Explained with ayahs 8–10
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر
کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو حضور ﷺ نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکن انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 25
یہ بات اس لیے فرمائی گئی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو کچھ لوگوں کی سرگوشیاں دیکھ کر یہ شبہ بھی ہوجائے کہ وہ اسی کے خلاف کی جا رہی ہیں، تب بھی اسے اتنا رنجیدہ نہ ہونا چاہیے کہ محض شبہ ہی شبہ پر کوئی جوابی کارروائی کرنے کی فکر میں پڑجائے، یا اپنے دل میں اس پر کوئی غم، یا کینہ، یا غیر معمولی پریشانی پرورش کرنے لگے۔ اس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ اعتماد اس کے قلب میں ایسی قوت پیدا کر دے گا کہ بہت سے فضول اندیشوں اور خیالی خطروں سے اس کو نجات مل جائے گی اور وہ اشرار کو ان کے حال پر چھوڑ کر پورے اطمینان و سکون کو غارت کر دے، نہ کم ظرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى، سابقہ آیات میں کفار کو ناجائز سرگوشی پر تنبیہ کی گئی تھی، اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ اپنی سرگوشیوں اور مشوروں میں اس کا دھیان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے سب حالات اور گفتگو کا علم ہے اور اس استحضار کے ساتھ یہ کوشش کریں کہ ان کے مشورے اور سرگوشی میں کوئی بات فی نفسہ گناہ کی یا دوسروں پر ظلم کرنے کی یا کسی خلاف شرع کام کی نہ ہو، بلکہ جب بھی آپس میں مشورہ کرو نیک کاموں کے لئے کرو۔
کفار کی شرارت پر بھی نرمی اور شریفانہ…
Read the full tafseer →(انما النجری من الشیطن لیحزن الذین امنوا ولیس بضادھم شیاء الا باذن اللہ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون) (10)۔
(اہل ایمان کو تسلی)۔ یہ مومنین مخلصین کو تسلی دی گئی ہے کہ منافقین کی یہ ساری سرگوشیاں شیطان کی تحریک اور اس کی وسوسہ اندازی سے وجود میں آئی ہیں اور شیطان زیادہ سے زیادہ بس یہی کرسکتا ہے کہ اس طرح کی باتوں سے اہل ایمان کے دلوں کو ذرا رنج و ملال پہنچا دے۔ اس سے زیادہ اس کے امکان میں کچھ نہیں ہے۔ وہ اللہ کے اذن کے بدون اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا تو اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ شیطان کی ان وسوسہ اندازیوں کی کوئی پروا نہ کریں بلکہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھیں کہ وہ…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی اثم وعدوان اور معصیت رسول پر مبنی سرگوشیاں یہ شیطانی کام ہیں، کیونکہ شیطان ہی ان پر آمادہ کرتا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے سے مومنوں کو غم میں مبتلا کرے۔
10۔ 2 لیکن یہ سرگوشیاں اور شیطانی حرکتیں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں الا یہ کہ اللہ کی مشیت ہو اس لیے تم اپنے دشمنوں کی ان اوچھی حرکتوں سے پریشان نہ ہوا کرو بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھو اس لیے کہ تمام معاملات کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے نہ کہ یہود اور منافقین جو تمہیں تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں سرگوشی کے سلسلے میں ہی مسلمانوں کو ایک اخلاقی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ جب تم تین آدمی اکٹھے ہو تو اپنے میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
5: یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ جب وہ مسلمانوں سے ملتے تو السلام علیکم کہنے کے بجائے السام علیکم کہتے تھے، السلام علیکم کے معنی ہیں تم پر سلامتی ہو اور السام علیکم کے معنی ہیں کہ تم پر ہلاکت ہو، چونکہ دونوں لفظوں میں صرف ایک لام کا فرق ہے اس لئے بولتے وقت سننے والے خیال بھی نہیں کرتے تھے، لیکن وہ لوگ اس طرح اپنے بغض کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس آیت میں ان کی اسی شرارت کی طرف اشارہ ہے۔
6: اپنی مذکورہ شرارتوں کے بعد وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر سزا کیوں نہیں دیتا اور چونکہ ہم پر کوئی سزا مسلط نہیں ہورہی ہے، اس لئے ثابت ہوا کہ ہم برحق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یایھا الذین .................... المومنون (01) (85 : 9۔ 01)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے۔ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “
معلوم ہوتا ہے ابتدائی زمانے میں جب کہ لوگوں میں ابھی تک اسلامی جماعت کا صحیح شعور اور احساسات پیدا نہ ہوئے تھے ، بعض…
Read the full tafseer →3 یعنی منافقین کی کانا پھوسی (سرگوشی) اس غرض سے تھی کہ ذرا مسلمان رنجیدہ اور دلگیر ہوں اور گھبرا جائیں۔ کہ نہ معلوم یہ لوگ ہماری نسبت کیا منصوبے سوچ رہے ہوں گے۔ یہ کام شیطان ان سے کرا رہا تھا۔ مگر مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ شیطان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس کے قبضہ میں کیا چیز ہے۔ نفع و نقصان سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا حکم نہ ہو تو کتنے ہی مشورے کرلیں اور منصوبے گانٹھ لیں، تمہارا بال بیکا نہ ہوگا۔ لہذا تم کو غمگین و دل گیر ہونے کے بجائے اپنے اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ (تنبیہ) احادیث میں ممانعت آئی ہے کہ مجلس میں ایک آدمی کو چھوڑ کردو شخص کانا پھوسی کرنے لگیں۔ کیونکہ وہ تیسرا غمگین…
Read the full tafseer →آیت 10{ اِنَّمَا النَّجْوٰی مِنَ الشَّیْطٰنِ } ”یہ نجویٰ تو شیطان کی طرف سے ہے“
منفی سرگوشیاں کرنا ایک شیطانی عمل ہے۔ جو لوگ اس میں ملوث ہوتے ہیں انہیں اس کی تحریک و ترغیب شیطان ہی کی طرف سے ملتی ہے۔
{ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ”تاکہ وہ اہل ایمان کو رنجیدہ کرے“
ان لوگوں کی سرگوشیوں اور خفیہ ملاقاتوں کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اہل ایمان کو نقصان پہنچا کر انہیں رنجیدہ ‘ دل گرفتہ اور پریشان کریں۔ آیت کے ان الفاظ سے یہ مفہوم بھی متبادر ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی محفل سے الگ جا کر کھسر پھسر اور سرگوشیاں اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے اس عمل کو دیکھ کر مسلمان پریشان ہوں کہ یہ لوگ الگ بیٹھ کر…
Read the full tafseer →ا 1 منافقوں کی ان سرگوشیوں سے غرض ہی یہ ہوتی تھی کہ مسلمان رنجیدہ اور دلگیر ہوں اور گھبرا جائیں۔ اور یہ کام ان سے شیطان کرا رہا تھا۔ مگر مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ شیطان ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ہی اس کے یہ چیلے کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ نفع و نقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے لہذا انہیں صرف اللہ پر اعتماد رکھنا چاہیے اور منافقوں کی ان ناپاک سرگوشیوں کی پروا تک نہ کرنی چاہیے۔ یہ اعتماد ان کے دل میں ایسی قوت پیدا کر دے گا کہ بہت سے فضول خطروں اور خیالی اندیشوں سے نجات مل جائے گی۔ انہیں چاہیے کہ منافقوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ غلط کار لوگوں کے مقابلے میں آپے سے باہر نہ ہوں اور اطمینان…
Read the full tafseer →20۔ شیطان مردود میں قوت ہی کیا ہے، اس سے کسی صاحب ایمان کا ہراساں ہونا بالکل بےمعنی ہے۔ مسلمان کو اس کے اثر سے جو کچھ مضرت پہنچتی ہے وہ بھی تمامتر حق تعالیٰ ہی کی مشیت تکوینی کے ماتحت۔ (آیت) ” انما النجوی من الشیطن “۔ اس نجوی ، (سرگوشی) سے مراد وہی مفسدانہ وشرانگیز سرگوشیاں ہیں۔ (آیت) ’ باذن اللہ۔ “۔ اذن پر حاشیہ سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” وما ھم بضآرین بہ من احد الا باذن اللہ “۔ کے تحت میں گزر چکا۔
21۔ (اور ادھر ادھر اپنے خیالات کو ڈانوا ڈول ہونے ہی نہ دینا چاہئے) مومن اگر اللہ پر پورا پورا توکل واعتماد کرے تو پھر ہمیشہ کے لئے شیطان اور ہر مخلوق کی طرف سے خطرہ سے نجات ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
تفسیر و تشریح
شان نزول :
اسباب نزول ان آیات کے چند واقعات ہیں :
1۔ اول واقعہ :۔
آپ ﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلا جو سیاسی قدم اٹھایا وہ یہ تھا کہ یہود اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ صلح فرمایا تاکہ مدینہ کے یہود کی طرف سے اطمینان ہوجائے کیونکہ مشرکین مکہ کی جانب سے ریشہ دوانیاں رہتی تھیں اور ہمہ وقت خطرہ رہتا تھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دو طرفہ پریشانی میں مبتلا ہوجائیں، مگر صلح کے باوجود یہود اپنی نازیبا حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے، یہود جب کسی مسلمان کو دیکھتے تو اس کو ذہنی طور پر پریشا ان کرنے کے لئے اپٓس میں سر جوڑ کر کھسر پھسر کرنے لگتے اور اس کی طرف دیکھتے جاتے اور بعض اوقات آنکھ وغیرہ سے…
Read the full tafseer →اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيْسَ بِضَاۗرِّهِمْ شَـيْـــــًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ. ” سوائے اس کے نہیں کہ سرگوشی شیطان کی جانب سے ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ‘ رنجیدہ کرے حالانکہ مؤمنین کو خدا کے حکم کے بغیر کچھ بھی نقصان نہیں پہنچانے والا ہے اور اللہ ہی پر مؤمنین بھروسہ کرتے ہیں۔ “
اِنَّمَا النَّجْوٰی : یعنی وہ سرگوشیاں جو مسلمانوں کو غصہ دلانے اور غمگین کرنے کے لیے یہودی کرتے ہیں۔
مِنَ الشَّیْطٰنِ : شیطان کی طرف سے ہیں ‘ شیطان ہی ان کو سرگوشی پر آمادہ کرتا اور آراستہ و حسین (یعنی مفید)…
Read the full tafseer →منافقین کی یہودیوں کے ساتھ سرگوشی محض شیطان کی طرف سے اور اس کے حکم سے ہے تاکہ مسلمانوں کو رنج میں ڈالے اور منافقین کی یہ سرگوشی بغیر اللہ کے ارادہ کے ان مسلمانوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ کسی پر بھروسا کریں۔
شان نزول : اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ (الخ)
ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ منافقین آپس میں سرگوشیاں کیا کرتے تھے اور یہ چیز مسلمانوں کو غصہ دلاتی اور ان پر شاق گزرتی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا النَّجْوٰی مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔۔۔۔۔:”حزن یحزن“ (س) غمگین ہونا اور ”حزن یحزن“ (ن) غمگین کرنا۔ اس میں مسلمانوں کی تسلی دلائی ہے کہ یہود و منافقین کی یہ سرگوشیاں دراصل شیطان کی کار ستانی ہے ، جس سے وہ ایمان والوں کو غمگین کرنا چاہتا ہے۔ اگر تم ایسی کوئی بات دیکھو تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو شیطان تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ان سرگوشیوں سے تمہارا کچھ نقصان ہوسکتا ہے ، اس لیے اللہ ہی پر توکل رکھو اور غمگین ہو کر شیطان کو خوش رہونے کا موقع نہ دو۔
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1۔ انما النجوی من الشیطن یہ نجوی شیطان کی طرف سیم زین کرنے کی وجہ سے ہے لیحزن الذین امنوا کیونکہ مومن خیال کرتے تھے سرایا (چھوٹے لشکر) میں مسلمانوں کو کوئی مصیبت واقع ہوگئی ہے یا وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اجتماع کیا کرتے تھے بعض اوقات وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مناجات کیا کرتے تھے تو مسلمان گمان کرتے تھے کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے ہاں ان کے نقائص بیان کیا کرتے ہیں۔ ولیس بضآرھم یہ سرگوشیاں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ شیاً الا باذن اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے علم سے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اس کے امر سے۔ ووعلی اللہ فلیتوکل المومنون۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب کوئی فوجی دستہ بھیجتے تو اسے جنگ کرنے پر آمادہ کرتے تو منافقین آپس میں ملتے اور مسلمانوں کو دیکھ کر اپنے سروں کو ہلاتے اور کہتے تھے کہ یہ قوم یعنی صحابہ مارے جائیں اور جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپس میں سرگوشیاں کرتے اور غم کو ظاہر کرتے تو یہ بات نبی ﷺ اور مسلمانوں کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالثم والعدوان الایۃ اے ایمان وال ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی سرگوشیاں نہ کرو۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے…
Read the full tafseer →[انمَا النَّجوٰى: کانا پھوسی تو بس ][ مِنَ الشَّيْطٰنِ : شیطان (کی طرف) سے ہے ][ لِيَحْزُنَ : تاکہ وہ غمگین کرے ][ الَّذِينَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں کو جو ایمان لائے ][وَلَيْسَ بِضَاۗرِّهِمْ : اور وہ نقصان پہنچانے والا نہیں ہے ][ شَـيْـــــًٔا : کچھ بھی ][اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کی اجازت سے ][وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ][فَلْيَتَوَكَّلِ : چاہیے کہ بھروسہ کریں ][الْمُؤْمِنُوْنَ : ایمان لانے والے ]
نوٹ۔ 1 : آیات مذکورہ اگرچہ خاص واقعات کی بناء پر نازل ہوئی ہیں جن کا ذکر شان نزول میں کیا جاتا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ سبب نزول کچھ بھی ہو، ہدایات قرآنی عام ہوتی ہیں اور ان میں عقائد،…
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ (خفیہ سرگوشی شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ وہ اہل ایمان کو رنجیدہ کرے) یعنی جن لوگوں نے مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لئے خفیہ مشورہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے اس طریقہ پر انہیں شیطان نے ڈالا ہے، شیطان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کور نجیدہ کرے۔
﴿وَ لَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْـًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ 1ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 0010﴾ (اور ان لوگوں کا یہ مشورہ اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں دے سکتا مگر اللہ کے حکم سے اور اہل ایمان اللہ پر بھروسہ کریں) یہ توکل علی اللہ انہیں مخلوق کی ایذا رسانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں…
Read the full tafseer →13:۔ ” انما النجوی “ الف لام عہد خارجی کیلئے ہے یعنی مشورہ جو مؤمنوں کو ایذا دینے کیلئے کیا جائے یعنی ایسے مشوروں پر شیطان اکساتا ہے، تاکہ اس سے مؤمنین کو دکھ پہنچے اور وہ آزردہ ہوں لیکن ایمان والوں کو نقصان پہنچانا شیطان کے بس کی بات نہیں، انہیں وہی ضرور پہنچ سکتا ہے جو اللہ نے مقدر فرمایا ہے اور ایمان والوں کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نقصان نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات :
پہلے مسئلہ ظہار اور اس کی قباحت بیان ہوئی کہ یہ گناہ کی بات ہے اور نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ غلطی کر بیٹھے اور اپنی بیوی کو ماں یا بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے دے تو وہ عورت اس شخص کے لئے حرام ہوجاتی ہے جب تک کہ وہ اس کے لئے مقررہ کفارہ ادا نہ کرے۔ پھر اللہ نے کفارے کی تین متبادل صورتیں بیان فرمائیں یعنی ایک غلام آزاد کرے۔ اگر طاقت نہیں ہے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے قبل اس کے کہ اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کرے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے ورنہ اس کا نتیجہ ذلت ناک عذاب کی صورت…
Read the full tafseer →اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيْسَ بِضَاۗرِّہِمْ شَـيْـــــًٔا اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ 0 ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 10
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112]
( ش ط ن )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ترکیب : لیحزن خبرآخر لانما النجوٰی والاول من الشیطان والذین اوتوالعلم فی محل النصب لکونہ معطوفا علی الذین آمنوا درجات منصوبۃ بالتمیز۔
تفسیر : پہلے مخفی مشاورت کی برائی بیان ہوئی تھی اب یہاں مسلمانوں کو مشورے کی بابت حکم دیتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا الخ کہ مخفی مشورہ بالکل ممنوع نہیں ہاں اگر ہو تو گناہ اور بغاوت اور رسول کی نافرمانی کی بابت نہ ہو بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں کے لیے ہونا چاہیے اور اگر مصالح دنیاویہ کی بابت ہو بشرطیکہ گناہ اور بغاوت اور نافرمانی رسول نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ اسی کے پاس جمع ہونا ہے قیامت میں یا مرنے کے بعد عالم ارواح میں۔ اب اس…
Read the full tafseer →اِنَّمَا النَّجْوٰی مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیْسَ بِصَآرِّھِمْ شَیْئًا اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 10)
(یہ سرگوشیاں شیطان کی طرف سے ہیں تاکہ وہ ایمان والوں کو غم پہنچائے، حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر وہ ان کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ )
مسلمانوں کو تسلی
اس میں ان مخلص مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو منافقین کی سرگوشیوں سے بعض دفعہ پریشان ہوجاتے تھے، اور وہ چونکہ بار بار انھیں اپنی نگاہوں کا ہدف بنائے رکھتے تھے اس لیے انھیں گمان ہوتا کہ شاید وہ ہمارے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : بری سرگوشی سے منع کرنے کے بعد نیکی اور اچھے کاموں پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ہر قسم کی سرگوشی کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ اس نے گناہ، ظلم اور رسول کی مخالفت کرنے پر سرگوشی سے منع کرنے کے ساتھ اور نیکی اور تقویٰ کے کام پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو ! اللہ سے ڈرتے رہو ! بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ جو بری سرگوشی کرتے ہیں حقیقت میں وہ شیطان کی سرگوشی ہوتی ہے۔ شیطان اپنے کارندوں سے یہ کام اس لیے کرواتا ہے تاکہ اس سے ایمان دار لوگ پریشان ہوں، لیکن ایمان داروں کو برے لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے غم…
Read the full tafseer →10 : اِنَّمَا النَّجْوٰی (بیشک سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے) جو سرگوشی گناہ اور دشمنی کی ہو مِنَ الشَّیْطٰنِ (یعنی شیطان کی تزیین سے ہے) لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْ ا (تاکہ ایمان والے غم زدہ ہوں) وَلَیْسَ بِضَآ رِّھِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ (حالانکہ مؤمنین کو کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نقصان پہنچانے والی نہیں) مسلمانوں کو شیطان یا غم نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ الا باذن اللہؔ اللہ تعالیٰ کے علم اور قضاء و قدر سے وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ہی پر مؤمنین بھروسہ کرتے ہیں) یعنی اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں اور اس کی اور شیطان سے…
Read the full tafseer →9 ۔” یایھا الذین امنوا اذا تنا جیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول “ یعنی منافقین اور یہود کے فعل کی طرح اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے قول ” امنوا “ سے منافقین مراد ہیں یعنی وہ اپنی زبانوں سے ایمان لائے۔ عطائؒ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اپنے گمان کے مطابق۔ ان کو کہا تم گناہ اور سرکشی اور رسول اللہ ﷺ کی معصیت کی سرگوشی نہ کرو۔ ” وتناجوا بالبر والتقویٰ واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ خولہ بنت ثعلبہ اور اوس بن صامت کا قصہ جو اوپر گزرا ہے۔ ابن ماجہ 1 ؎ اور مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اس قصہ کی روایت کے بعد فرمایا کرتی تھیں اللہ اکبر کس قدر ذرا ذرا سے اپنے بندوں کے قول و فعل کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے کہ جس مکان میں خولہ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے خاوند کی شکایت کی باتیں کیں اسی مکان میں میں بھی تھی میں نے بعضی باتیں خولہ کی نہیں سنیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب باتیں اس کی سن کر اس کی شکایت رفع کی۔ اور سورة مجادلہ کی اول آیتیں خولہ کے اس جگہ سے اٹھنے سے پہلے نازل فرمائیں۔ حاکم نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس قصہ سے اللہ تعالیٰ کے علم باطنی کا ایک نمونہ…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اِنَّمَا النَّجْوٰى) یعنی مومنوں کے دشمن ان کے بارے میں سازش، دھوکے اور بری خواہشات کی جو سرگوشیاں کرتے ہیں۔ (مِنَ الشَّيْطٰنِ ) یہ شیطان کی طرف سے مکر غیر مفید ہے۔ ( لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) تاکہ وہ ایمان والوں کو غم زدہ کرے۔ اور اس مکروفریب سے اس کا مقصود بھی یہی ہے۔ (وَلَيْسَ بِضَاۗرِّهِمْ شَـيْـــــًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ) اور اللہ کے حکم کے بغیر ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ کفایت اور دشمن کے خلاف فتح ونصرت کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے (ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ۔ فاطر 43) اور بری چال کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
اہل کتاب کو کس طرح سلام کہا جائے ؟
قول باری ہے (واذا جآء ک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔ اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے لفظ سے آپ کو سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ )
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیا۔ صحابہ کرام نے اس کے سلام کا جواب دے دیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں کچھ پتہ چلا کہ اس نے کیا کہا ہے، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس نے ہمیں سلام کہا تھا۔
اس پر آپ نے فرمایا کہ ” اس نے سا علیکم کہا تھا جس کا مفہوم ہے کہ تم اپنے دین سے اکتا جائو۔ “ حضور ﷺ کے ارشاد ہے کہ ” جب اہل کتاب…
Read the full tafseer →[ 33] ممنوع سرگوشی شیطان کی کارگزاری، والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا اور انما کے کلمہ ئِ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی ممنوع سرگوشی تو شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، یعنی جو گناہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی ہو، جیسا کہ یہود اور منافقین کرتے تھے، [ جامع، وغیرہ ] سو اس ارشاد سے اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ اس طرح کی ساری سرگوشیاں جو یہ منافق لوگ کرتے ہیں، شیطان کی تحریک اور اس کی وسوسہ اندازیوں سے ہوتی ہیں، تاکہ اس طرح وہ اہل ایمان کو کوئی ضرر اور نقصان پہنچا سکے، لیکن وہ اپنی ایسی دسیسہ کاریوں سے اہل ایمان کی کوئی ضرور اور نقصان بہرحال نہیں پہنچا سکتا، لہٰذا اہل ایمان کو چاہیے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سرگوشی اور نیت اللہ سب جانتا ہے
تشریح : ان آیات میں یہودیوں اور منافقین کے بارے میں تفصیلاً بتا دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اکثر اکٹھے ہو کر بیٹھ جاتے اور چپکے چپکے رسول اللہ ﷺ پر فقرے کستے اور مذاق اڑاتے یہ رویہ تو آج کے انسان میں بھی ہے کہ جب بھی کسی واعظ کی مجلس میں جاتے ہیں تو بدنیت، شیطان فطرت لوگ بجائے نصیحت حاصل کرنے کے الٹا غلط رویہ اختیار کرتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ دین کو مسلم معاشرے کو اور ہدایت کار کو نقصان پہنچائیں۔ تو اس وقت ان لوگوں کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ رب العزت علیم وخبیر ہے۔ سمیع وبصیر ہے اور قادر مطلق ہے۔ یعنی کوئی کو نہ ایسا نہیں کہ جن کے بارے میں اللہ کو علم نہ ہو مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔
نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ…
Read the full tafseer →ف 1 ” کیونکہ جس کا وہ حامی و مددگار ہوگا اس کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکے گا کہتے ہیں کہ آنحضرت جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو منافقین مسلمانوں کو رنج دینے کے لئے یوں کانا پھوسیاں کرتے کہ افسوس یہ لشکر والے سب مارے گئے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا (وحیدی)
Read the full tafseer →(58:10) انما۔ بےشک، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔
النجوی۔ سرگوشی ، کانا پھوسی۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت ، متذکرہ بالا) ان کا اسم ہے ۔
من الشیطن۔ خبر ان ۔ بیشک سرگوشی ایک شیطانی فعل ہے۔ النجوی میں آل عہد کا ہے۔ مراد اس سے التناجی بالاثم والعدوان و معصیت الرسول ہے۔
لیحزن۔ خبر دوم۔ لام علت کا ہے۔ تاکہ۔ یحزن مضارع واحد مذکر غائب (منصوب بوجہ عمل لام) حزن (باب نصر) مصدر۔ وہ فمگین کرتا ہے۔ لیحزن تاکہ وہ غمگین کردے۔ یہ خبر دوم ہے ان کی :۔ خیر اخر لانما النجوی والاول من الشیطان 12 (حقانی)
الذین امنوا۔ موصول وصلہ مل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔
تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔
مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
مسلم امت کے دشمن یہود ومنافقین۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو آپس میں سرگوشیاں کرتے ، اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ ان کے خلاف کوئی پوشیدہ بات ہے ، اور اس سے انہیں رنج ہو ان کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ شاید ان لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کی نسبت قتل یا ہزیمت کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہیں اور یہ اسی کے متعلق باتیں بناتے اور اشارے کرتے ہیں جب یہ حرکات منافقین کے بہت زیادہ ہوئیں اور مسلمانوں نے نبی ﷺ کے حضور میں اس کی شکایتیں کیں تو سرد اور دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
[11] یعنی اللہ تعالیٰ نے تو آپ ﷺ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ ان لفظوں میں سلام کیا '' سلام علی المرسلین '' اور '' سلام علی عبادہ الذین اصطفے '' لیکن جب یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تو بجائے '' السلام علیک '' کے دبی زبان میں '' السام علیک '' کہتے جس کے معنی ہیں کہ تجھے موت آئے۔
[12] انسان کی غفلت اور سرکشی میں سب سے زیادہ اضافہ اس مغالطے سے ہوتا ہے جو یہاں مذکور ہوا۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی شرارتوں پر اس دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہو رہی ہے تو وہ مطمئن ہو بیٹھتا ہے کہ اس پر کہیں بھی گرفت نہیں ہوگی حالانکہ یہ محض اس کی بےبصیرتی ہے۔ اگر اعمال کے نتائج فوراً سامنے آجاتے تو کس کی مجال تھی کہ وہ نیکی کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ف 2: عام مجلس میں دو تین آدمیوں کو کانا پھوسی کے لئے منتخب کرلینا اخلاقی لحاظ سے مذموم اور آداب مجلس کے خلاف ہے ۔ کیونکہ اس فریق سے دوسروں کے دلوں میں بدظنی پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے ۔ لیکن اگر ضرورت پیش آجائے ۔ تو ارشاد فرمایا ۔ کہ تمہاری باتیں نیکی اور تقویٰ کی باتیں ہونا چاہئیں ۔ کسی شخص کے متعلق اس لئے سرگوشی کرنا ۔ کہ اس کو تکلیف پہنچنے ۔ اسلامی زاویہ نگاہ سے بہت برا ہے ۔ اس لئے قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ کہ واتقو اللہ یعنی ان باتوں کو حقیر اور معمولی نہ جانو ۔ یہ زہدواتقاء کا صحیح مفہوم ہے ۔ کہ مسلمان زبور اخلاق سے آراستہ ہو ۔ اور یہ جانتا ہو ۔ کہ کون باتیں آداب مجلس کے منافی ہیں ۔ اور…
Read the full tafseer →(10) اس قسم کی بری سرگوشی محض شیطان کا کام ہے تاکہ وہ مسلمانوں کو رنج میں ڈالے اور مبتلا کرے حالانکہ وہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یعنی یہ اس قسم کی قابل اعتراض سرگوشیاں اور مشورے شیطان کے بہکانے سے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان پریشان ہوں اور تردد میں پڑھ جائیں کہ خدا جانے مخالف پارٹی کیا مشورہ کررہی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادے کے بغیر شیطان اور اس کی طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں اور جب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر شیطان سے کوئی ضرر نہیں…
Read the full tafseer →ف 6۔ مطلب یہ کہ اگر بالفرض وہ باغواء شیطان تمہارے ضرر ہی کی باتیں کر رہے ہوں تب بھی وہ ضرر بدون مشیت ازلیہ کے تم کو نہیں پہنچ سکتا، پھر کیوں فکر میں پڑتے ہو۔
Read the full tafseer →شیطانی نجویٰ ایمان والوں کو ڈرانے کے لیے ہے لیکن ایمان والے اس سے بالکل نہیں ڈرتے
10 ؎ ایمان والوں کی ایمانی طاقت و قوت کو کس مخفی انداز سے بڑھایا جا رہا ہے کہ اے ایمان والو ! منافقین ، مخالفین ، معاندین اور کھلے کافر سب تمہارے خلاف سرگوشیوں میں مصروف ہیں لیکن تم ان سب کی سرگوشیوں کی قطعا ً پروانہ کرو ۔ یہ سب تم کو ڈرانا چاہتے ہیں تاکہ تمہارے دلوں میں خوف پیدا ہوجائے کہ اب ان کی مشاورتی کمیٹی نہ معلوم ہمارے خلاف کیا قرارداد پاس کرتی ہے۔ فرمایا وہ جو کچھ بھی پاس کرتے ہیں ان کو کرنے دو اور تم ان کے ڈراوے میں مت آئو ، وہ تمہارا کچھ نہیں بگڑا سکیں گے۔ مگر ہاں ! تمہارا جو کچھ بگڑتا یا سنورتا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
Manners of the Secret Conference
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ (0 those who believe, when you hold secret counsel, do not whisper for sinful act and wrongdoing and disobedience of the Messenger, and do whisper for righteousness and taqwa [ God-fearing ]... 58:9) In this and the preceding verses secret societies of the unbelievers have been condemned, but the condemnation is not unreserved or unqualified. The current verse guides the Muslims to be conscious of the…
Read the full tafseer →25 This has been saidso that if a Muslim watches some other people whispering, which causes him the doubt that it is directed against him, he should not feel so offended as to start planning a counter-attack on the basis of mere suspicion, or begin to nourish grief, or malice, or undue concern in his heart. He should understand that no one can harm him except by Allah's leave. This conviction would inspire him with such confidence that he would feel delivered of many a useless worry and imaginary danger and leaving the wicked to themselves would remain engaged in peacefully doing his duty.…
Read the full tafseer →