57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے

اللہ کی پاکی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں اور زمین میں مخلوقات ہیں اور وہ کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اس نے اس بات کا حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے (وہی) زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

آسمانوں کے خزانے یعنی بارش اور زمین کے خزانے یعنی نباتات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہی دوبارہ زندہ کرے گا اور وہی دنیا میں موت دیتا ہے اور وہی حیات اور موت دینے پر قادر ہے اور وہی ہر چیز سے پہلے ہے اور وہی ہر چیز کے فنا کے بعد ہے اور وہی ہر ایک چیز پر ظاہر ہے اور وہی ہر ایک چیز کے ساتھ پوشیدہ ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے یعنی جتنی چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں وہ سب کے پیدا کرنے سے پہلے سے ہے اور زندہ چیز کو موت دینے کے بعد بھی باقی اور ہمیشہ ہے۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) پچھلا اور (اپنی قدرتوں سے سب پر) ظاہر اور (اپنی ذات سے) پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے

اور ہر ایک چیز پر غالب ہے اور ہر ایک ظاہر و باطن سے واقف اور باخبر ہے اور اس کے اس علم میں سے کسی کے مطلع کرنے کی حاجت نہیں یا مطلب ہے کہ وہ ہر ایک چیز سے پہلے ہے اور اس اولیت کی کوئی انتہا نہیں اور ہر ایک چیز کے بعد بھی ہے اور اس کے بعد رہنے کی کوئی انتہا نہیں یا یہ کہ وہ اول ہے کہ ہر ایک پہلی چیز کو اولیت عطا کرنے والا ہے اور آخر ہے یعنی ہر ایک بعد والی چیز کو اخرویت عطا کرنے والا ہے اور وہ سب سے اول ہے اس سے پہلے کوئی نہیں اور وہ آخر ہے کہ سب کے فنا کرنے کے بعد وہی رہے گا۔ اور وہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس کی ذات موت و فنا زوال سے پاک ہے اور کوئی چیز خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ اول ہو یا آخر وہ سب سے واقف ہے۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

اور وہ ایسا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو دنیا کے ابتدائی دنوں میں چھ روز کی مدت کے زمانہ میں پیدا کیا کہ ہر ایک دن ایک ہزار سال کے برابر تھا جن میں سے پہلا دن اتوار اور آخری جمعہ تھا۔ اور پھر تخت شاہی پر قائم ہوا اور وہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پہلے ہی تخت شاہی پر قائم تھا اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز بارش خزانوں اور مردوں میں سے زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو چیز اس میں سے نکلتی ہے مثلا نباتات مردے پانی اور خزانے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے جیسا کہ پانی رزق فرشتے اور مصیبتیں اور جو چیز آسمان پر چڑھتی ہے مثلا ملائکہ کراما کاتبین اور وہ تم سے بخوبی واقف ہے خواہ تم خشکی میں ہو یا تری میں اور تمہاری نیکیوں اور برائیوں کو بھی دیکھتا ہے۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور سب امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

اسی کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کے خزانے ہیں اور آخرت میں تمام کاموں کا انجام اسی کے سامنے لوٹ جائے گا۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

(وہی) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

اور وہی رات کے اجزا کو دن میں داخل کرتا اور بڑھاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر کے اسے بڑھاتا ہے اور وہ دلوں کی باتوں تک کو بھی جو کچھ ان میں نیکی یا برائی ہے جانتا ہے۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

(تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں خرچ کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے

لہذا اے مکہ والو تم اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم پر ایمان لاؤ اور جس مال کا اس نے تمہیں مالک بنا رکھا ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو سو مکہ والو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور پھر اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کریں تو ان کو ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ سے جنت میں بڑا ثواب ملے گا۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے

اے اہل مکہ تمہارے لیے کیا وجہ ہوئی کہ تم توحید کا اقرار نہیں کرتے حالانکہ رسول اکرم تمہیں توحید کی طرف بلا رہے ہیں تاکہ تم اپنے پروردگار کی توحید کے قائل ہوجاؤ خود اللہ نے تم سے توحید کا عہد لیا تھا جبکہ تم میثاق کے دن اس پر ایمان رکھتے تھے۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اور بیشک خدا تم پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

اور وہ ایسا ہے کہ رسول اکرم پر بذریعہ جبریل امین ایسی آیات بھیجتا ہے جو حلال و حرام اوامرو نواہی کو صاف صاف بیان کرنے والی ہیں تاکہ تمہیں قرآن اور دعوت رسول اکرم کے ذریعے سے کفر سے ایمان کی طرف لائے۔ اے گروہ مومنین اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے کہ اس نے تمہیں کفر سے نکال کر ایمان کی دولت عطا کی۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت خدا ہی کی ہے جس شخص نے تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی وہ (اور جس نے یہ کام پیچھے کئے وہ) برابر نہیں ان لوگوں کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے بعد میں خرچ (اموال) اور (کفار سے) جہاد و قتال کیا اور خدا نے سب سے (ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے واقف ہے

اور اے گروہ مومنین تمہارے لیے اس کی کیا وجہ ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمان والوں اور زمین والوں سب ہی کی میراث اسی کے لیے ہے کہ سب مرجائیں گے اور اس کی ذات باقی رہے گی اور تمام امور اسی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اے گروہ مومنین جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور رسول اکرم کے ساتھ دشمن کے مقابلہ میں لڑ چکے ہیں اور جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور لڑے دونوں فضیلت اور ثواب و مرتبہ میں برابر نہیں بلکہ فتح مکہ سے پہلے خرچ کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ فضیلت اور ثواب میں ان لوگوں سے بڑے ہیں۔ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور لڑے۔ اس آیت سے امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں باقی یوں تو ان دونوں جماعتوں سے اللہ تعالیٰ نے ایمان کے صلہ میں جنت کا وعدہ کر رکھا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی پوری خبر ہے۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے ؟ تو وہ اس کو اس سے دگنا ادا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی) جنت ہے

کوئی شخص ہے جو اللہ کی راہ میں خلوص اور ثواب کی امید رکھتا ہو اللہ تعالیٰ کو دے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو قبول کر کے اس کے ثواب کو سات سے لیکر ستر تک اور سات سو اور دو لاکھ تک جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہے بڑھاتا ہے اور اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں جنت میں پسندیدہ اجر ہے یہ آیت حضرت ابو الدحداح کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کے (ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو بشارت ہو (کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے یہی بڑی کامیابی ہے

محمد قیامت کے دن جبکہ آپ سچے ایمان دار مردوں اور سچی ایمان دار عورتوں کو دیکھیں گے کہ پل صراط پر ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں اور بائیں روشن ہوگا تو ان سے فرشتے پل صراط پر کہیں گے آج تمہارے لیے خوشخبری ہے ایسے باغوں کی جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو موت آئے گی اور حقیقت میں یہ بڑی کامیابی ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کیں اور دوزخ اور اس کی مصیبتوں سے محفوظ رہے۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف نظر (شفقت) کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور (وہاں) نور تلاش کرو پھر ان کے بیچ میں ایک ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اسکی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (و اذیت)

اور قیامت کے دن جبکہ آپ منافق عورتوں کو دیکھیں گے جبکہ ان کا نور پل صراط پر بجھ جائے گا تو وہ پل صراط پر مخلص ایمان داروں سے کہیں گے کہ اے گروہ مومنین ذرا ٹھہرو اور ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں اور تمہارے ساتھ پل صراط پر سے گزر جائیں۔ تو ان سے مومنین یا یہ کہ فرشتے یا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم اپنے پیچھے دنیا کی طرف لوٹ جاؤ یا یہ کہ اس مقام کی طرف لوٹ جاؤ جہاں ہم نے پل صراط پر چڑھنے کے لیے نور تقسیم کیا تھا اور پھر وہاں سے روشنی تلاش کرو یہ بطور مذاق اڑانے کے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کی طرف سے ان سے کہا جائے گا۔ چناچہ وہ روشنی کی تلاش میں ادھر ادھر جائیں گے پھر ان کے اور مسلمانوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ بھی ہوگا جس کی اندرونی جانب جنت اور بیرونی جانب جہنم ہوگی۔
Ayahs 57:14–15

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

(تو منافق لوگ مومنوں سے) کہیں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزؤں نے تم کو دھوکا دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آپہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغا باز دغا دیتا رہا

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ (وہ) کافروں ہی سے (قبول کیا جائے گا) تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے (کہ) وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے

پھر یہ منافقین دیوار کے باہر سے پکاریں گے کہ اے گروہ مومنین کیا ہم دنیا میں تمہارے دین پر نہیں تھے مسلمان کہیں گے ہاں تھے تو سہی مگر تم نے کفر اور نفاق کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رکھا تھا۔ اور کفر و نفاق سے توبہ کرنے کو چھوڑ رکھا تھا یا یہ کہ تم رسول اکرم کی موت اور اظہار کفر کے منتظر تھے۔ اور اللہ تعالیٰ اور کتاب اللہ اور رسول اللہ کے بارے میں شک رکھتے تھے اور تمہیں تمہاری جھوٹی تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ تم پر اللہ کا حکم آپہنچا کہ کفر و نفاق کی حالت میں تمہیں موت نے آدبوچا۔ اور تمہیں دھوکا دینے والے شیطان نے اطاعت خداوندی سے دھوکا میں ڈال رکھا تھا یا یہ کہ دنیاوی جھوٹی تمناؤں نے۔ غرض آج قیامت کے دن اے گروہ منافقین نہ تم سے کچھ فدیہ لیا جائے گا اور نہ کافروں سے اور تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تمہاری ہمیشہ کے لیے رفیق ہے اور وہ دوزخ جس کی طرف یہ جائیں گے واقعی برا ٹھکانا ہے کہ وہاں ان کے ساتھی شیاطین اور پڑوسی کفار اور کھانا درخت زقوم اور پینا کھولتا ہوا پانی اور لباس آگ کے ٹکڑے ہوں گے اور ان کے ملاقاتی سانپ بچھو ہیں۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتابیں دی گئی تھیں پھر ان پر زمان طویل گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں

اب اللہ تعالیٰ دنیا میں جو ان کی قلبی حالت تھی اس کا ذکر فرماتا ہے کہ کیا ظاہرا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے وعدے اور وعید یا یہ یہ کہ توحید خداوندی کے سامنے اور جو اوامرو نواہی حلال و حرام قرآن کریم میں نازل ہوئے ہیں، اس کے سامنے جھک جائیں اور نرم ہوجائیں اور خلوص ان میں پیدا ہوجائے اور توریت والوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو رسول اکرم کی بعثت سے نزول قرآن سے پہلے علم توریت دیا گیا تھا اور پھر ان پر ایک زمانہ گزر گیا جس کی وجہ سے ایمان نہ لانے سے ان کے دل بہت ہی سخت اور گمراہ ہوگئے اسی بنا پر ان توریت والوں میں سے جو کہ دین موسوی کی مخالفت کرنے والے ہیں اکثر علم خداوندی میں کافر ہیں۔ شان نزول : اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا (الخ) ابن ابی شیبہ نے عبدالعزیز بن ابی روداد سے روایت کیا ہے کہ اصحاب رسول اکرم میں ہنسی و مذاق ظاہر ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان سے روایت کیا ہے کہ اصحاب نبی اکرم نے کچھ مذاق کیا اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ کیا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا۔ نیز سدی عن قاسم نے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ایک مرتبہ پریشان ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہم سے کچھ بیان کیجیے اس پر یہ آیت نازل نحن نقص علیک احسن القصس۔ پھر دوسری مرتبہ پیرشان ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن مبارک نے کتاب الزہد میں بواسطہ سفیان اعمش سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام جب مدینہ منورہ آئے تو ان پر سختیوں اور پریشانیوں کے بعد خوش حالی کا زمانہ آیا تو گویا ایسا محسوس ہوا کہ ان کی پچھلی حالت میں کچھ فرق سا آنے لگا اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو

یہ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے خشک اور بنجر ہوجانے کے بعد پانی برسا کر زندہ کردیتا ہے اسی طرح وہ مردوں کو بھی زندہ کرے گا ہم نے مردوں کے زندہ کرنے پر تم سے دلائل بیان کردیے ہیں تاکہ تم مرنے کے بعد جی اٹھنے کی تصدیق کرو۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی اور خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دیتے ہیں انکو دو چند ادا کیا جائے گا اور ان کے لئے عزت کا صلہ ہے

بلاشبہ سچے ایمان دار مرد اور سچی ایمان دار عورتیں یا یہ کہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں یہ اللہ تعالیٰ کو خلوص اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے قرض دے رہے ہیں وہ صدقہ اللہ تعالیٰ ان سے قبول فرمائے گا اور ان کی نیکیوں کو سات سے لے کر ستر تک اور سات سو تک غرض کہ جہاں تک اللہ کو منظور ہوگا بڑھا دیا جائے گا اور پھر اس کے ساتھ ان کے لیے جنت میں پسندیدہ اجر ہے۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا اور ان (کے ایمان) کی روشنی اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں

اور تمام امتوں میں سے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں وہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں اور شہید ہیں ان کے لیے ان کا اجر خاص اور پل صراط پر نور ہوگا اور کہا گیا ہے کہ والشھداء یہ مستقل کلام ہے پہلی آیت سے اس کا تعلق نہیں مطلب یہ کہ جو لوگ اپنی قوم کے خلاف انبیاء کرام کی موافقت میں گواہی دیں گے یا یہ کہ اس سے انبیاء کرام مراد ہیں جو اپنی قوم کی تبلیغ رسالت کے بارے میں گواہی دیں گے یا یہ کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو کہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ان کو انبیاء کرام کی طرح ثواب ملے گا اور پل صراط پر چلنے کے لیے نور عطا کیا جائے گا اور جو لوگ کافر ہوئے اور کتاب و رسول کو انہوں نے جھٹلایا یہی جہنمی ہیں۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ اور زینت (و آرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (و ستائش) اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اگتی ہے اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے !) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑجاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے

خوب سمجھ لو کہ جو کچھ دنیوی زندگی میں ہے وہ محض لہو و لعب ہے نمائش وزینت اور حسب و نسب میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال و اولاد میں خود کو ایک دوسرے سے زیادہ بتانا مگر یہ سب چیزیں فانی اور خواب خیال ہیں جیسا کہ بارش برستی ہے کہ اس کی پیداوار کاشت کروں کا اچھی معلوم ہوتی ہے۔ چند روز میں رنگت تبدیل ہو کر سوکھ کر چورا ہوجاتی ہے، یہی دنیا کا حال ہے کہ وہ بھی گھاس کی طرح باقی نہیں رہے گی۔ باقی جو اطاعت خداوندی کو چھوڑے اور حقوق اللہ سے منع کرے اس کے لیے آخرت میں شدید عذاب ہے اور جو اطاعت خداوندی کی تکمیل کرے اور اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے اس کے لیے تو پھر مغفرت اور رضا مندی ہے باقی جو کچھ دنیوی بقا اور فنا ہے وہ محض ایک دھوکا کا سامان ہے جیسا کہ گھر کا ہانڈی پیالہ۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(بندو !) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے (اور) جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

اب سب کو اللہ تعالیٰ خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے تم اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور نیز اعمال صالحہ کر کے ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان و زمین کو اگر ملا دیا جائے تو اس کی وسعت کے برابر ہے اور وہ تمام امتوں میں سے اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور یہ مغفرت و خوشنودی اور جنت اللہ کا فضل ہے وہ جو اس کا اہل ہوتا ہے اس کو عنایت کرتے ہیں اور اللہ بڑے فضل والے ہیں کہ صلہ میں جنت عطا کرتے ہیں۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے

کوئی مصیبت قحط خشکی بھوک گرانی وغیرہ جو دنیا میں آتی ہے اور نہ مرض و تکالیف اور اہل و عیال کے مرنے اور مال کے ختم ہونے جیسی مصیبیں خاص تمہاری جانوں میں آتی ہیں مگر ان سب چیزوں کا ہونا لوح محفوظ میں لکھا ہے قبل اس کے کہ ہم ان جانوں اور اس زمین کو پیدا کریں اور بغیر کسی کتاب کے ان تمام باتوں کی نگہداشت اللہ تعالیٰ کے نزدیک آسان کام ہے۔
Ayahs 57:23–24

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہے اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو اور خدا کسی اترانے والے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ (اور) سزاوار حمد (و ثنا) ہے

(23۔ 24) مگر پھر بھی اس نے لوح محفوظ میں ان تمام چیزوں کو درج کردیا ہے تاکہ رزق و عافیت میں سے جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر اتنا غم نہ کرو اور کہو کہ ہمارے بارے میں یہ چیز نہیں لکھی ہے اور تاکہ جو چیز تمہیں عطا کی ہے اس پر اتراؤ نہیں کہ کہنے لگو کہ اس نے ہمیں دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے اور نعمت خداوندی پر شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں کرتا یا یہ کہ کفر میں اترانے والے اور شرک میں شیخی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اور یہ یہودی لوگ ہیں کہ رسول اکرم کی نعت و صفت جو توریت میں موجود ہے اسے چھپاتے ہیں اور یہ حرکت کر کے دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے ہیں۔ باقی جو ایمان سے منہ موڑ لے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایمان سے بےنیاز ہے اور موحدین کے لیے سزاوار حمد ہے یا یہ کہ اپنے افعال میں سزا وار حمد ہیں کہ قلیل چیز کو قبول فرما کر اجر جزیل عطا فرماتے ہیں۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کیلئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرلے بیشک خدا قوی (اور) غالب ہے

ہم نے اپنے پیغمبروں کو اوامرو نواہی اور معجزات دے کر بھیجا ہے اور ہم نے ان پر بذریعہ جبریل امین کتاب نازل کی ہے اور اس کتاب میں عدل و انصاف کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہا پیدا کیا جس میں سخت قوت ہے کہ آگ کے علاوہ اور کوئی چیز اس کو نرم نہیں کرسکتی یا یہ کہ جس میں لڑائی و قتال کے لیے شدید ہیبت ہے۔ اور لوگوں کے سازو سامان کے اور بھی فائدے ہیں جیسا کہ چاقو کلہاڑی وغیرہ تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ ان ہتھیاروں سے بغیر دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی مدد کرنے میں قوت والا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں زبردست ہے۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر) بنا کر بھیجا اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں

اور ہم نے آدم کے آٹھ سو سال بعد نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کو ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرتے رہے مگر ان کی قوم پھر بھی ایمان نہیں لائی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو طوفان کے ذریعے ہلاک کردیا۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور لذات سے کنارہ کشی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیے تھا نباہ بھی نہ سکے پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے انکا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

اور نوح کے ایک ہزار دو سوبیالیس سال بعد ابراہیم کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی کہ ان میں انبیاء ہوتے رہے اور کتاب نازل ہوتی رہی، نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں میں کچھ تو کتاب اور رسول پر ایمان لے آئے اور بہت سے کافر تھے۔ اور پھر حضرت نوح اور ابراہیم کے بعد ان کی اولاد میں اور رسولوں کو یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور پھر ان تمام رسولوں کے بعد رسول اکرم سے پہلے عیسیٰ کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی اور جن لوگوں نے عیسیٰ کی پیروی کی تھی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت و رحم پیدا کردیا کہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے رہتے ہیں۔ اور انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کرلیا تھا انہوں نے اس کے لیے دبور کے صوصے تیار کرلیے تھے تاکہ اس میں راہب بن کر بیٹھ جائیں اور بولس یہودی کے فتنے سے بچے رہیں اور ہم نے اس رہبانیت کو ان پر واجب نہ کیا تھا مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے اس کو اختیار کرلیا تھا یا یہ کہ انہوں نے ان گرجاؤں کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے بنا لیا تھا باقی ان کا بنانا ہم نے ان پر ضروری قرار نہیں دیا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے حق رہبانیت کی پوری حفاظت نہ کی سو ان میں جو لوگ ایمان لائے ہم نے ان کو ایمان و عبادت کے صلہ میں دگنا ثواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین عیسوی کی مخالفت نہیں کی اور ان میں سے اہل یمن میں چوبیس آدمی باقی رہ گئے تھے جو کہ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ پر ایمان لائے اور آپ کے دین میں داخل ہوئے اور ان راہبوں میں زیادہ تر کافر تھے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دین عیسوی کی مخالفت کی۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ایمان باللہ والرسول میں ثابت قدم رہو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے ثواب اور رحمت سے دو حصے دے گا اور تمہیں ایسا نور عنایت کرے گا کہ تم اس کو لیے ہوئے لوگوں کے درمیان اور پل صراط پر چلتے پھرتے ہو گے اور تمہارے زمانہ جاہلیت کے گناہوں کو معاف کردے گا۔ اور اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور توبہ کی حالت میں مرنے والے پر رحم کرنے والا ہے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ (الخ) امام طبرانی نے اوسط میں سند غیر معروف کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اصحاب نجاشی میں سے چالیس آدمی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ ایک آدمی شہید ہوگیا اور ان میں سے کچھ کو زخم بھی آئے مگر ان لوگوں میں سے کوئی شہید نہیں ہوا غرض کہ جب انہوں نے آکر مسلمانوں کی تنگی کو دیکھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم مالدار آدمی ہیں ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم اپنے اموال لے آئیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کریں اس پر ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں کہ الذین اتیناھم الکتاب من قبلہ ھم بہ یومنون (الخ)۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو اس پر ان لوگوں نے کہا کہ اے گروہ مومنین جو تمہاری کتاب پر ایمان لے آیا اس کے لیے دو اجر ہیں اور جو تمہاری کتاب پر ایمان نہیں لایا اس کے لیے تمہارے اجر کی طرح ایک ہی اجر ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ (الخ) اور ابن ابی حاتم نے مقاتل سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت اولئک یوتون اجرھم مرتین نازل ہوئی تو مومنین اہل کتاب نے صحابہ کرام پر ہجوم کیا اور کہنے لگے ہمارے لیے دو اجر ہیں اور تمہارے لیے ایک اجر ہے یہ چیز صحابہ کرام کو گراں گزری اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے لیے بھی مومنین اہل کتاب کی طرح دو اجر کردیے۔ اور ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جس وقت یوتکم کفلین من رحمتہ (الخ) یہ آیت نازل ہوئی تو مومنین اہل کتاب کو اس آیت پر رشک ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لئلا یعلم اھل الکتاب۔ (الخ) اور ابن منذر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا تھا قریب ہے ہم میں سے نبی نکلے اور پھر ہاتھ اور پیروں کو کاٹ دے جب عرب سے نبی مبعوث ہوا تو انہوں نے کفر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی تاکہ اہل کتاب کو فضل نبوت کا علم ہوجائے۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

تاکہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کو ثواب خداوندی کے کسی خبر پر بھی دستر نہیں، فضل وثواب اللہ کے ہاتھ میں ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے وہ اسے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ مومنین پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا سے یہاں تک یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضرت ابی بن کعب اور ان کے ساتھیوں پر فخر کیا کہ ہمارے لیے دہرا ثواب ہے اور تمہارے لیے اکہرا۔