آداب مجلس باہم معاملات اور علمائے حق و باعمل کی توقیر
یہاں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ مجلسی آداب سکھاتا ہے۔ انہیں حکم دیتا ہے کہ نشست و برخاست میں بھی ایک دوسرے کا خیال ولحاظ رکھو۔ تو فرماتا ہے کہ جب مجلس جمع ہو اور کوئی آئے تو ذرا ادھر ادھر ہٹ ہٹاکر اسے بھی جگہ دو۔ مجلس میں کشادگی کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی دے گا۔ اس لئے کہ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے، چناچہ ایک حدیث میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کیلئے مسجد بنادے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جو کسی سختی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا، جو شخص اپنے کسی…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 26
اس کی تشریح سورة کے دیباچے میں کی جاچکی ہے۔ بعض مفسرین نے اس حکم کو صرف نبی ﷺ کی مجلس تک محدود سمجھا ہے۔ لیکن جیسا کہ امام مالک نے فرمایا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی تمام مجلسوں کے لیے یہ ایک عام ہدایت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول نے اہل اسلام کو جو آداب سکھائے ہیں ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ جب کسی مجلس میں پہلے سے کچھ لوگ بیٹھے ہوں اور بعد میں مزید کچھ لوگ آئیں، تو یہ تہذیب پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں میں ہونی چاہیے کہ وہ خود نئے آنے والوں کو جگہ دیں اور حتیٰ الامکان کچھ سکڑ اور سمٹ کر ان کے لیے کشادگی پیدا کریں، اور اتنی شائستگی بعد کے آنے والوں میں ہونی چاہیے کہ وہ…
Read the full tafseer →بعض آداب مجلس
(آیت) (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا) الایتہ،
یہ حکم عام مجلس کا ہے جہاں مسلمانوں کا اجتماع ہو کہ جب مجلس میں کچھ لوگ بعد میں آجائیں تو مسلمان ان کیلئے جگہ دینے کی کوشش کریں اور سمٹ کر بیٹھ جائیں، ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ وسعت پیدا فرما دیں گے، یہ وسعت آخرت میں تو ظاہر ہی ہے، کچھ بعید نہیں کہ دنیوی معیشت میں بھی یہ وسعت حاصل ہو۔
اس آیت میں دوسرا حکم آداب مجلس کے متعلق یہ کہ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یعنی ”جب (تم میں سے کسی سے) کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ جاؤ تو…
Read the full tafseer →(یایھا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجلس فا فسحوا یفسح اللہ لکم واذا قیل انشزوا فانشزوا یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتو العلم درجت واللہ بما تعملون خبیر) (11)
(مجلس نبوی کو نجویٰ سے پاک رکھنے کے لیے بعض ہدایات)۔ منافقین کی سرگوشیاں یوں تو ہر مجلس و مقام میں ہوتی تھیں لیکن مجالس نبوی میں اس شرارت کے لیے وہ خاص اہتمام کرتے اس لیے کہ اسلام پر طعن، مسلمانوں کی دل آزادی و حوصلہ شکنی اور نبی ﷺ کی توہین و تضحیک کے مواقع سب سے زیادہ ان کو وہیں ملتے، چناچہ وہ مجلس نبوی میں اپنے مخصوص جتھے بنا کر بیٹھتے اور اس امر کا اہتمام رکھتے کہ کوئی غیر ان کے درمیان نہ گھسنے پائے تاکہ وہ حضور ﷺ کی…
Read the full tafseer →11۔ 1 اس میں مسلمانوں کو مجلس کے آداب بتلائے جا رہے ہیں مجلس کا لفظ عام ہے جو ہر اس مجلس کو شامل ہے جس میں مسلمان خیر اور اجر کے حصول کے لیے جمع ہوں وعظ و نصیحت کی مجلس ہو یا جمعہ کی مجلس ہو تفسیر القرطبی کھل کر بیٹھو کا مطلب ہے کہ مجلس کا دائرہ وسیع رکھو تاکہ بعد میں آنے والوں کے لے بیٹھنے کی جگہ رہے دائرہ تنگ مت رکھو کہ بعد میں آنے والے کو کھڑا رہنا پڑھے یا کسی بیٹھے ہوئے کو اٹھا کر اس کی جگہ وہ بیٹھے کہ یہ دونوں باتیں ناشائستہ ہیں چناچہ نبی ﷺ نے بھی فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے اس لیے مجلس کے دائرے کو فراخ اور وسیع کرلو۔ صحیح بخاری۔
11۔ 2 یعنی اس کے…
Read the full tafseer →7: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ مسجد نبوی کے ساتھ اس چبوترے پر تشریف فرما تھے جسے صفہ کہا جاتا ہے۔ آپ کے ارد گرد بہت سے صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ ایسے بزرگ صحابہ آئے جو غزوہ بدر میں شریک تھے، اور ان کا درجہ اونچا سمجھا جاتا تھا۔ ان کو مجلس میں بیٹھنے کی جگہ نہ ملی تو وہ کھڑے رہے۔ آنحضرت ﷺ نے شرکائے مجلس سے فرمایا کہ وہ ذرا سمٹ سمٹ کر آنے والوں کے لیے جگہ پیدا کریں، اس کے باوجود ان کے لیے جگہ کافی نہ ہوئی تو آپ نے بعض شرکائے مجلس سے فرمایا کہ وہ اٹھ جائیں، اور آنے والوں کے لیے جگہ خالی کردیں۔ اس پر کچھ منافقین نے برا منایا کہ لوگوں کو مجلس سے اٹھایا جا رہا…
Read the full tafseer →” بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول کا بھی منافقین کے ساتھ تعلق ہے۔ ان سے پھر ان آیات اور ماقبل کی آیات کے درمیان ربط واضح ہوجاتا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ آیات مجالس ذکر کے بارے نازل ہوئی ہیں۔ منافقین کا رویہ یہ تھا کہ جب یہ کسی شخص کو مجلس رسول میں آتا دیکھتے تو اپنی جگہ جم کر بیٹھ جاتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ نئے آنے والوں کو مجلس میں جگہ دیا کرو۔
مقاسل ابن حبان نے کہا کہ یہ جمعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس دن حضور ﷺ صفہ میں تھے ، جگہ تنگ تھی۔ حضور ﷺ مہاجرین اور انصار میں سے اہل بدر کا بہت اکرام کرتے تھے۔ اہل بدر میں سے کچھ لوگ آئے اور ان سے پہلے جگہ بھر چکی تھی۔…
Read the full tafseer →5 یعنی اس طرح بیٹھو کہ جگہ کھل جائے اور دوسروں کو بھی موقع بیٹھنے کا ملے۔
6 یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری تنگیوں کو دور کرے گا اور اپنی رحمت کے دروازے کشادہ کر دے گا۔
7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ آداب ہیں مجلس کے۔ کوئی آئے اور جگہ نہ پائے تو چاہیے سب تھوڑا تھوڑا ہٹیں تاکہ مکان حلقہ کا کشادہ ہوجائے۔ یا (اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں اور) پرے ہٹ کر حلقہ کرلیں۔ (یا بالکل چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جائیں) اتنی حرکت میں غرور (یا بخل) نہ کریں۔ خوئے نیک پر اللہ مہربان ہے اور خوئے بد سے بیزار۔ " (تنبیہ) حضور ﷺ پر نور کی مجلس میں ہر شخص آپ کا قرب چاہتا تھا جس سے کبھی مجلس میں تنگی پیش آتی تھی۔ حتی کہ بعض…
Read the full tafseer →آیت 1 1{ یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَـکُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ لَـکُمْ } ”اے مسلمانو ! جب تمہیں کہا جائے کہ مجالس میں کھل کر بیٹھو تو کھل جایا کرو ‘ اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کر دے گا۔“
یہ سمجھانے کا بہت عمدہ انداز ہے۔ یہ نصیحت بھی دراصل منافقین کے ایک مخصوص طرزعمل کی وجہ سے کی جارہی ہے۔ منافقین کا یہ وطیرہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کی محفلوں میں ٹولیوں کی صورت میں باہم جڑکر بیٹھتے تھے تاکہ درمیان میں کوئی اور سچا مسلمان نہ بیٹھ سکے۔ ایسے الگ حلقے بنا کر محفل کے دوران وہ حضور ﷺ کے فرمودات پر اپنی مرضی کے تبصرے کرتے اور استہزائیہ فقرے چست…
Read the full tafseer →12 آداب مجلس :۔ کسی مجلس یا اجتماع میں دو یا چند آدمیوں کا الگ ہو کر کانا پھوسی کرنا بھی آداب مجلس کے خلاف ہے۔ اسی نسبت سے اس آیت میں چند مزید آداب مجلس کا خیال رکھنے کا مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کوئی شخص دوسرے کو اٹھا کر وہاں خود نہ بیٹھے۔ نیز فرمایا کہ (جب جگہ تنگ ہو تو) کھل کر نہ بیٹھو اور آنے والوں کو جگہ دو ۔ (بخاری۔ کتاب الاستیذان۔ باب اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس)
2۔ سیدنا جابر ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جمعہ کے دن اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ…
Read the full tafseer →22۔ غرض یہ کہ صدر مجلس کے ہر حکم کی تعمیل بےچون وچرا کیا کرو۔ (آیت) ” یایھا الذین ..... المجلس “۔ اب تعلیم آداب مجلس کی مل رہی ہے، خصوصا مجلس نبوی ﷺ کی۔ شریعت کی ہمہ گیری سے زندگی کا کون سا شعبہ بچا رہ سکتا ہے۔ (آیت) ” اذا قیل لکم “۔ یہ حکم صدر مجلس کی طرف سے ملے گا، کسی ضرورت یا مصلحت کی بناء پر۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ طریقت اگر اپنی مجلس کے کچھ آداب و ضوابط مقرر کرے، تو اسے اس آیت سے اصل مل سکتی ہے۔
23۔ (چنانچہ اس کی بھی کہ کون تعمیل ارشاد، محض دنیوی مصلحت سے کررہا ہے بلاشائبہ ایمان، اور کون پورے ایمان، اخلاص و خشیت کے ساتھ کررہا ہے) (آیت) ” الذین .... درجت “۔ ان قیدوں کے لگ جانے…
Read the full tafseer →یا ایھا الذین آمنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجلس اس سے پہلی آیت میں اس چیز کو بیان فرمایا کہ جو لوگوں کے درمیان تباغض اور تنافر کا سبب ہوتی ہے وہ تناجی بالاثم والعدوان والمعصیۃ ہے اور اس آیت میں اس چیز کو بیان فرمایا جو آپس میں مودت اور محبت کا سبب بنتی ہے مثلاً مجلس میں کشادگی پیدا کرنا، دوسروں کو جگہ دینا مل مل کر بیٹھنا، یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے اپٓس میں محبت اور مودت پیدا ہوتی ہے۔
مذکورہ آیت کا شان نزول :
ابن ابی حاتم نے مقاتل سے نقل کیا ہے کہ ایک جمعہ کو آپ ﷺ صفہ میں تشریف فرما تھے، جگہ تنگ تھی، آپ ﷺ بدریین کا بہت اکرام فرماتے تھے، مجلس بھری ہوئی تھی، اہل بدر میں سے چند لوگ آئے جن میں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ ۚ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ۔
” اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کھول دو تو تم جگہ کھول دیا کرو ‘ اللہ تم کو کھلی جگہ (جنت میں) دے دے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جایا کرو اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور (ایمان والوں میں خاص طور پر) ان لوگوں کے جن کو علم (دین) عطا کیا گیا ہے (آخرت میں) درجے بلند کر دے گا۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ…
Read the full tafseer →اے ایمان والو جب تم سے نبی اکرم فرمائیں کہ مجلس میں جگہ کھول دو تو تم جگہ کھول دیا کرو اللہ تعالیٰ آخرت اور جنت میں تم پر کشادگی فرمائے گا یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جس کا واقعہ سورة حجرات میں گزر چکا ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت اصحاب بدر میں سے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان ہی میں سے ثابت بن قیس بن شماس بھی ہیں، واقعہ یہ پیش آیا کہ یہ حضرات نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ جمعہ کے دن حضرت صفیہ کے چبوترے پر تشریف فرما تھے تو ان حضرات کو بیٹھنے کے لیے جگہ نہیں ملی یہ مجلس کے کونے پر کھڑے ہوگئے تو رسول اکرم نے ان لوگوں سے جو بدری نہیں تھے فرمایا اے…
Read the full tafseer →1۔ٰیٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا۔۔۔۔۔: پچھلی آیات میں مجلس کے آداب میں سے سرگوشی سے ممانعت کا ادب بیان ہوا ، اس آیت میں اس کے مزید کچھ آداب بیان ہوئے ہیں۔ ان آداب کی ضرورت اس لیے پڑی کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ہر شخص آپ کے زیادہ سے زیادہ قریب رہنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے مجلس میں تنگی پیش آتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ادب سکھایا کہ جب حاضرین مجلس کی سہولت کے لیے کہا جائے کہ کھل جاؤ ، تا کہ سب لوگ آسانی سے کھلے ہو کر بیٹھ سکیں تو کھل جاؤ ، صرف میر مجلس کے قریب کے پیش نظر ایک دوسرے کے اوپر چڑھ کر بیٹھے رہنے پر اصرار نہ کرو۔ اسی طرح اگر مجلس میں کچھ اور لوگ…
Read the full tafseer →تفسیر
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا الذین امنوا ذا قیل لکم تفحو فی المجلس۔ جب اس امر کی وضاحت کی کہ یہودی آپ کو ایسے انداز میں سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا اور اس امر پر ان کی مذمت کی ساتھ ہی انہیں رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حسن ادب کا حکم دیا تاکہ وہ آپ پر مجلس کو تنگ نہ کردیں اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ باہم شفقت اور محبت کا اظہار کریں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے لئے جگہ کھلی کردیں تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بات سن سکیں اور آپ کا دیدار کرسکیں۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : صحابہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں باہم مقابلہ کیا کرتے تھے تو انہیں حکم دیا کیا کہ وہ ایک…
Read the full tafseer →5۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت تفسحوا فی المجالس الف کے ساتھ آیت فافسحوا یفسح اللہ لکم (مجلس میں جگہ کھول دیا کرو اور اللہ تم کو کھلی جگہ جنت میں دے گا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قتال میں کشادگی کردے گا۔ آیت واذا قیل انشزوا فانشزوا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جایا کرو۔ یعنی جب کہا جائے کہ واپسی کے لیے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جاؤ۔
6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجٰلس کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ کی مجلس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا قیل لکم…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اِذَا قِيْلَ لَكُمْ : جب کبھی کہا جائے تم لوگوں سے ][ تَفَسَّحُوْا : تم لوگ کشادگی پیدا کرو ][ فِي الْمَجٰلِسِ : مجلسوں میں ][ فَافْسَحُوْا : تو تم لوگ کشادگی کرو ][يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ : تو کشادگی کرے گا اللہ تمہارے لیے ][وَاِذَا قِيْلَ انشُزُوْا : اور کبھی کہا جائے اٹھو ][ فَانشُزُوْا : تو اٹھا جائو ][ يَرْفَعِ اللّٰهُ : تو بلند کرے گا اللہ ][ الَّذِينَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ : تو بلند کرے گا اللہ ][ وَالَّذِينَ اُوْتُوا الْعِلْمَ : اور ان کو جنھیں دیا گیا علم ][ دَرَجٰتٍ : درجات کو ][ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس سے…
Read the full tafseer →مجلس کے بعض آداب اور علماء کی فضیلت
اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو دو باتوں کا حکم دیا اول یہ کہ مجلسوں میں بیٹھے ہوں تو بعد میں آنے والوں کو بھی جگہ دیا کریں اور کھل کر بیٹھ جایا کریں، تاکہ مجلس میں گنجائش ہوجائے اور آنے والوں کو جگہ مل سکے، جب ایسا عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے صلہ میں ان پر کرم فرمائے گا ان کے لئے اپنی رحمت اور مغفرت کو وسیع فرمائے گا۔
آنے والوں کو چاہئے کہ وہ کسی پہلے سے بیٹھے ہوئے شخص کو نہ اٹھائیں اور بھری ہوئی مجلس میں اندر گھسنے کی کوشش نہ کریں اور بیٹھے والوں کو چاہئے کہ آنے والوں کے لئے جگہ نکالیں اور کھل کر بیٹھیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں…
Read the full tafseer →14:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اذا قیل “ یہ اصلاح منافقین کیلئے دوسرا قانون ہے۔ منافقین، رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آپ کے قریب آ کر بیٹھ جاتے اور جگہ روک لیتے یہاں تک کہ اکابر صحابہ ؓ کی آمد پر بھی وہ ان کے لیے جگہ خالی نہ کرتے اور بدستور آپ کے قریب بیٹھے رہتے اور بعض اوقات اکابر صحابہ ؓ کو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کھڑے رہنا پڑتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا جب مجلس میں جگہ کافی ہو اور تمہیں کھلے ہو کر بیٹھنے کا حکم دیا جائے تو کھلے ہو کر بیٹھ جایا کرو تم میں جو مخلص مؤمن ہیں اللہ تعالیٰ اس تعمیل حکم پر ان کے درجات بلند فرمائیگا اور اس میں سے جو اہل علم ہیں ان کے درجات اور بھی بلند ہوں گے۔ حضرت شیخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کا ذکر ہوا ، پھر یہودیوں اور منافقوں کی مذمت بیان ہوئی۔ یہ لوگ مجلسوں میں تکلیف دہ باتیں کرتے تھے۔ وہ مجلس میں آکر سلام بھی غلط طریقے سے کرتے تھے جس سے مخلص مسلمانوں کی دل آزاری ہو ان کی اس حرکت کو اللہ نے بداخلاقی سے تعبیر کیا کہ وہ سلام کی بجائے سام کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ مجلس میں بیٹھ کر سرگوشیاں بھی کرتے تھے۔ اور اہل ایمان کی اذیت کا باعث بنتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مجلس کے بعض آداب سکھائے ہیں۔ دو قسم کے آداب میں سے پہلی قسم عام مومنوں سے متعلق ہے جب کہ دوسری قسم کا ادب پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات کے ساتھ خاص…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللہُ لَكُمْ 0 ۚ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ 0 ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 11
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ترکیب : لیحزن خبرآخر لانما النجوٰی والاول من الشیطان والذین اوتوالعلم فی محل النصب لکونہ معطوفا علی الذین آمنوا درجات منصوبۃ بالتمیز۔
تفسیر : پہلے مخفی مشاورت کی برائی بیان ہوئی تھی اب یہاں مسلمانوں کو مشورے کی بابت حکم دیتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا الخ کہ مخفی مشورہ بالکل ممنوع نہیں ہاں اگر ہو تو گناہ اور بغاوت اور رسول کی نافرمانی کی بابت نہ ہو بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں کے لیے ہونا چاہیے اور اگر مصالح دنیاویہ کی بابت ہو بشرطیکہ گناہ اور بغاوت اور نافرمانی رسول نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ اسی کے پاس جمع ہونا ہے قیامت میں یا مرنے کے بعد عالم ارواح میں۔ اب اس…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ لَـکُمْ ج وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْـکُمْ لا وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (المجادلۃ : 11)
(اے ایمان والو ! جب تمہیں کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو، تو کھل کر بیٹھو، اللہ تمہارے لیے کشادگی فرمائے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ، تو اٹھ جایا کرو، اللہ ان لوگوں کے جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، درجات بلند فرمائے گا اور اللہ اس چیز سے جو تم کرتے ہو خوب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشاورت اور سرگوشی عمومی طور پر مجالس میں کی جاتی ہے اس لیے مجالس کے آداب بتلائے گئے ہیں۔
اے ایمان والوں جب تمہیں کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو آپس میں کھل جایا کرو ! اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فراخی اور کشادگی پیدا کرے گا اور جب تمہیں مجلس سے اٹھ جانے کا حکم دیا جائے تو اٹھ جایا کرو ! جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا ہے۔ یاد رکھو ! تم جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے باخبر ہوتا ہے۔ درجات بلند کرنے کی خوشخبری سنا کر بتلایا ہے کہ جب نبی ﷺ مجلس برخواست کریں تو اٹھ جانا چاہیے اور اس میں اپنی توہین نہیں…
Read the full tafseer →1 1 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ (اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کھول دو ۔ مجالس میں توسع پیدا کرو) فی المجالس عاصم و نافع کی قراءت ہے۔ مراد اس سے مجلس رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم ہے۔ آپ کا قرب حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کے مقابلہ میں قریب تر بیٹھتے تاکہ آپ کی بات خوب سن سکیں۔
مجالس میں توسیع ‘ ایک قول :
وہ قتال کی مجالس میں سے ایک مجلس تھی۔ اور وہ مجالس ہی قتال کے مراکز ہوتیں جیسا کہ فرمایا مقاعد للقتال ] آل عمران : 121[ مقاعد، مقاتل کے معنی میں ہے۔ نماز جمعہ میں لڑائی کے مقامات فَافْسَحُوْا (پس تم مجلس…
Read the full tafseer →10 ۔” انما النجویٰ من الشیطان “ یعنی شیطان کے مزین کرنے سے۔ ” لیحزن الذین امنوا “ یعنی شیطان ان کے لئے یہ مزین کرتا ہے تاکہ وہ مومنین کو غمگین کریں۔
” ولیس “ باہم سر گوشی کرنا۔ ” بضارھم شیئا “ اور کہا گیا ہے شیطان ان کو نقصان دینے والا نہیں ہے۔ ” الا باذن اللہ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون “ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم تین ہو تو دو شخص تیسرے کے بغیر سرگوشی نہ کریں مگر اس کی اجازت کے ساتھ کیونکہ یہ بات اس کو غمزدہ کرے گی۔
Read the full tafseer →11۔ تفسیر مقاتل 2 ؎ میں ہے کہ یہ آیت خاص جمعہ کی نماز کی مجلس کے باب میں نازل ہوئی ہے کہ جمعہ کے دن مسجد میں جگہ تنگ ہو تو لوگوں کو چاہئے کہ اس طرح دب کر بیٹھیں کہ پہلے سے بیٹھنے والوں کو اور پیچھے آنے والوں کو سب کو جگہ ہوجائے مسند امام احمد اور صحیح 3 ؎ مسلم میں دب کر بیٹھنے کی حضرت جابر کی حدیث ہے۔ اس سے اس قول کی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس میں جمعہ کا بھی ذکر ہے لیکن صحیحین میں حضرت 4 ؎ عبد اللہ بن عمر کی جو حدیث ہے اس میں جمعہ کا ذکر نہیں ہے۔ اس لئے قتادہ 5 ؎ وغیرہ کا قول ہے کہ آیت ذکر خیر کی سب مجلسوں کو شامل ہے اس قول میں دونوں حدیثوں پر عمل ہوجانے کا لحاظ ہے اس لئے یہی قول صحیح معلوم…
Read the full tafseer →یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ادب کی تعلیم ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ یا آنے والے دیگر لوگ مجلس میں کشادگی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں لہذا یہ آداب مجلس کا حصہ ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مجلس میں کشادگی پیدا کریں۔ یہ چیز کشادگی کرنے والے کو کوئی نقصان نہیں دیتی، لہذا اس کو ضرر لاحق ہوئے بغیر اس کے بھائی کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے، اس لیے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے کشادگی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے کشادگی پیدا کردیتا ہے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے۔ (وَاِذَا…
Read the full tafseer →آداب مجلس
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس فافسحوا اے ایمان والو ! جب تم سے یہ کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کردیا کرو اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا) قتادہ کہتے ہیں کہ لوگ حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے چناچہ انہیں جگہ کھول دینے کا حکم دیا گیا۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے قتال کی مجلس مراد ہے۔ قتادہ نے قول باری (و اذا قیل انشزوا فانشزوا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جائو تو اٹھ جایا کرو) کی تفسیر میں کہا ہے کہ جب تمہیں کسی کار خیر کی دعوت دی جائے تو اٹھ کھڑے ہوجایا کرو۔
ایک قول کے مطابق (انشووا) کے…
Read the full tafseer →[ 36] بعض اہم آداب مجلس کی تعلیم و تلقین کا ذکرو بیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب لوگوں سے کہا جائے کہ تم اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشادگی کردیا کرو۔ اللہ تم کو کشادگی عطا فرمادے گا۔ یعنی ہر اس امر میں جس میں کشادگی مطلوب ہو، سینے میں کشادگی، مکان میں کشادگی، روزی میں کشادگی، قبر میں کشادگی وغیرہ سب ہی کچھ اس میں آگیا، کہ لفظ کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ رسول کی اطاعت و فرمانبرداری اور اعمال اعمال صالحہ کے اثرات کہاں کہاں پہنچتے ہیں، اور ان کی برکات وثمرات کس کس شکل میں ظاہر ہوتے ہیں، روایات میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آداب مجلس
تشریح : بہت سی احادیث ان آیات کے بارے ملتی ہیں مثلاً سیدناابو مسعود ؓ فرماتے ہیں باوجود اس حکم کے تم اب بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو (مسلم، ابو داؤد، اور نسائی)
تفسیر ابن کثیر میں ان آیات کا بڑا پیارا مفہوم ملتا ہے بدری صحابہ ؓ کے مسجد میں آنے پر آپ ﷺ نے چاہا کہ یہ بھی آرام سے بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور علم الٰہی حاصل کرلیں تو آپ نے لوگوں کو تھوڑا ہٹا کر بدری صحابہ ؓ کو بہتر جگہ دلوائی اس طرح امت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس ( بہترین جگہ) بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔ ان مختصر مگر انتہائی جامع آیات میں امت مسلمہ کو تمدن، اخلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔
نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ…
Read the full tafseer →ف 2 اس آیت میں مسلمانوں کو آداب مجلس کی تعلیم ہے کہ ذرا کھل کر بیٹھا کرو تاکہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو تکلیف نہ ہو، البتہ اگر بالکل جگہ نہ ہو تو دوسری بات ہے احادیث میں آداب مجلس کی تفصیل دیکھ لی جائے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ حکم ہر اس مجلس کے لئے ہے جس میں مسلمان کسی نیک کام کے لئے جمع ہوں۔ (شوکانی)3 یعنی جب تمہیں کسی نیک کام کے لئے بلایا جائے تو سستی نہ کرو بلکہ چلنے کو فوراً تیار ہوجائو۔ (شوکانی)
4 یعنی سچا ایمان اور صحیح علم آدمی کو ادب و تہذیب سیکھاتا ہے اور تواضح سے انسان کے مراتب بلند ہوتے ہیں ایک حدیث میں ہے ہے کہ من تواضح للہ رفعہ اللہ یہ کام اکھڑا اور متکبر قسم کے جاہلوں کا ہے…
Read the full tafseer →(58:11) اذا قیل لکم ۔۔ فی المجلس جملہ شرطیہ ہے۔
تفسحوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تفسح (تفعیل) مصدر بمعنی کھل کر بیٹھنا اور کشادگی و فراخی کرنا۔ تم کشادگی کرو۔ کھل کر بیٹھو
الفسح والفسیح کے معنی وسیع جگہ کے ہیں۔ فسحت مجلسہ میں نے اس کے لئے مجلس میں۔ محفل میں جگہ کردی تو وہ اس میں کھل کر بیٹھ گیا۔ فافسحوا۔جواب شرط کے لئے ہے۔ افسحوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ فسح (باب فتح) مصدر۔ بمعنی وسعت سے بیٹھنا۔ اور کھل کر رہنا۔ تو تم کھل جاؤ ۔ جواب شرط ہے۔
یفسح اللہ لکم : جواب امر۔ خدا تم کو فراخی دے گا۔ یفح مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ واحد مذکر غائب۔ فسح (باب فتح) مصدر۔ اللہ تمہارے لئے کشادگی کردیگا تمہارے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔
تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔
مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر…
Read the full tafseer →ذکرالٰہی کی مجلس میں بیٹھنے کا طریقہ اور مجلسی ومعاشرتی آداب۔
(ف 1) شان نزول : نبی کریم ﷺ بدر میں حاضر ہونے والے اصحاب کی عزت کرتے تھے ایک روز چند بدری اصحاب ایسے وقت پہنچے جبکہ مجلس شریف بھرچکی تھی انہوں نے حضور کے سامنے ہوکرسلام عرض کیا حضور نے جواب دیا، پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا پھر وہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ ان کے لیے مجلس شریف میں جگہ کی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ۔ یہ سردار دوجہاں محمد مصطفیٰ کو گراں گزری تو حضور اپنے قریب والوں کو اٹھاکران کے لیے جگہ کی ، اٹھنے والوں کو اٹھنا شاق ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ جب کسی مجلس میں تم جاؤ، وہاں تم سے…
Read the full tafseer →[14] یعنی اس طرح بیٹھو کہ جگہ کھل جائے اور دوسروں کو بیٹھنے کا موقع ملے۔
[15] یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری تنگیوں کو دور کرے گا اور اپنی رحمت کے دروازے کشادہ کر دے گا۔
[16] یہ آداب ہیں مجلس کے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کو سکھائے ہیں۔ کسی مجلس میں کوئی شخص آئے اور جگہ نہ پائے تو چاہیے کہ سب لوگ تھوڑا تھوڑا ہٹیں تاکہ جگہ کشادہ ہوجائے یا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں اور پرے ہٹ کر حلقہ بنالیں، یا بالکل چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جائیں۔ اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ نبی ﷺ کی مجلس میں ہر شخص آپ ﷺ کا قرب چاہتا تھا جس سے بعض دفعہ مجلس میں تنگی پیش آتی تھی اور اکابر صحابہ کو آپ ﷺ کے قریب جگہ نہ ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آدمب مجلس
1: صحابہ کو حضور ﷺ سے بدرجہ غایت محبت تھی ۔ اس لئے مجالس نبوی ﷺ میں خوب بھیڑ رہتی ۔ اور ہر شخص یہ کوشش کرتا کہ اس کو زیادہ قریب جگہ ملے ۔ تاکہ جمال نبوت سے وہ دل ودیدہ کی تسکین کا سامان بہم پہنچائے اس میں سبقت ہوتی ۔ اور بڑھ بڑھ کر لوگ آگے پہنچنے کی کوشش کرتے ۔ اور جب آدمی آکر یہ کہتے ۔ کہ بھائی ہمیں بھی جگہ دو ۔ تو انہیں ناگوار ہتا ۔ اور وہیں جمے رہتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ کہ جب مجالس کا اہتمام کرو ۔ تو نشستیں کشادہ رکھو ۔ تاکہ بعد میں آنے والے لوگ بھی سماعت اور دیدار کی لذتوں سے استفادہ کرسکیں ۔ اور اگر تمہیں یہ کہا جائے ۔ کہ نشست بدل لو ۔ یا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہو ۔ تو…
Read the full tafseer →(11) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں کھل کر بیٹھو اور جگہ کشادہ کردو تو جگہ کھولدیا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کشادگی کردے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ کھڑے ہوجائو تو کھڑے ہوجایا کرو اللہ تعالیٰ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے اور ان لوگوں کے جن کو علم عطا کیا گیا ہے درجے بلند کردے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ آداب ہیں مجلس کے کوئی آوے اور جگہ نہ پاوے تو چاہیے سب تھوڑا تھوڑا ہٹیں مکان حلقے کا کشادہ ہوجائے یا اٹھ کر پرے حلقہ کرلیں اتنی حرکت کرنے میں غرور نہ کریں خو نیک پر اللہ مہربان ہے اور خوبد سے…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی رسول اللہ ﷺ فرمادیں یا اولی الامر یا واجب الاطاعت لوگوں میں سے کوئی کہے۔
1۔ خواہ اٹھنے کے لئے اس غرض سے کہا جاوے کہ آنے والے کے لئے جگہ کھل جائے، پھر چاہے بالکل اٹھ جانے سے ہو، یا ایک جگہ سے اٹھ کر دوسرے جگہ جا بیٹھنے سے ہو، اور خواہ اس وجہ سے کہا جاوے کہ صدر مجلس کو کسی مصلحت مشورت خاصہ یا کسی ضرورت آرام یا عبادت وغیرہ سے انفراد اور تخلیہ وغیرہ کی حاجت ہو۔ جو بدون خلوت کے مطلقا حاصل نہ ہوسکیں یا کامل نہ ہوسکیں، پس صدر مجلس کے امر بالقیام سے اٹھ جانا چاہئے۔ اور یہ حکم غیر رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی عام ہے۔ پس صاحب مجلس کو حاجت کے وقت اس کی اجازت ہے، البتہ آنے والے کو نہ چاہئے کہ کسی کو…
Read the full tafseer →ایمان والوں کی ایمانی زندگی کو پاک و صاف کرنے والی باتوں کی تلقین
11 ؎ ( اذا قیل لکمم تفتسحوا) جب تم سے کہا جائے کہ کشادہ ہو جائو ۔ یہ اس آخری صورت حال کا ذکر کیا گیا ہے حالانکہ اصل اول تو یہ ہے کہ جب ایک حلقہ میں چند لوگ بیٹھے ہوں تو کوئی آدمی آجائے اور حلقہ میں جگہ خالی نہ ہو تو حلقہ میں مل کر بیٹھنے والے خود بخود حلقہ کو اتنا کھول دیں کہ حلقہ میں اس آدمی کی گنجائش پیدا ہوجائے لیکن فرض کیا کہ بیٹھنے والوں میں سے کسی کو اس کا خیال نہیں آیا اور میر مجلس نے کہہ دیا کہ بھائی ذرا ذرا کشادہ ہو جائو تاکہ آنے والے کی حلقہ میں گنجائش پیدا ہوجائے تو ضروری ہے کہ مجلس میں بٹھنے والے کشادہ ہوجائیں اور…
Read the full tafseer →Manners for Assemblies
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا (0 those who believe, when it is said to you 'Make room [ for others ] in the sittings', then make room, ...58:11) Allah teaches His servants good manners and enjoins upon them to be kind to each other when they are sitting together. There are two main rules of assemblies: The first rule states that people sitting in an assembly should make space for those who came late. They should sit together in such a way that there is enough room for others. If this is done, Allah promises…
Read the full tafseer →26 This has been explained in the Introduction to the Surah above. Some commentators regard this Command as restricted to the assemblies of the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace). But as pointed out by Imam Malik, the correct view is that this is a general instruction for the assemblies held by the Muslims. One of the rules of etiquette taught by AIIah and His Messenger to the Muslims is that when they arc sitting in an assembly and some more people arrive, they should have the courtesy to accommodate the new-comers and should squeeze in together as far as possible to make room for…
Read the full tafseer →