57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے

اللہ تبارک وتعالی اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبے کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنا بریں فرمایا وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ اور وہ زبردست باحکمت ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہیں، اس کے لامحدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری وساری ہے۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے (وہی) زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

پھر اللہ تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) پچھلا اور (اپنی قدرتوں سے سب پر) ظاہر اور (اپنی ذات سے) پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے

هُوَ الْاَوَّلُ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔ وَالْاٰخِرُ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو۔ وَالظَّاهِرُ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں۔ وَالْبَاطِنُ جس سے پرے کوئی چیز نہیں۔ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ اس کے علم نے تمام ظواہر و بواطن، تمام بھیدوں، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متاخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ ۔ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ثُمَّ اسْـتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ پھر عرش پر مستوی ہوا۔ تمام مخلوقات کے اوپر وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے۔ يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ اناج کا دانہ، حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتا ہے، وہ اسے جانتا ہے۔ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْهَا نباتات، درخت اور حیوانات میں سے جو اس سے نکلتے ہیں وہ انہیں جانتا ہے۔ وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں۔ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ میں سے جو آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہے۔ وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ یہ آیت کریمہ اللہ کے اس ارشاد کے مانند ہے۔ (ما یکون من نجوی ثلاثہ الا ھو رابعھم الخ۔ المجادلہ : 8) تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں، اور یہ معیت علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے۔ فرمایا وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں وہ تمہیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمہارے لیے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور سب امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ملکیت تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری وساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکوکار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

(وہی) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

(يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ) یعنی رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے تب زمی پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہوجاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہوجاتے ہیں، تب بندے بھی متحرک ہوجاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان اضافے اور کمی طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں، بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ (وَهُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ) یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اس سے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
Ayahs 57:7–8

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

(تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں خرچ کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اللہ اور اس کے رسول پر اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اخٹیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خڑچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چناچہ فرمایا : (فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَاَنْفَقُوْا) یعنی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا (لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ) ان کے لی بہت بڑا اجر ہے۔ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اور بیشک خدا تم پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

(هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِهٖٓ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ) وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے یعنی ایسی ظاہری نشانیاں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہنمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔ (لِّيُخْرِجَكُمْ ) تاکہ وہ تمہیں نکالے، تمہاری طرف رسول مبعوث کر کے اور اس کتاب و حکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ (مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ) اندھیروں سے اجالے کی طرف۔ یعنی تمہیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت ورافت ہے کہ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے۔ (وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت خدا ہی کی ہے جس شخص نے تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی وہ (اور جس نے یہ کام پیچھے کئے وہ) برابر نہیں ان لوگوں کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے بعد میں خرچ (اموال) اور (کفار سے) جہاد و قتال کیا اور خدا نے سب سے (ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے واقف ہے

(وَمَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمہیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور (سبیل اللہ) سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اور تم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل کرو۔ (وَ ) حالانکہ کوئی چیز تمہاری ملکیت میں ہیں ہے بلکہ (لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں، پس تمام اموال تمہارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انہیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی، پس جب تک یہ اموال تمہارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الہیہ کے مطابق اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا، چناچہ فرمایا (لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا) تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشرو اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالف کے بغیر دین کی دعوت دی گئی، اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔ اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انہیں ایذائیں برداشت کرنا پڑتی تھیں اور انہیں سخت خوف کا سامنا تھا، یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اس کا اجر وثواب اور درجہ اس شخص کے درجے سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا، چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا ؛ (وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى) یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ (وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ) اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔ چناچہ وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے ؟ تو وہ اس کو اس سے دگنا ادا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی) جنت ہے

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے، چناچہ فرمایا : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے، اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی رضا کے مطابق حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو قرض کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مدل اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کردینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد دہش والا ہے، اس انفاق کے کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے اس روز ہر انسان پر اپنا فقر و احتیاج واضح ہوجائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہوگا، اس لیے فرمایا۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کے (ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو بشارت ہو (کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے یہی بڑی کامیابی ہے

اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ ) اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔ یعنی جب قیامت کا دن ہوگا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بےنور کردیا جائے گا تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصیب کردیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں چل رہی ہوگی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جارہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہوگی۔ اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی پس ان سے کہا جائے گا : (بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ) تم کو بشارت ہو کہ آج تمہارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اللہ اللہ ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہوگی، جہاں انہیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہوگی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف نظر (شفقت) کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور (وہاں) نور تلاش کرو پھر ان کے بیچ میں ایک ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اسکی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (و اذیت)

جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جارہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو اہل ایمان سے کہیں گے : (انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ) یعنی ٹھہرو تاکہ ہم تمہاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو (قِيْلَ ) ان سے کہا جائے گا : (ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا) پیچھے لوٹ جاؤ اور روشنی تلاش کرو، یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہوگا بلکہ یہ بالکل محال ہوگا۔ (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ ) تب حائل کردی جائے گی ان کے درمیان۔ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان (بِسُوْرٍ ) ناقابل عبور دیوار اور ایک محفوظ رکاوٹ بنادی جائے گی۔ (لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ ) جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے، اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہوگا۔ (وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ ) اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہوگا۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

(تو منافق لوگ مومنوں سے) کہیں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزؤں نے تم کو دھوکا دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آپہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغا باز دغا دیتا رہا

منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے : (اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ) کیا دنیا میں لا الہ الا اللہ کہنے میں ہم تمہارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمہارے عمل کرتے تھے ؟ (قَالُوْا بَلٰى) مومنین جواب دیں گے : کیوں نہیں ! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے مگر تمہارے اعمال ایمان، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ (فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ ) تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردش زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے، یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ (وَغَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ ) یعنی جھوٹی تمناؤں نے تمہیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمہارا یہ تھا کہ تم دولت یقین سے تہی دامن تھے۔ (حَتّٰى جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ ) حتی کہ موت نے تمہیں آلیا اور تمہاری وہی مذموم حالت تھی۔ (وَغَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ ) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمہارے سامنے آراستہ کردیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے تم نے اس کے وعدے پر بھروسا کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ (وہ) کافروں ہی سے (قبول کیا جائے گا) تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے (کہ) وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے

(فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) لہذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ) یعنی جہنم تمہارا ٹھکانا ہے۔ (هِىَ مَوْلٰىكُمْ ) یہ جہنم تمہارا والی ہوگا اور تمہیں اپنے پاس رکھے گا۔ (وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (واما من خفت موازینہ۔ فامہ ھاویہ، وما ادرک ماھیہ، نار حامیہ) (القارعہ :) اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے اور آ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتابیں دی گئی تھیں پھر ان پر زمان طویل گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں

جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں مومنین اور مومنات منافقین اور منافقات کا کیا حال ہوگا، یہ چیز دلوں کو اپنے رب کے خوف و خشوع اور اس کی عظمت کے سامنے عجز و انکسار کی دعوت دیتی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر ان کے دلوں میں خشوع اور انکسار نہ ہونے کی بنا پر عتاب فرمایا ہے۔ چناچہ فرمایا : (اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ) یعنی کیا ابھی مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل نرم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ڈر جائیں اس سے مراد قرآن ہے۔ اور اس کے اوامرو نواہی اور جو حق نازل ہوا ہے جسے محمد کریم لے کر تشریف لائے ہیں اس سے ڈر جائیں اور اس کے سامنے سر خم کردیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کتاب و حکمت کے لیے جو اس نے نازل فرمائی ہے، خشوع و خضوع کی ترغیب ہے، نیز اس امر کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اہل ایمان مواعظ الہیہ اور احکام شرعیہ سے نصیحت حاصل کریں اور ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ (وَلَا يَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْاَمَدُ ) یعنی ان لوگوں کے مانند نہ ہوجائیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کی جو خشوع قلب اور کامل اطاعت و تسلیم کی موجب تھی پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے نہ دائمی طور پر اس پر قائم رہے بلکہ زمانے گزر گئے اور ان کی غفلت جڑ پکڑ گئی، ان کا ایمان کمزور اور ایقان زائل ہوگیا۔ (فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ) پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ پس دل ہر وقت اس امر کے محتاج ہیں کہ وہ اس کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور حکمت کی گفتگو کرتے رہیں، اس کتاب سے غفلت نہ برتی جائے کیونکہ یہ چیز دل کی سختی اور آنکھ کے جمود کا سبب بنتی ہے۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو

(اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ) یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیتا ہے یقینا ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو۔ کیونکہ آیات الہی مطالبہ الہیہ کی طرف عقل کی راہ نمائی کرتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے حیات نو بخشی، اس پر قادر ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے اور پھر ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ پس وہ ہستی جس نے زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد بارش کے پانی کے ذریعے سے اسے دوبارہ زندہ کیا، وہ مردہ دلوں کو اس حق کے ذریعے سے زندگی بخشنے کی قدرت رکھتی ہے جو اس نے اپنے رسول پر نازل کیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی آیات الہی سے راہنمائی حاصل کرتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، وہ عقل سے بےبہرہ ہے۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی اور خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دیتے ہیں انکو دو چند ادا کیا جائے گا اور ان کے لئے عزت کا صلہ ہے

(اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ ) یعنی وہ مرد اور عورتیں جو نہایت کثرت سے صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ (وَاَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) اور اللہ کو اچھا قرض دیتے ہیں۔ یعنی وہ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال پیش کرتے ہیں جو ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ (يُّضٰعَفُ لَهُمْ ) ان کو دو چند اجر دیا جائے گا۔ ایک نیکی کا اجرو ثواب دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ (وَلَهُمْ اَجْرٌ كَرِيْمٌ) اور ان کے لیے اجر کریم ہے۔ یہ وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے جسے نفس نہیں جانتے۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا اور ان (کے ایمان) کی روشنی اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں

(وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖٓ) اور وہ لوگ جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اہل سنت کے نزدیک ایمان جس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں، وہ ہے قلب و لسان کا قول اور قلب و لسان او جوارح کا عمل، تب یہ چیز دین کے تمام ظاہری و باطنی شرائع کو شامل ہے، پس جنہوں نے ان تمام امور کو جمع کرلیا وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ عام مومنوں سے اوپر اور انبیاء سے نیچے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (وَالشُّهَدَاۗءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَنُوْرُهُمْ ) اور شہید ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ان کا اجر ہوگا اور ان کی روشنی۔ کا معنی وہی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے، جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اور یہ چیز ان کے انتہائی بلند مرتبہ ان کی رفعت اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ ) اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔ ان آیات کریمہ نے مخلوق کی تمام اصناف یعنی صدقہ کرنے والوں، صدیقین، شہدا اور اہل جہنم کے تزکرے کو یکجا کردیا ہے۔ پس صدہق کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا بڑا حصہ مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ممکن حد تک ان کو فائدہ پہنچانے خاص طور پر ان کو اللہ کے راستے میں مال کے ذریعے سے فائدہ پہنچانے پر مشتمل ہے۔ صدیق وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان عمل صالح علم نافع اور یقین صادق کے مراتب کو مکمل کرلیا۔ شہید وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلمے کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، اپنے جان و مال کو خرچ کیا اور قتل ہوگئے۔ اہل جہنم وہ کفار ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔ مذکورہ بالا اقسام کے علاوہ ایک قسم باقی رہ گئی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة فاطر میں کیا ہے اور وہ ہیں مقتصدین جنہوں نے واجبات کو ادا کیا، محرمات کو ترک کیا، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ان سے کچھ تقصیر واقع ہوئی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کو ان کے بعض افعال کے سبب سے سزا ملے گی، تاہم مآل کار وہ جنت میں جائیں گے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ اور زینت (و آرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (و ستائش) اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اگتی ہے اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے ! ) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑجاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے

اللہ تعالیٰ دنیا اور ان امور کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن پر دنیا کا دارومدار ہے، نیز دنیا اور دنیا والوں کی غایت و انتہا بیان فرماتا ہے دنیا بس لہو ولعب ہے جس کے ساتھ بدن کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے قلب غافل ہوتے ہیں۔ جو کچھ دنیا میں موجود ہے اور ابنائے دنیا سے جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اس کا مصداق ہے، آپ ابنائے دنیا کو پائیں گے کہ انہوں نے اپنی عمر کے اوقات کو غفلت قلب میں صرف کیا اور وہ ذکر الہی اور آئندہ پیش آنے والے وعد و وعید سے غافل رہے، آپ اہل بیدار اور آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کو ان کے برعکس دیکھیں گے کیونکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی معرفت اور اس کی محبت سے معمور ہیں۔ وہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ایسے اعمال میں صرف کرتے ہیں جن کا فائدہ ان کو پہنچتا ہے اور دوسروں کو بھی پہنچتا ہے۔ اور فرمایا : (وَّزِيْنَةٌ) یعنی لباس، مشروبات، سواریوں، گھروں، محلات اور دنیاوی جاہ وغیرہ کے ذریعے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔ (وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ ) اور آپس میں فخر کرنا ہے۔ یعنی ان چیزوں کو رکھنے کے لیے ہر شخص دوسرے پر فخر کا اظہار کرنا چاہتا اور وہ چاہتا ہے کہ ان امور میں وہی غالب رہے اور ان احوال میں بس اسی کو شہرت حاصل رہے۔ (وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ) یعنی ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ مال اور اولاد میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ دنیا سے محبت کرنے والے اور اس پر مطمئن رہنے والے اس کا مصداق ہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص جو دنیا اور اس کی حقیقت کو جانتا ہے، وہ اسے مستقل ٹھکانا نہیں بناتا بلکہ اسے گزرگاہ خیال کرتا ہے، وہ ایسے اعمال میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور ایسے وسائل اختیار کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اس کے ساتھ دنیا، مال و متاع اور اولاد کی کثرت میں مقابلہ کرتا ہے تو یہ اعمال صالحہ میں اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی کے لیے بارش کی مثال دی ہے، جو زمین پر برستی ہے اور اس کی نباتات کو سیراب کرتی ہے جس سے لوگ اور مویشی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین پوری طرح لہلہانے لگتی ہے اور اس کی نباتات کفار کو بھلی لگتی ہیں جن کی نظر وہمت صرف دنیا ہی پر مرکوز ہوتی ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم آجاتا ہے جو انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ یہ نباتات خشک ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتی ہیں، گویا کہ وہاں کبھی ہریالی اگی تھی نہ وہاں کبھی کوئی خوبصورت منظر ہی دیکھا گیا تھا، یہی حال اس دنیا کا ہے، یہ اپنے چاہنے والے کے لیے نہایت خوش نما اور خوبصورت ہوتی ہے وہ جب بھی اس دنیا سے اپنا مطلوب حاصل کرنا چاہتا ہے حاصل کرلیتا ہے، اور جب بھی وہ کسی دنیاوی معاملے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دروازوں کو کھلا ہوا پاتا ہے۔ جب تقدیر نے اس کو آلیا اور اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جو اس کے ہاتھ میں تھا اور اس پر سے اس کے تسلط کو زائل کردیا، یا اسے خوشنما دنیا سے دور کردیا تو وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ روانہ ہوا اور کفن کے سوا اس کے پاس کوئی زادراہ نہ تھا، پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کی آرزو کی انتہا یہ دنیا ہے اور اسی کے لیے اس کے اعمال اور اس کی بھاگ دوڑ تھی۔ رہا وہ عمل جو آخرت کے لیے کیا جاتا ہے تو یہ وہی عمل ہے جو فائدہ دیتا ہے اور عمل کرنے والے کے لیے ذخیرہ کردیا جاتا ہے اور ہمیشہ بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ بنا بریں فرمایا : (وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ) اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضا مندی ہے۔ یعنی آخرت کا حال ان دو امور سے خالی نہیں۔ اولا تو اس شخص کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب، جہنم کی بیڑیاں اور زنجیریں اور اس کی ہولناکیاں ہوں گی جس کی غایت مقصود اور منتہائے مطلوب محض دنیا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرتا ہے، آیات الہی کو جھٹلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرتا ہے۔ ثانیا : یا اس شخص کے لیے گناہوں کی بخشش، عقوبتوں کا ازالہ اور دار رضوان میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہوگی، یہ سب اس شخص کے لیے ہے جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا اور آخرت کے لیے بھرپور کوشش کی۔ یہ سب کچھ دنیا میں زہد اور آخرت میں رغبت کی دعوت دیتا ہے اس لیے فرمایا : (وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ) اور دنیا کی زندگی تو محض متاع فریب ہے۔ یعنی یہ صرف ایسی متاع ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور اس سے ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں، اس کی وجہ سے فریب میں صرف وہی لوگ مبتلا ہوتے اور اس پر مطمئن رہتے ہیں جو ضعیف العقل ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مغفرت رضا اور جنت کی طرف مسابقت کا حکم دیا ہے اور یہ چیز مغفرت کے اسباب کے لیے کوشش کرنے، یعنی خالص توبہ اور نفع مند استغفار کرنے، گناہ اور گناہ کے اسباب سے دور رہنے ہی سے ممکن ہے، نیز عمل صالح کے ذریعے سے اللہ کی رضا کی طرف سبقت اور ان امور پر دوام کی حرص کرنے سے ممکن ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے، یعنی خالق کی عبادت میں احسان اور مخلوق کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعے ہی سے یہ چیز حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کا ذکر جو اس کے موجب ہیں۔ چناچہ فرمایا :
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(بندو ! ) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے (اور) جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ) اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے، جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں دین کے تمام اصول و فروع داخل ہیں۔ (ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ) یعنی ہم نے تمہارے سامنے جو کچھ بیان کیا ہے اور جنت تک پہنچانے والے طریقوں اور جہنم میں گرانے والے جن راستوں کی نشاندہی کی ہے، وہ سب اللہ کا فضل ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا اجر عظیم اور ثواب جمیل، اس کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان اور فضل و کرم ہے۔ (وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ) اور اللہ بڑے فضل والا ہے، جس کی ثنا کوئی شمار نہیں کرسکتا بلکہ وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے خود اپنی ثنا بیان کی، اس کے بندوں میں سے جو کوئی اس کی ثنا بیان کرتا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے

اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ) یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں ہر چھوٹی بڑٰ تقدیر لوح محفوظ کو درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے عقل جس کا احاطہ نہیں کرسکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہ کے بکے رہ جاتے ہیں مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہے اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو اور خدا کسی اترانے والے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

(لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہوجائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا پر اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتے کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں گے کیونکہ انہیں علم ہے کہ انہیں جو کچھ حاصل ہوا ہے انہیں اپنی قوت اور طاقت سے حاصل نہیں ہوا، بلکہ یہ سب کچھ تو انہیں اللہ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے۔ لہذا ان کو چاہیے کہ وہ اس ہستی کے شکر میں مشغول رہیں جس نے نعمتیں عطا کیں اور زحمتوں کو دور کیا۔ بنا بریں فرمایا : (وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِ ) یعنی اللہ تعالیٰ درشت خو، خود پسند اور متکبر کو پسند نہیں کرتا جو فخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خود اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نعمتیں سرکشی اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (ثم اذا خولنہ نعمۃ منا قال انما اوتیتہ علی علم بلھی فتنۃ) (الزمر : 39) پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم و دانش کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے۔ (ایسی بات نہیں) بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ (اور) سزاوار حمد (و ثنا) ہے

(الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ) جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں، یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کرلیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شے کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انہوں نے بخل ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انہیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ (وَمَنْ يَّتَوَلَّ ) ور جو کوئی اللہ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ ) بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سزوار حمد و ثنا ہے، جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے، اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ (الْحَمِيْدُ ) وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل، اور ہر فعل خوبصورت ہے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کیلئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرلے بیشک خدا قوی (اور) غالب ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ ) یقینا ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اس سے مراد وہ دلائل شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیائے کرام لے کر آئے ہیں۔ (وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ ) اور ہم نے ان پر کتاب اتاری (الکتب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ (وَالْمِيْزَانَ ) اور میزان۔ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے، وہ دین جو تمام رسول لے کر آئے وہ اوامرو نواہی اور مخلوق کے تمام معاملات، تمام جرائم، حدود، قصاص اور وراثت کے معاملات وغیرہ میں، سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے، اور یہ اس لیے (لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ) تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کر کے اور اپنے مصالح کے حصول کی خاطر جن کو شمار کرنا ممکن نہیں، عدل و انصاف پر قائم رہیں، یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انبیاء ورسل شریعت کے قاعدے پر متفق ہیں اور وہ ہے عدل کو قائم کرنا اگرچہ زمان و احوال کے مطابق عدل کی صورتیں مختلف ہیں۔ (وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ) اور ہم نے لوہا پیدا کیا، اس میں سخت ہیبت و قوت ہے، یعنی آلات حرب، مثلا ہر قسم کا اسلحہ اور ذرہ بکتر وغیر۔ (وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ) اور لوگوں کے لیے منافع ہیں۔ یہ وہ منافع ہیں جن کا مشاہدہ مختلف انواع کی صنعت و حرفت، مختلف اقسام کے برتنوں اور زرعی آلات میں کیا جاکستا ہے، یہاں تک کہ کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہوگی جو لوہے کی محتاج نہ ہو۔ (وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بِالْغَيْبِ ) تاکہ اللہ اسے جان لے جو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہا اس لیے نازل فرمایا کہ وہ اس کے ذریعے سے آزمائش کا بازار گرم کرے تاکہ واضح ہوجائے کہ کون اس حالت غیب میں اللہ اور اس کے رسول رسولوں کی مدد کرتے ہیں جس میں وہ ایمان فائدہ دیتا ہے جو مشاہدہ سے قبل ہو، مشاہدہ کے اندر ایمان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تب تو ایمان ضروری اور اضطراری ہوگا۔ (اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) بیشک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے، یعنی اسے کوئی عاجز کرسکتا ہے نہ کوئی بھاگنے والا اس سے بھاگ کر کہیں جاکستا ہے، یہ اس کی قوت اور غلبے کا نشان ہے کہ اس نے لوہا نازل کیا جس سے بڑے بڑے طاقتور آلات بنتے ہیں، یہ اس کی طاقت اور غلبہ ہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہے مگر وہ اپنے دشمنوں کے ذریعے سے اپنے اولیا کو آزماتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون بند یکھے اس کی مدد کرتا ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کو اکٹھا بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعے سے اپنے دین کو نصرت عطا کرتا ہے اور وہ اپنے کلمے کو کتاب کے ذریعے سے جس میں حجت وبرہان ہے اور سیف ناصر کے ذریعے سے اللہ کے حکم کے ساتھ بلند کرتا ہے، دونوں عدل و انصاف قائم کرتی ہیں جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ کی حکمت اس کے کمال اور اس کی شریعت کے کمال پر استدلال کیا جاتا ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں یعنی حضرت نوح، اور ابراہیم کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چناچہ فرمایا :
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر) بنا کر بھیجا اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں

(وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ ) بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی، یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم کی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انہی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں۔ (فَمِنْهُمْ ) یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوچ کیے، بعض لوگ (مھتد) ان انبیا کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہنمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ (وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ) اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اما اکثر الناس ولو حرصت بمومنین) (یوسف :103) اور اکثر لوگ خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور لذات سے کنارہ کشی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیے تھا نباہ بھی نہ سکے پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے انکا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

(ثُمَّ قَفَّيْنَا) پھر ہم نے بھیجے (عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ) ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور اہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاری کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعوی کرتے ہیں۔ (وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ ) اور ہم نے ان کو انجیل دی۔ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے۔ (وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ) اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا الخ) (المائدہ :82) آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰ کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا) اور رہبانیت کو انہوں نے ازخود ایجاد کرلیا۔ رہبانیت سے مراد عبادت ہے، پس انہوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کرلی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انہوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا، مگر بایں ہمہ (فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَــتِهَا) یعنی وہ اس پر قائم رہ سکے نہ اس کے حقوق ہی ادا کرسکے، پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔ اول : اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ ثانی : اس اعتبار سے کہ انہوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے، یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ ) یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیٰ پر بھی ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے۔ (وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ) اور ان میں سے زیادہ تر لوگ نافرمان ہیں۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ یہ خطاب ان اہل کتاب سے ہو جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے تقاضے پر عمل کریں، اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اس کی نافرمانی کو چھوڑ دیں اور اس کے رسول محمد پر ایمان لائیں، اگر وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں عطا کرے گا : (كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ ) اپنی رحمت سے دوگنا اجر۔ یعنی ان کے اجر کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ ان کے سابق رسولوں پر ایمان لانے کے بدلے میں اور دوسرا حصہ محمد پر ایمان لانے کے بدلے میں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب داخل ہیں اور یہی ظاہر ہے نیز اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان اور تقوی کا حکم دیا ہے جس میں دین کا تمام ظاہر و باطن اور اصول و فروع داخل ہے اور اگر وہ اس عظیم حکم کی تعمیل کریں گے۔ (کفلین مِنْ رَّحْمَتِهٖ ) تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انہیں دوگنا اجر عطا کرے گا جس کی مقدار اور وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے مراد یا تو ایمان لانے پر اجر اور تقوی اختیار کرنے پر اجر ہے یا اوامر کی تعمیل پر اجر اور نواہی سے اجتناب کرنے پر اجر ہے یا تثنیہ سے مراد یکے بعد دیگرے عطائے ثواب میں تکرار ہے۔ (وَيَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ ) یعنی وہ تمہیں علم ہدایت اور روشنی عطا کرے گا جس کی مدد سے تم جہالت کی تاریکیوں میں چل پھر سکو گے اور وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ (وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اس ثواب کی یہ کثرت، فضل عظیم کے مالک کے فضل کے سامنے مستبعد نہیں جس کا فضل و کرم تمام آسمانوں اور زمین والوں پر سایہ کناں ہے، لمحہ بھر یا اس سے بھی کم وقت کے لیے مخلوق سے اس کا فضل و کرم جدا نہیں ہوتا۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(لِّئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا يَــقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ ) یعنی ہم نے تمہارے سامنے بیان کردیا ہے کہ اس شخص کو ہم اپنے فضل و احسان سے نوازتے ہیں جو عمومی ایمان سے بہرور ہوتا ہے تقوی اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی ہے تاکہ اہل کتاب کو یہ علم ہوجائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی وہ اپنی خواہشات نفس اور عقول فاسدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اس کے فضل سے روک نہیں سکتے، وہ کہتے ہیں۔ (لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصرای) (بقرہ :111) جنت میں داخل نہیں ہوگا سوائے یہودی اور نصرانی کے، اور وہ اللہ کے بارے میں فاسد آرزوئیں رکھتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰ پر ایمان لانے والوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے تقوی اختیار کرنے والوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے علی الرغم ان کے لیے دوگنی رحمت نور اور مغفرت ہے تاکہ انہیں معلوم ہوجائے۔ (وَاَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ) کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے، جس کے بارے میں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ اسے اپنا فضل عطا کرے۔ (وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ) وہ فضل عظیم کا مالک ہے جس کی مقدار کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔