Ayah 57:1[ 1] تسبیح کا معنی و مفہوم :
تسبیح کا اصل مفہوم ہے تنزیہ، یعنی وہ وحدہٗ لاشریک ہر شائبہ و نقص و عیب سے پاک ہے۔ اور وہ اس سے بھی پاک اور اعلیٰ وبالا ہے کہ کوئی بھی ہستی کسی بھی درجے میں اس کی شریک اور سہیم ہو۔ سو ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر اس چیز سے جو اس کی شان اقدس اعلیٰ کے لائق نہ ہو، خواہ وہ کوئی قول ہو یا فعل، نیز وہ پاک ہے ہر قسم کے شرک اور شائبہ شرک سے، نیز وہ پاک ہے اس سے کہ اس نے اس کاینات کو عبث و بےکار بنایا ہو، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہ ہر نقص و عیب اور قصور و کوتاہی سے پاک ہر خوبی کا مالک ہے، تبارک و تعالیٰ ، سو تسبیح میں نفی اور سلب کا پہلو نمایاں ہوتا ہے یعنی وہ ہر قسم کے نقص و عیب اور ہر شائبہ شرک و ریب سے پاک ہے اور حمد میں اثبات و وجود کا پہلو نمایاں ہوتا ہے، یعنی وہ ہر حمد و خوبی کا مستحق و سزاوار اور اس موصوف و متصف ہے، اسلئے سبحان اللّٰہ وبحمدہ میں یہ دونوں ہی چیزیں یکجا موجود ہیں، اور یہ صرف اسی وحدہٗ لاشریک کی شان اقدس واعلیٰ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ پس اس میں بندوں کیلئے یہ درس عظیم ہے کہ وہ بھی ہمیشہ اس کی تسبیح و تمہید میں مشغول اور اس سے رطب اللسان رہیں۔ کہ یہ اس خالق کل اور مالک مطلق کا اس کے بندہ برحق بھی ہے اور اسی میں ضرور ان کا بھلا بھی ہے، دنیا و آخرت دونوں میں، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 2] ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو اسی حقیقت کی تصریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ زمین و آسمان کی سب مخلوق اس کی پاکی بیان کرتی ہے یعنی ساری مخلوق اور پوری کائنات اس کی تسبیح و تمہید میں محوو منہمک ہے خواہ لسان حال سے یا لسان قال سے، جل وعلا شانہ، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { تسبح لہ السموت السبع والارض ومن فیھن ط وان من شییئٍ الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم ط انہٗ کان حلیما غفورا۔} [ بنی اسرائیل : 44 پ 15] یعنی اسی کے لیے تسبیح کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری مخلوق جو ان کے اندر پائی جاتی ہے اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے بلاشبہ وہ بڑا ہی بردبار اور نہایت ہی درگزر کرنے والا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کے جو بندے اس کی تسبیح و تمہید سے سرشار ہوتے ہیں، ان کو ساری کائنات کے ساتھ ہم آہنگی نصیب ہوتی ہے جس سے ان کی زندگی مبارک و مسعود بن جاتی ہے وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 3] اللہ تعالیٰ بڑا ہی زبردست ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے بڑا زبردست۔ ایسا زبردست کہ وہ جو چاہے کرے اس کے آگے نہ کسی کی چل سکتی ہے، اور نہ کوئی اس میں رکاوٹ بن سکتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو سچی اور حقیقی عزت اسی کو مل سکتی ہے جو صدق دل سے اس کا بن جائے، اللہ توفیق بخشے آمین، اور جو کوئی اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ سے منہ موڑے گا وہ کہیں بھی عزت نہیں پاس کے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے مشرکین کے بہت سے مشرکانہ تصورات و خیالات کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ والحمد اللہ جل وعلا۔ بہرکیف یہ ایک اٹل اور بنیادی حقیقت ہے کہ سچی اور حقیقی عزت انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور انہی کو نصیب ہوسکتی ہے جو ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے سرشار ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ صحیح تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وللّٰہ العزۃ ولرسولہٖ وللمؤمنین }
[ 4] وہ نہایت ہی حکمت والا ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور حصر و قصر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ نہایت ہی حکمت والا ہے۔ پس اس کا ہر کام انتہاء درجے کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے، خواہ کسی کی اس تک رسائی ہو سکے یا نہ ہوسکے، اور کوئی اس کو جان سکے یا نہ جان سے۔ جل جلالہ وعم نوالہ۔ اور جب عزیز و حکیم وہی وحدہٗ لاشریک ہے اس کے سوا یہ دونوں صفتیں اور کسی میں بھی نہیں پائی جاسکتیں تو پھر معبود برحق بھی ہی وحدہٗ لاشریک ہے، اس کے سوا اور کوئی بھی معبود نہیں ہوسکتا اور ہر تعریف کا حقدار بھی وہی ہے، اور اس کے کلام حکمت نظام کا بھی کوئی مثل اور متبادل نہیں ہوسکتا، اور وہی کلام منبع حکمت اور مصدر عزت ہے۔ پس جو لوگ اس وحدہٗ لاشریک اس کے رسول کریم ﷺ اور اس کی کتاب عزیز پر سچا پکا ایمان و یقین رکھتے ہیں وہی اصل حقیقی اور سچی عزت و عظمت اور دولت حکمت سے سرفراز سرشار ہیں اور اس کے برعکس جو اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں وہ بہرحال آپ حقیقی عزت و عظمت اور حکمت و دانش سے محروم اور طرح طرح کے اندھیروں میں مستغرق ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال۔
Ayah 57:2[ 5] اسی کی بادشاہی ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی یعنی اس پوریکائنات کی بادشاہی۔ کہ اس کی بادشاہی حقیقی ابدی دائمی اور کامل ہے، اور یہ اسی کی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی صفت و شان ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، سو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں دوسرا کوئی بھی نہ اسکا شریک ہے، نہ ہوسکتا ہے سبحانہ وتعالیٰ ، اور مخلوق میں سے جس کو بھی اس دنیا میں کوئی عارضی اور وقتی بادشاہی ملتی ہے وہ سب اسی کی عطا و بخشش سے ملتی ہے اور وہ بھی اسباب کے درجے میں، کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب۔ پس جن لوگوں نے اسباب کے خلاف مردہ ہستیوں کے نام سے جو مختلف " سرکاریں " طرح طرح کے فرضی ناموں سے بنا رکھی ہیں وہ سب سراسر خرافات اور شرکیات کا پلندہ ہے۔ " والعیاذ باللّٰہ العظیم " پس کائنات پوری میں بادشاہی اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، حاکم حقیقی بھی وہی ہے اور مالک و ملک بھی وہی۔ جل جلالہ۔
[ 6] زندگی اور موت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ پس اس کی مخلوق میں سے کسی کے بارے میں بھی زندگی اور موت بخشنے کی یہ صفت ماننا شرک ہوگا، جیسا کہ بعض جاہل کلمہ گو کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں بزرگ یا قبر یا آستانے کی توہین کی تو اس نے اس کو مار دیا، وغیرہ وغیرہ، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو زندگی بخشنے اور موت دینے کے تمام اختیارات اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں، اور یہ اختیار جب اس کے سوا اور کسی کے اختیار میں بھی قبضہ نہیں تو پھر معبود برحق بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے سوا کسی بھی دوسری ہستی سے زندگی بخشنے کی توقع رکھنا یا موت سے ڈرنا نری حماقت اور جہالت ہے۔ کہ زندگی اور موت کے سب اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں، سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 7] اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس وہ چاہے اور جیسا چاہے کرے، اور اس کے سوا اور کسی کی بھی یہ شان نہیں ہوسکتی، بلکہ باقی سب عاجز ہیں خواہ وہ کوئی بھی ہوں، اور کہیں کے بھی ہوں، کہ قادر مطلق وہی وحدہ لاشریک ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، وہ جو چاہے، جب چاہے، اور جیسا چاہے کرے، نہ اس کیلئے کوئی مشکل، اور نہ کوئی رکاوٹ، اور اس کی شان کن فیکون کی شان ہے، اور جب یہ شان اس کے سوا کسی کی بھی نہیں ہوسکتی، تو پھر معبود برحق بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا، سو اس پوری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 57:3[ 8] وہی اول ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
ہر چیز سے، کہ جب کچھ نہیں تھا وہ تھا اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں تھا، بحانہ و تعالیٰ ، سو احاطہء قدرت کے ذکر وبیان کے بعد اب یہ اس کے احاطہ علم کا بیان فرمایا ہے س اس کی قدرت بھی کامل اور اس کا علم بھی محیط اور کامل ہے، سبحانہ وتعالیٰ ہر چیز کا آغاز اسی نے فرمایا اور ہر چیز کا وجود اسی کی شان عطا و بخشش کا رہین منت ہے۔ پس سب خالق ومالک اور حاکم و متصرف وہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فایاہ نعبدہ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین جل جلالہ وعم نوالہ۔
[ 9] اور وہی آخر ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
کہ وہ جس طرح ہمیشہ سے ہے اسی طرح ہمیشہ کیلئے رہے گا، سو سب سے آخر میں جب کچھ بھی باقی نہ رہے گا وہ موجود ہوگا کہ وہ ازلی و ابدی ہے۔ عزوجل، اسی نے ہر چیز کا آغاز کیا اور اسی کی طرف ہر چیز کو لوٹنا ہے جب کچھ نہیں تھا وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہوگا وہ ہوگا اور یہ شان اس وحدہٗ لاشریک ہی کی ہے، اور اسی کی ہوسکتی ہے، اس کے سوا کوئی اور ایسی ہستی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے پس معبود برحق بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا، یہیں سے معرفت خداوندی اور عقیدہ توحید کے بارے میں دو اہم اور بنیادی حقیقتیں بھی واضح ہوجاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت سے سرفرازی کا ذریعہ اس کے اسماء وصفات میں ہیں، اور دوسری یہ کہ قرآن حکیم کے سوا عقیدہ توحید کی دولت اور کہیں سے ملنا ممکن نہیں، کیونکہ ایسی مقدس تعلیمات کا اور کوئی ماخذ ہے ہی نہیں۔ پس جو لوگ اس کتاب حکیم کے نور سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں میں ہیں، وہ اپنے آپ کو خواہ کچھ بھی سمجھتے ہوں اور علم و ہنر اور روشن خیالی کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں لیکن حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ وہ سراسر اندھیروں میں ڈوبے ہوئے اور نور حق و ہدایت سے محروم اور بےبہرہ ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔
[ 10] وہی ظاہر ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
اپنی قدرت کے آثار و مظاہر کے اعتبار سے، اور اس طور پر اس حد تک کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور پتہ پتہ اس کے وجود باجود اور اس کی وحدانیت مطلقہ کی پکار پکار کر گواہی دے رہا ہے، جل جلالہ وعم نوالہٗ ، سو یہ کائنات پوری اور اس کے اندر موجود اور پائی جانے والی ہر چیز اپنی زبان حال سے اس کی گواہی دے رہی ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ جیسا کہ کہا گیا۔ وفی کل شیء لہ شاھد۔ یدل علی انہ واحد۔ یعنی ہر چیز میں ایک شاہد اور گواہ موجود ہے جو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ وہ واحد اور یکتا ہے، نہ اس کی ذا ات وصفات میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہوسکتا ہے اور نہ اس کے حقوق و اختیارات میں، اور جیسا کہ کہا گیا کہ ہر گیا ہے کز زمین روید۔ وحدہٗ لاشریک می گوید۔ یعنی ہر پودا جو زمین سے اگتا ہے وہ وحدہٗ لاشریک کہتا ہوا اگتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 11] اور وہی باطن ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
اپنی حقیقت اور کہنہ ذات کے اعتبار سے، کہ وہ انسانی عقل و ادارک کے احاطہ سے وراء الوراء ہے، سبحانہ وتعالیٰ اور اس کی شان قدس ہے، لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر یعنی نگاہیں اسکا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہی احاطہ کرتا ہے نگاہوں کا، اور وہی ہے انتہائی باریک بین بڑا ہی باخبر۔ اور نبیء اکرم ﷺ نے اس مضمون کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے۔ انت الاول فلیس قبلک شیئ، وانت الآخر فلیس بعدک شیئ، وانت الظاھر فلیس فوقک شیئ، وانت الباطن فلیس دونک شیء [ رواہ احمد والترمذی وغیرہ ] یعنی تو ہی پہلا ہے تجھ سے پہلے کوئی نہیں، اور تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، اور " تو ہی " اے ہمارے مالک ! ایسا ظاہر ہے کوئی چیز تجھ سے اوپر نہیں، اور " تو ہی " ایسا باطن ہے کہ کوئی چیز تجھ سے اوجھل نہیں، سبحانہ وتعالیٰ ، سو شان ظہور میں بھی کمال، اور شان خفا میں بھی کمال۔ یہ اسی وحدہٗ لاشریک کی شان بےمثال ہے، سبحانہ وتعالیٰ [ لیس کمثلہٖ شیئٌ وھو السمیع البصیر ] دوسری کوئی ہستی ایسی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے جو اس شان اقدس اوعلیٰ کا کوئی شمہ بھی اپنے اندر رکھتی ہو، پس معبود برحق وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 12] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور وہی ہے جو چیز کو پوری طرح جانتا ہے، اور اس کے سوا اور کوئی اگر کسی چیز کو جانے گا بھی تو اس صرف کے ظاہری اور مادی پہلو کے اعتبار ہی سے جانے گا، اور وہ بھی اس کے کچھ ہی پہلوؤں کے لحاظ سے اور بس۔ ارشاد ہوتا ہے { یعلمون ظاھراً من الحیوۃ الدنیا وھم عن الاخرۃ ہم غفلون } [ الروم : 7 پ 21] یعنی لوگ دنیاوی زندگی کے ظاہری پہلو ہی کو جانیں گے اور یہ آخرت سے غافل اور بیخبر ہیں، جبکہ وہ ہر چیز کو اس کے ظاہرو باطن اور حال ومآل ہر اعتبار سے جانتا ہے اور ایک برابر جانتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، سو ہر چیز کو جاننا اور ہر اعتبار سے اور پوری طرح جاننا اسی وحدہٗ لاشریک کی شان امتیاز اور صفت انفراد ہے دوسری کوئی بھی ایسی ہشتی نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے جو ہر چیز کو ہر اعتبار سے جانتی ہو اور یہ اس لیے کہ وہی ہر چیز کا خالق اور موجد ہے اور خالق کا اپنی مخلوقات میں سے ہر چیز کو جاننا اور اس کے ہر پہلو سے اور پوری طرح جس نے پیدا کیا جبکہ وہ بڑا ہی باریک بین اور پوری طرح باخبر ہے ؟ " پس اس سے کوئی بھی چیز مخفی نہیں ہوسکتی، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 57:4[ 13] کائنات کی تخلیق چھ دنوں میں، اور اس سے مقصود و مراد ؟:
کائنات کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر اور نمونہ ہے سو اس کی عظمت کی وضاحت مزید کے طور پر تخلیق کائنات کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں۔ یعنی اتنی مقدار وقت میں، کیونکہ آسمان و زمین کی تخلیق سے قبل یہ معروف دن تو تھے ہی نہیں، اور ہوسکتے ہیں نہیں تھے، کیونکہ ان کا وجود تو سورج کے طلوع و غروب سے وابستہ ہے، اور وہ زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل متصور ہی نہیں، اور ان چھ دنوں کی حقیقت کا پورا اور صحیح علم بھی اسی وحدہ لاشریک ہی کو ہے، اسی لئے حضرات اہل علم ان کو چھ خدائی دنوں سے تعبیر کرتے ہیں اب وہ خدائی کیسے نہیں تو اس کا احاطہ وعلم بھی اللہ تعالیٰ ہی کو ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ پھر اس مقدار وقت میں جو حکمتیں پوشیدہ ہیں ان کا ادراک و احاطہ بھی وہی وحدہٗ لاشریک کرسکتا ہے، ورنہ اس کی قدرت لامتناہی تو کسی وقت کی محتاج نہیں، کہ اس کی شان تو " کن فیکون " کی شان ہے، وہ اگر چاہے تو لمحہ بھر کے اندر ایسے لاکھوں کروڑوں آسمان و زمین بنا دے، کہ اس کا معاملہ اسباب و وسائل کا محتاج نہیں، بلکہ وہاں صرف حکم دینا ہوتا ہے اور بس جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا، { انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون } [ یٰسین : 82 پ 23] یعنی وہ جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ فرما دیتا ہے تو اسے اس کیلئے صرف کُنْ کہنا ہوتا ہے یعنی ہوجائے تو اس کے نتیجے میں وہ کام ہوچکا ہوتا ہے بہرکیف تخلیق کائنات کے اس ذکر وبیان سے حضرت حق جل مجدہ کی مذکور بالا صفات کی مزید وضاحت ہوجاتی ہے۔ وہ کیسی عظیم الشان قدرت و حکمت، رحمت و عنایت، اور عطاء و بخشش والا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، فایاہ نعبد وبہ نستعین جل جلالہ وعم نوالہ۔
[ 14] کائنات میں حاکم و متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ مستوی ہوا عرش پر۔ جیسا کہ اس کی شان اقدس واعلیٰ کے لائق ہے بغیر کسی تمثیل و تکییف کے سو اس سے اس کے احاطہئِ علم وقدرت کی مزید تفصیل بیان فرما دی گئی اور یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے کے بعد ایسا نہیں کہ ان کا انتظام وہ دوسروں کے حوالے کرکے خود الگ ہو بیٹھا ہو، سو انہیں ایسا بلکہ اس کے بعد وہ خود عرش پر جلوہ فرما ہوا اور اس سارے کارخانہء ہست و بود کی دیکھ بھال وہ خود ہی کرتا ہے اور اس کا سارا نظام وہ اپنے حکم و ارشاد سے خود چلاتا ہے سو اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے واحد و یکتا ہے۔
[ 15] زمین میں اترنے والی ہر چیز اس کے علم میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ داخل ہوتا ہے زمین میں۔ بارش کے قطرے، پانی کے سوتے، اشیاء کے بیج، اور مردے وغیرہ وغیرہ، سو یہ اس کے کمال علم کی مزید وضاحت ہے کہ وہ نہایت باریک بینی اور جزرسی کے ساتھ اپنی مملکت کی دیکھ بھال کرتا اور اس کا نظام چلاتا ہے، اس کی مملکت کی کوئی چیز اس سے مخفی اور اوجھل نہیں ہے، زمین میں جو کچھ داخل ہوتا ہے وہ اس کی ایک ایک چیز کو جانتا ہے، سبحانہ وتعالیٰاور یہ کہ زمین پر اترنے والی یہ چیز کہاں اور کس حال میں ہے۔ اس کو وہ پوری طرح جانتا ہے اور جب اس کی اس صفت میں کوئی شریک وسہیم نہ ہے نہ ہوسکتا ہے تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں بھی کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہوسکتا۔ پس معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ، جل وعلا۔
[ 16] زمین سے نکلنے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا یہ وہ سب کچھ بھی جو کہ اس سے نکلتا ہے۔ یعنی طرح طرح کی کھیتیاں، انگوریاں، پھل، پھول، ہیرے جواہر، اور کانیں، وغیرہ وغیرہ، سو یہ سب کچھ اس کے علم میں ہے اس میں سے کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس وہ صرف کلیات کا عالم نہیں بلکہ کلیات کی طرح جزئیات بھی اس کے علم میں ہیں۔ سو یہ اس کے کمال علم کا ایک پہلو ہے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے، اور پوری طرح جانتا ہے۔ اور جب اس کی اس صفت میں نہ کوئی شریک وسہیم ہے نہ ہوسکتا ہے، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں بھی کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہوسکتا۔ پس معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی ہے، اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 17] آسمان سے اترنے والی ہر چیز بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جو اترتی ہے آسمان سے اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ وحدہٗ لاشریک ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمان سے اترتی ہے خواہ وہ جاندار ہو تب بھی جیسے فرشتے، یا معنوی اور احکام اور بارش وغیرہ، سو وہ ان سب کو پوری طرح اور ایک ایک کو برابر جانتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، اور جب ان میں سے ہر چیز اس کے حکم و ارشاد ہی سے اترتی ہے تو پھر کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ ان میں کوئی بھی چیز اس کے علم سے باہر ہو ؟ سو سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں اور اسی کے احاطہ علم و خبر میں ہے، اور اس میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ پس معبود برحق بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے، اور اس پوری کائنات پر حکم و تصرف بھی اسی کا اور صرف اسی کا ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کی کسی بھی شان میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ وہ ہر لحاظ سے یکتا اور وحدہٗ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
[ 18] آسمان کی طرف چڑھنے والی ہر چیز بھی اللہ کے علم میں ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو اس سے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو بھی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے جو پڑھتی ہے آسمان کی طرف، جیسے فرشتے، اعمال خیر، اور دعوات صالحہ وغیرہ وغیرہ، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ { من کان یرید العزۃ فللّٰہ العزۃ جمیعًا ط الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہٗ ط والذین یمکرون السیات لہم عذاب شدید ط ومکر اولئک ھویبور } [ فاطر : 10 پ 22] یعنی اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور نیک عمل اس کو اوپر اٹھاتا ہے۔ سبحان اللّٰہ ! جس خالق ومالک کی صفت اور شان اور اس کے کمال علم کا مرتبہ و مقام یہ ہے آج کا جاہل مسلمان اس کو دنیاوی بادشاہوں اور حکمرانوں پر قیاس کر کے اس کے لئے طرح طرح کے خود ساختہ اور من گھڑت واسطے اور وسیلے ڈھونڈتا ہے، اور اس پر وہ اپنے مشرکانہ عقائد کی دیوار کھڑی کرتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس طرح کے تمام مشرکانہ تصورات اہل بدعت کی ٹیڑھی کھوپڑیوں کی ایجاد، اور ان کی مت ماری کا نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ اس طرح کے ہر مشرکانہ تصور سے پاک اور اعلیٰ اور بالا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کو ویسے ہی مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں وہ خود بتائے، سبحانہ وتعالیٰ یا اس کے بارے میں اس کے رسول بتائیں، (علیہ الصلوۃ والسلام) جن کی طرف اس کی وحی آتی ہے۔ تصور سے وحی آتی ہے، پس صحت و سلامتی اور نجات و فلاح کی راہ یہی اور صرف یہی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وبہ نسعین،
[ 19] معیت الہیہ اور اس کی دو قسموں کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا وہ تمہارے ساتھ ہے اے لوگو ! جہاں بھی تم ہوگے یعنی اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے۔ پس نہ تو تمہاری کوئی چیز اور تمہاری کوئی حالت و کیفیت اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہے اور نہ ہی تم اس کی گرفت و پکڑ سے کہیں بھاگ سکتے ہو، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو تم لوگ جہاں بھی ہوتے ہو اس کی نگاہ میں ہوتے ہو اور تمہاری کوئی بھی حالت و کیفیت اس سے مخفی اور مستور نہیں ہوسکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ اور یہ معیت معیت عامہ جو سب کے ساتھ شامل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت سے کوئی بھی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ جبکہ اس کی معیت کی دوسری قسم معیت خاصہ ہے جو کہ اس کی نصرت و امداد اور تائید و حمایت سے عبارت ہے وہ صرف اہل حق اور اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر ذکر و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ مثلا ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔ { ذلک الدین الققیم فلا تظلموا فیہن انفسکم وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلوکم کافۃ ن واعلوآ ان اللّٰہ مع المتقین } [ التوبہ : 36 پ 10] یعنی " یقین جانو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ نیز ارشاد فرمایا گیا۔ { الاتنصروہٗ فقد نصرہ اللّٰہ اذا اخرجہ الذین کفروا ثانی اثنین اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللّٰہ معناج } [ الایۃ ] [ التوبہ : 40 پ 10] سو یسی آیات کریمات میں مذکورہ معیت سے وہ خاصہ مراد ہے جو عبادت ہے اللہ پاک کی نصرت و امداد اور اس کی رحمت و عنایت سے جو کہ درحقیقت یعنی تم غم نہ کھاؤ اللہ ہمارے ساتھ ہے " بہرکیف اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تم سب کے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہوؤگے پس اس کا لازمی اور بدہی تقاضا ہے کہ ہمیشہ اس کے ساتھ اپنا تعلق و معاملہ صحیح اور درست رکھو۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 20] اللہ تعالیٰ سب کاموں کو دیکھ رہا ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ دیکھتا اور پوری طرح دیکھ رہا ہے تمہارے سب کاموں کو۔ پس تمہارے اس کے حضور جو ابدہ ہونا ہوگا، نیک اعمال کے صلے میں وہ تم کا اپنے فضل و کرم سے ایسی ایسی نعمتوں سے نوازے گا جن کا تم یہاں تصور بھی نہیں کرسکتے، اور برے اعمال پر وہاں تمہیں ایسے عذابوں سے سابقہ پڑے گا، اور اس طور پر کیا اس دنیا میں کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو تم لوگ جو بھی کچھ کرتے ہو وہ اس کو پوری طرح دیکھ رہا ہے اس لیے ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی فکر و کوشش میں رہا کرو، وباللّٰہ لتوفیق۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے تمام کاموں پر نگاہ رکھے ہوئے ہے کوئی کسی بھی اعتبار سے اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہوسکتا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اپنا معاملہ ہمیشہ اس کے ساتھ صحیح رکھو کہ یہی چیز اصل اور اساس ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب،
Ayahs 57:5–6[ 21] سب کا مررجع و مادٰی بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب امور۔ اس دنیا میں بھی، کہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اس کو منظور ہوتا ہے اور آخرت میں بھی، تاکہ ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے، سو صرف یہی بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف و آگاہ ہے اور بس، نہیں بلکہ جملہ امور کا مادی اور مرجع بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے، سارے کام اسی کے اذن و حکم سے ہوتے ہیں، اور پھر ان سب کی رپورٹ بھی اسی کے آگے پیش ہوتی ہے اس کے کارندے جملہ ہدایت کے لئے اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنی کارگزاریاں اسی کے حضور پیش کرتے ہیں، سو سب کا مرجع و مادی وحدہٗ لاشریک ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ نہ کوئی ایسا مالک اور خود مختار ہے کہ جو چاہے کرے، نہ کوئی اپنی صوابدید پر سب کچھ کرنے کا مجاز و مختار ہے اور نہ کوئی اس کے حضور مسؤلیت اور جوابدہی سے بری ہوسکتا ہے۔ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس سارا دھیان ہمیشہ اسی پر رہے کہ اپنے اس خالق ومالک کے ساتھ ہمارا معاملہ صحیح اور درست۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayah 57:7[ 25] سچے اور صحیح ایمان کے حکم و ارشاد کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ صدق دل سے ایمان لاؤ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر " آمنوا " کا خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن قرائن سے واضح ہوتا ہے کہ روئے سخن دراصل خام قسم کے مسلمانوں اور ان منافقوں کی طرف ہے جو زبانی کلامی طور پر ایمان تو لے آئے تھے لیکن اس ایمان کے تقاضوں سے کئی کتراتے تھے۔ سو ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ صدق دل سے ایمان لے آؤ اللہ اور اس کے رسول پر، کہ اللہ پاک وحدہٗ لاشریک ہے، اور اس کا رسول سچا ہے، ان تمام امور میں جو اس نے اللہ پاک کی طرف سے اس کے بندوں تک پہنچائے ہیں، اور یہ کہ فوز و فلاح اللہ پاک اور اس کے رسول پر سچے پکے ایمان اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری ہی پر موقوف ہے۔ سو " آمنوا " کا خطاب اگرچہ عام ہے لیکن آگے کے قرآئن ست پتہ چلتا ہے کہ روئے سخن دراصل ان خام مسلمانوں اور منافقوں کی طرف ہت، جو زبانی کلامی ایمان کا دعویٰ تو کرتے اور اس کا دم بھرتے تھے، لیکن جب ان سے انفاق اور جہاد فی سبیل اللہ کا مطالبہ کیا گیا تو وہ جھوٹے ثابت ہوئے اور وہ ان سے کترانے اور منہ چھپانے لگے، سو ایسے لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ تم لوگ سچے دل سے ایمان لاؤ، اور اپنے ایمان و عقیدے کے تقاضے پورے کرو تاکہ اس تمہارا بھلا ہو کہ ایمان و یقین کے تقاضے پورے کرنے کا فائدہ بہرحال ایمان والوں ہی کو پہنچتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 26] انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ایک خاص پہلو سے :
سو ارشاد فرمایا گیا اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اور خرچ کرو تم لوگ اس مال میں سے جس میں تم کو اللہ نے جانشین بنایا ہے۔ یعنی اپنا، کہ اس نے تمہیں اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر اس دنیا میں بھیجا، اور تمہیں اس مال دولت میں تصرف و تملک کا حق و اختیار دیا نیز اس نے تمہیں ان لوگوں کا جانشین بنایا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، کہ یہ مال و دولت وغیرہ اس سے پہلے ان ہی لوگوں، کے پاس تھا پھر ان کے انتقال کے بعد یہ تمہیں ملا، اسی طرح تمہارے بعد یہ دوسروں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا، پس اس فرصت تملک و اختیار کو غنیمت سمجتے ہوئے تم اس کو راہ حق و صواب میں خرچ کرو، تاکہ خود تمہارا بھلا ہو، [ روح، ابن جریر، التسہیل لعلوم التنزیل، محاسن التاویل، خازن، ابو السعود، وغیرہ ] کہنے والے نے کیا خون کہا۔ وما المال والاہل الا ودائع۔ ولا بدیوما ان تردالودائع یعنی " یہ مال و دولت تو محض امانتیں ہیں اور ان امانتوں کا ایک دن بہرحال واپس لوٹانا ہے "۔ اور ایک اعرابی سے جب کہ وہ اپنے اونٹوں کو چرا رہا تھا پوچھا گیا کہ یہ اونٹ کس کے ہیں ؟ [ لمن ھذہ الابل ] تو اس نے فوراً جواب دیا کہ یہ اللہ کا مال ہے جو بطور امانت عارضی طور پر میرے پاس ہے۔ " ہی للہ عندی امانۃ " [ حاشیہ مع البیان ] سبحان اللّٰہ ! فطرت صحیح و سلیم ہو تو انسان کے منہ سے حق بات کس صحت و صفائی کے ساتھ فوری طور پر نکلتی ہے اگرچہ وہ ایک عامی اور ان پڑھ شخص ہی کیوں نہ ہو، لیکن جب فطرت مسخ ہوجاتی ہے اور مت ماری جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ، تو پھر انسان کو سیدھی بات بھی الٹی نظر آنے لگتی ہے، اور وہ الٹا اس غلط بات کو حو بجانب ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے شرکیہ فلسفے بگھارنے لگتا ہے، یہاں تک کہ وہ صاف وصریح نصوص کریمہ میں بھی تاویل و تحریف سے کام لینے لگتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ انفاق فی سبیل اللہ ایمان و یقین کا بدیہی اور لازمی تقاضا ہے، اور دوسری طرف اس سے اس اہم اور بنایدی حقیقت سے بھی آگہی بخش دی گئی کہ انسان کے پاس جو بھی کچھ مال و دولت ہے وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کا دیا بخشا اور اس کے پاس محض ایک امانت ودیعت ہے جس نے آخر کار بہرحال اس کے قبضہ و تصرف سے نکل جانا ہے۔ پس عقل وخرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے خرچ کر دے قبل اس سے کہ یہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین
[ 27] انفاق فی سبیل اللہ پر اجر کبیر کا وعدہ :
سو ارشاد سے راہ حق میں خرچ کرنے والوں کے لئے اجر کبیر کا وعدہ فرمایا گیا ہے چانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کیا تو ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ یعنی جنت اور اس کی بےمثال و لازوال اور لامتناہی و سدا بہار نعمتیں، پس ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کا اصل فائدہ خود تم ہی لوگوں کو پہنچنے والا ہے، نہ کہ کسی اور کو، لہٰذا تم اپنے ان عارضی اور فانی اموال کو اس واہب مطلق جل جلالہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کرکے خود اپنے لئے سعادت دارین سے سرفرازی اور دائمی آرام و راحت کا سامان کرو قبل اس سے کہ تم کو اس دنیا سے کوچ کرنا پڑے اور یہ سب کچھ دوسروں کے ہاتھوں میں چلا جائے، یہاں پر ایمان کے بعد انفاق کا ذکر تصدیق اور شہادت کے طور پر آیا ہے۔ یعنی یہ بشارت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان کے اقرار و اظہار کے بعد انفاق فی سبیل اللہ سے اپنے اس ایمان کی تصدیق کریں گے، سو ایسے خوش نصیب لوگ مطمئن رہیں کہ ان کا یہ سودا خسارے کا نہیں بڑے نفع کا سودا ہے، وہ ایک کے دس پائیں گے بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ اور ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے، تو پھر ان کیلئے ایسے نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگانے سے گھبرانے کا کیا سوال ؟ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ مومن صادق اپنے مال کو دنیاوی بینکوں کی بجائے اللہ کے بینک میں جمع کرائے جس میں کسی خسارہ و نقصان کا کوئی سوال اور کسی طرح کا کوئی خوف و خدشہ نہیں ؟ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 57:8[ 28] ایمان صادق کے لئے تحریض و ترغیب کا ذکر وبیان :
چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور تحریص و ترغیب کے لئے اسلوب استفہام میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا ؟ اور تمہارے لئے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر، حالانکہ اللہ پر ایمان تقاضا ہے عقل سلیم، اور فطرت و مستقیم دونوں کا، اور اللہ رسول تمہیں اس کی دعوت سے رہا ہے، سو اس سے کمزور مسلمانوں اور منافق لوگوں کو سچے پکے ایمان کی دعوت وتحریض فرمائی گئی ہے اور استفہام یہاں پر تخصیض و توبیخ کے لئے ہے۔ یعنی تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے کہ اللہ پاک پر ایمان لانے کے دواعی اور اسباب تو تمام موجود ہیں کہ اس نے ایک طرف تمہیں عقل و فکر کی دولت سے نوازا، دوسری طرف دلائل وبراہین بھری کائنات کی یہ کھلی کتاب تمہارے سامنے رکھ دی۔ اور اس پر مزید یہ کہ اس کا رسول بھی تمہیں اس پر ایمان و یقین کی دعوت دے رہا ہے تو پھر تم لوگ اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ سو اس ارشاد میں ایسے کمزور مسلمانوں کے لئے تحریک وتحریض اور ملامت کے انداز میں نصیحت ہے کہ تم لوگ صدق دل سے ایمان لاؤ، اور اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم و ارشاد پر صدق دل سے لبیک کہو، کہ اسی میں تمہارا بھلا ہے اور یہی تمہارے ایمان کا تقاضا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
[ 29] رب پر ایمان اس کی شان ربوبیت کا تقاضا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے لیے کیا عذر اور مانع ہوسکتا ہے [ اے لوگو !] کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ جب کہ اس کا رسول تمہیں بلا رہا ہے کہ تم ایمان لاؤ اپنے رب پر۔ سو اس کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے کہ تملوگ اس پر سچے سل سے ایمان لاؤ، اور ظاہر و باطن اور جسم و جان کے رواں دواں سے اس کی حمد و ثنا اور شکر و مدح میں رطب اللسان ہوجاؤ اور ہمیشہ اسی طرح رہو، اور اس طرح تمخود اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور فوز و فلاح کا سامان کرو، سو تم لوگ اپنے رب کے ہر حکم و ارشاد پر صدق دل سے لبیک کہو، بہرکیف اس سے سچے ایمان کے لیے تحریض اور تحریک فرمائی گئی ہے اور ایسے اور اس طور پر کہ مختصر ہونے کے باوجود اس ارشاد کے بعد منکرین و مجرمین کے لیے کسی عذر و مانع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ ایک طرف تو اللہ کا رسول بذات خود تمہاے اندر موجود ہے اور وہ تمہیں تمہارے رب پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے اور دوسرے اس لیے کہ رب کی ربوبیت اور اس کے ان آثار کا یہی تقاضا ہے جو کائنات کی اس کھلی اور عظیم الشان کتاب میں چہار سو پھیلے بکھرے ہیں کہ تم لوگ صدق دل سے اس پر ایمان لے آؤ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
[ 30] میثاق ربانی کی تذکیر و یاددہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تم سے پختہ عہد بھی لے چکا ہے۔ یعنی عہد الست جبکہ تمہاری روحوں کو آدم کی پشت سے نکال کر تم سے اس رب حقیقی کی ربوبیت و وحدانیت کا عہد لیا گیا تھا، پھر اس عہد و اقرار کو تمہاری فطرتوں میں اس طرح پیوست کردیا گیا کہ اس کا بیان و اظہار رندگی کی مختلف شوؤن و حالات میں برابر ہوتا رہتا ہے، پھر تمہیں عقل و فکر کی قوت بھی عطا فرمائی اور اس کائنات اور خود تمہارے اپنے جسم و جان کے اندر اس نے اپنی توحید وقدرت کے طرح طرح کے دلائل بھی رکھ دئے، جن میں غور وفکر سے تمہیں راہ حق و ہدایت مل سکتی ہے، اور بعض حضرات مفسرین نے اس میثاق سے مراد بیعت رسول لی ہے، اور لفظ میثاق کا عموم ان سب ہی کو عام اور شامل ہے، [ خازن، مراغی، ابو السعود اور جامع البیان، وغیرہ ] بہرکیف اس کے اس عہد و میثاق کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تم لوگ صدق دل سے اس کے ہر حکم پر لبیک کہو، وباللّٰہ التوفیق اور اسی طرح اس عہد کا مصداق سمع وطاعت کا وہ عہد بھی ہے جو ہر مسلمان اپنے ایمان لانے کے موقع پر کرتا ہے جس کی تذکیر و یاد دہانی دوسرے موقع پر اس طرح فرمائی گئی ہے۔ { واذکروا نعمۃ اللّٰہِ علیکم ومیثاقہ الذی واثقکم بہ اذ قلتم سمعنا واطعنا واتقوا اللّٰہ ط ان اللّٰہ علیم م بذات الصدور۔ } [ المائدۃ : 7 پ 6] یعنی " یاد کرو تم لوگ اپنے اوپر اللہ کے انعام اور اس کے اس پختہ عہد کو جو اس نے تم سے لیا اور تم نے " " سمعنا واطعنا " کہہ کر اس کا اقرار کیا "۔ سو اس عہد کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی، تقاضا ہے عقل اور نقل دونوں کا اللہ توفیق بخشے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، واکرم الاکرمین، یا ذا الجلال والاکرام،
[ 31] اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کو ماننا ایمان کا لازمی تقاضا :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ تملوگ اپنے رب کے ہر حکم کو بجا لاؤ اگر واقعی تم ایماندار ہو۔ کہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اب کسی شک و اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، حق و صداقت کے نشان پوری طرح واضح ہوچکے ہیں " قدتبین الرشد من الغی " سو اگر تمہیں واقعی ایمان لانا ہے، اور تم اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہو، تو سیدھے اور صاف طریقے سے ایمان لے آؤ، کہ اب اس راہ میں کسی ہیر پھیر اور ایچ پیچ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، سو اس ارشاد سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان محض زبانی کلامی دعوے کا نام نہیں، بلکہ اس کیلئے عملی ثبوت درکار ہے، کہ ایمان عمل ہی سے متشکل اور وجود پذیر ہوتا ہے، اور دوسری بات یہ کہ عمل میں بھی انفاق فی سبیل اللہ کو ایک خاص درجہ اور مقام حاصل ہے، اسی بناء پر یہاں انفاق کی دعوت کو ایمان کی دعوت سے مقدم ذکر فرمایا گیا ہے، سو انفاق فیسبیل اللہ کو نور ایمان و یقین کی تقویت و تغذیہ میں خاص دخل ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہا یمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر اس چیز پر صدق دل سے ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہو، اور جس کے اس کے رسول نے دعوت دی ہو۔ انمیں سے کسی ایک کا بھی انکار سن کے انکار کے مترادف ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayah 57:9[ 32] آیات بینات سے مقصود و مراد ؟ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وہی ہے جو اپنے بندے پر کھلی آیتیں نازم فرماتا ہے تاکہ وہ تم لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے۔ یعنی ایسے قطعی دلائل اور نشانیاں جو حق و باطل کو قطعی طور پر نکھار دینے والی ہیں، جن میں سب سے بڑی سب سے اہم اور سب سے واضح وجلی آیت و نشانی معجزہء قرآن کریم ہے جو اپنی زبان وبیان، معانی و احکام، قوت و تاثیر، ہر اعتبار سے معجزہ بلکہ معجزوں کا معجزہ اور معجزہ کبریٰ آیت عظمیٰ اور حق کی برہان خالد ہے، والحمد اللّٰہ الذی شرفنا بھذہ النعمۃ الکبریٰ والنور التام الخالد۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ واضح دلائل اور روشن آیتیں اس لیے نازل فرمائیں کہ وہ تمہیں طرح طرح کی ان تاریکیوں سے نکالے جو خواہشات نفس اور حب دنیا کی تنگنائیوں سے جنم لیتی ہیں، اور ان سے نکال کر وہ تم کو شوق ہدایت کے اس نور عظیم سے مشرف و ہمکنار کرے جو ایمان صادق اور حب آخرت سے پھونٹتی ہیں، تاکہ اس طرح تم لوگ دنیا و آخرت کی سعادت اور حقیقی فوزوفلاح سے سرفراز اور مالا مال ہوسکو۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، جل و علا، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذا الجلال والاکرام،
[ 33] نور وحی و ہدایت رب کی سب سے بڑی رحمت و عنایت :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نور وحی و ہدایت کی دولت رب کی سب سے بڑی رحمت و عنایت ہے، اور یہ کہ یہ بندوں کے خود اپنے ہی بھلے کے لیے ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس وحدہٗ لاشریک نے اپنے بندے پر یہ آیات بینات اس لیے اتاریں کہ تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے۔ یعنی کفر و شرک ضلالت و گمراہی، اور جہالت و معصیت وغیرہ کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر، ایمان و توحید، اور اطعت و بندگی خداوندی کی اس صرط مستقیم اور راہ مبین کی طرف، جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی اور حقیقی فوزوفلاح کی کفیل وضامن واحد راہ ہے اور جو اللہ پاک کا اس کے بندوں پر سب سے بڑا انعام واحسان ہے، فلہٗ الحمد والمنۃ پس تم لوگ کبھی اس طرح کا کوئی گمان نہ کرنا کہ اللہ تم کو نقصانات اور مشقتوں میں ڈالنا چاہتا ہے، وہ تو رؤف و رحیم ہے، اس لئے وہ تم لوگوں کو مشقتوں اور مشکلوں میں ڈالنے کے بجائے اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازنا چاہتا ہے، تاکہ اس طرح تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکو، سو وہ تمہارے لیے دنیا و آخرت دونوں کی فلاح و بہبود کی راہیں کھولنا چاہتا ہے، اور وہ تمہیں کسی بھی زحمت اور مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا۔ { یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر } [ الایۃ ] [ البقرۃ : 185] یعنی اللہ تعالیٰ رم لوگوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے، وہ تمہارے ساتھ کسی طرح کی سختی کا معاملہ نہیں کرنا چاہتا، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین
[ 34] اللہ تعالیٰ کی صفت رأفت و رحمت کا حوالہ و ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے حرف تاکید کے ساتھ مؤکد کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ تم پر بڑ ہی شفقی، انتہائی مہربان ہے "۔ سوا تنا مہربان اور اس قدر شفیق کہ اس کی شفقت و مہربانی اور رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں، اور اپنی اسی رحمت و شفقت کی بناء پر اس نے تمہارے لئے ایمان و اطاعت اور حق و صداقت کی اس عظیم الشان اور بےمثال روشنی کا انتظام فرمایا، ورنہ تم تو حیوانات و جمادات سے بھی گئے گزرے لوگ تھے، کہ عقل و فکر کی پونجی رکھنے کے باجود تم راہ حق سے محروم و بےبہرہ ہو کر اپنے سے گھٹیا مخلوق کے پجاری بنے ہوئے تھے، سو تم لوگ سوچو کہ اگر وہ تمہارے لئے ہدایت و راہنمائی کا یہ عظیم الشان اور بےمثال انتظام نہ فرماتا، اور تمہیں اندہیروں میں ہی بھٹکتے ہوئے ہلاکت و تباہی کی راہ پر چھوڑ دیتا تو تمہارا حال کیا ہوتا، پس اس کے اس عظیم الشان اور بےمثال کرم و احسان کا احساس کرکے تم لوگ اس کے آگے جھک جاؤ، اور ہمیشہ جھکے جھکے ہی رہو، کہ اسی میں تمہارے لیے دارین کی صلاح و فلاح ہے، رؤف اور رحیم کی دونوں صفتیں قریب المعنی ہیں، اور جب ان میں سے کوئی ایک صفت علی سبیل الانفراد استعمال ہوتی ہے تو وہ دوسری کے معنی کو بھی متضمن ہوتی ہے لیکن جب یہ دونوں یکجا استعمال ہوں جیسا کہ رحیم میں اثبات خیر کا، سو ان دونوں صفات کریمہ کے حوالہ و ذکر سے یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ اللہ نے اپنی صفات رافت و رحمت کے تقاضے کی بنا پر ہی تم لوگوں کو ان تعلیمات مقدسہ سے نوازا ہے اور ان میں سراسر تمہارا ہی بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، تم ان کو صدق دل سے اپناؤ، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayahs 57:10–11[ 35] انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ایک اور پہلو سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ اللہ ہی کیلئے میراث آسمانوں اور زمین کی۔ کہ سب لوگ ختم ہوجائیں گے، اور یہ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کا ہو کر رہ جائے گا، پس تم لوگ غنیمت سمجھو اس فرصت کو جو آج تمہیں میسر ہے، اور فائدہ اٹھالو اس موقع سے جو آج تمہیں حاصل ہے، اور اپنے ارادہ و اختیار سے اللہ کی راہ میں خرچ کرلو اپنے ان مالوں کو سب سے جو آج تمہارے ہاتھوں میں ہیں، تاکہ کل تمہیں کام آئیں اور خود تمہارا بھال ہو، قبل اس سے کہ یہ فرصت و موقع تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے، اور پھر ہمیشہ افسوس کرتے رہ جاؤ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ آج تم لوگوں کو جن چیزوں پر تصرف حاصل ہے وہ بالکل عارضی ہے جو تم کو محض اللہ تعالیٰ کی عنایت سے اور اس کے خلیفہ و امین ہونے کی حیثیت سے حاصل ہے، بالآخر یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف لوٹ جانے والا ہے تو تم لوگوں کو چاہئے کہ اس چند روزہ امانت پر مارگنج بن کر بیٹھ جانے کی بجائے تم اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کے مطابق برضاء ورغبت اس کی راہ میں خرچ کرو تاکہ یہ تمہارے لیے ابدی سعادت کا ذریعہ بن جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 36] اعمال کی قدر و قیمت کا فرق حالات کے اعتبار سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ فتح مکہ سے پہلے انفاق اور جہاد کریں گے اور جو اس کے بعد کریں گے وہ باہم برابر نہیں ہوسکتے۔ فتح مکہ سے پہلے خرچ کرنے والوں کا درجہ بہت بڑا ہے۔ یعنی فتح مکہ سے پہلے، اور بعض نے کہا کہ اس فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے کہ فتح مکہ کی بھی اصل بنیاد وہی تھی، لیکن ظاہر اور متبادر یہی ہے کہ اس فتح سے مراد فتح مکہ ہے، کہ اس نام کا واضح اور مشہور مصداق فتح مکہ ہی ہے، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آج جبکہ کفر اور اہل کفر کا مکہ پر غلبہ ہے، [ واضح رہے کہ یہ سورة ئِ کریمہ فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی ہے ] اور قریش کی ہیبت بدستور عربوں پر قائم ہے، سو ایسے میں جو لوگ اللہ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی کیلئے اپنے مال خرچ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں گے، ان کا درجہ و مرتبہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بہرحال بہت بڑا ہے ان لوگوں سے جو بعد میں انفاق اور جہاد کریں گے۔ کیونکہ فتح مکہ سے پہلے کا دور بڑا مشکل، صبر آزما، اور سخت کٹھن دور تھا، سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حالات کے تغیر سے اعمال کی قدرو قیمت میں بہت فرق پڑجاتا ہے، مشکل حالات میں کیے گئے اعمال صالحہ کا درجہ و مرتبہ بہت بڑا ہوتا ہے، بمقابلہ آسان وقتوں کے۔
[ 38] فتح مکہ سے پہلے کے انفاق اور جہاد کی عظمت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے انفاق اور جہاد کیا ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے اس کے بعد خرچ اور جہاد کیا، کہ فتح سے پہلے کے حالات بہت سخت اور صبر آزما تھے بنسبت اس کے بعد کے حالات کے، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا، جب کہ اس کے بعد دنیا فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہی تھی، اور جبکہ کفر کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ سو فتح مکہ سے پہلے خرچ کرنے والوں اور جہاد کرنے والوں کا درجہ و مرتبہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنہوں نے اس کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا، پس بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس کٹھن دور میں انفاق فی سبیل اللہ اور اسلام کی خدمت کے شرف سے مشرف ہوئے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سب سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے جیسا کہ اس سے اگلے حاشیے میں آرہا ہے، سو جنہوں نے اسلام کی غربت اولیٰ کے دور میں پورے صدق و اخلاص اور استقامت و اولوالعزی کے ساتھ خدمت خلق کی سعادت پائی اور وہ اس شرف سے مشرف ہوئے ان کا درجہ یقینا بہت بڑا ہے، اور سابقین و مقربین میں زیادہ تعداد انہی خوش نصیبوں کی ہوگی کہ انہوں نے نہایت مشکل اور کٹھن حالات میں یہ راہ حق عظیم الشان قربانیوں دیں۔
[ 38] صحابہ کرام سب کے سب جنتی، علیہم الرحمۃ والرضوان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یوں اللہ نے ان دونوں قسم کے لوگوں میں سے ہر فریق سے بھلائی کا وعدہ فرما رکھا ہے کیونکہ ایمان و اخلاص میں یہ دونوں ہی شریک ہیں۔ یعنی جنت کا وعدہ۔ [ قرطبی، صفوۃ، اور جامع وغیرہ ] جو کہ سب سیبڑی اور حقیقی بھلائی ہے، سو معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ سب کے سب جنتی ہیں۔ پس جو ان کے ایمان و اخلاص کا انکار کریگا، وہ اس آیت کریمہ کے انکار کی وجہ سے کافر قرار پائے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہنا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہء قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو بھی وہ ان میں سے کسی کے مُدّیا اس کے آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکتا، [ المراغی، ابن کثیر وغیرہ ] بہرکیف اس آیت کریمہ میں ان سب ہی حضرات سے جنت کا وعدہ فرما دیا گیا، خواہ انہوں نے فتح سے پہلے جہاد اور خرچ کیا ہو، یا اس کے بعد، مراتب و درجات کا فرق اگرچہ ان کے درمیان موجود ہوگا، لیکن جنت کا وعدہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ان سب کے لئے ہے، ان کے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی بنا پر، [ قرطبی، مراغی، جامع البیان اور صفوۃ وغیرہ ] سو ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت وہ عظیم الشان دولت ہے۔ جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی کا واحد ذریعہ ہے، والحمدللّٰہ جل وعلا
[ 39] اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ قطعی طور پر حق ہے :
کیونکہ اس کا ہر فیصلہ قطعی علم پر مبنی ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے رہو، اور یہ صرف اسی کی شان ہے۔ اور اسی کے مطابق وہ تمہیں سزاوجزا دے گا اور اس کی اس کامل باخبری ہی کا یہ نتیجہ وثمرہ ہے کہ اس نے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے، اور درجات و مراتب کے اعتبار سے ان میں فرق رکھا ہے، سو ہر کسی کو چاہیے کہ وہ اس وحدہٗ لاشریک کے ساتھ اپنے ظاہر و باطن کا معاملہ صحیح اور صاف رکھے، وباللّٰہ التوفیق، بہرکیف وہ چونکہ حضرات صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم کے باطن اور ان کے صدق و اخلاق سے پوری طرح آگاہ اور باخبر ہے۔ اسلئے اس نے ان سب کو جنت کی اس عظیم الشان بشارت سے نوازا ہے اور ان میں سے جس کا انفاق تھوڑا اور معمولی تھا وہ بھی اس کے صدق و اخلاص کی بناء پر بہت بڑا درجہ و مقام رکھتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بھی بڑھ جاتا ہے [ سنن النسائی، کتاب الزکاۃ، باب جہد المقل ] اور اس آیت کریمہ کے اولین مصداق حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں [ قرطبی، مراغی اور محاسن وغیرہ ] ۔ رزقنا اللّٰہ اتباعھم وزادنا حبامنھم ورضی عنا معھم وھو ارحم الراحمین، اکرم الاکرمین، جل جلالہ،