56. Surah Al-Waaqia
الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفہیم القرآن
تعارف
نام
پہلی ہی آیت کے لفظ اَلْواقِعَہ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانہ نزول
حضرت عبداللہ بن عباس نے سورتوں کی جو ترتیب نزول بیان کی ہے اس میں وہ فرما رہے ہیں کہ پہلے سورة طٰہٰ نازل ہوئی، پھر الواقعہ اور اس کے بعد الشعراء (الاتْقان للسُّیوطی) ۔ یہی ترتیب عکرمہ نے بھی بیان کی ہے (بیہقی، دلائل النبوۃ) ۔ اس کی تائید اس قصہ سے بھی ہوتی ہے جو حضرت عمر (رض) کے ایمان لانے کے بارے میں ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب حضرت عمر اپنی بہن کے گھر میں داخل ہوئے تو سورة طٰہٰ پڑھی جا رہی تھی۔ ان کی آہٹ سن کر ان لوگوں نے قرآن کے اوراق چھپا دیے۔ حضرت عمر پہلے تو بہنوئی پر پل پڑے اور جب بہن ان کو بچانے آئیں تو ان کو بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ بہن کا خون بہتے دیکھ کر حضرت عمر کو سخت ندامت ہوئی، اور انہوں نے کہا، اچھا مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جسے تم نے چھپا لیا ہے۔ دیکھوں تو سہی اس میں کیا لکھا ہے۔ بہن نے کہا " آپ اپنے شرک کی وجہ سے نجس ہیں، وانہ لا یمسھا الا الطاھر، " اس صحیفے کو صرف طاہر آدمی ہی ہاتھ لگا سکتا ہے "۔ چناچہ حضرت عمر نے اٹھ کر غسل کیا اور پھر اس صحیفے کو لے کر پڑھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت سورة واقعہ نازل ہوچکی تھی، کیونکہ اسی میں آیت لا یمسہ الا المطھرون وارد ہوئی ہے۔ اور یہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عمر ہجرت حبشہ کے بعد 5 نبوی میں ایمان لائے ہیں۔
موضوع اور مضمون
اس کا موضوع آخرت، توحید اور قرآن کے متعلق کفار مکہ کے شبہات کی تردید ہے۔ وہ سب سے زیادہ جس چیز کو ناقابل یقین قرار دیتے تھے وہ یہ تھی کہ کبھی قیامت برپا ہوگی جو میں زمین و آسمان کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور پھر تمام مرے ہوئے انسان دوبارہ جلا اٹھائے جائیں گے اور ان کا محاسبہ ہوگا اور نیک انسان جنت کے باغوں میں رکھے جائیں گے اور گناہ گار انسان دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کا عالم واقعہ میں پیش آنا غیر ممکن ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ جب وہ واقعہ پیش آجائے گا اس وقت کوئی یہ جھوٹ بولنے والا نہ ہوگا کہ وہ پیش نہیں آیا ہے، نہ کسی کی یہ طاقت ہوگی کہ اسے آتے آتے روک دے، یا واقعہ سے غیر واقعہ بنا دے۔ اس وقت لازماً تمام انسان تین طبقات میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک، سابقین۔ دوسرے، عام صالحین، تیسرے وہ لوگ جو آخرت کے منکر رہے اور مرتے دم تک کفر و شرک اور گناہ کبیرہ پر جمے رہے۔ ان تینوں طبقات کے ساتھ جو معاملہ ہوگا اسے تفصیل کے ساتھ آیت 7 سے 56 تک بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آیت 57 سے آیت 74 تک اسلام کے ان دونوں بنیادی عقائد کی صداقت پر پے درپے دلائل دیے گئے ہیں جن کو ماننے سے کفار انکار کر رہے تھے، یعنی توحید اور آخرت۔ ان دلائل میں زمین و آسمان کی دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی طرف اور اس غذا کی طرف جسے وہ کھاتا ہے اور اس پانی کی طرف جسے وہ پیتا ہے اور اس آگ کی طرف جس سے وہ اپنا کھانا پکاتا ہے، توجہ دلائی گئی ہے۔ اور اسے اس سوال پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ تو جس خدا کے بنانے سے بنا ہے اور جس کے دیے ہوئے سامان زیست پر پل رہا ہے اس کے مقابلے میں خود مختار ہونے، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی بجا لانے کا آخر تجھے حق کیا ہے ؟ اور اس کے متعلق تو نے یہ کیسے گمان کرلیا کہ وہ ایک دفعہ تجھے وجود میں لے آنے کے بعد ایسا عاجز و درماندہ ہوجاتا ہے کہ دوبارہ تجھ کو وجود میں لانا چاہے بھی تو نہیں لا سکتا ؟ پھر آیت 75 سے 82 تک قرآن کے بارے میں ان کے شکوک کی تردید کی گئی ہے اور ان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ بد نصیبو، یہ عظیم الشان نعمت تمہارے پاس آئی ہے اور تم نے اپنا حصہ اس نعمت میں یہ رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹی بےاعتنائی برتتے ہو۔ قرآن کی صداقت پر دو مختصر سے فقروں میں یہ بےنظیر دلیل پیش کی گئی ہے کہ اس پر کوئی غور کرے تو اس کے اندر ویسا ہی محکم نظام پائے گا جیسا کائنات کے تاروں اور سیاروں کا نظام محکم ہے، اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مصنف وہی ہے جس نے کائنات کا یہ نظام بنایا ہے۔ پھر کفار سے کہا گیا ہے کہ یہ کتاب اس نوشتہ تقدیر میں ثبت ہے جو مخلوقات کی دسترس سے باہر ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شیاطین لاتے ہیں، حالانکہ لوح محفوظ سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک جس ذریعہ سے یہ پہنچتی ہے اس میں پاک نفس فرشتوں کے سوا کسی کا ذرہ برابر بھی کوئی دخل نہیں ہے۔ آخر میں انسان کو بتایا گیا ہے کہ تو کتنی ہی لن ترانیاں ہانکے اور اپنی خود مختاری کے گھمنڈ میں کتنا ہی حقائق کی طرف سے اندھا ہوجائے، مگر موت کا وقت تیری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ اس وقت تو بالکل بےبس ہوتا ہے۔ اپنے ماں باپ کو نہیں بچا سکتا۔ اپنی اولاد کو نہیں بچا سکتا۔ اپنے پیروں اور پیشواؤں اور محبوب ترین لیڈروں کو نہیں بچا سکتا۔ سب تیری آنکھوں کے سامنے مرتے ہیں اور تو دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی بالا تر طاقت تیرے اوپر فرمانروا نہیں ہے اور تیرا یہ زعم درست ہے کہ دنیا میں بس تو ہی تو ہے، کوئی خدا نہیں ہے، تو کسی مرنے والے کی نکلتی ہوئی جان کو پلٹا کیوں نہیں لاتا ؟ جس طرح تو اس معاملہ میں بےبس ہے اسی طرح خدا کے محاسبے اور اس کی جزا و سزا کو بھی روک دینا تیرے اختیار میں نہیں ہے۔ تو خواہ مانے یا نہ مانے، موت کے بعد ہر مرنے والا اپنا انجام دیکھ کر رہے گا۔ مقربین میں سے ہو تو مقربین کا انجام دیکھے گا۔ صالحین میں سے ہو تو صالحین کا انجام دیکھے گا۔ اور جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو تو وہ انجام دیکھے گا جو ایسے مجرموں کے لیے مقدر ہے۔
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader
جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا
لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader
تو کوئی اس کے وقوع کو جُھٹلانے والا نہ ہوگا۔ 1
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader
وہ تہ و بالا کر دینے والی آفت ہوگی۔ 2
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader
زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی 3
وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader
اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے
فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader
کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے
وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader
تم لوگ اُس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے 4
فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader
دائیں بازو والے، 5 سودائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی)کا کیا کہنا
وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader
اور بائیں بازو والے، 6 تو بائیں بازو والوں(کی بد نصیبی)کا کیا ٹھکانا
وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader
اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ 7
اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader
وہی تو مقرب لوگ ہیں
فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader
نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader
اگلوں میں سے بہت ہوں گے
وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader
اور پچھلوں میں سے کم۔ 8
عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader
مرصع تختوں پر
مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader
تکیے لگا ئے آمنے سامنے بیٹھیں گے
یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader
اُن کی مجلسوں میں اَبَدی لڑکے 9 شرابِ چشمہٴ جاری سے
بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader
لبریز پیالے کنٹر اور ساغر لیے دوڑتے پھرتے ہونگے
لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader
جسے پی کر نہ ان کا سر چکرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا۔ 10
وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader
اور وہ اُن کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں
وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader
اور پرندوں کا گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندےکا چاہیں استعمال کریں۔ 11
وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader
اور ان کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہونگی
كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader
ایسی حسین جیسے چُھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ 12
جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader
یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے
لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader
وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے 13
اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader
جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔ 14
وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader
اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا
فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader
وہ بے خار بیریوں، 15
وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader
اور تہ بر تہ چڑھے ہوئے کیلوں
وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader
اور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں
وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader
اور ہر دم رواں پانی
وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader
اور کبھی ختم نہ ہونے والے
لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader
اور بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھلوں، 16
وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader
اور اونچی نشست گاہوں میں ہوں گے
اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader
ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے
فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader
اور انہیں باکرہ بنا دیں گے، 17
عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader
اپنے شوہروں کی عاشق 18 اور عمر میں ہم سِن۔ 19