57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں وہ سب جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں، اور وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے،

اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے، آسمانوں میں اسی کی سلطنت ہے وہ سب کے اعمال سے باخبر ہے یہاں سے سورة الحدید شروع ہو رہی ہے اوپر چھ آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے۔ ان میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ عظیمہ بیان فرمائی ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا ملک اسی کے لیے ہے وہ زندہ بھی کرتا ہے اور موت بھی دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے وہ اول بھی ہے اپنی مخلوق سے پہلے بھی تھا اور آخر بھی ہے یعنی جب مخلوق فنا ہوجائے گی تب بھی باقی رہے گا یعنی اس پر نہ عدم سابق طاری ہوا نہ عدم لاحق طاری ہوگا اور وہ ظاہر بھی ہے کہ دلائل قاہرہ سے اسے پہچانا جاتا ہے اور باطن بھی ہے کہ اس کی ذات کا ادراک نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ جو چیزیں زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو چیزیں اس سے نکلتی ہیں اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے وہ ان سب کو جانتا ہے اور اپنے علم کے اعتبار سے تم سے دور نہیں ہے، تم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 57:2–6

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اسی کیلئے سلطنت ہے آسمانوں کی اور زمین کی، وہی حیات دیتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اول ہے وہی آخر ہے اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے، اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے،

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا، وہ جانتا ہے اس چیز کو جو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو اس میں سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے، اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں بھی ہو اور وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھتا ہے،

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

اسی کی سلطنت ہے آسمانوں کی اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف سب امور لوٹ جائیں گے،

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور وہ سینوں کی باتوں کو جانتا ہے۔

﴿ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (آسمانوں کا اور زمینوں کا ملک اسی کے لیے ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) اس میں بندوں کے اعمال بھی ہیں جو قیامت کے دن پیش ہوں گے اور جزا سزا کا فیصلہ ہوگا، وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے کبھی دن بڑا اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے یہ سب تصرفات اسی ذات عالی کی ہیں ﴿ وَ هُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 006﴾ اور سینوں کی باتوں کو جانتا ہیـ جس کسی کے دل میں جو بھی کچھ خیال اور وسوسہ آئے اور جو بھی کوئی شخص ایمان قبول کرے یا کفر پر جما رہے اسے ان سب کی خبر ہے۔
Ayahs 57:7–10

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس مال میں تم کو اس نے دوسروں کا قائم مقام بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو، سو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور خرچ کریں ان کو بڑا ثواب ہوگا،

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تم کو اس کی طرف بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اللہ نے تم سے عہد لیا تھا، کہ تم کو یمان لانا ہے،

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہ ایسا ہے کہ اپنے بندہ پر صاف صاف آیتیں بھیجتا ہے تاکہ وہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائے اور بیشک اللہ تعالیٰ تم پر بڑا شفیق ہے مہربان ہے،

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ سب آسمانوں کی اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے، جو لوگ فتح مکہ سے پہلے خرچ کرچکے اور لڑ چکے وہ برابر نہیں ہیں وہ لوگ درجہ میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور جہاد کیے، اور اللہ تعالیٰ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا، اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے،

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو ساتھ ہی ﴿ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ ﴾ بھی فرمایا ہے یعنی یہ مال وہ ہے جو تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھا ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلیفہ بنا دیا اب یہ مال تمہارے تصرف میں ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یہ خرچ کیا ہوا مال ضائع نہ جائے گا۔ ﴿ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ007﴾ (سو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور خرچ کریں ان کے لیے بڑا ثواب ہے) دوسری آیت میں فرمایا کہ تمہارے لیے اس کا کیا سبب ہے کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے، اللہ نے تمہارے اندر اپنا رسول بھیج دیا وہ تمہیں دعوت دیتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور مزید بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے عہد لیا تھا جس کے جواب میں تم نے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا (اس سے عہد ﴿اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ مراد ہے جو سورة اعراف میں مذکورہ ہے) ﴿ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 008﴾ اگر تمہیں ایمان لانا ہے تو ایمان لے آؤ كس بات کا انتظار ہے حجتیں قائم ہوگئیں دلائل بیان کردیئے گئے براہین سمجھ میں آگئے اب ایمان لانے میں کیوں دیر کر رہے ہو۔ فی معالم التنزیل : ان کنتم مومنین یومًا فالان اخری الاوقات ان تو منوا القیام الحجج والاعلام ببعثة محمد ﷺ ونزول القران (صفحہ 294: ج 4) تیسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا اور آپ پر آیات قرآنیہ نازل فرمانے کی نعمت کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا کہ اللہ وہی ہے جس نے اپنے بندہ پر واضح آیات نازل فرمائیں تاکہ وہ (کفر وشرک کی) اندھیریوں سے نور ایمان کی طرف لائے (یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے) اور بلاشبہ اللہ خوب زیادہ شفقت ورحمت فرمانے والا ہے۔ چوتھی آیت میں فی سبیل اللہ مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تمہیں اس بات سے کیا چیز روکنے والی ہے کہ تم اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو سب مال اللہ تعالیٰ ہی کا ہے حقیقتاً وہی مالک ہے، مجازی مالکوں کی موت کے بعد تمہیں یہ مال ملا ہے تمہارا نہ حقیقت میں اب ہے اور نہ مجازی طور پر تمہارے پاس ہمیشہ رہے گا۔ قال فی معالم التنزیل : ای شیء لکم فی ترک الانفاق فیما یقرب من اللہ وانتم میتون تارکون اموالکم (صفحہ 294 ج 4) فتح مکہ سے پہلے خرچ کرنے والے اور بعد والے برابر نہیں ہوسکتے حضرات صحابہ ؓ میں وہ حضرات بھی تھے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا تھا اور کافروں سے جنگ لڑی تھی پھر جب مکہ فتح ہوگیا کافروں کو شکست ہوگئی تو اس کے بعد مسلمانوں کے مغلوب ہونے کا ڈر ختم ہوگیا اسی لیے فرمایا ﴿لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ 1ؕ﴾ کہ جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے فی سبیل اللہ مال خرچ کیے اور جہاد کیے یہ جماعت اور وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد مال خرچ کیے اور جہاد کیے برابر نہیں ہیں۔ پہلے فریق کے بارے میں فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا 1ؕ﴾ (یہ لوگ درجہ کے اعتبار سے ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اموال خرچ کیے اور جہاد کیے) اگرچہ بعد میں خرچ کرنے والے اور جہاد میں شرکت کرنے والے بھی محروم نہ ہوں گے ثواب انہیں بھی ملے گا، اسی کو فرمایا ﴿وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى 1ؕ﴾ (اور اللہ تعالیٰ نے سب سے خوبی یعنی ثواب کا وعدہ فرمایا ہے) ﴿ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْر (رح) م 0010﴾ (اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے) جس نے جو بھی خیر کا کام کیا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ ؓ کے بارے میں ﴿ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى ﴾ فرماکر اعلان عام فرما دیا کہ سب کے لیے حسنی یعنی مغفرت اور جنت ہے اور سورة توبہ کی آیت ﴿ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ ﴾ (الآیۃ) میں مہاجرین و انصار کے لیے اور جو لوگ انکا اتباع بالاحسان کریں ان کے لیے ﴿ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ﴾ فرما دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ ان کے لیے جنتیں تیار فرمائی ہیں۔ (دیکھو سورة توبہ) اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کو دیکھو اور روافض کو دیکھو جنہیں اسلام کا دعویٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو صحیح نہیں مانتے، دوچار کے سوا سب صحابہ کو گمراہ اور کافر کہتے ہیں اور ان حضرات سے برات کا اعلان کیے بغیر انکو چین نہیں آتا، یاد رہے کہ سابقین اولین میں ابوبکر و عمر ؓ بھی تھے جن سے روافض کو انتہائی بغض ہے : ذلک ھوالضلال البعید۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کوئی شخص ہے جو اللہ کو قرض حسن دے پھر اللہ اس کو اس کے لیے بڑھائے اور اس کے لیے اجر پسندیدہ ہے۔

كون ہے جو اللہ کو قرض دے : پھر فرمایا ﴿ مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِيْمٌۚ0011﴾ (وہ کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض پھر وہ اللہ اس کے لیے چند در چند کرکے بڑھا دے اور اس کے لیے اجر کریم ہے) اللہ تعالیٰ شانہ بندوں کا بھی خالق اور مالک ہے اور ان کے اموال کا بھی خالق اور مالک ہے جو بھی کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرما کر اس کا نام قرضا حسنا رکھ دیا اور جتنا بھی کوئی شخص مال خرچ کرے (بشرطیکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو) اس کو خوب زیادہ بڑھا کردینے کا وعدہ فرما لیا، اول تو مال اس کا ہے پھر بندوں نے خرچ بھی کیا اپنی ہم جنس مخلوق پر اللہ تعالیٰ شانہ غنی اور بےنیاز ہے اسے کسی مال کی حاجت نہیں اس نے فی سبیل اللہ مال خرچ کرنے والوں سے بہت زیادہ ثواب عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے کم سے کم ہر صدقہ کا ثواب دس گنا تو ملتا ہے اور سات سو تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا چڑھا کر ثواب دیا جاتا ہے اخلاص کے ساتھ خرچ کرنا حلال اور طیب مال خرچ کرنا نفس کی خوشی کے ساتھ خرچ کرنا یہ سب قرض حسنہ کے عموم میں داخل ہے۔ صحیح مسلم (صفحہ 258: ج 2) میں ہے کہ روزانہ رات کو جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا قبول کروں کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اس کو دوں، كون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے میں اس کی مغفرت کردوں، كون ہے جو ایسے کو قرضدے جس کے پاس سب کچھ ہے اور جو ظلم کرنے والا نہیں ہے صبح تک یوں ہی فرماتے رہتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ کون ہے جو ایسے کو دے جس کے پاس سب کچھ ہے اس میں یہ بتادیا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ ضرورت مند کو دے رہا ہوں بلکہ اپنا فائدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور یہ جو فرمایا کہ وہ ظلم کرنے والا نہیں ہے اس میں یہ بتایا کہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کروگے ضائع نہ جائے گا اس کے مارے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔
Ayahs 57:12–15

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑتا ہوگا، آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے،

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں، ان کو جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندرونی جانب میں رحمت ہوگی اور بیرونی جانب عذاب ہوگا

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

وہ ان کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کہ تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور تم منتظر رہا کرتے تھے اور تم شک کیا کرتے تھے اور تم کو تمہاری تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور تم کو دھوکہ دینے والے نے اللہ کے ساتھ دھوکہ میں ڈال رکھا تھا،

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

غرض آج نہ تم سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ کافروں سے، تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے، وہی تمہاری رفیق ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔

قیامت کے دن مومنین مومنات کو نور دیا جائے گا منافقین کچھ دور ان کے ساتھ چل کر اندھیرے میں رہ جائیں گے ان آیات میں مومنین و مومنات اور منافقین و منافقات کی حالت بتائی ہے جس کا قیامت کے دن ظہو ہوگا اہل ایمان کے بارے میں فرمایا کہ اے مخاطب تم قیامت کے دن مومنین و مومنات کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہارے لیے ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں تم ہمیشہ رہو گے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۚ0012﴾ (یہ بڑی کامیابی ہے) ۔ قیامت کے دن حاضر تو سبھی ہوں گے، مومن بھی منافق بھی کھلے ہوئے کافر بھی اور وہ لوگ بھی جو دنیا میں شرک کرتے تھے، کافروں اور مشرکوں کو تو نور ملے گا ہی نہیں وہ تو اندھیرے ہی میں رہیں گے اور مسلمانوں کو نور دیا جائے گا وہ اس کے ذریعہ پل صراط سے گزریں گے اور منافق مردو عورت پیچھے رہ جائیں گے اور اتنے پیچھے ہوجائیں گے کہ بالکل اندھیرے میں رہ جائیں گے، یہ لوگ مومنین سے کہیں گے کہ ذرا ٹھہرو ہمیں بھی مہلت دو ہم بھی تمہارے ساتھ تمہاری روشنی میں چلے چلیں انکو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ﴾ (کہ اپنے پیچھے لوٹ جاؤ وہیں روشنی تلاش کرو) وہ پیچھے لوٹیں گے تو ذرا بھی روشنی نہ پائیں گے اور ساتھ ہی ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جو مومنین اور منافقین کے درمیان آڑ بن جائے گی اب تو وہ لوگ نہ مومنین تک واپس پہنچ سکیں گے اور نہ مومنین کی روشنی سے استفادہ کرسکیں گے۔ منافقین مومنین سے پکار کر کہیں گے ﴿اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ﴾ (کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) تمہاری طرح نماز پڑھتے تھے اور تمہارے ساتھ جہاد میں جایا کرتے تھے جب ہم اسلامی اعمال میں تمہارے ساتھ تھے تو آج ہمیں اندھیرے میں چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو ؟ مومنین جواب دیں گے بلیٰ (ہاں دنیا میں تم ہمارے ساتھ تھے) یہ بات ٹھیک ہے ﴿ وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ ﴾ (لیکن تم نے اپنی جانوں کو فتنہ میں ڈالا) یعنی گمراہی میں پھنسے رہے ﴿ وَ تَرَبَّصْتُمْ﴾ (اور تم نے انتظار کیا) کہ دیکھو مسلمانوں پر کب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے) ﴿ وَ ارْتَبْتُمْ ﴾ (اور تم اسلام کے حق ہونے میں شک کرتے تھے) ﴿ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ ﴾ (اور تمہیں تمہاری آرزوؤں نے دھوکہ میں ڈالا) تم سمجھتے تھے کہ یہ اسلام اور اس کے ماننے والوں کو چند دن کا مسئلہ ہے نہ یہ دین چلنے والا ہے اور نہ اس کے ماننے والے آگے بڑھنے والے ہیں اگر تم اسلام کو سچا جانتے تو اس پر مرمٹتے لیکن تم ظاہر میں اسلام کا دعویٰ کرتے تھے اور دل سے اس دین کے مخالف تھے اس لیے اس کے مٹ جانے کی آرزوئیں رکھتے تھے ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ ﴾ (یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا) یعنی تمہیں موت آگئی جب موت آجائے تو توبہ بھی نہیں ہوسکتی ﴿ وَ غَرَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْرُ 0014﴾ (اور دھوکہ دینے والے یعنی شطان نے تمہیں دھوکے میں ڈالا) اور تمہارا ناس کھو دیا، اب تو تمہیں عذاب ہی میں جانا ہے، آج تم اور کھلے کافر مستحق عذاب ہونے میں برابر ہو تمہارے چھٹکارہ کا کوئی راستہ نہیں ﴿ فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 1ؕ﴾ (آج نہ تم سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جو کھلے کافر تھے) ﴿ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ 1ؕ﴾ (تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے) ﴿هِيَ مَوْلٰىكُمْ 1ؕ﴾ (وہ تمہاری رفیق ہے) ﴿ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ 0015﴾ (اور وہ برا ٹھکانہ ہے) ۔ یہ تشریح اور توضیح تفسیر در منثور کی روایات کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ ﴿نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ ﴾ جو فرمایا ہے اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اہل ایمان کے دائیں اور سامنے نور ہوگا اس سے بائیں طرف نور ہونے کی نفی نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں بائیں طرف نور ملنے کا بھی تذکرہ ہے رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت سے لے کر آپ کی امت تک بہت سی امتیں گزری ہوں گی ان کے درمیان میں آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ ان کے چہرے روشن ہوں گے اور ہاتھ پاؤں سفید ہوں گے انکی یہ کیفیت وضو کرنے کی وجہ سے ہوگی میری امت کے علاوہ کسی دوسری امت کے لیے یہ نشانی نہ ہوگی اور میں انہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کے چہروں پر سجدہ کے اثر ہوں گے اور اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کے سامنے اور دائیں اور بائیں تینوں طرف نور ہوگا۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک صفحہ 478: ج 2 وقال صحیح الاسناد وسکت علیہ الذھبی) ۔ ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ1ؕ﴾ (سو ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا) ﴿بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ0013﴾ (اس کے اندر والے حصہ میں رحمت ہوگی اور باہر کی جانب عذاب ہوگا) ۔ یہ کون سی دیوار ہے جس کا الفاظ بالا میں تذکرہ فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ دیوار اعراف ہے جو مومنین اور کفار (بشمول منافقین) کے درمیان حائل کردی جائے گی اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے اعراف کے علاوہ کوئی دوسری دیوار مراد ہے صاحب معالم التنزیل صفحہ 996: ج 4 لکھتے ہیں : وھو حائط بین الجنة والنار یعنی وہ ایک دیوار ہوگی جو جنت اور دوزخ کے درمیان حائل ہوگی اس دیوار میں جو دروازہ ہوگا وہ کس لیے ہوگا اور کب تک رہے گا اس بارے میں کوئی تصریح واضح طور پر نہیں ملتی ممکن ہے کہ یہ وہی دروازہ ہو جس کے ذریعہ اہل جنت اہل دوزخ سے گفتگو کرسکیں جیسا کہ سورة الصافات میں ﴿قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ 0054 فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِيْ سَوَآءِ الْجَحِيْمِ 0055﴾ فرمایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دروازہ مستقل نہ ہو مومنین کے جنت میں جاتے وقت (جبکہ منافقین ان سے علیحدہ ہوجائیں گے) یہ دروازہ کھلا رہے اور بعد میں بند کردیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ فائدہ : مومنین کے نور کا سورة التحریم میں بھی تذکرہ فرمایا ہے ﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللّٰهُ النَّبِيَّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ 1ۚ نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا 1ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ008﴾ (جس دن اللہ نبی ﷺ کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے رسوانہ کرے گا ان کا نور ان کی داہنی طرف اور انکے آگے دوڑتا ہوگا، وہ یوں دعا کرتے رہتے تھے کہ اے ہمارے رب ہمارے نور کو پورا فرما دے اور ہمیں بخش دے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اعمال صالحہ سراپا نور ہیں : اعمال صالحہ سراسر نور کا ذریعہ بنیں گے۔ بعض اعمال کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ نور کا سبب ہونے کی خصوصی تصریح بھی احادیث شریفہ میں وارد ہوئی ہے۔ حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قیامت کے دن نور تام یعنی پورے نور کی خوشخبری سنا دو ان لوگوں کو جو اندھیروں میں مسجدوں کی طرف چلتے ہیں۔ (رواہ الترمذی و ابوداود رواہ ابن ماجہ من سہل بن سعد وانس) حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ جس نے نماز کی پابندی کی اس کے لیے وہ قیامت کے روز نور ہوگی اور اس کے ایمان کی دلیل ہوگی اور اس کی نجات (کا سامان) ہوگی اور جس نے نماز کی پابندی نہ کی اس کے لیے نماز نہ نور ہوگی نہ (ایمان کی) دلیل ہوگی نہ نجات کا سامان ہوگی، اور یہ شخص قیامت کے روز قارون اور اس کے وزیر ہامان اور (مشہور مشرک) ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (مسند احمد ج 2: 129) حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے جمعہ کے دن سورة الکہف پڑھی اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن ہوگا۔ (رواہ البیہقی فی السنن الکبریٰ 249: ج 3) حضرت عمر و بن شعیب ؓ سے روایت ہے وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم سفید بال مت اکھاڑو کیونکہ وہ مسلمان کا نور ہے جو کوئی مسلمان ہونے کی حالت میں بوڑھا ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے بدلے نیکی لکھے گا اور اس کے لیے اس کے بدلہ میں ایک گناہ معاف کرے گا اور اس کا ایک درجہ بلند کرے گا۔ (یہ نیکی اور گناہ کی معافی صرف بڑھاپے کی وجہ سے ہوگی) ۔ (رواہ ابوداؤد وکمافی المشکوۃ صفحہ 382)
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ایمان والوں کے لیے اس کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور جو دین حق نازل ہوا ہے اسکے سامنے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا سو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے بہت سے فاسق تھے،

کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب خشوع والے بن جائیں ان آیات میں ان اہل ایمان کو خطاب اور عتاب فرمایا ہے جن کے اعمال صالحہ میں کمی آگئی اور جن کے دلوں میں ذکر اللہ اور کتاب اللہ کی طرف توجہ درجہ مطلوبہ میں نہیں رہی، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے وہاں کچھ اصحاب ہنس رہے تھے آپ نے اپنے مبارک چہرہ سے چادر ہٹائی جو سرخ ہو رہا تھا اور فرمایا کہ کیا تم ہنس رہے ہو ؟ اور تمہارے رب کی طرف سے یہ امان نازل نہیں ہوئی کہ اس نے تمہیں بخش دیا ؟ (اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا سے دل نہ لگاتے اور ہنسی مداق میں وقت خرچ نہ کرتے) تمہارے ہنسنے کے بارے میں مجھ پر آیت کریمہ ﴿اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا﴾ نازل ہوئی ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارے اس ہنسنے کا کیا کفارہ ہے ؟ آپ نے فرمایا جس قدر ہنسے ہو اسی قدر رؤو۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی اس وقت یمامہ والے کچھ لوگ موجود تھے۔ وہ بہت روئے ان کی یہ حالت دیکھ کر حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ ہم بھی اس طرح رویا کرتے تھے حتیٰ کہ بعد میں ایسے لوگ آگئے جن کے دل سخت ہوگئے۔ (روح المعانی صفحہ 179۔ 180، 27) معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو اللہ کے ذکر میں اور قرآن کی تلاوت کرنے اور سمجھنے کی طرف پوری طرح متوجہ رہنا چاہئے، جب دل میں خشوع ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی کتاب کی طرف جھکاؤ ہوگا تو ایمان میں پختگی رہے گی۔ اگر دل میں خشوع نہ ہوا تو شدہ شدہ آہستہ آہستہ دلوں میں قساوت یعنی سختی آجائے گی۔ جب قساوت آجاتی ہے تو دنیا ہی کی طرف توجہ رہ جاتی ہے۔ دین پر چلنے کا اہتمام اور آخرت کی فکر نہیں رہتی نماز بھی یوں ہی چلتی ہوئی پڑھتے ہیں ایک منٹ میں دو رکعتیں نمٹا دیتے ہیں اور نماز میں دکان کی بکری کا حساب لگاتے رہتے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کرو۔ کیونکہ اللہ کے ذکر کے علاوہ باتیں کرنا قساوت قلب یعنی دل کی سختی کا سبب ہے اور اللہ سے سب سے زیادہ دور وہی دل ہے جو سخت ہو۔ (رواہ الترمذی) ایک تاریخی واقعہ : حضرت فضیل بن عیاض (رح) مشہور محدث ہیں اکابر صوفیاء میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے یہ پہلے صحیح راستہ پر نہ تھے ڈاکہ زنی کیا کرتے تھے اسی اثناء میں یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک لڑکی سے عشق ہوگیا اس لڑکی کے پاس پہنچنے کے لیے دیواروں پر چڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک تلاوت کرنے والے شخص کی آواز کان میں پڑگئی وہ آیت کریمہ ﴿ اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ ﴾ پڑھ رہا تھا (کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر کے لیے ان کے قلوب جھک جائیں) ۔ فضیل نے جب اس آیت کو سنا تو فوراً منہ سے نکلا : بلی یا رب قدآن (اے میرے پروردگار ہاں وہ وقت آگیا) یہ کہہ کر واپس لوٹے تو ایک ویران گھر کی طرف چلے گئے وہاں کچھ مسافر ٹھہرے ہوئے تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ چلو سفر شروع کردیں دوسرے نے کہا کہ صبح تک ٹھہرو کیونکہ یہاں کہیں فضیل ہوگا وہ ڈاکو ہے کہیں ہم پر ڈاکہ نہ ڈال دے، یہ سن کر فضیل اپنے دل میں کہنے لگے ارے میرا یہ حال ہوگیا کہ رات بھر گناہ کے کاموں میں لگا رہتا ہوں اور مسلمان مجھ سے ڈرتے ہیں، معلوم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آج کی رات یہاں اسی لیے بھیجا ہے کہ گناہوں کو چھوڑ دوں اس کے بعد بارگاہ خداوندی میں یوں عرض کیا : اللھم انی قد تبت الیک وجعلت توبتی مجاورة البیت الحرام (اے اللہ میں آپ کے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور اپنی توبہ میں یہ بھی شامل کرتا ہوں کہ اب البیت الحرام یعنی مکہ معظمہ میں زندگی گزاروں گا) اس کے بعد مکہ معظمہ چلے گئے اور وہیں پوری زندگی عبادت میں گزاری اور یہ حال تھا کہ جب ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے تو اتنا روتے تھے کہ پاس بیٹھنے والوں کو ان پر رحم آنے لگتا تھا۔ ابن حبان نے اپنی کتاب الثقات میں ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے : اقام بالبیت الحرام مجاورًا مع الجھد الشدید والورع الدائم والخوف الوافی والبکاء الکثیر والتخلی بالوحدة ورفض الناس وما علیہ اسباب الدنیا الی ان مات بھا ـ (مكہ معظمہ میں قیام کیا سخت مجاہدہ کے ساتھ اور دائمی پرہیزگاری کے ساتھ اور خوب زیادہ خوف الٰہی کے ساتھ اور خوب زیادہ رونے کے ساتھ اور تنہائی میں وقت گزارنے کے ساتھ اور لوگوں سے بےتعلق رہنے کے ساتھ، دنیا کے اسباب میں سے موت آنے تک ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا) ۔ حضرت فضیل بن عیاض (رح) نے ایک مرتبہ علم حدیث کا اشتغال رکھنے والوں کو دیکھا کہ آپس میں دل لگی کی باتیں کر رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں، ان کو پکار کر فرمایا کہ اے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے وارثو ! بس کرو بس کرو، تم امام ہو تمہارا اقتداء کیا جاتا ہے۔ (سیرا علام النبلاء ص 423 تا 426 ج 8۔ تہذیب التہذیب ص 294 تا 296 : ج 8) ایک مرتبہ ایک شخص کو ہنستے ہوئے دیکھا تو فرمایا میں تجھے ایک اچھی بات سناؤں ؟ اس نے کہا فرمائیے ! آپ نے اس کو یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ ﴿لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ 0076﴾ (اترایا نہ کر بیشک اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا) ۔ اہل کتاب کی طرح نہ ہوجاؤ جن کے دلوں میں قساوت تھی : ﴿ وَ لَا يَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ 1ؕ ﴾ (اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو اس سے پہلے کتاب ملی تھی (ان سے یہودونصاریٰ مراد ہے) ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا (دونوں اپنی اپنی کتاب اور اس کے احکام سے غافل ہوگئے معاصی میں منہمک رہے اس طرح زمانہ گزرتا چلا گیا اور توبہ نہ کی جب یہ حالت ہوگئی) تو ان کے دل سخت ہوگئے) جب دل سخت ہوجاتے ہیں تو نیکی بدی کا احساس نہیں ہوتا اور دین حق پر باقی رہنے کی منفعت کا خیال باقی نہیں رہتا۔ اسی لیے بہت سے لوگ کفر اختیار کرلیتے ہیں۔ ﴿ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ 0016﴾ (اہل کتاب کا یہی حال ہوا کہ ان میں سے اکثر فاسق یعنی کافر ہوگئے جن کا بقیہ آج بھی دنیا میں موجود ہے) ۔ پس مسلمانوں پر لازم ہے کہ دلوں کو خشوع والا بنائیں، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہیں قرآن کی تلاوت میں لگے رہیں اس کے احکام پر عمل کرتے رہیں، خدانخواستہ یہودونصاریٰ جیسا حال نہ ہوجائے : قولہ تعالیٰ اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا مضارع من انی الامرا نیا واناءً بالکسر اذا جاء اناہ ای وقتہ ای الم یجیٔ وقت ان تخشع قلوبھم لذکرہ عزوجل (ذكرہ فی الروح صفحہ 179: ج 27)
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان لو کہ بیشک اللہ زندہ فرماتا ہے زمین کو اس کی موت کے بعد بیشک ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کیں تاکہ تم سمجھو۔

﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا 1ؕ ﴾ اس میں زمین کی مثال دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قلوب قاسیہ یعنی سخت دلوں کو زندہ فرما دیتا ہے جبکہ وہ ذکر و تلاوت میں لگ جائیں جیسا کہ مردہ زمین کو بارش بھیج کر ہرا بھرا کردیتا ہے۔ ﴿ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 0017﴾ (ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کیں تاکہ تم سمجھو)
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بلاشبہ صدقہ کرنیوالے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ان کے لیے اس کو بڑھا دیا جائے گا ان کے لیے اجر کریم ہے

صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں کے لیے اجر کریم کا وعدہ اور شہداء کی فضیلت یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے لیے مال خرچ کرتے ہیں یہ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا (ثواب کی امید رکھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ اللہ کے رضا کے لیے مال خرچ کیا) ان کا بدلہ ان کو بڑھا چڑھا کردیا جائے گا اور ان کو اجر کریم یعنی بہت پسندیدہ اجر دیا جائے گا یہ مضمون اسی سورت کے پہلے رکوع کے ختم پر گزر چکا ہے۔ قال صاحب الروح : وقرء ابن کثیر و ابوبکر بتخفیف الصاد من التصدیق لامن الصدقة وعطف ” اقرضوا “ علی معنی الفعل من المصدقین علی ما اختارہ ابو علی والزمخشری لان ال بمعنی الذین واسم الفاعل بمعنی الفعل فکانہ قیل ان الذین تصدقوا او صدقوا علی القراء تین (واقرضوا) وتعقبہ ابو حیان وغیرہ بان فیہ الفصل بین اجزاء الصلة اذ ” ال “ معطوف علی الصلة باجبنی وھو المتصدقات، و ذلک لا یجوزہ۔ قلت تعقب ابی حیان لا یصح لان الوارد فی کتاب اللہ تعالیٰ یرد جمیع القواعد التی انھا النحاة مع ان المصدقات لیس باجبنی اذا النساء دخلت فی المتصدقین کما فی مواضع من کتاب اللہ تعالیٰ جاء بصیغة التذکیر وھو یعم الصنفین ولو لم یذکرھن لکان الکلام مربوطًا بلا ریب، فاختصصن بالذکر لاظھار ان منزلتھن فی التصدق مثل الرجال اذا نفقن باخلاصھن ومثل ھذا الوصل لیس بفصل ـ
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی سچائی والے ہیں اور جو شہداء ہیں اپنے رب کے پاس ہیں ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہوگا اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ دوزخ والے ہیں۔

صدیقین کون ہیں ؟ پھر فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ۠﴾ (اور جو لوگ اللہ پر اور اسکے رسولوں پر ایمان لائے یہ لوگ صدیق ہیں) یعنی بہت زیادہ سچائی اختیار کرنے والے ہیں جو پکی تصدیق ہو جس میں ذرا سا بھی شائبہ شک اور تردد کانہ ہو وہ ایمان حقیقی ہے۔ پھر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہر قول و فعل میں صدق یعنی سچائی کا دھیان رہے اردو میں تو لفظ سچ اور سچائی عرف عام کے اعتبار سے صرف اقوال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن عربی محاورات میں لفظ صدق اقوال اور افعال دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جھوٹ بھی اقوال اور اعمال دونوں میں مستعمل ہے۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول للہ ! میری ایک سوکن ہے اگر میں جھوٹ موٹ (اسے جلانے کے لیے) یوں کہہ دوں کہ شوہر نے مجھے یہ کچھ دیا ہے اور حقیقت میں نہ دیا ہو تو کیا اس میں کچھ گناہ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ : المتشبع بمالم یعط کلابس ثوبی زور کہ جس شخص نے جھوٹ موٹ یہ ظاہر کیا کہ مجھے یہ چیز دی گئی ہے حالانکہ وہ اسے نہیں دی گئی اس کی ایسی مثال ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن لیے (یعنی سر سے پاؤں تک وہ جھوٹا ہی جھوٹا ہوگیا) اس حدیث کا مفہوم بہت عام ہے ہر قسم کے جھوٹے دعوے داروں کو شامل ہے دعویٰ قولی ہو یا فعلی، علمی ہو یا عملی ﴿ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ 1ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ 1ؕ﴾ (اور جو شہداء ہیں ان کیلئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ یہ جملہ مستانفہ ہو اور اگر ماسبق پر معطوف مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ صدیقین اور شہداء اپنے رب کے پاس یعنی اس کے حکم اور علم میں صدیق اور شہید ہیں اور ان کے لیے اس کا اجر ہے اور ان کا نور ہے۔ (معالم التنزیل صفحہ 298: ج 4) معنی کے اعتبار سے آیت کے عموم الفاظ میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یعنی یہ لوگ صدیق ہیں اور شہداء ہیں۔ روح المعانی میں ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ایک دن اپنے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا کہ تم سب صدیق ہو اور شہید ہو حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اے ابوہریرہ ! آپ کیا فرما رہے ہیں ؟ فرمایا کہ آیت کر یہ ﴿ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ ﴾ (آخر تک پڑھ لو) اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ﴿ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ سے وہ لوگ مراد لیے جائیں جو کمال ایمان سے متصف ہوں اور یہ اس وقت متحقق ہوگا جب کوئی شخص ایسی طاعات میں لگے جو کمال ایمان والی طاعات ہوں کیونکہ جو شخص مومن ہوتے ہوئے شہوات میں منہمک ہو اور طاعات سے غافل ہو اسے صدیق اور شہید قرار دینا بعید معلوم ہوتا ہے۔ سورة نساء کی آیت کریمہ ﴿وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ 1ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًاؕ0069﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدیقین اور شہداء اور صالحین بڑے مرتبہ کے لوگ ہیں عام طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کو ان حضرات کے ساتھ ہونے کا شرف ملے گا جو ان کے اچھے رفیق ہوں گے دونوں آیتوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ یوں تو ہر مومن صدیق اور شہید ہے لیکن بہت سے حضرات کو ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے بڑے درجات حاصل ہوں گے اور بہت سے دوسرے اہل ایمان کو بھی ان کی معیت حاصل ہوجانے کے مواقع عطا کیے جائیں گے گودرجات میں فرق مراتب بہت زیادہ ہوگا لیکن باوجود باہمی ملاقاتوں اور زیارتوں کے جن کی تصدیق ایمانی بڑے درجہ کے کمال کی پہنچی ہوئی ہو ان کو خصوصی طور پر صدیق کہا گیا ہے یہ بلند رتبہ کے حضرات ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے صدیق کا لقب دیا جب اسلام کی دعوت سامنے آئی تو انہوں نے فوراً لبیک کہا اور آخری دن تک نہایت اخلاص کے ساتھ اپنی جان و مال سے آپ کی خدمت میں حاضر رہے حتیٰ کہ ایک مرتبہ جب آپ نے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی تو سارا ہی مال لاکر خدمت عالی میں حاضر کردیا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ احد پہاڑ پر چڑھ گئے، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر و عمر عثمان ؓ بھی تھے۔ پہاڑ حرکت کرنے لگا تو آپ نے اس پر قدم مبارک مار کر فرمایا کہ اے احد ٹھہر جا اس وقت تیرے اوپر ایک نبی ہے اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ( یعنی حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ ۔ (رواہ البخاری) اس میں حضرت ابوبکر ؓ کو صدیق فرمایا اور باقی دو حضرات کے شہید ہونے کی پیشین گوئی فرمائی بڑے درجہ کے مومنین صالحین کو صدیقین کی معیت نصیب ہوگی اس بارے میں بعض خصوصی اعمال کا تذکرہ بھی حدیث شریف میں مذکور ہے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سچا امانت دار تاجر نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (رواہ الترمذی فی البیوع) سورة مریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں ﴿ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا 0041﴾ فرمایا ہے اور سورة المائدہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو صدیقہ بتایا ہے ﴿ وَ اُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ ﴾ معلوم ہوا ہے کہ صدیقیت میں فرق مراتب ہے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی تھے ان پر ایمان لانے والے بھی صدیق تھے (اور ان میں فرق مراتب تھا) اور عامۃ المسلمین بھی صدیق ہیں کیونکہ کمال تصدیق کے بغیر کوئی مومن ہو ہی نہیں سکتا۔ سورة نساء کی آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والوں کے لیے صدیقین، شہدا اور صالحین کے ساتھ ہونے کی جو خوشخبری دی ہے اس سے اونچے درجے کے صدیقین اور شہداء اور صالحین مراد ہیں۔ شہداء سے کون حضرات مراد ہیں ؟ یہاں سورة الحدید میں شہداء سے کون لوگ مراد ہیں اس کے بارے میں دو قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان سے جہاد اور قتال کے موقع پر شہید ہونے والے مراد ہیں ان کے بڑے اور بلند درجات ہونے کو سبھی جانتے ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ شہداء سے بمعنی شاہدین یعنی گواہی دینے والے مراد ہیں قیامت کے دن بہت سی گواہیاں ہوں گی ہر نبی اپنی امت کے بارے میں گواہی دے گا سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ حضرت انبیائے کرام کے بارے میں گواہی دیں گے کہ واقعی انہوں نے تبلیغ کی تھی اور امت محمدیہ بھی اس بات کی گواہی دے گی کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے تبلیغ کی اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے کہ یہ سچے ہیں ان کی گواہی صحیح ہے اس کی تفصیل سورة بقرہ، سورة نساء اور سورة الحج میں گزر چکی ہے۔ ان گواہیوں کے علاوہ دوسری گواہیاں بھی ہوں گی اور گواہی دینے والوں کو اس فضیلت سے نوازا جائے گا کہ وہ میدان آخرت میں دوسرے لوگوں کے خلاف گواہ بن کر آئیں گے۔ جب اللہ نے اتنی بڑی فضیلت دی ہے کہ قیامت کے دن گواہی دینے والے بنیں گے تو اپنے اس مرتبہ کی لاج رکھیں اور ان چیزوں سے پرہیز کریں جو مقام شہادت سے محروم کرنے کا ذریعہ بنیں۔ حضرت ابو درداء ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ لعنت کی کثرت کرنے والے قیامت کے دن نہ شہداء ہوں گے نہ شفعاء ہوں گے (یعنی ان کو نہ گواہی دینے کا مرتبہ ملے گا نہ گنہگاروں کو بخشوانے کے لیے شفاعت کرنے کا مقام دیا جائے گا) دونوں چیزوں سے محروم رہیں گے۔ (رواہ مسلم صفحہ 322: ج 2) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صدیق کے لیے لعان ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ (رواہ مسلم صفحہ 622: ج 2) یعنی صدیق کو اپنی زبان محفوظ رکھنی چاہیے تجھ مجھ پر انسانوں پر جانوروں، شاگردوں پر لعنت بھیجتا رہے یہ صدیق کا کام نہیں (بچوں کے بہت سے استاد اس میں مبتلا ہیں) قال البغوی فی معالم التنزیل اختلفوا فی نظم ھذہ الایة منھم من قال : ھی متصلة بما قبلھا والو او واؤ النسق، واراد بالشھداء المومنین المخلصین، وقال الضحاک : ھم الذین سمیناھم۔ وقال مجاھد : كل مومن صدیق وشھید، وتلا ھذہ الایة وقال قوم : تم الکلام عند قولہ : (ھم الصدیقون) ثم ابتدا فقال : والشھداء عند ربھم، والو اؤ واؤ الاستناف، وھو قول ابن عباس ومسروق وجماعة، ثم اختلفوا فیھم فقال قوم ھم الانبیاء الذین یشھدون علی الامم یوم القیامة، یروی ذلک عن ابن عباس وھو قول مقاتل بن حبان۔ وقال مقاتل بن سلیمان : ھم الذین استشھدوا فی سبیل اللہ (لھم اجرھم) بما عملوا من العمل الصالح (ونورھم) علی الصراط۔ آیت کے ختم پر فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ (رح) 0019﴾ جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ لوگ دوزخ کے عذاب میں ہوں گے) ۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

تم خوب جان لو کہ دنیوی زندگی محض لہود لعب اور زینت اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال اور اولاد میں ایک دوسرے سے اپنے کو زیادہ بتانا ہے جیسے بارش ہے کہ اس کی پیداوار کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر وہ خشک ہوجاتی ہے سو اے مخاطب اس کو تو زرد ہونے کی حالت میں دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے، اور آخرت میں عذاب شدید ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ہے، اور دنیاوی زندگی محض دھوکہ کا سامان ہے

دنیاوی زندگی لہو ولعب ہے، اور آخرت میں عذاب شدید اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا مندی ہے ان آیات میں دنیا کی حالت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ دنیا والی زندگی لہو ولعب ہے اور ظاہری زینت ہے، ٹیپ ٹاپ کی وجہ سے نظروں کو بھاتی ہے اور نفوس کو بھلی لگتی ہے، جن کے پاس زیادہ دنیا ہو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کرتے ہیں اور اموال واولاد کی کثرت پر مقابلہ کرتے ہیں، تفاخر اور تکاثر ان چیزوں کے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہونے نہیں دیتا جسے سورة تکاثر میں بیان فرمایا ہے : ﴿اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ001 حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ002﴾ کثرت پر مقابلہ کرنا تم کو غافل رکھتا ہے یہاں تک کہ قبرستان میں پہنچ جاؤ گے) ۔ دنیا کی ظاہری تھوڑی سی تھوڑے دن کی نظروں میں بھانے والی زندگی کی ایک مثال بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ دیکھو تمہارے سامنے بارشیں ہوتی ہیں۔ ان سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے، کھیتی اگتی ہے، پودے نکلتے ہیں، گھاس پھونس پیدا ہوتا ہے ہری بھری زمین دیکھنے میں بڑی اچھی لگتی ہے، کاشتکار اسے دیکھ دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں، کچھ دن ہری بھری رہنے کے بعد وہ پیلی پڑجاتی ہے پھر خشک ہوجاتی ہے، ہرا رنگ ختم ہوجاتا ہے، زردی آجاتی ہے، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے، جو اس کھیتی کا انجام ہوتا ہے (کہ اخیر میں چورا ہوکر رہ جانا) دنیا کی یہی حالت ہے، دنیا والوں کو دنیا بہت مرغوب اور محبوب ہے لیکن اس کے انجام کی طرف سے غافل ہیں، حرام سے حلال سے دھوکہ سے فریب سے، خیانت سے، چوری سے، لوٹ مار سے، اور طرح طرح کے حیلوں سے دنیا کماتے ہیں اور جمع کرکے رکھتے ہیں، اگر مال حلال بھی ہو تو اس میں سے فرائض واجبات ادا نہیں کرتے، نوٹوں کی گڈیاں مرغوب ہیں، بھری ہوئی تجوریاں محبوب ہیں، بہت کم بندے ہیں جو کمانے اور خرچ کرنے میں حلال کا خیال کرتے ہیں اور اس بارے میں گناہوں سے بچتے ہیں، عموماً لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ کسب دنیا کو اپنے لیے وبال ہی بنا لیتے ہیں اور آخرت کے سخت عذاب کو اپنے سر لے لیتے ہیں اسی کو فرمایا ﴿ وَ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ1ۙ ﴾ (اور آخرت میں سخت عذاب ہے) ان کے برخلاف وہ بندے بھی ہیں، جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں حرام سے بچتے ہیں حلال کماتے ہیں۔ (اگرچہ تھوڑا سا ہو) حلال ہی کے مواقع میں خرچ کرتے ہیں اور آخرت کے اجور اور ثمرات کے لیے اپنی جیب اور تجوری سے مال نکالتے ہیں ان کا مال ان کے لیے مغفرت کا اور اللہ کی رضا مندی کا سبب بن جاتا ہے، یہ وہ مبارک بندے ہیں جنہوں نے فانی دنیا کو اپنی باقی رہنے والی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنالیا، اسی کو فرمایا ﴿ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ1ؕ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 0020﴾ (اور دنیا والی زندگی محض دھوکہ کا سامان ہے) یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے نہ یہ زندگی باقی رہے گی نہ اس کا کمایا ہوا اسباب و سامان باقی رہے گا جس نے اس پر بھروسہ کیا باقی رہنے والی آخرت سے غافل ہوا وہ آخرت میں مارا گیا سمجھدار بندے وہی ہیں جو اس سے دل نہ لگائیں۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

تم اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے وہ ان لوگوں کے واسطے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اسکے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ اللہ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہے عنایت فرمائے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور جنت کی طرف مسابقت کرنے کا حکم : پھر جب یہ دنیا فانی بھی ہے اور دنیاوی مال ومتاع دھوکہ کا سامان بھی ہے تو سمجھداری اسی میں ہے کہ اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑیں اور اس کی رضا مندی کے لیے عمل کریں۔ ارشاد فرمایا ﴿ سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسان و زمین کی وسعت کے برابر ہے) ۔ ﴿ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ 1ؕ﴾ (یہ جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور ان کے رسولوں پر ایمان لے آئے) ۔ ﴿ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ 1ؕ﴾ (یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا فرمائے) ﴿ وَ اللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 0021﴾ (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) سَابِقُوْۤا فرما کر یہ فرمایا کہ آپس میں مسابقت رکھو یعنی اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور جنت حاصل کرنے کے لیے خوب دوڑ دھوپ کرو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھو اعمال آخرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا مندوب اور محبوب ہے کیونکہ اس میں کسی فریق کو نقصان نہیں ہوتا ہر شخص کو اللہ اپنے ایمان کا اور اعمال صالحہ کا اجر عطا فرمائے گا۔ کسی کی محنت میں سے کٹوتی کر کے کسی دوسرے کو ثواب نہیں دیا جائے گا ہر شخص اپنا اپنا ثواب لے گا، ہاں اعمال میں اخلاص ہو ریا کاری کا جذبہ نہ ہو۔ یہاں سورة الحدید میں سابقوا (ایک دوسرے سے آگے بڑھو) فرمایا اور سورة آل عمران میں سارعوا فرمایا ہے جس کا معنی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں جلدی کرو، اس میں یہ بتا دیا کہ اعمال صالحہ میں دیر نہ لگاؤ، جو نیک کام کرسکتے ہو کر گزرو آج کا کام کل پر نہ ڈالو، نفس و شیطان سمجھائے گا کہ یہ کام کل کو کرلیں گے ان دونوں کی بات نہ مانو اعمال صالحہ میں جلدی کرو آگے بڑھو، موقع اور فرصت کے مطابق عمل خیر کرتے رہو کار خیر ابھی کرلو پھر کل کو بھی کرلینا، یہاں ﴿عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ ﴾ فرمایا ہے اور سورة آل عمران میں ﴿ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ ﴾ فرمایا ہے انسانوں کے سامنے چونکہ آسمان و زمین میں ہی طول و عرض کے اعتبار سے سب سے بڑی چیز ہے اس لیے جنت کی وسعت بتانے کے لیے تقریب الی الفھم کے طور پر ارشاد فرمایا کہ جنت کی چوڑائی ایسی ہے جیسے آسمان و زمین کی چوڑائی ہے ورنہ جنت تو بہت بڑی چیز ہے حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں سارے جہاں اگر ان میں سے ایک درجہ میں جمع ہو جائی تو سب کے لیے کافی ہوگا۔ (رواہ الترمذی) اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ادنیٰ جنتی کو جو جنت دی جائے گی اسے پوری دنیا اور اس جیسی دس گنا وسیع جنت عطا کی جائے گی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 492: عن البخاری و مسلم) جنت ایمان والوں کے لیے تیار کی گئی ہے : اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ 1ؕ (جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر) اس میں یہ بتادیا کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول نہ کیا رسولوں کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان نہ لائے ایسے لوگ جنت سے محروم ہوں گے اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے خواہ کسی رسول کے امتی ہوں سب جنت کے مستحق ہیں۔ ﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ 1ؕ ﴾ (یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے) ﴿ وَ اللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 0021﴾ (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) اس میں یہ واضح فرما دیا کہ جن لوگوں کو جنت دی جائے گی یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا اپنا ذاتی استحقاق کسی کا نہیں ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنے اعمال پر مغرور نہ ہو۔ ایمان کی دولت سے نوازنا بھی اسی کی مہربانی ہے پھر اعمال کو قبول کرنا بھی فضل ہے اور جنت عطا فرمانا بھی فضل ہے۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ خاص تمہارے جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم ان کو پیدا کریں، یہ اللہ کے نزدیک آسان ہے

جو بھی کوئی مصیبت پیش آتی ہے اس کا وجود میں آنا پہلے سے لکھا ہوا ہے دنیا میں انسان آیا ہے محض زندگی گزارنے کے لیے نہیں آیا بلکہ وہ امتحان اور ابتلاء میں ڈالا گیا، سورة الملک میں فرمایا ﴿ا۟لَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ (اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل والا ہے) جب امتحان میں ڈالے گئے ہیں تو ان چیزوں کا پیش آنا بھی ضروری ہے جو امتحان کا ذریعہ بن سکیں امتحان والی دو چیزیں ہیں۔ اول دولت اور نعمت اور آرام و راحت دوم مشکلات و مصائب اور ناگوار چیزیں، جب پہلی چیز یعنی خوش عیش زندگی ملتی ہے تو بہت سے انسان اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اعمال صالحہ چھوڑ کر دنیا ہی میں مست رہنے لگتے ہیں، گزشتہ آیات میں تنبیہ فرمائی کہ دنیا لہو ولعب ہے فخر بازی ہے اور مال و اولاد کی کثرت پر مقابلہ کرنے کا سبب ہے لیکن یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے جیسے کھیتی ہری بھری ہوتی ہے کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ پیلی ہوتی ہے پھر خشک ہوجاتی ہے پھر بھوسہ بن جاتی ہے لہٰذا اس میں لگنا سمجھداری نہیں ہے آخرت کی فکر کرنا لازم ہے دوسری چیز مصیبت اور تکلیف ہے اس کے بارے میں ان آیات میں بتادیا کہ جو بھی کوئی مصیبت پہنچ جائے وہ واقع ہونی ہی ہے کیونکہ خالق کائنات جل مجدہ نے اس کے پیدا فرمانے سے پہلے ہی لکھ دیا تھا وہ ایک کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے یہ مصیبت خواہ زمین میں ہو مثلاً قحط پڑنا، زلزلہ آنا، کھیتوں میں پالا پڑجانا، ٹڈی کا کھا جانا، بارش کے بہاؤ میں بہہ جانا وغیرہ یا جو تمہاری جانوں میں مصیبت آتی ہو مثلا مرض لاحق ہوجانا خم ہوجانا لنگڑا لولا اندھا بہرہ ہوجانا وغیرہ وغیرہ یہ سب لکھا ہوا ہے لوح محفوظ میں محفوظ ہے ان کا وجود ہونا اور درپیش ہونا لازم ہے، خالق کائنات جل مجدہ نے جب قطعی طور پر طے فرما دیا ہے کہ ایسا ہونا ہی ہونا ہے تو ہو کر رہے گا اس کی وجہ سے اپنے پیدا کرنے والے سے غافل ہوجانا اور اس کے ذکر اور عبادت سے منہ موڑ لینا سمجھدار بندوں کا کام نہیں۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر رنج نہ کرو اور جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے اس پر اتراؤ نہی، اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے شیخی باکو پسند نہیں کرتا،

جو کچھ فوت ہوگیا اس پر رنج نہ کرو : ﴿لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ ﴾ ای اخبرنالکم بذلک لا تاسوا (الخ) یعنی تمہیں اس بات کی خبر دے دی گئی ہے تاکہ تم یہاں تکلیف اور مصیبت اور نقصان و خسران پر توجہ نہ دو اور حسرت اور افسوس میں مبتلا نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے سے روک دے اور اعمال آخرت سے ہٹا دے جو مصیبت آتی ہے وہ آنی ہی تھی اس کا یقین ہو تو طبعی رنج ہوسکتا ہے عقلی طور پر رنج نہ ہو (طبعی رنج پر مواخذہ نہیں) اپنے اختیار سے اس میں لگا رہنا اور اس کو بڑھاتے چلے جانا اور ایسی باتیں کرنا جن سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہو یہ ممنوع ہے۔ جو کچھ مل گیا اس پر اتراؤ مت : ﴿وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ ﴾ (اور تاکہ تم ان چیزوں پر نہ اتراؤ جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہیں) کیونکہ جو کچھ ملا ہے وہ مقدر ہے تمہارا کوئی استحقاق نہیں۔ جب ذاتی استحقاق نہیں تو اترانے اور مستی دکھانے کا کیا حق ہے ؟ دکھ اور تکلیف اور آرام اور راحت تو سبھی کو پیش آتا ہے لیکن مومن بندے صبر اور شکر کے ذریعہ دونوں کو نعمت بنا لیتے ہیں، حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن کا عجیب حال ہے جو اس کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے اگر اس کو خوش کرنے والی حالت نصیب ہوجاتی ہے تو شکر کرتا ہے یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے ضرر دینے والی حالت پیش آجائے تو صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ متکبر اور بخیل کی مذمت : ﴿وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ0023﴾ (اور اللہ پسند نہیں فرماتا ہر ایسے شخص کو جو تکبر کرنے والا فخر کرنے والا ہو) ﴿ا۟لَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ ﴾ (جو لوگ بخل کرتے ہیں) ﴿وَ يَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ 1ؕ﴾ (اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں) جن لوگوں کو کوئی دولت اور نعمت مل جاتی ہے اور دنیاوی اعتبار سے خوش نصیب ہوجاتے ہیں ان میں بہت سے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اس نعمت کو تکبر کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو حقیر جاننے لگتے ہیں اور دوسروں کے مقابلہ میں فخر بھی کرنے لگتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرما دی کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے نہیں ہیں۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو ایسے ہیں کہ خودبھی بخل کرتے ہی اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو شخص اعراض کریگا تو اللہ تعالیئٰ بےنیاز ہے سزا وار حمد ہے۔

چونکہ مال پر فخر کرنے والے مال سے محبت بھی کرتے ہیں اور یہ محبت ان کو کنجوسی پر آمادہ کرتی ہے اس لیے ﴿ا۟لَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ ﴾ بھی فرمایا کہ یہ لوگ بخل کرتے ہیں (جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض چیز ہے) ﴿وَ يَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ 1ؕ﴾ (اور یہی نہیں کہ خود بخل کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو بھی خرچ نہیں کرنے دیتے انکو بھی خیر کے کاموں میں خرچ کرنے سے منع کرتے ہیں دوسرے لوگ اگر اپنا مال اللہ کی رضا کے لیے خرچ کریں تو اس سے بھی کنجوس آدمی کا دل دکھتا ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ اس کا مال مجھے نہیں مل جائے گا پھر بھی خیر کے کاموں میں خرچ کرنے سے روکتے ہیں بعض اہل خیر کو دیکھا گیا ہے کہ ہ اپنے کیشیئر اور خزانچی سے کہہ کر چلے گئے کہ فلاں مدرسے کا جو سفیر آیا ہے اس کو اتنے روپے دے دو ، کیشیئر نے تجوری سے روپے تو نکال لیے لیکن اس کی انگلیاں نوٹ چھوڑنے کو تیار نہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا دکھے دل سے آگے بڑھا رہا ہے حالانکہ مال دوسرے کا ہے جو فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم دے چکا ہے۔ ﴿وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 0024 ﴾ (اور جو شخص روگردانی کرے اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے کیونکہ وہ غنی ہے محمود ہے) ہمیشہ لائق حمد ہے کسی کے خرچ کرنے نہ کرنے سے اسے کوئی نفع یا ضرر نہیں پہنچتا جو بخل کرے گا اپنا ہی برا کرے گا اور جو اللہ کے لیے خرچ کرے گا اس کا اجر وثواب پالے گا۔