57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

آیت 25 کے فقرے وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْد سے ماخوذ ہے۔

زمانہ نزول

یہ بالاتفاق مدنی سورت ہے اور اس کے مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ غالباً یہ جنگ احد اور صلح حدیبیہ کے درمیان کسی زمانہ میں نازل ہوئی ہے۔ وہی زمانہ تھا جب مدینہ کی مختصر سی اسلامی ریاست کو ہر طرف سے کفار نے اپنے نرغے میں لے رکھا تھا اور سخت بےسرو سامانی کی حالت میں اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پورے عرب کی طاقت کا مقابلہ کر رہی تھی۔ اس حالت میں اسلام کو اپنے پردوں سے صرف جانی قربانی ہی درکار نہ تھی بلکہ مالی قربانی بھی درکار تھی، اور اس سورة میں اسی قربانی کے لیے پر زور اپیل کی گئی ہے۔ اس قیاس کو آیت 10 مزید تقویت پہنچاتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جماعت کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ فتح کے بعد جو لوگ اپنے مال خرچ کریں گے اور خدا کی راہ میں جنگ کریں گے وہ ان لوگوں کے برابر کبھی نہیں ہو سکتے جو فتح سے پہلے جان و مال کی قربانیاں دیں۔ اور اسی کی تائید حضرت اَنَس کی وہ روایت کرتی ہے جسے ابن مردویہ نے نقل کیا ہے اَلَمْ یَأنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُھُمْ لِذِکْرِ اللہِ کے متعلق فرماتے ہیں کہ نزول قرآن کے آغاز سے 17 برس بعد اہل ایمان کو جھنجھوڑنے والی یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حساب سے اس کا زمانہ نزول 4 ھ اور 5 ھ کے درمیان قرار پاتا ہے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین ہے۔ اسلام کی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں، جبکہ عرب کی جاہلیت سے اسلام کا فیصلہ کن معرکہ برپا تھا، یہ سورة اس غرض کے لیے نازل فرمائی گئی تھی کہ مسلمانوں کو خاص طور پر مالی قربانیوں کے لیے آمادہ کیا جائے اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرائی جائے کہ ایمان محض زبانی اقرار اور کچھ ظاہری اعمال کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے دین کے لیے مخلص ہونا اس کی اصل روح اور حقیقت ہے۔ جو شخص اس روح سے خالی ہو اور خدا اور اس کے دین کے مقابلہ میں اپنی جان و مال اور مفاد کو عزیز تر رکھے اس کا اقرار ایمان کھوکھلا ہے جس کی کوئی قدر و قیمت خدا کے ہاں نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں تاکہ سامعین کو اچھی طرح یہ احساس ہوجائے کہ کس عظیم ہستی کی طرف سے ان کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد حسب ذیل مضامین سلسلہ وار ارشاد ہوئے ہیں : ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی راہ خدا میں مال صرف کرنے سے پہلو تہی نہ کرے۔ ایسا کرنا صرف ایمان ہی کے منافی نہیں ہے بلکہ حقیقت کے اعتبار سے بھی غلط ہے۔ کیونکہ یہ مال دراصل خدا ہی کا مال ہے جس پر تم کو خلیفہ کی حیثیت سے تصرف کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ کل یہی مال دوسروں کے پاس تھا، آج تمہارے پاس ہے، اور کل کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔ آخر کار اسے خدا ہی کے پاس رہ جانا ہے جو کائنات کی ہر چیز کا وارث ہے۔ تمہارے کام اس مال کا کوئی حصہ اگر آسکتا ہے تو صرف وہ جسے تم اپنے زمانہ تصرف میں خدا کے کام پر لگا دو ۔ خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا اگرچہ ہر حال میں قابل قدر ہے، مگر ان قربانیوں کی قدر و قیمت مواقع کی نزاکت کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ ایک موقع وہ ہوتا ہے جب کفر کی طاقت بڑی زبردست ہو اور ہر وقت یہ خطرہ ہو کہ کہیں اسلام اس کے مقابلہ میں مغلوب نہ ہوجائے۔ دوسرا موقع وہ ہوتا ہے جب کفر و اسلام کی کشمکش میں اسلام کی طاقت کا پلڑا بھاری ہوجائے اور ایمان کو دشمنان حق کے مقابلہ میں فتح نصیب ہو رہی ہو۔ یہ دونوں حالتیں اپنی اہمیت کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں اس لیے جو قربانیاں ان مختلف حالتوں میں دی جائیں وہ بھی اپنی قیمت میں برابر نہیں ہیں۔ جو لوگ اسلام کے ضعف کی حالت میں اس کو سربلند کرنے کے لیے جانیں لڑائیں اور مال صرف کریں ان کے درجہ کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو اسلام کے غلبے کی حالت میں اس کو مزید فروغ دینے کے لیے جان و مال قربان کریں۔ راہ حق میں جو مال بھی صرف کیا جائے وہ اللہ کے ذمے قرض ہے، اور اللہ اسے نہ صرف یہ کہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس دے گا بلکہ اپنی طرف سے مزید اجر بھی عنایت فرمائے گا۔ آخرت میں نور انہی اہل ایمان کو نصیب ہوگا جنہوں نے راہ خدا میں اپنا مال خرچ کیا ہو۔ رہے وہ منافق جو دنیا میں اپنے ہی مفاد کو دیکھتے رہے اور جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں رہی کہ حق غالب ہوتا ہے یا باطل، وہ خواہ دنیا کی اس زندگی میں مومنوں کے ساتھ ملے جلے رہے ہوں، مگر آخرت میں ان کو مومنوں سے الگ کردیا جائے گا، نور سے وہ محروم ہوں گے اور ان کا حشر کافروں کے ساتھ ہوگا۔ مسلمانوں کو ان اہل کتاب کی طرح نہ ہوجانا چاہیے جن کی عمریں دنیا پرستی میں بیت گئی ہیں اور جن کے دل زمانہ دراز کی غفلتوں سے پتھر ہوگئے ہیں۔ وہ مومن ہی کیا جس کا دل خدا کے ذکر سے نہ پگھلے اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے نہ جھکے۔ اللہ کے نزدیک صدیق اور شہید صرف وہ اہل ایمان ہیں جو اپنا مال کسی جذبہ ریا کے بغیر صدق دل سے اس کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ دنیا کی زندگی محض چند روز کی بہار اور ایک متاع غرور ہے۔ یہاں کا کھیل کود، یہاں کی دلچسپیاں، یہاں کی آرائش و زیبائش، یہاں کی بڑائیوں پر فخر، اور یہاں کا دھن و دولت، جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوششیں کرتے ہیں، سب کچھ ناپائدار ہے۔ اس کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جو پہلے سر سبز ہوتی ہے، پھر زرد پڑجاتی ہے اور آخر کار بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ پائیدار زندگی دراصل آخرت کی زندگی ہے جہاں بڑے نتائج نکلنے والے ہیں۔ تمہیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی ہے تو یہ کوشش جنت کی طرف دوڑنے میں صرف کرو۔ دنیا میں راحت اور مصیبت جو بھی آتی ہے اللہ کے پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق آتی ہے۔ مومن کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ مصیبت آئے تو ہمت نہ ہار بیٹھے، اور راحت آئے تو اترا نہ جائے۔ یہ تو ایک منافق اور کافر کا کردار ہے کہ اللہ اس کو نعمت بخشے تو وہ اپنی جگہ پھول جائے، فخر جتانے لگے، اور اسی نعمت دینے والے خدا کے کام میں خرچ کرتے ہوئے خود بھی تنگ دلی دکھائے اور دوسروں کو بھی بخل کرنے کا مشورہ دے۔ اللہ نے اپنے رسول کھلی کھلی نشانیوں اور کتاب اور میزان عدل کے ساتھ بھیجے تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور اس کے ساتھ لوہا بھی نازل کیا تاکہ حق قائم کرنے اور باطل کا سر نیچا کرنے کے لیے طاقت استعمال کی جائے۔ اس طرح اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ انسانوں میں سے کون لوگ ایسے نکلتے ہیں جو اس کے دین کی حمایت و نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اس کی خاطر جان لڑا دیں۔ یہ مواقع اللہ نے تمہاری اپنی ہی ترقی و سرفرازی کے لیے پیدا کیے ہیں، ورنہ اللہ اپنے کام کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے انبیاء آتے رہے جن کی دعوت سے کچھ لوگ راہ راست پر آئے اور اکثر فاسق بنے رہے۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) آئے جن کی تعلیم سے لوگوں میں بہت سی اخلاقی خوبیاں پیدا ہوئیں، مگر ان کی امت نے رہبانیت کی بدعت اختیار کرلی۔ اب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا ہے۔ ان پر جو لوگ ایمان لائیں گے اور خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں گے، اللہ ان کو اپنی رحمت کا دہرا حصہ دے گا اور انہیں وہ نور بخشے گا جس سے دنیا کی زندگی میں وہ ہر ہر قدم پر ٹیڑھے راستوں کے درمیان سیدھی راہ صاف دیکھ کر چل سکیں گے۔ اہل کتاب چاہے اپنے آپ کو اللہ کے فضل کا ٹھیکہ دار سمجھتے رہیں، مگر اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، اسے اختیار ہے جسے چاہے اپنے فضل سے نواز دے۔ یہ ہے ان مضامین کا خلاصہ جو اس سورت میں ایک ترتیب کے ساتھ مسلسل بیان ہوئے ہیں۔

Ayahs 57:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے، 1 اور وہی زبر دست دانا ہے۔ 2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

سورة الْحَدِیْد 1 یعنی ہمیشہ کائنات کی ہر چیز نے اس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا ہے کہ اس کا خالق و پروردگار ہر عیب اور نقص اور کمزوری اور خطا اور برائی سے پاک ہے۔ اس کی ذات پاک ہے، اس کی صفات پاک ہیں، اس کے افعال پاک ہیں، اور اس کے احکام بھی، خواہ وہ تکوینی احکام ہوں یا شرعی، سراسر پاک ہیں۔ یہاں سَبَّحَ صیغہ ماضی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض دوسرے مقامات پر یُسَبِّحُ صیغہ مضارع استعمال ہوا ہے جس میں حال اور مستقبل دونوں کا مفہوم شامل ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہمیشہ اپنے خالق و رب کی پاکی بیان کرتا رہا ہے، آج بھی کر رہا ہے، اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔ سورة الْحَدِیْد 2 اصل الفاظ ہیں ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ لفظ ھُوَ کو پہلے لانے سے خود بخود حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے، یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ عزیز اور حکیم ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہی ایسی ہستی ہے جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ عزیز کے معنی ہیں ایسا زبردست اور قادر و قاہر جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی، جس کی مزاحمت کسی کے بس میں نہیں ہے، جس کی اطاعت ہر ایک کو کرنی ہی پڑتی ہے خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے، جس کی نافرمانی کرنے والا اس کی پکڑ سے کسی طرح بچ ہی نہیں سکتا۔ اور حکیم کے معنی یہ ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے حکمت اور دانائی کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کی تخلیق، اس کی تدبیر، اس کی فرمانروائی، اس کے احکام، اس کی ہدایات، سب حکمت پر مبنی ہیں۔ اس کے کسی کام میں نادانی اور حماقت و جہالت کا شائبہ تک نہیں ہے۔ اس مقام پر ایک لطیف نکتہ اور بھی ہے جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ قرآن مجید میں کم ہی مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ قوی، مقتدر، جبار اور ذو انتقام جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن سے محض اس کے اقتدار مطلق کا اظہار ہوتا ہے، اور یہ صرف ان مواقع پر ہوا ہے جہاں سلسلہ کلام اس بات کا متقاضی تھا کہ ظالموں اور نافرمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا جائے۔ اس طرح کے چند مقامات کو چھوڑ کر باقی جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے عزیز کا لفاظ استعمال کیا گیا ہے، وہاں اس کے ساتھ حکیم، علیم، رحیم، غفور، وہاب اور حمید میں سے کوئی لفظ ضرور لایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہستی ایسی ہو جسے بےپناہ طاقت حاصل ہو مگر اس کے ساتھ وہ نادان ہو، جاہل ہو، بےرحم ہو، در گزر اور معاف کرنا جانتی ہی نہ ہو، بخیل ہو، اور بدسیرت ہو تو اس کے اقتدار کا نتیجہ ظلم کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو رہا ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ جس شخص کو دوسروں پر بالاتری حاصل ہے وہ یا تو اپنی طاقت کو نادانی اور جہالت کے ساتھ استعمال کر رہا ہے، یا وہ بےرحم اور سنگدل ہے، یا بخیل اور تنگ دل ہے، یا بد خو اور بد کردار ہے، طاقت کے ساتھ ان بری صفات کا اجتماع جہاں بھی ہو وہاں کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اسی لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ اس کے حکیم وعلیم اور رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہونے کا ذکر لازماً کیا گیا ہے تاکہ انسان یہ جان لے کہ جو خدا اس کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے وہ ایک طرف تو ایسا کامل اقتدار رکھتا ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک کوئی اس کے فیصلوں کو نافذ ہونے سے روک نہیں سکتا، مگر دوسری طرف وہ حکیم بھی ہے، اس کا ہر فیصلہ سراسر دانائی پر مبنی ہوتا ہے۔ علیم بھی ہے، جو فیصلہ بھی کرتا ہے ٹھیک ٹھیک علم کے مطابق کرتا ہے۔ رحیم بھی ہے، اپنے بےپناہ اقتدا کو بےرحمی کے ساتھ استعمال نہیں کرتا۔ غفور بھی ہے، اپنے زیر دستوں کے ساتھ خردہ گیری کا نہیں بلکہ چشم پوشی و درگزر کا معاملہ کرتا ہے۔ وہاب بھی ہے، اپنی رعیت کے ساتھ بخیلی کا نہیں بلکہ بےانتہا فیاضی کا برتاؤ کر رہا ہے۔ اور حمید بھی ہے، تمام قابل تعریف صفات و کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔ قرآن کے اس بیان کی پوری اہمیت وہ لوگ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو حاکمیت (Sovereignty) کے مسئلے پر فلسفہ سیاست اور فلسفہ قانون کی بحثوں سے واقف ہیں۔ حاکمیت نام ہی اس چیز کا ہے کہ صاحب حاکمیت غیر محدود اقتدار کا مالک ہو، کوئی داخلی و خارجی طاقت اس کے حکم اور فیصلے کو نفاذ سے روکنے، یا اس کو بدلنے، یا اس پر نظر ثانی کرنے والی نہ ہو، اور کسی کے لیے اس کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو۔ اس غیر محدود اقتدار کا تصور کرتے ہی انسانی عقل لازماً یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایسا اقتدار جس کو بھی حاصل ہو اسے بےعیب اور علم و حکمت میں کامل ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر اس اقتدار کا حامل نادان، جاہل، بےرحم، اور بدخو ہو تو اس کی حاکمیت سراسر ظلم و فساد ہوگی۔ اسی لیے جن فلسفیوں نے کسی انسان، یا انسانی ادارے، یا انسانوں کے مجموعے کو حاکمیت کا حامل قرار دیا ہے ان کو یہ فرض کرنا پڑا ہے کہ وہ غلطی سے مبرا ہوگا۔ مگر ظاہر ہے کہ نہ تو غیر محدود حاکمیت فی الواقع کسی انسانی اقتدار کو حاصل ہو سکتی ہے، اور نہ یہی ممکن ہے کہ کسی بادشاہ، یا پارلیمنٹ، یا قوم، یا پارٹی کو ایک محدود دائرے میں جو حاکمیت حاصل ہو اسے وہ بےعیب اور بےخطا طریقے سے استعمال کرسکے۔ اس لیے کہ ایسی حکمت جس میں نادانی کا شائبہ نہ ہو اور ایسا علم جو تمام متعلقہ حقائق پر حاوی ہو، سرے سے پوری نوع انسانی ہی کو حاصل نہیں ہے کجا کہ وہ انسانوں میں سے کسی شخص یا ادارے یا قوم کو نصیب ہوجائے۔ اور اسی طرح انسان جب تک انسان ہے اس کا خود غرضی، نفسانیت، خوف، لالچ، خواہشات، تعصب، اور جذباتی رضا و غضب اور محبت و نفرت سے بالکل پاک اور بالاتر ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھ کر غور کرے تو اسے محسوس ہوگا کہ قرآن اپنے اس بیان میں درحقیقت حاکمیت کا بالکل صحیح اور مکمل تصور پیش کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ " عزیز " یعنی اقتدار مطلق کا حامل اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے، اور اس غیر محدود اقتدار کے ساتھ وہی ایک ہستی ایسی ہے جو بےعیب ہے، حکیم وعلیم ہے، رحیم و غفور ہے اور حمید و وہاب ہے۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اوّل بھی ہے اور آخر بھی ، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، 3 اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

سورة الْحَدِیْد 3 یعنی جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہ رہے تو وہ رہے گا۔ وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے، کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور ہے اسی کی صفات اور اسی کے افعال اور اسی کے نور کا ظہور ہے۔ اور وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے، کیونکہ حواس سے اس کی ذات کو محسوس کرنا تو درکنار، عقل و فکر و خیال تک اس کی کنہ و حقیقت کو نہیں پاسکتے۔ اس کی بہترین تفسیر نبی ﷺ کی ایک دعا کے یہ الفاظ ہیں جنہیں امام احمد، مسلم، ترمذی، اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے اور حافظ ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے انت الاول فلیس قبلک شیءٍ تو ہی پہلا ہے، کوئی تجھ سے پہلے نہیں وانت الاٰخر فلیس بعدک شیءٍ تو ہی آخر ہے، کوئی تیرے بعد نہیں و انت الظاھر فلیس فوقک شئٍ تو ہی ظاہر ہے کوئی تجھ سے اوپر نہیں و انت الباطن فلیس دونک شئٍ تو ہی باطن ہے، کوئی تجھ سے مخفی تر نہیں یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے لیے خلود اور ابدی زندگی کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کے ساتھ یہ بات کیسے نبھ سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخر ہے، یعنی جب کچھ نہ رہے گا تو وہ رہے گا ؟ اس کا جواب خود قرآن مجید ہی میں موجود ہے کہ کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہ (القصص۔ 88)۔ یعنی " ہر چیز فانی ہے اللہ کی ذات کے سوا "۔ دوسرے الفاظ میں ذاتی بقا کسی مخلوق کے لیے نہیں ہے۔ اگر کوئی چیز باقی ہے یا باقی رہے تو وہ اللہ کے باقی رکھنے ہی سے باقی ہے۔ اور اس کے باقی رکھنے ہی سے باقی رہ سکتی ہے، ورنہ بذات خود اس کے سوا سب فانی ہیں۔ جنت اور دوزخ میں کسی کو خلود اس لیے نہیں ملے گا کہ وہ بجائے خود غیر فانی ہے، بلکہ اس لیے ملے گا کہ اللہ اس کو حیات ابدی عطا فرمائے گا۔ یہی معاملہ فرشتوں کا بھی ہے کہ وہ بذات خود غیر فانی نہیں ہیں۔ جب اللہ نے چاہا تو وہ وجود میں آئے، اور جب تک وہ چاہے اسی وقت تک وہ موجود رہ سکتے ہیں۔
Ayahs 57:4–6

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ 4 اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتاہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے۔ 5 وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ 6 جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اُسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

سورة الْحَدِیْد 4 یعنی کائنات کا خالق بھی وہی ہے اور فرمانروا بھی وہی (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 41۔ 42 یونس، حاشیہ 4۔ الرعد، حواشی 2 تا 5۔ جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 11 تا 15)۔ سورة الْحَدِیْد 5 بالفاظ دیگر وہ محض کلیات ہی کا عالم نہیں ہے بلکہ جزئیات کا علم بھی رکھتا ہے۔ ایک ایک دانہ جو زمین کی تہوں میں جاتا ہے، ایک ایک پتی اور کونپل جو زمین سے پھوٹتی ہے، بارش کا ایک ایک قطرہ جو آسمان سے گرتا ہے، اور بخارات کی ہر مقدر جو سمندروں اور جھیلوں سے اٹھ کر آسمان کی طرف جاتی ہے، اس کی نگاہ میں ہے اس کو معلوم ہے کہ کونسا دانہ زمین میں کس جگہ پڑا ہے، تبھی تو وہ اسے پھاڑ کر اس میں سے کونپل نکالتا ہے اور اسے پرورش کر کے بڑھاتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ بخارات کی کتنی کتنی مقدار کہاں کہاں سے اٹھی ہے اور کہاں پہنچی ہے، تبھی تو وہ ان سب کو جمع کر کے بادل بناتا ہے اور زمین کے مختلف حصوں پر بانٹ کر ہر جگہ ایک حساب سے بارش برساتا ہے۔ اسی پر ان دوسری تمام چیزوں کی تفصیلات کو قیاس کیا جاسکتا ہے جو زمین میں جاتی اور اس سے نکلتی ہیں اور آسمان کی طرف چڑھتی اور اس سے نازل ہوتی ہیں۔ ان سب پر اللہ کا علم حاوی نہ ہو تو ہر چیز کی علیٰحدہ علیٰحدہ تدبیر اور ہر ایک کا انتہائی حکیمانہ طریقہ سے انتظام کیسے ممکن ہے۔ سورة الْحَدِیْد 6 یعنی کسی جگہ بھی تم اس کے علم، اس کی قدرت، اس کی فرمانروائی اور اس کی تدبیر و انتظام سے باہر نہیں ہو۔ زمین میں، ہوا میں، پانی میں، یا کسی گوشہ تنہائی میں، جہاں بھی تم ہو، اللہ کو معلوم ہے کہ تم کہاں ہو۔ وہاں تمہارا زندہ ہونا بجائے خود اس کی علامت ہے کہ اللہ اسی جگہ تمہاری زندگی کا سامان کر رہا ہے۔ تمہارا دل اگر دھڑک رہا ہے۔ تمہارے پھیپھڑے اگر سانس لے رہے ہیں، تمہاری سماعت اور بینائی اگر کام کر رہی ہے تو یہ سب کچھ اسی وجہ سے ہے کہ اللہ کے انتظام سے تمہارے جسم کے سب کل پرزے چل رہے ہیں۔ اور اگر کسی جگہ بھی تمہیں موت آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے بقا کا انتظام ختم کر کے تمہیں واپس بلا لینے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

ایمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسول پر 7 اور خرچ کرو 8 اُن چیزوں میں سے جن پر اُس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے۔ 9 جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے 10 ان کے لیے بڑا اجر ہے

سورة الْحَدِیْد 7 یہ خطاب غیر مسلموں سے نہیں ہے، بلکہ بعد کی پوری تقریر یہ ظاہر کر رہی ہے کہ مخاطب وہ مسلمان ہیں جو کلمہ اسلام کا اقرار کر کے ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہوچکے تھے، مگر ایمان کے تقاضے پورے کرنے اور مومن کا سا طرز عمل اختیار کرنے سے پہلو تہی کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت دینے کے ساتھ ہی فوراً ان سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے مصارف میں دل کھول کر اپنی حصہ ادا کرو، اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم میں سے جو فتح سے پہلے جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ کرے گا اس کا درجہ ان لوگوں سے بلند تر ہوگا جو بعد میں یہ خدمات انجام دیں گے۔ غیر مسلم کو دعوت ایمان دینے کی صورت میں تو پہلے اس کے سامنے ایمان کے ابتدائی تقاضے پیش کیے جاتے ہیں نہ کہ انتہائی۔ اس لیے فحوائے کلام کے لحاظ سے یہاں اٰمِنُوْا باللہِ وِرَسْوْلِہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوگئے ہو، اللہ اور اس کے رسول کو سچے دل سے مانو اور وہ طرز عمل اختیار کرو جو اخلاص کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ سورة الْحَدِیْد 8 اس مقام پر خرچ کرنے سے مراد عام بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا نہیں ہے، بلکہ آیت نمبر 10 کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں اس سے مراد اس جد و جہد کے مصارف میں حصہ لینا ہے جو اس وقت کفر کے مقابلے میں اسلام کو سر بلند کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں برپا تھی۔ خاص طور پر دو ضرورتیں اس وقت ایسی تھیں جن کے لیے اسلامی حکومت کو مالی مدد کی سخت حاجت در پیش تھی ایک، جنگی ضروریات۔ دوسرے، ان مظلوم مسلمانوں کو سہارا دینا جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر عرب کے ہر حصے سے ہجرت کر کے مدینے آئے تھے اور آ رہے تھے۔ مخلص اہل ایمان ان مصارف کو پورا کرنے کے لیے اپنی ذات پر اتنا بوجھ برداشت کر رہے تھے جو ان کی طاقت اور وسعت سے بہت زیادہ تھا، اور اسی چیز کی داد ان کو آگے آیات 10۔ 12۔ 18۔ اور 19 میں دی گئی ہے۔ لیکن مسلمانوں کے گروہ میں بکثرت اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ ایسے موجود تھے جو کفر و اسلام کی اس کشمکش کو محض تماشائی بن کر دیکھ رہے تھے اور اس بات کا انہیں کوئی احساس نہ تھا کہ جس چیز پر ایمان لانے کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں اس کے کچھ حقوق بھی ان کی جان و مال پر عائد ہوتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اس آیت کے مخاطب ہیں۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ سچے مومن بنو اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ سورة الْحَدِیْد 9 اس کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد بھی ہیں۔ ایک مطلب یہ ہے کہ جو مال تمہارے پاس ہے یہ دراصل تمہارا ذاتی مال نہیں بلکہ اللہ کا بخشا ہوا مال ہے۔ تم بذات خود اس کے مال نہیں ہو، اللہ نے اپنے خلیفہ کی حیثیت سے یہ تمہارے تصرف میں دیا ہے۔ لہٰذا مال کے اصل مالک کی خدمت میں اسے صرف کرنے سے دریغ نہ کرو۔ نائب کا یہ کام نہیں ہے کہ مالک کے مال کو مالک ہی کے کام میں خرچ کرنے سے جی چرائے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ مال نہ ہمیشہ سے تمہارے پاس تھا نہ ہمیشہ تمہارے پاس رہنے والا ہے۔ کل یہ کچھ دوسرے لوگوں کے پاس تھا، پھر اللہ نے تم کو ان کا جانشین بنا کر اسے تمہارے حوالہ کیا، پھر ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ تمہارے پاس نہ رہے گا اور کچھ دوسرے لوگ اس پر تمہارے جانشین بن جائیں گے۔ اس عارضی جانشینی کی تھوڑی سی مدت میں، جبکہ یہ تمہارے قبض و تصرف میں ہے، اسے اللہ کے کام میں خرچ کرو، تاکہ آخرت میں اس کا مستقل اور دائمی اجر تمہیں حاصل ہو۔ یہی بات ہے جس کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے۔ ترمذی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے ہاں ایک بکری ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا گیا۔ آپ گھر میں تشریف لائے تو پوچھا بکری میں سے کیا باقی رہا ؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا مابَقِیَ الّا کَتِفُھا " ایک شانے کے سوا کچھ نہیں بچا " فرمایا بقی کلّھا غیر کتفھا " ایک شانہ کے سوا ساری بکری بچ گئی " یعنی جو کچھ خدا کی راہ میں صرف ہوا وہی دراصل باقی رہ گیا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ کس صدقے کا اجر سب سے زیادہ ہے ؟ فرمایا اَنْ تَصَدَّقَ وانت صحیح شحیح تخشی الفقر و تأمَلُ الغِنیٰ ، ولا تُمْھِل حتّیٰ اذا بلغت الحلقوم قلت لفلان کذا ولفلان کذا وقد کان لفلان۔ " یہ کہ تو صدقہ کرے اس حال میں کہ تو صحیح و تندرست ہو، مال کی کمی کے باعث اسے بچا کر رکھنے کی ضرورت محسوس کرتا ہو اور اسے کسی کام میں لگا کر زیادہ کما لینے کی امید رکھتا ہو۔ اس وقت کا انتظار نہ کر کہ جب جان نکلنے لگے تو تو کہے کہ یہ فلاں کو دیا جائے اور یہ فلاں کو۔ اس وقت تو یہ مال فلاں کو جانا ہی ہے "۔ (بخاری و مسلم)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا یقول ابن اٰدم مالی مالی، وھل لک من مالک الا ما اکلت فافنیت، او لبست فابلیتَ ، او تصدقت فامضیت ؟ وما سویٰ ذٰلک فذاھب و تارکہ للناس۔ " آدمی کہتا ہے میرا مال، میرا مال۔ حالانکہ تیرے مال میں سے تیرا حصہ اس کے سوا کیا ہے جو تو نے کھا کر ختم کردیا، یا پہن کر پرانا کردیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا ؟ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانے والا ہے اور تو اسے دوسروں کے لیے چھوڑ جانے والا ہے " (مسلم)۔ سورة الْحَدِیْد 10 یہاں پھر جہاد میں مال خرچ کرنے کو ایمان کا لازمی تقاضا اور اخلاص فی الایمان کی ضروری علامت قرار دیا گیا ہے۔ بالفاظ دیگر، گویا یہ فرمایا گیا ہے کہ حقیقی اور مخلص مومن وہی ہے جو ایسے موقع پر مال صرف کرنے سے جی نہ چرائے۔
Ayahs 57:8–9

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتےحالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے 11 اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے 12 اگر تم واقعی ماننے والے ہو

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے

سورة الْحَدِیْد 11 یعنی تم یہ غیر ایمانی روش اس حالت میں اختیار کر رہے ہو کہ اللہ کا رسول خود تمہارے درمیان موجود ہے اور دعوت ایمانی تمہیں کسی دور دراز واسطے سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ کے رسول کی زبان سے پہنچ رہی ہے۔ سورة الْحَدِیْد 12 بعض مفسرین نے اس عہد سے مراد اللہ کی بندگی کا وہ عہد لیا ہے جو ابتدائے آفرینش میں آدم ؑ کی پشت سے ان کی ذریت کو نکال کرلیا گیا تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد وہ عہد لیا ہے جو ہر انسان کی فطرت اور اس کی فطری عقل میں اللہ کی بندگی کے لیے موجود ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا وہ شعوری عہد ہے جو ہر مسلمان ایمان لا کر اپنے رب سے باندھتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ اس عہد کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ وَاذکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاتَّقُواللہَ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُورِ (المائدہ۔ 7) یاد رکھو اس نعمت کو جو اللہ نے تم کو عطا کی ہے اور اس عہد و پیمان کو جو اللہ نے تم سے لیا ہے، جبکہ تم نے کہا " ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی " اور اللہ سے ڈرو اللہ دلوں کا حال جانتا ہے۔ حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ بَایَعْنَا رَسُوْل اللہ ﷺ علی السمع والطاعۃ فی النشاط والکسل و علی النفقۃ فی العسر و الیُسر و علی الامر بالمعروف و النھی عن المنکر و علی ان نقول فی اللہ تعالیٰ و لا نخاف لَوْمَۃَ لَا ئمٍ (مسند احمد) رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ ہم چستی اور سستی، ہر حال میں سمع وطاعت پر قائم رہیں گے، خوشحالی اور تنگ حالی، دونوں حالتوں میں راہ خدا پر خرچ کریں گے، نیکی کا حکم سنیں گے اور بدی سے منع کریں گے، اللہ کی خاطر حق بات کہیں گے اور اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

آخر کیا وجہ ہےکہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ 13 تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے۔ اُن کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔ 14 جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے۔ 15

سورة الْحَدِیْد 13 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مال تمہارے پاس ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔ ایک دن تمہیں لازماً اسے چھوڑ کر ہی جانا ہے اور اللہ ہی اس کا وارث ہونے والا ہے، پھر کیوں نہ اپنی زندگی میں اسے اپنے ہاتھ سے اللہ کی راہ میں خرچ کردو تاکہ اللہ کے ہاں اس کا اجر تمہارے لیے ثابت ہوجائے۔ نہ خرچ کرو گے تب بھی یہ اللہ ہی کے پاس واپس جا کر رہے گا، البتہ فرق یہ ہوگا کہ اس پر تم کسی اجر کے مستحق نہ ہو گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے تم کو کسی فقر اور تنگ دستی کا اندیشہ لاحق نہ ہونا چاہیے، کیونکہ جس خدا کی خاطر تم اسے خرچ کرو گے وہ زمین و آسمان کے سارے خزانوں کا مالک ہے، اس کے پاس تمہیں دینے کو بس اتنا ہی کچھ نہ تھا جو اس نے آج تمہیں دے رکھا ہے، بلکہ کل وہ تمہیں اس سے بہت زیادہ دے سکتا ہے یہی بات دوسری جگہ اس طرح فرمائی گئی ہے قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الِّرزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ وَیَقْدِرُ لَہٗ ، وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَھُوَ یُخْلِفُہ وَھُوَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ (سبا۔ 39)۔ اے نبی، ان سے کہو کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اس کی جگہ وہی مزید رزق تمہیں دیتا ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔ سورة الْحَدِیْد 14 یعنی اجر کے مستحق تو دونوں ہی ہیں، لیکن ایک گروہ کا رتبہ دوسرے گروہ سے لازماً بلند تر ہے، کیونکہ اس نے زیادہ سخت حالات میں اللہ تعالیٰ کی خاطر وہ خطرات مول لیے جو دوسرے گروہ کو در پیش نہ تھے۔ اس نے ایسی حالت میں مال خرچ کیا جب دور دور کہیں یہ امکان نظر نہ آتا تھا کہ کبھی فتوحات سے اس خرچ کی تلافی ہوجائے گی، اور اس نے ایسے نازک دور میں کفار سے جنگ کی جب ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ دشمن غالب آ کر اسلام کا نام لینے والوں کو پیس ڈالیں گے۔ مفسرین میں سے مجاہد، قَتَادہ اور زید بن اسلم کہتے ہیں کہ اس آیت میں جس چیز کے لیے لفظ " فتح " استعمال کیا گیا ہے اس کا اطلاق فتح مکہ پر ہوتا ہے، اور عامر شعبی کہتے ہیں کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ پہلے قول کو اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے، اور دوسرے قول کی تائید میں حضرت ابو سعید خدری کی یہ روایت پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے صلح حدیبیہ کے زمانہ میں فرمایا، عنقریب ایسے لوگ آنے والے ہیں جن کے اعمال کو دیکھ کر تم لوگ اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے، مگر لو کان لاحدھم جبل من ذھب فانفقہ ما ادرک مد احدکم ولا نصیفہ۔ " ان میں سے کسی کے پاس پہاڑ برابر بھی سونا ہو اور وہ سارا کا سارا خدا کی راہ میں خرچ کر دے تو وہ تمہارے دور طل بلکہ ایک رطل خرچ کرنے کے برابر بھی نہ پہنچ سکے گا " (ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابو نعیم اصفہانی)۔ نیز اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد نے حضرت انس سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ دوران نزاع میں حضرت خالد نے حضرت عبد الرحمٰن سے کہا " تم لوگ اپنی پچھلی خدمات کی بنا پر ہم سے دوں کی لیتے ہو "۔ یہ بات جب نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا " اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم لوگ احد کے برابر، یا پہاڑوں کے برابر سونا بھی خرچ کرو تو ان لوگوں کے اعمال کو نہ پہنچ سکو گے ’‘۔ اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ حضرت خالد اسی صلح کے بعد ایمان لائے تھے اور فتح مکہ میں شریک تھے۔ لیکن اس خاص موقع پر فتح سے مراد خواہ صلح حدیبیہ لی جائے یا فتح مکہ، بہرحال اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ درجات کا یہ فرق بس اسی ایک فتح پر ختم ہوگیا ہے۔ بلکہ اصولاً اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کبھی اسلام پر ایسا کوئی وقت آجائے جس میں کفر اور کفار کا پلڑا بہت بھاری ہو اور بظاہر اسلام کے غلبہ کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے ہوں، اس وقت جو لوگ اسلام کی حمایت میں جانیں لڑائیں اور مال خرچ کریں ان کے مرتبے کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو کفر و اسلام کی کشمکش کا فیصلہ اسلام کے حق میں ہوجانے کے بعد قربانیاں دیں۔ سورة الْحَدِیْد 15 یعنی اللہ جس کو جو اجر اور مرتبہ بھی دیتا ہے یہ دیکھ کردیتا ہے کہ کس نے کن حالات میں کس جذبے کے ساتھ کیا عمل کیا ہے۔ اس کی بانٹ اندھی بانٹ نہیں ہے۔ وہ ہر ایک کا درجہ اور اس کے عمل کا اجر پوری باخبری کے ساتھ تعین کرتا ہے۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گُنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے 16

سورة الْحَدِیْد 16 یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ آدمی اگر اس کے بخشے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں صرف کرے تو اسے وہ اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے، بشرطیکہ وہ قرض حسن (اچھا قرض) ہو، یعنی خالص نیت کے ساتھ کسی ذاتی غرض کے بغیر دیا جائے، کسی قسم کی ریا کاری اور شہرت و ناموری کی طلب اس میں شامل نہ ہو، اسے دے کر کسی پر احسان نہ جتایا جائے، اس کا دینے والا صرف اللہ کی رضا کے لیے دے اور اس کے سوا کسی کے اجر اور کسی کی خوشنودی پر نگاہ نہ رکھے۔ اس قرض کے متعلق اللہ کے دو وعدے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس کو کئی بڑھا چڑھا کر واپس دے گا، دوسرے یہ کہ وہ اس پر اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا فرمائے گا۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضور کی زبان مبارک سے لوگوں نے اس کو سنا تو حضرت ابو الدحداح انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے ؟ حضور نے جواب دیا، ہاں، اے ابو الدحداح۔ انہوں نے کہا، ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھایئے۔ آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا۔ انہوں نے آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا " میں نے اپنے رب کو اپنا باغ قرض میں دے دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے 600 درخت تھے، اسی میں ان کا گھر تھا، وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کر کے وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا ‘’ دحداح کی ماں، نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے " وہ بولیں " تم نے نفع کا سودا کیا دحداح کے باپ "، اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں (ابن ابی حاتم)۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخلص اہل ایمان کا طرز عمل اس وقت کیا تھا، اور اسی سے یہ بات بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ کیسا قرض حسن ہے جسے کئی گنا بڑھا کر واپس دینے اور پھر اوپر سے اجر کریم عطا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھوگے کہ ان کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔ 17 (ان سے کہا جائے گاکہ) ”آج بشارت ہے تمہارے لیے“۔ جنتیں ہونگی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہونگی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی کامیابی

سورة الْحَدِیْد 17 اس آیت اور بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں نور صرف مومنین صالحین کے لیے مخصوص ہوگا، رہے کفار و منافقین اور فساق و فجار، تو وہ وہاں بھی اسی طرح تاریکی میں بھٹک رہے ہوں گے جس طرح دنیا میں بھٹکتے رہے تھے۔ وہاں روشنی جو کچھ بھی ہوگی، صالح عقیدے اور صالح عمل کی ہوگی۔ ایمان کی صداقت اور سیرت و کردار کی پاکیزگی ہی نور میں تبدیل ہوجائے گی جس سے نیک بندوں کی شخصیت جگمگا اٹھے گی جس شخص کا عمل جتنا تابندہ ہوگا اس کے وجود کی روشنی اتنی ہی زیادہ تیز ہوگی اور جب وہ میدان حشر سے جنت کی طرف چلے گا تو اس کا نور اس کے آگے آگے دوڑ رہا ہوگا۔ اس کی بہترین تشریح قتادہ کی وہ مرسل روایت ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " کسی کا نور اتنا تیز ہوگا کہ مدینہ سے عدن تک کی مسافت کے برابر فاصلے تک پہنچ رہا ہوگا، اور کسی کو نور مدینہ سے صنعاء تک، اور کسی کا اس سے کم، یہاں تک کہ کوئی مومن ایسا بھی ہوگا جس کا نور اس کے قدموں سے آگے نہ بڑھے گا " (ابن جریر)۔ بالفاظ دیگر جس کی ذات سے دنیا میں جتنی بھلائی پھیلی ہوگی اس کا نور اتنا ہی تیز ہوگا، اور جہاں جہاں تک دنیا میں اس کی بھلائی پہنچی ہوگی میدان حشر میں اتنی ہی مسافت تک اس کے نور کی شعاعیں دوڑ رہی ہوں گی۔ یہاں ایک سوال آدمی کے ذہن میں کھٹک پیدا کرسکتا ہے۔ وہ یہ کہ آگے آ گے نور کا دوڑنا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر نور کا صرف دائیں جانب دوڑنا کیا معنی ؟ کیا ان کے بائیں جانب تاریکی ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک شخص اپنے دائیں ہاتھ پر روشنی لیے ہوئے چل رہا ہو تو اس سے روشن تو بائیں جانب بھی ہوگی مگر امر واقعہ یہی ہوگا کہ روشنی اس کے دائیں ہاتھ پر ہے۔ اس بات کی وضاحت نبی ﷺ کی وہ حدیث کرتی ہے جسے حضرت ابوذر اور ابوالدرداء نے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا اعرفہم بنورھم الذی یسعیٰ بین ایدیھم و عن ایمانہم و عن شمائلہم " میں اپنی امت کے صالحین کو وہاں ان کے اس نور سے پہچانوں گا جو ان کے آگے اور ان کے دائیں اور بائیں دوڑ رہا ہوگا " (حاکم، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نُور سے کچھ فائدہ اُٹھائیں، 18 مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ 19

سورة الْحَدِیْد 18 مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان جب جنت کی طرف جا رہے ہونگے تو روشنی ان کے آگے ہوگی اور پیچھے منافقین اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہونگے۔ اس وقت وہ ان اہل ایمان کو جو دنیا میں ان کے ساتھ ایک ہی مسلم معاشرے میں رہتے تھے، پکار پکار کر کہیں گے کہ ذرا ہماری طرف پلٹ کر دیکھو تاکہ ہمیں بھی کچھ روشنی مل جائے۔ سورة الْحَدِیْد 19 اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل جنت اس دروازے سے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور دروازہ بند کردیا جائیگا۔ دروازے کے ایک طرف جنت کی نعمتیں ہونگی، اور دوسری طرف دوزخ کا عذاب۔ منافقین کے لیے اس حد فاصل کو پار کرنا ممکن نہ ہوگا جو ان کے اور جنت کے درمیان حائل ہوگی۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ 20 مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، 21 موقع پرستی کی، 22 شک میں پڑے رہے، 23 اور جُھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، 24 یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز 25 تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتارہا

سورة الْحَدِیْد 20 یعنی کیا ہم تمہارے ساتھ ایک ہی مسلم معاشرے میں شامل نہ تھے ؟ کیا ہم کلمہ گو نہ تھے ؟ کیا تمہاری طرح ہم بھی نمازیں نہ پڑھتے تھے ؟ روزے نہ رکھتے تھے ؟ حج اور زکوٰۃ ادا نہ کرتے تھے ؟ کیا تمہاری مجلسوں میں ہم شریک نہ ہوتے تھے ؟ تمہارے ساتھ ہمارے شادی بیاہ اور رشتہ داری کے تعلقات نہ تھے ؟ پھر آج ہمارے اور تمہارے درمیان یہ جدائی کیسی پڑگئی ؟ سورة الْحَدِیْد 21 یعنی مسلمان ہو کر بھی تم مخلص مسلمان نہ بنے، ایمان اور کفر کے درمیان لٹکتے رہے، کفر اور کفار سے تمہاری دلچسپیاں کبھی ختم نہ ہوئیں، اور اسلام سے تم نے کبھی اپنے آپ کو پوری طرح وابستہ نہ کیا۔ سورة الْحَدِیْد 22 اصل الفاظ ہیں تَرَبَّصْتُمْ۔ تَرَبُّص عربی زبان میں انتظار کرنے اور موقع کی تلاش میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔ جب کوئی شخص دو راستوں میں سے کسی ایک پر جانے کا قطعی فیصلہ نہ کرے، بلکہ اس فکر میں کھڑا ہو کہ جدھر جانا مفید ہوتا نظر آئے اسی طرف چل پڑے، تو کہا جائے گا کہ وہ تربص میں مبتلا ہے۔ منافقین نے کفر و اسلام کی کشمکش کے اس نازک دور میں یہی رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ وہ نہ کھل کر کفر کا ساتھ دے رہے تھے، نہ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی طاقت اسلام کی نصرت و حمایت میں صرف کر رہے تھے۔ بس اپنی جگہ بیٹھے یہ دیکھ رہے تھے کہ اس قوت آزمائی میں آخر کار پلڑا کدھر جھکتا ہے، تاکہ اسلام کامیاب ہوتا نظر آئے تو اس کی طرف جھک جائیں اور اس وقت مسلمانوں کے ساتھ کلمہ گوئی کا تعلق ان کے کام آئے، اور کفر کو غلبہ حاصل ہو تو اس کے حامیوں سے جا ملیں اور اسلام کی طرف سے جنگ میں کسی قسم کا حصہ نہ لینا اس وقت ان کے حق میں مفید ثابت ہو۔ سورة الْحَدِیْد 23 اس سے مراد مختلف قسم کے شکوک میں جو ایک منافق کو لاحق ہوتے ہیں، اور وہی اس کی منافقت کا اصل سبب ہوا کرتے ہیں۔ اسے خدا کی ہستی میں شک ہوتا ہے۔ قرآن کے کتاب اللہ ہونے میں شک ہوتا ہے۔ آخرت اور وہاں کی باز پرس اور جزا و سزا میں شک ہوتا ہے اور اس امر میں شک ہوتا ہے کہ حق اور باطل کا یہ جھگڑا واقعی کوئی حقیقت بھی رکھتا ہے یا یہ سب محض ڈھکوسلے ہیں اور اصل چیز بس یہ ہے کہ خوش باش دمے کہ زندگانی این است۔ کوئی شخص جب تک ان شکوک میں مبتلا نہ ہو وہ کبھی منافق نہیں ہو سکتا۔ سورة الْحَدِیْد 24 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک کہ تم کو موت آگئی اور مرتے دم تک تم اس فریب سے نہ نکلے۔ دوسرے یہ کہ اسلام کو غلبہ نصیب ہوگیا اور تم تماشا دیکھتے رہ گئے۔ سورة الْحَدِیْد 25 مراد ہے شیطان۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

لہذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگو ں سے جنہوں نے کُھلا کُھلا کُفر کیا تھا۔ 26 تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے 27 اور یہ بدترین انجام ہے

سورة الْحَدِیْد 26 یہاں اس امر کی تصریح ہے کہ آخرت میں منافق کا انجام وہی ہوگا جو کافر کا ہوگا۔ سورة الْحَدِیْد 27 اصل الفاظ ہیں ھِیَ مَوْلَاکُمْ ، " دوزخ ہی تمہاری مولیٰ ہے " اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہی تمہارے لیے موزوں جگہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ کو تو تم نے اپنا مولیٰ بنایا نہیں کہ وہ تمہاری خبر گیری کرے، اب تو دوزخ ہی تمہاری مولیٰ ہے، وہی تمہاری خوب خبر گیری کرے گی۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ایما ن لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جُھکیں 28 اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدّت اُن پر گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟ 29

سورة الْحَدِیْد 28 یہاں پھر " ایمان لانے والوں " کے الفاظ تو عام ہیں مگر ان سے مراد تمام مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں کا وہ خاص گروہ ہے جو ایمان کا اقرار کر کے رسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں میں شامل ہوگیا تھا اور اس کے باوجود اسلام کے درد سے اس کا دل خالی تھا۔ آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کفر کی تمام طاقتیں اسلام کو مٹا دینے پر تلی ہوئی ہیں، چاروں طرف سے انہوں نے اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پر نرغہ کر رکھا ہے، عرب کی سر زمین میں جگہ جگہ مسلمان تختہ مشق ستم بنائے جا رہے ہیں، ملک کے گوشے گوشے سے مظلوم مسلمان سخت بےسرو سامانی کی حالت میں پناہ لینے کے لیے مدینے کی طرف بھاگے چلے آ رہے ہیں، مخلص مسلمانوں کی کمر ان مظلوموں کو سہارا دیتے دیتے ٹوٹی جا رہی ہے، اور دشمنوں کے مقابلے میں بھی یہی مخلص مومن سر بکف ہیں، مگر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ایمان کا دعویٰ کرنے والا یہ گروہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ اس پر ان لوگوں کو شرم دلائی جا رہی ہے کہ تم کیسے ایمان لانے والے ہو ؟ اسلام کے لیے حالات نزاکت کی اس حد کو پہنچ چکے ہیں، کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کا ذکر سن کر تمہارے دل پگھلیں اور اس کے دین کے لیے تمہارے دلوں میں ایثار و قربانی اور سر فروشی کا جذبہ پیدا ہو ؟ کیا ایمان لانے والے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ اللہ کے دین پر برا وقت آئے اور وہ اس کی ذرا سی ٹیس بھی اپنے دل میں محسوس نہ کریں ؟ اللہ کے نام پر انہیں پکارا جائے اور وہ اپنی جگہ سے ہلیں تک نہیں ؟ اللہ اپنی نازل کردہ کتاب میں خود چندے کی اپیل کرے، اور اسے اپنے ذمہ قرض قرار دے، اور صاف صاف یہ بھی سنا دے کہ ان حالات میں جو اپنے مال کو میرے دین سے عزیز تر رکھے گا وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہوگا، اس پر بھی ان کے دل نہ خدا کے خوف سے کانپیں، نہ اس کے حکم کے آگے جھکیں ؟ سورة الْحَدِیْد 29 یعنی یہود و نصاریٰ تو اپنے انبیاء کے سینکڑوں برس بعد آج تمہیں اس بےحسی اور روح کی مردنی اور اخلاق کی پستی میں مبتلا نظر آ رہے ہیں۔ کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ ابھی رسول تمہارے سامنے موجود ہے، خدا کی کتاب نازل ہو رہی ہے، تمہیں ایمان لائے کچھ زیادہ زمانہ بھی نہیں گزرا ہے، اور ابھی سے تمہارا حال وہ ہو رہا ہے جو صدیوں تک خدا کے دین اور اس کی آیات سے کھیلتے رہنے کے بعد یہود و نصاریٰ کا ہوا ہے ؟
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتاہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ 30

سورة الْحَدِیْد 30 یہاں جس مناسبت سے یہ بات ارشاد ہوئی ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نبوت اور کتاب کے نزول کو بارش کی برکات سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ انسانیت پر اس کے وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو زمین پر بارش کے ہوا کرتے ہیں۔ جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین باران رحمت کا ایک چھینٹا پڑتے ہی لہلہا اٹھتی ہے، اسی طرح جس ملک میں اللہ کی رحمت سے ایک نبی مبعوث ہوتا ہے اور وحی و کتاب کا نزول شروع ہوتا ہے وہاں مری ہوئی انسانیت یکایک جی اٹھتی ہے۔ اس کے وہ جوہر کھلنے لگتے ہیں جنہیں زمانہ پائے دراز سے جاہلیت نے پیوند خاک کر رکھا تھا۔ اس کے اندر سے اخلاق فاضلہ کے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں اور خیرات و حسنات کے گلزار لہلہانے لگتے ہیں۔ اس حقیقت کی طرف جس کی طرف جس غرض کے لیے یہاں اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ضعیف الایمان مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ اپنی حالت پر غور کریں۔ نبوت اور وحی کے باران رحمت سے انسانیت جس شان سے از سر نو زندہ ہو رہی تھی اور جس طرح اس کا دامن برکات سے مالا مال ہو رہا تھا وہ ان کے لیے کوئی دور کی داستان نہ تھی۔ وہ خود اپنی آنکھوں سے صحابہ کرام کے پاکیزہ معاشرے میں اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ رات دن اس کا تجربہ ان کو ہو رہا تھا۔ جاہلیت بھی اپنے تمام مقاصد کے ساتھ ان کے سامنے موجود تھی، اور اسلام سے پیدا ہونے والے محاسن بھی ان کے مقابلے میں اپنی پوری بہار دکھا رہے تھے۔ اس لیے ان کو تفصیل کے ساتھ یہ باتیں بتانے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ بس یہ اشارہ کردینا کافی تھا کہ مردہ زمین کو اللہ اپنے باران رحمت سے کس طرح زندگی بخشتا ہے، اس کی نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی گئی ہیں، اب تم خود عقل سے کام لے کر اپنی حالت پر غور کرلو کہ اس نعمت سے تم کیا فائدہ اٹھا رہے ہو۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

مَردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات 31 دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حَسَن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گُنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیےبہترین اجر ہے

سورة الْحَدِیْد 31 صَدَقَہ اردو زبان میں تو بہت ہی برے معنوں میں بولا جاتا ہے، مگر اسلام کی اصطلاح میں یہ اس عطیے کو کہتے ہیں جو سچے دل اور خالص نیت کے ساتھ محض اللہ کی خوشنودی کے لیے دیا جائے، جس میں کوئی ریا کاری نہ ہو، کسی پر احسان نہ جتایا جائے، دینے والا صرف اس لیے دے کہ وہ اپنے رب کے لیے عبودیت کا سچا جذبہ رکھتا ہے۔ یہ لفظ صدق سے ماخوذ ہے اس لیے صداقت عین اس کی حقیقت میں شامل ہے۔ کوئی عطیہ اور کوئی صرف مال اس وقت تک صدقہ نہیں ہوسکتا جب تک اس کی تہہ میں انفاق فی سبیل اللہ کا خالص اور بےکھوٹ جذبہ موجود نہ ہو۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اُس کے رسُولوں پر ایمان لائے ہیں 32 وہی اپنے رب کے نزدیک صِدّیق 33 اور شہید 34 ہیں،اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نُور ہے۔ 35 اور جن لوگوں نے کُفر کیا ہے اور ہماری آیات کوجُھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں

سورة الْحَدِیْد 32 یہاں ایمان لانے والوں سے مراد وہ صادق الایمان لوگ ہیں جن کا طرز عمل جھوٹے مدعیان ایمان اور ضعف الایمان لوگوں سے بالکل مختلف تھا۔ جو اس وقت ایک دوسرے سے بڑھ کر مالی قربانیاں دے رہے تھے اور اللہ کے دین کی خاطر جانیں لڑا رہے تھے۔ سورة الْحَدِیْد 33 یہ صدق کا مبالغہ ہے۔ صادق سچا، اور صدیق نہایت سچا۔ مگر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ صدق محض سچے اور مطابق حقیقت قول کو نہیں کہتے بلکہ اس کا اطلاق صرف اس قول پر ہوتا ہے جو بجائے خود بھی سچا ہو اور جس کا قائل ہی سچے دل سے اس حقیقت کو مانتا ہو جسے وہ زبان سے کہہ رہا ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر کہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، تو یہ بات بجائے خود عین حقیقت کے مطابق ہے، کیونکہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں، لیکن وہ شخص اپنے اس قول میں صادق صرف اسی وقت کہا جائے گا جبکہ اس کا اپنا عقیدہ بھی یہی ہو کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ لہٰذا صدق کے لیے ضروری ہے کہ قول کی مطابقت حقیقت کے ساتھ بھی ہو اور قائل کے ضمیر کے ساتھ بھی۔ اسی طرح صدق کے مفہوم میں وفا اور خلوص اور عملی راستبازی بھی شامل ہے۔ صادق الوعد (وعدے کا سچا) اس شخص کو کہیں گے جو عملاً اپنا وعدہ پورا کرتا ہو اور کبھی اس کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔ صدیق (سچا دوست) اسی کو کہا جائے گا جس نے آزمائش کے مواقع پر دوستی کا حق ادا کیا ہو اور کبھی آدمی کو اس سے بےوفائی کا تجربہ نہ ہوا ہو۔ جنگ میں صادق فی القتال (سچا سپاہی) صرف وہی شخص کہلائے گا جو جان توڑ کر لڑا ہو اور جس نے اپنے عمل سے اپنی بہادری ثابت کردی ہو۔ پس صدق کی حقیقت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قائل کا عمل اس کے قول سے مطابقت رکھتا ہو۔ قول کے خلاف عمل کرنے والا صادق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی بنا پر تو آپ اس شخص کو جھوٹا واعظ کہتے ہیں جو کہے کچھ اور کرے کچھ۔ اب غور کرنا چاہیے کہ یہ تعریف جب صدق اور صادق کی ہے تو مبالغہ کے صیغہ میں کسی کو صدیق کہنے کا مطلب کیا ہوگا۔ اس کے معنی لازماً ایسے راستباز آدمی کے ہیں جس میں کوئی کھوٹ نہ ہو، جو کبھی حق اور راستی سے نہ ہٹا ہو، جس سے یہ توقع ہی نہ کی جاسکتی ہو کہ وہ کبھی اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات کہے گا۔ جس نے کسی بات کو مانا ہو تو پورے خلوص کے ساتھ مانا ہو، اس کی وفاداری کا حق ادا کیا ہو اور اپنے عمل سے ثابت کردیا ہو کہ وہ فی الواقع ویسا ہی ماننے والا ہے جیسا ایک ماننے والے کو ہونا چاہیے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حاشیہ 99)۔ سورة الْحَدِیْد 34 اس آیت کی تفسیر میں اکابر مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ابن عباس، مسروق، ضحاک مقاتل بن حیان وغیرہ کہتے ہیں کہ اولٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ پر ایک جملہ ختم ہوگیا۔ اس کے بعد وَ الشُّہَدَآءُ عِنْدِ رَبِّھِمْ لَھُمْ اَجْرُھُمْ وَنُوْرُھُمْ ایک الگ مستقل جملہ ہے۔ اس تفسیر کے لحاظ سے آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ " جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی صدیق ہیں۔ اور شہداء کے لیے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر اور ان کا نور ہے " بخلاف اس کے مجاہد اور متعدد دوسرے مفسرین اس پوری عبارت کو ایک ہی جملہ مانتے ہیں اور ان کی تفسیر کے لحاظ سے ترجمہ وہ ہوگا جو اوپر ہم نے متن میں کیا ہے۔ دونوں تفسیروں میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ پہلے گروہ نے شہید کو مقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں لیا ہے، اور یہ دیکھ کر کہ ہر مومن اس معنی میں شہید نہیں ہوتا انہوں نے والشُّھَدَآءُ عِنْدَ رَبِّھِمْ کو ایک الگ جملہ قرار دے دیا ہے۔ مگر دوسرا گروہ شہید کو مقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں نہیں بلکہ حق کی گواہی دینے والے کے معنی میں لیتا ہے اور اس لحاظ سے ہر مومن شہید ہے۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری تفسیر قابل ترجیح ہے اور قرآن و حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّ سَطاً لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْداً۔ (البقرہ۔ 143) اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک متوسط امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْداً عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شَھَدَآءَ عَلَ النَّاسِ (الحج۔ 87) اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ حدیث میں حضرت براء بن عازب کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو انہوں نے یہ فرماتے سنا مؤمنوا امَّتی شھدآء، " میری امت کے مومن شہید ہیں، " پھر حضور نے سورة حدید کی یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر)۔ ابن مردویہ نے اسی معنی میں حضرت ابوالدرداء سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من فر بدینہ من ارضٍ مخافۃ الفتنۃ علیٰ نفسہ و دینہ کتب عند اللہ صدیقا فاذا مات قبضہ اللہ شھیداً ثم تلا ھٰذاہ الایٰۃ۔ " جو شخص اپنی جان اور اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے کسی سر زمین سے نکل جائے وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو اللہ شہید کی حیثیت سے اس کی روح قبض فرماتا ہے، " پھر یہ بات ارشاد فرمانے کے بعد حضور نے یہی آیت پڑھی (شھادت کے اس مفہوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 144۔ النساء حاشیہ 99۔ جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 82)۔ سورة الْحَدِیْد 35 یعنی ان میں سے ہر ایک جس مرتبے کے اجر اور جس درجے کے نور کا مستحق ہوگا وہ اس کو ملے گا۔ وہ اپنا اپنا اجر اور اپنا اپنا نور پائیں گے۔ ان کے لیے ان کا حصہ آج ہی سے محفوظ ہے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

خُوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دُوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی۔ پھر وہ بُھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹّی کے سوا کچھ نہیں۔ 36

سورة الْحَدِیْد 36 اس مضمون کو پوری طرح سمجھنے کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے۔ سورة آل عمران، آیات 14۔ 15۔ یونس، 24۔ 25۔ ابراہیم، 18۔ الکہف، 45۔ 46۔ النور، 39۔ ان سب مقامات پر جو بات انسان کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی دراصل ایک عارضی زندگی ہے۔ یہاں کی بہار بھی عارضی ہے اور خزاں بھی عارضی۔ دل بہلانے کا سامان یہاں بہت کچھ ہے، مگر در حقیقت وہ نہایت حقیر اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جنہیں اپنی کم ظرفی کی وجہ سے آدمی بڑی چیز سمجھتا ہے اور اس دھوکے میں پڑجاتا ہے کہ انہی کو پالینا گویا کامیابی کے منتہیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ حالانکہ جو بڑے سے بڑے فائدے اور لطف و لذت کے سامان بھی یہاں حاصل ہونے ممکن ہیں وہ بہت حقیر اور صرف چند سال کی حیات مستعار تک محدود ہیں، اور ان کا حال بھی یہ ہے کہ تقدیر کی ایک ہی گردش خود اسی دنیا میں ان سب پر جھاڑو پھیر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس کے بر عکس آخرت کی زندگی ایک عظیم اور ابدی زندگی ہے۔ وہاں کے فائدے بھی عظیم اور مستقل ہیں اور نقصان بھی عظیم اور مستقل۔ کسی نے اگر وہاں اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی پالی تو اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہ نعمت نصیب ہوگئی جس کے سامنے دنیا بھر کی دولت و حکومت بھی ہیچ ہے۔ اور جو وہاں خدا کے عذاب میں گرفتار ہوگیا اس نے اگر دنیا میں وہ سب کچھ بھی پا لیا ہو جسے وہ اپنے نزدیک بڑی چیز سمجھتا تھا تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ بڑے خسارے کا سودا کر کے آیا ہے۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

دَوڑو اور ایک دُوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو 37 اپنے رب کی مغفرت اور اُس جنّت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، 38 جو مہیّا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیےجو اللہ اوراُس کے رسُولوں پر ایمان لائے ہوں۔یہ اللہ کا فضل ہے، جسےچاہتا ہے عطافرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے

سورة الْحَدِیْد 37 اصل میں لفظ سابِقُوْا استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم محض " دوڑو " کے لفظ سے ادا نہیں ہوتا۔ مسابقت کے معنی مقابلے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم دنیا کی دولت اور لذتیں اور فائدے سمیٹنے میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی جو کوشش کر رہے ہو اسے چھوڑ کر اس چیز کو ہدف مقصود بناؤ اور اس کی طرف دوڑنے میں بازی جیت لے جانے کی کوشش کرو۔ سورة الْحَدِیْد 38 اصل الفاظ ہیں عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ۔ بعض مفسرین نے عرض کو چوڑائی کے معنی میں لیا ہے۔ لیکن دراصل یہاں یہ لفظ وسعت و پہنائی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں لفظ عرض صرف چوڑائی ہی کے لیے نہیں بولا جاتا جو طول کا مد مقابل ہے، بلکہ اسے مجرد وسعت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ ایک دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ ، " انسان پھر لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے " (حٰم السجدہ۔ 51)۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اس ارشاد سے مقصود جنت کا رقبہ بتانا نہیں ہے بلکہ اس کی وسعت کا تصور دلانا ہے۔ یہاں اس کی وسعت آسمان و زمین جیسی بتائی گئی ہے، اور سورة آل عمران میں فرمایا گیا ہے سارِعُوْآ اِلیٰ مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقَیْنَ (آیت۔ 133)۔ " دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور اس مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت ساری کائنات ہے، جو مہیا کی گئی ہے متقی لوگوں کے لیے "۔ ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے کچھ ایسا تصور ذہن میں آتا ہے کہ جنت میں ایک انسان کو جو باغ اور محلات ملیں گے وہ تو صرف اس کے قیام کے لیے ہوں گے، مگر در حقیقت پوری کائنات اس کی سیر گاہ ہوگی۔ کہیں وہ بند نہ ہوگا۔ وہاں اس کا حال اس دنیا کی طرح نہ ہوگا کہ چاند جیسے قریب ترین سیارے تک پہنچنے کے لیے بھی وہ برسوں پاپڑ بیلتا رہا اور اس ذرا سے سفر کی مشکلات کو رفع کرنے میں اسے بےتحاشا وسائل صرف کرنے پڑے۔ وہاں ساری کائنات اس کے لیے کھلی ہوگی، جو کچھ چاہے گا اپنی جگہ سے بیٹھے بیٹھے دیکھ لے گا اور جہاں چاہے گا بےتکلف جاسکے گا۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے 39 ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو۔ 40 ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے۔ 41

سورة الْحَدِیْد 39 " اس کو " کا شارہ مصیبت کی طرف بھی ہوسکتا ہے، زمین کی طرف بھی، نفس کی طرف بھی، اور فحوائے کلام کے لحاظ سے مخلوقات کی طرف بھی۔ سورة الْحَدِیْد 40 کتاب سے مراد ہے نوشتہ تقدیر۔ سورة الْحَدِیْد 41 یعنی اپنی مخلوقات میں سے ایک ایک کی تقدیر پہلے سے لکھ دینا اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

(یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ 42۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں

سورة الْحَدِیْد 42 اس سلسلہ بیان میں یہ بات جس غرض کے لیے فرمائی گئی ہے اسے سمجھنے کے لیے ان حالات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے جو اس سورت کے نزول کے وقت اہل ایمان کو پیش آ رہے تھے۔ ہر وقت دشمنوں کے حملے کا خطرہ، پے در پے لڑائیاں دائماً محاصرہ کی سی کیفیت، کفار کے معاشی مقاطعہ کی وجہ سے سخت بد حالی، عرب کے گوشے گوشے میں ایمان لانے والوں پر کفار کا ظلم و ستم، یہ کیفیات تھیں جن سے مسلمان اس وقت گزر رہے تھے۔ کفار ان کو مسلمانوں کے مخذول اور راندۂ درگاہ ہونے کی دلیل قرار دیتے تھے۔ منافقین انہیں اپنے شکوک و شبہات کی تائید میں استعمال کرتے تھے۔ اور مخلص اہل ایمان اگرچہ بڑی ثابت قدمی کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کر رہے تھے، مگر بعض اوقات مصائب کا ہجوم ان کے لیے بھی انتہائی صبر آزما ہوجاتا تھا۔ اس پر مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ تم پر کوئی مصیبت بھی معاذاللہ تمہارے رب کی بیخبر ی میں نازل نہیں ہوگئی ہے۔ جو کچھ پیش آ رہا ہے، یہ سب اللہ کی طے شدہ اسکیم کے مطابق ہے جو پہلے سے اس کے دفتر میں لکھی ہوئی موجود ہے۔ اور ان حالات سے تمہیں اس لیے گزارا جا رہا ہے کہ تمہاری تربیت پیش نظر ہے۔ جو کار عظیم اللہ تعالیٰ تم سے لینا چاہتا ہے اس کے لیے یہ تربیت ضروری ہے۔ اس سے گزارے بغیر تمہیں کامیابی کی منزل پر پہنچا دیا جائے تو تمہاری سیرت میں وہ خامیاں باقی رہ جائیں گی جن کی بدولت نہ تم عظمت و اقتدار کی ثقیل خوراک ہضم کرسکو گے اور نہ باطل کی طوفان خیز موجوں کے تھپیڑے سہہ سکو گے۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بُخل کرتے ہیں اور دوسروں کوبُخل کرنے پر اُکساتے ہیں۔ 43 اب اگر کوئی رُوگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ 44

سورة الْحَدِیْد 43 یہ اشارہ ہے اس سیرت کی طرف جو خود مسلم معاشرے کے منافقین میں اس وقت سب کو نظر آ رہی تھی۔ ظاہری اقرار ایمان کے لحاظ سے ان میں اور مخلص مسلمانوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ لیکن اخلاص کے فقدان کی وجہ سے وہ اس تربیت میں شامل نہ ہوئے تھے جو مخلصین کو دی جا رہی تھی، اس لیے ان کا حال یہ تھا کہ جو ذرا سی خوشحالی اور مشیخت ان کو عرب کے ایک معمولی قصبے میں میسر آئی ہوئی تھی وہی ان کے چھوٹے سے ظرف کو پھلائے دے رہی تھی، اسی پر وہ پھٹے پڑتے تھے، اور دل کی تنگی اس درجے کی تھی کہ جس خدا پر ایمان لانے اور جس رسول کے پیرو ہونے اور جس دین کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے اس کے لیے خود ایک پیسہ تو کیا دیتے، دوسرے دینے والوں کو بھی یہ کہہ کہہ کر روکتے تھے کہ کیوں اپنا پیسہ اس بھاڑ میں جھونک رہے ہو۔ ظاہر بات ہے کہ اگر مصائب کی بھٹی گرم نہ کی جاتی تو اس کھوٹے مال کو، جو اللہ کے کسی کام کا نہ تھا، زر خالص سے الگ نہ کیا جاسکتا تھا، اور اس کو الگ کیے بغیر کچے پکے مسلمانوں کی ایک مخلوط بھیڑ کو دنیا کی امامت کا وہ منصب عظیم نہ سونپا جاسکتا تھا جس کی عظیم الشان برکات کا مشاہدہ آ خرکار دنیا نے خلافت راشدہ میں کیا۔ سورة الْحَدِیْد 44 یعنی یہ کلمات نصیحت سننے کے بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے دین کے لیے خلوص، فرمانبرداری اور ایثار و قربانی کا طریقہ اختیار نہیں کرتا اور اپنی اسی کجروی پر اڑا رہنا چاہتا ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے، تو اللہ کو اس کی کچھ پروا نہیں۔ وہ غنی ہے، اس کی کوئی حاجت ان لوگوں سے اٹکی ہوئی نہیں ہے۔ اور وہ ستودہ صفات ہے، اس کے ہاں اچھی صفات رکھنے والے لوگ ہی مقبول ہو سکتے ہیں، بد کردار لوگ اس کی نگاہ التفات کے مستحق نہیں ہو سکتے۔