ساتھ اس کی کنہ ذات اور حقائق صفات تک عقل و ادراک کی رسائی نہیں۔ کسی ایک صفت کا احاطہ بھی کوئی نہیں کرسکتا نہ اپنے قیاس و رائے سے اس کی کچھ کیفیت بیان کرسکتا ہے۔ بایں لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے زیادہ باطن اور پوشیدہ کوئی نہیں۔ بہرحال وہ اندر بھی باہر بھی، ظاہر بھی باطن بھی، کھلے اور چھپے ہر قسم کے احوال کا جاننے والا ہے۔ ظاہر (بمعنی غالب) ایسا کہ اس سے اوپر کوئی قوت نہیں۔ باطن ایسا کہ اس سے پرے کوئی موقع نہیں جہاں اس کی آنکھ سے اوجھل ہو کر پناہ مل سکے۔ فَفِی الْحَدِیْثُ وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْتَکَ شَئْیٌ وَّاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیٌْ۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں پھر قائم ہوا تخت پر1 جانتا ہے جو اندر جاتا ہے زمین کے اور جو اس سے نکلتا ہے2 اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے3 اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے۔4

1 اس کا بیان سورة اعراف میں آٹھویں پارے کے ختم سے کچھ پہلے گزر چکا ہے۔ 2 مثلاً بارش کا پانی اور بیج زمین کے اندر جاتا ہے۔ اور کھیتی درخت وغیرہ اس سے باہر نکلتے ہیں۔ اس کا بیان سورة " سبا " میں گزر چکا۔ 3 آسمان کی طرف سے اترتے ہیں فرشتے، احکام، قضاء و قدر کے فیصلے، اور بارش وغیرہ اور چڑھتے ہیں بندوں کے اعمال اور ملائکۃ اللہ۔ 4 یعنی کسی وقت تم سے غائب نہیں۔ بلکہ جہاں کہیں تم ہو اور جس حال میں ہو وہ خوب جانتا ہے اور تمام کھلے چھپے اعمال کو دیکھتا ہے۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

اسی کے لیے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا اور اللہ ہی تک پہنچتے ہیں سب کام5

5 یعنی اسکی قلمرو سے نکل کر کہیں نہیں جاسکتے۔ تمام آسمان و زمین میں اسی اکیلے کی حکومت ہے اور آخرکار سب کاموں کا فیصلہ وہیں سے ہوگا۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں6 اور اس کو خبر ہے جیوں کی بات کی7

6 یعنی کبھی دن کو گھٹا کر رات بڑی کردیتا ہے اور کبھی اس کے برعکس رات کو گھٹا کر دن بڑا کردیتا ہے۔ 7 یعنی دلوں میں جو نیتیں اور ارادے پیدا ہوں یا خطرات و وساوس آئیں، وہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس میں سے جو تمہارے ہاتھ میں دیا ہے اپنا نائب کر کر8 سو جو لوگ تم پر یقین لائے ہیں اور خرچ کرتے ہیں ان کو بڑا ثواب ہے9

8 یعنی جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے اس کا مالک اللہ ہے تم صرف امین اور خزانچی ہو۔ لہذا جہاں وہ مالک بتلائے وہاں اس کے نائب کی حیثیت سے خرچ کرو۔ اور یہ بھی ملحوظ رکھو کہ پہلے یہ مال دوسروں کے ہاتھ میں تھا ان کے جانشین تم بنے۔ ظاہر ہے تمہارا جانشین کوئی نہ کوئی اور بنایا جائے گا۔ پھر جب معلوم ہے کہ یہ چیز نہ پہلوں کے پاس رہی نہ تمہارے پاس رہے گی، تو ایسی زائل وفانی چیز سے اتنا دل لگانا مناسب نہیں کہ ضروری اور مناسب مواقع میں بھی آدمی خرچ کرنے سے کترائے۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا کہ یقین نہیں لاتے اللہ پر اور رسول بلاتا ہے تم کو کہ یقین لاؤ اپنے رب پر اور لے چکا ہے تم سے عہد پکا اگر ہو تم ماننے والے10

10 یعنی اللہ پر ایمان لانے یا یقین و معرفت کے راستوں پر چلنے والے سے کیا چیز مانع ہوسکتی ہے۔ اور اس معاملہ میں سستی یا تقاعد کیوں ہو جبکہ خدا کا رسول تم کو کسی اجنبی اور غیر معقول چیز کی طرف نہیں بلکہ تمہارے حقیقی پرورش کرنے والے کی طرف دعوت دے رہا ہے جس کا اعتقاد تمہاری اصل فطرت میں ودیعت کردیا گیا اور جس کی ربوبیت کا اقرار تم دنیا میں آنے سے پہلے کرچکے ہو۔ چناچہ آج تک اس اقرار کا کچھ نہ کچھ اثر بھی قلوب بنی آدم میں پایا جاتا ہے۔ پھر دلائل وبراہین اور ارسال رسل کے ذریعہ سے اس ازلی عہد و پیمان کی یاد دہانی اور تجدید بھی کی گئی۔ اور انبیائے سابقین نے اپنی امتوں سے یہ عہد بھی لیا کہ خاتم الانبیاء ﷺ کا اتباع کریں گے۔ اور تم میں بہت سے وہ بھی ہیں جو خود نبی کریم ﷺ کے دست مبارک پر سمع و اطاعت اور انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ امور ایمانیہ پر کاربند رہنے کا پکا عہد کرچکے ہیں۔ پس ان مبادی کے بعد کہاں گنجائش ہے کہ جو ماننے کا ارادہ رکھتا ہو وہ نہ مانے اور جو مان چکا ہو وہ اس سے انحراف کرنے لگے۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی ہے جو اتارتا ہے اپنے بندے پر آیتیں صاف کہ نکال لائے تم کو اندھیروں سے اجالے میں اور اللہ تم پر نرمی کرنے والا ہے مہربان11

11 یعنی قرآن اتارا اور صداقت کے نشان دیے تاکہ ان کے ذریعہ سے تم کو کفر و جہل کے اندھیروں سے نکال کر ایمان و علم کے اجالے میں لے آئے۔ یہ اللہ کی بہت ہی بڑی شفقت اور مہربانی ہے، اگر سختی کرتا تو ان ہی اندھیروں میں پڑا چھوڑ کر تم کو ہلاک کردیتا۔ یا ایمان لانے کے بعد بھی پچھلی خطاؤں کو معاف نہ کرنا۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور اللہ ہی کو بچ رہتی ہے ہر شے آسمانوں میں اور زمین میں12 برابر نہیں تم میں جس نے کہ خرچ کیا فتح مکہ سے پہلے1 اور لڑائی کی، ان لوگوں کا درجہ بڑا ہے ان سے جو کہ خرچ کریں اس کے بعد اور لڑائی کریں اور سب سے وعدہ کیا ہے اللہ نے خوبی کا اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

12 یعنی مالک فنا ہوجاتا ہے اور ملک اللہ کا بچ رہتا ہے اور ویسے تو ہمیشہ اسی کا مال تھا۔ پھر اس کے مال میں سے اس کے حکم کے موافق خرچ کرنا بھاری کیوں معلوم ہو، خوشی اور اختیار سے نہ دو گے تو بےاختیار اسی کے پاس پہنچے گا۔ بندگی کا اقتضاء یہ ہے کہ خوش دلی سے پیش کرے اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے فقر افلاس سے نہ ڈرے، کیونکہ زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک اللہ ہے۔ کیا اس کے راستہ میں خوشدلی سے خرچ کرنے والا بھوکا رہے گا ؟ " وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِی الْعَرْشِ اِقْلاَلَاً " 1 اور بعض نے فتح سے مراد صلح حدیبیہ لی ہے۔ اور بعض روایات سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ 2 یعنی یوں تو اللہ کے راستہ میں کسی وقت بھی خرچ کیا جائے اور جہاد کیا جائے وہ اچھا ہے خدا اس کا بہترین بدلہ دنیا یا آخرت میں دے گا، لیکن جن مقدر والوں نے " فتح مکہ " یا " حدیبیہ " سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا، وہ بڑے درجے لے اڑے، بعد والے مسلمان ان کو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ وہ وقت تھا کہ حق کے ماننے والے اور اس پر لڑنے والے اقل قلیل تھے۔ اور دنیا کافروں اور باطل پرستوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس وقت اسلام کو جانی اور مالی قربانیوں کی ضرورت زیادہ تھی اور مجاہدین کو بظاہر اسباب اموال و غنائم وغیرہ کی توقعات بہت کم۔ ایسے حالات میں ایمان لانا اور خدا کے راستہ میں جان و مال لٹا دینا بڑے اولوالعزم اور پہاڑ سے زیادہ ثابت قدم انسانوں کا کام ہے۔ رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ ورزقنا اللہ اتباعہم وجہم۔ آمین۔ 3 یعنی اللہ کو سب خبر ہے کہ کس کا عمل کس درجہ کا ہے اور اس میں اخلاص کا وزن کتنا ہے۔ اپنے اسی علم کے موافق ہر ایک سے معاملہ کرے گا۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے ایسا کہ قرض دے اللہ کو اچھی طرح، پھر وہ اس کو دونا کر دے اس کے واسطے اور اس کو ملے ثواب عزت کا4

4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " قرض کے معنی یہ کہ اس وقت جہاد میں خرچ کرو۔ پھر تم ہی دولتیں برتو گے (اور آخرت میں بڑے مرتبے پاؤ گے) یہ ہی معنی ہیں دونے کے۔ ورنہ مالک میں اور غلام میں سود بیاج نہیں۔ جو دیا سو اس کا جو نہ دیا سو اس کا۔ "
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن تو دیکھے ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو دوڑتی ہوئی چلتی ہے ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے داہنے5 خوشخبری ہے تم کو آج کے دن باغ ہیں کہ نیچے بہتی ہیں جن کے نہریں سدا رہو ان میں یہ جو ہے یہی ہے بڑی مراد ملنی6

5 میدان حشر میں جس وقت پل صراط پر جائیں گے سخت اندھیرا ہوگا تب اپنے ایمان اور عمل صالح کی روشنی ساتھ ہوگی۔ شاید ایمان کی روشنی میں جس کا محل قلب ہے آگے ہو اور عمل صالح کی داہنے کیونکہ نیک عمل داہنی طرف جمع ہوتے ہیں۔ جس درجہ کا کسی کا ایمان و عمل ہوگا اسی درجہ کی روشنی ملے گی۔ اور غالباً اس امت کی روشنی اپنے نبی کے طفیل دوسری امتوں کی روشنی سے زیادہ صاف اور تیز ہوگی۔ بعض روایات سے بائیں جانب بھی روشنی کا ہونا معلوم ہوا ہے۔ اس کا مطلب شاید یہ ہوگا کہ روشنی کا اثر ہر طرف پہنچے گا۔ واللہ اعلم۔ 6 کیونکہ جنت اللہ کی خوشنودی کا مقام ہے۔ جو وہاں پہنچ گیا سب مرادیں مل گئیں۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس دن کہیں گے دغا باز مرد اور عورتیں ایمان والوں کو راہ دیکھو ہماری ہم بھی روشنی لے لیں تمہارے نور سے کوئی کہے گا لوٹ جاؤ پیچھے پھر ڈھونڈ لو روشنی پھر کھڑی کردی جائے ان کے بیچ میں ایک دیوار جس میں ہوگا دروازہ اس کے اندر رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب7

7 یعنی مومنین اور منافقین کے بیچ میں دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا۔ اس دروازے سے مومن جنت کی طرف جا کر منافقوں کی نظر سے اوجھل ہوجائیں گے۔ دروازہ کے اندر پہنچ کر جنت کا سماں ہوگا اور ادھر دروازہ سے باہر عذاب الٰہی کا منظر دکھائی دے گا
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

یہ ان کو پکاریں گے کیا ہم نہ تھے تمہارے ساتھ8 کہیں گے کیوں نہیں لیکن تم نے بچلا دیا اپنے آپ کو اور راہ دیکھتے رہے اور دھوکے میں پڑے اور بہک گئے اپنے خیالوں پر یہاں تک کہ آپہنچا حکم اللہ کا اور تم کو بہکا دیا اللہ کے نام سے اس دغا باز نے1

8 قصہ یہ ہے کہ کھلے ہوئے کافر پل صراط پر نہیں چلیں گے پہلے ہی دوزخ میں اس کے دروازوں سے دھکیل دیے جائیں گے ہاں جو کسی نبی کی امت میں ہیں سچے یا کچے انہیں پل صراط سے گزرنے کا حکم ہوگا۔ اس پر چڑھنے سے پہلے ایک سخت اندھیری لوگوں کو گھیر لے گی۔ اس وقت ایمان والوں کے ساتھ روشنی ہوگی۔ منافق بھی ان کی روشنی میں پیچھے پیچھے چلنا چاہیں گے لیکن مومن جلد آگے بڑھ جائیں گے اس لیے ان کی روشنی منافقین سے دور ہوتی جائے گی تب وہ پکاریں گے کہ میاں ذرا ٹھہرو، ہم کو اندھیرے میں پیچھے چھوڑ کر مت جاؤ۔ تھوڑا انتظار کرو کہ ہم بھی تم سے مل جائیں اور تمہاری روشنی سے استفادہ کریں۔ آخر ہم دنیا میں تمہارے ساتھ ہی رہتے تھے اور ہمارا شمار بھی بظاہر مسلمانوں میں ہوتا تھا اب اس مصیبت کے وقت ہم کو اندھیرے میں پڑا چھوڑ کر کہاں جاتے ہو کیا رفاقت کا حق یہ ہی ہے۔ جواب ملے گا کہ پیچھے لوٹ کر روشنی تلاش کرو اگر مل سکے تو وہاں سے لے آؤ۔ یہ سن کر پیچھے ہٹیں گے اتنے میں دیوار دونوں فریق کے درمیان حائل ہوجائے گی۔ یعنی روشنی دنیا میں کمائی جاتی ہے وہ جگہ پیچھے چھوڑ آئے، یا پیچھے سے وہ جگہ مراد ہو جہاں پل صراط پر چڑھنے سے پہلے نور تقسیم کیا گیا تھا۔ 1 یعنی بیشک دنیا میں بظاہر تم ہمارے ساتھ تھے اور زبان سے دعویٰ اسلام کا کرتے تھے۔ لیکن اندرونی حال یہ تھا کہ لذات و شہوات میں پڑ کر تم نے نفاق کا راستہ اختیار کیا اور اپنے نفس کو دھوکا دے کر ہلاکت میں ڈالا۔ پھر توبہ نہ کی بلکہ راہ دیکھتے رہے کہ کب اسلام اور مسلمانوں پر کوئی افتاد پڑتی ہے اور دین کے متعلق شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنسے رہے۔ یہ ہی دھوکا رہا کہ آگے ان منافقانہ چالوں کا کچھ خمیازہ بھگتنا نہیں۔ بلکہ یہ خیالات اور امیدیں پکا لیں کہ چند روز میں اسلام اور مسلمانوں کا یہ سب قصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ آخر ہم ہی غالب ہوں گے۔ رہا آخرت کا قصہ سو وہاں بھی کسی نہ کسی طرح چھوٹ ہی جائیں گے۔ ان ہی خیالات میں مست تھے کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور موت نے آدبایا اور اس بڑے دغا باز (شیطان) نے تم کو بہکا کر ایسا کھو دیا کہ اب سبیل رستگاری کی نہیں رہی۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

سو آج تم سے قبول نہ ہوگا فدیہ دینا اور نہ منکروں سے تم سب کا گھر دوزخ ہے وہی ہے رفیق تمہاری، اور بری جگہ جا پہنچے2

2 یعنی بالفرض اگر آج تم (منافق) اور جو کھلے بندوں کافر تھے کچھ معاوضہ وغیرہ دے کر سزا سے بچنا چاہو تو اس کے منظور کیے جانے کی کوئی صورت نہیں۔ بس تم سب کو اب اسی گھر میں رہنا ہے۔ یہ ہی دوزخ کی آگ تمہارا ٹھکانا ہے اور یہ ہی رفیق ہے۔ کسی دوسرے سے رفاقت کی توقع مت رکھو۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا وقت نہیں آیا ایمان والوں کو کہ گڑ گڑائیں ان کے دل اللہ کی یاد سے اور جو اترا ہے سچا دین3 اور نہ ہوں ان جیسے جن کو کتاب ملی تھی اس سے پہلے پھر دراز گزری ان پر مدت پھر سخت ہوگئے ان کے دل اور بہت ان میں نافرمان ہیں4

3 یعنی وقت آگیا ہے کہ مومنین کے دل قرآن اور اللہ کی یاد اور اس کے سچے دین کے سامنے جھک جائیں۔ اور نرم ہو کر گڑگڑانے لگیں۔ 4 یعنی ایمان وہ ہی ہے کہ دل نرم ہو۔ نصیحت اور خدا کی یاد کا اثر جلد قبول کرے۔ شروع میں اہل کتاب یہ باتیں پیغمبروں کی صحبت میں پاتے تھے۔ مدت کے بعد غفلت چھاتی گئی۔ دل سخت ہوگئے وہ بات نہ رہی، اکثروں نے سخت سرکشی اور نافرمانیاں شروع کردیں۔ اب مسلمانوں کی باری آئی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی صحبت میں رہ کر نرم دلی، انقیاد کامل اور خشوع لذکر اللہ کی صفات سے متصف ہوں اور اس مقام بلند پر پہنچیں جہاں کوئی امت نہ پہنچی تھی۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان رکھو کہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد ہم نے کھول کر سنا دئیے تم کو پتے اگر تم کو سمجھ ہے5

5 یعنی عرب لوگ جاہل اور گمراہ تھے جیسے مردہ زمین۔ اب اللہ نے ان کو ایمان اور علم کی روح سے زندہ کیا۔ اور ان میں سب کمال پیدا کردیے۔ غرض کسی مردہ سے مردہ انسان کو مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ سچی توبہ کرلے تو اللہ پھر اس کے قالب میں روح حیات پھونک دے گا۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

تحقیق جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں، مرد اور عورتیں اور قرض دیتے ہیں اللہ کو اچھی طرح ان کو ملتا ہے دونا اور ان کو ثواب ہے عزت کا6

6 یعنی جو اللہ کے راستہ میں خالص نیت سے اس کی خوشنودی کی خاطر خرچ کریں اور غیر اللہ سے کسی بدلہ یا شکریہ کے طلبگار نہ ہوں گویا وہ اللہ کو قرض دیتے ہیں۔ سو اطمینان رکھیں کہ ان کا دیا ہوا ضائع نہ ہوگا۔ بلکہ کئی گنا کر کے لوٹایا جائے گا۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر وہی ہیں سچے ایمان والے اور لوگوں کا احوال بتلانے والے اپنے رب کے پاس ان کے واسطے ہے ان کا ثواب اور ان کی روشنی7 اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری باتوں کو وہ ہیں دوزخ کے لوگ8

7 مترجم محقق (رح) نے بظاہر " اَلشُّہَدَاء " کا عطف " اَلصِّدِیْقُونَ " پر مانا ہے یعنی جو لوگ اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر پوری طرح یقین لائے (اور اس یقین کا اثر ان کے اعمال و احوال میں ظاہر ہونا چاہیے) تو سچے اور پکے ایماندار یہ ہی ہیں۔ اور اللہ کے ہاں یہ ہی حضرات بطور گواہ کے دوسرے لوگوں کا حال بتلائیں گے۔ کما قال (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2 ۔ البقرۃ :143) آخرت میں ان سچے ایمان داروں کو اپنے اپنے عمل اور درجہ ایمان کے موافق ثواب اور روشنی عطا ہوگی (آیت کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے مگر رعایت اختصار ان کے نقل کی اجازت نہیں دیتی۔ ) 8 یعنی دوزخ اصل میں ان ہی کے لیے بنی ہے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کہ زندگانی یہی ہے کھیل اور تماشا اور بناؤ اور بڑائیاں کرنی آپس میں اور بہتات ڈھونڈنی مال کی اور اولاد کی جیسے حالت ایک مینہ کی جو خوش لگا کسانوں کو اس کا سبزہ پھر زور پر آتا ہے پھر تو دیکھے زرد ہوگیا پھر ہوجاتا ہے روندا ہوا گھاس اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور معافی بھی ہے اللہ سے اور رضامندی اور دنیا کی زندگانی تو یہی ہے مال دغا کا1

1 آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے، پھر تماشا، پھر بناؤ سنگار (اور فیشن) پھر ساکھ بڑھانا، اور نام و نمود حاصل کرنا، پھر موت کے دن قریب آئیں تو مال و اولاد کی فکر کہ پیچھے میرا گھر بار بنا رہے اور اولاد آسودگی سے بسر کرے۔ مگر یہ سب ٹھاٹھ سامان فانی اور زائل ہیں۔ جیسے کھیتی کی رونق و بہار چند روزہ ہوتی ہے اور پھر زرد پڑجاتی ہے اور آدمی اور جانور اس کو روند کر چورا کردیتے ہیں۔ اس شادابی اور خوبصورتی کا نام و نشان نہیں رہتا۔ یہ ہی حال دنیا کی زندگانی اور اس کے سازو سامان کا سمجھو کہ وہ فی الحقیقت ایک دغا کی پونجی اور دھوکے کی ٹٹی ہے۔ آدمی اس کی عارضی بہار سے فریب کھا کر اپنا انجام تباہ کرلیتا ہے۔ حالانکہ موت کے بعد یہ چیزیں کام آنے والی نہیں۔ وہاں کچھ اور ہی کام آئے گا۔ یعنی ایمان اور عمل صالح۔ جو شخص دنیا سے یہ چیز کما لے گا۔ سمجھو بیڑا پار ہے۔ آخرت میں اس کے لیے مالک کی خوشنودی و رضامندی اور جو دولت ایمان سے تہی دست رہا اور کفر و عصیان کا بوجھ لے کر پہنچا اس کے لیے سخت عذاب اور جس نے ایمان کے باوجود اعمال میں کوتاہی کی اس کے لیے جلد یا بدیر دھکے مکہ کھا کر معافی ہے۔ دنیا کا خلاصہ وہ تھا، آخرت کا یہ ہوا۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف کو اور بہشت کو2 جس کا پھیلاؤ ہے جیسے پھیلاؤ آسمان اور زمین کا3 تیار رکھی ہے واسطے ان کے جو یقین لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، یہ فضل اللہ کا ہے دے اس کو جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے4

2 یعنی موت سے پہلے وہ سامان کرلو جس سے کو تاہیاں معاف ہوں اور بہشت ملے۔ اس کام میں سستی اور دیر کرنا مناسب نہیں۔ 3 یعنی آسمان اور زمین دونوں کو اگر ملا کر رکھا جائے تو اس کے برابر جنت کا عرض ہوگا۔ طول کتنا ہوگا ؟ یہ اللہ ہی جانے۔ 4 یعنی ایمان و عمل بیشک حصول جنت کے اسباب ہیں۔ لیکن حقیقت میں ملتی ہے اللہ کے فضل سے۔ اس کا فضل نہ ہو تو سزا سے چھوٹنا ہی مشکل ہے۔ جنت ملنے کا تو ذکر کیا۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی آفت نہیں پڑتی ملک میں اور نہ تمہاری جانوں میں جو لکھی نہ ہو ایک ایک کتاب میں پہلے اس سے کہ پیدا کریں ہم اس کو دنیا میں5 بیشک یہ اللہ پر آسان ہے6

5 ملک میں جو عام آفت آئے مثلاً قحط، زلزلہ وغیرہ اور خود تم کو جو مصیبت لاحق ہو مثلاً مرض وغیرہ وہ سب اللہ کے علم میں قدیم سے طے شدہ ہے اور لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔ اسی کے موافق دنیا میں ظہور ہو کر رہے گا۔ ایک ذرہ بھر کم و بیش یا پس و پیش نہیں ہوسکتا۔ 6 یعنی اللہ کو ہر چیز کا علم ذاتی ہے کچھ محنت سے حاصل کرنا نہیں پڑا پھر اپنے علم محیط کے موافق تمام واقعات و حوادث کو قبل از وقوع کتاب (لوح محفوظ) میں درج کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ تم غم نہ کھایا کرو اس پر جو ہاتھ نہ آیا اور نہ شیخی کیا کرو اس پر جو تم کو اس نے دیا7 اور اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا

7 یعنی اس حقیقت پر اس لیے مطلع کردیا کہ تم خوب سمجھ لو کہ جو بھلائی تمہارے لیے مقدر ہے ضرور پہنچ کر رہے گی اور جو مقدر نہیں وہ کبھی ہاتھ نہیں آسکتی۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے علم قدیم میں ٹھہرچکا ہے، ویسا ہی ہو کر رہے گا۔ لہذا جو فائدہ کی چیز ہاتھ نہ لگے اس پر غمگین و مضطرب ہو کر پریشان نہ ہو اور جو قسمت سے ہاتھ لگ جائے اس پر اکڑو اور اتراؤ نہیں بلکہ مصیبت و ناکامی کے وقت صبرو و تسلیم اور راحت و کامیابی کے وقت شکرو تحمید سے کام لو۔ (تنبیہ) پہلے (اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ) 57 ۔ الحدید :20) میں بتلایا تھا کہ دنیا کے سامان عیش و طرب میں پڑ کر آدمی کو آخرت سے غافل نہ ہونا چاہیے۔ آیت ہذا میں متنبہ فرما دیا کہ یہاں کی تکالیف و مصائب میں گھر کر چاہیے کہ حد اعتدال سے تجاوز نہ کرے۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

وہ جو کہ آپ نہ دیں اور سکھلائیں لوگوں کو بھی نہ دینا8 اور جو کوئی منہ موڑے اللہ آپ ہے بےپروا سب خوبیوں کے ساتھ موصوف ہے9

8 اکثر متکبر مالداروں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ بڑائی اور شیخی تو بہت ماریں گے مگر خرچ کرنے کے نام پیسہ جیب سے نہ نکلے گا۔ کسی اچھے کام میں خود دینے کی توفیق نہ ہوگی اور اپنے قول و فعل سے دوسروں کو بھی یہ ہی سبق پڑھائیں گے۔ موقع پر بڑھ کر خرچ کرنا متوکلوں اور ہمت والوں کا کام ہے جو پیسہ سے محبت نہیں کرتے اور جانتے ہیں کہ سختی اور نرمی سب اسی مالک علی الاطلاق کی طرف سے ہے۔ 9 یعنی تمہارے خرچ کرنے یا نہ کرنے سے اس کو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچتا۔ وہ تو بےنیاز اور بےپروا ذات ہے۔ تمام خوبیاں علیٰ وجہ الکمال اس کی ذات میں جمع ہیں۔ تمہارے کسی فعل سے اس کی کسی خوبی میں اضافہ نہیں ہوتا۔ جو کچھ نفع نقصان ہے تمہارا ہے۔ خرچ کرو گے خود فائدہ اٹھاؤ گے، نہ کرو گے گھاٹے میں رہو گے۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دے کر اور اتاری ان کے ساتھ کتاب اور ترازو تاکہ لوگ سیدھے رہیں انصاف پر10 اور ہم نے اتارا لوہا1 اس میں سخت لڑائی ہے اور لوگوں کے کام چلتے ہیں2 اور تاکہ معلوم کرے اللہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے3 بیشک اللہ زور آور ہے زبردست۔4

10 کتاب اور ترازو۔ شاید اسی تو لنے کی ترازو کو کہا کہ اس کے ذریعہ سے بھی حقوق ادا کرنے اور لین دین میں انصاف ہوتا ہے۔ یعنی کتاب اللہ اس لیے اتاری کہ لوگ عقائد اور اخلاق و اعمال میں سیدھے انصاف کی راہ چلیں۔ افراط وتفریط کے راستہ پر قدم نہ ڈالیں اور ترازو اس لیے پیدا کی کہ بیع و شراء وغیرہ معاملات میں انصاف کا پلہ کسی طرف اٹھا، یا جھکا نہ رہے۔ اور ممکن ہے " ترازو " شریعت کو فرمایا ہو۔ جو تمام اعمال قلبیہ و قالبیہ کے حسن و قبح کو ٹھیک جانچ تول کر بتلاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ 1 یعنی اپنی قدرت سے پیدا کیا اور زمین میں اس کی کانیں رکھ دیں۔ 2 یعنی لوہے سے لڑائی کے سامان (اسلحہ وغیرہ) تیار ہوتے ہیں۔ اور لوگوں کے بہت سے کام چلتے ہیں۔ 3 یعنی جو آسمانی کتاب سے راہ راست پر نہ آئیں اور انصاف کی ترازو کو دنیا میں سیدھا نہ رکھیں، ضرورت پڑے گی کہ ان کی گوشمالی کی جائے اور ظالم و کجر و معاندین پر اللہ و رسول کے احکام کا وقار و اقتدار قائم رکھا جائے۔ اس وقت شمشیر کے قبضہ پر ہاتھ ڈالنا اور ایک خالص دینی جہاد میں اسی لوہے سے کام لینا ہوگا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ کون سے وفادار بندے ہیں جو بن دیکھے خدا کی محبت میں آخرت کے غائبانہ اجر وثواب پر یقین کر کے اس کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں۔ 4 یعنی جہاد کی تعلیم و ترغیب اس لیے نہیں دی گئی کہ اللہ کچھ تمہاری امداد و اعانت کا محتاج ہے۔ بھلا اس زور آور اور زبردست ہستی کو کمزور مخلوق کی کیا حاجت ہوسکتی تھی۔ ہاں تمہاری وفاداری کا امتحان مقصود ہے تاکہ جو بندے اس میں کامیاب ہوں ان کو اعلیٰ مقامات پر پہنچایا جائے۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا نوح کو اور ابراہیم کو اور ٹھہرا دی دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب5 پھر کوئی ان میں راہ پر ہے اور بہت ان میں نافرمان ہیں6

5 یعنی پیغمبر اور کتاب کے لیے ان دونوں کی نسل کو چن لیا کہ ان کے بعد یہ دولت ان کی ذریت سے باہر نہ جائے گی۔ 7 جن لوگوں کی طرف وہ بھیجے گئے تھے یا یوں کہو کہ ان دونوں کی اولاد میں سے بعضے راہ پر رہے اور اکثر نافرمان ثابت ہوئے۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر پیچھے بھیجے ان کے قدموں پر اپنے رسول7 اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو اور اس کو ہم نے دی انجیل8 اور رکھ دی اس کے ساتھ چلنے والوں کے دل میں نرمی اور مہربانی9 اور ایک ترک کرنا دنیا کا جو انہوں نے نئی بات نکالی تھی ہم نے نہیں لکھا تھا یہ مگر ان پر کیا چاہنے کو اللہ کی رضامندی پھر نہ نباہا اس کو جیسا چاہیے تھا نباہنا10 پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں ایماندار تھے ان کا بدلہ اور بہت ان میں نافرمان ہیں۔11

7 یعنی پچھلے رسول ان ہی پہلوں کے نقش قدم پر تھے اصولی حیثیت سے سب کی تعلیم ایک تھی۔ 8 یعنی آخر میں انبیائے بنی اسرائیل کے خاتم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دے کر بھیجا۔ 9 یعنی حضرت مسیح کے ساتھ جو واقعی ان کے طریقہ پر چلنے والے تھے ان کے دلوں میں اللہ نے نرمی رکھی تھی۔ وہ خلق خدا کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے تھے۔ 10 یعنی آگے چل کر حضرت مسیح کے متبعین نے بےدین بادشاہوں سے تنگ ہو کر اور دنیا کے مخمصوں سے گھبرا کر ایک بدعت رہبانیت کی نکالی، جس کا حکم اللہ کی طرف سے نہیں دیا گیا تھا۔ مگر نیت ان کی یہ ہی تھی کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کریں۔ پھر اس کو پوری طرح نباہ نہ سکے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ فقیری اور تارک الدنیا بننا، نصاریٰ نے رسم نکالی، جنگل میں تکیہ بنا کر بیٹھے۔ نہ جورو رکھتے نہ بیٹا، نہ کماتے نہ جوڑتے، محض عبادت میں لگے رہتے، خلق سے نہ ملتے، اللہ نے بندوں کو یہ حکم نہیں دیا (کہ اس طرح دنیا چھوڑ کر بیٹھ رہیں) مگر جب اپنے اوپر ترک دنیا کا نام رکھا، پھر اس پردے میں دنیا چاہنا بڑا وبال ہے۔ " شریعت حقہ اسلامیہ نے اس اعتدال فطری سے متجاوز رہبانیت کی اجازت نہیں دی۔ ہاں بعض احادیث میں وارد ہوا ہے کہ " اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ " کیونکہ مجاہد اپنے سب حظوظ و تعلقات سے واقعی الگ ہو کر اللہ کے راستہ میں نکلتا ہے۔ (تنبیہ) " بدعت " کہتے ہیں ایسا کام کرنا جس کی اصل کتاب و سنت اور قرون مشہودلہا بالخیر میں نہ ہو، اور اس کو دین اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جائے۔ 11 یعنی ان میں اکثر نافرمان ہیں اسی لیے خاتم الانبیاء ﷺ پر باوجود دل میں یقین رکھنے کے ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور یقین لاؤ اس کے رسول پردے گا تم کو دو حصے اپنی رحمت سے اور رکھ دے گا تم میں روشنی جس کو لیے پھر و اور تم کو معاف کرے گا اور اللہ معاف کرنے والا ہے مہربان12

12 یعنی اس رسول کے تابع رہو کہ یہ نعمتیں پاؤ۔ گذشتہ خطاؤں کی معافی اور ہر عمل کا دوگنا ثواب اور روشنی لیے پھرو۔ یعنی تمہارا وجود ایمان وتقویٰ سے نورانی ہوجائے۔ اور آخرت میں یہ ہی تمہارے آگے اور داہنی طرف چلے۔ (تنبیہ) (احقر کے خیال میں یہ خطاب ان اہل کتاب کو ہے جو حضور ﷺ پر ایمان لا چکے تھے۔ اس تقدیر پر " وامنوا برسولہ " سے ایمان پر ثابت و مستقیم رہنا مراد ہوگا۔ باقی اہل کتاب کو دونا ثواب ملنے کا کچھ بیان سورة " قصص " میں گزر چکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

تاکہ نہ جانیں کتاب والے کہ پا نہیں سکتے کوئی چیز اللہ کے فضل میں سے اور یہ کہ بزرگی اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے13

13 یعنی اہل کتاب پہلے پیغمبروں کے احوال سن کر پچھتاتے کہ افسوس ہم ان سے دور پڑگئے۔ ہم کو وہ درجے ملنے محال ہیں جو نبیوں کی صحبت سے حاصل ہوتے ہیں۔ سو یہ رسول، اللہ نے کھڑا کیا اس کی صحبت میں پہلے سے دونا کمال اور بزرگی مل سکتی ہے۔ اور اللہ کا فضل بند نہیں ہوگیا۔ (تنبیہ) حضرت شاہ صاحب نے آیت کی تفسیر اسی طرح کی ہے۔ لیکن اکثر سلف سے یہ منقول ہے کہ یہاں " لِئَلَّایَعْلَمَ " بمعنی " لِکَیْ یَعْلَمَ " کے ہے۔ یعنی تاکہ جان لیں اہل کتاب (جو ایمان نہیں لائے) کہ وہ دسترس نہیں رکھتے اللہ کے فضل پر۔ اور فضل صرف اللہ کے ہاتھ ہے جس پر چاہے کر دے۔ چناچہ اہل کتاب میں سے جو خاتم الانبیاء پر ایمان لائے ان پر یہ فضل کردیا کہ ان کو دوگنا اجر ملتا ہے اور گزشتہ خطاؤں کی معافی اور روشنی مرحمت ہوتی ہے۔ اور جو ایمان نہیں لائے وہ ان انعامات سے محروم ہیں۔ تم سورة الحدید فللہ الحمد والمنۃ۔