Ayah 57:1” اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔ “
1 س جگہ اور سورة حشر و سورة صف میں سَبَّحَ بصیغہ ماضی اور سورة جمعہ و سورة تغابن میں یُسَبِّحُ بصیغۂ مضارع ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کی طرف اللہ کی پاکی کا اظہار ہمہ وقت ہے ‘ حالات (اور اوقات) کی تبدیلی سے اس میں اختلاف نہیں ہوتا اور سورة بنی اسرائیل میں بصورت مصدر ذکر کرنا ‘ اس ہمہ وقتی تسبیح پر واضح طور پر دلالت کرتا ہے (کیونکہ مصدر کی کسی زمانے کے ساتھ خصوصیت نہیں ہوتی۔ مصدر سے حدوث استمراری معلوم ہوتا ہے۔ (مترجم)
فعل تسبیح خود ہی متعدی ہے کیونکہ تسبیح کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو برائی سے دور کرنا اور پاک کرنا۔ سَبَّحَ کا معنی ہے ‘ چلا گیا ‘ دُور ہوگیا۔
کبھی اسکے مفعول پر لام بھی آجاتا ہے جیسے نَصَحْتُہٗ اور نَصَحْتُ لَہٗ دونوں طرح سے مستعمل ہے۔ اسی طرح تسبیح کا استعمال بھی دونوں طریقوں سے ہوتا ہے۔ مفعول پر اس جگہ لام لانے سے اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ مخلوق کی تسبیح خالص اللہ کے لیے ہے۔
مَا فِی السَّمٰوٰتِ ..... یعنی ساری مخلوق عقل والی ہو یا محروم از عقل (گویا اس جگہ مَا کا لفظ اہل عقل کو بھی شامل ہے) بعض نے کہا : مَا سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے تسبیح کا صدور ہوسکتا ہو۔ بعض اہل علم کے نزدیک جمادات وغیرہ (جو تسبیح کلامی و قولی سے فطرتاً محروم ہیں) کی تسبیح حالی مراد ہے یعنی یہ ساری چیزیں دلالت کر رہی ہیں کہ اللہ ہر برائی (اور نقص و عجز) سے پاک ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ (جماد ہو یا نامی یا شعور یا بےشعور ‘ ذی عقل ہو یا محروم از عقل) تمام موجودات میں اس کی نوع کے مناسب زندگی اور علم موجود ہے جیسا کہ ہم نے سورة بقرہ کی آیت : وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہ کی تفسیر میں وضاحت کردی ہے۔ پس ہر چیز کی تسبیح مقالی ہے ‘ گو ہم اس کے کلام کو نہ سمجھیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاِنْ مِّنْ شَیْ ءٍ الاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ۔
Ayah 57:2” اس کی سلطنت ہے آسمانوں کی اور زمین کی وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قابو رکھنے والا ہے۔ وہی (سب سے) پہلے ہے اور وہی پیچھے اور وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ “
لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ.... : آسمانوں پر اور زمین پر اسی کا اقتدار ہے کیونکہ وہی تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لانے والا اور سب پر تصرف کرنے والا ہے۔
وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ : اور وہی ہر چیز پر پورا قابو رکھنے والا ہے ‘ زندہ کرنا ہو یا موت دینا یا اس کے علاوہ کوئی اور تصرف سب پر اس کو قدرت ہے۔
Ayah 57:3ھُوَ الْاَوَّلُ : یعنی وہی ہر چیز سے پہلے ہے کوئی اس سے پہلے نہیں کیونکہ ہر موجود چیز کو نیستی سے ہستی میں لانے والا وہی ہے اور اسی نے معدوم کو موجود کیا ہے۔
وَالْاٰخِرُ : یعنی وہی ہر چیز کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہنے والا ہے۔ ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے فنا پذیر ہے۔ اللہ کا وجود اصل ہے جو قابل زوال نہیں ‘ ہر شے کی ہستی مستعار ہے۔ اللہ کی ہستی کے زیر حکم ہے۔ پس سب سے پیچھے باقی رہ جانے والا وہی ہے (یعنی ہر چیز سے پہلے عدم ہے اور ہر چیز کے وجود پر باعتبار ذات عدم طاری ہونے والا ہے اور اللہ کے وجود پر عدم ثابت نہیں اور نہ اس پر عدم طاری ہوسکتا ہے ‘ پس ہر چیز عدم سابق اور عدم لاحق کے درمیان عارضی مستعار وجود رکھتی ہے اور اللہ کا وجود دوامی ‘ عدم سابق و لاحق سے پاک ہے۔ )
وَالظَّاھِرُ : ہر چیز سے بڑھ کر اس کا ظہور ہے کیونکہ ہر چیز کے ظہور کی بناء اس کے وجود پر ہے ‘ معدوم کا کوئی ظہور نہیں ہوتا اور ہر چیز کا وجود اللہ کے وجود کا پرتو اور ظل ہے۔ پس ہر چیز کا ظہور اللہ کے ظہور کی ایک شاخ ہے۔ اللہ کا ظہور اصل ہے اور مخلوق کا وجود اسی سے مستفاد ہے اور چونکہ اللہ کا ظہور کامل ہے اور آنکھوں کی بصارت قاصر اور ناقص اس لیے کہ اللہ کا وجود دکھائی نہیں دیتا۔ چمگادڑ سورج کو نہیں دیکھتا اور نہ ٹھیک نصف النہار کے وقت سورج پر نظر جما کر اس کو کوئی دیکھ سکتا ہے کیونکہ ظہور کی شدت اور نور کی قوت نظر کے لیے حجاب بن جاتی ہے لیکن جس طرح دن میں سورج کی روشنی کا اعتراف ہر بچہ ‘ بڑا اور عقلمند و دیوانہ کرتا ہے اسی طرح جس میں تھوڑی سی بھی قوت تمیز ہے وہ اللہ کی ہستی کا منکر نہیں ہوسکتا۔
وَالْبَاطِنُ : اور وہی کمال ظہور کی وجہ سے پوشیدہ ہے ‘ اس کے علاوہ اس کی حقیقت ذات تو سب سے مخفی ہے۔ آنکھوں والے انبیاء اور اولیاء کی بصارت و بصیرت کی رسائی کُنہ ذات تک نہیں۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مسلم ‘ ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے اور حضرت عائشہ کی روایت سے ابو یعلی موصلی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سونے کو لیٹتے تھے تو اس وقت یہ دعا کرتے تھے۔
” اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ رَبَّنَا وَ رَبَّ کُلِّ شَیْ ءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی وَ مُنَزِّلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْفُرْقَانِ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْ ءٍ اَنْتَ اٰخِذٌبِنَا صِیَتِہٖ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ وَاَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ وَاَنْتَ الظَّاھِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْءٌ اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا عَنِ الْفَقْرِ.“
” اے اللہ ! اے آسمانوں کے اور زمین کے مالک ‘ اے عرش عظیم کے مالک ‘ اے ہمارے مالک اور ہر چیز کے مالک ‘ اے دانہ کو اور گٹھلی کو چیرنے والے (اور اس سے پودا نکالنے والے) اے توریت و انجیل و قرآن کو اتارنے والے میں تیری پناہ لیتا ہوں ‘ ہر اس چیز کی بدی سے جو تیرے دست قدرت میں ہے۔ اے اللہ ! تو ہی (سب سے) اوّل ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی (سب کے) آخر ہے ‘ تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو ہی ظاہر ہے تجھ سے بالا کوئی چیز نہیں اور تو ہی مخفی ہے ‘ تجھ سے زیادہ اندرونی کوئی چیز نہیں ‘ ہمارا قرض ادا فرما دے اور ہم سے فقر کو دور کر کے ہم کو غنی بنا دے۔ “
بغوی نے لکھا ہے حضرت عمر ؓ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو فرمایا : اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آخر کا علم اللہ کو ہے ویسا ہی اوّل کا علم اس کو ہے (یعنی مبداء اور منتہاء دونوں کا علم اس کو ایک جیسا ہے) اور جیسے باطل کا علم ہے ویسا ہی ظاہر کا علم ہے (یعنی وہی عالم الغیب والشہادۃ ہے) ظاہر اور پوشیدہ سب اس کے علم میں برابر ہے۔
Ayah 57:4وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر تخت
پر قائم ہوا ‘ وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو چیز زمین سے برآمد ہوتی ہے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے ‘ تم جہاں کہیں ہو اور وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھتا ہے۔ “
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ : یہ آیت متشابہات میں سے ہے ‘ سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اس کی مرادی تشریح نہ کی جائے۔ اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کا کیا مطلب ہے ‘ کیا مراد ہے ؟ اس کو اللہ ہی کے سپرد کردیا جائے (یعنی ان متشابہات میں سے جن کی تشریح نہ شارح نے کی ‘ نہ اپنی مراد بیان کی ‘ نہ قیاس کو اس میں دخل ہے) ۔
مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ : جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے جیسے بیج ‘ بارش کے قطرے ‘ مدفونہ خزانے ‘ مردے وغیرہ۔
وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا : اور جو چیز زمین سے برآمد ہوتی ہے جیسے کھیتی ‘ گھاس ‘ پودے ‘ بخارات ‘ کانیں اور قیامت کے دن مردے بھی اسی سے برآمد ہوں گے۔
وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ : اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے جیسے بارش ‘ فرشتے ‘ برکات اور اللہ کے احکام وغیرہ۔
وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا : اور جو آسمان میں چڑھتی ہے جیسے بخارات ‘ ملائکہ ‘ بندوں کے اعمال ‘ لوگوں کی روحیں وغیرہ۔
وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ : اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے۔ اللہ کی معیت بےکیف ہے (جسمانی نہیں ‘ مکانی نہیں ‘ زمانی نہیں ‘ ناقابل بیان ہے) اللہ کی نسبت تمام مقاموں سے ایک جیسی ہے اس لیے ہر مقام میں وہ بندوں کے ساتھ رہتا ہے ‘ خواہ بندے کہیں ہوں۔
وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرُ : تمہارے سارے اعمال کو اللہ دیکھتا ہے ‘ یعنی تمہارے تمام اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 57:5لہ ملک السموت والارض والی اللہ ترجع الامور .
” آسمان و زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اللہ کی طرف سب امور لوٹ جائیں گے۔ “
لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ... آغاز آفرنیش کا ذکر کر کے یہ آیت ذکر کی تھی اور دوبارہ اب یہاں انجام امور کے ساتھ اسکا ذکر کیا۔
گویا یہ آیت آغاز اور انجام دونوں کی تمہید ہے۔
Ayah 57:6” وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہی دلوں کی پوشیدہ باتیں بخوبی جاننے والا ہے۔ ‘
یُوْلِجُ : یعنی رات کو گھٹا کر دن کو بڑھاتا ہے اور دن کو گھٹا کر رات کو لمبا کردیتا ہے۔
وَھُوَ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ : یعنی دلوں میں چھپی ہوئی باتوں کو وہ خوب جانتا ہے۔
سیوطی نے جمع الجوامع میں لکھا ہے کہ مراد پوری ہونے کی دعا کے سلسلے میں حضرت علی ﷺ نے فرمایا : (پہلے) سورة حدید کی ابتدائی آیات اور سورة حشر کی آخر کی تین آیات پڑھے پھر (کہے اے وہ ذات جو ایسی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں جو میری اس حاجت کو پورا کر دے ‘ انشاء اللہ دعا قبول ہوگی) ۔
Ayah 57:7. ” تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس مال میں اللہ نے تم کو قائم مقام بنایا اس کا کچھ حصہ
راہ خدا میں خرچ کرو۔ پس تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے (راہ خدا میں) خرچ کیا ان کو بڑا ثواب ہوگا۔ “
اٰمِنُوْا بِ اللہ ِ : یعنی اے لوگو ایمان لاؤ اللہ پر وَ رَسُوْلِہٖ اس کے رسول پر۔ کیونکہ بغیر پیغمبروں کی وساطت اور توسل کے اللہ پر صحیح ایمان لانا ممکن نہیں۔
مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ : یعنی اس مال کا کچھ حصہ جس میں تصرف کرنے کے لیے اللہ نے تم کو اپنا قائم مقام بنایا ہے ‘ اس کی راہ میں خرچ کرو۔ تمام مال پیدا کیا ہوا تو اللہ ہی کا ہے ‘ وہی مالک بھی ہے (تصرف کرنے کا اختیار انسان کو دیا گیا ہے ‘ مترجم)
یا یہ مطلب ہے کہ پچھلے گزشتہ لوگوں کا قائم مقام اللہ نے تم کو بنایا ہے پہلے وہ مالک اور متصرف تھے ‘ اب ان کی جگہ تم ہو اور آئندہ تمہاری جگہ اس مال کی ملکیت اور تصرف کا اختیار دوسروں کو ہوگا۔ جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ کہہ کر اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے پر آمادہ کرنا اور برانگیختہ کرنا مقصود ہے۔
Ayah 57:8. ” اور تمہارے لیے کیا سبب ہے کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تم کو بلا رہے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان
لاؤ اور خود خدا نے تم سے (اپنے رب ہونے کا) عہد لیا تھا ‘ اگر تم کو ایمان لانا ہو۔ “
وَمَالَکُمْ لاَ تُؤْمِنُوْنَ.... یعنی اللہ پر ایمان نہ لانے کا تمہارے پاس کیا عذر ہے جبکہ رسول ﷺ دلائل اور واضح نشانیوں کی روشنی میں اللہ پر ایمان لانے کی تم کو دعوت دے رہے ہیں۔
وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ : اور اللہ نے (اپنی ربوبیت کا) تم سے اقرار لے لیا تھا یعنی جب آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے تم کو برآمد کر کے فرمایا تھا : اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تم نے جواب میں کہا تھا : بَلٰی شَھِدْنَا ....۔
یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے پیغمبروں کی زبانی اور اپنی کتابوں میں تم سے عہد لے لیا تھا اور فرمایا تھا : ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقً لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخْذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِنَ الشٰھِدِیْنَ ۔
بعض اہل علم کے نزدیک اخذ میثاق سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے (فطری) دلائل قائم کردیئے اور دیکھنے اور غور کرنے کی قوّت عطا فرما دی۔
اِنْ کُنْتُمْ مُّوْمِنِیْنَ : یعنی تم جو اپنے خیال میں اللہ پر ایمان لانے کے مدعی ہو اگر تم واقعی مؤمن ہو تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ کیونکہ رسول کی وساطت کے بغیر اللہ پر کوئی ایمان صحیح نہیں ہوسکتا۔ بات یہ ہے کہ ایمان باللہ کا دعویٰ تو کافروں کو بھی تھا ‘ خدا کا اقرار کرنے کے ساتھ وہ بتوں کی بھی پوجا کرتے تھے اور انکو اپنا سفارشی مانتے تھے (گویا ان کا ایمان شرک آمیز تھا اور توحید سے خالی تھا) ۔
صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں کی ممانعت فرما دی۔ ان کو اللہ لا شریک لہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اللہ وحدہٗ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے ؟ وفد نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بخوبی واقف ہیں۔ فرمایا : لا الٰہ الاّ اللہ اور محمد رسول اللہ کی شہادت دینی اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور (ایک بات یہ کہ) تم مال غنیمت کا پانچواں حصہ (بیت المال کو) دو ۔
(جن) چار چیزوں کی ممانعت فرمائی (وہ یہ ہیں :) چکنی گھڑیا ‘ کدو کا پیالہ ‘ لکڑی کا کٹھلا اور روغنی برتن ‘ ان برتنوں کو استعمال کرنے کی ممانعت کردی (یہ سب شراب پینے کے برتن تھے) حضور ﷺ نے فرمایا : ان کو یاد رکھنا اور ادھر والوں کو بھی بتادینا۔
میں کہتا ہوں (ظاہر عبارت سے معلوم ہوتا ہے) کہ حضور ﷺ نے پانچ باتوں کا حکم دیا :
1) شہادت توحید و رسالت ‘ 2) اقامت صلوٰۃ ‘ 3) ادائے زکوٰۃ ‘ 4) صیام رمضان ‘ 5) مال غنیمت کا خمس۔ حالانکہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تھا کہ چار باتوں کا حکم دیا (لیکن تفصیل میں پانچ باتوں کا ذکر کیا) حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان باللہ کا حکم دینے کے بعد چار باتوں کا حکم دیا : اوّ ل ایمان کی تشریح کی پھر چار باتوں کی تفصیل بیان کردی۔
یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ اللہ وحدہ ٗ پر ایمان رسول پر ایمان لائے بغیر ناقابل تصور ہے۔
بیضاوی نے کہا : آیت کا مطلب اس طرح ہے کہ اگر کسی موجب کی وجہ سے تم ایمان لانے والے ہو تو یہ موجب موجود ہے ‘ اس سے بڑھ کر اور کوئی موجب ایمان نہیں ہوسکتا۔ بغوی نے اس طرح مطلب بیان کیا ہے اگر تم کبھی کسی وقت ایمان لانے والے ہو تو یہ وقت ایمان لانے کا سب سے بہتر ہے۔ دلائل موجود ہیں رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوچکی اور قرآن نازل ہوگیا (اس سے بڑھ کر ایمان لانے کا اور کونسا دن آئے گا) ۔
Ayah 57:9. ” وہ (اللہ) ایسا ہے کہ وہ اپنے (خاص) بندے پر کھلی ہوئی آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ تم کو تاریکیوں
سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر بڑا شفیق اور مہربان ہے۔ “
عَبْدِہٖ سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ ۔ آیات بینات۔ یعنی قرآن مجید یا کھلے ہوئے معجزات۔
لِّیُخْرِجَکُمْ : تاکہ وہ اللہ یا اس کا بندہ۔
الظُّلُمٰتِ : یعنی کفر و جہالت۔
النُّوْر : یعنی ایمان یا علم۔
لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ : اللہ تم پر بڑا مہربان ہے کہ اس نے تم کو صرف عقلی دلائل پر نہیں چھوڑا بلکہ اپنا رسول تمہارے پاس بھیجا اور اپنی آیات نازل فرمائیں۔
Ayah 57:10ومالکم الا تنفقوا فی سبیل اللہ وللہ میراث السموات والارض .” اور تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ سب آسمان اور زمین اخیر میں اللہ ہی کا رہ جائے گا۔ “
مَالَکُمْ میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں۔
سَبِیْلِ اللہ سے مراد ہے وہ راستہ جو قرب خداوندی تک پہنچانے والا ہے۔
وَِ ﷲِ مِیْرَاثُ... یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک و وارث تو اللہ ہے اور کسی کے پاس (مرنے کے بعد) مال باقی نہیں رہے گا۔ ایسی حالت میں دانش مندی کی بات یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کردیا جائے تاکہ اس کے عوض لازوال ثواب اللہ کی طرف سے مل جائے۔ راہ خدا میں خرچ نہ کرنا اور جوڑ جوڑ کر وارثوں کے لیے چھوڑ جانا کوئی فائدہ کی بات نہیں ہے۔
حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ ایک بارلوگوں نے ایک بکری ذبح کی سب گوشت تو بانٹ دیا ‘ صرف ایک شانہ رکھ لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : (بانٹنے سے) بکری کا کونسا حصہ باقی رہا ؟ عرض کیا گیا : صرف ایک شانہ باقی ہے۔ فرمایا : ایک شانہ کے علاوہ سب باقی ہے (ایک شانہ باقی نہیں رہا) یعنی جو اللہ کے واسطے بانٹ دیا ‘ اس کا ثواب باقی رہا اور جو نہیں بانٹا گیا اس کا ثواب جمع نہ ہوا۔ (رواہ الترمذی)
حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کون ایسا ہے کہ اس کو اپنے (پاس کے) مال سے وارث کا مال زیادہ محبوب ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : حضور ﷺ ہم میں سے ہر شخص کو اپنا مال وارث کے (پاس رہنے والے) مال سے زیادہ محبوب ہے (یعنی ہر شخص چاہتا ہے کہ میں مالدار ہوں۔ وارث کا مالدار ہونا پسندیدہ نہیں جتنا اپنا مال دار ہونا مرغوب ہے) فرمایا تو اس کا مال وہ ہے جو اس نے (مرنے سے) پہلے بھیج دیا اور وارث کا مال وہ ہے جو پیچھے چھوڑ گیا۔ (رواہ البخاری والنسائی)
. ” جو لوگ فتح مکہ سے پہلے راہ خدا
میں خرچ کرچکے اور لڑ چکے برابر نہیں۔ وہ لوگ درجہ میں ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور لڑے اور اللہ نے بھلائی (یعنی ثواب) کا وعدہ سب سے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ “
مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ : اکثر مفسرین کے نزدیک الفتح سے فتح مکہ مراد ہے ‘ شعبی کے نزدیک صلح حدیبیہ مراد ہے۔
وَقَاتَل : یعنی فتح سے پہلے جس نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ‘ اس کے برابر وہ شخص نہیں ہے جس نے فتح کے بعد مال خرچ کیا اور قتال کیا۔
اُوْلٰءِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً : یعنی عند اللہ ان لوگوں کا درجہ ثواب و قرب بہت بڑا ہے جنہوں نے فتح سے پہلے مال خرچ کیا اور دشمنوں سے لڑے۔ بغوی کا بیان ہے کہ محمد بن فضل نے کلبی کا قول نقل کیا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔ اپ سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور سب سے پہلے راہ خدا میں مال خرچ کیا۔
بغوی نے اپنی تفسیر معالم میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی موجود تھے۔ آپ اس وقت ایک عباء پہنے ہوئے تھے جس کے سینے کو آپ ﷺ نے ایک کانٹا لگا کر بند کرلیا تھا۔ اتنے میں جبرئیل ( علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا : کیا بات ہے کہ ابوبکر ؓ ایک عباء پہنے ہوئے ہیں جس کے سینے کو کانٹا چبھو کر بند کر رکھا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : انہوں نے فتح سے پہلے اپنا (سارا) مال راہ خدا میں خرچ کردیا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : اللہ فرماتا ہے کہ ان کو میری طرف سے سلام کہو اور پوچھو : کیا تم اس مفلسی میں مجھ سے راضی ہو یا ناراض ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تم کو سلام کہہ رہا ہے اور فرماتا ہے کہ تم اس فقیری میں مجھ سے راضی ہو یا ناراض ؟ حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیا : میں اپنے رب سے ناخوش ہوسکتا ہوں ؟ بلاشک میں اپنے رب سے خوش ہوں۔ واحدی نے بھی اپنی تفسیر میں یہ قصہ اسی طرح بیان کیا ہے۔
میں کہتا ہوں عبارت کے لحاظ سے تو یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ وہ مہاجر و انصار جو سابقین اوّلین میں سے تھے۔ ان لوگوں سے افضل ہیں جو فتح کے بعد ایمان لائے اور راہ خدا میں مال خرچ کیا لیکن رفتار آیت اور مفہوم کلام دلالت کر رہا ہے کہ حضرت ابوبکر تمام صحابہ ؓ سے اور تمام صحابہ ؓ دوسرے لوگوں سے افضل تھے کیونکہ برتری اور افضیلت کا معیار سبقت اسلام اور (فتح سے پہلے) جان و مال کو راہ خدا میں صرف کرنا ہے۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا اس کو اپنے عمل کا بھی اجر ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کا بھی اجر ملے گا جو اس طریقے پر چلیں گے اور اس طریقے پر چلنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور باتفاق علماء یہ امر ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ سب سے پہلے ایمان لائے اور سرداران قریش آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اور آپ نے اپنا بڑا مال سب سے پہلے راہ خدا میں خرچ کیا اور آپ ہی نے سب سے پہلے راہ خدا میں کافروں کی طرف سے تکلیفیں برداشت کیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جس شخص نے ہم پر کوئی احسان کیا ‘ ہم نے ہر ایک کا بدلہ چکا تھا ‘ سوائے ابوبکر کے کہ ان کے احسان کا بدلہ (ہم نے دے سکے) قیامت کے دن اللہ عطا فرمائے گا اور مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر ؓ کے مال نے پہنچایا۔
(رواہ الترمذی من حدیث ابی ہریرہ ؓ
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے اپنے والد کی روایت سے بیان کیا کہ ابوبکر ؓ جس وقت مسلمان ہوئے تو ان کے پاس چالیس ہزار تھے جو سب کے سب آپ نے راہ خدا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں خرچ کردیئے۔ بخاری نے طویل حدیث میں بیان کیا ہے پھر ابوبکر ؓ نے مناسب خیال کیا اور اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور اسی میں نماز ادا کرتے اور قرآن پڑھتے تھے۔
بخاری کی روایت ہے کہ عقبہ بن ابی معیط نے رسول اللہ ﷺ کو (کعبہ میں) نماز پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ کے گلے میں چادر ڈل کر اتنی کھینچی کہ گلا گھٹنے لگا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے دیکھ لیا اور آکر عقبہ کو دور کیا اور فرمایا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کر دو گے جو کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے اور تمہارے پاس وہ کھلے ہوئے دلائل (یا معجزات) بھی لے کر آیا ہے۔ ابو عمرو کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ کافروں نے حضرت ابوبکر کو پکڑ کر بہت سخت مارا ‘ سخت چوٹیں آئیں ‘ جب آپ گھر لوٹ کر آئے تو یہ حالت ہوگئی جب جب اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے تو ہاتھ کے ساتھ بال بھی آجاتے تھے (یعنی بال کمزور پڑگئے تھے) اور آپ کہتے تھے : تبارک یا ذا الجلال۔
ابو عمرو نے استیعاب میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے سات غلام آزاد کیے ‘ جن کو راہ خدا میں عذاب دیا جاتا تھا ‘ ان میں سے بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ ؓ بھی تھے۔
ابو اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ جب اسلام لائے تو آپ ؓ نے اپنا اسلام پوشیدہ نہیں رکھا اور لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف آنے کی دعوت دی۔ حضرت ابوبکر ؓ اپنے لوگوں کو جوڑ کر رکھنے والے ‘ سہل الاخلاق اور لوگوں کے دلوں میں محبوب تھے۔ قوم میں سے جو لوگ بھروسے کے تھے اور آپ ؓ کے پاس آتے جاتے اور بیٹھتے تھے ‘ آپ ؓ نے ان کو اسلام کی دعوت دی ‘ چناچہ آپ کی دعوت پر مندرجہ ذیل حضرات مسلمان ہوگئے : بنی عبدالشمس کے سردار حضرت عثمان بن عفان ‘ بن اسد کے سردار حضرت زبیر بن عوام ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمن بن عوف۔ یہ دونوں حضرات بنی زہرہ کے سردار تھے۔ بنی تمیم کے سردار حضرت طلحہ ؓ بن عبداللہ۔ جب ان حضرات نے دعوت قبول کرلی اور اسلام لے آئے اور نماز پڑھ لی تو حضرت ابوبکر ؓ ان کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان حضرات کے مسلمان ہونے سے قبائل قریش کا زور ٹوٹ گیا۔
ابو الحسن اشعری نے کہا : حضرت ابوبکر ؓ کی تمام صحابیوں پر فضیلت قطعی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ سلف کا اس پر اتفاق ہے ‘ البتہ ابن عبدالبر کا قول ہے کہ سلف میں اس بابت اختلاف ہے کہ علی ؓ افضل تھے یا ابوبکر ؓ :؟ میں کہتا ہوں یہ قول صرف ابن عبدالبر کا ہے۔ دوسرے وہ علماء جو علم و اطلاع میں ابن عبدالبر سے زیادہ تھے مثلاً امام شافعی (رح) وغیرہ کسی نے اس اختلاف کا تذکرہ نہیں کیا۔ تفضیل شیخین کے عقلی نقلی دلائل تفصیل کے ساتھ ہم نے سیف مسلول میں ذکر کردیئے ہیں۔
اسلام میں حضرت ابوبکر ؓ کے اونچے مقامات ہیں۔ شب معراج کی سیر کی آپ ؓ نے (فوراً سنتے ہی) پوری پوری تصدیق کی اور کافروں کو (مسکت) جواب دیا۔ اہل و عیال (اور متعلقین) کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی اور سارے راستہ میں نیز غار (ثور) میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے جب دوسرے لوگ شبہ میں پڑگئے تھے اور مکہ میں داخل نہ ہونے سے ان کو (رسول اللہ ﷺ کے کلام میں) تردد پیدا ہوگیا تھا تو حدیبیہ کی صلح کے دن آپ ؓ نے (حضرت عمر ؓ سے) نہایت معقول (اور اثبات ایمانی پر دلالت کرنے والی) بات کہیھی۔ اسی طرح بدر کے موقع پر آپ کا کلام (ایمان کی پختگی ظاہر کرنے کے لیے کافی) تھا لیکن باوجودیکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے آپ ؓ پر بھی غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ لوگوں کو تسکین دینے کے لیے آپ ؓ نے (مدلّل) خطاب کیا (اور قرآن کی آیت تلاوت فرمائی جس سے صحابہ ؓ کے دماغوں سے پردہ اٹھ گیا) ۔ مسلمانوں کی مصلحتوں کے پیش نظر (رسول اللہ ﷺ کو آغوش قبر میں دینے سے پہلے ہی) آپ ؓ نے بیعت کا اہتمام کیا (اور رسول اللہ ﷺ کی جانشینی کا مسئلہ طے کیا) رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر حضرت اسامہ بن زید ؓ کی زیر قیادت شام کو بھیجنے کا اہتمام کیا تھا ‘ اسی اثناء میں حضور ﷺ کی وفات ہوگئی اور حضرت ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنا دیا گیا اور مدینہ کے اطراف کے بیشتر قبائل مرتد ہوگئے لیکن آپ نے حضرت اسامہ ؓ کی روانگی ملتوی نہیں کی اور مرتدوں سے لڑنے کے لیے بھی لشکر اسلام کو بھیجا۔
آپ ؓ نے ہی عراق اور شاق کی طرف (ایرانیوں اور رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے) مسلمانوں کے فوجی دستے بھیجے (جو کامیاب ہوئے) آپ کے مناقب میں آخری منقبت یہ تھی کہ آپ ؓ نے حضرت عمر ؓ کو اپنے بعد خلیفہ نامزد کیا۔
وَکُلًّا وَّعْدَ اللہ الْحُسْنٰی : اور ہر فریق صحابہ ؓ سے اللہ نے ثواب کا وعدہ کیا ہے ‘ ان لوگوں سے بھی جنہوں نے فتح سے پہلے راہ خدا میں اپنا مال خرچ کیا اور جہاد کیا اور ان لوگوں سے بھی جنہوں نے فتح کے بعد فی سبیل اللہ مال دیا اور جہاد کیا۔ اس لیے صحابہ ؓ کے اختلاف اور باہم لڑائیوں کو دیکھ کر کسی شخص یا فریق پر زبان طعن دراز کرنا جائز نہیں۔ ان کے باہمی مشاجرات کو صحیح مقاصد پر محمول کرنا چاہیے یا (زیادہ سے زیادہ) اجتہادی غلطیاں مانی جائیں۔ آغاز آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ اپنے بعد آنے والے (تمام) لوگوں سے افضل تھے کیونکہ وہ اسلام میں بھی سابق تھے اور راہ خدا میں جان و مال بھی انہوں نے پہلے خرچ کیا تھا۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابو سعیدخدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ کو برا نہ کہو اگر تم میں سے کوئی (کوہ) احد کے برابر سونا (راہ خدا میں) خرچ کرے گا تو صحابہ ؓ کے ایک سیر بلکہ نصف سیر (غلہ یا چھوارے) خیرات کرنے کے برابر بھی نہ ہوگا۔
وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ : یعنی اللہ کو تمہارے باطن کا علم ایسا ہی ہے جیسے ظاہر کا اسلئے ہر ایک کو اسکے عمل کے مطابق بدلہ دیگا۔
Ayah 57:11” کوئی ہے جو اللہ کو اچھی طرح قرض کے طور پردے پھر اللہ اس (دیئے ہوئے کے ثواب) کو اس شخص کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے اجر پسندیدہ ہے۔ “
یُقْرِضُ اللہ : مضاف محذوف ہے یعنی اللہ کے بندوں کو قرض دینے والا یا اللہ کو قرض دینے سے مراد ہے اللہ کی راہ میں اس امید پر خرچ کرنا کہ اللہ اس کا عوض عنایت فرمائے گا گویا یہ ایسا ہی ہوگیا جیسے کوئی قرض دے (اس یقین کے ساتھ کے قرض کا عوض واپس ضرور ملے گا) ۔
قَرْضًا حَسَنًا : یعنی خلوص کے ساتھ ‘ بہت عمدہ ‘ اعلیٰ مال ‘ صحیح طریقے سے۔
فَیُضٰعِفَہٗ : پس اللہ اس کو چند گنا بدلہ دے گا۔
وَلَہٗ اَجْرٌ کَرِیْمٌ : یعنی اگر چند گنا اجر اللہ نہ بھی دے تب بھی اصل اجربجائے خود اعلیٰ ہوگا جس کی طلب بغیر امید زیادتی کے بجائے خود ہی ہونا چاہیے اور جب اصل معاوضہ کے ساتھ کتنے ہی گنا زیادہ ملنے کی امید ہو اور اللہ کا وعدہ ہو تو ایسے اجر کی طلب تو بہت ہی ضروری ہے۔
Ayah 57:12” جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے کہ انکا نور انکے آگے اور انکے دائیں طرف دوڑتا ہوگا ‘ آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جنکے اندر وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ “
یَوْمَ تَرَی : اس کا تعلق فَیُضٰعِفَہٗ سے ہے یا اُذْکُرْ (یاد کرو) محذوف ہے اور یَوْمَ تَرٰی اُوْذُکْر کا ظرف ہے۔
یُسْعٰی نُوْرُھُمْ : یعنی توحید اور رسالت کا نور ‘ پل صراط پر بلکہ جہاں وہ ہوں گے ان کے ساتھ ہوگا اور جنت کی طرف جانے کا راستہ دکھائے گا۔
بَیْنَ اُیْدِیْھِمْ وَ بِاَیْمَانِھِمْ : آگے آگے اور دائیں طرف بعض مفسرین نے کہا : اس سے تمام جہات مراد ہیں (آگے ‘ پیچھے ‘ دائیں ‘ بائیں) اس تفسیر کی تائید رسول اللہ ﷺ کی ایک دعا سے ہوتی ہے۔ شیخین ‘ ابوداؤد اور نسائی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے برآمد ہوتے تو (راستہ میں) کہتے تھے : اے اللہ ! میرے دل میں نور ‘ میری آنکھوں میں نور ‘ میرے کانوں میں نور ‘ میرے دائیں طرف نور اور میرے بائیں طرف نور (اور میرے آگے نور) اور میرے پیچھے نور اور مجھے (سرتاپا) نور کر دے۔
ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور مسلم ‘ ابوداؤد اور نسائی نے بھی (حضرت ابن عباس کی روایت سے) یہ دعا نقل کی ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے ‘ میری زبان میں نور اور میرے پیچھے نور اور میرے سامنے نور اور میرے اوپر سے نور اور میرے نیچے سے نور کر دے۔ اے اللہ ! مجھے نور عطا فرما۔ اس دعا میں تمام اطراف سے نور ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت میں جو صرف دو جہتوں (آگے اور دائیں طرف) کا ذکر کیا ہے اس سے مراد تمام اطراف ہیں لیکن خوش نصیب لوگوں کو جو اعمالنامے دیئے جائیں گے وہ انہی دو سمتوں سے دیئے جائیں گے اس لیے خصوصیت کے ساتھ ان دو جہتوں کا ذکر کیا گیا۔
ضحاک اور مقاتل نے یہ مطلب بیان کیا کہ ان کے آگے نور دوڑ رہا ہوگا اور دائیں ہاتھوں میں اعمالنامے ہوں گے۔ بعض اہل علم نے کہا : اللہ ان کی دو جہتوں میں جو نور کر دے گا اس سے اشارہ ہے اس طرف کہ وہ اپنی نیکیوں کے سبب سے خوش نصیب ہوگئے اور نورانی اعمالناموں کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ بقدر اعمال ان کو نور عطا کیا جائے گا۔ پل صراط سے گزرتے ہوئے کسی کا نور تو پہاڑ جیسا ہوگا اور کسی کا نور درخت کھجور کے برابر اور کم سے کم نور وہ ہوگا جو صرف انگوٹھے میں ہوگا ‘ کبھی جلے گا ‘ کبھی بجے گا۔ قتادہ نے بیان کیا ہم سے ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بعض مؤمنوں کا نور اتنی دور تک چلے گا ‘ جیسے مدینہ سے عدن تک اور بعض کا نور اتنی مسافت تک جیسے مدینہ سے صنعاء تک اور اس سے کم (ہوتا چلا جائے گا) یہاں تک کہ بعض مؤمنوں کا نور صرف دو قدموں کے درمیان چمکے گا۔
فصل : اسباب نور و ظلمت کا بیان
ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت بریدہ کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت انس کے حوالے سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بشارت ہو قیامت کے دن نور کامل حاصل ہونے کی ان لوگوں کو جو تاریکیوں میں پیدل چل کر مسجدوں کو جاتے ہیں۔ ایسا ہی حضرت سہل بن سعد ‘ حضرت ابودرداء ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن عمر ‘ حضرت حارثہ بن وہب ‘ حضرت ابو امامہ ‘ حضرت ابودرداء ‘ حضرت ابوسعید ‘ حضرت ابو موسیٰ ‘ حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں آیا ہے۔
امام احمد اور طبرانی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص نمازوں کی پابندی رکھے گا تو قیامت کے دن وُ ہ نمازیں اس کے لیے نور اور برہان اور نجات ہوجائیں گی اور جو نمازوں کی نگہداشت نہیں کرے گا ‘ اس کے لیے نہ تو نور ہوگا ‘ نہ برہان ‘ نہ نجات اور قیامت کے دن وہ قارون اور فرعون اور ہامان کے ساتھ ہوگا۔ طبرانی نے حضرت ابو سعید کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ جو شخص سورة کہف پڑھے گا تو قیامت کے دن یہ سورة اس کے لیے نور بن جائے گی اس کی جگہ سے مکہ تک (یعنی مدینہ سے جتنی دور مکہ ہے اتنی دور تک اس کے لیے نور ہی نور ہوگا) ۔
ابن مردویہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن سورة کہف پڑھے گا تو قیامت کے دن اس کے قدموں کے نیچے سے بادلوں تک نور ہی نور چمکے گا۔
امام احمد نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث بیان کی کہ جو شخص ایک آیت (بھی) تلاوت کرے گا ‘ قیامت کے دن وہ آیت اس کے لیے نور ہوجائے گی۔ دیلمی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ پر درود پڑھنا ‘ پل صراط پر نور ہوجائے گا۔
طبرانی نے الاوسط میں لکھا ہے کہ دنیا میں جس کی آنکھیں جاتی رہی ہوں اگر وہ صالح ہے تو قیامت کے دن اللہ اس کے لیے نور کر دے گا۔ طبرانی نے حضرت عبادہ بن صامت کا قول حج کے سلسلے میں بیان کیا ‘ حضرت عبادہ نے فرمایا : سر مونڈنے میں جو ایک بال بھی زمین پر گرجائے گا وہ قیامت کے دن نور ہوجائے گا۔
بزار نے حضرت ابن مسعود کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ (حج میں) جب رمی جمار کیا جاتا ہے (یعنی کنکریاں ماری جاتی ہیں) تو وہ کنکریاں قیامت کے دن (حج کرنے والے کے لیے) نور ہوجائیں گی۔ طبرانی نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابو امامہ کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ اسلام میں جس کے بال کچھ بھی سفید ہوگئے (یعنی بوڑھا ہوگیا) تو بالوں کی یہ سفیدی قیامت کے دن نور ہوجائے گی۔ بیہقی نے شعب الایمان میں منقطع سند سے حضرت ابن عمر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ بازار میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو قیامت کے دن ہر بال کے عوض نور حاصل ہوگا۔
بزار نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ جس شخص نے راہ خدا میں ایک تیر بھی پھینکا ‘ قیامت کے دن وہ تیر اس کے لیے نور ہوجائے گا۔
طبرانی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی مشکل کو دور کر دے گا اللہ قیامت کے دن پل صراط پر اس کے لیے نور کی دو شاخیں کر دے گا جن سے ایک دنیا روشن ہوجائے گی جن کی تعداد سوائے رب العزت کے اور کوئی نہیں جانتا۔
شیخین نے حضرت ابن عمر کی روایت سے اور مسلم نے حضرت جابر کی روایت سے اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عمر کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت ابن زیاد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ظلم سے اجتناب رکھو کیونکہ قیامت کے دن ظلم تاریکیاں ہوگا۔
بُشْرَاکُمُ الْیَوْمَ : یعنی ملائکہ ملاقات کے وقت کہیں گے : بشارت ہو بشراکم ‘ یہ جملہ فعلیہ تھا ‘ استمرار بشارت ظاہر کرنے کے لیے جملہ اسمیہ کی صورت میں ذکر کیا۔ ذٰلِکَ : یعنی یہ نور اور بشارت۔
Ayah 57:13جس روز کہ منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو
کہ ہم روشنی حاصل کرلیں جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر وہاں سے روشنی تلاش کرو۔ “
اَنْظُرُوْنَا : نظر ‘ کا معنی ہے انتظار۔ نظرہ اور انتظرہ اور تنظرہ دیر کردی۔ نظرۃٌ بروزن خرجۃ تاخیر۔ اللہ نے فرمایا ہے : ” فَنَظَرِۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃ “ پس فراخ دستی تک (مطالبہ میں) تاخیر (لازم) ہے۔
نَقْتَبِسْ : یعنی ہم تم سے کچھ روشنی حاصل کرلیں ‘ تمہارے نور میں ہم بھی چلیں۔ قیامت کے دن کافروں اور منافقوں کے لیے تاریکی ہی تاریکی ہوگی ‘ روشنی بالکل نہ ہوگی۔ جس طرح دنیا میں ان کے لیے نور ایمان نہیں تھا۔ آیت : وَمُنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللہ لَہٗ نُوْرًا فَمَالَہٗ مِنْ نُّوْرٍ سے یہی مضمون مستفاد ہو رہا ہے۔
کلبی اور ابن ابی حاتم نے بیان کیا کہ حضرت ابو امامہ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ ایک تاریکی مسلط کر دے گا جس کی وجہ سے نہ مؤمن کو اپنا ہاتھ دکھائی دے گا نہ کافر کو ‘ آخر اللہ نور عنایت کر دے گا یعنی مؤمنوں کو ان کے اعمال کے موافق۔ منافق بھی ان کے پیچھے چلنے کا ارادہ کریں گے اور کہیں گے ذرا ہمارا انتظار کرو (توقف کرو) تاکہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ فائدہ حاصل کرلیں۔
حضرت ابو امامہ کی دوسری روایت میں ایک طویل حدیث کے ذیل میں آیا ہے پھر لوگوں پر سخت تاریکی چھا جائے گی۔ اس کے بعد روشنی تقسیم کی جائے گی۔ مؤمن کو تو روشنی عطا کردی جائے گی اور کافر و منافق کو کچھ نہیں دیا جائے گا۔ اسی کو اللہ نے بطور تمثیل آیت : اَوْ کُظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُجِّیٍّ یَّغْشَاہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فُوْقِہٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُھَا فُوْقَ بَعْضٍ اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْیَرٰھَا وَمَن لَّمْ یَجْعَلِ اللہ لَہٗ نُوْرًا فَمَالَہٗ مِنْ نُّوْرٍ ۔ پس مؤمن کے نور سے کافر اور منافق کوئی روشنی حاصل نہیں کرسکیں گے ‘ جیسے آنکھوں والے کی بینائی سے اندھے کو کوئی روشنی نہیں ملتی۔ اس وقت منافق مؤمنوں سے کہیں گے : ذرا توقف کرو تمہاری روشنی سے ہم بھی کچھ حصہ پالیں۔ کہا جائے گا پیچھے واپس ہوجاؤ۔ وہاں نور کی تلاش کرو۔ یہ حقیقت میں اللہ کی طرف سے (بظاہر) ایک دھوکا ہوگا جس کا استعمال منافقوں پر کیا جائے گا (اس کے متعلق) فرمایا ہے : یُخٰدِعُوْنَ اللہ وَھُوَ خَادِعُھُمْ : یہ جواب پا کر وہ لوگ تقسیم نور کے مقام پر لوٹ جائیں گے ‘ لیکن وہاں کچھ بھی نہیں پائیں گے اور پھر لوٹ کر مسلمانوں کی طرف جائیں گے لیکن وہاں مسلمانوں کے پیچھے ایک دیوار بنا دی گئی ہوگی (جس کی وجہ سے مسلمانوں تک نہیں پہنچ سکیں گے) ۔
اللہ نے فرمایا : فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ.... ...
ابن جریر اور بیہقی نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب لوگ تاریکی میں ہوں گے تو اللہ ایک دَم ایک روشنی پیدا کر دے گا۔ مؤمن اس روشنی کی طرف چل پڑیں گے اور وہ نور جنت تک ان کا رہنما رہے گا۔ منافق جب مؤمنوں کو دیکھیں گے کہ وہ نور کی طرف چل پڑے تو وہ مسلمانوں کے پیچھے چلنے کا ارادہ کریں گے لیکن منافقوں کے لیے (بجائے نور کے) تاریکی ہوجائے گی ‘ اس وقت وہ مسلمانوں سے کہیں گے ذرا توقف کرو ‘ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ چمک حاصل کرلیں کیونکہ دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے ‘ مسلمان کہیں گے جس تاریکی سے تم آئے تھے وہیں واپس لوٹ جاؤ اور اسی مقام پر نور کی تلاش کرو۔
ابن مبارک نے بطریق مجاہد بیان کیا کہ حضرت یزید بن شجرہ نے فرمایا : اللہ کے پاس تمہارے نام ‘ حلیے ‘ سرگوشیاں اور مجلسیں لکھی جاتی ہیں۔ قیامت کا دن ہوگا تو پکارا جائے گا : اے فلاں ! ابن فلاں ! تیرے لیے کوئی نور نہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مؤمنوں کو ان کے اعمال کے مطابق نور عطا کیا جائے گا جس کی روشنی میں وہ پل صراط پر چلیں گے اور منافقوں کو بھی نور دیا جائے گا لیکن دھوکہ دینے کے لیے (یعنی جب وہ روشنی میں چلیں گے تو نور ایک دم غائب ہوجائے گا) یہی مطلب ہے آیت : وَھُوَ خَادِعُھُمْ کا۔
لوگ جس وقت چل رہے ہوں یکایک اللہ ایک ہوا اور تاریکی بھیج دے گا جس سے منافقوں کا نور بجھ جائے گا ‘ اللہ نے فرمایا ہے : یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ نورھم یسعٰی بین ایدیھم وبایمانھم یقولون ربنا اتمم لنا نورنا۔ مسلمان اس وجہ سے ایسا کہیں گے کہ کہیں ان کا نور منافقوں کی روشنی کی طرح سلب نہ کرلیا جائے۔ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کا بیان ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ہر موحد کو قیامت کے دن نور عطا کیا جائے گا ‘ منافق کا نور تو بجھا دیا جائے گا اور مؤمن جب منافق کے نور کو بجھتا دیکھیں گے تو ان کو اندیشہ ہوگا کہ کہیں ان کی روشنی بھی غائب نہ ہوجائے اس لیے کہیں گے : رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا۔ طبرانی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔
مسلم ‘ احمد اور دارقطنی نے بطریق ابن زبیر بیان کیا کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی بیان کیا کہ ہر آدمی کو مؤمن ہو یا منافق ایک نور دیا جائے گا جس کے پیچھے ‘ پیچھے سب لوگ چلیں گے۔ جہنم کے پل پر آنکڑے اور کانٹے ہوں گے ‘ اللہ جس کو چاہے گا اس کو وہ پکڑ لیں گے ‘ پھر اللہ منافقوں کی روشنی بجھا دے گا۔
میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ منافقوں کو نور دیا ہی نہیں جائے گا۔ قرآن کی آیات اسی پر دلالت کر رہی ہیں ‘ رہیں وہ احادیث جن میں منافقوں کے نور کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جنت تک پہنچنے سے پہلے ان کا نور بجھا دیا جائے گا تو شاید ان منافقوں سے مراد ہیں اصحاب الہواء۔ مؤمن یعنی شیعہ اور خارجی مسلک کے لوگ ‘ اس کا ثبوت اس حدیث مبارک سے ہوتا ہے جس کے راوی حضرت ابن عباس ؓ ہیں کہ ہر موحد کو نور دیا جائے گا اور موحد وہی ہوتا ہے جو توحید و رسالت کا خلوص قلب سے اقرار کرے جیسا وفد عبدالقیس کی حدیث میں آیا ہے کہ ایمان باللہ وحدہٗ یہ ہے کہ تم اللہ کو لا شریک لہٗ مانو اور محمد رسول اللہ ﷺ کا اقرار کرو۔
اِرْجِعُوْا وَرَآءَ کُمْ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ بات منافقوں سے مؤمن کہیں گے۔ قتادہ نے کہا : یہ بات ملائکہ کہیں گے وَرَآءَ کُمْ سے مراد وہ مقام ہے جہاں نور تقسیم ہوا تھا۔ حضرت ابو امامہ اور حضرت ابن عباس کی حدیثوں سے یہی ثابت ہوتا ہے یا پیچھے لوٹنے سے مراد ہے ‘ دنیا کی طرف لوٹنا یعنی دنیا کی طرف لوٹ کر جاؤ۔ وہاں ایمان و معرفت حاصل کرو۔ اخلاق حمیدہ اختیار کرو اور اللہ کی عبادت کرو کیونکہ یہ نور حقیقت میں اسی ایمان وطاعت کا ظہور ہے۔
فضرب بینھم بسور لہ باب باطنہ فیہ الرحمۃ و ظاھرہ من قبل العذاب .
” پھر ان (دونوں فریقوں) کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا ‘ اس کے اندرونی جانب میں رحمت ہوگی اور بیرونی جانب کی طرف عذاب ہوگا۔ “
بَیْنَھُمْ : یعنی مؤمنوں اور منافقوں کے درمیان سُوْرٍ دیوار۔ لَّہٗ بَابٌ : یعنی اس دیوار میں مؤمنوں کے داخل ہونے کا دروازہ۔
ظَاھِرُہٗ : یعنی دیوار یا دروازے سے باہر۔ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ : اسکے اندر رحمت ہے کیونکہ جنت اس سے متصل ہے۔
مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ : یعنی دیوار کے بیرونی جانب عذاب ہے کیونکہ اس سے دوزخ متصل ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : وہ دیوار جس کا ذکر آیت : بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ میں آیا ہے اس سے بیت المقدس کی شرقی دیوار مراد ہے جس کے اندرونی جانب مسجد ہے اور باہر کی طرف وادئ جہنم ہوگی۔ ابن شریح کا بیان ہے کہ کعب کہتے تھے : بیت المقدس میں وہ دروازہ جس کو باب الرحمۃ کہا جاتا ہے ‘ وہی ہے جس کا ذکر اللہ نے آیت : فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ میں کیا ہے۔
Ayah 57:14” یہ (منافق) ان (مؤمنوں) کو پکاریں گے کہ کیا (دُنیا میں) ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ‘ وہ کہیں گے کہ ہاں تھے تو صحیح لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور تم منتظر رہا کرتے تھے اور شک میں رہا کرتے تھے اور تم کو تمہاری تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا ‘ یہاں تک کہ تم پر خدا کا حکم آپہنچا اور تم کو دھوکا دینے والے (شیطان) نے اللہ کے متعلق دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ “
یعنی جب دیوار حائل ہوگئی اور منافق تاریکی میں رہ گئے تو دیوار کے پیچھے سے منافقوں نے مؤمنوں کو پکار کر کہا : تمہارے ساتھ ہم دنیا میں نمازیں نہیں پڑھتے تھے اور روزے نہیں رکھتے تھے ؟ مؤمن اس کے جواب میں کہیں گے : کیوں نہیں ! تم ہمارے ساتھ تھے (اور نماز پڑھتے ‘ روزہ رکھتے تھے) لیکن نفاق اور کفر کر کے اور خواہشات و معاصی میں مبتلا رہ کر تم نے خود اپنے کو ہلاک کیا اور تم انتظار کرتے رہے کہ مؤمنوں پر تباہی کا چکر آجائے اور رسول اللہ ﷺ وفات پاجائیں اور اس طرح تم چین اور سکھ سے ہوجاؤ۔
وَارْتَبْتُمْ : یعنی تم دین میں یا اس عذاب میں جس کی وعید تم کو سنائی گئی تھی ‘ شک کرتے تھے۔
اَ لْاَ مَانِیُّ : بیکار ‘ بےبنیاد تمنائیں جیسے مسلمانوں پر مصائب و شدائد کا نزول (اور رسول اللہ ﷺ کی وفات اور حضور ﷺ کی وفات کے بعد دین اسلام کا ختم ہوجانا) ۔
اَمْرُ اللہ : یعنی موت۔
اَلْغَرُوْرُ : یعنی شیطان یا دنیا نے تم کو فریب دے رکھا تھا کہ اللہ کریم ہے تم کو عذاب نہیں دے گا یا یہ دھوکہ دے رکھا تھا کہ نہ دوبارہ زندگی ہوگی ‘ نہ حساب فہمی۔
قتادہ نے کہا : وہ برابر شیطان کے فریب میں پھنسے رہے ‘ آخر شیطان نے ان کو دوزخ میں جا پھینکا۔
Ayah 57:15آج نہ تم سے معاوضہ لیا جائے گا نہ کافروں سے ‘ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے ‘ وہی تمہارا رفیق ہے اور وہ
(ؤاقعی) برا ٹھکانہ ہے۔ “
فِدْیَۃٌ : بدل ‘ عوض۔
وَّلاَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا : یعنی کوئی بدل اور عوض ان لوگوں کی طرف سے بھی نہیں لیا جائے گا ‘ جنہوں نے علی الاعلان کفر کیا تھا (یعنی منافقوں کی طرح مسلمان ہونے کا زبانی دعویٰ بھی نہیں کیا تھا) ۔
وَمَاْوَاکُمُ النَّارُ : یعنی تمہارے رہنے کی جگہ دوزخ ہے جس کے متعلق کہا جائے گا۔
ھِیَ مَوْلٰکُمْ : کہ یہ ہی تمہارے لیے مناسب ہے یا یہی مقام تمہارا مددگار ہے یا مولیٰ سے مراد ہے متولّی (ذمہ دار ‘ مرتکب ‘ موجب) یعنی جس طرح تم دنیا میں موجبات دوزخ کے مرتکب تھے ‘ اسی طرح آج یہ آگ تمہاری ذمہ دار ‘ رفیق ہے۔
Ayah 57:16” کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور اس دین حق کے سامنے جھک جائیں جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر (کتاب ملے) ان کو زمانہ دراز گزر گیا ‘ پھر ان کے دل خوب ہی سخت ہوگئے اور (آج) ان میں سے بہت لوگ کافر ہیں۔
ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبدالعزیز بن رواد کی روایت سے اور ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان کے حوالہ سے بیان کیا کہ بعض صحابہ ہنسی مذاق کے زیادہ عادی تھے اور بہت مزاح کرتے تھے۔ اس پر آیت : اَلَمْ یَاْنِ.... نازل ہوئی۔
اَلَمْ یَاْنِ : کسی کام کا وقت آجائے تو عرب کہتے ہیں : انی الامرُ : اس کام کا وقت آگیا۔ یانی مضارع۔ (باب ضرب)
تَخْشَعَ : نرم ہوجائیں ‘ جھک جائیں۔
بغوی کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ہمارے مسلمان ہونے اور اس آیت کے نازل ہونے کے درمیان صرف چار سال کی مدت گزری تھی کہ اللہ نے ہم پر اس آیت میں عتاب فرمایا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مسلمانوں کے دل سست پڑگئے تھے کہ نزول قرآن کے تیرہویں سال کے خاتمہ پر اللہ نے یہ عتاب فرمایا۔ ابن مبارک نے الزہد میں بروایت سفیان بیان کیا کہ اعمش نے کہا : صحابہ ؓ پر ہجرت سے پہلے اپنی جگہ بڑی تنگ حالی اور تکلیف تھی۔ جب مدینہ میں ہجرت کر کے آگئے تو یہاں سکھ اور آرام ملا ‘ اس وجہ سے بعض کاموں میں سستی کرنے لگے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
ابن ابی حاتم نے بحوالہ سدی قاسم کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے (کچھ) صحابی کسی قدر سست پڑگئے تھے تو اللہ نے آیت : اَﷲُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ نازل فرمائی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اضمحلال پیدا ہوگیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ کوئی حدیث بیان فرمائیے (تاکہ ہمارے دلوں کی یہ اضمحلالی کیفیت دور ہوجائے) اس وقت آیت : اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا .... نازل ہوئی۔ بغوی نے کلبی اور مقاتل کا بیان نقل کیا ہے کہ ہجرت سے ایک سال بعد یہ آیت منافقوں کے حق میں نازل ہوئی۔ وجہ نزول یہ ہوئی کہ کچھ لوگوں نے ایک روز حضرت سلمان فارسی ؓ سے درخواست کی کہ توریت میں عجیب عجیب باتیں ہیں۔ آپ ہم سے توریت کی کوئی بات کیجئے۔ اس پر آیت : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ.... نازل ہوئیں۔ یہ جواب سن کر ایک مدت تک سائل مکرر سوال کرنے سے رکے رہے ‘ کچھ مدت کے بعد منافقوں نے دوبارہ حضرت سلمان ؓ فارسی سے یہی سوال کیا ‘ اس پر آیت : اَﷲُ نَزَّلَ اَحْسَن الْحَدِیْثِ نازل ہوئی۔ یہ سن کر سائل مدت تک مزید سوال سے رکے رہے۔ ایک مدت کے بعد پھر وہی سوال کیا کہ توریت میں عجیب عجیب واقعات ہیں ‘ اس میں سے ہم کو کچھ سنائیے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس وجہ نزول کی بناء پر آیت کی تفسیر اس طرح ہوگی ‘ جو لوگ بظاہر زبان سے ایمان لے آئے ہیں ‘ کیا ابھی انکے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ انکے دل اللہ کے ذکر کے سامنے جھک جائیں ‘ الخ۔
وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ : ما نزل سے مراد قرآن مجید ہے ‘ اس کا عطف ذکر اللہ پر ہے اور ذکر اللہ سے مراد بھی قرآن ہی ہے۔ گویا قرآن کے یہ دونوں وصف میں ذکر اللہ بھی ہے اور حق منجانب اللہ بھی ہے ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذکر سے مراد قرآن کے علاوہ ذکر خدا ہو۔
کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ : یعنی یہودی اور عیسائی۔
فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ : یعنی اہل ایمان ‘ سابق اہل کتاب کے مثال اس بات میں نہ ہوجائیں۔ طول امد سے مراد ہے وہ طویل مدت جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے درمیان گزر گئی یا الامدُ سے مراد ہے کفر و معاصی میں بیتی ہوئی طویل عمر۔
فٰسِقُوْنَ : یعنی دین سے خارج ہیں ‘ اپنی کتاب کے احکام کے تارک ہیں۔
Ayah 57:17یہ بات جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے خشک ہونے کے بعد زندہ کردیتا ہے ہم نے تم سے اس کے نظائر بیان کردیئے ہیں تاکہ تم سمجھو لو۔ “
یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مُوْتِھَا : یعنی ذکر اور تلاوت سے اللہ سخت (مردہ) دلوں کو اسی طرح زندہ کردیتا ہے جس طرح مردہ (خشک) زمین کو زندہ کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ مردہ زمین کو زندہ کرنے کی طرح مردہ انسانوں کو زندہ کرے گا۔ اس جملہ میں دل کی قساوت سے بازداشت کی گئی ہے اور خشوع کی ترغیب دی گئی ہے۔
لَعَلَُکُمْ تَعْقِلُوْنَ : یعنی تمہاری عقلیں کامل ہوجائیں (تم کو کمال عقل حاصل ہوجائے) ۔
Ayah 57:18” بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ (صدقہ دینے والے) اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں ‘ وہ صدقہ ان کے لیے بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لیے پسندیدہ اجر ہوگا اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے (خاص) اجر اور (پل صراط پر) ان کا (خاص) نور ہوگا اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ‘ یہی لوگ دوزخی ہیں۔ “
ِ اَّن الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ : مصدر تَصَدُّق (باب تفعل) حسب قراءت ِ جمہور یعنی صدقہ دینے والے مرد اور عورتیں۔ باب تفعل کی تَ کو فَ کلمہ میں ادغام کردیا گیا ہے لیکن عاصم کی قراءت میں بتخفیف صاد (باب تفعیل سے) آیا ہے۔ یعنی تصدیق کرنے والے مرد اور عورتیں۔
قَرْضًا حَسَنًا : یعنی بطیب خاطر خلوص قلب کے ساتھ اللہ کو قرض دیا۔ قرض کو حسن کی شرط سے مشروط کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ صدقہ دینا وہی معتبر ہے جو خلوص قلب کے ساتھ دیا جائے۔