57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الحدید۔ سورة نمبر 57 کل رکوع 4 آیات 29 الفاظ و کلمات 586 حروف 2599 مقام نزول مدینہ منورہ فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد جو لوگ اپنے مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے اور جہاد کریں گے وہ ان لوگوں کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جان و مال کی قربانیاں دی تھیں۔ ویسے اللہ ہر ایک کے خلوص اور قربانی کو قبول کرتا ہے۔ اللہ کے راستے میں دین اسلام کی ترقی کے لئے جو مال خرچ کیا جائے گا وہ گویا اللہ کے ذمے ایک قرض ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو بہت بڑھا چڑھا کر ادا فرمائیں گے اور اس کے علاوہ وہ بہترین اجر کے مستحق بھی ہوں گے۔ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تقدیر الٰہی ہے۔ اگر دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو تو اس پر رنج اور افسوس نہ کرنا چاہیے اور اگر بہت کچھ مل جائے تو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ سخت ناپسند ہیں جو شیخ باز اور فخر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس حکمت والے اللہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے اور وہ ہر طرح کی قدرت و طاقت کا مالک ہے۔ وہی اول وہی آخر وہی ظاہر اور وہی باطن ہے۔ اس نے جس چیز کو بیان کیا ہے وہ شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اسی اللہ نے زمین وآسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر وہ اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ گر ہوا۔ کوئی چیز جو زمین میں داخل ہوتی ہے یا سے باہر نکلتی ہے۔ جو چیز آسمان سے اترتی یا آسمان کی طرف چڑھتی ہے اسے ہر چیز کا علم ہے۔ فرمایا کہ تم کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ تم اس سے کسی طرح بھی چھپ نہیں سکتے۔ وہ تمہارے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک ہے۔ وہی اللہ ہے جو رات کو دن میں اور ان کو رات میں داخل کرتا ہے۔ وہ سینوں اور دلوں میں چھپے ہوئے ہر راز سے واقف ہے۔ وہ اللہ جس کی یہ شان ہے وہی اس لائق ہے کہ اس پر ایمان لا کر اس کی عبادت و بندگی کی جائے اور وہ جیسا حکم دے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ اے ایمان والو ! تمہارے ہاتھ میں جو کچھ مال و دولت ہے درحقیقت اس کا مالک اللہ ہی ہے وہی اللہ تمہیں اپنے راستے میں خرچ کنے کا حکم دیتا ہے۔ تم کسی کنجوسی اور بخل کو قریب نہ آنے دو ۔ اللہ کے راستے میں خرچ کرنا گویا اللہ کو قرض حسنہ دینا ہے جس پر بےانتہا اجرو ثواب ہے اور اللہ اس مال کو دوگنا اور چوگنا کرکے واپس کرے گا۔ فرمایا کہ جو مومن مرد اور مومن عورتیں اللہ کے راستے میں خرچی کریں گے ان کو قیامت کے دن ایک ایسا نور عطا کیا جائے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا جس سے پل صراط پر چلنا آسان ہوگا اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جو ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن وہ منافق جو پوری طرح ایمان نہ لائے تھے اور نہ انہوں نے نے اللہ کے راستے میں خرچ کیا تھا وہ اس نور سے محروم رہیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہوں گے۔ جب مومنین پل صراط پر سے نور اور روشنی میں چلنے کی کوشش کریں گے اور اہل ایمان کی رفتار تیز ہوگی اس وقت وہ منافق کہیں گے کہ ذرا آہستہ چلو تا کہ ہم بھی تمہارے ساتھ چل سکیں۔ ایسی بھی کیا بےمروتی ہے کیا دنیا میں ہم ایک ساتھ نہ رہتے تھے۔ اس پر مومن جواب دیں گے کہ آج تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ دنیا میں تم نے اپنے ہی آپ کو گمراہی میں ڈال رکھا تھا اور تم اپنے مفادات میں اس طرح الجھے رہے کہ تم ہدایت نہ حاصل کرسکے اور تمہیں اسی حالت میں موت آگئی۔ اب تمہارا ٹھکانا جہنم ہی ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بھی بیان فرما دیا کہ اہل ایمان کا کام یہی ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہیں جس پر انہیں اجر عظیم عطا کیا جائے گا مگر اس سب کے باوجود ان صحابہ کرام (رض) کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اپنے جان و مال کی قربانیاں دی تھی ان کا اللہ کے ہاں اعلیٰ ترین مقام ہے۔ اللہ نے سوال کیا ہے کہ کیا ابھی وہ قت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کی طرف جھک جائیں ؟ اور وہ ان اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنی بدعملیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو غفلت میں اور دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور جب بھی ان کو کوئی نصیحت کی گئی تو انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور مسلسل اپنی نافرمانیوں اور گناہوں میں پھنسے رہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لا کر ان کی تصدیق کریں گے اور ان کی اطاعت کرکے گناہوں سے بچتے رہیں گے ایسے لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے زبردست اجر اور نور ہوگا اور کافروں کے لئے جہنم کی آگ ہوگی۔ فرمایا کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کھیل تماشہ، ایک دوسرے پر فخر و غرور، مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے سوا اور کیا ہے۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے اور دنیا کی زندگی انتہائی ناپائیدار ہے۔ دنیا کی زندگی اس کھیتی کی طرح ہے جو خوب پھلتی پھولتی اور سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ کسان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ پھر وہی کھیتی زرد ہو کر چورہ چورہ ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی دنیا میں ایک آدمی خوب کماتا ہے، اپنے چاروں طرف راحتوں اور آرام کے سامان جمع کرتا رہتا ہے، دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے پھر اس پر بڑھاپا آجاتا ہے اور ان تما چیزوں کی محبت کے باوجود ان میں اس کے لئے کوئی دلکشی نہیں ہوتی۔ جب کہ آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لئے ہے اللہ سب لوگوں کو مغفرت اور اس جنت کی طرف بلاتا ہے جو ایمان والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اہل ایمان کو بتایا گیا کہ آدمی پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کی تقدیر ہے۔ لہٰذا اگر دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو تو اس پر رنج اور افسوس نہ کرنا چاہیے اور اگر بہت کچھ مل جائے تو اس پر اترایا نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو شیخی باز اور فخر و غرور کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام پیغمبروں کو انسانوں کی اصلاح اور عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ فرمایا کہ اس اللہ نے لوہا نازل کیا اس میں بڑی ہیبت ہے۔ اس کے ذریعہ سامان جنگ تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ جہاد کیا جائے جو انسانوں کے لئے بڑی آزمائش ہے تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ قائم کیا۔ ان کے بعد اللہ کے پیغمبر آتے رہے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو پیغمبر بنا کر ان کو انجیل جیسی کتاب عطا فرمائی لیکن ان کے ماننے والوں نے اس کتاب پر عمل کرنے کے بجائے رہبانیت یعنی ترک دنیا کو اختیار کرلیا حالانکہ اللہ نے ان کو اس کی کوئی تعلیم نہ دی تھی۔ فرمایا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم پر ایمان لائے تھے ان کو حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی تصدیق کرنی چاہے اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو دوگنا اجر وثواب عطا فرمائے گا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں پر ایمان لانے کا اجردگنا کردیا جائے گا اور اللہ ان کو ایسا نور فرمائے گا جس کے ذریعہ پل صراط پر چلنا آسان ہوجائے گا۔ فرمایا کہ اللہ کے گناہ معاف فرما دے گا۔ لیکن جو لوگ ان پر ایمان نہ لائیں گے وہ اللہ کی ہر رحمت سے محروم رہیں گے اور وہ قیامت کے دن خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔

Ayahs 57:1–6

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔ وہی زبر دست حکمت والا ہے۔

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اس کی سلطنت ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اول ہے وہی آخر ہے۔ وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے۔ وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے۔ پھر وہ عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ وہ ہر اس چیز کو اچھی طرح جانتا ہے جو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو چیز اس سے باہر آتی ہے۔ اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز ان (آسمانوں) میں چڑھتی ہے۔ اور تم کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اسے وہ دیکھتا ہے۔

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اسی کی بادشاہت ہے اور تمام کاموں کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور وہی دن کو رات مین داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے ( رازوں اور ) حالات کو جاننے والا ہے۔

لغات القرآن۔ آیت نمبر 1 تا 6 ۔ یلج۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ یعرج۔ چڑھتا ہے۔ بلند ہوتا ہے۔ ینزل۔ اترتا ہے۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر مخلوق اس کی حمدو ثنا میں لگی ہوئی ہے ہر ایک اس کی تسبیح میں مشغول ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس طرح تسبیح اور حمدو ثنا کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، انسان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے وہ اس کی زبان حال سے تعریف و توصیف میں لگی ہوئی ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے کائنات میں کیا کیا انقلابات آرہے ہیں کون سی چیز زمین کے اندر داخل ہو رہی ہے کون سی کونپل زمین سے نکل کر پودا اور درخت بن رہی ہے ایک ایک کونپل اور پتی جو زمین سے پھوٹ کر نکل رہی ہے اور ہر ایک قطرہ اور دانہ جو زمین کے اندر داخل ہو رہا ہے۔ انسانوں کے اعمال جو آسمان کی طر چڑھ رہے ہیں اور جو احکامات اور فیصلے زمین اور کائنات کی مخلوقات کی طرف آرہے ہیں اس کو ہر بات کا پوری طرح علم ہے اور ہر چیز پر اس کو کامل قدرت حاصل ہے۔ نہ کوئی چیز اس کے علم سے باہر ہے اور نہ قدرت سے کیونکہ اسی خالق، مالک اور قادر نے اس کائنات کو چھ دنوں میں بنایا ہے اور دنیا بنانے کے بعد وہ اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا بلکہ اس کا انتظام اس نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے۔ اس کی شان یہ ہے کہ وہ تمام موجودات اور کائنات کے ذرے ذرے کے ووجد سے پہلے ہے اس سے پہلے کچھ نہین ہے سب کچھ اس کے بعد ہے۔ اللہ کی ذات کے سوا ہر چیز کو فنا ہے۔ (کل شئی ھالک الا وجھہ) ۔ لہٰذا اس کائنات میں وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔ اس کی ذات اپنے ظاہر ہونے میں کسی چیز کی محتاج نہیں ہے وہ ہر چیز سے بلندو برتر ہے۔ اس کی حقیقت تک انسانی عقل اور خیال کا پہنچنا ممکن ہی نہین ہے۔ لہٰذا وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہ ہے کہ وہی ایک ذات ہے جو اول بھی ہے آخر بھی ہے، ظاہر بھی ہے اور باطن و مخفی بھی ہے اور ہر چیز کا پوری طرح علم ہے تو صرف اللہ کو حاصل ہے۔ انسان کا خیال، اس کی عقل، اس کی فہم و فراست کی رسائی بھی اس تک نہیں ہے لیکن اس کی ذات کی یہ عظمت ہے کہ وہ دلوں کے چھپے ہوئے رازوں اور انسانوں کی نیت تک سے واقف ہے۔ انسان کہیں بھی جائے، کسی بھی حالت میں ہو وہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدود سے باہر نہیں نکل سکتا وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ہے۔ وہی دن کی روشنی کو نکالتا ہے اور اسی کے حکم سے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ” ھو الاول والاخرو والظاہر والباطن ‘ ‘ اس آیت کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ یہ آیت ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ بلکہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ اور دین حق کے بارے میں شیطان وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس آیت کو آہستہ سے پڑھ لیا کرو۔ (ابن کثیر) ۔ سورة الحدید، حشر، صف، جمعہ اور تغابن جن کو مسبحات کہا جاتا ہے ان کر سول اللہ ﷺ رات کو سوتے وقت پڑھ کرتے تھے۔ (ابو دائود۔ ترمذی) ۔
Ayahs 57:7–10

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

(اے لوگو ! ( تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اپنا مال خرچ کرو ( اس اللہ کے لئے) جس نے تمہیں دوسروں کا قائم مقام بنایا ہے۔ تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں گے۔ اور اپنا مال (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں گے ان کے لئے اجر عظیم ہے۔

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں اس بات کی طرف بلا رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئو۔

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

اور اللہ نے تم سے پکا وعدہ لیا تھا اگر تم یقین کرتے ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے بندے ( حضرت محمد ﷺ پر صاف صاف آیتوں کو نازل کیا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لے آئے۔ اور بیشک اللہ (تمہارے حال پر) بڑا شفیق و مہربان ہے۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کا وارث (مالک) اللہ ہی ہے ۔ جو لوگ فتح (مکہ) سے پہلے (اپنا سب کچھ) خرچ کرچکے ہیں اور جنہوں نے جہاد کیا وہ بڑا درجہ رکھتے ہیں وہ (ان لوگوں کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں) جنہوں نے فتح ( مکہ) کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا۔ اور اللہ نے بھلائی کا وعدہ ہر ایک سے کیا ہوا ہے۔ اور اللہ اس کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔

لغات القرآن۔ مستخلفین۔ قائم مقام بنائے گئے… الاتنفقوا۔ یہ کہ تم خرچ نہ کرو… میراث۔ ملکیت۔ میراث۔ ترکہ… لا یستوی۔ برابر نہیں ہے۔ … الحسنی۔ بھلائی۔ خیر۔ تشریح : وہ اللہ جو زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک، ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے جو ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے اس پر اور اس کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ پر دل کی گہرائیوں اور انتہائی خلوص سے ایمان رکھنا اور اس کے حکم کے مطابق اللہ کی راہوں میں مال خرچ کرنا اس پر بہترین اجرو ثواب کا وعدہ ہے فرمایا کہ آج تم جس مال و دولت کے مالک بنے بیٹھے ہو وہ درحقیقت اللہ ہی کا مال ہے لہٰذا جب اللہ نے تمہیں ایمان کی دولت سے بھی نوازا ہے تو اس کی راہوں میں خرچ کرکے اپنی آخرت درست کرلو۔ فرمایا کہ یہ مال جو آج تمہارے ہاتھوں میں ہے تم سے پہلے یہ کسی اور کے پاس تھا۔ پھر یہ مال و دولت اور جائیداد بھی تمہارے پاس نہ رہے گی بلکہ کچھ دوسرے لوگ اس کے مالک بن جائیں گے۔ یہ دنیا اور اس کا مال و دولت نہ کسی کے پاس رہا ہے اور نہ رہے گا لہٰذا اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس مال و دولت کو آخرت سنوارنے کا ذریعہ بنا لیا جائے ورنہ جب یہ دوسروں کے ہاتھوں میں جائے گا تو اس سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا اور تم اجر عظیم سے بھی محروم رہ جائو گے۔ اسی بات کو وضاحت کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ” آدمی کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال۔ حالانکہ یہ تیرا مال کہاں ہے۔ تیرا مال تو اس کے سوا اور کیا ہے جو تو نے کھا کر ختم کرلیا یا پہن کر پرانا اور بوسیدہ کردیا یا صدقہ کرکے اس کو آگے بھیج دیا۔ اس کے سوا جو بھی ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانے والا ہے اور تو اسے دوسروں کے لئے چھوڑ جانے والا ہے “۔ (صحیح مسلم) ۔ اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری کتنی بڑی خوش نصیبی ہے کہ اللہ کے رسول تمہارے اندر موجود ہیں۔ تمہیں ایمان کی طرف بلا رہے ہیں اور تمہیں وہ عہد یاد دلا رہے ہیں جو ازل کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی ذریت کو نکال کر ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا تھا کہ بیشک آپ ہمارے رب ہیں۔ یہ ” عہد الست “ جو انسان کی روح میں پوشیدہ ہے اسی کو یاد دلایا جا رہا ہے وہ عہد یاد دلا رہے ہیں جو گذشتہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں سے اس بات پر لیا گیا تھا کہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لا کر ان کی مدد کریں گے۔ اب وہ نبی تشریف لا چکے ہیں اور ان پر ایک ایسی صاف صاف آیتیں والی کتاب نازل کی گئی ہے جو تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لے آئے گی۔ فرمایا کہ دل کھول کر اللہ کے راستے پر خرچ کرو اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنے مال سے ایثار کیا تھا وہ بڑے بلند مقام کے لوگ ہیں وہ وقت اس قدر نازک تھا کہ جب دین کا نام لینا اور اس پر عمل کرنا پورے مکہ میں جرم عظیم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں کسی بات کو اہمیت نہیں دی۔ بےسروسامانی اور حالات کی شدت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ اللہ نے ان کو کفار پر فتح و نصرت عطا فرمائی۔ آخرت کی نجات اور بلند درجات کے مقام پر فائز کیا۔ فتح مکہ کے بعد بھی صحابہ کرام ؓ نے جاں نثاری کی بہترین مثالیں پیش کیں جن پر ان کے لئے اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن اگر فتح مکہ سے پہلے اور بعد میں ایثار و قربانی کا جائزہ لیا جائے تو فتح مکہ سے پہلے ان صحابہ کرام کے درجات بہت بلند ہیں جنہوں نے جان و مال سے کفرو شرک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اجرو ثواب دونوں کے لئے ہے لیکن دونوں کے درجات میں بہت فرق ہے۔ اس جگہ یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ جب حالات قابو میں آجائیں تو اس وقت کا ایثار و قربانی بھی اپنا ایک مقام رکھتے ہیں لیکن جب دین پر مشکل وقت آجائے اور ہر شخص حق و صداقت کے راستے پر چلنے میں دشواریاں محسوس کرنے لگے تو وہ لوگ بڑے قابل قدر ہوا کرتے ہیں جو ہر مصلھت سے بالاتر ہو کر دین اسلام کی سربلندی کے لئے جدوجہد، بھاگ دوڑ اور کوششیں کرتے ہیں اور اپنی جان اور اپنے مال کے خرچ کرنے میں فراخ دل ہوتے ہیں۔ بے شک آج رسول اللہ ﷺ دنیاوی حیات کے ساتھ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں اور آپ کو حیات برزخی حاصل ہے لیکن اللہ کے ودے کے مطابق علماء حق کی کوششوں سے آج نبی کریم ﷺ کی تمام تعلیمات محفوظ ہیں جن کی تبلیغ و اشاعت میں ان علماء نے نہایت دیانت داری سے ہر طرح کی جدوجہد کی ہے، کر رہے ہیں اور انشاء اللہ قیامت تک کرتے رہیں گے۔ یقینا ایسے لوگ انتہائی قابل قدر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر مکمل ایمان رکھنے، عمل صالح کرنے اور ایسے علماء کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ کے دین اور حضور اکرم ﷺ کی سنتوں کو زندہ کرنے میں اپنی عمریں کھپا رہے ہیں۔
Ayahs 57:11–15

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

تم میں سے وہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔ پھر اللہ اس کو اس شخص کیلئے بڑھاتا چلا جائے۔ اور اس کے لئے ایک قابل احترام بدلہ بھی ہو۔

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ جس دن آپ مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھیں گے کہ ( ان کے حسن عمل کا) نور ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہوا ہوگا ( اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں ایسی جنتوں کی خوش خبری دی جاتی ہے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے یہ کہتے ہوں گے کہ ذرا ہمارا انتظا کرلو تاکہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ فائدہ حاصل کرلیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم پیچھے ہی لوٹ جائو پھر وہاں روشنی کی تلاش کرو۔ اتنے میں ان منافق مردوں اور منافق عورتوں ( اور اہل ایمان کے درمیان) ایک ایسی دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دیوار کے اندر کی جانب رحمت (برستی) ہوگی اور باہر کی جانب عذاب ہوگا۔

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

منافق ( اہل ایمان لوگوں کو) پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں تم ہمارے ساتھ تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کرلیا تھا اور تم ہمارے اوپر برے حالات کے منتظر رہا کرتے تھے اور تم دین اسلام سے شک میں پڑے ہوئے تھے اور تمہیں تمہاری غلط تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ڈالے رکھا

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

تو آج کے دن نہ تو تم (منافقین سے ) کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔ وہی تمہارا رفیق ہے اور جہنم تمہارے لئے بدترین ٹھکانا ہے۔

لغات القرآن : یقرض۔ قرض دیتا ہے۔ یضعف۔ وہ دوگنا کرتا ہے۔ اضافہ کرتا ہے۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ انظرونا۔ ہمیں دیکھو۔ ہمارا انتظار کرو۔ نقتبس۔ ہم کچھ حصہ لیں۔ ارجعوا۔ تم لوٹ جائو۔ التمسوا۔ تلاش کرو۔ سور۔ دیوار۔ آر۔ تربصتم۔ تم نے انتظار کیا۔ ارتبتھم۔ تم نے شک کیا۔ غرت۔ دھوکے میں ڈال دیا۔ الامانی۔ تمنائیں۔ مولی۔ مالک۔ خادم۔ تشریح : اللہ جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے وہ اپنے فرماں بردار بندوں کو ان کی کوششوں، جدوجہد اور محنت سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔ آدم کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے وہی مالک ہے لیکن اس کی شان کریمی کے قربان کہ وہ اس کی رضا و خوشنوی کے لئے خرچ کئے گئے مال کو اپنے اوپر قرض قرار دے رہا ہے۔ فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو اللہ کو قرض دے جسے کئی تنا بڑھا کر اس کو واپس کرد یا جائے اور اس کیلئے ایک ایسا بدلہ بھی دیا جائے جو نہایت قابل احترام ہے۔ قرض حسنہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اللہ کے دین کی سربلندی اور صرف اس کی رضا و خوشنودی کیلئے نہایت خلوص، محبت اور عاجزی کے ساتھ کے بندوں پر خرچ کرنا جس میں لالچ، دکھاوا اور احسان جتانے کا کوئی جذبہ نہ ہو۔ نہ تو اس لئے دیا جائے کہ لوگ اس کو یہ کہیں کہ وہ بڑا سختی ہے بلکہ صرف ایک ہی جذبہ ہو کہ اللہ اس سے راضی ہوجائے۔ فرمایا کہ ایسے مخلص مسلمانوں کو اللہ دنیا اور آخرت میں ہر طرح اجرو ثواب اور بہترین انعامات سے نوازے گا۔ آخرت میں اس پل صراط سے گذار کر جنت میں جانے کا حکم دیا جائے گا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔ اہل ایمان کو دو نور اور روشنیاں عطا کی جائیں گے۔ ان کے ایمان کا نور ان کے سامنے ہوگا اور ان کے اعمال کا نور ان کے داہنی جانب ہوگا اور ان کے دوسرے اعمال کا نور ہر طرف روشنی پھیلا رہا ہوگا۔ منافقین ان کے نور کی روشنی میں چل پڑیں گے اور اہل ایمان بڑی تیزی سے پل صراط سے گذر رہے ہوں گے۔ منافقین اس سخت اندھیرے میں جو ہر طرف چھایا ہوا ہوگا اس میں بھٹک رہے ہوں گے وہ اہل ایمان سے التجا کریں گے کہ ذرا ٹھہر جائو اور تیزی سے نہی چلو تاکہ وہ بھی ان کی روشنی میں راستہ طے کرتے جائیں۔ اہل ایمان ان منافقین سے کہیں گے وہ اسی طرف جائیں جہاں سے ہم نے یہ نور حاصل کیا ہے۔ جب وہ منافقین پلٹیں گے تو اہل ایمان اور منافقین کے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اہل جنت اس دروازے سے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور پھر وہ دروازہ بھی بند کردیا جائے گا۔ منافقین چلا کر کہیں گے کہ تم کیسے بےمروت ہو دنیا میں تو ہم اور تم دونوں ایک ساتھ رہتے اور عبادتیں کرتے تھے آج تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ہماری ذرا مدد نہیں کرتے ؟ اس وقت اہل ایمان جواب دیں گے کہ بیشک ہم دنیا میں ایک ساتھ رہتے تھے لیکن ٭تم نے اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ٭تم ہمارے ساتھ ہونے کے باوجود ہر وقت اس بات کی تمنا کرتے تھے کہ ہم کسی آفت یا مصیبت میں پڑجائیں۔ ٭دین اسلام کے ہر اصول میں شک و شبہ پیدا کرنا تمہارا شیوہ تھا۔ ٭تم اپنی غلط اور بےبنیاد تمناؤں میں الجھے رہے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور دھوکے باز شیطان نے تمہیں اپنے جال سے نکلنے نہ دیا۔ ان سے کہا جائے کہ اب تم سے اور کافروں سے کوئی معاوضہ لے کر چھوڑا نہ جائے گا۔ تمہارا ٹھکانا صرف وہ جہنم ہے جس کے تم لائق ہو اور تہ تمہارے لئے بدترین ٹھکانا ہے۔
Ayahs 57:16–19

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ایمان والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کی نصیحت اور جو سچا دین نازل ہوا ہے اس کے سامنے ان کے دل جھک جائیں ؟ انہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنہیں کتاب دی گئی پھر جب ایک لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے بہت بڑی تعداد فاسقین کی ہے۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

اس بات کا یقین کرلینا چاہیے کہ اللہ ہی مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ بیشک ہم نے اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے تاکہ تم سمجھو۔

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بیشک صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور جن لوگوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا اللہ ان کے صدقہ کو خوب بڑھائے گا اور ان کو لائق احترام رزق عطا کرے گا۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے سامنے صدیق اور شہداء ہیں ان کے لئے اجرا ور نور ہے۔ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ جہنم والے ہیں۔

لغات القرآن۔ الم یان۔ کیا وہ وقت نہیں آیا۔ ان تخشع۔ یہ کہ ڈریں۔ جھک جائیں۔ الامد۔ مدت تشریح : جب خشک اور بنجرزمین پر بارش برستی ہے تو اس میں تروتازگی کے آثار اور ایک نئی زندگی کروٹیں لینے لگتی ہے۔ اسی طرح جب شرک کی وجہ سے دلوں کی دنیا ویران، خشک اور تاریک ہوجاتی ہے تو اللہ کے پاکیزہ کلام اور نبوت کی روشنی سے روحانی دنیا روشن ومنور ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور نبوت کو بارش سے تشبیہ دے کر بتا دیا ہے کہ مردہ قوموں میں نئی زندگی اللہ کے پاکیزہ کلام اور نبوت پر مکمل یقین کرلینے اور ماننے کے بعد ہی پیدا ہوا کرتی ہے جس سے ایک نیا عزم و یقین، حوصلہ اور ولولہ بیدار ہوجاتا ہے۔ اللہ کے کلام اور نبوت کی عظمت پر جتنا بھی یقین بڑھتا جائے گا رفتار اتنی ہی تیز ہوتی چلی جائے گی لیکن اگر ایمان و یقین میں ذرا بھی کمی آئے گی تو مقصد میں کوتاہی اور عمل میں سستی اور بےحسی پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے جب اعلان نبوت فرمایا اور اللہ کے کلام کے ذریعہ صحابہ کرام کی تربیت فرمائی تو جاہلی معاشرہ میں رہنے بسنے والے جہالت و تاریکی سے نکل کر علم و عمل کے علم بردار بن گئے اور ساری دنیا کے اندھیرے دور کرنے میں اپنے جان و مال سے اس طرح لگ گئے کہ انہیں اپنی ذات اور بال بچوں سے زیادہ ہر وقت ایک ہی فکر تھی کہ وہ دنیا سے ظلم اور جہالت کو کس طرح مٹائیں چناچہ انہوں نے ہر طرح کے ایثار و قربانی کی بہترین مثالیں قائم کیں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب اس طرح کی مخلصانہ تحریک کا آغاز ہوتا ہے تو وہ لوگ جو نئے نئے اس عزم و حوصلے میں شریک ہوتے ہیں تو ان میں وہ جذبہ اور اسپرٹ نہیں ہوتی جو ان سے پہلے لوگوں میں ہوتی ہے۔ ان آیات میں ایسے ہی مومنین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ایمان والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور وہ سچا دین جو ان کی ہدایات کے لئے نازل کیا جا رہا ہے اس کی طرف پوری طرح جھک جائیں۔ عبرت و نصیحت حاصل کرانے کے لئے فرمایا کہ تمہارے سامنے قرآن کریم کے ذریعہ گذری ہوئی قوموں کے واقعات بیان کئے جا رہے ہیں کہیں تم بھی ان گذری ہوئی قوموں کی طرح نہ ہوجانا کہ جب ان پر ایک طویل زمانہ گذر گیا تو وہ ایمان کی کیفیات سے اتنی دور چلے گئے کہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے ان کے دل تکبر اور غرور کی وجہ سے پتھر سے زیادہ سخت ہوگئے اور ان کی بڑی تعداد فسق و فجور اور گناہوں میں مبتلا ہوگئی۔ اگر وہ اللہ کے دین پر قائم رہتے تو جس طرح پانی کے چھینٹے سے زمین میں ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے اسی طرح ان کی زندگی میں بھی بہار آجاتی۔ ہر سمجھ اور عقل رکھنے والے کے لئے اللہ نے ہر بات کو نہایت وضاحت سے کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان ایمان والے مردوں اور عورتوں کی تعریف کی ہے جو اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں صدقات اور جب دین کی سربلندی کے لئے قرض حسنہ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آگے بڑھ کر اس کارخیر میں حصہ لیتے ہیں اسی طرح اللہ و رسول کی اطاعت اور اپنے ایمان کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ایسے لوگوں کے اجرو ثواب میں وہ اضافہ ہی کرتا چلا جائے گا اور قیامت میں ان کو عزت کی روزی اور رزق عطا فرمائے گا لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفرو شرک کیا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا ان کا انجام بھیانک جہنم ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

تم اس بات کو ( اچھی طرح) جان لو کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل کود، زیب وزینت، آپس میں ایک دوسرے پر فخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ ہے۔ اس کی مثال اس بارش جیسے ہے کہ ( جس کی وجہ سے ) اس کی پیداوار کاشت کار کو خوش کردیتی ہے۔ پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑجاتی ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے۔

1
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

اور آخرت کا عذاب شدید ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ( کا وعدہ ہے) اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے اور فریب کے اور کیا ہے ؟ تم اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس جنت کا پھیلائو ایسا ہے جیسے آسمان اور زمین کا پھیلائو۔ یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ محض اللہ کے فضل و کرم سے (ملتی ہے) وہ جس کو چاہے گا عطا فرما دے گا اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔

لغات القرآن : لعب۔ کھیل کود۔ لھو۔ کھیل تماشا۔ تفاخر۔ آپس میں فخر کرنا۔ اپنی بڑائیاں کرنا۔ تکاثر۔ ایک دوسرے سے کثرت میں آگے بڑھنا۔ غیث۔ بارش۔ یھیج۔ زور پکڑتا ہے۔ مصفر۔ زرد۔ حطام۔ چورہ چورہ۔ تشریح : فرمایا کہ اگر غور کیا جائے تو آدمی کی زندگی کے انقلابات اور تبدیلیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ اس دنیا میں اس کا قیام عارضی اور وقتی ہے اس کی کسی حالت کو بھی قرار نہیں ہے۔ ہر چیز فنا ہوتی رہتی ہے کسی چیز اور کسی حالت کو ہمیشگی حاصل نہیں ہے مثلاً آدمی بچپن میں ایسی بےمقصد، فضول اور بیکار چیزوں سے کھیلتا ہے کہ جوانی میں قدم رکھتے ہی اس کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ بچپن میں اس کی باتیں کس قدر بےربط اور اس کے کام کیسے مضحکہ خیز تھے جن چیزوں کو وہ اہمیت دیتا تھا اور جن کھلونوں سے وہ کھیلتا تھا جوانی میں اس کے لئے بےحقیقیت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جب بڑھاپا آتا ہے تو جوانی کی غلطیوں کو یاد کرکے ہنستا ہے یا شرمندہ ہوتا ہے اور بڑھاپے کی عمر میں سوائے آپس کے فخر یہ قصے یا کہانیوں کے یا اپنی اولاد کی کثرت، مال و دولت کے اعداد و شمار کے اور کچھ بھی نہیں رہتا مرنے سے پہلے اسے اس بات کا شدت سے احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ زندگی بھر جن چیزوں کو مال و دولت کو اور اولاد کو بڑی اہمیت دیتا تھا ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زندگی بھر سائے کے پیچھے بھاگنے اور دوڑنے والو ! اگر دوڑنا ہے تو اس جنت کی طرف دوڑو جو اتنی وسیع ہے اور اس کا پھیلائو اتنا زبردست ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین بھی اس میں سما جائیں گے۔ اور پھر وہاں کی ہر نعمت ہمیشہ کے لئے ہے۔ آدمی وہاں ہمیشہ جوان رہے گا۔ ہر خوشی کو دوام ملے گا وہ جو چاہے گا اس کو وہاں عطا کیا جائے گا۔ زندگی بھر وہ جس سکون کے لئے بےچین رہتا تھا وہ صرف جنت ہی میں نصیب ہوگا۔ فرمایا کہ دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش برسنے کے بعد اس نباتات اگتی ہیں ہر طرف سرسبزی و شادابی پھیل جاتی ہے وہ کاشتکار جس نے محنت کرکے زمین میں دانا ڈالا تھا جب وہ دانہ ابھر کر پودا یا درخت بن جاتا ہے تو اس کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا لیکن جہاں گرم ہوائیں چلیں اور پودوں کی پتیاں خشک ہو کر چورہ چورہ ہوئیں تو سرسبزی و شادابی ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ اسی طرح آدمی کا حال ہے کہ وہ ابھرتا ہے، خوبصورت اور حسین نظر آتا ہے جب جوانی گذر کر بڑھاپا آتا ہے تو وہی خوبصورتیاں جو اس کو مدہوش اور مست کردیتی تھیں اب ان میں کوئی ایسی دلچسپی نہیں رہتی بلکہ اس کی زندگی کی یہ ویرانی اس کو شدید الجھن میں ڈالے رکھتی ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا دنیا کی زندگی سوائے فریب نظر کے اور کیا ہے ؟ آخرت میں انسان کے لئے دو چیزیں ہوں گی (1) شدید ترین عذاب (2) یا اللہ کی رضا و مغفرت۔ بد نصیب کفار و مشرکین کو شدید عذاب دیا جائے گا اور صالح اہل ایمان لوگوں کو جنت کی راحتوں کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا اور اس کی مغفرت بھی نصیب ہوگی۔ اہل ایمان سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ جنت کی طلب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جائیں تاکہ ان کو سکون نصیب ہو۔ لیکن یہ جب ہی نصیب ہوگا جب اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کی جائے گی۔ وہ جنتیں اتنی عظیم اور وسیع ہوں گی کہ ساتوں آسمان اور زمین بھی اس میں سما جائیں تب بھی کوئی فرق نہ پڑے گا۔ یہ اللہ کا فضل و کرم جس پر بھی ہوجائے وہی خوش نصیب ہے اور اللہ تو اپنے بندوں پر فضل و کرم ہی کرتا ہے۔
Ayahs 57:22–24

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی آفت یا مصیبت جو زمین پر (نازل ہوتی ہے) یا تمہیں پہنچتی ہے وہ سب ہم نے ایک کھلی کتاب میں لکھ رکھی ہے۔ اور ایسا کرنا یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

( یہ تمہیں اس لئے بتایا گیا ہے) تاکہ تمہیں جو چیز ہاتھ نہ لگے اس پرت رنجیدہ نہ ہوا کرو اور جو تمہیں عطا کردیا جائے اس پر اترایا نہ کرو۔ کیونکہ اللہ کو ایسے لوگ سخت ناپسند ہیں جو اتراتے اور فخر و غرور کرتے ہیں۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

وہ لوگ بھی ناپسند ہیں جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل اور کنجوسی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اب اگر کوئی (اس سچائی کے آنے کے بعد بھی) منہ پھیرتا ہے تو بیشک اللہ بےنیاز ہے (اس کو کسی کی پرواہ نہیں ہے) اور ہی تمام خوبیوں کا مالک ہے۔

لغات القرآن۔ سابقوا۔ دوڑو۔ عرض۔ پھیلائو۔ ان نبرا۔ یہ کہ ہم پیدا کریں۔ یسیر۔ آسان۔ لیکیلا۔ تاکہ نہ ہو۔ مختال۔ اترانے والا۔ فخور۔ بہت زیادہ گھمنڈ کرنے والا۔ تشریح : اس زمین پر یا کسی انسان پر جو بھی راحت و آرام اور مصیبت و عذاب آتا ہے وہ تقدیر الٰہی اور اللہ کے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق ہی آتا ہے۔ زمین مصیبت سے مراد مال و دولت کا ضائع ہوجانا، تجارت اور لین دین میں گھاٹا اور نقصان ہوجانا، زلزلہ ، قحط اور کھیت کی تباہی وغیرہ زمینی مصیبت ہے اور کوئی اتفاقی حادثہ، زخم، چوٹ، بیماری بےآرامی، باہمی اختلافات، فتح اور شکست وغیرہ یہ انسانی نقصانات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ سب کا سب لوح محفوظ میں آدمی کے پیدا ہونے سے پہلے لکھ دیا گیا تھا۔ اب اس کی طرف اس لئے متوجہ کیا جا رہا ہے کہ دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا چھن جانا دونوں ہی امتحان ہیں۔ آدمی کی تقدیر کے فیصلے پر صبرو شکر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی چیز ضائع ہوجائے چھن جائے، تہس نہس ہوجائے تو اس سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے اور اگر اس کو ہر طرح کی راحتوں اور آرام کے اسباب اور مال و دولت مل جائے تو اس کا اترانا نہیں چاہیے۔ اللہ کو نہ تو یہ بات پسند ہے کہ مومن ہوتے ہوئے کوئی اللہ کی رحمت اور کرم سے مایوس ہو کر ہاتھ پیر ڈال دے اور نہ فخر و غرور پسند ہے کہ وہ ذرا سے مال و دولت پر اس طرح اترانے لگے کہ اسے اپنے علاوہ ہر شخص حقیر و ذلیل نظر آنے لگے۔ جس وقت یہ آیات نازل ہوئین اس وقت مکہ مکرمہ میں اہل ایمان کے لئے شدید ترین حالات تھے۔ ہر طرف مصیبتیں گھر گھر کر آرہی تھیں اور کسی طرف سے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی تھی۔ ان حالات میں گبھرا جانا اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھنا ایک فطری بات ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں جو چیز ہاتھ نہ لگے اس پر رنجیدہ نہ ہوا کرو اور جب مل جائے تو اس کو اپنی ذاتی کوشش اور جدوجہد کا نتیجہ سمجھ کر اترایا نہ کرو کیونکہ اللہ کو ایسے لوگ سخت ناپسند ہیں جو فخرو غرور کرتے اور اتراتے ہیں۔ فرمایا کہ اسی طرح وہ لوگ جو بخل اور کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہ سکھاتے ہیں کہ یہاں نیک باتوں میں کیا رکھا ہے کسی کارخیر میں ہم اپنا مال و دولت کیوں خرچ کریں۔ ہماری محنت کی کمائی ہے جس پر ہمارے بچوں کا حق ہے ہم کسی کو کیوں دیں وغیرہ وغیرہ ۔ فرمایا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کا دیا ہوا مال ہے اگر تم اس کو اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اللہ کے بندوں پر خرچ کروں گے، مجبوری اور بےکسی میں کسی کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرو گے تو اللہ اس سے کہیں زیادہ تمہیں عطا کردے گا جو تم نے اللہ کے بندوں پر خرچ کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ یہ بات لوگوں کو سکھائیے لیکن اگر وہ اس کو ماننے سے انکار کردیں اور اس سچائی سے منہ پھیر لیں تو ان کو بتا دیجئے کہ اللہ کو تمہارے مال و دولت کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ ان تمام چیزوں سے بےنیاز ہے اگر ساری دنیا مل کر بھی اس کی تعریف نہ کرے تب بھی وہی ذات تمام خوبیوں کی مالک ہے۔
Ayahs 57:25–29

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی اور واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا ہے۔ ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان (طریقہ عدل و انصاف) کو نازل کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھیں۔ اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں بڑی ہیبت اور جلال ہے۔ اور لوگوں کے لئے نفع بھی ہے تاکہ اللہ جان لے کہ بن دیکھے کون اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔ بیشک اللہ زبردست اور قوت و طاقت والا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے ہی نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا تھا اور ان کی اولاد میں بھی نبوت اور کتاب ( کا سلسلہ جاری) رکھا۔ پھر ان کی اولادوں میں سے بعض تو ہدایت پانے والے بن گئے لیکن ان میں سے اکثر تو نافرمان ہی رہے۔

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد لگاتار رسول بھیجے اور ان کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ان کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور رحمت کو ڈال دیا۔ اور ترک دنیا ( رہبانیت) کا طریقہ انہوں نے خود سے گھڑ لیا تھا جسے ہم نے فرض نہیں کیا تھا۔ مگر ہاں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ایسا کیا تھا لیکن اس کی پابندی کو جو حق تھا انہوں نے ادا نہیں کیا۔ پھر ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہم نے ان کو اس کا بدلہ دیا لیکن ان میں سے اکثر نافرمان تھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے رسول (حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائو تاکہ تمہیں اللہ دوگنی رحمت عطا فرمائے اور تمہارے لے ایک ایسا نور بنادے جس کو تم لے کرچلو پھرو اور تاکہ وہ اللہ تمہیں معاف کردے۔ اور اللہ مغفرت کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

اور یہ اس لئے ہے کہ اہل کتاب بھی اس بات کو جان لیں کہ اللہ کے فضل و کرم کے کسی حصے پر ان کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اور بیشک سب فضل و کرم اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ (اپنے بندوں پر) بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن۔ الحدید۔ لوہا۔ باس شدید۔ زبردست قوت اور ہیبت۔ قفینا ۔ ہم نے پے در پے بھیجے۔ رافۃ ۔ نرمی۔ رھبانیۃ ۔ ترک دنیا۔ دنیا کو چھوڑ دینا۔ ابتدعوا۔ انہوں نے نئی بات نکالی۔ انہوں نے خود ہی گھڑ لیا۔ کفلین۔ دو حصے۔ تشریح : سونے اور چاندی کو پرکھنے کے لئے کسوٹی، کسی چیز کی کمی یا زیادتی کو تولنے کے لئے (میزان) ترازو ہوا کرتی ہے۔ کسوٹی یہ بتا دیتی ہے کہ سونے اور چاندی میں ملاوٹ کتنی ہے اور اصلی سونا اور چاندی کس مقدار میں ہے۔ اسی طرح ترازو کے ذریعہ اس بارت کا یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ کون سی چیز وزن میں کتنی زیادہ اور کتنی کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے پاکیزہ نفس پیغمبروں کو کھلی اور واضح آیات اور نشانیاں دے کر بھیجا ہے جن میں سے بعض کو کتاب دی گئی ہے اور عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے میزان ( عدل و تو ازن) دی گئی تاکہ اس کے ذریعہ عدل و انصاف کو قائم کرسکیں۔ فرمایا کہ ہم نے لوہا پیدا کیا جس میں (جنگ کے لئے) سخت لڑائی کا سامان ہے اور اس میں لوگوں کے لئے صنعت و حرفت پیدا کرنے کے واسطے نفع کے اسباب بھی رکھ دئیے گئے ہیں تاکہ اللہ اس کے ذریعہ ہر شخص کا امتحان لے لے اس کو جانچ لے کہ کون فولادی قوتوں کے ساتھ اللہ کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے اور کون دین اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی ساری قوتوں کو لگا دیتا ہے۔ بلاشبہ اس کائنات میں ساری طاقت و قوت ایک اللہ ہی کے پاس ہے وہی تمام قوتوں کا مالک ہے لیکن انسان کی آزمائش یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کو کس طرح صرف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان پیغمبروں کو قوم کو بھی بڑی طاقتیں دی تھین ان کو اور ان کی اولادوں میں سے بہت سوں کو نبوت اور کتاب سے نوازا تھا لیکن لوگوں میں سے کچھ تو خوش نصیب تھے جنہوں نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا لیکن اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہوں نے گمراہی کا راستہ اختیار کیا۔ پھر اللہ نے لگاتار پیغمبروں کو بھیج کر لوگوں کے سامنے راہ ہدایت کو رکھا۔ خوش نصیب جنت کما گئے اور بہت سے اپنے ذاتی فائدوں اور وقتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے اور جہنم کا راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ کو انجیل دے کر بھیجا گیا لوگوں میں سے اکثر تو نافرمان اور پیغمبر کو جھٹلانے والے بن گئے اور جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دے کر بھیجا گیا لوگوں میں سے اکثر تو نافرمان اور پیغمبر کو جھٹلانے والے بن گئے اور جنہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی پیروی کی وہ عقیدتے و محبت میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے اللہ کے پیغمبروں کو معبود بنا ڈالا اور ترک دنیا کے طریقوں کو اپنانا شروع کردیا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ ایسی بدعتوں میں لگ گئے جو ہم نے ان کو نہ تو بتائی تھیں اور نہ ان پر فرض کی تھیں۔ رہبانیت (ترک دنیا) ان میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ یہ گھڑا ہو اراستہ ان کے لئے دین و مذہب بن گیا اور اس طرح وہ بھی گمراہی کے راستے پر چل نکلے اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ (نصاری کی طرح) اسلام میں رہبانیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ البتہ دین اسلام کے لئے غریبانہ زندگی اختیار کرکے اور غریبوں میں گھل مل کر ان کے دکھ درد میں سنت کے مطابق شرکت کرنا وہ طریقہ جو علمائے کرام اور صوفیائے عظام نے اختیار کیا تھا وہ بظاہر ترک دنیا نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ان بزرگوں کو وہ سرفروشانہ جذبہ تھا جس نے ہمیشہ ہر زمانہ میں امت کو مایوسیوں سے نکال کر دین کے راستے پر لگایا ہے اور امت کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔ بعد میں مفاد پرستوں اور قبر پرستوں نے صوفیائے کرام کے ایسے ایسے بےسند واقعات گھڑ کر مشہور کردئیے جس سے ان کی زندگی پرستان کی کہانیاں لگنے لگیں اور قبروں پر میلے ٹھیلے لگا کر ان کو عین اسلام ثابت کرنا شروع کردیا۔ اس میں ان صوفیائے کرام اور بزرگان دین کا کوئی قصور نہیں ہے یہ تو ان کاروباری سجادہ نشینوں کا مشگلہ ہے جو اندھی عقیدت رکھنے والے غریب عوام کا خون چوستے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے مومنو ! تم اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے محبوب رسول حضرت محمد ﷺ پر پوری طرح ایمان لائو۔ اسی طرح اہل کتاب سے فرمایا کہ تم بھی اللہ سے ڈرتے ہوئے اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آئو تو تمہیں دو گناہ اجر ملے گا ایک اپنے پیغمبر پر ایمان رکھنے کا اجر اور ایک نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان لانے کا اجر۔ قیامت کے دن اس تقویٰ اور اطاعت رسول کو اللہ ایک نور بنا دے گا جو انہیں پل صراط کے اندھیرے راستے میں روشنی عطا کرے گا۔ وہ اللہ تو بہت مغفرت کرنے والا، معاف کرنے والا مہربان ہے وہ تمہارے پچھلے سارے گناہوں کو معاف کردے گا۔ یہ دین اللہ کی طرف سے ہے اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ جو بھی اس راستے کو اپنائے گا اس پر اللہ کا فضل و کرم نازل ہوگا لیکن جو اس راستے کو چھوڑ کر وہ راستہ اختیار کرے گا جو اللہ کے پیغمبروں نے نہیں بتایا تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور اطاعت و فرماں برداری کرنے والوں پر اللہ ہمیشہ فضل و کرم کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بےانتہا فضل و کرم اور رحم کرنے والا ہے۔