57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 57:1–10

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی سب سے پہلے ہے اور وہی سب سے پیچھے ہے اور وہی ظاہر اور پوشیدہ ہے اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا پھر عرش پر قائم ہوا۔ وہ جانتا ہے جو چیز زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو چیز اس سے نکلتی ہے۔ اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے۔ اور وہ تمہارے ساتھ ہے خواہ تم کہیں بھی ہو۔ اور اللہ تمہارے سب اعمال کو بھی دیکھتا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے اور اللہ کی طرف ہی سب امور لوٹ کر جائیں گے

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور وہ دلوں کی باتوں تک کو جانتا ہے

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو اپنا نائب بنایا ہے اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرو۔ سو تم میں سے جو ایمان لے آئیں اور خرچ کریں ان کو بہت بڑا صلہ ملے گا

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اس نے تم سے عہد لیا تھا اگر تم ایمان لانے والے ہو تو

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جو اپنے (خاص) بندے پر واضح آیات نازل فرماتا ہے تاکہ وہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائے اور بیشک اللہ تم پر بڑے شفیق اور بڑے مہربان ہیں

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور آسمانوں اور زمین کی وراثت تو اللہ ہی کی ہے۔ جو تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کرچکے اور لڑچکے برابر نہیں۔ وہ ان لوگوں سے درجہ میں بہت بڑے ہیں جنہوں نے اس (فتح مکہ) کے بعد خرچ کیا اور لڑے اور اللہ نے سب کے ساتھ بھلائی کا وعدہ فرمارکھا ہے اور اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہیں

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے وہی ایک ذات ہے جو سب سے اول ہے کہ اسی نے سب مخلوقات کو پیدا فرمای اور نہ اس کی ذات تھی اور کچھ نہ تھ اور سب مخلوق فنا کی زد میں ہے جیسے قیامت کو ہر شے فنا ہوگی یا اس کی فنا واقع نہ ہو جیسے جنت دوزخ کہ وہ اپنے باسیوں سمیت ہمیشہ رہیں گی مگر ان کے فنا کا امکان تو بہرحال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے باقی رکھنے سے رہیں گی ورنہ اپنی ذات میں تودائمی نہیں ہیں جبکہ ذات باری تعالیٰ اس سے بہت وراء ہے کہ اس پر کبھی عدم وفنا کا گمان بھی کیا جاسکے لہذا وہی سب سے آخر بھی اور اپنے ظہور میں بھی سب سے بڑھ کر ہے کہ اس کی حکمت وقدرت ہر ذرہ سے عیاں ہے اور اپنی ذات اور کنہ کے اعتبار سے باطن ہے کہ اس کی حقیقت تک کسی عقل و خیال کی رسائی ممکن نہیں مگر ہر شے اور ساری مخلوق کو ہر اعتبار سے خوب جانتا ہے اس سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ۔ آیہ مبارکہ کی فضیلت۔ ان پانچ سورتوں کو جو مسبحات کہا گیا گیا ہے روایت ہے کہ نبی کریم سونے سے قبل پڑھا کرتے تھے وہ یہی سورة حدید ، حشر ، صف ، جمعہ اور تغابن اور فرمایا کہ ان میں میں یہ مذکورہ آیت سب پر بھاری ہیں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ وساوس شیطانی کا علاج ہے کہ یہ آیت آہستہ سے پڑھ لی جائے جن خوش نصیبوں کو اس کامراقبہ نصیب ہے ان پر اللہ کا بہت احسان ہے انہیں اس کے ذریعہ وساوس کا مقابلہ کرنا چاہیے یہ حفاظت الٰہی کا حصار ہے ۔ وہ ایسا قادر ہے کہ اپنی حکمت بالغہ سے اور قدرت کاملہ سے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدافرما کر ہر ہرشے ان میں درست فرمادی اور پھر عرش جو مانند تخت ہے اس شان سے جو اس کو سزاوار ہے جلوہ افروز ہوا ہراس شے کو جانتا ہے جو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے قطرہ آب وبارش ہو یا کوئی بیج یا گرمی سردی کا اثر اور ہر اس شے سے واقف ہے جو زمین سے نکلتی ہے ہر ذرہ ہرایٹم اور اس سے بھی کمتر وجود اس کی نگاہ اور علم میں ہے جو کچھ آسمانوں سے نازل ہوتا ہے فرشے یا احکام سب کچھ جانتا ہے یا جو آسمانوں پر چڑھتا ہے جیسے بندوں کے اعمال وغیرہ اسے بھی جانتا ہے اور تمہارے تمام احوال سے واقف ہے غرض تم جہاں کہین اور جس حال میں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے معیت باری کی حقیقت کیا ہے یہ مخلوق کے احاطہ علم سے بالاتر ہے مگر اس کا وجود یقینی ہے لہذا تمہارے ہر عمل کو دیکھتا ہے آسمانوں اور زمینوں یعنی کائنات میں حکومت اور سلطنت حقیقتا اسی کی ہے اور تمام امور جو ہریہ اور عرضیہ سب اسی کی بارگاہ میں پیش ہوں گے وہ رات کو دن میں داخل فرمادیتا ہے اور کبھی دن کو رات میں یعنی یہ شب وروز کا بڑھنا گھٹنا موسموں کی تبدیلی اور اس کا جہاں کی آبادی کا باعث بننا سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں اور وہ دل میں گزرنے والے خیالات تک کو جانتا ہے لوگو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول برحق کی رسالت کا اقرار کہ ایمان لانے کے اسباب اور داعی تو موجود ہے نیز اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو کہ یہ مال کل تمہیں وراثت میں ملا تھا پھر تم نہ رہو گے تو اسی طرح دوسروں کے پاس چلاجائے گا پھر بھلامال کی محبت میں اللہ کی نافرمانی یاناجائز ذرائعے سے مال کا حصول یا مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ لہذا تم میں سے جن لوگوں نے ایمان قبول کرلیا اور اپنی محنت و کوشش نیز اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔ بھلاتم ایمان کیوں نہیں لاتے کہ دوہی تو سبب ہوسکتے ہیں اول تاریکی ہو کوئی راستہ بتانے والا نہ ہو اور ایسا نہیں کہ بلکہ اللہ کا رسول تمہیں اس بات کی طرف بلارہا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور رسول اللہ کی صداقت و دلائل انسانی نے اقرار عبدیت کیا اس کا اثر بھی فطرتا ہر انسان کے اندر موجود نیز اگر تمہارا دعوی ہے کہ تم خود ایماندار ہوتوہر پہلی کتاب میں بھی یہ وعدہ لیا گیا ہے کہ آپ کی بعثت پر آپ پر ایمان لاؤ گے تو تمہارے پاس ایمان نہ لانے کی کوئی بھی وجہ نہیں اللہ ہی وہ کریم ہے جو اپنے محبوب بندے اور رسول اللہ پر روشن اور واضح آیات نازل فرماتا ہے کہ وہ تمہیں ظلمت اور تاریکی سے روشنی میں لائے۔ منصب نبوت اور فیض وبرکات شیخ۔ قرآن حکیم کو سمجھانا اور اس سے ہدایت کا نصیب ہونا یہ منصب نبوت و رسالت ہے کہ محض لغت اور زبان دانی کا سہارا لے کر کوئی سمجھ نہیں سکتا نبی (علیہ السلام) کے سمجھانے سے بات بنتی ہے اور نبی پر ایمان کی برکت یہ ہیے کہ انسان کے عقیدہ وعمل کا سفر ظلمت سے نور کی طرف اور غلطی سے اصلاح کی طرف شروع ہوجاتا ہے یہی برکات نبوی شیخ کی وساطت سے نصیب ہوتی ہیں اور پیری مریدی کا حاصل یہی ہے کہ عملا گناہ کی زندگی سے واپسی نصیب ہوجائے۔ یہ سب اللہ کا کرم و احسان ہے اور اس کا عفو درگزر کہ گمراہوں کو ہادی عطا کردیا کہ وہ بہت رحم کرنے والا ہے اگر تم مال کی محبت میں دیوانے ہو اور جانتے ہو کہ ایمان لانے سے مال خرچ کرنا پڑے گایاسود وغیرہ ناجائز ذرائع سے جمع نہ کرسکیں گے تو بھلایہ مال تمہارے پاس بچے گا کب یہ تو تم سے چھن جائے گا تم مرجاؤ گے اور یہ اوروں کا ہوجائے گا اور درحقیقت تو اس ارض وسما میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے کہ بالا آخر سب کو عارضی ملکیت بھی چھوڑ کر چلے جانا ہے ۔ عظمت صحابہ۔ اوریاد رکھو وقت طریق اور خلوص وجاں نثاری اعمال کے درجات میں فرق پیدا کردیتی ہے جیسے فتح مکہ سے پہلے جن کو آپ کی رفاقت نصیب ہوئی اور انہوں نے اپنے سارے وسائل اللہ کی راہ میں صرف کیے ان کا درجہ ان لوگوں سے بہت بلند ہے جنہوں نے فتح کے بعد یہ سعادت حاصل کی تھی کہ فتح مکہ سے قبل تو دعوی ایمان جان دینے کے برابر تھا اور بظاہر اسلام کی کامیابی کے اسباب نہ ہونے کے برابر تھے انسان مزاج ہے کہ وہ اسباب پر نظر رکھتا ہے اور اگر کسی تحریک کی کامیابی کے آثار نہ ہوں تو قریب نہیں جاتا مگر جو محض حق کا طالب ہو اور اسے حق نظر آئے تو وہ اسباب کی پرواہ نہیں کرتا یہ حال مکی عہد کا تھا اور فتح مکہ کے بعد تو اسلام کی ریاست وجود میں آگئی تب بھی جو لوگ آپ کی غلامی میں آگئے اور ان کے درجات بہت عالی وبلند ہیں مگر ان لوگوں کے مقامات ان سے بلند تر ہیں جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے مال خرچ کیے اور اپنی جانیں نذرانہ دیں اور جہاد کیے ہاں آپ پر ایمان لانے والے اور آپ کے لائے ہوئے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرنے والے تمام لوگوں سے اللہ کے کرم و احسان کا وعدہ ہے یعنی سب کے سب نجات یافتہ ہیں جس کے مثالی مسلمان صحابہ کرام ہیں اسی بنیاد پر اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ، الصحابہ کلھم عدول۔ کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں اور رضی اللہ عنھم ورضوعنہ ، اللہ کی رضامندی کا اعلان ہے کہ باقی سب کو میدان حشر میں پتہ چلے گا کہ جبکہ ان کے حق میں قرآن نے دنیا میں اعلان کردیالہذا اگر کسی سے بتقاضائے بشریت خطا ہوئی تو اسے توبہ نصیب ہوگئی ڈیڑھ لاکھ میں سے بمشکل چند مثالیں ملتی ہیں ان کی بھی توبہ مثالی ہے کہ کسی نے خود کو ستون سے باندھ لیا جب تک توبہ کی قبولیت کا بذریعہ وحی پتہ نہ چلا اور کسی نے خود کو سنگسار کرالیا یہ بھی تعلیم امت کا ایک انداز جہاں کہیں احادیث مبارکہ میں برزخ میں کسی کے ساتھ سختی یا عذاب کا ذکر ہے تو اگر کوئی کمی رہ گئی تو وہ اسے دور کرنے کی تدبیر ہے کہ انہیں اس طرح پاک کردیا گیا جو بہت ہی کم ہے ان کے آپس کے معاملات میں لب کشائی درست نہیں اور کسی کو الزام دیناجائز نہیں نیز ان کی عظمت کا معیار قرآن وحدیث ہے تاریخ سے حوالے سے لے کر صحابہ کرام پر اعتراض کرنے والوں کو ٹھوکر لگی کہ تاریخ کا مصدر تو لوگوں کی زبانیں ہوتی ہیں جس کے باعث اس میں رب ویابس جمع ہوسکتا ہے جبکہ ان کی عظمت کا بیان اللہ کا کلام اور نبی (علیہ السلام) کی حدیث میں ہے جو سب وحی ہے اور یاد رکھو اللہ تمہارے تمام اعمال کو ملاحظہ فرمارہا ہے۔
Ayahs 57:11–19

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو خالص نیت سے قرض کے طور پر دے پھر وہ اس کو اس شخص کے لئے بڑھاتے چلے جائیں اور اس کے لئے عزت کا صلہ (جنت) ہے

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن آپ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف چل رہا ہے۔ آج تم کو خوشخبری ہے ایسے باغوں کی جن کے تابع نہریں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے (پل صراط پر) کہیں گے (ذرا) ہمارا انتظار کرو ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں ان کو جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہاں سے) نور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اس کے اندرونی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب عذاب ہوگا

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

تو یہ (منافق) ان (ایمان والوں) سے کہیں گے کہ کیا (دنیا میں) ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ! و لیکن تم ن اپنے آپ کو گمراہی میں ڈال رکھا تھا اور (ہمارے لئے حوادث کے) منتظر رہے اور شک کیا کرتے تھے۔ اور تم کو (تمہاری) خواہشات نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا۔ اور تم کو دھوکا دینے والے (شیطان) نے اللہ کے سارے دھوکے میں ڈال رکھا تھا

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

سو آج کے دن نہ تم سے معاوضہ لیا جائے گا اور نہ کافروں سے۔ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ کہ وہی تمہارے لائق ہے اور وہی بری جگہ ہے

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ایمان والوں کے لئے ایسا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے نرم ہوجائیں اور (قرآن کے لئے) جو حق کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتاب ملی تھی پھر ان پر طویل زمانہ گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے۔ اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان رکھو ! کہ اللہ ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ فرماتے ہیں۔ یقینا ہم نے اپنی نشانیاں تم کو کھول کر بیان فرمادیں تاکہ تم سمجھو

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بیشک خیرات کرنے والے مرد اور عورتیں اور جو خلوص سے اللہ کو قرض دیتے ہیں ، وہ ان کے لئے بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لئے پسندیدہ صلہ ہوگا

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں وہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا اور ان کا (خاص) نور ہوگا۔ اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ، یہی لوگ دوزخی ہیں

آیات 11 تا 19 اسرار ومعارف۔ نیزا للہ کی راہ میں جان مال یا کوشش و محنت جو بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک قرض ہے یعنی ایسی دولت جس کی واپسی یقینی ہے اور وہ بھی اللہ کریم کے پاس توکیاہی خوب قرض ہے کہ اللہ کریم اسے کئی گنا بڑھادیتے ہیں اور زیادہ کرکے لوٹاتے ہیں نیز عنداللہ اس کی عزت و عظمت یہ الگ انعام ہے اور یہی مجاہدہ ایک دن مومن مردوں اور خواتین کے آگے اور دائیں بائیں نور کی صورت چلے گا کہ حساب کتاب کے بعد سخت اندھیرا چھاجائے گا اور کفار کو جہنم میں دھکیل دیاجائے گا جبکہ مومنین میں نورتقسیم ہوگا اور ہر ایک مرد وزن کو بقدر اس کے اعمال اور خلوص ملے گا جس کی روشنی میں وہ جہنم پر سے پل صراط کے راستے گزر جائیں گے اور جنت کی نعمتوں میں پہنچیں گے جہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا نصیب ہوگاجوسدا آباد اور سدابہار ہے اور اس میں نہریں جاری ہیں یہ مقام و مرتبہ پالینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے مگر منافقین ایسے لوگ جو بظاہر تو مسلمان کہلاتے رہے مگر دل میں نور ایمان نہ رکھتے تھے وہ مرد خواتین مومنین کو پکاریں گے کہ ذرارک جاؤ ہمارا انتظار کرلو کہ تمہاری روشنی سے ہم بھی استفادہ کریں یا تمہارے نور سے کچھ روشنی لے لیں۔ منافقین کا حال۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ہر عمل سے نور پیدا ہوتا ہے اگر وہ اتباع رسالت میں ہو اور ہر کافرانہ عمل سے بھی اور کفر سے بھی ظلمت پیدا ہوتی ہے جو اخرت کو ظاہر ہوجائے گی یہاں کفار کا تذکرہ نہیں کہ وہاں تو نور ہوگا ہی نہیں مگر منافقن جو عمل تو مسلمان کا سا کرتا ہے اس پر نور مرتب ہوگامگر دل میں خلوص نیت نہیں تو اس نور کی کوئی بنیاد نہ ہوگی وہ بجھ جائے گا جس طرح دنیا میں دھوکا کرتے تھے وہ آخرت میں پیش آجائے گا تب چلائیں گے کہ ذرا رک جاؤ ہم بھی تم سے کچھ نور حاصل کریں تو جواب دیاجائے گا کہ انہیں مت پکارو پیچھے جاؤ جہاں نورت بٹ رہا ہے وہاں سے لے کر آؤ وہاں جائیں گے تو ملے گا نہیں کہ تم لے چکے۔ تب منافقین اور مومنین کے درمیان دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگاجس کے اندر تو اللہ کی رحمتیں ہوں گی اور باہر رہ جانے والے منافقین کے لیے عذاب ہوگاتب وہ پکار کر کہیں گے ہم بھی تو تمہارے ساتھ نماز روزہ کرتے تھے پھر ہمیں اس طرح عذاب میں کیوں ڈالا گیا جبکہ تم لوگ راحت میں پہنچ گئے تو جواب ملے گا ہاں بظاہر مگر اندر ہی اندر تم میں ایمان نہ تھا بلکہ مسلمانوں کی تباہی کے خواب دیکھا کرتے تھے اور تم دھوکے میں پڑے تھے تمہیں تمہارے نفس کی خواہشات نے بہکا دیا تھا تاآنکہ تمہیں موت نے آلیا اور تمہیں شیطان نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اب آج کے روز اس کا کوئی مداوا نہیں ہوسکتا نہ تم سے اور نہ کفار سے کہ کوئی بھی معاوضۃ دے کرچھوٹ سکو یا کوئی عذر چل جائے بلکہ تمہاری منزل تو دوزخ ہے جو بہت ہی بری اور تکلیف دہ جگہ ہے ان منافقین میں وہ لوگ بھی شامل سمجھے گئے ہیں جو مطلب برآری کے لیے قرآن کے معانی اور دینی مسائل میں تبدیلی کرتے ہیں ۔ ذکرقلبی اور اس کے نتائج۔ یہ سب حقائق کتاب اللہ اور رسول خدا سے سن لینے کے بعد بھی بھلا مسلمانوں میں سستی کیوں آئے ابھی ان کے لیے یہ صورت پیدا نہیں ہوئی کہ ان کے دلوں میں خشوع اور عجز پیدا ہو اور وہ اللہ کا ذکر کرنے لگیں ان میں اللہ کی یاد بس جائے اور ذکر قلبی کے نتیجے میں احکام الٰہی جو نازل ہوئے ہیں ان پر عمل کرنے کی خلوص کی توفیق نصیب ہو اور اس بارہ میں سستی ہرگز نہ کرو اور یہود نصاری کی طرح عمل ہرگز نہ کرو کہ انہوں نے دین کو ثانوی حیثیت دی۔ اور اپنی دنیاداری کو ال درجہ میں ضروری سمجھا تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کے دلوں پر قساوت اور سختی آگئی کہ قلوب مردہ ہوگئے اور قبول حق کو توفیق سلب ہوگئی ، لہذا ان کی اکثریت نافرمان ہوگئی کہ اب انہیں ایمان قبول کرنے کی توفیق بھی نہیں ہورہی یاد رکھو اللہ زمین کو اس کے مردہ ہوگئے اور قبول حق کی توفیق سلب ہوگئی یاد رکھو اللہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ فرماتا ہے کہ ہر ذرے سے سبزہ پھوٹنے لگتا ہے اسی طرح تمہیں بھی مرکر زندہ ہونا ہے اور اس مضمون سے بیشمار دلائل بیان ہوئے ہیں کہ تم دانش سے کام لو اور عقل مندی کا ثبوت دو کہ عقل مندی صرف اطاعت اور اتباع میں ہے بیشک جن مردوں اور خواتین کی کوشش اور مال اللہ کی راہ میں خرچ ہوتا ہے ان کا اللہ کے ہاں ایسے جمع ہورہا ہے جیسے رب کریم قرض ہو اور اسے کئی گنا بڑھا کر انہیں لوٹائے گا۔ کہ یہی اس کی شان ہے لہذا ان کے لیے بہت زیادہ اجر بھی ہے اور عنداللہ ان کی عزت ومقام بھی ہے کہ جن لوگوں کو بھی اللہ اور رسول اللہ پر ایمان نصیب ہو ایسا کامل کہ اس میں سستی نہ پائی گئی ہو تو وہ سب اللہ کے نزدیک شہید اور صدیق ہیں۔ صدیق اور شہید۔ اس معاملے میں تفاسیر میں بہت تفصیل ہے کہ کیا سب مسلمان صدیق اور شہید ہیں تو نتیجہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ہر وہ مسلمان جو ایثار وعمل میں کوئی سستی قریب نہ آنے دے ایک درجے میں شہید بھی ہے اور صدیق بھی اور ہر ایک کا درجہ اپنے خلوص اور اللہ کی عطا سے الگ ہے سیدنا عمر فاروق ؓ سے کچھ لوگوں سے فرمایا تمہارے سامنے کوئی غلط کام کرے تو منع کیوں نہیں کرتے ۔ عرض کیا لوگوں کی ایذا سے بچنے کے لیے ۔ فرمایا پھر تم صدیق وشہید نہیں ہو۔ غرض مصلحت اندیش اس میں داخل نہ ہوں گے یہ آیت بھی عظمت صحابہ پر دال ہے کسی کو ایمان کے ساتھ ایک لمحہ زیارت کا نصیب ہوا توسرتاپا کمالات نبوی میں مستغرق ہوگیا سو ایسے لوگوں کے لیے اللہ کریم کے ہاں بہترین اجر ہے اور ان کے لیے نور ہے مگر کفار اور آیات الٰہی سے منکرین کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں انہیں رہنا ہوگا۔
Ayahs 57:20–25

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان لو ! کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور (ایک ظاہری) زینت اور ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال اور اولاد میں ایک کا دوسرے سے خود کو زیادہ بتانا ہے۔ اس کی مثال بارش کی ہے (کہ برستی ہے تو) اس سے اگنے والی کھیتی کسانوں کو بھلی لگتی ہے ۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تو اس کو زرد دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے ۔ اور آخرت میں شدید عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور رضامندی ہے۔ اور دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف کہ اس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کی طرح ہے۔ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہیں اسے (اپنا فضل) عطا فرمائیں ۔ اور اللہ بڑے فضل کے مالک ہیں

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت نہ دنیا میں آئی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب (لوح محفوظ) میں لکھی ہے پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں۔ بیشک اللہ کے لیے یہ آسان (کام) ہے

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے اس پر غم نہ کرو اور جو چیز تم کو عطا فرمائیں اس پر اتراؤ نہیں۔ اور اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں فرماتے

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو لوگ بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل (کنجوسی) کی تعلیم دیتے ہیں۔ اور جو شخص (حق سے) منہ پھیرے گا تو بیشک اللہ بےنیاز ہیں وہی تعریف کے سزاوار ہیں

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور ترازو (قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور ہم نے لوہے کو پیدا فرمایا اس میں شدید ہیبت (جنگ کے اعتبار سے) ہے اور (اس کے علاوہ) لوگوں کے اور بھی (طرح طرح کے) فائدے ہیں اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے۔ بیشک اللہ طاقت والے (اور) زبردست ہیں

آیات 20 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ یہ جان رکھو کہ حیات دنیا محض کھیل ہے بچپن کے کام خود انسان کو جوانی میں محض فضول نظر آتے ہیں اور جوانی کی حرکات بڑھاپے میں اسی طرح موت کے بعد سب فضول لگیں گے کہ یہ محض ذاتی نمائش میں رجھا لینے والی چیزوں میں سے جیسے کہ بارش ہوا اور کھیتیاں سرسبز ہوں تو کافر کو خوش کرتی ہیں اور انہیں میں الجھ جاتا ہے یعنی خوش مومن بھی ہوتا ہے مگر اس کی خوشی اللہ کا شکر ادا کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ کافر کے لی باعث غفلت پھر اس پر جوبن آتا ہے پھر زردی مائل ہو کر آخر سوکھ کر گھاس پھوس کی طرح تنکے بکھر جاتے ہیں جبکہ ان اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے کہ کفر پر بہت سخت عذاب ہے اور ایمان پر اللہ کی بخشش اور اس کی رضا جو بہت اعلی مقام ہے ۔ دنیا کی زندگی کی یہی حقیقت ہے ورنہ تو وہ دھوکادینے والی اور اللہ کی یاد سے غافل کردینے والی ہے ۔ اللہ کی بخشش اور رضا کو پانے کے لیے بہترین کوشش کرو اور اسے اولیت دو اور ایسے کام کرنے میں جلدی کرو جن کے نتیجے میں جنت نصیب ہوجورضائے الٰہی کا مظہر ہے اور جس کی وسعت اس قدر ہے کہ ارض وسما سے اس کا عرض بڑھا ہوا ہے اور اسے محض اللہ اور اس کے رسول مقبول پر ایمان لانے والوں کے لیے سنوارا گیا ہے اور یہ اللہ کریم کا بہت بڑا کرم ہے وہ جسے چاہے نوازے اور جس پر چاہے احسان عظیم فرمائے کہ وہ بہت ہی بڑے فضل کا مالک ہے دنیا ایک طے شدہ نظام ہے اور ہر ایک کو اس کا نصیبہ ملتا ہے اگر زمین پر کوئی مصیبت آتی ہے یعنی اجتماعی نقصان ہوتا ہے یاذاتی نقصان ہوتا ہے مال جان یا صحت کا تو یہ اللہ کا طے شدہ فیصلہ ہے جو اس نے تمہیں پیدا کرنے سے قبل نظام جہاں کے بارے میں لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا یہ قضائے مبرم ہے اور اللہ کے لیے اس کا نافذ فرمانا کچھ مشکل نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں نفع ہو یا نقصان صحت ہو یابیماری بس آخرت اور اللہ کی رضامندی کے کاموں میں لگا رہے نہ تو نقصان میں اس قدر کھوجائے کہ اللہ یاد نہ رہے اور نہ نفع اور مال دولت میں اس کی عظمت کو فراموش کرے کہ ایسے شیخی خوروں کو اور دولت دینا پہ اترانے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا کہ خود بھی بخل کا شکار ہوں کہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اس کی راہ میں استعمال نہ کریں اور دوسروں کو ایسا کرنے سے روکیں اور بخل کا درس دیں۔ ان کا طرز عمل تو ایسا ہے جیسے کسی نے اللہ کی عظمت سے منہ موڑ لیا ہو اور جو کوئی اللہ کی راہ سے پھرجائے اللہ کو اس کی پرواہ نہیں کہ غنی ہے تمام کمالات کا مالک ہے یقینا ہم نے انبیاء ورسل کو دنیا میں بھیجا کتاب اور میزان کے ساتھ یعنی دنیا اور آخرت کے تمام علوم و اعمال میں حق و انصاف اور صداقت وعدل قائم کرنے کے لیے تاکہ لوگوں میں عدل اور راست بازی قائم کریں اور ہم نے پیدا کردیا لوہا اور فولاد یعنی اسلحہ اور سامان حرب کے اسباب لوگوں کے نفع کی خاطر کہ انبیاء ورسل کتاب اللہ سے احکام بیان فرماتے ہیں ۔ تعلیم وتربیت اور جہاد۔ اور میزان سے مراد ہر ایک کے حقوق کی تعیین ہے تاکہ ہر فرد بشر کو اس کا حق باعزت و آرام ملے اور ساتھ جہاد اور جنگی اسلحہ کی ایجاد کا مقصد دوروں کو غلام بنانا اقوام مغرب کی طرح ان کے حقوق چھیننا نہیں بلکہ جو تعلیم وتربیت سے نہ مانیں اور ظلم و زیادتی سے باز نہ آئیں انہیں بزور شمشیر روکاجائے نیز لوہے سے لوگوں کی ایجادات اور کاروبار کے دسرے راستے بھی ان کے نفع حاصل کرنے کے لیے اس میں رکھے ہیں اور اللہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہے یعنی انہیں کبھی ضائع نہیں فرمائے گا جو اس کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں غلامی کرتے ہیں اور غائبانہ ایمان لاکر قربان ہونے کو بےقرار ہوتے ہیں اور بیشک اللہ بہت طاقت والا اور غالب ہے کہ ہر دوعالم میں اپنے بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔
Ayahs 57:26–29

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کو بھیجا اور ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری فرمائی تو ان میں سے بعض تو ہدایت یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر نافرمان تھے۔

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے اور رسولوں کو بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) بیٹے مریم (علیہا السلام) کے ، کو بھیجا اور ان کو انجیل عطا فرمائی۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی پیدا فرمادی اور لذات سے کنارہ کشی تو انہوں نے خود ایک نئی بات شروع کرلی۔ ہم نے ا اس بات کو ان پر واجب نہ کیا تھا مگر (انہوں نے) اللہ کی رضامندی پانے کے لئے (اس کو شروع کیا تھا) سو انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی جیسا کہ چاہیے تھی۔ سو ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور زیادہ ان میں نافرمان ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے ایمان رکھنے والو ! (عیسیٰ (علیہ السلام) پر) اللہ سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تم کو اپنی رحمت سے (ثواب کے) دو حصے عطا فرمائیں گے اور تم کو ایسا نور عطا فرمائیں گے کہ تم اس کو لے کر چلتے پھرتے ہو گے اور تم کو بخش دیں گے اور اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ ان کو اللہ کے فضل کے کسی حصہ پر (بھی) کچھ اختیار نہیں اور یہ کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتے ہیں اسے (اپنا فضل) عطا فرماتے ہیں اور اللہ بہت بڑے فضل کا مالک ہیں

آیات 26 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے مخلوق کی ہدایت واصلاح کے لیے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا اور ابراہیم (علیہ السلام) جیسے رسول بھیجے جو صاحب شریعت تھے اور مستقل شریعت لے کرمبعوث ہوئے تھے پھر ان کی نسلوں میں مسلسل آنے والے لوگوں ک لیے نبوت کو جاری فرمایا اور کتب الٰہی کے علوم ہمیشہ انسانوں تک پہنچتے رہے خو ش نصیبوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی جبکہ ان میں سے اکثر نافرمان ہوگئے مگر سلسلہ نبوت جاری رہا اور نبی یکے بعد دیگرے مبعوث ہوتے رہے تاآنکہ پھر ایک مستقل شریعت عطا فرما کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں انجیل عطا فرمائی جسے کچھ لوگوں نے مانا اور کچھ نے انکار کردیا ۔ اخذ برکات دل کا فعل ہے۔ مگر ماننے والوں کے دلوں میں ہم نے نرمی شفقت اور محبت ورحمت پیدا فرمائی کہ کمالات نبوت اور برکات رسالت توقلب اور دل ہی اخذ کرتا ہے پھر انہوں نے رہبانیت کی ابتدا کی جو ان پر فرض نہ کی گئی تھی انہوں نے اپنی پسند سے اختیار کی۔ یعنی ترک لذات اور مباحات۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ عیسائیوں کے تین طبقے ہوئے ہیں۔ رہبانیت : پہلاطبقہ جس نے کفار سے مقابلہ اور قتال کیا اور شہید ہوئے دوسرے وہ جن میں قتال کی قوت نہ تھی مگر باطل کو باطل کہا اور اثبات حق کی کوشش کی اور ایذائیں برداشت کیں شہید ہوئے ۔ تیسرے وہ جو اس قابل بھی نہ تھے مگر کافرانہ ماحول سے سمجھوتہ نہ کیا اور آبادیوں کو چھوڑ کر شادیاں نہ کیں گھر نہ بسائے اور یوں اپنا دین بچانے کی کوشش کی مگر پھر اس کی کماحقہ رعایت نہ کرسکے اور بعد والوں نے ترک دنیا کو حصول دنیا کا ذریعہ بنالیا اور بظاہر غریب اور فقیر آنے والوں نے خزانے جمع کرلیے۔ حالانکہ حق یہ تھا کہ اس کی حدود نبھاتے مگر اس میں ناکام رہے۔ لارھبانیۃ فی الاسلام۔ اسلام اور رہبانیت۔ اگر کوئی شرعا حلال اور مباح چیز کو حرام یاناجائز سمجھتے تو یہ کفر ہے اور دین کی تحریف میں داخل ہے دوسرے یہ کہ کسی مباح کو حرام قرار نہ دے مگر کسی مذہبی یا دنیاوی غرض سے چھوڑ دے جیسے بیماری میں پرہیز یا جھوٹ وغیرہ سے بچنے کے لیے کم آمیزی یامجاہدہ کے طور پر کم کھانایاکم سونا تو یہ ایک مقصد کے حصول کا حیلہ ہے جب نصیب ہوجائے تو چھوڑ دے یہ تقوی یاحصول تقوی کی کوشش ہے اور تیسرے یہ کہ کسی مباح کو حرام تو نہیں جانتا مگر کسی شے کا استعمال جیسے سنت سے ثابت ہے ویسے بھی نہ کرے اور اس کو نیکی خیال کرے تو یہ غلو ہے جس سے احادیث مبارکہ میں منع فرمایا گیا ہے۔ سو ان میں سے جو ایمان پر ثابت قدم رہے ہم نے انہیں بہترین اجر سے نوازا مگر ان کی اکثریت بدکار ہی نکلی اے ایمان والو اللہ سے حیا کرو اور اللہ اور رسول اللہ پر واقعی ایمان لے آؤ۔ آپ پر ایمان لاناضروری ہے۔ کہ اہل کتاب اگرچہ پہلے سے ایمان والے ہیں مگر آپ کی بعثت کے بعد آپ پر ایمان ضرور لاؤ ورنہ پہلابھی مقبول نہ رہے گا اور کافر شمار ہوگے لیکن اگر آپ پر ایمان لے آؤ تو پہلے والی نیکیاں بھی کام آئیں گی اور ان پر بھی اجر پاکر دوہرا ثواب پانے والے بن جاؤ گے ۔ کافر کی نیکی۔ یہاں سے علماء نے اثبات فرمایا ہے کہ اگر کوئی کافر بھی ایمان قبول کرے تو پہلے دور میں کیے گئے اچھے اعمال پر ثواب پاتا ہے اور وہ تمہیں ایسا نور مرحمت فرمادے گا جو دار دنیا میں دل کو روشن کریگا اور نیک اعمال کی توفیق ہوگی۔ قبر اور برزخ کا چراغ اور پل صراط پر کام آئے گا کہ ہمیشہ اس کی روشنی میں چلو گے اور تمہاری خطائیں معاف فرمادے گا کہ کافر کو قبول اسلام اور مومن کو توبہ گناہ سے پاک کردیتی ہے یہ سب اس لیے بیا ن ہوا کہ اہل کتاب یہ تصور نہ کرلیں کہ بنی اسرائی سے نبوت رخصت ہوئی اور اب وہ کوئی بھلائی حاصل نہیں کرسکتے۔ اور یہ کہ کمالات تو اللہ کے دست قدر ت میں ہیں جسے چاہے نواز دے اور جس کو جو چا ہے عطا کرے کہ وہ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔