57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں،1۔ اور وہی زبردست ہے، حکمت والا ہے،2۔

1۔ اور غوروتامل سے کام لیا جائے تو پھر ہر مخلوق سے توحید وتنزیہ کی دلیل مل رہی ہے) (آیت) ” سبح للہ “۔ یہ تسبیح ہر ہر مخلوق کی اس کے اپنے مرتبہ وجود کی مناسب زبان میں ہوتی ہے۔ انسانوں کیلئے کسی کی زبان، زبان قال ہے۔ اور کسی کی محض زبان حال۔ 2۔ (آیت) ” العزیز “۔ زبردست ایسا کہ اس کی مشیت پر کوئی روک، کوئی دباؤ نہیں، اس کا ارادہ سب پر غالب، وہ جو بھی چاہے کرڈالے، (آیت) ” الحکیم “۔ مصلحت سنج ایسا کہ اس کا ہر ادنی سے ادنی فعل بھی انتہائی حکمتوں اور مصلحتوں سے لبریز ہوتا ہے۔ جو کچھ بھی وہ کرتا ہے محض اپنی حکم تکوینی کے ماتحت ومطابق ہی کرتا ہے۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں وہی حیات دیتا ہے اور (وہی) موت دیتا ہے، اور وہی ہر چیز پر قاد رہے،3۔

3۔ اس کا کوئی شریک نہیں، نہ ملکیت و حکومت میں، نہ جان ڈالنے میں، نہ جان نکالنے میں اور نہ قدرت واختیار میں یہ سب تردید میں ارشاد ہورہا ہے، اس مشرک جاہلی قوموں کے، جنہوں نے یا تو اس کی قدرت واختیار کو محدود سمجھا ہی یا اس کی ملکیت ومالکیت میں دوسروں کو شریک سمجھا ہے اور یا موت وحیات کے دیوتا الگ الگ سمجھے ہیں۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی ہے (سب سے) پہلے اور (سب سے) پیچھے اور (وہی) ظاہر ومخفی بھی اور وہی ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے،4۔

4۔ (کہ چھوٹی بڑی کوئی سی چیز کہیں کی بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں) پہلی آیت کمال قدرت کے بیان میں تھی، یہ آیت کمال علم واحاطہ علمی کے بیان میں ہے۔ مشرک قوموں کو سب سے زیادہ ٹھوکر صفت قدرت وصفت علم ہی کے باب میں لگی ہے۔ (آیت) ” ھو الاول “۔ اس موجود حقیقی کا وجود، ہر دوسرے وجود سے یہاں تک کہ وجود زمان سے بھی مقدم وسابق رہا ہے، عدم سابق کبھی اس پر طاری ہی نہ ہوسکا بعض مشرک قوموں نے اسی کی ذات کو بھی حادث سمجھا ہے۔ یعنی ھو الاول قبل کل شیء بلا ابتداء بل کان ھو ولم یکن شیء موجودا (معالم) ھو القدیم الذی کان قبل کل شیء (مدارک) السابق علی جمیع الموجودات فھو سبحانہ موجود قبل کل شیء حتی الزمان لانہ جل وعلا والموجد والمحدث للموجودات (روح) (آیت) ” والاخر “۔ اس موجود حقیقی کا وجود، ہر مخلوق کے فنائے ذاتی وصفاتی کے بعد بھی علی حالہ قائم و باقی رہے گا، عدم سابق کی طرح عدم لاحق کا بھی فانی سمجھا ہے۔ اے الاخر بعد فناء کل شیء بلاانتھاء تفنی الاشیاء ویبقی ھو (معالم) الذی یبقی بعد ھلاک کل شیء (مدارک) (آیت) ” ھوالظاھر “۔ ہر موجود کا وجود و ظہور اسی کے وجود و ظہور سے ہے۔ اپنے دلائل و شواہد کے اعتبار سے اور مطلق وجود کے مرتبہ میں روشن ترین وظاہر ترین۔ الظاھر بوجودہ (روح) (آیت) ” والباطن “۔ اپنے آثار وصفات کے اس شدت ظہور کے ساتھ ساتھ اس کی کنہ ذات ہر عقل وادراک کی رسائی سے باہر، تو اس سے بڑھ کر مخفی اور کون ہوسکتا ہے۔ اپنی تفصیلات وجود کے مرتبہ میں مخفی ترین۔ والباطن بکنہہ سبحانہ (روح) ایک حدیث میں دعاء کے یہ الفاظ آئے ہیں۔ وانت الظاھر فلیس فوقک شیء وانت الباطن فلیس دونک شیء (صحیح مسلم۔ مسند احمد) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہنے یحیح بن زیاد الفراء کے حوالہ سے یہ معنی نقل کیے ہیں۔ الظاھر علی کل شیء علما والباطن علی کل شیء علما (صحیح بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کردیا پھر تخت شاہی پر قائم ہوگیا،5۔ وہ اسے بھی جانتا ہے جو چیز زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور (اسے بھی جانتا ہے) جو چیز اس میں سے نکلتی ہے، اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے،6۔ اور وہ تمہارے ساتھ ہے خواہ تم کہیں بھی ہو اور وہ خوب دیکھتا رہتا ہے جو کچھ بھی تم کرتے رہتے ہو،7۔

5۔ اس کی صفت خالقیت وصفت حاکمیت کا اثبات۔ (آیت) ” فی ستۃ ایام۔ استوی علی العرش “۔ ان دونوں پر حاشیے سورة الاعراف میں اور کئی بار گزر چکے۔ 6۔ (غرض یہ کہ وہ ہر طرح اور ہر اعتبار سے ہمہ داں، ہمہ بین ہے۔ (آیت) ” مایلج فی الارض “۔ مثلا بارش کا پانی۔ (آیت) ” مایخرج منھا “۔ مثلا نباتات۔ (آیت) ” ماینزل من السمآء “۔ مثلا ملائکہ اور احکام تشریعی اور تکوینی۔ (آیت) ” مایعرج فیھا “۔ مثلا ملائکہ اور اعمال صالحہ۔ 7۔ حق تعالیٰ کی ہمہ گیری، ہمہ توانی، ہمہ بینی کی مزید تاکید۔ (آیت) ” وھو معکم این ماکنتم “۔ اس کی معیت علمی سے مخلوق کا کوئی بھی مرتبہ وجود خالی نہیں۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

اسی کی سلطنت ہے، آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف (سب) امور لوٹ جائیں گے،8۔

8۔ (نہ کہ کسی اور کی طرف) (آیت) ” الامور “۔ کے عموم میں جو ہر وعرض سب ہی آگئے۔ حشر میں سب کی راجعیت صرف ذات حق تعالیٰ ہی کی جانب ہوگی۔ اس میں بہت سے باطل مذہبوں کی تردید آگئی۔ جنہوں نے حشر میں مرجعیت عام کے متعلق کسی اور ذات کو قرار دے رکھا ہے۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی داخل کرتا ہے، رات کو دن میں اور وہی داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ دلوں (کی بات) تک خوب جانتا ہے،9۔

9۔ اس کے علم کی طرح اس کی قدرت بھی ہر جزء وکل کو محیط ہے۔ ہر ہر شی میں جاری وساری ہے۔ یہ نہیں کہ خدا موجود تو ہے، مگر اس کا علم صرف کلیات تک ہے۔ جزئیات کو حاوی نہیں جیسا کہ بعض جاہلی فلاسفہ نے کہا ہے۔ (آیت) ” یولج الیل ..... الیل “۔ دن اور رات دونوں اسی کی مخلوق ہیں اور تمام تصرفات وتکوینیات میں اسی کی قدرت کے محکوم و محتاج۔ یہ نہیں کہ دن اور رات کوئی دیوی دیوتا کی حیثیت رکھتے ہیں۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جس مال میں اس نے دوسروں کا جانشین بیان ہے اس میں سے خرچ کرو، سو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور خرچ کریں انہیں بڑا اجر ہوگا،10۔

10۔ (کہ وہ مال کو اسی اصل مالک اور دینے والے کی راہ میں خرچ کررہے ہیں۔ ) (آیت) ” ماجعلکم مستخلفین فیہ “۔ اس میں صاف اور واضح اشارہ اس طرف آگیا کہ یہ مال تم سے پہلے کسی اور کا تھا اور تمہارے بعد کسی اور کا ہوجائے گا۔ یہ کون سی ایسی چیز ہے جس کا تم اتنا غم کررہے ہو کہ اسے اللہ کے حکم سے اپنی ضرورتوں میں بھی خرچ کرنے میں بخل کر رہے ہو۔ مالی جہاد کی ترغیب کا یہ طریقہ کتنا حکیمانہ ومصلحانہ ہے۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے جو تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ہو، درآنحالیکہ رسول تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور (اللہ خود) تم سے اس کا اقرار لے چکا ہے ۔11۔ اگر تم کو ایمان لانا ہو،

11۔ یعنی کمال حیرت کی بات ہے کہ تم جب بھی ایمان اور پورا ایمان نہیں لاتے ہو۔ جبکہ دو دوزبردست داعی اس دعوت ایمان کی قبولیت کے موجود ہیں۔ ایک تو رسول اللہ ﷺ جیسا حکیم اعظم مبلغ۔ دوسرے توحید کا داعیہ خود تمہاری فطرت کے اندر موجود۔ (آیت) ” لاتؤمنون باللہ۔ یعنی ایسا ایمان جو اللہ پر ایمان لانے کا حق ہے۔ ایمان باللہ کے تحت میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان، حشر پر ایمان، کتب الہی پر ایمان سارے بنیادی عقائد ایمانی آگئے۔ (آیت) ” وقد اخذ میثاقکم “۔ میثاق سے مراد بیعت رسول اللہ ﷺ بھی سمجھی گئی ہے۔ اور میثاق صلب آدم (علیہ السلام) بھی لی گئی ہے۔ یعنی بذلک بیعت الرسول ﷺ وزعم ابن جریر ان المراد بذلک المیثاق الذی اخذعلیہم فی صلب ادم وھو مذھب مجاھد (ابن کثیر)
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہ وہی ہے جو اپنے بندہ پر صاف آیتیں اتارتا ہے تاکہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لائے اور بیشک اللہ تمہارے اوپر شفیق ہے بڑا مہربان ہے،12۔

12۔ اور اس سے بڑھ کر اس کی شفقت و رحمت اور کیا ہوگی کہ اسی نے ایسے حکیم وشفیق رسول اللہ ﷺ کو تمہارے لیے داعی ومبلغ بنا کر بھیجا جو دلائل حقانیت اس طرح کھول کھول کر پیش کرتا ہے۔ (آیت) ” عبدہ “۔ عبد سے مراد عبدکامل یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے۔ ملاحظہ ہو سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا “۔ الخ پر حاشیہ “۔ (آیت) ” ایت بینت “۔ مضامین قرآنی معجزات محمدی، سب اس کے تحت میں آگئے۔ والظاھر ان المراد بھا ایات القران وقیل المعجزات (روح) (آیت) ” من ..... النور “۔ کفر وشرک ومعاصی کی تاریکیوں سے نور ہدایت و ایمان کی طرف۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہو درآنحالیکہ آسمان اور زمین سب آخر میں اللہ ہی کے رہ جائیں گے،13۔ تم میں جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑچکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح لڑے اور خرچ کیا) وہ لوگ درجہ میں بڑھے ہوئے ہیں ان لوگوں سے جنہوں نے بعد کو خرچ کیا اور لڑے، اور اللہ نے بھلائی کا وعدہ تو سب ہی سے کر رکھا ہے، اور اللہ کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے،14۔

13۔ تو جب مال آخر ایک روز چھوڑنا ہی ہے تو ابھی سے اپنی خوشی سے طاعت حق کی راہ میں کیوں نہ دے دیا جائے۔ اہل ایمان کو دینی اور ملی مقاصد میں مالی شرکت کے لیے آمادہ ومستعد کیا جارہا ہے۔ 14۔ (تو کسی کو یہ وہم نہ ہونے پائے کہ اس کا اجر چھوٹ جائے گا) (آیت) ” قبل الفتح “۔ الفتح سے اکثر نے مراد فتح مکہ لی ہے۔ عن قتادۃ ھو فتح مکۃ (جصاص) یعنی فتح مکۃ فی قول اکثر المفسرین (معالم) والجمھور علی ان المراد بالفتح ھھنا فتح مکۃ (ابن کثیر) اور بعض قول صلح حدیبیہ سے متعلق بھی ہیں۔ روی عن الشعبی قال فصل ما بین الھجرتین فتح الحدیبیہ وفی انزلت ھذہ الایۃ (جصاص) بہرحال دونوں صورتوں میں جو مجاہدین ومقاتلین شروع زمانہ اسلام میں ہوئے ہیں جبکہ ان کی تعداد بھی بہت قلیل تھی، اور وہ ہر طرح ضعیف و درماندہ بھی تھے۔ انہوں نے اپنے اوپر جیسے جیسے شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال ڈال کر بےدریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمات کی نذر کردیا، ان کے مرتبہ کا کیا پوچھنا، باقی جن اہل ایمان نے اس وقت اپنے اخلاص کا ثبوت جہاد مالی و قتال سے دیا جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرت تعداد اور جاہ ومال ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے تو اجر ان کا بھی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان السابقون الاولون کے درجہ کا تو نہیں۔ (آیت) ” وکلا ..... الحسنی “۔ جملہ مومنین کو اطمینان دلایا ہے کہ اپنے اپنے مرتبہ کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کو، محروم کوئی نہ رہے گا۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کوئی شخص ہے جو اللہ کو اچھی طرح قرض کے طور پردے پھر اللہ اسے اس شخص کیلئے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لئے اجر پسند یدہ ہے وہ دن،15۔

15۔ یہ ساری عبادت جہاد مالی کی ترغیب وتشویق کے لیے ہے۔ (آیت) ” قرضا حسنا “۔ قرض کا لفظ اس اشارہ کے لیے ہے کہ اجر کا ترتب اس قدریقینی اور قطعی ہے کہ گویا وہ اللہ پر قرض ہے ورنہ لفظی معنی کے اعتبار سے تو ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کو ” قرض “ دے ہی کون سکتا ہے ؟ استعیر لفظ القرض لیدل علی التزام الجزاء (مدارک) (آیت) ” فیضعفہ “۔ اس میں اشارہ اجر کی کمیت ومقدار کی جانب ہوگیا۔ اصل سرمایہ سے کہیں زیادہ دوگنا، چوگنا، دس گنا بلکہ اس سے بھی بہت زائد ہوگا۔ (آیت) ” کریم “۔ اس سے اشارہ اس اجر کی نوعیت وکیفیت کی طرف ہوگیا۔ خوب جی بھر اجر ملے گا۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

) بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جب ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑتا ہوگا،16۔ آج تم کو بشارت ہے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہو گے (اور) یہی بڑی کامیابی ہے،17۔

16۔ یہ منظر حشر میں پل صراط پر سے گزرتے ہوئے ہر مومن کا ہوگا۔ ہر مومن کے ساتھ ساتھ اس کا نور بقدر اس کے درجہ و مرتبہ ایمان کے ہوگا۔ 17۔ یہ بشارت کا پیام سنانے والے جنت کے فرشتے ہوں گے۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

یہ وہ دن ہوگا جب منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گی کہ ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ حاصل کرلیں،18۔ (ان سے) کہا جائے گا تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہیں) روشنی تلاش کرو۔19۔ پھر ان (فریقین) کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا کہ اس کی اندروانی جانب میں رحمت ہوگی، اور اس کی بیرونی جانت کی طرف عذاب ہوگا،20۔

18۔ یہ اس وقت ہوگا جب اہل ایمان اپنے اعتقاد و اعمال کی برکت سے بہت آگے بڑھ جائیں گے اور منافقین یعنی اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے والے لیکن درحقیقت کافر ومنکر پیچھے بالکل اندھیرے میں رہ جائیں گے۔ یہ منافقین یا تو نور سے شروع ہی سے محروم ہوں گے اور یا ان کے پاس شروع میں کسی قدر نور ہو (اس مناسبت سے کہ مسلمانوں کے ساتھ ظاہری اعمال میں انہیں اشتراک حاصل تھا) اور فقدان ایمان وتصدیق کی بناء پر بعد کو بالکل مفقود ہوجائے اور ان کے جرم نفاق یاخداع ایمانی کی مناسبت سے لگتی ہوئی بات تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے انہیں نور مل جائے، اور پھر بلاشان و گمان یک بیک انہیں اس سے محروم کردیا جائے۔ 19۔ مقصود کہنے کا یہ ہوگا کہ یہ نور تو دنیا ہی کے اعمال پر مرتب ہوا ہے۔ ہوسکے تو وہیں سے جا کر اسے حاصل کرو، یہ احمق یہ سمجھیں گے کہ یہیں کہیں قریب ہی جانے سے مل جائے گا ! (آیت) ’ قیل “۔ یہ کہنے والے فرشتے ہوں گے۔ قالہ قتادۃ تقول لھم الملائکۃ (معالم) یا ممکن ہے کہ مومنین ہی ہوں، قال ابن عباس ؓ یقول لھم ال مومن ون (معالم) 20۔ یعنی اہل ایمان تک پہنچنا تو منافقوں کو کیا نصیب ہوگا الٹے ان کے ان کے درمیان ایک آڑ قائم کردی جائے گی۔ اور ادھر یہ پشت پھیریں گے کہ ادھر وہ وہی پہلی روشنی جو دور سے انہیں نظر آرہی تھی وہ بھی غائب کردی جائے گی اور یہ اندھیرے گھپ میں پڑے رہ جائیں گے۔ (آیت) ” بینھم “۔ یعنی مومنوں اور منافقوں کے درمیان۔ اے بین ال مومنین والمنافقین (مدارک) (آیت) ” باطنہ “ اندرونی جانب یعنی مومنین کے رخ والی سمت۔ (آیت) ” ظاھرہ ‘۔ بیرونی جانب یعنی کافروں کے رخ والی سمت۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

منافقین) پکار کر (مومنین سے) کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے، وہ کہیں گے ہاں تھے تو لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور تم راستہ دیکھا کرتے تھے اور تم شک رکھتے تھے اور تم کو تمہاری بیہودہ تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا، اور تم کو بڑے فریبییے نے اللہ کے ساتھ فریب میں ڈالے رکھا،21۔

21۔ (اور آخر وقت تک کبھی تو بہ ورجوع کی توفیق نہ ملنے دی) اہل ایمان جواب دیں گے کہ بیشک تم بظاہر تو ہمارے ساتھ تھے اور ہم میں ملے جلے ہوئے تھے۔ لیکن ایسا ساتھ کس کام کا جبکہ دل سے تم اسلام اور پیغمبر اسلام کے دشمن تھے ؟ اور آخر وقت تک وہی ابلیسی مغالطہ کے شکار رہے۔ (آیت) ’ الم نکن معکم “۔ یعنی کیا ہم اعمال میں اور طاعات میں تمہارے شریک نہیں رہتے تھے ؟ (آیت) ” وتربصتم “۔ یعنی اسلام کے مٹ جانے ہی کا انتظار کرتے اور اس کی آس لگائے بیٹھے رہے۔ (آیت) ” وارتبتم “۔ اور تمہیں اسلام کی صداقت وحقانیت میں شبہ ہی رہا کیا۔ (آیت) ” الامانی “۔ بہیودہ تمنائیں یہی کہ ہم اپنے جس طریقہ پر ہیں، یہی ہماری نجات کے لیے کافی ہے۔ (آیت) ” غرکم باللہ “۔ اللہ سے متعلق دھوکا یہی کہ مذہب کفر حق ہے اور دین اسلام نعوذ باللہ ایک ڈھکوسلا ہے۔ (آیت) ” امر اللہ “۔ یعنی موت اے الموت (مدارک) (آیت) ” حتی جآء امر اللہ “۔ یعنی عمر بھر انہیں کفریات میں پڑے رہے اور توبہ نہ کی۔ یہاں تک کہ موت آگئی۔ (آیت) ” الغرور “۔ بڑا فریبیا یعنی شیطان “۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

غرض آج نہ تم سے کوئی معاوضہ لیاجائے گا اور نہ کافروں سے، تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے وہی تمہاری رفیق ہے اور وہ کیسا بر اٹھکانا ہے،22۔

22۔ (کہ یہ دار الجزاء ہے۔ دارالعمل نہیں۔ اور تمہاری معیت ظاہری یہاں نجات کے لیے ہرگز کافی نہیں ہوسکتی) (آیت) ” منکم فدیۃ ولا من الذین کفروا “۔ یعنی نہ چھپے ہوئے کافروں (منافقوں) سے اور نہ کھلے ہوئے کافروں سے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے آگے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان کے قبل کتاب ملی تھی پھر ان پر ایک لمبازمانہ گزر گیا تو ان کے دل خوب سخت ہوگئے اور ان میں کے بہت سے کافر ہیں،23۔

23۔ یعنی بجز ایک قلیل تعداد کے جو ان میں سے مسلمان ہوگئی باقی کثرت سے ان لوگوں کو قبول حق سے عار آنا شروع ہوگیا۔ اور نبی کریم ﷺ کی عداوت ان کے دلوں میں خوب گہری بیٹھ گئی۔ (آیت) ’ ’ الم ...... الحق “۔ ذکر ان مومنین کا ہے جو صاحب ایمان تو ہیں لیکن ان کے عمل میں کثرت سے کو تاہیاں ہیں، انہیں کو ترغیب دی جارہی ہے کہ ترک معاصی، اور طاعات ضروری کی پابندی کا عزم دل سے کرلیں اور اس توبہ و رجوع میں جلدی کریں۔ (آیت) ” الم یان “۔ مراد یہ ہے کہ رجوع و توبہ میں تاخیر وتساہل ہی کیوں ہو ؟ (آیت) ” کالذین ...... قبل “۔ مراد یہود وصاحب صحائف اسرائیلی ہیں۔ کالذین .... قلوبھم “۔ قدیم اہل کتاب نے جب اپنی اپنی کتاب کے ہدایات کے برخلاف شہوات ومعاصی میں انہماک پیدا کرلیا تو رفتہ رفتہ ان کی قساوت قلب کی اب یہ نوبت پہنچ گئی کہ ندامت وملامت اضطراری کی بھی اہلیت باقی نہ رہ گئی۔ آیت سے ایک عملی سبق یہ ملا کہ خود مسلمانوں کو معاصی سے توبہ ورجوع میں عجلت کرنا چاہیے ورنہ بعض اوقات رفتہ رفتہ توبہ کی توفیق ہی جاتی رہتی ہے۔ اور پھر عیاذ اباللہ نوبت کفر تک پہنچ جاتی ہے۔ الایۃ تدل علی ان کثرۃ المعاصی ومساکن تھا والفھا تقسی القلب وت بعد عن التوبۃ (جصاص) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک خشوع کالزوم و دوام، دوسرے یہ کہ طول غفلت سے قساوت قلب پیدا ہوجاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ قساوت کا علاج ذکر اللہ کی کثرت ہے۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جانے رہو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے خش ہوئے پیچھے زندہ ردیتا ہے ہم نے مثالیں تمہارے سامنے کھول کر پیش کردی ہیں تاکہ تم سمجھو،24۔

24۔ (کہ جس طرح اللہ بارش بھیج کر خشک زمین کو از سرنو تازہ وسرسبز کردیتا ہے۔ اسی طرح توبہ کے اثر سے وہ خالق ذولاجلال قلب مردہ کو بھی زندہ اور درست کردیتا ہے۔ اس لیے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں)
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بلاشبہ صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں (یہ جو) اللہ کو خلوص کے ساتھ (قرضہ دیں) تو وہ صدقہ ان کے لئے بڑہا یا جائے گا اور ان کے لئے اجر پسندیدہ ہے،25۔

25۔ اس آیت کے لیے ملاحظہ ہوسورۂ ہذا کا حاشیہ نمبر 15۔ قرض حسنہ۔ اصطلاح شریعت میں ایسے مال کو کہتے ہیں جو حلال کمائی سے خوشدلی اور اخلاص نیت کے ساتھ صاحب احتیاج کو دیا جائے۔ والقرض الحسن ان یتصدق من الطیب عن طیبۃ النفس وصحۃ النبیۃ علی المستحق للصدقۃ (مدارک)
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں وہی تو اپنے پروردگار کے ہاں صدیق اور شہید ہیں، ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور (خاص) ہوگا،26۔ اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں خوب جان لو ،

26۔ یعنی جن لوگوں نے تصدیق ایمانی اور پابندی طاعات پوری طرح کرکے مومن ہونے کا حق ادا کردیا، وہ اللہ کے ہاں تو مرتبہ صدیقیت وشہادت پر پہنچ گئے۔ (آیت) ” الصدیقون “۔ صدیق یہاں اسی معنی میں ہے جس معنی میں اردو میں ” ولی “ بولتے ہیں۔ لفظی معنی اس شخص کے ہیں جو بڑی کثرت سے صدق سے کام لیتا ہو، یا جو اپنی زبان سے، قلب سے عمل سے سب سے تصدیق کرتا ہو، والصدیق من کثر منہ الصدق (راغب) قیل بل لمن صدق بقولہ واعتقادہ وحقق صدقہ بفعلہ (راغب) الصدیق کثیر الصدق (معالم) اے السابقون فی التصدیق (جلالین) (آیت) ” والشھدآء “۔ شھید یہاں لغوی معنی میں ہے۔ یعنی حق کے گواہ۔ اے ہم الذین استشھدوا فی سبیل اللہ (مدارک) وارادا بالشھداء ال مومنین المخلصین (معالم) باقی اگر شھید سے یہاں مراد اصطلاحی شہید یا قتیل فی سبیل اللہ ہو، جیسا کہ بعض اکابر مفسرین کا قول ہے۔ تو معنی یہ کیے جائیں گے کہ مومن کامل اپنی جان ومال دونوں کو اپنی جگہ پر تو اللہ کی راہ میں وقف اور خدمت دین کی نذر کر ہی دیتا ہے۔ ؛ رہا یہ کہ اس کے بعد بھی جان گئی یا رہی تو یہ تو اس کے اختیار کی چیز نہیں۔ (آیت) ” عندربھم “۔ یعنی حکم الہی میں۔ پروردگار کے نزدیک۔ اے فی حکمہ وعلمہ سبحانہ (روح) المراد اولئک فی حکم اللہ تعالیٰ بمنزلۃ الصدیقین والشھداء المشھودین بعلوالرتبۃ ورفعۃ المحل (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مومنین کو مطلقا صدیق وشہید فرما دینا دلیل ہے اس پر کہ ان میں بھی مراتب ہیں اور ادنی مرتبہ ہر مومن کو حاصل ہے جیسا کہ ولایت عامہ ہر مومن کے لیے عام ہے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

کہ دنیوی زندگی محض ایک کھیل کود اور (ظاہری) خوشنمائی اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال واولاد میں ایک دوسرے پر اپنی برتری جتلانا ہے،27۔ گویا کہ مینہ ہے کہ اس کی پیداوار کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر خشک ہوجاتی ہے سو تو اسے زرد دیکھتا ہے، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے،28۔ اور آخرت میں عذاب شدید بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی، اور دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے،29۔

27۔ (اس لیے بحیثیت مقصود کے ہرگز قابل توجہ والتفات نہیں) یہاں یہ بتادیا ہے کہ مقاصد سب کے سب فانی وسریع الزوال ہوتے ہیں اور اہل دنیا عمر کے ہر دور میں انہیں کے الٹ پھیر میں رہتے ہیں۔ لڑکپن کا زمانہ کھیل کود کی نذر ہوجاتا ہے۔ سن اور بڑھا تو حسن وعشق کے جھمیلے میں پڑگئے، یا تجارت، ملازمت وغیرہ زرکشی کے پیشوں میں لگ گئے، سن کہولت آنے آنے لگا تو اب ایک دوسرے کے مقابلہ میں فخر ومسابقت مال وجاہ و شرافت خاندانی وغیرہ کی بنیادوں پر ہونے لگا۔ غرض ساری عمر انہیں بےبنیاد وبے ثبات مقصدوں کے پیچھے دوڑتے رہنے میں گزر جاتی ہے۔ اور آخرت جو مقصود اصلی ہے اور حیات لافانی ہے وہ عمر کے کسی حصہ میں خیال میں نہیں آتی۔ آیت کے مفہوم کا انطباق جس طرح دنیا پرست افراد واشخاص پر ہوتا ہے اسی طرح آخرت فراموش ودنیا پرست قوموں، حکومتوں اور نسلوں پر بھی ہوتا ہے۔ مشائخ صوفیہ نے کہا ہے کہ آیت سے صریح تعلیم دنیا سے زہد اور بین رغبتی کی نکلتی ہے۔ 28۔ تشبیہ سے مقصود بہار دنیا کے بالکل عارضی ہونے اور پھر اس کے زوال واضمحلال کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ 29۔ (عالم آخرت کی بقاء وپائداری کے مقابلہ میں) دنیا کی بےثباتی اور فنا پذیری پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس عارضی وفانی دنیا و سامان دنیوی کے برعکس عالم آخرت باقی و لازوال ہے اور وہاں کی کیفیتیں دو ہیں۔ دونوں ثابت و باقی، ایک کافروں کے لیے اور وہ عذاب شدید ہے، دوسری ایمان والوں کے لیے اور وہ اللہ کی مغفرت و رحمت ہے۔ اب انسان کو اختیار ہے کہ ان دو میں سے جس کو چاہے اپنا مقصود اعظم بنا لے۔ (آیت) ” مغفرۃ من اللہ ورضوان “۔ مشائخ صوفیہ نے کہا ہے کہ مغفرت عامہ مومنین کے حصہ میں آئے گی، اور (آیت) ” رضوان “ ، خواص وعاشقین کے نصیب میں۔ (آیت) ” متاع الغرور “۔ یہ دنیا دھوکے کی ٹٹی بس انہیں لوگوں کے حق میں ہے جو اس میں پڑے رہتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کیے رہتے ہیں، آخرت کو بھلائے ہوئے لمن رکن الیھا اعتمدعلیھا (مدارک) اے ھی متاع فان غار لمن رکن الیہ فانہ یغتربھا وتعجبہ حتی یعتقد انہ لا دار سواھا ولا معاد وراء ھا (ابن کثیر) لمن لم یشتغل فیھا بطلب الاخرۃ (معالم، عن سعید بن جبیر) لمن اطمأن بھا ولم یجعلھا ذریعۃ الاخرۃ (روح)
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

دوڑو اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کی سی ہے،30۔ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جسے چاہے عطا کرے، اور اللہ ہی بڑے فضل والا ہے،31۔

30۔ یعنی بےانتہاء وسیع، قرآن محاورۂ انسانی میں ہے اور محاورۂ انسانی میں زمین و آسمان کی سی وسیع کے معنی ہی بےانتہاء وسیع کے ہیں۔ قرآن مجید کی بلاغت ملاحظہ ہوجونہی اس متاع دنیا کے فانی اور ہیچ ہونے اور دولت آخرت کے باقی وقائم ہونے کا نقش دل میں بیٹھا، معا جنت کی طرف دوڑ کرنے کا پیام پہنچا دیا (آیت) ” سارعوا الی مغفرۃ “۔ الخ۔ 31۔ (وہ صرف خواص اور مجاہدین یا عاشقین ہی کو نہیں، ہر عامی مومن کو بھی اپنے فضل وکرم کے بحر بیکراں سے سیراب کرے گا) (آیت) ” اعدت ..... رسلہ “۔ اس میں جتا دیا کہ جنت تو ہر مومن کا مستقر اصلی ہے ہی۔ (آیت) ” ذلک ..... یشآء “۔ اس میں یہ اشارہ کردیا کہ کوئی اپنے اعمال پر مغرور نہ ہوجائے۔ یعنی یہ تو محض ہمارا فضل وکرم ہے جو جنت میں پہنچا دیتا ہے اور اس کا مدار ہماری مشیت پر ہے گو ہم نے اپنی رحمت سے اپنی مشیت ان عمل کرنے والوں ہی کے ساتھ وابستہ کردی ہے۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی سی بھی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ خاص تمہاری جانوں میں، مگر یہ کہ (سب) ایک رجسٹر میں (لکھی ہیں) قبل اس کے کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں، یہ اللہ کیلئے آسان ہے،32۔

32۔ (کیونکہ اس کے علم میں حال ومستقبل سب یکساں ہے) ما ..... نبراھا “۔ یعنی جتنی بھی مصبیتیں انسان کے لیے ممکن ہیں خواہ داخلی ہوں یاخارجی۔ سب ازل سے مقدر ہیں۔ (آیت) ’ کتب “۔ مراد لوح محفوظ ہے۔ وھو اللوح المحفوظ اے مکتوبۃ فیہ (بحر) یعنی اللوح المحفوظ (معالم) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی قبل وقوع ان کا لکھ دینا۔ اے تقدیر ذلک واتیانہ فی کتاب (مدارک) ( آیت) ” نبراھا “۔ ضمیرھا، انفس کے لیے ہے۔ والضمیر علی ما روی عن ابن عباس وقتادۃ والحسن وجماعۃ للانفس (روح)
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

) یہ بات بتادی گئی ہے) تاکہ جو چیز تم سے لی جارہی ہے اس پر (اتنا) رنج نہ کرو، اور جو چیز اس نے تمہیں دی ہے اس پر اتراؤ نہیں،33۔ اور اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا،34۔

33۔ یعنی کوئی نعمت یا عطیہ الہی تمہارے دلوں میں اتراہٹ یا فخر کے جذبات نہ پیدا کرنے پائے جو طاعت الہی سے مانع ہوجاتا ہے۔ باقی رہی طبعی مسرت تو وہ تو جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن ہے۔ اتراہٹ تو اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان کسی خوبی کو اپنی ذاتی استحقاق کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کی جڑ کاٹ دی، جب نعمت کے لیے محض حق تعالیٰ کے حکم ومشیت کا استحضار ہوگیا تو اب اتراہٹ ہونے ہی کیوں لگی ؟ (آیت) ” علی مافاتکم “۔ جو چیز تم سے جاتی رہے تمہارے محبوبات ومرغوبات میں سے مثلا مال یا اولاد یا صحت و عافیت یا حسن وشباب یا کوئی عزیز یا دوست۔ ل کے اس کا عامل اخبرنا کم مقدر ہے۔ ) (آیت) ” لاتاسوا “۔ یعنی رنج وغم حد سے زیادہ نہ کرو، جو طاعت الہی میں حائل ہوجائے صدمہ طبعی سے کوئی ممانعت مقصود نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں علاج ہے حزن کا تقدیر کے یاد کرلینے سے نیز یہ اشارہ ہے کہ اس میں ضرور ہماری ہی مصلحت ہوگی گو ہمیں تفصیل سے علم نہ ہو۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

(وہ لوگ ایسے ہیں) جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے رہتے ہیں،35۔ اور جو کوئی روگردانی اختیار کرے گا، تو اللہ تو (سر تا سر) بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے،36۔

34۔ یہ وعید ہے اتراہٹ پر۔ (آیت) ” مختال فخور۔ مختال “۔ اور فخور “۔ دو لفظ آئے ہیں۔ اختیال کی بنیاد کمالات داخلی پر ہوتی ہے۔ مثلا علم عبادت وغیرہ اور فخر کی بنیاد کمالات خارجی پر مثلا مال وجاہ وغیرہ۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی چیزیں دے کر بھیجا،37۔ اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور انصاف کرنے کو نازل کیا، تاکہ لوگ اعتدال پر قائم رہیں،38۔ اور اس لئے بھی تاکہ اللہ جان لے کہ بےدیکھے اس کی اور اسکے پیغمبروں کی مدد کون کرتا ہے،40۔ بیشک اللہ (بڑا) قوت والا ہے (بڑا) زبردست ہے،41۔

35۔ (حب دنیا کی بنیاد پر) (آیت) ” یبخلون “۔ البخل۔ بخل کے عام ووسیع معنی ہیں، حق اللہ وحق العباد کو ضائع کردینے اور انہیں اداء نہ کرنے کے۔ یہاں خصوصیت کے ساتھ اشارہ ہے طاعات ضروری میں خرچ کرنے سے رک جانے پر۔ آیت سے اشارہ اس طرف ہوگیا کہ حب دنیا ایسی چیز ہے کہ جس سے اکثر صفات ذمیمہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلا اختیال اور افتخار اور بخل وغیرہ ذلک (تھانوی (رح)) 36۔ یعنی حکم انفاق کے بعد بھی بخل کرتے رہو گے تو اس میں ضرر صرف تمہارا ہی ہے۔ حق تعالیٰ کا اس میں کیا نقصان، وہ ذات پاک تو اپنی ذات وصفات دونوں کے لحاظ سے خود ہی ہر طرح کامل واکمل ہے بلکہ استکمال بالغیر تو اس کے لیے محال ہی ہے۔ آیت سے اس عقیدہ جاہلیت کی بھی تردید مقصود ہے کہ پجاریوں کی خدمات سے خود دیوتا اور خدا مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ 37۔ (اسی اصلاح اخروی کی غرض سے) (آیت) ” البینت “۔ کے تحت میں احکام، ہدایات، دلائل ومعجزات سب آگئے۔ اے الحج والمعجزات (روح) 38۔ حقوق اللہ میں حقوق العباد میں غرض سارے اجزائے شریعت میں) (آیت) ’ وانزلنا .... بالقسط “۔ یعنی انہیں آسمانی کتابوں میں احکام بندوں کی باہمی معاملت و معاشرت سے متعلق دیئے، اور ہدایات عدل اور ادائے حقوق کے بارے میں نازل کیے۔ شریعت اسلامی کا تعلق صرف فلاح آخرت سے نہیں بلکہ اس دنیا کے بھی پورے انتظامات سے ہے اور شریعت کے اس دنیوی اور انتظامی جزء کی اہمیت خصوصی آیت کے الفاظ سے ظاہر ہورہی ہے۔ (آیت) ” الکتب “۔ کتب ظاہر ہے کہ یہاں جنس کتاب کے لیے ہے اور اس سے مراد تمام کتب وصحائف آسمانی ہیں۔ اے جنس الکتب الشامل للکل (روح) (آیت) ” المیزان “ میزان سے مراد عدل یا احکام عدل سے لی گئی ہے۔ المیزان اشارۃ الی حمل الناس علی تلک الاحکام المبینۃ علی العدل والانصاف (کبیر) یعنی العدل (معالم) وھو العدل قالہ مجاھد وقتادۃ وغیرھما (ابن کثیر) و اکثر المتأولین علی ان المراد بالمیزان العدل (بحر) بعض محققین نے اس لفظ سے مراد عقل سلیم یا معرفت حق یا ضمیر لی ہے، جو ہر انسان کی سرشت میں داخل ہے اور دعوت انبیاء ہی کی طرح اس کے بھی بغیر حجت الہی انسان پر قائم نہیں ہوتی چناچہ اور مجنون اسی لئے تو تکلیف شرعی سے بری ہیں کہ ان کی عقلیں اور ان کے ضمیر کامل اور نمویافتہ نہیں۔ المیزان ھو الذی یتمیز بہ العدل عن الظلم والزائد عن الناقص (کبیر) لیقوم میں ل تعلیل کا ہے۔ علۃ لانزال الکتاب والمیزان والقیام بالقسط (کبیر) لیقوم میں ل تعلیل کا ہے۔ علۃ لانزال الکتاب والمیزان والقیام بالقسط (روح) یعنی ہدایت خلق انہیں دو امور تعلیم کتاب ومیزان سے قائم ووابستہ ہے (آیت) ” الکتب والمیزان “۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کتاب سے اشارہ قوت نظری کی جانب ہے اور میزان سے اشارہ قوت عملی کی جانب۔ والحاصل ان الکتاب اشارۃ الی القوۃ النظریۃ والمیزان الی القوۃ العملیۃ (کبیر) 39۔ (آیت) ” الحدید “ یہی لوہا ہے جسے ہم آپ سب جانتے پہچانتے ہیں۔ (آیت) ” فیہ باس شدید “۔ معمولی اور گھریلو چاقو، چھری، استرہ، قرولی سے لے کر تلوار، نیزہ، سنگین، خنجر، پستول، رائفل، مشین گن، توپ، وغیرہ سے ہوتے ہوئے جدید ترین قسم کے آلات مہلک، ایٹم بم پر نظر کرجائیے۔ ہر ایک میں کار فرمائی اسی مہلک اور پرہیبت دھات، لوہے ہی کی نظر آئے گی اور پھر ہتھیاروں یا اسلحہ کے علاوہ دوسرے قسم کے مہلک آلات حرب، ٹینک، جیپ آرمرڈ کار، ڈریڈ ناٹ جہاز، آبدوز کشیتاں، تباہ کن کشتیاں، بمبار طیارے، شکاری طیارے وغیرہا، ان سب کو بھی نظر میں رکھیے جب جاکر لفظ قرآنی کی حیرت انگیز ومعجزانہ جامعیت کی قدر ہوگی۔ (آیت) ” ومنافع للناس “۔ آج دنیا جس کارخانہ عالم کو کارگاہ تہذیب و تمدن کے نام سے یاد کرتی ہے، اس سے لوہے کو چھوٹے بڑے سارے مصنوعات، گھریلو ہل، اور سوئی اور نب اور پن اور سیفٹی پن اور قینچی اور ہولڈر اور پھاوڑہ اور بیلچہ اور کدال اور استرے اور ناخن گیر اور کرچھے اور دست پناہ اور کھرپے اور بسولے اور ہنسیا اور گنڈا سے اور کلہاڑی اور چھلنی اور ہاون دستہ اور کرنی اور ہتھوڑے اور انگیٹھی اور ترازو کے پلڑے اور ترازو کے بانٹ اور کیل اور برنجی کیل اور موٹے چولھے اور کنجی اور قفل اور پتر اور آرے اور قبضے اور پیچکش اور سٹکنی اور زنجیر اور کنڈی اور چھتری کی تیلیوں اور سائیکل کی تیلیوں اور پانرے اور تانگوں گاڑیوں، اکوں کی کمانیاں اور دھونکنی اور سلاخیں اور توے اور پہیوں کی آہنی خول اور موٹر اور موٹر سائیکلیوں، ریلوے انجن اور فائر انجن اور ٹیلیفون اور ٹیلیگراف اور ریڈیو کے تار اور ریل کی پٹریاں، اور خود اور ٹراموے اور ان سب کے اندر کے بیشمار پرزوں اور جنگی اور غیر جنگی، رزمی، بزمی، ان گنت بڑی اور چھوٹی مشینوں کو ذرا معدوم فرض کرکے دیکھئے کہ اعلی شہری تمدن تو خیر بڑی چیز ہے ادنی دیہاتی تمدن بھی باقی رہ جاتا ہے ؟ یہ سارے جائزے لے ڈالنے کے بعد الفاظ قرآنی کی معجزانہ جامعیت پر بےاختیار قربان ہوجانے کو جی چاہے گا۔ ! 40۔ یعنی تاکہ یہ نمایاں اور ظاہر ہوجائے کہ کون کون ان نعمتوں سے دین کی اقامت ونصرت اور جہاد فی سبیل اللہ میں کام لیتا ہے۔ (آیت) ” لیعلم اللہ “۔ اللہ کے معلوم کرلینے کے معنی ہوتے ہیں کسی شی کے علانیہ ثابت ہوجانے اور ظہور پذیر ہوجانے کے۔ (آیت) ” بالغیب “۔ یعنی محض اپنی قوت ایمانی کے سہارے ایسے خدا اور اس کے دین کی نصرت کریں جو ان کی نظر سے مخفی ومستور ہے۔ اے غائبا منھم (روح، مدارک) اے قام بنصرۃ الدین ولم یر اللہ ولا الاخرۃ (معالم) 41۔ اسے کوئی حاجت کسی قسم کی بھی کسی بندہ کی نصرت واعانت کی نہیں، احکام جہاد وغیرہ جو مل رہے ہیں سب بندوں ہی کے اخلاص کی جانچ پڑتال کے لیے ہیں۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب جاری کردی،42۔ سو ان میں سے ہدایت یافتہ بھی ہوئے، اور اکثر ان میں کے نافرمان نکلے،43۔

42۔ اس میں اس بڑی اہم تاریخی حقیقت کا اعلان آگیا کہ نبوت و شریعت آسمانی کا سلسلہ بنی نوح میں نسل ابراہیمی کے واسطہ سے چلا اور دوسری نسلیں طرح طرح کے شرک اور وہم پرستیوں میں رہ گئیں۔ 43۔ (آیت) ” فمنھم “۔ ضمیر ھم ان پیغمبروں کی ذریت کی جانب بھی ہوسکتی ہے اور امتان دعوت کی جانب بھی۔ اے فمن الذریۃ اومن المرسل الیھم (کبیر) (آیت) ” فسقون “۔ یہاں لفظی معنی میں ہے۔ اصطلاح فقہ میں نہیں، مراد یہاں کافر ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں اور بھی متعدد مواقع پر ہے۔ یعنی الذین ترکوا الایمان بعیسی ومحمد علیھما الصلوۃ والسلام (معالم) فارقون عن حدود دینھم (روح)
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ہم ان کے بعد اپنے پیغمبروں کو یکے بعدد یگرے بھیجتے رہے اور ان کے بعد ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو بھیجا،44۔ اور ہم نے انہیں انجیل دی،45۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی، ان کے دلوں میں ہم شفقت اور نرمی رکھ دی تھی،46۔ اور رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کرلیا، ہم نے ان پر واجب نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں نے اللہ کی رضا مندی کی خاطر (اسے اختیار کرلیا تھا) ،47۔ سو انہوں نے اس کی رعایت پوری پوری نہ کی،48۔ سوا ان میں سے جو (اب) ایمان لائے ہم نے انہیں ان کا اجر دیا اور زیادہ تو ان میں کے نافرمان ہی ہیں،49۔

44۔ (جو سلسلہ انبیاء اسرائیل کے خامت ہوئے ہیں اور ان کے اور خاتم النبین ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں بجز یحییٰ (علیہ السلام) کے جو عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کے معاصر بھی تھے) 45۔ یہ دعوی تو مسلمانوں کا ہے کہ قرآن کی طرح انجیل نامی بھی ایک کتاب آسمانی نازل ہوچکی ہے، لیکن موجودہ مسیحیت صدیوں سے اس دعوے سے کلیۃ دستبردار ہوچکی ہے وہ تو اس کی قائل ہے کہ مسیح (علیہ السلام) سرے سے کوئی پیامبر ہی نہ تھے جو کسی اور کا پیام یا کسی کی طرف سے کتاب لے آتے وہ تو خود (نعوذ باللہ) مظہر ذات باری تھے۔ اور ان کی زبانی بعض بشارتیں سن کر اور ان کے معجزات وخوارق دیکھ کر بعض لوگوں نے زبانی یا تحریرا دوسروں تک پہنچا دیئے، اور ان دوسروں نے ان انسانی نوشتوں کے مختلف مجموعوں کو مختلف انجیلوں کے نام سے شائع کردیا۔ قرآن مجید کے الفاظ (آیت) ” واتینہ الانجیل “۔ سے گو اول نظر میں متبادر یہی ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی قرآن مجید کی طرح ایک کتاب انجیل نامی نازل ہوئی تھی لیکن یہ معنی بالکل قطعی اور لازمی نہیں۔ اور یہ تو بہرحال قطعی ہے کہ جس وحی شدہ انجیل کا یہاں ذکر ہے۔ وہ اس نام کی وہ کتاب تو ہرگز نہیں جو اس وقت مسیحیوں کے ہاتھ میں ہے۔ 46۔ (اور یہ علامت ان کے صحیح اتباع مسیح (علیہ السلام) کی تھی) (آیت) ’ الذین اتبعوہ “۔ خوب خیال رہے کہ (آیت) ” رافۃ ورحمۃ “۔ کی صفات مدحیہ ان واقعی متبعین مسیح (علیہ السلام) کے حق میں ارشاد ہورہی ہیں۔ نہ کہ نصرانیوں کے حق میں۔ 47۔ یعنی اس سے مقصود ان لوگوں کا اپنے دین و ایمان کا تحفظ بلکہ کمال روحانی حاصل کرنا تھا۔ (آیت) ” ورھبانیۃ “۔ رھبانیت کے معنی ترک لذات و تحمل شدائد کے ہیں اور بعض اہل لغت کے نزدیک محض زیادتی اور افراط کے۔ الرھبانیۃ غلوفی تحمل التعب من فرط الرھبۃ (راغب) قال القاری واصل الرھبانیۃ من الرھبۃ ثم صارت اسما لما فضل عن المقدار وافرط فیہ (تاج۔ لسان) مسیحیوں نے ابتدائی صدیوں ہی سے بعض مشرک فلاسفہ یونان ومصر وغیرہ کے اثر سے اپنا مسلک رہبانیت یاترک دنیا کا اختیار کرلیا تھا، جس کے تحت میں ترک نکاح، ترک لذائذ غذائی، ترک حیوانات، ترک خانماں، ترک طہارت، ترک اختلاط اور صحرا گزینی وغیرہ سب آگئے۔ والمراد من الرھبانیۃ تربیتھم فی الجبال فارین من الفتنۃ فی الدین مخلصین انفسھم للعبادۃ متحملین کلفا زائدۃ علی العبادات التی کانت واجبۃ علیھم من الخلوۃ واللباس الخشن والعتزال عن النساء والتعبد فی الغیران والکھوف (کبیر) ابتدعوھا۔ اس نے صاف کردیا کہ یہ مسلم ترک دنیا ہرگز تعلیم ربانی کے مطابق وماتحت نہ تھا۔ نہ صراحۃ نہ اس سے ماخوذ ومستنبط۔ (آیت) ” ماکتبنھا علیھم “۔ مزید تاکید وزور کے لیے پھر فرما دیا گیا کہ یہ مسلک ترک دنیا شریعت ربانی کا جزء ہرگز نہ تھا۔ تمامتر ایک انسانی اختراع تھی، صوفیہ محققین نے لکھا ہے کہ سلوک وتصوف سے مقصود تمامتر رضاء الہی ہی رکھنا چاہیے نہ کہ تفاخر و حصول مراتب ودرجات عالیہ۔ (آیت) ” الا ابتغآء رضوان اللہ “۔ اس کا تعلق ابتدعوھا سے ہے۔ یعنی ان کینیت اس بدتع سے اتباع رضاء الہی ہی تھی۔ انھم قصد وابذلک رضوان اللہ تعالیٰ قالہ سعید بن جبیر وقتادۃ (ابن کثیر) 48۔ (اور یہی ہوا کہ اپنے لگائے ہوئے قیود اور اپنے عائد کیے ہوئے شرائط خود ہی نہ نباہ سکے اور پھسل پھسل گئے) ابھی آچکا ہے کہ (آیت) ” الا ابتغآء رضوان اللہ “۔ یعنی ان کی نیت بخیر تھی یہ اپنے اوپر مشقتیں اور کلفتیں انہوں نے تقرب خداوندی ہی کی غرض سے عائد کی تھیں، لیکن بدعت بہرحال بدعت تھی، نباہ یہ اس کا بھی نہ کرسکے۔ رہبانیت کی ساری تاریخ خود مسیحیوں کے قلم کی لکھی ہوئی، ایک بڑی حد تک فسق وفجور ہی کی تاریخ ہے۔ قرآن مجید نے حکیمانہ ایجاز کے ساتھ صرف اشارہ کردیا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ آیت میں راہبین نصاری کی مذمت دو دو حیثیتوں سے ہے۔ ایک تو دین میں بدعت یا نئی راہ نکالنے کی حیثیت سے، دوسرے اس پر کہ اپنی بدعی عبادات والتزامات کو بھی نباہ نہ سکے۔ وھذا ذم لھم من وجھین احدھما الابتداع فی دین اللہ مالم یامر بہ اللہ والثانی فی عدم قیامھم بما التزموہ مما زعموا انہ قربۃ یقربھم الی اللہ عزوجل (ابن کثیر) 49۔ (چنانچہ اس وقت آپ ﷺ پر بھی ایمان نہیں لارے ہیں) (آیت) ” فاتینا الذین ..... اجرھم “۔ یعنی جنہوں نے اپنے پیغمبر وقت کی تصدیق کی اور ان پر پوری طرح ایمان لائے، انہیں اجر بھی پورے کا پورا ملا۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ سے ڈور، اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اللہ تم کو اپنی رحمت سے دو حصہ دے گا،50۔ اور تمہارے لئے (وہ) نور پیدا کردے گا کہ تم اسے لئے چلو پھر وگے، اور وہ تم کو بخش دے گا، اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحم کرنے والا ہے،51۔

50۔ کتابی مومن کے اجر کا دوگنا ہونا ظاہر ہے، ایک، اجر اپنے نبی سابق کی تصدیق کا، دوسرا پیغمبر وقت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کا (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ یہاں خطاب حضرت مسیح (علیہ السلام) پر ایمان رکھنے والوں سے ہے۔ اور انہیں دعوت خاتم النبین پر ایمان لانے کی دی جارہی ہے۔ فی روایۃ النسائی عن ابن عباس انہ حمل ھذہ الایۃ علی مومن اھل الکتاب (ابن کثیر) الخطاب لاھل الکتابین من الیھود والنصاری (معالم) الذین امنوا بعیسی (جلالین) (آیت) ” اتقو اللہ “۔ دعوت ایمان سے معا پہلے اتقواللہ لانے میں اشارہ ہے کہ معاصرین اہل کتاب کی راہ میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی بڑی روک تقوی کی کمی تھی اور ایمان لانے میں بڑا دخل تقوی کو تھا “۔ اس آیت میں جو اہل کتاب کو (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ سے تعبیر فرمایا ہے۔ باوجودیکہ عادت قرآنیہ اس لفظ سے صرف مسلمانوں کو خطاب کرنے کی ہے، اس میں نکتہ غالبا یہ ہے کہ چونکہ یہ ایمان ان کا ایمان بالرسول کے بعد ایمان مقبول ہوجائے گا، اس لیے اس کو ایمان معتدبہ سے تعبیر فرمایا “۔ (تھانوی (رح)) (آیت) ” کفلین من رحمتہ “۔ ملاحظہ ہو سورة القصص (پ 20) (آیت) ” اولئک یؤتون اجرھم مرتین “۔ کا حاشیہ۔ 51۔ اور ان صفات غفر و رحمت کے ظہور کامل کا وقت حشر ہی میں ہوگا) (آیت) ” یجعل ..... بہ “ یعنی ایسا نور ایمان عطا کردے گا جو یہاں سے لے کر پلصراط تک برابر تمہارا رفیق رہے گا۔ (آیت) ” ویغفرلکم “۔ یعنی باوجود تمہارے پچھلے کفر اور شدید نافرمانیون کے بھی تمہاری مغفرت ایمان لانے کے بعد کردے گا۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(اور یہ دولتیں اس لئے عطا کرے گا) تاکہ اہل کتاب کو (قیامت میں) معلوم ہوجائے کہ انہیں اللہ کے فضل کے کسی چیز پر بھی دسترس نہیں، اور یہ کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عطا کرے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،52۔

52۔ (اسے یہ سرکش ونافرمان ذرا سا بھی موقع دیتے تو ان کی نجات ومغفرت رکھی ہوئی تھی) (آیت) ” اھل الکتب “۔ یہ وہی لوگ ہیں۔ جنہیں ابھی ابھی (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ سے مخاطب کیا گیا تھا۔ انہیں محض (آیت) ” اھل الکتب “۔ کہنے میں اشارہ یہ ہے کہ ابھی یہ صرف اہل کتاب ہیں محض انبیاء قدیم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان ظاہر کرنا اور جتلانا انہیں مومن رہنے کیلئے کافی نہیں۔ (آیت) ’ لئلا یعلم “۔ علم یہاں تحقیق کے معنی میں ہے۔ اے لیتحققوا (ابن جریر) (آیت) ” لئلا “۔ یہاں کے یال کے مفہوم میں ہے۔ اے لیعلم ولا مزیدۃ (کشاف) اکثر المفسرین والنحویین علی ان لازائدۃ والمعنی لیعلم (نیشا پوری) اعلم ان اکثر المفسرین علی ان لاھھنا صلۃ زائدۃ والتقدیر لیعلم اھل الکتاب (کبیر) (آیت) ” لئلایعلم “۔ یہ تحقق قیامت کے دن ہوگا۔ جو ہر حقیقت کے انکشاف کامل کا وقت ہوگا۔ (آیت) ” الا ...... فضل اللہ یعنی اہل کتاب عدم ایمان محمدی ﷺ کی حالت میں فضل خداوندی سے ذرا بھی مستفید نہ ہوسکیں گے۔ یہ اہل کتاب کے اس زعم باطل کی تردید میں ارشادہوا ہے کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا دامن پکڑے ہوئے ہیں ہمیں کیا غم واندیشہ ہے۔ (آیت) ” ان .... یشآء اور اسی کی مشیت اپنے فضل کو اہل ایمان کے ساتھ متعلق ومخصوص کرنے کی ہے۔ بحمد اللہ اس پارۂ 27 کی نظر ثانی سے فراغت دو شنبہ 24 صفر المظفر 1367 ؁ھ (مطابق 29 دسمبر 1947 ء۔ ) کو قبل ظہر پائی۔ اور نظر ثالث آج جمعرات 7 شعبان 1369 ؁ھ (مطابق 24 دسمبر 1950 ء۔ ) کو وقت چاشت “۔