57. Surah Al-Hadid
الحديدThe Iron · 29 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الحدید۔ سورة نمبر 57 کل رکوع 4 آیات 29 الفاظ و کلمات 586 حروف 2599 مقام نزول مدینہ منورہ فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد جو لوگ اپنے مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے اور جہاد کریں گے وہ ان لوگوں کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جان و مال کی قربانیاں دی تھیں۔ ویسے اللہ ہر ایک کے خلوص اور قربانی کو قبول کرتا ہے۔ اللہ کے راستے میں دین اسلام کی ترقی کے لئے جو مال خرچ کیا جائے گا وہ گویا اللہ کے ذمے ایک قرض ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو بہت بڑھا چڑھا کر ادا فرمائیں گے اور اس کے علاوہ وہ بہترین اجر کے مستحق بھی ہوں گے۔ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تقدیر الٰہی ہے۔ اگر دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو تو اس پر رنج اور افسوس نہ کرنا چاہیے اور اگر بہت کچھ مل جائے تو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ سخت ناپسند ہیں جو شیخ باز اور فخر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس حکمت والے اللہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے اور وہ ہر طرح کی قدرت و طاقت کا مالک ہے۔ وہی اول وہی آخر وہی ظاہر اور وہی باطن ہے۔ اس نے جس چیز کو بیان کیا ہے وہ شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اسی اللہ نے زمین وآسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر وہ اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ گر ہوا۔ کوئی چیز جو زمین میں داخل ہوتی ہے یا سے باہر نکلتی ہے۔ جو چیز آسمان سے اترتی یا آسمان کی طرف چڑھتی ہے اسے ہر چیز کا علم ہے۔ فرمایا کہ تم کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ تم اس سے کسی طرح بھی چھپ نہیں سکتے۔ وہ تمہارے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک ہے۔ وہی اللہ ہے جو رات کو دن میں اور ان کو رات میں داخل کرتا ہے۔ وہ سینوں اور دلوں میں چھپے ہوئے ہر راز سے واقف ہے۔ وہ اللہ جس کی یہ شان ہے وہی اس لائق ہے کہ اس پر ایمان لا کر اس کی عبادت و بندگی کی جائے اور وہ جیسا حکم دے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ اے ایمان والو ! تمہارے ہاتھ میں جو کچھ مال و دولت ہے درحقیقت اس کا مالک اللہ ہی ہے وہی اللہ تمہیں اپنے راستے میں خرچ کنے کا حکم دیتا ہے۔ تم کسی کنجوسی اور بخل کو قریب نہ آنے دو ۔ اللہ کے راستے میں خرچ کرنا گویا اللہ کو قرض حسنہ دینا ہے جس پر بےانتہا اجرو ثواب ہے اور اللہ اس مال کو دوگنا اور چوگنا کرکے واپس کرے گا۔ فرمایا کہ جو مومن مرد اور مومن عورتیں اللہ کے راستے میں خرچی کریں گے ان کو قیامت کے دن ایک ایسا نور عطا کیا جائے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا جس سے پل صراط پر چلنا آسان ہوگا اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جو ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن وہ منافق جو پوری طرح ایمان نہ لائے تھے اور نہ انہوں نے نے اللہ کے راستے میں خرچ کیا تھا وہ اس نور سے محروم رہیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہوں گے۔ جب مومنین پل صراط پر سے نور اور روشنی میں چلنے کی کوشش کریں گے اور اہل ایمان کی رفتار تیز ہوگی اس وقت وہ منافق کہیں گے کہ ذرا آہستہ چلو تا کہ ہم بھی تمہارے ساتھ چل سکیں۔ ایسی بھی کیا بےمروتی ہے کیا دنیا میں ہم ایک ساتھ نہ رہتے تھے۔ اس پر مومن جواب دیں گے کہ آج تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ دنیا میں تم نے اپنے ہی آپ کو گمراہی میں ڈال رکھا تھا اور تم اپنے مفادات میں اس طرح الجھے رہے کہ تم ہدایت نہ حاصل کرسکے اور تمہیں اسی حالت میں موت آگئی۔ اب تمہارا ٹھکانا جہنم ہی ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بھی بیان فرما دیا کہ اہل ایمان کا کام یہی ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہیں جس پر انہیں اجر عظیم عطا کیا جائے گا مگر اس سب کے باوجود ان صحابہ کرام (رض) کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اپنے جان و مال کی قربانیاں دی تھی ان کا اللہ کے ہاں اعلیٰ ترین مقام ہے۔ اللہ نے سوال کیا ہے کہ کیا ابھی وہ قت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کی طرف جھک جائیں ؟ اور وہ ان اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنی بدعملیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو غفلت میں اور دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور جب بھی ان کو کوئی نصیحت کی گئی تو انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور مسلسل اپنی نافرمانیوں اور گناہوں میں پھنسے رہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لا کر ان کی تصدیق کریں گے اور ان کی اطاعت کرکے گناہوں سے بچتے رہیں گے ایسے لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے زبردست اجر اور نور ہوگا اور کافروں کے لئے جہنم کی آگ ہوگی۔ فرمایا کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کھیل تماشہ، ایک دوسرے پر فخر و غرور، مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے سوا اور کیا ہے۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے اور دنیا کی زندگی انتہائی ناپائیدار ہے۔ دنیا کی زندگی اس کھیتی کی طرح ہے جو خوب پھلتی پھولتی اور سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ کسان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ پھر وہی کھیتی زرد ہو کر چورہ چورہ ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی دنیا میں ایک آدمی خوب کماتا ہے، اپنے چاروں طرف راحتوں اور آرام کے سامان جمع کرتا رہتا ہے، دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے پھر اس پر بڑھاپا آجاتا ہے اور ان تما چیزوں کی محبت کے باوجود ان میں اس کے لئے کوئی دلکشی نہیں ہوتی۔ جب کہ آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لئے ہے اللہ سب لوگوں کو مغفرت اور اس جنت کی طرف بلاتا ہے جو ایمان والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اہل ایمان کو بتایا گیا کہ آدمی پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کی تقدیر ہے۔ لہٰذا اگر دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو تو اس پر رنج اور افسوس نہ کرنا چاہیے اور اگر بہت کچھ مل جائے تو اس پر اترایا نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو شیخی باز اور فخر و غرور کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام پیغمبروں کو انسانوں کی اصلاح اور عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ فرمایا کہ اس اللہ نے لوہا نازل کیا اس میں بڑی ہیبت ہے۔ اس کے ذریعہ سامان جنگ تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ جہاد کیا جائے جو انسانوں کے لئے بڑی آزمائش ہے تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ قائم کیا۔ ان کے بعد اللہ کے پیغمبر آتے رہے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو پیغمبر بنا کر ان کو انجیل جیسی کتاب عطا فرمائی لیکن ان کے ماننے والوں نے اس کتاب پر عمل کرنے کے بجائے رہبانیت یعنی ترک دنیا کو اختیار کرلیا حالانکہ اللہ نے ان کو اس کی کوئی تعلیم نہ دی تھی۔ فرمایا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم پر ایمان لائے تھے ان کو حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی تصدیق کرنی چاہے اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو دوگنا اجر وثواب عطا فرمائے گا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں پر ایمان لانے کا اجردگنا کردیا جائے گا اور اللہ ان کو ایسا نور فرمائے گا جس کے ذریعہ پل صراط پر چلنا آسان ہوجائے گا۔ فرمایا کہ اللہ کے گناہ معاف فرما دے گا۔ لیکن جو لوگ ان پر ایمان نہ لائیں گے وہ اللہ کی ہر رحمت سے محروم رہیں گے اور وہ قیامت کے دن خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔ وہی زبر دست حکمت والا ہے۔
لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader
آسمانوں اور زمین میں اس کی سلطنت ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader
وہی اول ہے وہی آخر ہے۔ وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے۔ وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader
اسی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے۔ پھر وہ عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ وہ ہر اس چیز کو اچھی طرح جانتا ہے جو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو چیز اس سے باہر آتی ہے۔ اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز ان (آسمانوں) میں چڑھتی ہے۔ اور تم کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اسے وہ دیکھتا ہے۔
لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader
آسمانوں اور زمین میں اسی کی بادشاہت ہے اور تمام کاموں کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader
وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور وہی دن کو رات مین داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے ( رازوں اور ) حالات کو جاننے والا ہے۔
اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader
(اے لوگو ! ( تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اپنا مال خرچ کرو ( اس اللہ کے لئے) جس نے تمہیں دوسروں کا قائم مقام بنایا ہے۔ تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں گے۔ اور اپنا مال (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں گے ان کے لئے اجر عظیم ہے۔
وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader
اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں اس بات کی طرف بلا رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئو۔
هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader
اور اللہ نے تم سے پکا وعدہ لیا تھا اگر تم یقین کرتے ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے بندے ( حضرت محمد ﷺ پر صاف صاف آیتوں کو نازل کیا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لے آئے۔ اور بیشک اللہ (تمہارے حال پر) بڑا شفیق و مہربان ہے۔
وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader
اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کا وارث (مالک) اللہ ہی ہے ۔ جو لوگ فتح (مکہ) سے پہلے (اپنا سب کچھ) خرچ کرچکے ہیں اور جنہوں نے جہاد کیا وہ بڑا درجہ رکھتے ہیں وہ (ان لوگوں کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں) جنہوں نے فتح ( مکہ) کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا۔ اور اللہ نے بھلائی کا وعدہ ہر ایک سے کیا ہوا ہے۔ اور اللہ اس کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader
تم میں سے وہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔ پھر اللہ اس کو اس شخص کیلئے بڑھاتا چلا جائے۔ اور اس کے لئے ایک قابل احترام بدلہ بھی ہو۔
یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ جس دن آپ مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھیں گے کہ ( ان کے حسن عمل کا) نور ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہوا ہوگا ( اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں ایسی جنتوں کی خوش خبری دی جاتی ہے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader
اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے یہ کہتے ہوں گے کہ ذرا ہمارا انتظا کرلو تاکہ ہم بھی تمہاری روشنی سے کچھ فائدہ حاصل کرلیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم پیچھے ہی لوٹ جائو پھر وہاں روشنی کی تلاش کرو۔ اتنے میں ان منافق مردوں اور منافق عورتوں ( اور اہل ایمان کے درمیان) ایک ایسی دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دیوار کے اندر کی جانب رحمت (برستی) ہوگی اور باہر کی جانب عذاب ہوگا۔
یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader
منافق ( اہل ایمان لوگوں کو) پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں تم ہمارے ساتھ تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کرلیا تھا اور تم ہمارے اوپر برے حالات کے منتظر رہا کرتے تھے اور تم دین اسلام سے شک میں پڑے ہوئے تھے اور تمہیں تمہاری غلط تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ڈالے رکھا
فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader
تو آج کے دن نہ تو تم (منافقین سے ) کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔ وہی تمہارا رفیق ہے اور جہنم تمہارے لئے بدترین ٹھکانا ہے۔
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader
کیا ایمان والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کی نصیحت اور جو سچا دین نازل ہوا ہے اس کے سامنے ان کے دل جھک جائیں ؟ انہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنہیں کتاب دی گئی پھر جب ایک لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے بہت بڑی تعداد فاسقین کی ہے۔
اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader
اس بات کا یقین کرلینا چاہیے کہ اللہ ہی مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ بیشک ہم نے اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے تاکہ تم سمجھو۔
اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader
بیشک صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور جن لوگوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا اللہ ان کے صدقہ کو خوب بڑھائے گا اور ان کو لائق احترام رزق عطا کرے گا۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader
اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے سامنے صدیق اور شہداء ہیں ان کے لئے اجرا ور نور ہے۔ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ جہنم والے ہیں۔
اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader
تم اس بات کو ( اچھی طرح) جان لو کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل کود، زیب وزینت، آپس میں ایک دوسرے پر فخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ ہے۔ اس کی مثال اس بارش جیسے ہے کہ ( جس کی وجہ سے ) اس کی پیداوار کاشت کار کو خوش کردیتی ہے۔ پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑجاتی ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے۔
سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader
اور آخرت کا عذاب شدید ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ( کا وعدہ ہے) اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے اور فریب کے اور کیا ہے ؟ تم اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس جنت کا پھیلائو ایسا ہے جیسے آسمان اور زمین کا پھیلائو۔ یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ محض اللہ کے فضل و کرم سے (ملتی ہے) وہ جس کو چاہے گا عطا فرما دے گا اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader
کوئی آفت یا مصیبت جو زمین پر (نازل ہوتی ہے) یا تمہیں پہنچتی ہے وہ سب ہم نے ایک کھلی کتاب میں لکھ رکھی ہے۔ اور ایسا کرنا یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔
لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader
( یہ تمہیں اس لئے بتایا گیا ہے) تاکہ تمہیں جو چیز ہاتھ نہ لگے اس پرت رنجیدہ نہ ہوا کرو اور جو تمہیں عطا کردیا جائے اس پر اترایا نہ کرو۔ کیونکہ اللہ کو ایسے لوگ سخت ناپسند ہیں جو اتراتے اور فخر و غرور کرتے ہیں۔
اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader
وہ لوگ بھی ناپسند ہیں جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل اور کنجوسی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اب اگر کوئی (اس سچائی کے آنے کے بعد بھی) منہ پھیرتا ہے تو بیشک اللہ بےنیاز ہے (اس کو کسی کی پرواہ نہیں ہے) اور ہی تمام خوبیوں کا مالک ہے۔
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی اور واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا ہے۔ ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان (طریقہ عدل و انصاف) کو نازل کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھیں۔ اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں بڑی ہیبت اور جلال ہے۔ اور لوگوں کے لئے نفع بھی ہے تاکہ اللہ جان لے کہ بن دیکھے کون اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔ بیشک اللہ زبردست اور قوت و طاقت والا ہے۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader
اور ہم نے ہی نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا تھا اور ان کی اولاد میں بھی نبوت اور کتاب ( کا سلسلہ جاری) رکھا۔ پھر ان کی اولادوں میں سے بعض تو ہدایت پانے والے بن گئے لیکن ان میں سے اکثر تو نافرمان ہی رہے۔
ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader
پھر ہم نے ان کے بعد لگاتار رسول بھیجے اور ان کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ان کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور رحمت کو ڈال دیا۔ اور ترک دنیا ( رہبانیت) کا طریقہ انہوں نے خود سے گھڑ لیا تھا جسے ہم نے فرض نہیں کیا تھا۔ مگر ہاں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ایسا کیا تھا لیکن اس کی پابندی کو جو حق تھا انہوں نے ادا نہیں کیا۔ پھر ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہم نے ان کو اس کا بدلہ دیا لیکن ان میں سے اکثر نافرمان تھے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader
اے ایمان والو ! تم اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے رسول (حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائو تاکہ تمہیں اللہ دوگنی رحمت عطا فرمائے اور تمہارے لے ایک ایسا نور بنادے جس کو تم لے کرچلو پھرو اور تاکہ وہ اللہ تمہیں معاف کردے۔ اور اللہ مغفرت کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader
اور یہ اس لئے ہے کہ اہل کتاب بھی اس بات کو جان لیں کہ اللہ کے فضل و کرم کے کسی حصے پر ان کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اور بیشک سب فضل و کرم اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ (اپنے بندوں پر) بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔