Ayahs 57:1–7ترکیب : یحییٰ ویمیت فی محل الرفع لکونہ جزا المبتداء المحذوف ای ھو۔
تفسیر : اس سے پہلی سورة کو اپنے نام پاک کی تسبیح کرنے پر تمام کیا تھا فسبح باسم ربک العظیم۔ اب اس سورة کی ابتداء میں اس تسبیح کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال سبح للہ مافی السمٰوات والارض کہ تمہیں پر کچھ موقوف نہیں آسمانوں کے رہنے والے فرشتے (اور روحانیات حضرات انبیاء و اولیاء کرام) اور زمین کے رہنے والے ملائکہ و جمادات و نباتات اور کل موجودات اپنی زبان حال سے اس کی یکتائی و صنعت و ربوبیت و کمال کی گواہی دے رہے ہیں اور یہی ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ جو لوگ زبان سے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں مومنین و ملائکہ کرام خواہ وہ ارضی ہوں خواہ سماوی وہ زبان سے باقی کا دلالت حال تسبیح کر رہا ہے۔
یہ لفظ تسبیح قرآن مجید میں مختلف صیغوں میں آیا ہے۔ اس سورة اور سورة حشر اور صف وغیرہ میں بصیغہ ماضی اور سورة جمعہ و تغابن وغیرہ میں بلفظ مضارع یسبح اور بعض میں بصیغہ امر سبح جیسا کہ سورة اعلیٰ اور سورة بنی اسرائیل کے اول میں بصیغہ مصدر سبحان الذی اسریٰ بعبدہ۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ اس کی تسبیح و تقدیس کسی وقت کسی حال میں منقطع نہیں بلکہ ہر حال میں ہونی چاہیے گویا یوں فرمایا، اس کی تسبیح و تقدیس ہوتی آئی ہے اور ہوگی اور ہونی چاہیے اور ہوتی رہتی ہے اور اے لوگو ! تم بھی کرو۔ اور مافی السمٰوات الخ میں یہ اشارہ ہے اے بنی آدم ! کچھ تمہیں پر اس کی تسبیح و تقدیس موقوف نہیں اس کی تسبیح و تقدیس کرنے والے بہت ہیں آسمانوں کے فرشتے اور دیگر چیزیں اور زمین کے رہنے والے اور دریا کے جانور اور بیابانوں کے وحوش و طیور سوراخوں کے چیونٹے اور درند و پرند، نباتات و جمادات۔ اگر سننے والے کے کان ہوں تو عرش سے لے کر فرش تک اس کی تسبیح و تقدیس کا غلغلہ اور شور ہے۔ خاصان خدا نے کبھی جمادات کی تسبیح بھی سنی ہے۔ بخاری (رح) نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم کھانے کی جس وقت کہ وہ کھایا جاتا تھا تسبیح سنا کرتے تھے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے سامنے اور غرض اس کہنے سے کہ اسی کی ہر چیز تسبیح کرتی ہے خصوصاً شروع سورة میں یہ ہے کہ اے مشرکو، اے جاہلو، تم نے جو اپنے اوہام باطلہ اور قیاسات فاسدہ سے خدا تعالیٰ کی ذات پاک میں عیوب تجویز کر رکھے ہیں، کسی نے اس کے لیے بیٹیاں کسی نے بیٹا، کسی نے اس کے کارخانہ قضاء و قدر میں شریک سمجھ رکھے ہیں، کسی نے انسان کو خدا کا ہم شکل قرار دیا ہے، کسی نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے بعد اس کے لیے تکان ثابت کیا ہے کسی نے اس کو بعض امور کی نسبت عاجز تصور کیا ہے، کسی نے اس کو بغیر وسائل کے ہندوؤں کی دعائیں سننے سے بہرا قرار دے کر وسائل تجویز کر کے ان کی پرستش اختیار کی ہے، کسی نے اس کو عالم پیدا کرنے کے بعد معطل ٹھہرا رکھا ہے، وہ ان سب باتوں سے پاک ہے، اس کی پاکی زمین و آسمان کی ہر ایک چیز بیان کر رہی ہے۔
اس کے بعد وہ ان امور کے ابطال اور اپنی قدرت و کمال کے ثبوت میں جو تسبیح و تقدیس کے اسباب ہیں چند دلائل بیان فرماتا ہے مگر اسی سادے اور دل پسند طریق سے۔ دلیل اول وھو العزیز الحکیم تسبیح تنزیہ یعنی برائیوں سے مبرا کرنا۔ یہ دو باتیں چاہتا ہے اول یہ کہ جس کو عیوب سے مبرا کہا جاتا ہے وہ بےانتہا قدرت کاملہ رکھتا ہو کہ جس کے سبب کوئی عیب و نقص عجز کی وجہ سے اس کے گرد نہیں آنے پاتا۔ اس میں بیشمار باتیں آگئیں جورو بچوں سے پاک ہونا جسم و مقضیات جسم اور ہر قسم کی شہوانی و نفسانی خواہشیں بھوک، پیاس، نیند، اونگھ، موت و بیماری کسی کام کے کرنے پر بغیر کسی آلات و اسباب معین و مددگار کے قادر نہ ہونا سب سے پاک ہے۔ دوسری بات قدرت کے ساتھ حکمت بھی ہو کہ حقائق الاشیاء اور ہر چیز کی مناسب تدبیر آغازوانجام حاجات و عبادات ان کے دلی معاملات ‘ عالم کے انقلابات سب سے بخوبی واقفیت بھی ہو زور ہو اور حکمت و تدبیر نہ ہو وہ بھی بہت سے عیبوں کو پیدا کردیتا ہے۔ اس واقفیت کو حکمت کہتے ہیں۔ پہلی بات کے لیے العزیز دوسری کے لیے الحکیم فرما کر دعوے کو مدلل کردیا۔ اب رہی یہ بات کہ دراصل اس میں یہ دونوں وصف ہیں بھی یا نہیں ؟ اس کے ثبوت میں عالم کے تصرفات کو دلیل میں پیش کرتا ہے۔ فقال لہ ملک السمٰوات والارض کہ آسمانوں اور زمین پر اسی کی حکومت اور اسی کی سلطنت ہے۔ یہ بات ہر روز مشاہدے میں آرہی ہے کیونکہ یحییٰ و یمیت وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ گو عالم اسباب میں انسان اور حیوان اور جملہ موجودات کا وجود و عدم جس کو حیات و موت سے تعبیر کیا جاتا ہے بظاہر اسباب کی طرف منسوب ہے مگر جب عقل دوربین سے دیکھے گا تو ان جملہ اسباب کا سلسلہ اسی کی طرف جا کر منتہی ہوتا ہوا معلوم ہوگا جس کے لیے آخر یہی کہنا پڑے گا کہ وہی مارتا اور وہی جلاتا ہے۔ پھر جس کے قبضہ قدرت میں عالم کا ایجاد و انعدام ہے پھر اس کی کامل بادشاہی میں کیا کلام ہے ؟ کس بادشاہ کو رعیت پر یہ اختیارات حاصل ہیں ؟ اور لطف بلاغت یہ دیکھو کہ اس کو مضارع کے صیغوں سے بیان کیا تاکہ معلوم ہو کہ بالفعل یہی مارتا جلاتا ہے ہر روز یہ فعل جاری ہے اور رہے گا یہ نہیں کہ کرچکا جس میں کوئی کلام کرسکے۔ اس لیے اس بات کی آپ ہی تصریح بھی کرتا ہے۔ وھوعلیٰ کل شیئٍ قدیر کہ وہ ہر بات پر قادر ہے۔ پھر اس قدرت کاملہ کا اظہار اپنی چار صفتوں میں ثابت کرتا ہے فقال ھوالاول کہ وہ سب سے اول ہے اس سے پہلے کوئی نہیں کیونکہ ہر شے کا موجد ہے اور علت کا وجود جملہ معلومات سے مقدم ہوتا ہے۔ اس کی ابتداء جب ہوتی کہ کوئی اس سے پہلے ہوتا پس وہ ازلی اور قدیم ہے۔ ذات وصفات میں اور جو کچھ ہے وہ حادث ہے ذات وصفات میں ان کی نیستی ان کی ہستی سے مقدم ہے اور اسی طرح وہ الآخر بھی ہے سب کے بعد وہی رہے گا۔ یعنی ابدی بھی ہے سب مٹ جائیں گے پر وہ رہے گا اور الظاھر اور وہ سب پر غالب اور بلند بھی ہے سب سے برتر ہے۔ یا یہ معنی کہ تجلیات اور موجودات کے پردوں میں سے ایسا ظاہر ہے کہ اس قدر کوئی چیز ظاہر نہیں۔ مصنوع جب اپنی خوبیوں کا جلوہ دکھاتا ہے اس سے پہلے اس کے صانع کی خوبی اور اس کا وجود جلوہ گر ہوتا ہے انہیں معنوں میں بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ میں جب کسی چیز کو دیکھتا ہوں سب سے پہلے اس میں اللہ کو دیکھتا ہوں ؎
کہ بچشمانِ دل مبیں جز دوست
ہر چہ بینی بداں کہ مظہراوست
باوجود اس کے الباطن صانع بھی ایسا ہے کہ کسی کو ان آنکھوں سے نظر نہیں آتا اس کی حقیقت ذات ادراک ابصار و عقول سے محتجب ہے۔ یا یوں کہو کہ جس طرح سب سے بلند اور اونچا ہے اسی طرح سب سے نیچا بھی وہی ہے۔ وہ جو حدیث میں آیا ہے کہ ” اگر تم کنوئیں میں ڈول ڈالو گے تو وہ اللہ ہی پر جا کر پڑے گا۔ “ اس کے یہی معنی ہیں۔ وہ ہر طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے احاطہ سے کوئی باہر نہیں، سب کو گھیرے ہوئے ہے۔ ترمذی و مسلم وغیرہ نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں ایک دعا کا تلقین فرمانا مذکور ہے۔
وہاں رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں اور یہی تفسیر کی ہے اور اسی طرح احمد و مسلم وغیرہ نے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اور بھی حدیث نقل کی ہے جس میں ان چاروں لفظوں کے یہی معنی بیان ہوئے ہیں۔
یہاں تک پہلی بات کا ثبوت یعنی العزیز کی توضیح و تفسیر تھی مگر انہیں میں سے دوسرے وصف کا بھی جلوہ نمایاں تھا اس لیے اس کی بھی تصریح کردی وھو بکل شیء علیم یہ الحکیم کی تفسیر ہے اس کے بعد ایک گزشتہ اور ماضی فعل کو ذکر کرتا ہے جس سے اس کی کمال قدرت و حکمت کا اظہار ہوتا ہے۔ فقال ہوالذی خلق السمٰوات الخ کہ اسی نے تو آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں بنایا۔ اس کی تفسیر کئی جگہ ہوچکی ہے۔ ثم استویٰ علی العرش۔ اس کے بعد تخت حکومت پر تصرفات کرنے کو بیٹھا۔ اس کی بھی تفسیر و تحقیق ہوچکی۔ اس کے بعد پھر اپنی حکمت و علم کا اظہار کرتا ہے یعلم ما یلج فی الارض کہ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں گھستا ہے۔ پانی اور نباتات کے تخم اور خزانے اور مردوں کی لاشیں وغیرہ ومایخرج منہا اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اس کو بھی جانتا ہے نباتات معادن وغیرہ و ماینزل من السماء اور جو کچھ آسمانوں سے اترتا ہے۔ ملائکہ، رحمت، عذاب، بارش، احکام حوادث وغیرہ سب کو جانتا ہے۔ ومایعرج فیہا اور جو کچھ نیچے سے اوپر چڑھ کرجاتا ہے بندوں کے نیک اعمال اور نیک روحیں اور بعض انبیاء زندہ اور بندوں کی دعائیں اور زمین کے ابخرات سب کو جانتا ہے اور انہیں پر کیا موقوف ہے۔ وھومعکم اینما کنتم۔ وہ ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے واللہ بماتعملون بصیر اور جو کچھ تم کر رہے ہو وہ دیکھ رہا ہے۔
پھر اسی جملہ کا اگلے مضمون کی تمہید بنا کر اعادہ کرتا ہے۔ فقال ملک السمٰوات والارض اس کے بعد پھر اپنی قوت و حکمت کا اظہار کرتا ہے۔ فقال والی اللہ ترجع الامور عالم سفلی سے لے کر علوی تک اور جسمانی سے لے کر روحانی تک جن کے کاروبار اسباب پر مبنی ہیں۔ سب اسباب اسی مسبب الاسباب کی طرف رجوع کرتے ہیں یعنی قبضہ قدرت میں ہیں اور تمام کائنات کا وہی مرکز اصلی ہے سب کا میلان اسی طرف ہے۔ ع ہمہ روسوئے توبودو ہمہ سو روئے توبود۔ مگر بہیمیت کے ظلمات اور رسم و رواج کی تقلید کے بغیر اس کے رستے میں حائل ہو کر اس کو اس طرف جانے سے روک دیتے ہیں انہیں کے دور کرنے کو دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں بھیجی جاتی ہیں۔ سب چیزوں کا اللہ کی طرف رجوع کرنا یعنی اس کے ہاتھ میں ہونا بیان فرماتا تھا اس کے بعد چند بڑی بڑی باتوں کا اس کی طرف رجوع کرنا فرماتا ہے فقال یولج الیل فی النہار الخ۔ رات دن کو دیکھو کہ وہ قادر مطلق ان کو کس طرح سے الٹی پلٹی دیا کرتا ہے۔ تمام جہان منور ہوتا ہے دن کی بادشاہت زور پر ہوتی ہے کہ اس کو نیست کر کے رات کو اس میں داخل کردیتا ہے پھر رات دخیل ہو کر تمام جہان پر اپنا قبضہ کرلیتی ہے۔ اس کے بعد پھر دن کو اس میں داخل کردیتا ہے۔ یہ کیسا انقلاب عظیم ہے پھر کس کے قبضہ میں ہے ؟ اسی کے۔ آفتاب بھی اس کے حکم سے چلتا ہے، اس کی لگام بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ اس کی قدرت کا نمونہ ہے اور علم کی یہ کیفیت ہے کہ وھو علیم بذات الصدور وہ ان چیزوں کو بھی تو جانتا ہے جو سینہ میں ہوتی ہیں یعنی دل میں مخفی ہوتی ہیں۔ دل کی بات کو سینے کی بات بھی محاورہ عرب میں کہتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ دل سینہ میں ہوتا ہے انسان کے تمام مخفی ارادے اور خطرات بھی اس کے سامنے حاضر ہیں۔ جب یہ ہے تو انسان کو اپنے دل میں سب سے عمدہ خیال اور سب سے اعلیٰ اعتقاد رکھنا چاہئے۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا آمنو باللّٰہ ورسولہ کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو نجات اور حیات ابدی کا ذریعہ ہے اور دوسری زندگانی کی روح ہے۔ مگر صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں اس کے بعد کچھ عمدہ کام بھی کرنے چاہییں اور اعمال میں خلق خدا کے ساتھ سلوک کرنا بڑا عمدہ کام ہے اس لیے اسی کو ذکر کیا۔ وانفقوا الخ کہ خیرات بھی کرو۔ ابتدائِ اسلام میں جب کہ آنحضرت ﷺ کفار قریش کی سخت کشاکش میں تھے، ایمان لانا اور خیرات کرنا ہی سکھایا جاتا تھا اور باتوں کے ماننے کی ابھی ان میں صلاحیت نہ تھی جب صلاحیت بڑھتی گئی اور احکام بھی تکمیل سعادت کے لیے فرض ہوتے گئے۔ اس لیے اس آیت میں ان کفار قریش کو انہیں دو باتوں کی طرف بلایا جاتا ہے مگر مال خرچ کرنا آسان کام نہیں۔ طبیعت کا بخل مانع آیا کرتا ہے اس لیے مختلف طور سے اس کی تاکید کی جاتی ہے۔ (1) مماجعلکم مستخلفین فیہ اس مال میں سے دو جس کا خدا نے تم کو خلیفہ یا وارث بنایا، باپ دادا کی میراث یا کسی کے عطیہ یا کسی سبب 1 ؎ سے حاصل ہونا۔ کل وہ غیر کے پاس تھا آج اس کے پاس یہ اس کا خلیفہ یعنی قائم مقام ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سدا کسی کے پاس نہیں رہا ہے نہ تمہارے پاس رہے گا آنی جانی چیز ہے اس میں جو کچھ ہو سکے اپنے عہد میں نیکی کرلو مرنے سے یا دیگر اسباب سے یہ دوسرے کے پاس چلا جاتا ہے۔ (2) فالذین آمنوا الخ کہ جو ایمان لائیں گے اور اللہ کے رستے میں دیں گے ان کے لیے بڑا عمدہ بدلہ ملے گا یہ ضائع نہ جائے گا۔ کبھی اس دنیا میں بھی مل جاتا ہے ورنہ اکثر تو اس جہان میں ملتا ہے جہاں یہ مر کرجاتا ہے اور دوسری زندگی حاصل کرتا ہے۔ اس لیے نیک لوگوں نے جو کچھ ملا اللہ کی راہ میں صرف کردیا۔ ایک صحابی ؓ سے کسی نے پوچھا کہ تمہارے گھر میں تمہارا کچھ مال و اسباب دکھائی نہیں دیتا کیا کرتے ہو۔ اس نے کہا بھائی یہ میرا گھر نہیں مسافرخانہ ہے چند روزہ مہمان ہوں، مجھے جو ملتا ہے اس کو اپنے اصلی گھر میں بھیج دیتا ہوں جس کو نہ کوئی چور لے سکے نہ ظالم چھین سکے۔ جواب سن کر سائل پھوٹ پھوٹ کر اپنی غفلت اور حبِّ مال پر رونے لگا۔ یہاں سے ایمان کی بھی تاکید شروع ہوگئی کیونکہ یہ نہیں تو خیرات کا بھی نفع نہیں اور یہی اعتقاد تو اس کو خیرات پر حرکت دیتا ہے اس لیے ایمان کی تاکید کرتا ہے۔ فقال وما لکم لاتؤمنون الخ کہ تم کس لیے ایمان نہیں لاتے حالانکہ اللہ کا رسول تم کو ایمان لانے کے لیے کہہ رہا ہے اور تم سے عہد بھی لے لیا ہے یا تو وہی عہد ِ ازلی جو روحوں سے لیا گیا تھا یا دنیا میں خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا حاصل کرنا اور روزمرہ صدہا دلائل دیکھنا عقل سلیم کا عہد ہے کہ اپنے اللہ پر ایمان لائے۔ ان کنتم مؤمنین اگر تم کو ایمان لانا منظور ہے تو کس لیے نہیں لاتے۔ بعض کہتے ہیں ان الخ جملہ شرطیہ ہے جزا محذوف ہے کہ اگر تم ایمان والے ہو تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔ ھوالذی ینزل الخ کہ اللہ جس پر ایمان 2 ؎ لانا چاہیے وہ ہے کہ جو اپنے بندے محمد ﷺ پر آیتیں نازل کر رہا ہے خاص تمہارے بھلے کو کہ تم کو گمراہی کی اندھیریوں میں سے نکال کر ہدایت وسعادت کی روشنی میں لائے اور اللہ تم پر بڑا مہربان ہے جو اس نے ایمان لانے کے لیے رسول بھیجا ورنہ اس کو کیا پروا تھی۔ یہ بیچ میں تاکیدیں ایمان کے لیے تھیں جو مقصد اصلی ہے۔ (3) تاکیدہ ومالکم الاتنْفِقُوْا الخ خیرات کے لیے کہ تم کس لیے خرچ نہیں کرتے آخر چھوڑ جاؤ گے سب اللہ کے لیے رہ جائے گا۔ یا یہ کہ سب مال اللہ کا ہے اس کے بدلے میں تمہیں اور دے گا۔
(4) پھر خیرات کے مراتب بیان فرماتا ہے۔ لایستوی کہ خیرات اگرچہ ہر حال میں بہتر ہے مگر بعض اوقات کہ جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس کا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ ابتدائِ اسلام میں مکہ فتح ہونے سے پہلے فقرائِ اسلام پر بڑی تنگدستی تھی اس وقت کا دیا بعد کے دیے کے برابر نہیں جس نے اس وقت اللہ کی راہ میں دیا اور جہاد کیا، جان اور مال دونوں کام میں لایا اس کا اللہ کے نزدیک بڑا درجہ ہے مگر جس نے بعد میں بھی ایسا کیا ثواب اور نیک وعدہ اس کے لیے بھی کیا مگر مدارنیت اور خلوص پر ہے اس لیے فرما دیا۔
واللّٰہ بماتعملون خبیر کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو اللہ جانتا ہے۔ اس میں یہ بھی رمز ہے کہ اس سے مت ڈرو کہ ہمارے دین کا اس کو علم نہ ہوگا پھر بدلہ کیونکر ملے گا جیسا کہ دنیاوی بادشاہوں کے کارگزاروں کو فکر ہوتی ہے جس لیے وہ کوشش کرتے ہیں کہ آقا کو یہ کارگزاری معلوم ہوجائے۔ (5) من ذا الذی الخ۔ یہ اور زیادہ اللہ کی راہ میں دینے کی تحریک ہے یعنی جو کچھ تم دیتے ہو اللہ کو قرض دیتے ہو جو بڑا غنی اور دگنا کر کے دینے والا ہے۔ پھر کوئی ہے جو اس کو قرض دے جو دگنا واپس دے اور اپنی طرف سے عمدہ اجر بھی دے ؟ ہرچند خدا تعالیٰ کو کسی کی کچھ حاجت نہیں نہ وہ محتاج ہے، نہ اس کو قرض لینے کی حاجت ہے مگر یہ اس کی رحیمی ہے کہ جو کوئی اس کے لیے کسی حاجت مند کو دیتا ہے گویا خدا تعالیٰ اپنی ضمانت دیتا ہے کہ یہ اس نے ہم کو قرض دیا ہم دگنا کر کے دیں گے۔ پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا ہے قیامت میں
1 ؎ تجارت ہو یا حرفہ۔ 12 منہ
2 ؎ گمراہی کے بہت اقسام تھے ہر ایک کی جداگانہ ظلمت تھی جس میں اس عہد کے لوگ مبتلا تھے اس لیے ظلمات جمع کا صیغہ ہے اور ایمان و ہدایت کی روشنی ایک ہی نور ہے اس لیے مفرد لایا۔ 12 منہ
خدا تعالیٰ فرمائے گا بندے میں بیمار تھا، تو نے میری عیادت نہ کی۔ میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ بندہ عرض کرے گا کہ الٰہی تو ان باتوں سے پاک تھا۔ فرمائے گا تیرے پاس میرا بندہ بیمار تھا تو اس کی عیادت کرتا گویا میری عیادت کرتا اور میرا بندہ تیرے پاس بھوکا تھا اس کو کھانا کھلاتا گویا مجھ کو کھلاتا کیونکہ یہ سب کام میرے ہی واسطے ہوتے۔ اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسکین پر اس کے الطاف کی تجلی ہوتی ہے اور ہر دردمند پر اس لیے یہ مصائب خاص لوگوں پر نازل ہوتی ہیں یہودبدبخت نے اس بات کو سمجھا نہیں یہ جملہ سن کر کہہ دیا کہ اللہ فقیر اور ہم غنی ہیں جو ہم سے قرض مانگتا ہے۔
سبحان اللہ اس آیت میں اللہ کی راہ میں دینے کی کس قدر بلیغ تاکید کی گئی اور کن کن پیرایوں میں اول یہ کہ مسکین کو دینا ہم کو قرض دینا ہے۔ دوم یہ کہ ہم دگنا کر کے دیتے ہیں۔ سوم یہ کہ اس کے سوا اور بھی عمدہ اجر دیتے ہیں۔ چہارم من ذا الذی استفہام کیا کہ کون ہے جو ہمیں قرض دے گویا ہم مانگ رہے ہیں پھر اس پر بھی جو کوئی نہ دے تو بڑا ہی بدبخت ازلی ہے۔ اے میرے اللہ آپ پر جان اور مال فدا 1 ؎ ہے جو تو نے ہی دیا ہے۔
یہ تمام صفات خلفائِ راشدین ؓ عہنم میں موجود تھے۔ فتح مکہ سے پہلے وہ ایمان لائے، جہاد بھی کیا، اللہ کی راہ میں مال بھی دیا۔ خصوصاً صدیق اکبر ؓ نے پھر امامت کے مسئلے سے (جس کا مدار انتخاب پر تھا جو حسن خدمات و لیاقت و کارگزاری اور فضل علم و صحبت پر تھا جس لیے ان تمام صحابہ ؓ نے ابوبکر ؓ کو منتخب کیا) کس لیے ان کو کافرومرتد اور غاصب بنایا جائے ؟ اور حضرت علی کرم اللہ وجہ کو بعد میں خلیفہ بنانے سے ان پر جھوٹے الزام لگائے جائیں سخت بےجا بات ہے۔
1 ؎ ہمارے پاس ہے کیا جو کریں فدا تم پہ
کہ ایک زندگی مستعار رکھتے ہیں
Ayahs 57:8–91 ؎ والرسول رسول اللہ ﷺ کے سوا انسان کی حالت اور دہر کا انقلاب اور توارد نعماء سب اللہ کے پیغامبر ہیں جو انسان کو اللہ پر ایمان لانے کے لیے بلا رہے ہیں اور دلائلِ آفاق وانفس خدا کا عہدنامہ ہے جو بندے نے زبان حال سے قائم کیا ہے۔ ان دونوں باتوں پر بھی ایمان نہ لانا اس کی طرف نہ جھکنا اندھا پن ہے ایسے اندھے کا عالم محسوس کی بھی کسی چیز اور کسی حالت پر ایمان نہیں ان کنتم مؤمنین میں اسی طرف اشارہ ہے کس لیے کہ اگر کسی کا ان باتوں پر ایمان و یقین ہوگا تو ضرور اللہ ہی پر ہوگا۔ 12 منہ
Ayahs 57:10–112 ؎ قبل الفتح کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ انکشاف حجابِ ظلمانی سے پہلے مال و جان سے اس کی تلاش میں جہاد و کوشش کرنا اعلیٰ درجہ ہے کس لیے کہ بعد فتح یعنی انکشاف تو مال جان صرف کرنا کوئی بڑی بات نہیں اس تقدیر پر فتح سے فتح مکہ بالخصوص مراد نہیں بلکہ عام ہے فتح بمعنی انکشاف حجابات و فتح بمعنی دفع مصائب و فتح بمعنی حصول مرادات و نعماء جن میں سے اعدائِ دین پر فتح اور ان کے مسکن پر غلبہ بھی ہے جو فتح مکہ کو بھی شامل ہے اور نفس امارہ پر فتح یابی کو بھی شامل ہے مگر اصل معنیٰ وہی ہے جو متن تفسیر میں مذکور ہوئے جو متبادرالی الفہم ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 57:12–15ترکیب : یوم الظرف یضاعف وقیل العامل یسعٰی وقیل التقدیر جرون یوم ترای یسعی نورھم حال بین ایدیہم ظرف یسعٰی اوحال من النور بشراکم مبتداء جنات الخ۔ خبرہ اے دخول جنات والجملۃ حال ای یقال لھم ذلک یوم یقول بدل من یوم الاول وقیل التقدیرا ذکر باطنہ الجملۃ صقۃ لباب اولسور و ینا دونہم حال من الضمیر فی بینہم۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں جہاد کرنے والوں، ایمانداروں، اللہ کو قرض دینے والوں کے لیے دو چند ملنے اور اجر عظیم کا وعدہ ہوا تھا اس لیے اس ایفائِ وعدہ کا وقت بیان فرماتا ہے۔ فقال یوم تری المؤمنین والمؤمنات الخ۔ کہ یہ اس دن ہوگا کہ جس روز ایماندار مردوں اور عورتوں کے آگے ان کا نور دوڑتا ہوا چلے گا اور ان کو جنت کا مژدہ دیا جائے گا اور جس دن منافق اس نور کی حسرت کریں گے یعنی قیامت کے روز کہ جہاں سخت حاجت ہوگی اور وہ ایک دوسرے جہان کی جاودانی زندگی ہوگی، اس روز ان کو یہ بدلہ ملے گا۔ دنیا چند روزہ ہے اس دُرِّبے بہا کی یہاں چنداں ضرورت نہیں کہ دے کر ضائع کردیا جائے۔ ہاں کسی قدر اجر یہاں بھی کبھی دے دیتے ہیں۔ اجر ملنے کا وقت بھی بیان فرما دیا اور اس کے ضمن میں قیامت کا حال بھی ذکر کردیا جس کا خوف انسان کو نیکی کی طرف حرکت دیتا ہے۔
اب کلام اس میں ہے کہ مومنین و مومنات کے آگے نور دوڑنے سے کیا مراد ہے اور کس موقع پر ہوگا ؟ جمہور مفسرین اس کے قائل ہیں کہ پل صراط کا قصہ ہے جو جہنم کے اوپر ایک باریک تار کھنچی ہوگی جس پر سے چلنے کا حکم ہوگا اور اس کے سامنے جنت کی دیواریں دکھائی دیں گی کہ لو جنت میں جاؤ مگر اس پل پر سخت اندھیری ہوگی وہاں صرف ایمان اور عمل صالح کا نور یا قندیل آگے آگے دوڑتی چلے گی۔ ایماندار برق خاطف کی طرح عبور کر کے جنت میں چلے جائیں گے۔ منافق ایمانداروں سے کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو ہم بھی تمہاری روشنی میں چلیں کس لیے کہ ان کے پاس روشنی نہ ہوگی۔ ایماندار کہیں گے پیچھے جاؤ یہاں روشنی نہیں ہم بھی وہیں سے لائے ہیں یعنی دنیا سے۔ پھر ان کے درمیان حجاب ہوجائے گا۔ الغرض منافق و کافر اس اندھیری میں اور اس باریک رستے میں جو ایسے قعر جہنم کے منہ پر ہوگی چل نہ سکیں گے، کٹ کر جہنم میں گر پڑیں گے۔ یہ بھی بندوں کے الزام دفع کرنے کا طریقہ ہوگا کہ ہم نے تمہاری روشنی نہیں بجھائی تمہیں دنیا میں اس کو ضائع کر کے آئے ہو۔ یہ احادیث صحیحہ صریحہ کا خلاصہ ہے جن کو اہل سنت مانتے ہیں۔ بسورت دیوار اس سے مراد حجاب ہے جس کے اس طرف عذاب اوپر کی طرف جنت و رحمت ہوگی اس میں ایک دروازہ ہوگا جس میں سے گزر کر ایماندار جنت میں جائیں گے۔ مجاہد کہتے ہیں یہی وہ دیوار اعراف ہے۔
حجاب ہونے کے بعد منافق مسلمانوں کو پکاریں گے کہ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے تمہارے جیسے اعمال نماز، روزہ عمل نہ لاتے تھے پھر آج کس لیے تم نے ہم کو چھوڑ دیا ؟ مسلمان جواب دیں گے، ہاں تھے مگر تم کو اعتقاد نہ تھا۔ جو کچھ کرتے تھے دکھانے کے لیے اور تم دنیا کی محبت میں فریفتہ تھے جس لئے اپنے آپ کو کفرومعاصی میں ڈال رکھا تھا جو فتنہ تھا اور اسلام کے درپردہ دشمن تھے۔ تکا کرتے تھے کہ کب اسلام کو شکست ہو کہ ہم آزادانہ بدکاری و خراباتی کے مزے اڑائیں، احکام کی تکلیف سے چھوٹ جائیں اور دارآخرت اور نئی زندگانی میں تم کو شک تھا اور تمہاری تمنائوں نے تم کو بھول میں ڈال دیا تھا کہ ایسا مال ہو ایسی اولاد ہو، ایسی جائیداد ہو، رات دن اسی کی فکر میں تھے اور شیطان نے خدا تعالیٰ کی طرف سے دھوکے میں ڈال رکھا تھا کہ وہ غفوررحیم ہے، ہم جو کچھ کرتے ہیں معاف کر دے گا یا یہ کہ خدا تعالیٰ کو اس روز کے برپا کرنے پر قادر ہی نہیں جانتے تھے یا یہ کہ اس کے منکر تھے اور دہر اور طبیعت ہی کو متصرف جان رہے تھے۔ آخر موت آگئی غرکم باللہ الغرور کے یہ سب معنی ہوسکتے ہیں۔ پھر آج تم سے اور کافروں سے کوئی فدیہ نہ لیا جائے گا کہ کوئی جرمانہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ فدیہ مایفتدٰی بہ۔ نہ آج کے روز تمہاری توبہ قبول ہے نہ روپیہ پیسہ لیا جاتا ہے۔ مَاْوَکُمُ النار تمہارا ٹھکانا آتش جہنم ہے۔ ھی مَوْلٰکُمْ یہی تمہارے پاس کی جگہ ہے یا یہی تمہارے لائق ہے، یا یہی تمہاری چارہ ساز ہے اور کوئی نہیں۔
الغرور بالفتح شیطان، دھوکا دینے والا و بالضم مصدر ہے جس کے معنی ہیں دھوکا کہ دنیا میں تم پر کوئی سزا نہیں آتی تھی اس دھوکے نے تم کو اللہ کی طرف سے غفلت میں ڈال دیا تھا۔ عرفاء کے نزدیک وہ نور جو اس کے آگے چلتا ہے معرفت و محبتِ الٰہی ہے۔ یہی جذبہ عشق اس کو طبیعت و خواہش کی اندھیریوں اور عدم و امکان کے سخت ظلمات متراکمہ سے نکال کر نور محض حق جل عظمتہ کے جوار عاطفت تک لے جاتا ہے اور یہ جوار جنت و گلزار وحیات جاودانی کی جگہ ہے اور جن کو یہ نور نصیب نہیں وہ انہیں ظلمات میں ٹکرا دیں گے اس صحن نور تک نہ پہنچ سکیں گے اور یہ ابدی ظلمات جہنم و نار کی شکل میں جلوہ گر ہوں گی پھر وہاں اس نور کی تمنا کریں گے جو محض بےسود ہے۔
Ayahs 57:16–18ترکیب : الم یان من انی الامر یانی اذاجاء اناہ ای وقتہ۔ وقریٔ الم یین من آن یئین بمعنی اتی یاتی۔ ان تخشع الجملۃ فاعل یان واللام للتبین ومابمعنی الذی وھوعطف علی الذکر عطف احدالو صفین علی الاخر وفی نزل ضمیر یعود الیہ۔ ولایکون الخ عطف علی تخشع والمراد النھی عن مماثلۃ اھل الکتاب فیما حکی عنھم بقولہ فطال الخ واقرضواللّٰہ فیہ وجھان احدھما ھو معترض بین اسم ان وخبرھا وھو یضاعف والثانی انہ معطوف علیہ لان الالف واللام بمعنی الذی ای ان الذین تصدقوا۔
تفسیر : منافقوں اور کافروں کی دردناک مصیبت آنے والے دن کی بیان فرما کر ایمان والوں کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنی حالت پر قائم رہیں اور آیندہ سعادت کے میدان میں ترقی کرتے رہیں اس لیے اصول سعادت ذکر فرماتا ہے۔ فقال الم یان الخ اعمش کہتے ہیں صحابہ مدینے میں آ کر کھیتی باڑی کے شغل میں اس سرگرمی سے سست ہوگئے تھے۔ اس آیت میں ان پر عتاب ہے تاکہ پھر پہلی حالت کی طرف رجوع کریں۔ ایمان و اعمال صالحہ کے بعد تخشع یعنی نرم دل ہونا اور اللہ سے ڈرتے رہنا بھی ترقی درجات کے لیے عمدہ سیڑھی ہے۔ اس کو مرتبہ احسان کہتے ہیں جس کی شرح نبی ﷺ نے حدیث جبرئیل (علیہ السلام) میں خوب فرما دی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
فرماتا ہے کہ کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آگیا ہے کہ ان کے دل لرزا کریں۔ اللہ کا ذکر اور اس کی نازل کی ہوئی برحق بات (قرآن) سن کر اور وہ اگلے اہل کتاب جیسے نہ بن جائیں کہ جن پر زمانہ گزرنے سے ان کے دل سخت ہوگئے اور بہت سے بدکار ہوگئے۔ یعنی ذکر اللہ اور قرآن سنا کریں اور ڈرا کریں اور یہود و نصاریٰ کی طرح سخت دل نہ بن جائیں۔ زمانہ حوامد کا ترجمہ ہے اس میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ (1) یہ کہ ان میں اور ان کے انبیاء میں مدت گزر گئی تھی اس لیے ان کے دل سخت 1 ؎ ہوگئے تھے۔ زبان پر سب کچھ تھا مگر دل مرچکے تھے۔ (2) یہ کہ اس غفلت میں ان کو مدت گزر گئی تھی یہاں تک کہ یہ غفلت اور حبِّ دنیا اور دین سے بیخبر ی ایک پشت سے دوسری پشت تک متوارث ہو کر طبیعت ہوگئی تھی۔ (3) یہ کہ ان کی اس بیہوشی اور سخت دلی پر مدتوں کوئی عذاب و مصیبت نازل نہیں ہوئی تھی جس سے اور بھی ڈھیٹ اور نڈر ہوگئے تھے۔ صحابہ ؓ کے ڈر اور نرم دلی کی یہ نوبت آنحضرت ﷺ کی برکت سے پہنچی تھی کہ قرآن مجید سن کر زار زار رویا کرتے تھے۔ صبح کی نماز میں امام قرآن پڑھ رہا تھا اس میں آیات تھیں کہ جن میں تہدید و تنبیہ ہے سن کر ایک مقتدی پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ بیہوش ہو کر گر پڑا۔ لوگ اٹھا کر اس کے گھر لے گئے اسی حالت میں مرگیا۔ (ترمذی)
اس پر خیال گزر سکتا تھا کہ جب دل ایسے سخت ہوجاتے ہیں تو مرجاتے ہیں پھر وہ کسی صحبت یا وعظ و قرآن سننے سے کیونکر زندہ ہوسکتے ہیں گویا مایوسی ہے۔ فرماتا ہے اعلموا ان اللّٰہ الخ۔ کہ مایوس نہ ہونا چاہیے کوشش کرنا چاہیے کس لیے کہ اللہ مردہ 2 ؎ زمین کو (خشک کو) ابرِرحمت سے پھر زندہ (سبز) کردیا کرتا ہے اس بات کو جان لو۔ ہم نے تمہارے لیے آیتیں بیان فرما دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔ اس میں حشر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں مرنے کے بعد انسانوں کو ہم زندہ کردیں گے۔ یہ بھی خوف دلانے والی بات تھی کس لیے کہ حشر کا یقین کامل ہونے کے بعد ڈرنا لازمی بات ہے۔
دل مردہ کے زندہ کرنے والے اسباب بھی ضمناً بیان فرما دیے گئے کہ اللہ کے ذکر اور اس کی نازل کردہ کتاب سے زندہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کا ایک اور بھی نسخہ تھا اس کو دوسرے پیرائے میں ذکر فرماتا ہے۔ ان المصدقین کہ صدقہ دینے سے بھی دل زندہ ہوجاتا ہے۔
1 ؎ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صرف علم کافی نہیں نہ کتابیں پڑھنا بلکہ ایسے کاملین کی محبت جو نور مجسم ہوتے ہیں اور ان کی زبان سے سننا اور ہی اثر پیدا کرتا ہے وہی بات ہے کہ جس کو ایک خوش بیان عمدہ تقریروں میں ادا کر رہا ہے جس کا اثر قلوب تک نہیں پہنچتا اور پہنچتا ہے تو قائم نہیں رہتا اسی بات کو وہ نور مجسم سیدھے لفظوں میں بیان کر کے اپنی روحانی تاثیر سے دلوں میں نقش حجر کردیتا ہے جس سے دیرپا جوش اور سچی سرگرمیوں کا ایک دریا رواں ہو کر قوموں اور ملکوں کو احاطہ کرلیتا ہے۔ قرآن ہے کہ جس کو نبی ﷺ سناتے تھے پھر تیرہ برس میں کیسا انقلاب عظیم عرب میں نمودار ہوا۔ یہی ہے کہ جس کو اور لوگ پڑھتے اور سناتے ہیں آج کل لیکچرار اور سپیکر حشرات الارض کی طرح نکل پڑے مگر اثرندارد خود انہیں کے دلوں میں اثر نہیں ہوتا پھر اوروں کے دلوں پر ان کی حکومت کیونکر ہوسکتی ہے۔ 12 منہ
3 ؎ دل بمنزلہ زمین کے ہے اور ذکر الٰہی اور قرآن بمنزلہ آب رحمت کے جس طرح آب رحمت سے خشک زمین جس کو مردے سے مشابہت ہے نرم ہوجاتی ہے جس کو زندگی سے مشابہت ہے اسی طرح ذکر و قرآن سے مردہ دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ 12 منہ
زکوٰۃ و دیگر خیرات سب کو شامل ہے کس لیے کہ کسی کا دل خوش کردینا اور حاجت براری کرنا اس کی خوشنودگی کا باعث ہے اس کے بدلے میں وہ دوچند دیتا ہے اور آخرت میں اجر عظیم جنت عطا کرتا ہے۔ (واقرضوا اللّٰہ الخ اسی صدقہ کا بیان ہے کہ انہوں نے اللہ کو قرض دیا بطور جملہ معترضہ کے) ۔
Ayahs 57:19–20ترکیب : والذین مبتداء باللّٰہ متعلق بآمنوا ورسلہ معطوف علیہ اولئک مبتداء ھم الصدیقون الخ خبرہ والجملۃ والذین عندربہم ظرف للشہداء کمثل الکاف فی موضع نصب من معنٰی ماتقدم ای یثبت لہاھذہ الصفات مسبھۃ بغیث ویمکن ان تکون فی موضع رفع ای مثلہا کمثل غیث۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ایک دن آنے والا ہے کہ جہاں ایمانداروں کا نور ان کے آگے دوڑتا ہوا ان کی رہبری کرے گا اور منافق نور نہ ہونے کی وجہ سے حسرت کرے گا۔ اس کے بعد فرمایا تھا کہ کیا اب وہ وقت نہیں آن پہنچا کہ ایماندار ڈریں اور غافل نہ ہوجائیں اور صدقہ و خیرات و ذکر و تلاوت عمل میں لائیں اور صدقہ و خیرات دینے والوں کے لیے دو چند ملنے اور اجر عظیم پانے کی بشارت بھی تھی جس سے ظاہر بینوں ‘ دنیا پرستوں کا خیال جاسکتا تھا کہ جو کچھ ہے روپیہ پیسہ ہے ‘ اسی کی خیرات کے بدلے میں اجرعظیم ملتا ہے۔ خالی عبادت و ایمان و محبتِ الٰہی کو کون پوچھتا ہے ؟ اس لیے ان آیات میں ایمان کی فضیلت اور ایمانداروں کے درجات اور کفروتکذیب کی خرابی گو کافر و مکذب دنیا بھر کی خیرات کرے بیان فرماتا ہے اور اس کے بعد خود دنیا کی بےثباتی اور اس کی بےقدری ظاہر فرماتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اصول سعادت ایمان ہے یہی اس کو صدیق و شہید عنداللہ بنا دیتا ہے۔ یہی اجر عظیم کا مستحق اور اس نور کا مالک کردیتا ہے۔ وہ نور ایمان ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ جو دنیا میں بھی اس کا رہنما ہے اور آخرت کی اندھیریوں میں بھی رہنمائی کرے گا۔
صدیق برزون فعیل تصدیق کرنے والا۔ دل سے سچا جاننے والا۔ عرف شرع میں یہ ایک خاص مرتبہ ہے نبوت سے کم اور رتبوں سے بڑھ کر۔ صدیق نبی کا قوت نظریہ میں پرتو اور ظل کامل اور سچا نمونہ یا روحانی فرزند اکبر اور جانشین ہوتا ہے۔ ہر امت میں صدیق گزرے ہیں جن کے برکات و فیوض نبوت کا لوگ مشاہدہ کرتے تھے۔ اس امت میں ابوبکروعلی و عثمان و زید و طلحہ و زبیر و سعد و حمزہ ؓ تھے۔
شہید یہ نبی (علیہ السلام) کی قوت عملیہ کا ظل کامل ہے صدیق کے بعد اس کا مرتبہ ہے۔ مگر بڑا بلند مرتبہ ہے۔ اس شخص سے خوارق و کرامات اس کثرت سے خودبخود ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کا شمار مشکل ہے حیات میں بھی اور بعدالممات بھی اس کے اجساد پاک سے ان کا روحانی تعلق ایک نئی قسم کا باقی رہتا ہے۔ اس امت میں حضرت عمرفاروق و حمزہ و علی و حسنین وغیرہم گزرے ہیں۔ اللہ کی راہ میں کفار سے لڑ کر جہاد میں مرجانے والے کو بھی شہید کہتے ہیں اور اسی طرح مبطون وغیرہ کو بھی اس ذیل میں درج کردیا جاتا ہے مگر شہید اکبر وہی لوگ ہیں کہ جن کی قوت روحانی اس اعلیٰ درجہ پر پہنچ گئی ہو۔ عام ہے کہ یہ جہاد میں یا کافر کے ہاتھ سے شہید ہوئے ہوں یا نہ وہ اپنے بستروں پر بھی جا مرجائیں تو بھی شہید ہیں اولیاء کرام 1 ؎ اسی مرتبہ میں ہیں۔
انما الحیوۃ الدنیا دنیا کی زندگی کو لہو ولعب کہا جو لڑکپن اور شہوانی لوگوں کی زندگی ہے۔ اور زینت جوانی کے ایام میں آرائش و تجمل مرغوب ہوتا ہے اور تفاخر و تکاثر بڑھاپے میں۔ پھر ان کو ساون کی گھانس کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے کہ جب اگتا ہے خوشنما معلوم ہوتا ہے پھر چند روز میں زرد ہو کر سوکھ کر چورا ہوجاتا ہے۔ یہی انسان کا حال ہے۔ گھانس تو دار آخرت کے عذاب وثواب سے فارغ ہے مگر اس پر وہاں کا عذاب وثواب باقی رہ گیا۔ اس لیے دھوکے کا سرمایہ ہے۔
1 ؎ ان کا جہاد نفس کے ساتھ تھا جو اعداء عدواللہ ہے۔ 12 منہ
Ayahs 57:21–24ترکیب : عرضہا متبداء کعرض السماء الخ خبرہ والجملۃ صفۃ جنۃ۔ اعدت صفۃ اخری۔ فی الارض الجار یتعلق بمصیبۃ لانھا مصدرہ یجوزان تکون صفۃ لہا علی اللفظ اوالحل۔ و مثلہ ولافی انفسکم الافی کتاب حال ای مکتوبۃ۔ من قبل لغت اومتعلق بہ لکیلا کے ناصبۃ للفصل بمعنی ان (آسی) اندوہ و اندوہگیں شدن یسمع یسمع یقال آسی علی مصیبۃ ای حزن و آسیت لفاں اے حزنت لہ صراح۔
تفسیر : دنیا کی بےثباتی اور بےقدری بیان فرما کر کردارِ آخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے جس کے لیے انسان اس فانی گھر میں چند روزہ مہمان بنایا گیا ہے فقال سابقوا الی مغقرۃ من ربکم الخ کہ ان کاموں کی طرف دوڑو اور جلد حاصل کرو کہ جو اللہ کی مغفرت اور حصول جنت کا باعث ہیں پھر جنت کے اوصاف بیان فرماتا ہے۔ (1) عرضہا کعرض السماء والارض کہ اس کا چوڑ ان آسمان اور زمین کے برابر ہے۔ اس کی تفسیر میں مفسرین کے چند قول ہیں۔ سدی کہتے ہیں کہ جنت کی چوڑان کو تشبیہ دی ہے۔ آسمان اور زمین کی چوڑان سے اور بتلایا گیا ہے کہ طول تو کہیں زیادہ ہے۔ پھر اس قدر وسیع جنت کا آسمان پر قائم ہونا جیسا کہ احادیث سے ثات ہے (اس کے معنی سورة آل عمران کی تفسیر میں جہاں کہ یہ جملہ آیا تھا ہم بیان کر آئے ہیں جس کا خلاصہ) یہ ہے کہ جنت دوسرے عالم کا نام ہے اس کے آگے یہ عالم ناسوت جس میں آسمان و زمین ہیں ایک بہت چھوٹی چیز ہے۔ پھر آسمانوں پر جو جنت کا ہونا بیان ہوا ہے اس سے مقصود صرف بجہت علو عالم قدس بیان کرنا ہے مقدس چیزوں کو سموات کی طرف اور ادناس کو زمین کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کو بھی اس لیے آسمانوں پر کہتے ہیں ورنہ حقیقت میں یہ عالم ناسوت اس کا کسی طرح ظرف و مکان ہو نہیں سکتا۔ 1 ؎
بعض نے کہا ہے کہ عرض سے مراد چوڑان نہیں بلکہ صرف فراغی مقصود ہے جیسا کہ آیا ہے فذودعاء عریض۔ ای کثیر۔ بعض کہتے ہیں عرض سے مراد قیمت و قدر ہے۔ (2) اعدت للمقتین کہ وہ پرہیزگاروں کے لیے تیار ہے۔ یہ نہیں کہ تیار کی جائے گی یہ بھی رغبت کا باعث ہے۔ یہ اہل سنت کی دلیل ہے کہ جنت بالفعل موجود ہے۔ اور احادیث صحیحہ کہ جن میں شب معراج آنحضرت ﷺ کا جنت کی سیر کرنا آیا ہے اس کے لیے مؤید ہیں۔ معتزلہ کہتے ہیں قیامت کے روز تیار ہوگی۔ یہ قول غلط ہے۔ پرہیزگاروں کے لیے تیار ہونا فرمایا تاکہ پرہیزگاری کی طرف توجہ ہو کسی قوم اور کسی ملک کے باشدوں یا امیروں کا خاص حصہ نہ سمجھا جائے جیسا کہ بعض اقوام نے خیال کر رکھا ہے۔ ہنود میں برہمن اور یہود تو اس کو اپنے باوا کا گھر سمجھے بیٹھے ہیں اور تثلیث کے عقیدے سے عیسائی بھی اس کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ پرہیزگاری بقول پولوس بیکار اور لعنتی کام ہے۔ اسی طرح اشراف عرب بھی اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھے بیٹھے تھے۔
دارِ آخرت کے بعد انسان کی عاجزی اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں بھی رنج و راحت جو کچھ سامنے آتا ہے سب نوشتہ ازلی کے موافق ہونا ہے فقال ما اصاب الخ کہ جو کوئی مصیبت زمین پر آتی ہے جیسا کہ قحط ‘ و ‘ بدامنی یا خود تمہاری ذات پر پڑتی ہے جیسا کہ مرض و تنگ دستی اولاد و احباب کا مرنا، بےعزتی و ذلت و ناکامی نصیب ہونا۔ تم پر اور زمین پر آنے سے پہلے کتاب یعنی دفتر قضاء و قدر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے یہ تم کو اس لیے سنا دیا کہ تم کسی نعمت پر اتراؤ نہیں کہ اپنی محنت و تدبیر کا ثمرہ سمجھ بیٹھو اور بخل کرے لگو کس لیے کہ اللہ کو اترانے والے متکبر پسند نہیں جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخت پر ترغیب دیتے ہیں اور جو نہ مانے تو اللہ کو بھی کچھ پروا نہیں۔ اس میں سب خوبیاں موجود ہیں۔ چاہیے کہ مصیبت پر صبر اور نعمت کو عطیہ الٰہی سمجھ کر شکر کرے اور اس کے بندوں پر اس کے شکریہ میں احسان کرے۔
1 ؎ یقال عارض الکتاب بالکتاب اے قابلۃ وعرض الجاریۃ علی البیع واعرض بوزن الفلس المتاع مخار الضحاح۔ 12 منہ
Ayahs 57:25–27ترکیب : فیہ باس الخ الجملۃ حال من حدید و منافع معطوف علی باس ولیعلم معطوف علیٰ مخذوف وھو یستعملوہ وقیل عطف علی قولہ لقیوم الناس بالغیب حال من فاعل ینصرا ومفعولہ ای غائبا عنھم اوغائبین عنہ رھبانیۃ منصوب بفعل مضمر یفسرہ مابعدہ وھو ابتدعوھادقیل بالعطف علی ماقبلہ ای جعلنا فی قلوبھم رہبانیۃ مبتدعۃ من عندھم وابتد عوھا علیٰ ھذا التقدیر صفۃ لھا۔ الرھبانیۃ الفعلۃ المنسوبۃ الی الراھب و قریٔ بضم الراء کانھا نسبۃ الی الرہبان جمع راھب۔
تفسیر : پہلے بخل کی برائی بیان فرمائی تھی اب یہ ذکر دیا کہ بخل پر کیا منحصر ہے جمیع نیک و بد امور بتلانے کے لیے ہم نے رسول بھیجے۔ معجزات و نشانیاں دے کر تاکہ بنی آدم کی اصلاح کریں مگر بنی آدم کے معاملات دو قسم پر تھے ایک ان کی ذات کے متعلق عقائد سے لے کر اعمال حسنہ ‘ عبادت و ریاضت تک دوم امور تمدن جن میں حقوق عباد میں پہلی باتوں کے لیے انزلنا معہم الکتاب کتاب نازل کی۔ دوسری قسم کے معاملات کے لیے والمیزان ترازو یعنی عدل و انصاف نازل کیا۔ لیقوم الناس الخ تاکہ بنی آدم ان باتوں میں انصاف پر قائم رہیں زیادتی کمی ‘ جورو ظلم نہ کریں۔ مگر سرکش اور کج طبع لوگوں کے لیے جو قانون انصاف پر نہیں چلتے ہیں وانزلنا الحدید لوہا نازل کیا۔ لوہے سے مراد حکومت و شوکت ہے جو حاکم کے آہنی ہتھیاروں سے پیدا ہوتی ہے پھر وہ حکام جو تلوار کے زور سے ان کو انصاف پر چلاتے ہیں اور لوہے کے نازل کرنے سے مراد اس کا پیدا کرنا ہے جیسا کہ اس آیت میں وانزل لکم من الانعام ثمانیۃ ازواج اس کے احکام و قضا یا عالم بالا کی طرف منسوب ہوتے ہیں اس لیے ایسی کارآمد چیز کے پیدا کرنے کو انزلنا تعبیر کیا۔
پھر لوہے کے فوائد بیان فرماتا ہے۔ (1) فیہ باس شدید باس سختی و سخت حرب شدن (صراح) کہ اس میں جنگ کے وقت بڑی سختی و شدت ہے کس لیے کہ تلوار، بندوق، نیزہ، گرز، توپ وغیرہ تمام آلات جس سے سرکشوں کی گردن ٹوٹ جاتی ہے لوہے کے ہوتے ہیں۔
(2) ومنافع للناس اور بہت نفع ہیں کس لیے کہ انسان کی حاجت کے متعلق جس قدر پیشے میں زراعت و معماری وغیرہ سب میں لوہے کے آلات مستعمل ہوتے ہیں۔ (افسوس آج کل مسلمانوں کے ہاتھ میں لوہا نہیں رہا جس سے یہ نوبت پہنچی) ۔ (3) ولیعلم اللہ الخ تیسرا فائدہ اس میں اللہ اور اس کے رسولوں کے مددگاروں، حامیوں کا پورا امتحان بھی ہے کہ دیکھیں کون ہے جو جان کو ہاتھ پر رکھ کر ہتھیار باندھ کر خدا کے قانون جاری ہونے میں مدد کرتا ہے اور دنیا میں ظلمت و فساد پھیلانے والوں ‘ خدا پرستوں پر ظلم کرنے والوں کی خبر لیتا ہے ؟ (اس میں جہاد کی ترغیب ہے) ۔