Ayahs 57:1–2(سبح للہ ما۔۔۔۔۔۔۔ )
سبح للہ مافی السموات والارض اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور ہر عیب سے اس کی پاکی بیان کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آسمان میں جو کچھ ہے یعنی فرشتے اور زمین میں جو کچھ ہے جس میں روح ہو یا نہ ہو اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کا اظہار کیا گیا اور نماز پڑھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تسبیح دلالت ہے۔ زجا ج نے اس کا انکار کیا اور کہا : اگر مراد تسبیح دلالت اور صنعت کے آثار کا ظہو تھا تو یہ ایسی چیز تھی جس کو عقل میں سمجھنا تھا تو یہ کیوں فرمایا :” ولکن لا تفقھون تسبیھم “ ( الاسرار : 44) یہ تسبیح قول ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا گیا ہے : و سخر نا مع دائود الجبال یسحن ( الانبیائ : 49) اگر یہ تسبیح دلالت تھی تو حضرت دائود (علیہ السلام) کے لیے کیا تخصیص ہوگی ؟
میں کہتا ہوں : انہوں نے جو ذکر کیا ہے وہ صحیح ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو سبحان میں اللہ تعالیٰ کے فرمان وان من شیء الا یسبح بحمدہ (الاسرا : 44) کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ وھو العزیز الحکیم۔
لہ ٗ ملک السموات والارض آسمانوں اور زمین کی بادشاہت صرف اس کے لیے ہے۔ ملک سے مراد ملکیت اور امرکا نافذ ہونا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ملک، قادر اور غالب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد بارش، نبات اور تمام رزق کے خزانے ہیں۔
1 ؎۔ جامع ترمذی، فضائل القرآن، جلد 2، صفحہ 116
یحیی و یمیت وہ دنیا میں زندوں کو مارتا ہے اور مردوں کو دوبارہ اٹھانے کے لیے زندہ کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ نطفہ کو زندہ کرتا ہے جب کہ وہ مردہ ہوتا ہے اور زندہ کو موت عطاء کرتا ہے۔ یحییٰ ویمیت محل رفع میں ہے تقدیر کلام یہ ہے ھو یحییٰ و یمیت۔ یہ بھی جائز ہے کہ یحی ویمیت محل رفع میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ھو یحییٰ ویمیت۔ یہ بھی جائز ہے کہ محیا و ممیتا کے معنی میں حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یہ لہٗ کی ضمیر سے حال ہے اور جار اس میں عامل ہے۔ وھو علی کل شی قدیر۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔
Ayah 57:3ھو الاول والآخر و الظاھر و الباطن اسماء کے معنی میں اختلاف ہے ہم نے انہیں الکتاب الاسنی میں بیان کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی ایسی وضاحت فرمائی ہے جو ہر قول سے غنی کردیتی ہے (1) صحیح مسلم میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث مروی ہے :” اے اللہ ! تو اول ہے تجھ سے کوئی چیز نہیں، تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ظاہر (غالب) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے تجھ سے دور کوئی چیز نہیں ہمارے قرضوں کو ادا کرنے کے اسباب پیدا فرما اور ہمیں فقرے غنی کر دے “ یہاں ظاہر سے مراد غالب ہے اور باطن سے مراد عالم ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
وھوبکل شی علیم۔ یعنی جو کچھ ہونے والا ہے اور جو کچھ بعد میں ہوگا ان میں سے کوئی چیز اس پر مخفی نہیں۔
Ayah 57:4(ھو الذی خلق۔۔۔۔ )
1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا والتوبۃ، مایقول عند النوم، جلد 2، صفحہ 348
ھو الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی لعرش اس کی وضاحت سورة الاعراف میں مفصل گزر چکی ہے۔
یعلم ما یلج فی الارض یعنی بارش وغیرہ (1) جو زمین میں داخل ہوتی ہے وما یخرج منھامراد نباتات وغیرہ ہے (2) وما ینزل من السماء یعنی رزق، بارش اور فرشتے۔ وما یعرج فیھا جو آسمانوں کی طرف بلندہوتے ہیں جیسے فرشتے اور بندوں کے اعمال۔ وھو معکم یعنی اپنی قدرت، سلطان اور علم کے ذریعے تمہارے ساتھ ہے۔ این ماکنتم واللہ بما تعملون بصیر۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال دیکھتا ہے اور اس پر کوئی چیز مخفی نہیں (3) اس آیت میں استوی علی العرش اور وھو معکم کو جمع کردیا گیا ہے دونوں کے ظاہر کرلیا جائے تو تنافض واقع ہوتا ہے اس لیے تاویل ضروری ہے، تاویل سے اعراض تناقض کو تسلیم کرنا ہے۔ امام ابو المعالی نے کہا : حضرت محمد ؟ لیلۃ المعراج کو حضرت یونس (علیہ السلام) کی بنسبت اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب نہ تھے جب کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 57:5–7لہ ملک السموات والارض یہ تکرار تاکید کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی حقیقت میں مبعود ہے۔ والی اللہ ترجع الامور۔ امور سے مراد آخرت میں مخلوقات کے امور ہیں۔ حضرت حسن بصری، اعرج، یعقوب، ابن عامر، ابو حیوہٗ ابن محیصن، حمید، اعمش، حمزہ، کسائی اور خلف نے ترجع پڑھا ہے (4) باقی قراء نے ترجع پڑھا ہے۔
یولج الیل فی النھار ویلجھ النھار فیل اللیل سورة آل عمران میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ھو علیم بذات الصدور۔ اس پر ضمائر مخفی نہیں، جس کی یہ صفت ہو تو جائز نہیں کہ اس کے غیر کی عبادت کی جائے۔
(امنوا باللہ ورسولہ۔۔۔۔ )
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 470 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 258
امنوا باللہ ورسولہ یعنی اس امر کی تصدیق کرو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔ وانفقوا اور صدقہ کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد فرض زکوٰ ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد فرض زکوٰۃ کے علاوہ طاعات کی صورتیں ہیں (2) اور وہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب عطاء کرتی ہیں۔
مما جعلکم مستخلفین فیہ یہ دلیل ہے کہ اصل ملک اللہ تعالیٰ کے لیے بندے کا صرف اتنا کام ہے کہ وہ اس میں ایسا تصرف کرے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو راضی کرے اور اس پر اللہ تعالیٰ اسے جنت عطاء فرمائے۔ جس نے ان اموال سے حقوق اللہ میں خرچ کیا اور اس پر ان میں سے انفاق آسان ہوا جس طرح ایک آدمی کے لیے غیر کے مال میں سے مال خرچ کرنا آسان ہوتا ہے جب وہ اسے خرچ کرنے کی اجازت دے تو اس کے لیے بڑا ثواب اور اجر عظیم ہوگا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مستخلفین فیہ سے مراد ہے کہ تمہیں تمہارے پہلوں کے مال کا وارث بنا دیتا ہے۔ یہ چیز اس امر پر دال ہے کہ یہ اموال حقیقت میں تمارے نہیں تو صرف ان میں نائب اور وکیل ہو تو اس فرصت کو غنیمت سمجھو کہ قبل اس کے کہ یہ مال تمہارے ہاتھ سے نکل کر تمہارے بعد تک جا پہنچیں تم اس میں حق بجا لائو۔ فالذین امنوا منکم وانفقوا لھم اجر کبیر۔ تم میں سے جو ایمان لائے اور جس نے اعمال صالحہ کیے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ان کے لیے جنت ہے۔
Ayah 57:8وما لکم لا تومنون باللہ یہ استفہام ہے مراد توبیخ ہے یعنی ایمان نہ لانے کا تمہارے پاس کیا عذر ہے جب کہ تمام رکاوٹیں ختم ہوچکی ہیں والرسول یدعوکم اس کے ساتھ یہ واضح کیا کہ شرائع کے وارد ہونے سے پہلے کوئی حکم نہیں۔ ابو عمر نے اسے پڑھا و قد اخذمیثاقکم، احذ فعل مجہول ہے باقی قراء نے اسے معروف پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تم سے پختہ وعدہ لیا ہے کہ تم میں عقلیں رکھیں اور تم پر دلائل اور حجتیں قائم ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی متابعت کی طرف لے جاتی ہیں ان کنتم مومنین۔ یہاں ان، اذ کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم حجتوں اور دلائل پر ایمان رکھتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم کسی روز حق پر ایمان رکھتے ہو تو آج سب سے مناسب وقت ہے کہ تم ایمان لے آئو کیونکہ حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے دلائل قائم ہوچکے ہیں پس اس کے دلائل صحیح ثابت ہوگئے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم اللہ تعالیٰ جو تمہارا خالق ہے اس پر ایمان رکھتے ہو۔ وہ اس چیز کا اعتراف کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ایسی قوم کو خطاب ہے جو ایمان لائی نبی کریم ﷺ نے ان سے وعدہ لیا بعد میں وہ مرتدہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ان کنتم مومنین۔ سے مراد ہے اگر تم ایمان کی شرائط کا اقرار کرتے ہو۔
Ayah 57:9ھو الذین ینزل علی عبدہ ایت بینت مراد قرآن حکیم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد معجزات ہیں یعنی حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا تم پر لازم ہے کیونکہ اس کے ساتھ معجزات ہیں اور قرآن حکیم ان میں سے سب سے بڑا معجزہ ہے۔ لیحرجکم تاکہ تمہیں قرآن کے ساتھ نکالے۔۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہیں رسول کے ساتھ نکالے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہیں موت کے ساتھ نکالے۔ من الظلمت اس سے مراد شرک اور کفر ہے۔ الی النور اس سے مراد ایمان ہے (3) وان اللہ بکم الروف رحیم۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 471 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 259
Ayah 57:10( وما لکم الا۔۔۔۔ )
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وما لکم الا تنفقوا فی سبیل اللہ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتی ہے اور ایسا کام کرنے سے روکتی ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطاء رے جب کہ تم مر رہے ہو اور اپنے مال پیچھے چھوڑے جا رہے ہو جبکہ یہ مال اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ کلام کا معنی خرچ نہ کرنے پر شرمندہ کرنا ہے۔ وللہ میراث السموات والارض یعنی جب ان دونوں میں رہنے والے ختم ہوجائیں گے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے ہیں جس طرح میراث اپنے مستحق کی طرف لوٹ جاتی ہے (1)
مسئلہ نمبر 2 :۔ لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اکثر مفسرین کی یہ رائے ہے کہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے (2) شبی اور زہری نے کہا : مراد صلح حدیبیہ ہے (3) قتادہ نے کہا : دونوں قتال تھے ان دونوں میں ایک دوسرے سے افضل تھا، دو نفقات تھے دونوں میں سے ایک دوسرے افضل تھا۔ فتح مکہ سے پہلے قتال اور مال خرچ کرنا اس کے بعد قتال اور مال خرچ کرنے سے افضل تھا۔ اس کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل ومن انفق من بعد الفتح و قاتل اسے حذف کیا گیا ہے کیونکہ کلام اس محذوف پر دال ہے۔ فتح سے پہلے نفقہ عظیم تھا کیونکہ لوگوں کی ضرورت زیادہ تھی کیونکہ اسلام کمزور تھا اور خرچ کرنے والوں پر عمل زیادہ شاق تھا اور اجر تھکاوٹ کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 :۔ اشہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے : مناسب یہ ہے کہ اہل فضل اور اہل عزم کو مقدم رکھا جائے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لا یستوی منکم من افنق من قبل الفتح و قتل
کلبی نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی اس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی فضلیت اور تقدیم پر واضح دلیل ہے کیونکہ یہ پہلے وہ شخص ہیں جو اسلام لائے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے : سب سے پہلے جس نے اپنی تلوار کے ساتھ اسلام کی مدد کی
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 471 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً
وہ نبی کریم ﷺ کی ذات ہے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ پر اپنا مال خرچ کیا۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھا جب کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ آپ کے پاس حاضر تھے ان پر ٹاٹ کا لباس تھا انہوں نے اپنے سینے پر کانٹوں کے بٹن لگائے ہوئے تھے۔ حضرت جبریل امین ( علیہ السلام) حاضر ہوئے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! کیا وجہ ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر ایسی عبادء دیکھتا ہوں کہ انہوں نے اپنے سینے پر اس میں کانٹوں کے بٹن لگائے ہوئے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” انہوں نے فتح سے پہلے اپنا مال مجھ پر خرچ کیا ہے “ (1) حضرت جبریل امین نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو ارشاد فرماتا ہے ابوبکر کو سلام کہیں اور اس سے پوچھیں کیا تو اس فقرے کے عالم میں راضی ہے یا ناراض ہے ؟ یا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ تجھے سلام فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا تو اپنے فقر میں راضی ہے یا ناراض ہے ؟ “ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : کیا میں اپنے رب پر ناراض ہو سکتا ہوں ؟ میں اپنے رب سے راضی ہوں، میں اپنے رب سے راضی ہوں، میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھے ارشاد فرماتا ہے میں تجھ سے اسی طرح راضی ہوں جس طرح تو مجھ سے راضی ہے۔ حضرت ابو بکرصدیق ؓ رونے لگے حضرت جبریل امین نے عرض کی : اے محمد ﷺ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے حاملین عرش نے بھی اس وقت سے ایسی عبائیں پہنی ہوئی ہیں جن میں کانٹوں کے بٹن ہیں جب سے آپ کے اس دوست نے ایسی عباء پہنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ اپنے آپ پر آپ کو مقدم کرتے اور ان کے لیے تقدم اور سبقت کا اقرار کرتے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ سبقت لے گئے، دوسرا نمبر حضرت ابو بکرصدیق ؓ کا ہے اور تیسرا حضرت عمر ؓ کا ہے میرے پاس کوئی آدمی نہیں لایا جائے گا جو مجھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر فضلیت دے گا تو میں اس پر افتراء باندھنے والے کی حد جاری کروں گا۔ اسی کو اسی کوڑے ماروں گا، شہادت رد کر دوں گا۔ متقدمین نے متاخرین سے زیادہ مشقتیں اٹھائیں، ان کی بصیرت بھی زیادہ قوی تھیں۔
مسئلہ نمبر 4 :۔ تقدیم و تاخیر دنیا کے احکام میں ہوتا ہے جہاں تک دین کے احکام کا تعلق ہے تو حضرت عائشہ ؓ عنہانے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لوگوں کو ان کی منازل میں رکھیں رتبہ کے اعتبار سے سب سے عظیم منزل نماز ہے (2) رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض وصال میں فرمایا ” ابوبکر کو حکم دو وہ لوگوں کو نماز پڑھائے “۔ فرمایا : لوگوں کی امامت وہ کرائے جو ان میں سے کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے والاہو (3) فرمایا :” تم دونوں میں سے بڑا تمہاری امامت کرائے “ (4) یہ حضرت مالک بن حویرث سے مروی ہے اور یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ امام بخاری اور دوسرے علماء نے یہ سمجھا کہ مراد مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بڑا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ولاء بڑے کے لیے ہے “ یہاں کبر سے مراد عمر میں بڑا نہیں۔ امام مالک اور دوسرے علماء نے کہا : عمر کا حق ہے۔ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ نے کہا : ” وہ مراعت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
1 ؎
اسباب النرول، صفحہ 210، حدیث 785 2 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب الاذان، جلد 1، صفحہ 93
3 ؎۔ ایضاً جلد 1، صفحہ 96 4 ؎۔ ایضاً جلد 1، صفحہ 94، 95
کیونکہ جب علم اور عمر جمع ہوجائیں تو عالم کو مقدم رکھا جائے گا۔ جہاں دنیا کے احکام کا تعلق وہ احکام دین پر مرتب ہیں جسے دین میں مقدم کیا جائے گا اسے دنیا میں مقدم کیا جائے گا۔ آثار میں ہے : ” جو آدمی ہمارے بڑے کی عزت نہ کرے، ہمارے چھوٹے پر شفقت نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہنچاننے وہ ہم میں سے نہیں “ (1) افراد کے بارے میں جو حدیث ثابت ہے اس میں ہے ” کوئی نوجوان کسی بوڑھے کی اس عمر کی وجہ سے تعظیم بجا نہیں لاتا مگر اس کے بڑھاپے کے وقت اللہ تعالیٰ ایسا آدمی مقرر کردیتا ہے جو اس کی عزت کرتا ہے “ (2) علماء ان اشعارکو پڑھتے ہیں :
اذا اذا شئت ان تعرھم جدک واذ کر ابک یا بن اخ
واعلم بان الشباب منسلخ عنک وما وزرہ بمنسلخ
من لا یعز الشیوخ لا یلغت یوما بہ سئہ الی الشیخ
جب تو بوڑھوں کو عار دلانا چاہے تو اسے داد کو یاد کر اور اپنے باپ کو یاد کر، اے بھتیجے ! جان لے تجھ سے جوانی جانے والی ہے اور اس کا بوجھ جانے والا نہیں۔ جو آدمی بزرگوں کی عزت نہیں کرتا اس کی عمر ایک روز اسے بڑھاپے کی عمر تک پہنچانے والی ہے۔
مسئلہ نمبر 5 :۔ وکلا وعد اللہ لالحسنی۔ کلا سے مراد آگے بڑھنے والے رکنے والے، اور سبقت لے جانے، پیچھے آنے والے اور لا حق ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے سب سے وعدہ کیا ہے اگرچہ ان کے درجات مختلف ہیں۔ ابن عامر نے کل کو مرفوع پڑھا ہے اسی طرح اہل شام کے مصاحف میں یہ مرقوم ہے، باقی قراء نے اسے کلام پڑھا ہے جس طرح ان کے مصاحف میں ہے جس نے اسے منصوب پڑھا ہے اس کے نزدیک یہ مفعول بہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر کسی کے ساتھ حسنی کا وعدہ کیا ہے۔ جس نے اسے موفوع پڑھا ہے تو کیونکہ جب مفعول مقدم ہو تو فعل کا عمل کمزورہو جاتا ہے تو اس صورت میں ضمیر محذوف ہوگی یعنی وعدہ۔
Ayah 57:11( من ذالذی یقرض۔۔۔۔۔۔۔ )
من ذالذی یعرض اللہ قرضا حسنا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سورة بقرہ میں اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے جو آدمی بھی کوئی اچھا عمل کرے عرب اس کے بارے میں کہتے ہیں : قد اعرض : شاعر نے کہا
1 ؎۔ مجمع الزوائد، کتاب الادب، توقیر الکبیر، جلد 8، صفحہ 33، حدیث 12610
2 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب البروا لصلۃ، ما جاء ل الجلال الکبیر، جلد 2، صفحہ 23
واذا جو ریت قرضافا جزہ (1)
جب تیرے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو اس کا بدلہ دے۔
اسے قرض کا نام دیا گیا کیونکہ قرض بدل واپس لینے کے لیے دیا جاتا ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا بدل عطاء فرماتا ہے۔ کلبی نے کہا : قرض سے مراد صدقہ ہے، حسنا سے مراد وہ دل سے ثواب کی نیت رکھتا ہے وہ احسان جتلانے اور اذیت دینے کا کوئی ارادہ نہ رکھتا ہو۔
فیضعفہ یعنی سات گنا سے سات سو گنا تک جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے (2) قرض حسن سے مراد ہے کہ وہ اپنی زبان سے یہ کہے سبحان اللہ، الحمد اللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، یہ سفیان نے ابو حیان سے روایت نقل کی۔ زید ابن اسلم نے کہا : مراد اپنے گھر والوں پر مال خرچ کرتا ہے (3) حضرت حسن بصری نے کہا : مراد نفلی عبادت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد عمل خیر ہے (4) عرب کہتے ہیں : لی عند فلان قرض و قرض سوء۔ قشیری نے کہا : قرض حسن سے مراد ہے صدقہ کرنے والا، سچی نیت اور پاکیزہ نفس سے صدقہ کرے وہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب ہو وہ ریاکاری اور شہرت کا خواہش مند نہ ہو، وہ مال حلال کا ہو۔ قرض حسن یہ ہے کہ وہ ردی چیز کا قصد نہ کرے وہ اسے صدقہ کر دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون ( البقرہ : 267) وہ اس وقت صدقہ کرے جب اسے زندگی کی امید ہو کیونکہ نبی کریم ﷺ سے بہترین صدقہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا :” تو صدقہ کرے جب کہ تو صحت مند ہو، بخل موجود ہو، تو زندگی کی امید رکھتا ہو، تو اسے موخر نہ کیے رکھ یہاں تک کہ سانس ہنسلی کی ہڈی تک آپہنچے تو کہے فلاں کے لیے اتنا، فلاں کے لیے اتنا (5) وہ اپنے صدقہ کو مخفی رکھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی ( البقرہ : 264) وہ جو کچھ دے رہا ہے اسے حقیر جانے کیونکہ تمام دنیا قلیل ہے، جو مال دے وہ اس کا محبوبہ ترین مال ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” لن تنالو البر حتیٰ تفقوا مما تحبون “ ( آل عمران : 92) وہ بہت زیادہ ہو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بہترین غلام وہ ہے جس کی قیمت زیادہ ہو اور مالکوں کے نزدیک زیادہ نفیس ہو “ (6)
فیضعفہ ابن کبیر اور ابن عامر نے فیضعفہ پڑھا ہے یعنی الف کو ساقط کردیا مگر ابن عامر اور یعقوب نے فاء کو نصب دی ہے۔ نافع اور اہل کوفہ اور اہل بصرہ نے فیضاعفہ پڑھا ہے یعنی الف کے ساتھ اور عین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے مگر عاصم نے فاء کو نصب دی ہے باقی قراء نے اسے موفوع پڑھا ہے یہ یقرض پر معطوف ہے۔ نصب کی صورت میں یہ استفہام کا جواب ہے۔ سورة بقرہ میں اس بارے میں قول مفصل گزر چکا ہے۔ ولہ اجر کریم۔ اس سے مراد جنت ہے۔
1۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 472 2۔ ایضاً 3۔ ایضاً 4۔ ایضاً
5۔ صحیح بخاری، کتاب الزکوۃ، فضل صدقۃ الشیخ الصحیح، جلد 1، صفحہ 191، 190
6۔ موطا امام مالک، الصتق والولاء فضل عتق الرقاب و عتق الزانیۃ، صفحہ 542
Ayah 57:12یوم تری الممونین و المومنت یوم میں عامل ولہ اجر کریم۔ ہے کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے ولہ اجر کریم فی یوم تری فیہ الممونین و المومنات یسعی نورھم یعنی وہ پل صراط پر سے گزریں گے۔ بین ایدیھم یعنی ان کے سامنے وبایمانھم فراء نے کہا : سافی کے معنی میں ہے یا یہ عن کے معنی میں ہے۔ ضحاک نے کہا : نور ھم سے مراد ان کی ہدیات ہے وبایمانھم سے مراد ان کی کتب ہیں، طبری نے اسے پسند کیا ہے، یعنی ان کا ایمان اور عمل صالح ان کے سامنے ہوگا اوروں کے ہاتھوں میں ان کے اعمال کی کتابیں ہوں گی (1) اس تعبیر کی بنا پر ھذا فی کے معنی میں ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر وقف نہ کیا جائے۔ سہل بن سعد ساعدی اور ابو حیوہ نے بایمانھم الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا مراد وہ ایمان لیا ہے (2) جو کفر کی ضد ہے اور جو ظرف نہیں اس کا عظف ظرف پر ہے کیونکہ ظرف کا معنی حال ہے یہ محذوف کے متعلق ہے معنی ہوگا یسعی کائنابین ایدیھم و کائنا بایمانھم بین ایدیھم کا قول یسعی کی ذات کے متعلق نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے :
نور سے مراد قرآن ہے۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے : ان کو ان کے اعمال کے مطباق نور عطا کیا جائے گا (3) ، ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کو نور کھجور کے درخت جیسا دیا جائے گا اور ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کو نور کھڑے آدمی کی طرف دیا جائے گا، ان میں سے سب سے کم نور والا وہ ہوگا جس کے پائوں کے انگوٹھے میں نور ہوگا جو کسی وقت بھی بجھ جائے گا اور کسی وقت روشن ہوجائے گا۔ قتادہ نے کہا : قتادہ نے کہا : ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مومنوں میں سے کچھ مومن ایسے ہوں گے جن کا نور مدینہ اور عدن کے درمیان کا علاقہ روشن کر دے گا یا مدینہ طیبہ اور صنعاء کے درمیان کا علاقہ منور کر دے گا یہاں تک کہ ان میں سے ایک ایسا مومن بھی ہوگا جس کا نور صرف اس کے قدموں کی جگہ کو روشن کرے گا۔ “ حضرت حسن بصری نے کہا :” تاکہ وہ اس نور کے ساتھ صراط پر روشنی حاصل کریں۔ “ جس طرح پہلے بات گزر چکی ہے۔ مقاتل نے کہا :” تاکہ یہ جنت کی طرف ان کے لئے راہنما بن جائے۔ “ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
بشربکم الیوم جنت تجری من تحتھا الانھر تقدیر کلام یہ ہے یقال لھم بشرا کم الیوم یعنی قول محذوف ہے۔ یعنی آج تمہیں جنات میں داخل ہونے کی بشارت ہے۔ مضاف کو حذف کرنا ضروری ہے کیونکہ بشری امر حدثی ہے اور جنت عینی چیز ہے اس لئے بشری تو جنت نہیں ہو سکتی۔ ان کی رہائشوں کے نیچے دودھ پانی، شراب اور شہد کی نہریں رواں ہوں گی۔
خلدین فیھا یہ دخول محذوف سے حال ہے، تقدیر کلام یہ ہے بشرا کم الیوم دخول جنات تجری من تحتھا الانھار اس میں ہمیشہ رہنا مقدر کردیا گیا ہے یہ بشربکم سے حال نہیں کیونکہ صلہ اور موصول کے درمیان فاصلہ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ بشری جس پر دلالت کر رہا ہے اس سے حال ہو گو یا کہا : تبشرون خالدین یہ بھی جائز ہے کہ ظرف جو الیوم ہے یہ بشراکم کی خبر ہو اور جنات یہ بشری سے بدل ہو اور مضاف مخدوف ہے جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ خلدین حال ہے جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ فراء نے جنات پر نصب کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ یہ حال ہے اس شرط پر کہ الیوم، بشربکم کی خبر ہے جب کہ یہ بعید ہے کیونکہ جنات میں فعل کا معنی موجود نہیں اس امر کو جائز قرار دیا کہ بشربکم منصوب ہو معنی یہ ہے یبشر ونھم بشری اور جنتا کی نصب بشریٰ کی وجہ سے ہوا اس صورت میں صلہ اور موصول میں فرق ہوگا۔
Ayahs 57:13–15یوم یقول المنفقون، یوم میں عامل ذلک ھو الفوز العظیم۔ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پہلے یوم سے بدل ہے (1) انظرونا نقتبس عام قرأت ہمزہ وصلی اور ظاء کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ یہ نظر سے مشتق ہے۔ نظر، انتظار کے معنی میں ہے یعنی ہمارا انتظار کیجیے۔ اعمش، حمزہ اور یحییٰ بن وثاب نے انظرونا الف قطعی اور ظاء کے کسر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ انظار سے مشتق ہے یعنی ہمیں مہلت دو ۔ انظرتہ میں نے اسے مہلت دی، استنظرتہ میں نے اس سے مہلت طلب کی۔ فراء نے کہا : عرب کہتے انظرنی انتظرنی اور عمرو بن کلثوم کا شعر پڑھا :
ابا ھند فلا تعجل علینا وانظرنا نخبرک الیقینا (2)
اے ابوہند ! ہم پر جلدی نہ کرو، ہمارا انتظار کرو ہم تجھے یقینی خبر دیتے ہیں۔
شعر میں انظرنا، انتظرنا کے معنی میں ہے۔
نقتئس من نور کم ہم تمہارے نور سے روشنی حاصل کرتے ہیں (3) حضرت ابن عباس اور حضرت ابوامامہ نے کہا ،
قیامت کے روز لوگوں پر ظلمت چھا جائے گی۔ ماوردی نے کہا، میں گمان کرتا ہوں۔ یہ فیصلہ کے بعد ہوگا۔ پھر انہیں نور عطا کیا جائے گا جس میں وہ چلیں گے۔ مفسرین نے کہا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مومنوں کو ان کے اعمال کے مناسب نور عطا فرمائے گا جس کی مدد سے وہ صراط پر چلیں گے۔ منافقوں کو نور دیا جائے گا انہیں دھوکہ دینے کے لئے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے وھوخادعھم (النسائ : 142) ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں نور دیا جائے گا کیونکہ ان میں سے سب اہل دعوت تھے کافروں کو نور نہیں دیا جائے گا۔ (1)
پھر منافق کا نور اس کے نفاق کی وجہ سے سلب کرلیا جائے گا، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت ابوامامہ نے کہا : مومن کو نور دیا جائے گا اور کفار و منافق کو نور کے بغیر چھوڑ دیا جائے گا۔ کلبی نے کہا : منافق مومنوں کے لئے نور سے روشنی حاصل کرنا چاہیں گے انہیں نور نہیں دیا جائے گا اسی اثناء میں کہ وہ چل رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان میں ہوا اور تاریکی بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ منافقوں کے نور کو بجھا دے گا، اللہ تعالیٰ کے فرمان ربنا اتمم لنانورنا (التحریم : 8) کا یہی مصداق ہے۔ یہ مومن عرض کریں گے کیونکہ انہیں ڈر ہوگا کہ کہیں ان کا نور بھی سلب نہ کر لیاج ائے جس طرح منافقوں کا نور سلب کیا گیا۔ جب مناف تاریکی میں رہیں گے تو وہ اپنی قدموں کی جگہ کو بھی نہ دیکھیں گے تو وہ مومنوں سے کہیں گے۔ نظرونا نقتبس من نورکم۔
قیل ارجعوا ورآء کم فرشتے انہیں کہیں گے، واپس پلٹ جائو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ بات مومن انہیں کہیں گے کہ اس جگہ کی طرف لوٹ جائو جہاں سے ہم نے نور حاصل کیا ہے وہاں سے اپنے لئے نور حاصل کرو کیونکہ تم ہمارے نور سے کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ جب وہ نور کی تلاش میں واپس پلٹیں گے تو درمیان میں دیوار بنا دی جائے گی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تم نے دنیا سے اپنا نور کیوں طلب کیا کہ تم ایمان لاتے۔ بسور یعنی سورة میں باء زائدہ ہے، یہ نسائی کا قول ہے۔ سوریہ جنت اور دوزخ کے درمیان آڑ ہوگی۔ ایک روایت یہ کی گئی ہے کہ ” وہ دیوار بیت المقدس میں ہوگی یہ اس جگہ ہوگی جو وادی جہنم کے نام سے معروف ہے۔ “
باطنہ فیہ الرحمۃ جس جانب مومن ہوں گے وظاھرہ من قبلہ العذاب۔ یعنی جس جانب منافق ہوں گ۔ کعب الاحبار نے کہا، مراد وہ دروازہ ہے جو بیت المقدس میں ہے جو باب رحمت کے نام سے معروف ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا، یہ بیت المقدس کی مشرقی دیوار ہے جس کی اندر کی جانب رحمت ہے اور باہر کی جانب جہنم ہے، اسی کی مثل حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ زیادہ بن ابی سوادہ نے کہا : حضرت عبادہ بن صامت بیت المقدس کی مشرقی دیوار پرک ھڑے ہوئے اور رو دیئے اور کہا، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی کہ آپ نے یہاں سے جہنم کو دیکا۔ قتادہ نے کہا، یہ جنت اور دوزخ کے درمیان دیوار ہے۔ باطنہ فیہ الرحمۃ رحمت سے مراد جنت ہے وظاھرہ من قبلہ العذاب۔ عذاب سے مراد جہنم ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ حجاب ہے جس طرح سورة اعراف میں ہے، اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے :
بے شک رحمت جس کے باطن میں سے مراد مومنین کا نور ہے اور عذاب جس کے ظاہر میں سے مراد منافقین کی تاریکی ہے۔
ینادونھم منافق مومنوں کو ندا دیں گے۔ الم نکن معکم کیا وہ دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے یعنی ہم نماز پڑھتے تھے جس طرح تم نماز پڑھتے تھے، ہم جہاد کرتے جس طرح تم جہاد کیا کرتے تھے اور ہم وہی کام کیا کرتے تھے جس طرح تم کیا کرتے تھے (1) قالوا بلی مومن کہیں گے : کیوں نہیں تم ظاہر ہمارے ساتھ تھے ولکنکم فتنتم انفسکم یعنی تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں مبتلا کیا۔ مجاہد نے کہا : تم نے نفاق کے ساتھ اپنے آپ کو ہلاک کیا (2) ایک قول یہ کیا گیا : معاصی کے ساتھ اپنے آپ کو ہلاک کیا (3) یہ ابوسنان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، شہوات اور لذات کے ساتھ ہلاک کیا (4) یہ ابونمیر ہمدانی نے روایت کیا ہے۔
وتربضتم وارتبتم تم نے نبی کریم ﷺ کی موت اور مومنین کے لئے حادثات زمانہ کا اتنظار کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم نے توبہ کا اتنظار کیا اور توحید و نبوت میں شک کیا (5) وغرتکم الا مانی باطل چیزوں نے تمہیں دھوکہ میں مبتلا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لمبی امیدوں نے تمہیں دھوکہ میں مبتلا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے جو مومنوں کو کمزور ہونے اور اس کے بارے میں مصائب کے نازل ہونے کی آرزو رکھتے تھے۔ قتادہ نے کہا، یہاں امانی سے مراد شیطان کا دھوکہ ہے (6) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد دنیا ہے : یہ حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے۔ ابوسنان نے کہا، مراد ان کا یہ قول ہے (7) سیغفرلنا ہلال بن سعد نے کہا، تیرا اپنی نیکیوں کو یاد کرنا اور اپنی برائیوں کو بھلا دینا یہ دھوکہ ہے۔
حتی جآء امر اللہ مراد موت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اپنے نبی کی مدد ہے۔ قتادہ نے کہا، مراد انہیں جہنم میں پھینکنا ہے۔ وعزکم باللہ الغرور۔ یعنی شیطان نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکہ میں مبتلا کردیا ہے، یہ عکرمہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد دنیا ہے، یہ ضحاک کا قول ہے۔ بعض علمئا نے کہا، باقی کے لئے مضای میں عبرت ہے بعد والے کے لئے پہلے میں جھڑک ہے۔ سعید وہ ہے جو طمع سے دھوکہ میں مبتلا نہ ہو اور دھوکہ دینے اولی چیزوں کی طرف مائل نہ ہو۔ جو موت کو یاد کرتا ہے آرزو کو بھول جاتا ہے، جو امید کو لمبا کرتا ہے عمل کو بھول جاتا ہے اور موت سے غافل ہوجاتا ہے۔ غرور کا لفظ مبالغہ کا وزن ہے مقصود کثرت کا اظہار ہے۔ ابوحیوہ، محمد بن سمیقع اور سماک بن حرب نے غرور پڑھا ہے یعنی غین پر ضمہ ہے۔ مراد باطل امور ہیں یہ مصدر ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ہمارے لئے خط لگائے اور ایک ان سے ایک جانب لگایا فرمایا :” کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے یہ انسان اور اس کی تمنا کی مثال ہے، وہ خطوط درمیان میں امیدیں ہیں اسی اثناء میں کہ وہ تمنا کرتا ہے تو اسے موت آجاتی ہے۔ “ (8)
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مربع خط لگایا اس کے درمیان ایک خط لگایا اور اسے مربع سے باہر نکالا، اس کی دائیں بائیں چھوٹے خطوط لگائے فرمایا :” یہ انسان ہے، یہ اس کی موت ہے جو اس کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے، یہ اس کی آرزو ہے جو اس کی موت سے باہر نکل رہی ہے، یہ چھوٹے خطوط آفتیں ہیں اگر یہ خطا جائے تو دوسری اسے نوچ لیتی ہے اگر دوسری خطا جائے تو یہ اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ “
فالیوم لایوخذمنکم فدیۃ خطاب منافقوں کو ہے ولا من الذین کفروا انہیں نجات سے مایوس کردیا۔ عام قرأت یوخذ ہے کیونکہ فدیہ مونث غیر حقیقی ہے کیونکہ اس کے درمیان اور فعل کے درمیان فاصلہ ہے۔ ابن عامر اور یعقوب نے توخذ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے اسے ہی اختیار کیا ہے کیونکہ فدیۃ مونث ہے پہلی قرأت کو ابو عبید نے اختیار کیا ہے یعنی تم سے بدل، عوض اور کوئی اور نفس قبول نہ کیا جائے گا۔
مائو لکم النار یعنی تمہارا مقام اور تمہاری منزل جہنم ہے ھی مولکم یہی تمہارے حق میں مناسب اور بہترین ہے۔ مولی اسے کہتے ہیں جو انسان کے مصالح کا ذمہ دار وہتا ہے پھر اس کا استعمال اس شخص کے بارے میں ہونے لگا جو کسی چیز کو لازم ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آگ ان کے امور کی مالک ہوگی، معنی ہے اللہ تعالیٰ اس میں زندگی اور عقل پیدا فرما دے گا وہ کفار پر غصہ کی وجہ سے پھٹ جائے گی، اس وجہ سے اس ارشاد میں اسے خطاب کیا گیا : یوم نقول لجھنم ھل امتلات و تقول ھل من مزید۔ (ق)
وبئس المصیر۔ وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ اور کتنا برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 57:16الم یان للذین امنوا، یان کا معنی ہے قریب ہونا قوت آنا، شاعر نے کہا
الم یآن لی یا قلب ان اترک الجھلا وان یحدث الشیب المبین لنا عقلاً
اے میرے دل ! کیا میرے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ میں جہالت کو ترک کر دوں اور یہ بڑھاپا میرے لئے عقل کو پیدا کر دے۔
اس فعل کا ماضی ان الف مقصورہ کے ساتھ ہے مضارع بانی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے آن لک ان تفعل کذا یثین اینا یعنی وہ وقت آگیا ہے کہ تو اس طرح کرے۔ یہ انی لک کی مثل ہے یہ اس سے مقلوب ہے۔ ابن کسیت نے یہ شعر پڑھا :
الما بین لی ان تجلی عما بتی واقصر عن لیلی بلی قدانی لیا
کیا میرے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ میری گمراہی عیاں ہوجائے اور میں لیلی سے ہاتھ کھینچ لوں کیوں نہیں میرے لئے وہ وقت آچکا ہے۔
دونوں لغتوں کو جمع کیا۔ حضرت حسن بصری نے پڑھا الما یان اس کی اصل الم ہے (1) اس میں مازائدہ ہے۔ یہ قائل کے قول کی نفی ہے۔ جو قد کان کذا ہے اور لم اس کے قول کان کذا کی نفی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ ہمارے اسلام لانے اور اس آیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو یہیں عتاب کیا چار سال کا عرصہ حائل تھا (2) خلیل نے ہا، عتاب سے مراد ناراضگی کا ذکر ہے تو کہتا ہے : عاتبتہ معاتبۃ
ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ وما نزل من الحق، تخشع کا معنی ہے مطیع ہونا اور نرم وہنا۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ مزاح اور ہنسنا نبی کریم کے صحابہ میں بہت زیادہ ہوگیا جب وہ مدینہ طیبہ میں خوشحال ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ تمہارے خشوع میں آہستگی پاتا ہے “ تو اس موقع پر صحابہ نے کہا : ہم نے خشوع کو اپنایا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں میں سستی پائی تو نزول قرآن کے تیرہویں سال انہیں عتاب کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہجرت کے ایک سال بعد منافقین کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ منافقین نے حضرت سلمان فارسی سے یہ سوال کیا کہ وہ انہیں تو رات کے عجائب بیان کریں۔ تو (آیت) (یوسف) تک آیات نازل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ یہ غیر سے زیادہ حسین اور زیادہ نفع مند ہے۔ تو وہ حضرت سلمان سے سوال کرنے سے رک گئے۔ انہوں نے پھر پہلے کی طرح آپ سے سوال کئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس تاویل کی بنا پر ایمان داروں سے مراد وہ لوگ ہیں جو زبان سے ایمان لائے۔
سدی وغیرہ نے کہا : اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جو ظاہر اً ایمان لائے اور کفر کو چھپائے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا، یہ مومنین کے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت سعد نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کاش آپ ہمیں کوئی قصہ بیان کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی نحن نقص علیک (یوسف : 3) کچھ عرصہ بعد انہوں نے عرض کی : کا شچ آپ کچھ بیان کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ نزل احسن الحدیث (الزمر : 23) انہوں نے کچھ عرصہ بعد عرض کی : کاش ! آپ کچھ ذکر کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی نحن نقص علیک (یوسف : 3) کچھ عرصہ بعد انہوں نے عرض کی : کاش ! آپ کچھ بیان کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ نزل احسن الحدیث (الزمر : 23) انہوں نے کچھ عرصہ بعد عرض کی : کاش ! آپ کچھ ذکر کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ حضرت ابن مسعود سیب ھی اس کی مثل مروی ہے۔ کہا : ہمارے اسلام لانے اور اس آیت کے ذریعے ہمارے عتاب کے درمیان چار سال کا عرصہ حائل ہے تو ہم ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور ہر کوئی یہ کہتا ہے : ہم نے کیا کیا ہے ؟ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سستی پائی جب کہ وہ مخلوقات میں سے وہ سب سے زیادہ اسے محبوب تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ایمان لائے مگر حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الستحیتہ والثناء پر ایمان نہ لائے کیونکہ اس کے بعد فرمایا : والذین امنوا باللہ ورسلۃ (الحدید : 19) یعنی وہ لوگ جو تورات اور انجیل پر ایمان لائے ان کے لئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل قرآن کے لئے نرم ہوں وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے متقدمین کی طرح کیوں نہ ہوئے ؟ جب ان لوگوں اور ان کے نبی کے درمیان عرصہ زیادہ ہوا تو ان کے دل سخت ہوگئے۔
ولا یکونوا یہ الایکونوا ہے اس کا عطف ان تخشع پر ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : نہی ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اس کا مجاز لایکونن ہے اس تاویل کی دلیل حضرت رویس کی روایت ہے جو یعقوب سے مروی ہے کہ یہ لاتکونوا ہے۔ یہ عیسیٰ اور ابن اسحاق کی قرأت ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے، یہودیوں اور نصاریٰ کے راستہ پر نہ چلو جنہیں تورات اور انجیل دی گئی تو ان کا زمانہ طویل ہوگیا۔ حضرت ابن مسعود نے کہا جب نبی اسرائیل پر طویل زمانہ گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے، انہوں نے اپنی جانب سے ایک کتاب گھڑ لی حق ان کے اور ان کی خواہشوں کے درمیان حائل ہوجاتا یہاں تک کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پس پشت پھینک دیا گویا وہ اسے جانتے ہی نہیں پھر انہوں نے کہا، اس کتاب کو بنی اسرائیل پر پیش کرو اگر وہ تمہاری پیروی کریں تو تم انہیں چھوڑ دو بصورت دیگر انہیں قتل کر دو ۔ پھر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ وہ اسے ان کے علماء میں سے ایک عالم کے پاس بھیجتے ہیں اور کہا، اگر اس نے ہماری موافقت کی تو کوئی بھی ہماری مخالفت نہ کرے گا اگر اس نے اناکر کیا تو ہم اسے قتل کردیں گے تو اس کے بعد کوئی بھی ہماری مخالفت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس عالم کو بلا بھیجا اس نے اللہ کی کتاب ورقہ میں لکھی اسے ایک سینگ میں رکھا اور اسے گلے میں لٹکا لیا، پھر اس پر اپنے کپڑے پہن لئے۔ پھر وہ ان کے پاس آیا انہوں نے اس پر اپنی کتاب پیش کی اور کہا : کیا تو اس کتاب پر ایمان رکھتا ہے ؟ اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر مارا۔ اس نے کہا : میں اس (یعنی جو سینے پر لٹک رہی ہے) پر ایمان لایا تو بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے۔ ان میں بہترین اس سینگ والے تھے۔
حضرت عبداللہ نے کہا، تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ برئایاں دیکھے گا جب وہ برائی دیکھے اور وہ یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اس کو تبدیل کرسکے تو اس کے دل کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ جانے کہ وہ اس برائی کو ناپسند کرتا ہے۔ مقاتل بن حیان نے کہا : مراد اہل کتاب میں سے مومن ہیں جن پر عرصہ طویل ہوگیا انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بعثت میں دیری محسوس کی۔
فقست قلوبھم و کثیر منھم فسقون۔ مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے رہبانیت شروع کی یعنی گرجے والوں نے۔ ایک قول یہ کا گیا ہے : مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ نہیں جانتے جس کو وہ اپنائیں اور جو علم رکھتے ہیں اس کے خلاف عمل کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ایمان دار نہیں۔ ان میں سے ایک طائفہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر قائم رہا جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی تو وہ آپ پر ایمان لائے۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین سے پھرگئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فاسق قرار دیا۔ محمد بن کعب نے کہا، صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں تنگی کی زندگی بسر کرتے تھے، جب انہوں نے ہجرت کی تو خوشحال ہوئے تو جس حال میں پہلے تھے اس میں سستی ہوئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت کی تو انہیں افاقہ ہوگیا۔
ابن مبارک نے ذکر کیا : امام مالک بن انس نے ذکر کیا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ باتیں نہ کیا کرو ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ سخت دل اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا ہے لیکن تم علم نہیں رکھتے لوگوں کے گناہوں کو نہ دیکھو گویا تم مالک ہوا نہیں دیکھو یا فرمایا : اپنے گناہ دیکھو گویا تم غلام ہو۔ بیشک لوگوں کی دو قسمیں ہیں جو عافیت میں ہیں یا جنہیں آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ جو لوگ آزمائش میں مبتلا ہیں ان پر رحم کرو اور عافیت پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرو۔ یہ آیت کریمہ حضرت فضیل بن عیاض اور حضرت عبدلالہ بن مبارک کی توبہ کا باعث سنی۔
ابو مطرف عبدالرحمٰن بن مروان قلانسی سے ذکر کیا کہ محمد بن حسن بن اشیق، علی یعقوب زیات سے وہ ابراہیم بن ہشام سے وہ زکریا ابن ابی ابان سے وہ لیث بن حرث سے وہ حسن بن داہر سے روایت کرتے ہیں، ایک روز اپنے بھائیوں کے ساتھ اپنے باغ میں تھا یہ وہ وقت تھا جب باغ میں مختلف قسم کے پھل موجود تھے ہم نے رات تک کھایا پیا پھر سو گئے میں عودو طنبور بجانے کا عادی تھا۔ میں رات کے کسی حصہ میں اٹھا، میں نے ایک راگ گانا چاہا جسے راشین السحر کہتے سنان نے گانے کا ارادہ کیا جب کہ ایک پرندہ میرے سر کے اوپر ایک درخت پر چیخ رہا تھا، عود میرے ہاتھ میں تھا جس کا میں ارادہ کر رہا تھا وہ اس طرح نہیں بج رہا تھا اچانک وہ یوں بولنے لگا جس طرح انسان بولتا ہے : الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ ومانزل من الحق میں نے کہا، کیوں نہیں ؟ اللہ کی قسم ! میں نے عود کو توڑ دیا اور جو مال میرے پاس تھا اس کو صرف کردیا یہ میرا زہد اور تگ و دو کا پہلا مرحلہ تھا۔ ہم تک وہ اشعار بھی پہنچے ہیں جو حضرت ابن مبارک نے عود پر بجانا چاہے :
الم یان لی منک ان ترحما وتعص العوا ذل واللوما
وترثی لصب بکم مغرم اقام علی ھجرکم ماتما
یبت اذا جنہ لیلہ براعی الکواکب والانجما
وما ذا علی الطبی لوانہ احل من الوصل ماحرما
کیا میرے لئے تیری جانب سے وہ وقت نہیں آیا کہ تو رحم کرے اور ملامت کرنے والوں کی نافرمانی کرے اور اپنے عاشق پر شفقت کرے جو بڑی مصیبت میں ہے وہ تمہارے فراق میں ماتم کر رہا ہے۔ جب رات تاریک ہوجاتی ہے تو وہ کواکب اور انجم شماری کرتا رہتا ہے۔ اس ہرن کو کیا ہوگا اگر وہ اس وصل کو حلال کر دے جس کو اس نے حرام کر رکھا ہے۔
جہاں تک فصیل بن عیاض کا تعلق ہے اس کی توبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ ایک لڑکی پر عاشق تھا اس نے ان سے رات کے وقت کا وعدہ کیا۔ اسی اثنا میں کہ وہ دیواریں چڑ رہے تھے تو ایک قاری کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تو واپس پلٹ آئے اور کہہ رہے تھے : کیوں نہیں اللہ کی قسمچ وہ وقت آچکا ہے۔ وہ رات انہیں ایک کھنڈر تک لے گئی جہاں مسافروں کی ایک جماعت تھی وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے : فضیل ڈاکو ہے۔ فضیل نے کہا : افسوس ! میں اپنی رات اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں گزارتا ہوں مسلمانوں میں سے ایک قوم مجھ سے ڈرتی ہے، اے اللہ ! میں نے توبہ کرلی ہے اور میں نے پانی توجہ اس طرح کی ہے کہ میں تیرے بیت اللہ میں ہی رہوں گا۔
Ayah 57:17اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا بنجرزمین کو بارش کے ساتھ اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ صالح مری نے کہا : دلوں کی سختی کے بعد ان کو نرم کردیتا ہے۔ جعفر بن محمد نے کہا : ظلم کے بعد عدل کے ساتھ زندہ کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کافر کو ایمان کی طرف ہدایت دے کر زندہ کرتا ہے جب کہ کفر اور گمراہی کے ساتھ اسے مارتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسی طرح اللہ تعالیٰ امتوں میں سے مردوں کو زندہ کرتا ہے ان میں سے جو خشوع والے دل ہیں اور سخت دل ہیں ان میں فرق کرتا ہے۔
قدبیننا لکم الایت لعلکم تعقلون۔ زمین کے مردہ ہونے کے بعد انہیں زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کہ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔
Ayahs 57:18–19ان المصدقین و المصدقت ابن کثیر اور ابوبکر نے عاصم سے دونوں میں صاد کی تخفیف کے ساتھ کے ساتھ پڑھا ہے یہ تصدیق سے مشتق ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نازل کیا اس کی وہ تصدیق کرتے ہیں باقی نے اسے تشدید کیساتھ پڑھا ہے۔ اصل میں یہ المتصدقین اور المتصدقات تھا تاء کو صاد میں مدغم کیا گیا ہے اسی وجہ سے فرمایا : واقرضوا اللہ قرضا حسناً صدقہ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا، قرآن حکیم میں جہاں بھی قرض حسن کا ذکر ہے اس سے مراد نفل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عمل صالح ہے وہ صدقہ ہو یا کوئی اور صورت ہو جب کہ وہ ثواب کی نیت رکھتا ہو اور اپنی نیت میں سچا ہو۔ فعل کا عطف اسم پر کیا گیا ہے کیونکہ وہ اسم فعل کے حکم میں ہے مراد ہے ان الذین صدقوا و اقرضوا ہے۔ یضعف لھم انہیں اس کا کئی گنا عطا کیا جائے گا۔ عام قرأت عین کے فتحہ کے ساتھ ہے اور یہ فعل مجہول کا صیغہ ہے۔ اعمش نے اسے یضاعفہ پڑھا ہے۔ ابن کثیر، ابن عامر اور یعقوب نے یضعف پڑھا ہے۔ ولھم اجر کریم۔ مراد جنت ہے۔
(آیت) کے بارے میں اختلاف ہے کیا یہ مقابل سے مقطوع ہے یا متصل ہے ؟ مجاہد اور زید بن اسلم نے کہا، شہداء اور صدیقین ہیں مومنین ہیں اور یہ ماقل سے متصل ہے اسی کی ہم معنی روایت نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔ اس اعتبار سے الصدیقون پر وقف نہیں کیا جائے گا، آیت کی تاویل میں یہی حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ قشیری نے کہا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فائولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء و الصلحین (النسائ : 69) صدیقین کا مرتبہ ہی انبیاء کے بعد ہوتا ہے، شہداء ہی وہ لوگ ہیں جو صدیقین کے بعد کا درجہ رکھتے ہیں اور صالحین کا درجہ شہداء کے بعد ہوتا ہے تو یہ جائز ہے کہ یہ آیت ان کے بارے میں ہو جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی میری مراد ہے والذین امنوا باللہ و رسولہ اولئک ھم الصدیقون والشھدآء تو شہداء کا معنی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیں۔ تو ایک صدیق دوسرے صدیق سے درجات میں بلند ہوگا جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جنت اعلی کے مکین اپنے سے کم مرتبہ جنتیوں کو یوں دیکھیں گے جس طرح تم میں سے کوئی ستارے کو آسمان کے افق میں دیکھتا ہے ‘ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاورق ان میں سے اور فضیلت میں بڑھ کر ہیں۔
حضرت ابن مسعود اور مسروق سے روایت مروی ہے کہ شہداء صدیقین کے علاوہ ہیں۔ اس تاویل کی بناء پر شہداء ماقبل سے منفصل ہیں اور وقف اللہ تعالیٰ کے فرمان ال صدیقون پر اچھا ہے۔ والشھدآء عندربھم لھم اجرھم ونورھم کا معنی ہے ان کے لئے ان کے انفس کا اجر اور نور ہوگا۔ ان کے بارے میں دوق ول ہیں۔
(1) وہ رسل ہیں وہ اپنی امتوں کے بارے میں تصدیق اور تکذیب کی گواہی دیں گے۔ یہ کلبی کا قول ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے جئنابک علی ھولاً شھیداً ۔ (النسائ) (2) وہ رسولوں کی امتیں ہیں وہ قیامت کے روز تو گواہی دیں گے جس کے بارے میں گواہی دیں گے اس میں دو قول ہیں (1) وہ اپنے بارے میں گواہی دیں گے جو وہ طاعت و معصیت کا عمل کرتے رہے، یہ مجاہد کے قول کا معنی ہے (2) وہ انبیاء کے بارے میں گواہی دیں گے کہ انہوں اپنی امتوں کو رسالت کی تبلیغ کی، یہ کلبی کا قول ہے۔ مقاتل نے ایک تیسرا قول بھی کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے والے ہیں، اس کی مثل حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ نے اس سے مراد مومنوں کے شہید لئے ہیں۔ وائو ابتداء کی وائو ہے۔ اس قول کی بنا پر صیقین شہداء سے الگ ہیں ان کی تعیین میں اختلاف ہے۔ ضحاک نے کہا : وہ آٹھ افراد ہیں۔ حضرت ابوبر صدیق، حضرت علی شیر خدا، حضرت زید، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت حمزہ، حضرت عمر نے ان کی موافقت کی جب آپ نے نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے ساتھ ملا دیا۔ مقاتل بن حیان نے کہا، صدیقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے، آنکھ جھپکنے کے برابر بھی ان کی تکیذب نہ کی جس طرح آل فرعون کا مومن، صاحب آل یاسین، حضرت ابوبکر صدیق اور اصحاب اخدود (خندقوں والے) ۔
والذین کفرواو کذبوا بایتنا آیات سے مراد رسل اور معجزات ہیں اولئک اصحب الجحیم۔ ان کے لئے نہ اجر ہے اور نہ ہی نور ہے۔