57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsانوار البیان

Ayahs 57:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے (وہی) زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

(57:1) سبح للہ ما فی السموت والارض : سبح ماضی واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر۔ اس نے پاکی بیان کی۔ اس نے تسبیح کی۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ اس جگہ (یعنی سورة الحدید) اور سورة حشر اور سورة صف میں سبح بصیغہ ماضٰ اور سورة جمعہ میں اور سورة تغابن میں یسبح بصیغہ مضارع ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اظہار ہمہ وقت ہے۔ (ماضی و مضارع کے صیغوں میں ماضٰ ، حال، مستقبل تمام زمانوں کا ذکر آگیا ہے) حالات اور اوقات کی تبدیلی سے اس میں اختلاف نہیں ہوتا۔ سورة بنی اسرائیل میں بصورت مصدر ذکر کرنا اس ہمہ وقت تسبیح پر واضح طور پر دلالت کرتا ہے (کیونکہ مصدر کی کسی زمانے کے ساتھ خصوصیت نہیں ہوتی۔ مصدر سے حدث استمراری معلوم ہوتا ہے۔ فعل یسبح خود ہی متعدی ہے کیونکہ تسبیح کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو برائی سے دور کرنا اور پاک کرنا ہے۔ سبح کا معنی ہے دور ہوگیا۔ چلا گیا۔ کبھی اس کے مفعول پر لام بھی آجاتا ہے جیسے نصحۃ اور نصحت لہ دونوں طرح سے مستعمل ہے۔ مفعول پر اس جگہ لام لانے سے اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ مخلوق کی تسبیح خالص اللہ کے لئے ہے۔ (للہ) ۔ مافی السموت والارض یعنی ساری مخلوق عقل والی ہو یا محروم از عقل (گویا اس جگہ ما کا لفظ ذوی العقول کو بھی شامل ہے بعض نے کہا ہے کہ ما سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے تسبیح کا صدور ہوسکتا ہو۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک جمادات وغیرہ (جو تسبیح کلامی و قولی سے فطرتاً محروم ہیں) کی تسبیح حالی مراد ہے۔ یعنی یہ ساری چیزیں دلالت کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر برائی (اور نقص و عجز) سے پاک ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ (جماد ہو یا نامی باشعور ہو یا بےشعور ہو ذی عقل ہو یا محروم از عقل تمام موجودات میں اس کی نوع کے مناسب زندگی اور علم موجود ہے جیسا کہ ہم نے سورة بقرۃ کی آیت وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ (2:74) کی تفسیر میں وضاحت کردی ہے پس ہر چیز کی تسبیح مقامی ہے گوہم اس کلام کو نہ سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے :۔ وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم (17:44) وھو العزیز الحکیم : جملہ حالیہ ہے اور وہ زبردست اور حکمت والا ہے۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) پچھلا اور (اپنی قدرتوں سے سب پر) ظاہر اور (اپنی ذات سے) پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے

(57:3) الاول۔ ہر چیز سے پہلا۔ کوئی اس سے پہلے نہیں۔ ہر موجود چیز کو نیستی سے ہستی میں لانے والا وہی ہے۔ الاخر ہر چیز کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہنے والا۔ ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے فناء پذیر ہے اللہ تعالیٰ کا وجود اصل ہے جو قابل زوال نہیں۔ الظاھر۔ ہر چیز سے بڑھ کر اس کا ظہور ہے۔ یہ ظھور سے جس کے معنی ظاہر ہونے بلند جگہ پر ہونے اور قابو پانے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اسماء الٰہی میں الظاھر سے مراد وہ ذات عالی ہے جو ہر شے سے اوپر ہو اور ہر چیز پر غالب ہو۔ الباطن سب سے چھپا ہوا۔ بطن وبطرن سے واحد مذکر اسم فاعل کا صیغہ ہے جو غیر محسوس ہو اور آثار و افعال کے ذریعہ سے اس کا ادراک کیا جائے۔ اس کی حقیقت ذات سے مخفی ہے۔ وھو بکل شیء علیہم : اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ الازہری (رح) نے کہا ہے کہ : الظاھر والباطن بمعنی العالم لما ظھر وبطن جو ظاہر ہے اور پوشیدہ ہے اس جاننے والا بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ : حضرت عمر ؓ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو فرمایا کہ :۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آخر کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے ایسے ہی اول کا علم بھی اسی کو ہے (یعنی مبدأ اور منتہاء دونوں کا علم اس کو ایک جیسا ہے) اور جیسے باطن کا علم ہے ویسا ہی ظاہر کا علم ہے (یعنی وہی عالم الغیب والشہادۃ ہے) ظاہر اور پوشیدہ سب اس کے علم میں برابر ہے (تفسیر مظہری )
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

(57:4) ھو الذی : وہی تو ہے جس نے ۔۔ ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ پھر۔ استوی : ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استوا (افتعال) مصدر۔ سوی حروف مادہ۔ استوی علی سواری پر جم کر بیٹھنا۔ ثم استوی علی العرش پھر وہ تخت حکومت پر متمکن ہوا۔ اس استواء علی العرش کی کیفیت کیا ہے ؟ صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ یہ آیت متشابہات میں سے ہے سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اس کی مراد کی تشریح نہ کی جائے کہ استوی علی العرش کا کیا مطلب ہے ؟ کی مراد ہے ؟ اس کو اللہ ہی کے سپرد کردیا جائے۔ یعنی یہ ان متشابہات میں سے ہے کہ جن کی تشریح نہ شارع نے کی ہے نہ اپنی مراد بیان کی ہے ؟ اور نہ قیاس کو اس میں دخل ہے (تفسیر مظہری) استوی کے متعلق لغات القرآن میں ذرا تفصیلی بحث ہے جو قاری کے فائدے کے لئے درج ذیل کی جاتی ہے۔ استعی اس نے قصد کیا ۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ چڑھا۔ وہ سیدھا بیٹھا۔ استواء سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ استواء کے جب وہ فاعل ہوتے ہیں تو اس کے معنی دونوں کے مساوی اور برابر ہونے کے آتے ہیں۔ جیسے لا یستوی الخبیث والطیب (5:100) برابر نہیں ناپاک اور پاک، اور اگر فاعل دو نہ ہوں تو سنبھلنے، درست ہونے، اور سیدھے رہنے کے معنی آتے ہیں جیسے فاستوی وھو بالافق الاعلی (53:6) پھر وہ سیدھا بیٹھا اور وہ آسمان کے کنارے پر تھا۔ اور ولما بلغ اشدہ واستوی (28:14) جب پہنچ گیا اپنے زور پر اور سنبھل گیا۔ اس صورت میں استوا کے معنی میں کسی شے کا اعتدال ذاتی مراد ہے۔ اور جب اس کا تعدیہ علی کے ساتھ ہو تو اس کے معنی چڑھنے، قرار پکڑنے اور قائم ہونے کے آتے ہیں۔ جیسے واستوت علی الجودی (11:44) اور وہ کشتی جو دی پر جا ٹھہری اور جیسے لتستوا علی ظھورہ (43:13) اور تاکہ تم اس کی پیٹھ پر جا بیٹھو۔ اور جب اس کا تعدیہ الیٰ کے ساتھ ہو تو اس کے معنی قصد کرنے اور پہنچنے کے ہوتے ہیں جیسے ثم استوی الی السماء (2:29) پھر قصد کیا آسمان کی طرف۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے استوار علی العرش کے سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن و حدیث میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں بھی بیان کئے گئے ہیں اور مخلوق کے اوصاف میں بھی ان کا ذکر ہوا ہے۔ جیسے حی ۔ سمیع ۔ بصیر کہ یہ الفاظ اللہ عزوجل کے لئے بھی استعمال کئے گئے ہیں اور بندے کے لئے بھی۔ لیکن دونوں جگہ اس کے استعمال کی حیثیت بالکل جداگانہ ہے۔ کسی مخلوق کو سمیع وبصیر کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے پاس دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان موجود ہیں۔ اب یہاں دو چیزیں ہوئیں ایک تو وہ آلہ جو سننے اور دیکھنے کا مبدا اور ذریعہ ہے یعنی کان اور آنکھ۔ دوسرا اس کا نتیجہ اور غرض وغایت۔ یعنی وہ خاص علم جو آنکھ سے دیکھنے اور کان سے سننے سے حاصل ہوتا ہے۔ پس جب مخلوق کو سمیع وبصیر کہا جائے تو اس کے حق میں یہ مبداء اور غایت دونوں چیزیں معتبر ہوں گی۔ جن کی کیفیات ہم کو معلوم ہیں لیکن یہی الفاظ جب اللہ عزوجل کے متعلق استعمال کئے جائیں گے تو یقینا ان سے وہ مبادی اور کیفیات جسمانیہ مراد نہیں لئے جاسکتے جو مخلوق کے خواص میں داخ (رح) ہیں۔ اور جن سے جناب باری عذاسمہ قطعاً منزہ ہیں۔ البتہ یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ سمع و بصر کا مبداء و معاد اس ذات اقدس میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ اور اس کا نتیجہ یعنی وہ علم جو رویت و سمع سے حاصل ہوتا ہے اس کو بدرجہ کمال حاصل ہے۔ رہا یہ کہ وہ مبداء کیسا ہے اور دیکھنے اور سننے کی کیا کیفیت ہے تو ظاہر ہے کہ اس سوال کے جواب میں بجز اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کا دیکھنا اور سننا مخلوق کی طرح نہیں ہے ۔ غرض اسی طرح اس کی تمام صفات کو سمجھنا چاہیے کہ صفت باعتبار اپنے اصل مبدأ اور غایت کے ثابت ہے مگر اس کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ اور نہ کسی آسمانی شریعت نے کبھی انسان کو اس پر مجبور کیا ہے کہ وہ خواہ مخواہ ان حقائق میں غوروخوض کرکے جو اس کی عقل و ادراک کی دسترس سے باہر ہیں بےکار اپنے عقل و دماغ کو پریشان کرے۔ اسی اصول پر استوا علی العرش کو بھی سمجھ لیجئے۔ کہ عرش کے معنی تخت اور بلند مقام کے ہیں اور استواء کا ترجمہ اکثر محققین نے تمکن و استقرار یعنی قرار پکڑنے اور قائم ہونے سے کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تخت حکومت پر اس طرح قابض ہو کہ اس کا کوئی حصہ اور کوئی گوشہ حیط اقتدار باہر نہ ہو۔ اور نہ قبضہ و تسلط میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت اور گڑبڑ ہو۔ غرض سب کام اور انتظام درست ہو۔ اب دنیا میں بادشاہوں کی تخت نشینی کا ایک تو مبدا اور ظاہری صورت ہوتی ہے اور ایک حقیقت یا غرض وغایت۔ یعنی ملک پر پورا تسلط اور اقتدار اور نفوذ و تصرف کی قدرت حاصل ہونا۔ سو حق تعالیٰ کے استعا علی العرش میں یہ حقیقت اور غرض وغایت بدرجہ کمال موجود ہے کہ تمام مخلوقات اور ساری کائنات پر پورا پورا تسلط و اقتدار اور مالکانہ و شہنشاہانہ تصرف اور نفوذ بےروک و ٹوک اسی کو حاصل ہے۔ آیت شریفہ ثم استوی علی العرش یغشی الیل النھار یطلبہ حثیثا والشمس والقمر والنجوم مسخرات بامرہ۔ پھر قرار پکڑا عرش پر اڑھاتا ہے رات پر دن کو کہ وہ اس سے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا۔ اور آفتاب ماہتاب اور ستارے (سب) اس کے حکم کے تابع ہیں۔ اور آیت شریفہ : ثم استوی علی العرش یدبر الامر ما من شفیع الا من بعد اذنہ (10:3) پھر قائم ہوا عرش پر تدبیر کرتا ہے کام کی۔ کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت کے بعد۔ سے بخوبی اس مضمون پر روشنی پڑتی ہے۔ رہا استوا علی العرش کا مبداء اس کی ظاہری کیفیت و صورت ، پس دیگر صفات سمع و بصر کی طرح یقینا اس کی کوئی ایسی صورت ہو ہی نہیں سکتی کہ اس میں مخلوق کی صفت اور حدوث کا ذرا سا بھی شائبہ ہو۔ پھر وہ کیونکر اور کس طرح اس کی کیفیت کے لئے اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ لیس کمثلہ شیء (42:11) نہیں ہے اس طرح کا سا کوئی۔ اور ہمارا کیا مایہ علمی کہ اس کی کیفیت بیان کرسکیں۔ یعلم ما بین ایدیہم وما خلفھم ولا یحیطون بہ علما وہ تو جو کچھ لوگوں کے آگے پیچھے ہے سب جانتا ہے مگر لوگ اپنے علم سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ حضرت ام سلمی ؓ فرماتی ہیں (ترجمہ) استواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت عقل میں نہیں آسکتی۔ اس کا اقرار ایمان ہے اور انکار کفر ہے۔ قاضی ابو العلاء صاعد بن محمد نے کتاب الاعتقاد میں امام ابو یوسف کی روایت سے امام ابوحنیفہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ :۔ (ترجمہ) ” کسی کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بارے میں اس کی ذات کے متعلق ذرا بھی زبان کھولے بلکہ اس طرح بیان کرے جس طرح کہ خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے لئے بیان فرمایا ہے اپنی رائے سے کچھ نہ کہے۔ (بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو رب ہے سارے جہان کا “ سچ ہے :۔ اے برتراز خیال و قیاس و گمان ووہم وزہرچہ گفتہ اندشنیدیم و خواندہ ایم دفتر تمام گشت و بیایاں رسید عمر ماہمچناں در اول و صف تو ماندہ ایم یلج : مضارع واحد مذکر غائب ولوج (باب ضرب) مصدر۔ وہ داخل ہوتی ہے اسی سے ولیجۃ بمعنی گہرا دوست یا اندرونی دوست ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ (9:16) اور خدا اور اس کے رسول اور مؤمنون کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ ما یلج فی الارض (جو زمین میں داخل ہوتا ہے) سے مراد پانی۔ بناتات کے تخم ، خزانے، مردوں کی لاشیں وغیرہ۔ ما یخرج منھا (اور جو اس سے باہر نکلتا ہے) مثلاً کھیتی، گھاس، پودے، بخارات ، کانیں اور قیامت کے دن مردے بھی اسی سے زندہ ہوکر برآمد ہوں گے۔ وما ینزل من السماء (جو چیز آسمان سے اترتی ہے) جیسے بارش، فرشتے، برکات، اللہ کے احکام وغیرہ۔ وما یعرج فیہا (اور جو آسمان میں چڑھتی ہے) جیسے، بخارات، ملائکہ۔ بندوں کے اعمال، لوگوں کی روحیں وغیرہ۔ یعرج مضارع واحد مذکر غائب عروج (باب نصر) مصدر۔ وہ اوپر چڑھتا ہے۔ وھو معکم این ما کنتم اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے۔ تم جہاں کہیں بھی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی معیث بےکیف ہے نہ جسمانی ہے نہ زمانی ہے نہ مکانی ، ناقابل بیان ہے۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور سب امور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں

(57:5) والی اللہ ترجع الامور اور اللہ کی طرف ہی سب امور لوٹائے جائیں گے۔ صاحب تفسیر حقانی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔ عالم سفلی سے لے کر عالم علوی تک اور جسمانی سے لے کر روحانی تک جن کے کاروبار اسباب پر مبنی ہیں۔ سب اسباب اسی مسبب الاسباب کی طرف رجوع کرتے ہیں یعنی قبضہ قدرت میں ہیں۔ اور تمام کائنات کا وہی مرکز اصلی ہے۔ سب کا میلان اسی طرف ہے۔ ہمہ رو سوئے تو بود و ہمہ سو روئے تو بود ” مگر بہیمیت کے ظلمات اور رسم و رواج کی تقلید کے پتھر اس کے راستے میں حائل ہو کر اس کو اس طرف جانے سے روک دیتے ہیں انہیں کے دور کرنے کو انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں بھیجی جاتی ہیں “۔ ترجع مضارع مجہول واحد مؤنث غائب رجع (باب ضرب) مصدر بمعنی لوٹانا۔ اور ر، ج، ع : مادہ سے رجوع (باب ضرب) مصدر سے بمعنی لوٹنا۔ (فعل لازم آتا ہے) یہاں ترجع۔ رجع سے آیا ہے۔ جملہ لہ ملک السموت والارض آیت 2 کے شروع میں بھی آیا ہے اور یہاں اس کا تکرار ہے وہاں آغاز آفرنیش کا ذکر کرکے یہ آیت ذکر کی تھی اور دوبارہ اب یہاں انجام امور کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے گویا آیت آغاز و انجام دونوں کی تمہید ہے (تفسیر مظہری) ۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

(وہی) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

(57:6) یولج : مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج (افعال) مصدر۔ وہ داخل کرتا ہے یولج الیل فی النھار (وہی داخل کردیتا ہے رات کو دن میں) یعنی رات کو گھٹا کر دن کو بڑھاتا ہے اور دن کو گھٹا کر رات کو لمبا کرتا ہے۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ رات ہوتی ہے چاروں طرف اندھیرا غالب ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ رات کی تاریکی کم ہوتی جاتی ہے اور دن کی آمد آمد ہوجاتی ہے حتی کہ رات بالکل ختم ہوجاتی ہے ۔ اور دن کی بادشاہت ہوجاتی ہے۔ پھر ان کی روشنی آہستہ آہستہ ماند پڑتی جاتی ہے اور رات کا تسلط ہوتا جاتا ہے تاآنکہ دن مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے اور رات کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ ذات الصدور۔ مضاف مضاف الیہ۔ جو سینوں میں ہے۔ یعنی دلوں کا بھید، سینوں کے پوشیدہ راز۔ ذات : ذو کا مؤنث ہے اس کی جمع ذوات ہے اور یہ ہمیشہ مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے۔ صدور جمع ہے سدر کی، سینہ، وہ خوب جانتا ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

(تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں خرچ کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے

(57:7) امنوا : فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ایمان (افعال) مصدر سے۔ تم ایمان لاؤ۔ امنوا امن (باب سمع) مصدر سے بمعنی بےخوف ہوجانا۔ نڈر ہوجانا ہے۔ مثلاً افامنوا مکر اللہ (7:99) کیا یہ لوگ خدا کے داؤں کا ڈر نہیں رکھتے۔ وانفقوا واؤ عاطفہ اس کا عطف امنوا پر ہے۔ اور تم خرچ کرو۔ انفقوا امرکا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر سے۔ تم خرچ کرو۔ مما : مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ ہے۔ اس میں سے جو ۔۔ جعلکم : جعل ماضی واحد مذکر غائب۔ جعل (باب فتح) مصدر سے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے (اللہ نے) تم کو بنایا، اس نے تم کو کیا۔ مستخلفین : اسم مفعول جمع مذکر استخلاف (اسفتعال) مصدر سے۔ جانشین بنائے ہوئے۔ خلف مادہ۔ مطلب یہ ہے کہ اس مال کا کچھ حصہ جس میں تصرف کرنے کے لئے اللہ نے تم کو اپنا قائم مقام بنایا ہے اس کی راہ میں خرچ کرو، تمام مام پیدا کیا ہوا تو اللہ ہی کا ہے۔ وہی مالک بھی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ پچھلے گذشتہ لوگوں کا قائم مقام اللہ نے تم کو بنایا ہے۔ پہلے وہ مالک اور متصرف تھے۔ اب ان کی جگہ تم ہو۔ اور آئندہ تمہاری جگہ اس مال کی ملکیت اور تصرف کا اختیار دوسروں کو ہوگا۔ جعلکم مستخلفین کہہ کر اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے پر آمادہ کرنا اور برانگیختہ کرنا مقصود ہے۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے

(57:8) مالکم۔ تم کو کیا عذر ہے۔ تم کیسے ہو۔ تم کو کیا ہوگیا ہے۔ تمہارے لئے کیا سبب ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وما لکم الا تنفقوا فی سبیل اللہ (57:10) اور تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہو۔ اور دوسری جگہ ہے :۔ وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام (25:7) اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے۔ وما لکم لا تؤمنون باللہ۔ اور تم کو کیا ہوگیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ والرسول یدعوکم لتؤمنوا بربکم : جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ رسول تم کو تمہارے رب پر ایمان لانے کے لئے (برابر) بلا رہا ہے۔ لتومنوا میں لام تعلیل کا ہے۔ یہ اصل میں تؤمنون تھا (مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ایمان مصدر سے) نون اعرابی عامل کی وجہ سے گرگیا۔ وقد اخذ میثاقکم واؤ عاطفہ ہے اور جملہ حالیہ ہے اور اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور وہ تم سے عہد بھی لے چکا ہے ای وقیل ذلک قد اخذ اللہ میثاقکم حین اخرجکم من ظھر ادم (علیہ السلام) بان اللہ ربکم لا الہ لکم سوأہ۔ اور اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے تم سے عہد لے رکھا تھا جب اس نے تم کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے برآمد کیا۔ (اور کہا کہ) اللہ تعالیٰ ہی تمہارا رب ہے اور اس کے سوا تمہارا کوئی رب نہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ الست بربکم قالوا بلی شھدنا (7:172) (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں َ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا پروردگار ہے۔ میثاقکم مضاف مضاف الیہ۔ دونوں مل کر اخذ کا مفعول ۔ تمہارا میثاق، پختہ۔ عہد۔ قول و قرار جس پر قسم کھائی گئی ہو۔ وثق یثق وثوق (باب ضرب) مصدر اعتماد کرنا۔ مطمئن ہونا۔ الوثاق والوثاق اس زنجیر یا رسی کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو کس کر باندھ دیا جائے۔ اور او ثقہ (باب افعال) زنجیر میں جکڑنا۔ رسی سے کس کر باندھنا۔ میثاق وہ عہد جو قسموں یا شرطوں سے جکڑ کر کیا گیا ہو۔ بمعنی پختہ و مضبوط عہد۔ قرآن مجید میں ہے :۔ ولا یوثق وثاقہ احد (89:26) اور نہ کوئی ایسا جکڑنا جکڑے گا۔ ان کنتم مؤمنین ۔ جملہ شرط ہے اور جواب شرط محذوف۔ (1) اگر تم ایمان لانا چاہتے ہو تو تردد میں مت پڑو اور بغیر کسی تردد کے ایمان لے آؤ (السیر التفاسیر) (2) تم جو اپنے خیال میں اللہ پر ایمان لانے کے مدعی ہو اگر تم واقعی مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اور بیشک خدا تم پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

(57:9) ینزل مضارع واحد مذکر غائب تنزل (تفعیل) مصدر۔ وہ نازل کرتا ہے ۔ علی عبدہ اپنے بندہ پر۔ یعنی رسول اللہ ﷺ پر۔ ایت تبینت : موصوف و صفت مل کر ینزل کا مفعول ۔ کھلی اور واضح آیات ، یعنی قرآن۔ لیخرجکم : لام تعلیل کا ہے تاکہ : یخرج مضارع (منصوب بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب ۔ اخراج (افعال) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یخرج میں ضمیر فاعل کا مرجع اللہ یا اس کے بندہ۔ دونوں ہوسکتے ہیں۔ الظلمت۔ یعنی کفر و جہالت۔ ظلمت بمعنی اندھیرے۔ النور : یعنی ایمان یا علم۔ لرؤف : لام تحقیق۔ بےشک۔ رء وف مہربان۔ شفقت کرنے والا۔ رافۃ (باب فتح) مصدر سے۔ بمعنی بہت رحم کرنا۔ بہت مہربان ہونا۔ بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت خدا ہی کی ہے جس شخص نے تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی وہ (اور جس نے یہ کام پیچھے کئے وہ) برابر نہیں ان لوگوں کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے بعد میں خرچ (اموال) اور (کفار سے) جہاد و قتال کیا اور خدا نے سب سے (ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے واقف ہے

(57:10) ومالکم اور تم کو کیا ہوا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 57:8 متذکرہ بالا۔ الا مرکب ہے ان مصدریہ اور لا نفی سے۔ کہ (تم) نہیں (خرچ کرتے ہو) لا زائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور تمہیں کیا عذر ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔ وللہ میراث السموت والارض۔ جملہ حالیہ ہے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت خدا ہی کی ہے۔ میراث السموت والارض مضاف مضاف الیہ آسمانوں کی اور زمین کی وراثت یعنی ملکیت) ۔ میراث کا لفظ قرآن میں دو دفعہ استعمال ہوا ہے اور دونوں جگہ اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کی نسبت سے آیا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا :۔ وللہ میراث السموت والارض (3:180) وراثۃ ارث اور تراث مصدر ہیں باب حسب سے۔ وراثۃ اور ارث کا اصل معنی ہے۔ بغیر بیع و شراء اور بلاہبہ وغیرہ کسی کی طرف کسی مالی ملکیت کا دوسرے کی جانب منتقل ہونا۔ اسی مناسبت سے میت کے متروکہ مال کو جو میت کے بعد اس کے اقرباء کے پاس منتقل ہو کر آتا ہے میراث کہا جاتا ہے۔ لیکن اس معنی کے علاوہ دو معنی اور بھی ہیں ، جن کے لئے وراثت کے مختلف صیغے استعمال کئے گئے ہیں۔ (1) بلا عوض اور بغیر مشقت کسی چیز کا مالک ہوجانا جس طرح مؤمنین صالحین جنت کے وارث ہوں گے اس صورت میں ایک کی ملکیت دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوتی بلکہ ابتداء بلا انتقال ملکیت حاصل ہوتی ہے۔ (2) علم یا کتاب کا وارث ہونا۔ اس صورت میں مال کی ملکیت نہیں ہوتی۔ نہ منقولہ نہ ابتدائی، بلکہ ایک کا علم اس کے بعد دوسرے کو ملتا ہے یعنی جو علم یا دستور اسلاف کا تھا اخلاف اس کے حامل ہوجاتے ہیں جیسے العلماء ورثۃ الانبیاء علماء انبیاء کے علم کے حامل ہوتے ہیں حضور اقدس ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا کہ :۔ انت اخی ووارثی۔ تم میرے بھائی اور میرے علم کے حامل ہو۔ اور قرآن مجید میں آیا ہے :۔ ثم اور ثنا الکتب الذین اصطغینا من عبادنا (35:32) پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کرلیا۔ اللہ کے وارث ہونے کا معنی ہے مالک حقیقی ہونا۔ اللہ سارے عالم کا وارث ہے۔ یعنی مالک حقیقی ہے اور قیامت کے دن اللہ کے وارث ہونے کا مطلب ہے کہ :۔ ہر چیز کا ظاہری ، باطنی، صوری، حقیقی اختیار اللہ کو ہونا اور کسی دوسرے کا کسی طرح مالک نہ ہونا۔ کیونکہ ہر چیز کی ظاہری ملکیت بھی اللہ ہی کی طرف لوٹے گی۔ ورث عنہ اور ورثہ دونوں طرح مستعمل ہے۔ ایراث (افعال) توریث (تفعیل) وارث بنانا۔ کسی کو ورثہ میں شریک بنانا۔ توارث (تفاعل) باہم وراثت کی طلب۔ لایستوی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ استواء (افتعال) مصدر۔ وہ برابر نہیں ہے۔ وہ برابر نہیں ہوسکتا۔ من انفق من قبل الفتح وقاتل۔ اس جملہ کے بعد ایک اور جملہ محذوف ہے عبارت کچھ یوں بنے گی۔ لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل (ومن انفق یعد الفتح وقاتل) ۔ تم میں سے وہ شخص جس نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور جنگ کی اور وہ شخص جس نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جنگ کی، برابر نہیں ہے۔ برابر نہیں ہوسکتا۔ انفق ماضی کا صیغہ واحدمذکر غائب انفاق (افتعال) مصدر ہے بمعنی خرچ کرنا۔ الفتح سے مراد فتح مکہ ہے۔ بعض کے نزدیک صلح حدیبیہ مراد ہے۔ اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ وہ ۔ مرا ہیں وہ اصحاب جنہوں نے فتح مکہ سے قبل راہ حق میں خرچ کیا اور جنگ کی۔ اعظم : فعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر۔ عظامۃ (باب کرم) مصدر سے بمعنی بہت بڑا۔ درجۃ تمیز۔ یعنی ازروئے درجہ کے۔ بلحاظ درجہ کے۔ کلا۔ سب ، سارے۔ کلہم ہر ایک، کل لفظا واحد ہے اور معنی جمع اس لئے اس کا استعمال دونوں طرح ہے مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے کل کا مضاف ہونا ضروری ہے۔ اگر مضاف الیہ مذکور نہ ہو تو محذوف مانا جائے گا۔ جیسے وکلا جعلنا صلحین (21:73) اور سب کو نیک بخت کیا۔ اور وکل من الصبرین (21:88) یہ سب صبر کرنے والے وا تھے۔ یہاں آیت ہذا میں کلا : ای وعد اللہ کلا منہم ۔ کلا منصوب بوجہ مفعول ہے۔ اور مضاف ہے۔ ہم مضاف الیہ محذوف۔ الحسنی افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث صفت ہے۔ اس کا موصوف محذوف ہے ای المثوبۃ الحسنی۔ عبارت کچھ یوں ہوگی :۔ وکلا منھم وعد اللہ المثوبۃ الحسنی (ویسے تو) ان سب کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اچھے عمدہ ثواب یا اجر کا وعدہ کر رکھا ہے۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے ؟ تو وہ اس کو اس سے دگنا ادا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی) جنت ہے

(57:11) من ذالذی یقرض اللہ : من استفہامیہ ذا اسم اشارہ واحد مذکر الذی اسم موصول۔ یقرض اللہ اس کا صلہ۔ کون ہے وہ شخص جو دے اللہ کو قرض ۔ قرضا حسنا : قرضا مفعول مطلق موصوف۔ حسنا صفت، قرض حسنہ۔ بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ قرض حسنہ کی مندرجہ ذیل صفات ہونی چاہئیں۔ (1) حلال مال ہو۔ (2) اعلیٰ درجہ کی چیز ہو۔ (3) خود کو بھی اس کی اشد ضرورت ہو۔ (4) پوشیدہ طور پر دے۔ (5) احسان نہ جتائے۔ (6) اذیت نہ پہنچائے۔ (7) مقصد رضائے الٰہی ہو۔ (8) جتنا بھی خرچ کرے اسے تھوڑا خیال کرے۔ فیضعفہ :جواب استفہام کے لئے۔ جملہ جواب استفہام ہے اور مضارع منصوب اسی وجہ سے ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع قرضا حسنا ہے۔ یضعف مضارع منصوب واحد مذکر غائب مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ بڑھا کردیتا ہے۔ یا بڑھا کر دے۔ ترجمہ :۔ تاکہ اس کو بڑھا وے ۔ بڑھا کر دے۔ ولہ اجر کریم : واؤ عاطفہ۔ لہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرض دہندہ کے لئے ہے۔ اجر کریم موصوف وصفت۔ کریم کرم سے (باب کرم) سے مصدر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے باعزت اجر۔ مطلب یہ کہ چند در چند بڑھا کردینے کے علاوہ مزید باعزت شاندار اجر ملے گا۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کے (ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو بشارت ہو (کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے یہی بڑی کامیابی ہے

(57:12) یوم : فعل محذوف کا مفعول ہے ای اذکر یوم۔ یاد کر اس دن کو جب ۔۔ یسعی : مضارع واحد مذکر غائب۔ سعی (باب فتح) مصدر۔ دوڑتا ہوا۔ یا تیزی سے چل رہا ہوگا۔ بین ایدیہم : بین مضاف ہے اور اس کی اضافت ایدی کی طرف ہے۔ ایدی مضاف الیہ مضاف ہے۔ ہم مضاف الیہ۔ ان کے ہاتھ، بین ایدیہم ان کے سامنے ان کے قریب۔ ایمانھم : مضاف مضاف الیہ۔ ایمان جمع ہے یمین کی۔ دایاں ہاتھ ایمان مجازا بمعنی قسمیں بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ واقسموا باللہ جھد ایمانھم (6:109) اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں۔ کسی معاہدہ میں معاہدہ کو پکا کرنے کے لئے فریقین قسم کھا کر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں اسی فعل سے یمین بمعنی حلف مستعار لیا گیا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ یاد کر وہ دن جب تو مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھے گا کہ ان (کے ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف چل رہا ہوگا۔ بشرکم الیوم جنت تجری۔۔ اس سے پہلے ویقول لہم الملئکۃ (فرشتے ان سے کہیں گے) عبارت مقدرہ ہے، خوشخبری ہے تم کو آج کے دن۔ جنت تجری من تحتھا الانھر ۔۔ ای لکم جنت ۔۔ الخ تمہارے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں خلدین فیھا : جنت سے حال ہے، درآں حالیکہ تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ الفوز العظیم : موصوف وصفت۔ بڑی کامیابی۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف نظر (شفقت) کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جاؤ اور (وہاں) نور تلاش کرو پھر ان کے بیچ میں ایک ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اسکی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (و اذیت)

(57:13) یوم : ای اذکر یوم۔ وہ دن یاد کر۔ انظرونا۔ امر جمع مذکر حاضر، نظر (باب نصر) مصدر۔ ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ تم ہمارا انتظار کرو۔ ہمارے لئے ذرا ٹھیرو۔ ذرا ہمارے لئے توقف کریں۔ انظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں۔ پھر کبھی اس سے محض غور و فکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور و فکر کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ غور وفکر کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے :۔ قل انظروا ما ذا فی السموت والارض (10:101) (ان کفار سے) کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے۔ اس آیت کے معنی میں خواص کے نزدیک وہ بصیرت ہوگی جو غور و فکر کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ کسی کی طرف نظر کرنے سے اس پر احسان و لطف کرنا بھی مراد ہوتا ہے جیسے کہ ولا یکلمہم اللہ ولا ینظر الیہم یوم القیامۃ (3:77) ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے دن۔ ان کی طرف نظر کرم سے دیکھے گا۔ آیت زیر نظر میں بھی نظر کے یہ معنی لئے گئے ہیں انظرونا : ہماری طرف نظر شفقت کیجئے۔ نقتیس مضارع مجزوم جمع متکلم۔ مجزوم بوجہ جواب امر۔ اقتباس (افتعال) مصدر سے۔ ہم روشنی حاصل کرلیں۔ القبس آگ کا شعلہ یا اس کی چنگاری جو شعلہ سے لی جائے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ او اتیکم بشھاب قبس (27:7) یا سلگتا ہوا انگارہ تمہارے پاس لاتا ہوں۔ اقتباس بڑی آگ سے کچھ آگ لینے کے ہیں۔ مجازا علم و ہدایت کی طلب پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اقتباس کسی کے کلام سے چن چھانٹ کر کچھ حصہ اخذ کرنا۔ انظرونا نقتبش من نورکم : ہماری طرف نظر شفقت کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کرلیں۔ قیل : کہا جائے گا۔ یعنی وہ مومن جن سے منافقین نور حاصل کرنے کی التجا کریں گے ان سے کہیں گے یا فرشتے ان منافقین سے کہیں گے۔ ارجعوا اراء کم : ارجعوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ رجوع (باب ضرب) مصدر۔ تم واپس جاؤ وراء کم مضاف مضاف الیہ۔ ورآء اصل میں مصدر ہے جس کو بطور ظرف استعمال کیا جاتا ہے۔ آگے۔ پیچھے، چاروں طرف سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جملہ ہذا کا مطلب ہے تم اپنے پیچھے کی طرف لوٹ جاؤ۔ پیچھے سے مراد ہے :۔ (1) من حیث جئتم من الظلمۃ جس تاریکی سے تم آئے ہو۔ (2) المکان الذی قسم فیہ النور۔ وہ جگہ جہاں نور تقسیم ہوتا ہے۔ (3) الدنیا۔ دنیا کہ وہاں جاکر نیک کام کرکے نور کے حصول کا استحقاق مہیا کرو۔ فالتمسوا نورا :ترتیب کا ہے التمسوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ التماس (افتعال) مصدر ۔ تم تلاش کرو۔ تم طلب کرو اللمس (باب نصر) مس کی طرح۔ اس کے معنی بھی اعضاء کی بالائی کھال کے ساتھ کسی چیز کو چھو کر اس کا ادراک کرلینے کے ہیں۔ پھر مطلق کسی چیز کی طلب کرنے کے معنی میں آتا ہے المسہ فلا اجدہ۔ میں اسے تلاش کرتا ہو مگر وہ ملتا نہیں۔ نورا مفعول ہے ۔ التمسوا کا۔ پس (وہاں) نور کو تلاش کرو۔ فضرب بینہم بسور لہ باب :ترتیب کا ہے۔ ضرب ماضی مجہول واحد مذکر غائب کھڑا کیا گیا۔ بتایا گیا۔ قائم کیا گیا۔ بسور میں ب زائدہ ہے۔ ضرب سور ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ بینھم ای بین الفریقین۔ دونوں فریقوں کے درمیان ۔ یعنی مؤمنین اور منافقین کے درمیان۔ لہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب سور کے لئے ہے یا باب کے لئے، جو اس کے اندر والی جانب ہوگی۔ اس میں (یعنی وہاں) رحمت ہوگی کیونکہ جنت اس سے متصل ہے۔ وظاھر اور اس کی باہر کی طرف۔ من قبلہ : قبل طرف، سمت، ہ ضمیر واحد مذکر غائب سوریا باب کے لئے ہے اس کے اس طرف عذاب ہوگا۔ کیونکہ اس سے دوزخ متصل ہے۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

(تو منافق لوگ مومنوں سے) کہیں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزؤں نے تم کو دھوکا دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آپہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغا باز دغا دیتا رہا

(57:14) ینادونھم : ینادون مضارع جمع مذکر غائب مناواۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ پکاریں گے۔ نداء کریں گے۔ ضمیر فاعل منافقین کے لئے ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ مؤمنین کے لئے ہے۔ یعنی منافقین مؤمنین کو پکاریں گے (دیوار کے باہر کی طرف سے) الم نکن معکم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے انکاریہ ہے۔ لم نکن مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع متکلم۔ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے۔ علامہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں جب دیوار حائل ہوگئی اور منافق تار کی میں رہ جائیں گے تو دیوار کے پیچھے سے منافقوں نے پکار کر کہا۔ کیا تمہارے ساتھ دنیا میں ہم نمازیں نہیں پڑھتے تھے۔ اور روزے نہیں رکھتے تھے۔ مومن اس کے جواب میں کہیں گے۔ کیوں نہیں۔ تم ہمارے ساتھ تھے ۔ اور نمازیں پڑھتے تھے اور روزہ رکھتے تھے لیکن نفاق اور کفر کرکے اور خواہشات و معاصی میں مبتلا رہ کر تم نے خود اپنے آپ کو ہلاک کیا اور تم انتظار کرتے رہے کہ مومنوں پر تباہی کا چکر آجائے اور رسول اللہ ﷺ وفات پاجائیں۔ اور اس طرح تم سکھ اور چین سے ہوجاؤ۔ فتنتم : ماضی جمع مذکر حاضر، فتنۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ تم نے آزمائش میں ڈالا تم نے گمراہ کیا۔ (انفسکم مضاف مضاف الیہ۔ اپنے نفسوں کو۔ اپنے آپ کو) ۔ تربصتم : ماضی جمع مذکر حاضر۔ تربص (تفعل) مصدر سے۔ تم نے انتظار کیا۔ (مسلمانوں کے برے دنوں کا) ۔ ارتبتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ ارتیاب (افتعال) مصدر۔ تم شک میں پڑے۔ یعنی تم دین میں یا اس عذاب میں جس کی وعید تم کو سنائی گئی تھی شک کیا کرتے تھے۔ وعزتکم الامانی : واؤ عاطفہ غرت فعل ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ الامانی فاعل۔ غرت غرور (باب نصر) مصدر سے۔ اس نے دھوکہ دیا۔ اس نے فریب دیا۔ امانی امنیۃ کی جمع ہے جھوٹی آرزوئیں۔ خیالات کے اندازے : امیدیں ٹھہرائی ہوئیں بےبنیاد تمنائیں ۔ جیسے مسلمانوں پر مصائب و شدائد کا نزول۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات اور اس کے بعد دین اسلام کا خاتمہ۔ (یہ جھوٹی امیدیں تھیں جن پر یہ منافقین دنیا میں سہارا لگائے رہے) ۔ حتی جاء امر اللہ : امر سے مراد یہاں موت ہے۔ الغرور : غرور (باب نصر) مصدر سے (بمعنی فریب دینا۔ فریب) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت دھوکہ دینے والا۔ بہت فریب دینے والا۔ دھوکے کی ٹٹی۔ شیطان۔ دنیا یا مال و جاہ یا خواہش نفسانی اور ہر وہ چیز جو انسان کو فریب میں مبتلا کر دے۔ مغرور۔ جھوٹی تمناؤں میں پڑا ہوا۔ اپنے متعلق دھوکہ کھایا ہوا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور تم کو دھوکہ دینے والے (شیطان) نے اللہ کے متعلق دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ (وہ) کافروں ہی سے (قبول کیا جائے گا) تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے (کہ) وہی تمہارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے

(57:15) فالیوم :ترتیب کے لئے ہے۔ الیوم آج کے دن۔ منکم میں کم ضمیر جمع مذکر حاضر منافقین کے لئے ہے۔ فدیۃ : بدل ۔ عوض۔ یعنی اے منافقوا ! آج کے دن نہ تم سے معاوضہ لیا جائے گا۔ ولا من الذین کفروا۔ اور نہ ان سے فدیہ لیا جائے گا جنہوں نے (علی الاعلان) کفر کیا۔ یعنی جو چٹے ننگے کافر تھے یعنی جنہوں نے منافقوں کی طرح مسلمان ہونے کا زبانی دعوی بھی نہیں کیا تھا۔ وماوکم النار : واؤ عاطفہ، ماوی ٹھکانہ۔ رہنے کی جگہ۔ اوی یاوی اوی (باب ضرب) مصدر سے۔ ماوی اسم ظرف مکان ہے۔ ماوکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا ٹھکانہ۔ یہاں کم سے مراد منافقین اور صریحا کافر ہیں کیونکہ دونوں کے لئے بخشش اور مغفرت نہیں ہے۔ النار آگ یعنی دوزخ۔ ہی مولکم۔ ہی النار۔ مولی ساتھی۔ رفیق اس کی جمع موالی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (اب) یہی آگ یا یہی دوزخ تمہاری رفیق ہوگی۔ یہ طعن جت طور پر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ وان یستغیثوا یغاثوا بماء کما المہل یشوی الوجوہ (18:29) اور اگر (یہ ظالم) فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی داد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح گرم ہوگا۔ اور (جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا۔ وبئس المصیر : اور وہ واقعی بڑا ٹھکانہ ہے۔ بئس برا ہے۔ فعل ذم ہے اس کی گردان نہیں آتی۔ مصیر یہ صار یصیر (باب ضرب) کا مصدر بھی ہے اور اسم ظرف مکان بھی۔ لوٹنا۔ لوٹنے کی جگہ۔ قرار گاہ۔ ٹھکانا۔ اور وہ (النار) واقعی برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتابیں دی گئی تھیں پھر ان پر زمان طویل گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں

(57:16) الم یان ہمزہ استفہامیہ لم یان مضارع نفی جحد بلم (مجزوم) واحد مذکر غائب۔ انی انی انی (باب ضرب) مصادر۔ یان اصل میں یانی تھا۔ حرف جازم لم کے آنے سے یان ہوگیا۔ کیا وقت نہیں آیا۔ انی الرحیل کوچ کا وقت آگیا۔ انی الحمیم۔ گرم پانی، اپنی آخری حد حرارت پر پہنچ گیا۔ یعنی کھولنے لگا۔ اسی لئے ان کا معنی ہے کھولتا ہوا پانی۔ ان الامر کام کا وقت آگیا ۔ ان تخشع : ان مصدریہ ہے۔ تخشع مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب خشوع (باب فتح) مصدر ۔ بمعنی گڑگڑانا۔ عاجزی و فروتنی کرنا۔ عاجزی سے جھک جانا۔ کہ وہ عاجزی سے جھک جائیں۔ قلوبھم : مضاف مضاف الیہ ۔ قلوب فعل۔ تخشع کا فاعل ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین امنوا کی طرف راجع ہے ۔ کہ عاجزی سے جھک جائیں ان کے دل ۔ لذکر اللہ۔ ذکر اللہ سے مراد ۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر و ازکار یا قرآن مجید۔ وما نزل من الحق واؤ عاطفہ ما اسم موصول نزل من الحق صلہ ۔ الحق کے معنی ہیں مطابقت و موافقت۔ اس کا استعمال مختلف طرح ہوتا ہے اور منجملہ دیگر استعمال کے اس ذات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جو اپنی حکمت کے اقتضاء کی بنا پر کسی شے کی ایجاد فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کو اسی لئے حق کہا جاتا ہے۔ ارشاد ہے :۔ وردو الی اللہ مولہم الحق : اور پھیرے جائیں گے اللہ کی طرف جو ان کا مالک حق ہے یہاں حق سے مراد اگر اللہ لیا جائے تو جملہ کا ترجمہ ہوگا :۔ اور وہ جو اللہ کی طرف سے نزال ہوا ہے یعنی قرآن۔ حق کا دوسرا استعمال :۔ وہ قول یا فعل جو اسی طرح پر واقع ہوا ہو جس پر کہ اس کا ہونا ضرورت ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو کر جس مقدار اور جس وقت میں اس کا ہونا ضرور اور واجب ہے۔ چناچہ قول حق اور فعل حق اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ولکن حق القول منی لاملئن جھنم : لیکن یہ بات میری طرف سے ثابت ہوگئی کہ مجھ کو دوزخ بھرنی ہے۔ اس صورت میں یہاں الحق کے معنی ہوں گے۔ سچ بات، سچ دین۔ اور ترجمہ آیت کا ہوگا :۔ اور جو اترا سچا دین۔ (شاہ وبد القادر دہلوی) ہر دو صورتوں میں ما نزل من الحق سے مراد قرآن مجید لیا جاسکتا ہے۔ اس جملہ کی علت ذکر اللہ (بمعنی قرآن مجید) پر ہے اس کو عطف احد الوصفین علی الاخر کہا جاتا ہے (بیضاوی) ۔ ھذا عطف الشی علی نفسہ مع اختلاف اللفظین (اضواء البیان) ۔ ولا یکونوا کالذین اوتوا الکتب من قبل : ولا یکونوا کا عطف تخشع پر ہے۔ لایکونوا فعل نہی جمع مذکر غائب کا صیغہ بمعنی وہ نہ ہوجائیں۔ کالذین اوتوا الکتبکاف تشبیہ کا ہے الذین اسم موصول۔ اوتوا الکتب اس کا صلہ جن کو کتاب دی گئی۔ یعنی یہودی اور عیسائی۔ من قبل : ای من قبلہم ان سے پہلے ۔ قبل پہلے۔ آگے۔ بعد کی ضد ہے۔ اضافت اس کو لازمی ہے۔ جب بغیر اضافت کے آئے گا تو ضمہ پر مبنی ہوگا۔ ولا یکونوا ۔۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی۔ فطال :بمعنی پھر۔ طال ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب طول (باب نصر) مصدر دراز ہوگیا۔ لمبا ہوگیا۔ الامد : مدت۔ زمانہ۔ زمان اور امد کے لفظ میں صرف اتنا فرق ہے کہ امد کا استعمال بااعتبار غایت یعنی کسی چیز کی مدت ختم ہونے کے لحاظ سے ہوتا ہے اور زمان کا لفظ مبدأ اور گایت دونوں کے لحاظ سے عام ہے یعنی شروع زمانہ کے بتانے کے لئے بھی اور انتہائی زمانہ بتانے کے لئے بھی۔ فطال علیہم الامد پھر ان پر طویل زمانہ گزر گیا۔ یعنی ان کے اور ان کے پیغمبروں کے درمیان۔ فقست قلوبھم :تعلیل کا ہے۔ قست ماضی واحد مؤنث غائب قسوۃ (باب نصر) مصدر۔ پس ان کے دل سخت ہوگئے القسوۃ کے معنی سنگ دل ہونے کے ہیں یہ اصل میں حجر قاس سے ہے۔ جس کے معنی سخت پتھر کے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے :۔ فطال الامد علیہم فطال الزمان بینھم وبین انبیاء ہم وبدلوا کتاب اللہ الذی بایدیہم واشتروا بہ ثمنا قلیلا ونبذوہ ورآء ظھورھم واقبلوا علی الآراء المختلفۃ والاقوال المؤتفکۃ وقدلدوا الرجال فی دین اللہ واتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ فعتد ذلک قست قلوبھم فلا یقبلون موعظۃ ولاتلین قلوبھم بوعد ولا وعید۔ ان کے اور ان کے پیغمبروں کے درمیان مدت مدید گزر گئی۔ اور انہوں نے اللہ کی کتاب کو جو ان کے پاس تھی بدل ڈالا۔ اور اسے حقیر قیمت پر بیچ ڈالا۔ اور اس کے پندو نصائح کو پس پشت ڈال دیا۔ مختلف آراء اور اقوال کو اپنالیا۔ اللہ کے دین میں لوگوں کی پیروی شروع کردی۔ اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور راہبوں کو اپنا رب بنا لیا۔ اس پر ان کے دل پتھر جیسے سخت ہوگئے۔ کہ نہ موعظت قبول کرسکیں۔ اور نہ وعدہ وعید سے نرم ہو سکیں۔ وکثیر منھم فسقون : جملہ حالیہ ہے۔ اور حال یہ ہے کہ اکثر ان میں سے فاسق ہیں ۔ فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کرنے کے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو

(57:17) اعلموا۔ امر ، جمع مذکر حاضر۔ علم (باب سمع) مصدر۔ تم جان لو۔ آیت کا ترجمہ ہے :۔ جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ یہ تمثیلاً ارشاد فرمایا کہ :۔ جس طرح اللہ کے حکم سے ایک بےآب وگیاہ اور بنجر زمین ابر رحمت سے گل و گلزار میں تبدیل ہوجاتی ہے اسی طرح اس کا ذکر اور اس کی کتاب پر عمل ابر کا سا کرکے سخت سے سخت تر قلوب کو خشوع و خضوع کا گہوارہ بنا دیتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتا ہے اسی طرح محشر میں مردہ مخلوقات کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔ قد بینا : قد تحقیق کے معنی میں آیا ہے ۔ بینا ماضی جمع متکلم تبیین (تفعیل) مصدر۔ بیان کرنا۔ کھول کر بیان کر نا۔ تحقیق ہم نے بیان کردیا ہے۔ لعلکم : لعل حروف مشبہ بالفعل۔ کم اس کا اسم ۔ شاید تم۔ امید ہے کہ تم۔ تعقلون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ عقل (باب ضرب) مصدر۔ تم سمجھتے ہو۔ لعلکم تعقلون : امید ہے کہ تم سمجھ جاؤ گے۔ شاید تم سمجھ لو۔ (یعنی ہم نے یہ آیات جو اس مذکورہ بالا جملہ میں کھول کر بیان کیں۔ تاکہ تم ان کو سمجھ سکو۔ ان پر عمل کرو۔ اور نتیجۃ سعادت دارین حاصل کرسکو)
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی اور خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دیتے ہیں انکو دو چند ادا کیا جائے گا اور ان کے لئے عزت کا صلہ ہے

(57:18) ان المصدقین والم صدقات ان حرف مشبہ بالفعل المصدقین اسم ان۔ واؤ عاطفہ المصدقت معطوف جس کا عطف المصدقین پر ہے۔ یضعف خبر ان۔ المصدقین اسم فاعل جمع مذکر منصوب المصدق واحد تصدق (تفعل) مصدر۔ اصل میں المصدقین تھا۔ تاء کو صاد سے بدل کر ص کو ص میں ادغام کیا۔ خیرات دینے والے۔ المصدقت اسم فاعل جمع مؤنث منصوب (اسم ان) المصدقۃ واحد۔ تصدق (تفعل) مصدر۔ یہ بھی اصل میں متصدقت تھا۔ تا کو ص میں بدل کر ص کو ص میں مدغم کیا۔ خیرات دینے والیاں۔ یضعف مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ دوگنا کیا جائے گا۔ لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب۔ المصدقین والمصدقت کی طرف راجع ہے ترجمہ یوں ہوگا :۔ بیشک خیرات کردینے والے مرد اور خیرات دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو خوشدلی سے قرض دیا۔ ان کو دو چند دیا جائے گا۔ ولہم اجر کریم واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور ان کو عمدہ اجر ملے گا۔ اجر کریم موصوف وصفت (نیز ملاحظہ ہو آیت 11 متذکرہ بالا)
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا اور ان (کے ایمان) کی روشنی اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں

(57:19) والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون۔ والشھداء عند ربھم۔ لہم اجرھم ونورھم ۔۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا۔ اور ان (کے ایمان) کی روشنی ۔ (فتح محمد جالندھری) صدق (باب نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی لغت میں سچ کہنے اور سچ کر دکھانے کے ہیں۔ صدیق صدق سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت سچا۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں :۔ صدیق وہ ہے جس سے کثرت سے صدق ظاہر ہو اور وہ کبھی جھوٹ نہ بولے بعض نے کہا ہے کہ جس سے سچائی کی عادت ڈالنے کے سبب جھوٹ بن ہی نہ آتا ہو۔ الشھداء شھید کی جمع ہے۔ شھید کے معنی ہیں :۔ (1) موجود، حاضر۔ شاہد۔ نگہبان۔ (2) اللہ کی راہ میں جان دینے والا۔ اس آیت کی تشریح میں مولانا مودودی رقمطراز ہیں :۔ اس آیت کی تفسیر میں اکابر مفسرین کے درمیان اختلاف ہے :۔ ابن عباس ؓ مسروق۔ ضحاک، مقاتل بن حیان وغیرہ کہتے ہیں کہ :۔ اولئک ہم الصدیقون پر ایک جملہ ختم ہوگیا ہے اس کے بعد والشھداء سے ایک الگ مستقل جملہ ہے۔ اس تفسیر کے لحاظ سے آیت کا ترجمہ ہوگا کہ :۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی صدیق ہیں اور شہداء کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ نخلاف اس کے مجاہد اور متعدد دوسرے مفسرین اس پوری عبارت کو ایک ہی جملہ مانتے ہیں۔ اور ان کی تفسیر کے لحاظ سے ترجمہ وہ ہوگا اوپر ہم نے متن میں کیا ہے (مولانا جالندھری کا ترجمہ تقریباً وہی ہے جو مودودی صاحب کا ہے) ۔ دونوں تفسیروں کے اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ پہلے گروہ نے شہید کو مقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں لیا ہے اور یہ دیکھ کر کہ ہر مومن اس معنی میں شہید نہیں ہوتا۔ انہوں نے والشھداء عند ربھم کو ایک الگ جملہ قرار دیا ہے۔ مگر دوسرا گروہ شہید کو مقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں نہیں بلکہ حق کی گواہی دینے والے کے معنی میں لیا ہے اور اس لحاظ سے ہر مومن شہید ہے۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری تفسیر قابل ترجیح ہے اور قرآن و حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ (1) وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شھیدا (2:143) اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک متوسط امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ (2) ھو سمکم المسلمین۔ من قبل وفی ھذا لیکون الرسول شھیدا علیکم وتکونوا شھداء علی الناس (22:78) اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ (1) حدیث میں حضرت براء بن عازب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو انہوں نے یہ فرماتے سنا : مؤمنوا متی شھداء میری امت کے مومن شہید ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے سورة الحدید کی یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر) (2) ابن مردویہ نے اسی معنی میں حضرت ابو الدرداء سے یہ روایت نقل کی ہے کہ :۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ من فربدینہ من ارض مخافۃ الفتنۃ علی نفسہ ودینہ کتب عند اللہ صدیقا فاذا مات قبضہ اللہ شھیدا۔ ثم تلامذہ الایۃ جو شخص اپنی جان اور اپنے دین کو فتنے سے بچانے کیلئے کسی سرزمین سے نکل جائے وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ شہیدوں کی حیثیت سے اس کی روح کو قبض فرماتا ہے۔ یہ بات فرمانے کے بعد حضور ﷺ نے یہی آیت مبارکہ پڑھی۔ اولئک اصحب الجحیم : وہی صاحب دوزخ ہیں َ وہی دوزخی ہیں۔ جملہ کی ترکیب حصر پر دلالت کر رہی ہے اور صاحب الجحیم ہونا بتارہا ہے کہ دوزخ سے وہ جدا نہیں ہوں گے اس لئے اس کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ہی ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ اور زینت (و آرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (و ستائش) اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اگتی ہے اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے ! ) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑجاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے

(57:20) اعلموا امر جمع مذکر حاضر، علم (باب سمع) مصدر۔ تم (اچھی طرح) جان لو ۔ انما : بےشک، تحقیق، بجز اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے۔ خوب جان لو کہ دنیاوی زندگی بجز لعب و لہو ۔۔ کے کچھ نہیں۔ لعب : کھیل ، کود۔ بازی، باب سمع سے مصدر ہے اس کا ماخذ لعاب ہے بمعنی بہتا ہوا تھوک۔ یعنی رال۔ لعب کے معنی ہیں رال کا ٹپک پڑنا۔ اکثر کھیلنے کودنے والے اور بےشعور بچوں کی رال بہا کرتی ہے۔ نیز رال بہنے میں قصد اور ارادہ کو دخ (رح) نہیں ہوتا۔ اس لئے بیہودہ کام۔ بےمقصد حرکت اور کھیل کود پر لعب کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ لہوکھیل۔ غفلت باب نصر سے مصدر ہے لہوہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہٹائے اور باز رکھے۔ دل بہلاوہ زینۃ : ظاہری سجاوٹ۔ زیبائش ، آرائش، وغیرہ ، اسم ہے۔ تفاخر۔ فخر سے بروزن تفاعل مصدر ہے۔ تفاخر بینکم تمہاری باہمی خود ستائی۔ بڑائی مارنی، اترانا، فخر کرنا۔ تکاثر فی الاموال والاولاد۔ مال اور اولاد کی کثرت پر باہم مقابلہ کرنا۔ تکاثر بروزن تفاعل مصدر ہے۔ بمعنی دولت و جاہ، عزت و مرتبہ، مال و اولاد کی کثرت پر باہم جھگڑنا۔ مقابلہ کرنا۔ کمثل غیث ای مثلہا کمثل غیث : دنیاوی زندگی کی مثال (اس) بارش کی (یا کھیتی) کی طرح ہے۔ غیث کے لفظی معنی مینہ کے ہیں۔ اس جگہ اس سے مراد کھیتی ہے اسے علم بیان میں تسمیۃ الشیء باسم سببہ کہتے ہیں ۔ اعجب الکفار نباتہ : اعجب ماضی واحد مذکر غائب۔ اعجاب (افعال) مصدر سے اس نے خوش کیا۔ اس کو بھایا۔ اس کی اصل معنی اچنبھے میں ڈالنے کے ہیں۔ اور مجازاً بھانے اور خوش لگنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ الکفار : کھیتی کرنے والے۔ الکفر کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں اور رات کو بھی کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے اسی طرح کاشتکار بھی چونکہ زمین میں بیج کو چھپاتا ہے اسی لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے۔ کفر یا کفران نعمت سے ہے یعنی نعمت کی ناشکری کرکے اسے چھپانے کے ہیں۔ نباتہ : مضاف مضاف الیہ۔ نبات روئیدگی۔ پیداوار، ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع غیث ہے ۔ اعجب الکفار نباتہ : جس (کھیتی) کی ہریالی کا شتکار کے دل کو خوش کرتی ہے ۔ ثم : تراخی فی الوقت کے لئے۔ پھر۔ یہیج : مضارع واحد مذکر غائب ھیج (باب ضرب) مصدر۔ خشک ہوجاتی ہے۔ سوکھ جاتی ہے۔ یوم ھیج لڑائی یا بارش یا ابر یا آندھی کا دن۔ ھائجۃ وہ زمین جس کی کھیتی یا گھاس سوکھ گئی ہو۔ ثم یھیج پھر کسی آفت یا حادثہ کی وجہ سے وہ خشک ہوجاتی ہے (تفسیر مظہری) ۔ فترہ :تعلیل کا ۔ تری تو دیکھتا ہے یا دیکھے گا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع غیث ہے۔ مصفرا۔ اسم مفعول واحد مذکر، اصفرار (افعلال) مصدر۔ صفر مادہ، زرد، پیلا پڑا ہوا۔ ثم : پھر۔ یکون حطاما : ای صالطاما : پھر وہ ہوجائے ریزہ ریزہ ۔ چورا۔ روندن۔ جو چیز چورا چورا ہوکر ریزہ ریزہ ہوجائے اور روندی جانے لگے ۔ حطام کہلاتی ہے۔ حطم (باب ضرب) مصدر سے مشتق ہے بمعنی توڑ ڈالنا۔ وفی الاخرۃ عذاب شدید : یعنی دنیوی حیات کے جو احوال اوپر بیان ہوئے جنہوں نے ان کی طرف توجہ دی دنیا میں اور ان سے سبق حاصل کرکے آخرت کا بندوبست نہ کیا اس کے نتیجے کے طور پر ان کے لئے سخت عذاب ہوگا۔ ومغفرۃ من اللہ ورضوان : اور جنہوں نے دنیوی زندگی کی بےثباتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سرعت زوال اور قلیل المنفعت چیزوں سے اعتراض کیا اور اخروی زندگی کی طلب میں مشغول رہے ان کے لئے اللہ کی مغفرت اور خوشنودی ہوگی۔ وفی الاخرۃ عذاب شدید : من اقبل علیہا ولم یطلب بھا الاخرۃ ومغفرۃ ورضوان لمن اعرض عنھا وقصد بھا الاخرۃ (روح البیان) ۔ وما الحیوۃ الدنیا میں ما نافیہ ہے۔ الامتاع الغرور۔ اور انہیں ہے دنیوی زندگی مگر متاع فریب ۔ نرا دھوکہ ہی دھوکہ۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(بندو ! ) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے (اور) جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(57:21) سابقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ سباق ومسابقۃ (مفاعلۃ) مصدر دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا۔ یہاں خطاب جمیع الناس سے ہے ، یعنی اے لوگو ! ایمان خوف اور امید اور اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی تیزی سے بڑھو وجنۃ۔ واؤ عاطفہ جنۃ معطوف جس کا عطف مغفرۃ پر ہے۔ عرضھامضاف مضاف الیہ ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع جنۃ ہے۔ جس کا عرض (طول کی ضد) یا عرض بمعنی وسعت ہے۔ مبتدا کعرض السماء والارض : ک تشبیہ کا ہے۔ آسمان اور زمین کے عرض کی مانند مبتداء کی خبر۔ جملہ عرضھا کعرض السماء والارض صفت ہے جنۃ کی ۔ ارشاد ہے : کہ جنت کا پھیلاؤ آسمان اور زمین کی طرح ہے۔ سدی نے کہا ہے کہ :۔ اس سے مراد چوڑائی ہے جو طول کے مخالف جہت کو ہوتی ہے ، یعنی سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اگر برابر کرکے ملا دیا جائے تو جنت کا عرض اس کے برابر ہوگا۔ (متن میں السماء اور الارض واحد آیا ہے یعنی آسمان اور زمین کے پھیلاؤ کے برابر) جب جنت کا عرض اتنا ہے تو اس کی لمبائی کا کیا ٹھکانہ ہوگا۔ طول تو عرض سے بڑا ہوتا ہی ہے۔ اعدت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب اعداد (افعال) مصدر وہ تیار کی گئی ہے ۔ اعدت للذین امنوا باللہ ورسلہ یہ جملہ صفت ثانی ہے جنۃ کی۔ ذلک : یعنی وعدہ جنت و مغفرت۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ یہ اللہ کا فضل ہے یعنی یہ مغفرت اور جنت میں داخل کرنا اللہ کی مہربانی ہے۔ اللہ جس کو چاہے گا اپنی مہربانی سے نوازے گا۔ اللہ تعالیٰ پر کسی کا وجوبی حق نہیں ہے۔ یؤتیہ، یأتی مضارع واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر جس کا مرجع فضل ہے۔ وہ اسے دیتا ہے من یشائ : من موصولہ یشاء صلہ۔ جس کو وہ چاہتا ہے۔