Explained with ayahs 12–13
نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کی منسوخ شرط
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہوجاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کرسکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔ پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرمایا اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 29
حضرت عبداللہ بن عباس اس حکم کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ باتیں (یعنی تخلیہ کی درخواست کر کے) پوچھنے لگے تھے حتیٰ کہ انہوں نے حضور کو تنگ کردیا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے نبی پر سے یہ بوجھ ہلکا کر دے (ابن جریر)۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ نبی ﷺ سے جو شخص بھی علیٰحدگی میں بات کرنے کی درخواست کرتا، آپ اسے رد نہ فرماتے تھے۔ جس کا جی چاہتا آ کر عرض کرتا کہ میں ذرا الگ بات کرنا چاہتا ہوں، اور آپ اسے موقع دے دیتے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ ایسے معاملات میں بھی آپ کو تکلیف دینے لگے جن میں الگ بات کرنے کی کوئی حاجت نہ ہوتی۔ زمانہ وہ تھا جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ الایة، رسول اللہ ﷺ تعلیم و اصلاح خلق کے کام میں تو شب و روز مشغول رہتے ہی تھے، مجالس عامہ میں سب حاضرین مجلس آپ کے ارشادات سے فائدہ اٹھاتے تھے، اس سلسلے میں ایک صورت یہ بھی تھی کہ بعض لوگ آپ سے علیحدگی میں خفیہ بات کرنا چاہتے اور آپ وقت دے دیتے تھے، یہ ظاہر ہے کہ ایک ایک شخص کو الگ وقت دینا بڑا وقت بھی چاہتا ہے اور محنت بھی، اس میں کچھ منافقین کی شرارت بھی شامل ہوگئی کہ مخلص مسلمانوں کو ایذاء پہنچانے کے لئے آپ سے علیحدگی اور سرگوشی کا وقت مانگتے اور اس میں مجلس کو طویل کردیتے تھے، بعض ناواقف مسلمان بھی بات لمبی کر کے مجلس…
Read the full tafseer →4۔ آگے آیات 12۔ 13 کا مضمون
اوپر کی آیات میں جس طرح مجلس نبوی کی سرگوشیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بعض تدبیریں بتائی گئی ہیں اس طرح آگے کی آیت میں خود ذات نبوی ﷺ کو سرگوشیاں کرنے والوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک ہدایت دی گئی۔ جب یہ فتنہ بڑھا اور اس پر قرآن میں نکسیر بھی فرمائی گئی تو بہت سے منافقین نبی ﷺ سے راز دارانہ طور پر مل کر اپنی صفائی پیش کرنے اور اپنے سر کا الزام دوسرے بےگناہوں کے سر تھوپنے کی کوشش میں لگ گئے۔ یہ لوگ کھلی مجلس میں تو اپنی صفائی پیش کرنے کا حوصلہ کر نہیں سکتے تھے اس وجہ سے ہر ایک کی کوشش یہ رہی ہوگی کہ اس کو حضور ﷺ سے خلوت میں بات کرنے کا موقع ملے۔ یہ صورت حال مقتضی…
Read the full tafseer →12۔ 1 ہر مسلمان نبی سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کرنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے نبی ﷺ کو خاصی تکلیف ہوتی، بعض کہتے ہیں کہ منافقین یوں ہی بلا وجہ نبی سے مناجات میں مصروف رہتے تھے، جس سے مسلمان تکلیف محسوس کرتے تھے، اس لئے اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا، تاکہ آپ سے گفتگو کرنے کے رحجان عام کی حوصلہ شکنی ہو
12۔ 2 بہتر اس لیے کہ صدقے سے تمہارے ہی دوسرے غریب مسلمان بھائیوں کو فائدہ ہوگا اور پاکیزہ تر اس لیے کہ یہ ایک عمل صالح اور اطاعت الہی ہے جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ امر بطور استحباب کے تھا وجوب کے لیے نہیں۔
Read the full tafseer →8: جو لوگ حضور اقدس ﷺ سے تنہائی میں بات کرنے کا وقت مانگتے تھے، بعض اوقات وہ غیر ضرور طور پر آپ کا زیادہ وقت لے لیتے تھے، چونکہ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص آپ سے بات کرتا تو خود سے اس کی بات نہیں کاٹتے تھے، اس لیے بعض لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے جن میں کچھ منافقین بھی شامل تھے۔ چنانچہ اس آیت نے یہ حکم دیا تھا کہ جو کوئی شخص آپ سے تنہائی میں بات کرنا چاہے، وہ پہلے کچھ غریبوں کو صدقہ خیرات کر کے آئے۔ البتہ ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا تھا کہ اگر کسی کے پاس صدقہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ صدقے کی کوئی مقدار متعین نہیں فرمائی گئی تھی۔ چنانچہ حضرت علی ؓ سے منقول…
Read the full tafseer →یایھا الذین .................... غفور رحیم (85 : 21) ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلس میں کشادگی پیدا کرو ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ کو اس کی خبر ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو ، یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے ۔ البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ “
اس آیت پر حضر علی ؓ نے عمل کیا۔ آپ کے پاس ایک دینار تھا۔ آپ نے اسے روپوں میں تبدیل کیا ۔ آپ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ جس وقت الگ کوئی مشورہ کرتے تو ایک درہم کا صدقہ کردیتے لیکن مسلمانوں پر یہ امر بہت ہی شاق گزرا۔ اللہ کو تو پہلے…
Read the full tafseer →9 منافق بےفائدہ باتیں حضرت ﷺ سے کان میں کرتے کہ لوگوں میں اپنی بڑائی جتائیں اور بعض مسلمان غیر مبہم باتوں میں سرگوشی کر کے اپنا وقت لے لیتے تھے کہ دوسروں کو حضور ﷺ سے مستفید ہونے کا موقع نہ ملتا تھا، یا کسی وقت آپ خلوت چاہتے تو اس میں تنگی ہوتی تھی۔ لیکن مروت و اخلاق کے سبب کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس وقت یہ حکم ہوا کہ جو مقدرت والا آدمی حضور ﷺ سے سرگوشی کرنا چاہے وہ اس سے پہلے کچھ خیرات کر کے آیا کرے۔ اس میں کئی فائدے ہیں۔ غریبوں کی خدمت، صدقہ کرنے والے کے نفس کا تزکیہ، مخلص و منافق کی تمیز، سرگوشی کرنے والوں کی تقلیل، وغیر ذلک۔ ہاں جس کے پاس خیرات کرنے کو کچھ نہ ہو، اس سے یہ قید معاف ہے۔ جب یہ…
Read the full tafseer →آیت 12{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰٹکُمْ صَدَقَۃً } ”اے اہل ایمان ! جب تم رسول ﷺ سے تخلیہ میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس بات چیت سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو۔“
اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ منافقین میں سے اکثر لوگ وقتاً فوقتاً بلاوجہ حضور ﷺ سے تخلیہ میں بات کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ حضور ﷺ مروّت کے باعث ہر کسی کی بات مان تو لیتے ‘ لیکن منافقین کا یہ طرزعمل آپ ﷺ کے لیے زحمت کا باعث تھا۔ یہ لوگ حضور ﷺ سے ایسی ملاقاتیں محض اپنی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کرتے تھے ‘ تاکہ لوگ دیکھیں کہ حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے والا یہ شخص حضور…
Read the full tafseer →16 آپ سے سرگوشی کرنے پر صدقہ کی عارضی پابندی اور اس کے فوائد :۔ بعض منافقوں کی یہ عادت تھی کہ محض اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے اور بڑائی جتانے کی خاطر آپ سے سرگوشی شروع کردیتے اور بےکار باتوں میں آپ کا اتنا وقت ضائع کردیتے تھے جس سے دوسروں کو آپ سے استفادہ کا وقت نہ ملتا تھا۔ یا کسی وقت آپ خلوت چاہتے تو آپ کو ایسا موقع میسر نہ آتا تھا۔ پھر منافقوں کی دیکھا دیکھی کچھ مسلمان بھی ایسا کرنے لگے تھے اور آپ ہر ایک کی بات سننے کو تیار ہوجاتے اور مروت اور اخلاق کی وجہ سے کسی کو منع نہ فرماتے اس سے کئی قسم کے نقصان ہو رہے تھے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے خود ایسی آزادی پر پابندی لگا دی اور فرمایا کہ جو شخص آپ سے…
Read the full tafseer →24۔ حکم اغنیائے امت کو مل رہا ہے کہ تم رسول سے اگر تخیلہ چاہتے ہو تو کچھ نہ کچھ نذرانہ فقرائے امت کیلئے پیش کیا کرو، اس حکم کا امت کی انتظامی مصلحتوں پر مبنی ہونا بالکل ظاہر ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ سے تخلیہ چاہنا ایک امر اہم ہے، بلاضرورت اس کی درخواست ومبادرت نہ کرے۔
25۔ (چنانچہ ناداروں کے حق میں تخیلہ کیلئے اس نے کوئی ایسی قید یا شرط نہیں رکھی) (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ آیت کے شروع میں ان الفاظ مخاطبت سے ظاہر ہورہا ہے کہ اب گفتگو منافقین سے نہیں صرف مخلصین سے ہورہی ہے۔ (آیت) ” ذلک خیرلکم واطھر “۔ جب ہر طاعت کفارۂ سیئات کا سبب ہوتی ہے، تو یہ طاعت بھی لامحالہ اعنیائے امت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
یایھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجوا کم صدقۃ حضرت عبداللہ بن عباس رضیا للہ تعالیٰ عنہما اس حکم کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مسلمان آپ ﷺ سے تخلیہ یعنی تنہائی میں زیادہ باتیں کرنے لگے تھے جس کی وجہ سے عام مسلمانوں کو دقت ہوتی تھی اور عمومی مجلس کا حرج بھی ہوتا تھا ہر شخص یہ کوشش کرتا تھا کہ میں آپ سے تنہائی میں زیادہ سے زیادہ باتیں کروں اس سے آپ ﷺ کو بھی تکلیف ہوتی تھی، اس دقت سے نجات کی اور اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ شکل نکالی کہ جو لوگ آپ ﷺ سے تخلیہ میں باتیں کرنا چاہیں وہ پہلے کچھ صدقہ کریں، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ حکم نازل ہوا تو حضور ﷺ نے مجھے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاَطْهَرُ ۭ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ . ” اے ایمان والو ! جب تم رسول سے سرگوشی کا ارادہ کیا کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے (مسکینوں کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور گناہوں سے پاک ہونے کا اچھا ذریعہ ہے ‘ پھر اگر تم کو خیرات دینے کا مقدور نہ ہو تو اللہ معاف کرنے والا ‘ بڑا مہربان ہے۔ “
اِذَا نَاجَیْتُمْ الرَّسُوْلَ : یعنی جب تم رسول سے بات کرنے کا ارادہ کرو۔ بغوی نے مقاتل بن حبان کا بیان نقل کیا ہے کہ اس آیت کا…
Read the full tafseer →اے ایمان والو جس وقت تم رسول اکرم سے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا کرو تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ آیت مال داروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان میں سے بعض حضرات رسول اکرم کے ساتھ زیادہ سرگوشی کیا کرتے تھے جس سے حضور اور فقرا کو بھی تکلیف ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس زیادتی سے منع کردیا اور رسول اکرم سے سرگوشی کرنے سے پہلے اس چیز کا حکم دیا کہ ہر ایک کلمہ کے بدلے ایک درہم مساکین کو دے دیا کریں۔ کیونکہ یہ صدقہ تمہارے لیے کنجوسی سے بہتر ہے اور یہ گناہوں سے تمہارے دلوں کی پاکی کا اچھا ذریعہ ہے یا یہ کہ فقرا کے دل میں جو کدورت ہوتی ہے اس کے لیے اچھا ذریعہ ہے اور اگر تمہیں صدقہ…
Read the full tafseer →1۔ یٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ۔۔۔۔: ہر مسلمان نبی ﷺ سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کی خواہش رکھتا تھا ، جس سے نبی ﷺ کو مشقت اٹھانا پڑتی تھی۔ اس پر مزید منافقین کا رویہ تھا کہ انہوں نے محض اپنی بڑائی جتانے کے لیے نبی ﷺ سے سرگوشیاں شروع کردیں۔ ایک ایک آدمی آپ کا خاصا وقت لے جاتا ، اس سے دو سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ، کیونکہ انہیں عام فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملنا ، خود نبی ﷺ پر بھی ان کا یہ طرز عمل شاق گزرتا ، مگر آپ مروت و اخلاق کی وجہ سے کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو شخص بھی اپ ﷺ سے علیحدگی میں گفتگو کرنا چاہیے وہ اس سے پہلے صدقہ دے کر…
Read the full tafseer →تفسیر
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یا یھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول، ناجیتم یعنی تم راز داری سے بات کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بیشمار مسائل پیش کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ آپ کے لئے مشکلات پیدا کرتے۔ اللہ تعالیٰ نئے ارادہ کیا کہ وہ اپنے نبی ﷺ سے اس پر یشانی حسن بصری نے کہا یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ سے تنہائی میں ملتے اور آپ سے سرگوشیاں کرتے تو مسلمانوں میں سے ایک قوم نے گمان کیا کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ان کے نقائص بیان کرتے ہیں تو یہ چیز ان پر شاق گزری تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا ناجیت الرسول جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرو سے مراد ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے کثرت سے سوال پوچھتے تھے یہاں تک کہ آپ پر یہ معاملہ سخت ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے نبی اکرم ﷺ سے اس بوجھ کو ہلکا کردے۔ چناچہ سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا تو بہت سے لوگ سوال کرنے سے اور مسائل پوچھنے سے رک گئے۔ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ءا شفقتم کیا تم ڈرگئے الایۃ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وسعت فرمادی اور ان پر تنگی نہیں فرمائی۔
مشورہ کے لیے صدقہ کرنے کا حکم
2۔ ابن…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اِذَا نَاجَيْتم الرَّسُوْلَ : جب کبھی تم لوگ سرگوشی کرو ان رسول ﷺ کی ][ فَقَدِّمُوْا : تو پیش کرو ][ بَيْنَ يَدَيْ نَجوٰىكُمْ : اپنی سرگوشی کے سامنے (سے پہلے)][صَدَقَةً : کوئی صدقہ ][ ذٰلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ : یہ بہتر ہے تمہارے لیے ][وَاَطْهَرُ : اور زیادہ پاکیزہ ہے ][فَان لَمْ تَجِدُوْا : پھر اگر تم لوگ نہ پائو (کوئی صدقہ)][ فَان اللّٰهَ : تو بیشک اللہ ][ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے صدقہ کا حکم اور اس کی منسوخی یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حکم دیا ہے کہ مومنین جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کوئی بات کرنے کے لئے آئیں اور سرگوشی کے طور پر خفیہ بات کرنا چاہیں تو اس سے پہلے صدقہ دے دیا کریں اور دوسری آیت میں اس حکم کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے۔ مفسر قرطبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے سوالات کیا کرتے تھے۔ جب سوالات کا سلسلہ زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کو شاق گزرنے لگا اللہ تعالیٰ شانہ نے ان سوالات میں تخفیف کرانے کے لیے یہ حکم دیا کہ صدقہ کرکے آپ کی خدمت میں آیا کریں جب ایسا ہوا تو بہت سے لوگ سوال کرنے سے رک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں…
Read the full tafseer →15:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اذا ناجیتم “ یہ اصلاح منافقین کے لیے تیسرا قانون ہے۔ بعض منافقین جو بظاہر مسلمانوں ہی میں شمار ہوتے تھے ریاکاری کے لیے آنحضرت ﷺ کو دوسرے لوگوں سے الگ لیجا کر آپ کے ساتھ بلا مقصد طویل سرگوشیاں کرنے لگتے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ بڑے مخلص لوگ ہیں اور حضور ﷺ کے خاص آدمی ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ بلندئ اخلاق اور وسعت ظرف کی وجہ سے کسی کو رد نہ فرماتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرما دیا کہ جب پیغمبر خدا ﷺ کے ساتھ کوئی مشورہ کرنا ہو تو پہلے مشورہ کرلیا کرو اس حکم کے نزول کے بعد ریاکاروں اور منافقوں نے اپ کے ساتھ سرگوشیاں کرنا چھوڑدیں۔ روی عن ابن عباس وقتادۃ ان قوما من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کا ذکر ہوا ، پھر یہودیوں اور منافقوں کی مذمت بیان ہوئی۔ یہ لوگ مجلسوں میں تکلیف دہ باتیں کرتے تھے۔ وہ مجلس میں آکر سلام بھی غلط طریقے سے کرتے تھے جس سے مخلص مسلمانوں کی دل آزاری ہو ان کی اس حرکت کو اللہ نے بداخلاقی سے تعبیر کیا کہ وہ سلام کی بجائے سام کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ مجلس میں بیٹھ کر سرگوشیاں بھی کرتے تھے۔ اور اہل ایمان کی اذیت کا باعث بنتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مجلس کے بعض آداب سکھائے ہیں۔ دو قسم کے آداب میں سے پہلی قسم عام مومنوں سے متعلق ہے جب کہ دوسری قسم کا ادب پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات کے ساتھ خاص…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَۃً 0 ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاَطْہَرُ 0 ۭ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 12
قدم
وأكثر ما يستعمل القدیم باعتبار الزمان نحو : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] ، وقوله : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ، أي : سابقة فضیلة، وهو اسم مصدر، وقَدَّمْتُ كذا، قال : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقاتٍ [ المجادلة/ 13] وقوله : لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ الحجرات/ 1] ، قيل : معناه لا تَتَقَدَّمُوهُ. وتحقیقه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ترکیب : اذا ناجیتم الخ شرط فقدموا جو ابہ والجملۃ نداء بین یدی بمعنی قبل ای قبل نجوٰکم۔ ھوظرف لقدمو اوصدقہ مفعولہ۔ ذٰلک مبتداء خیرلکم خبرہ و اطہر خبر بعد خبروشفقۃ مہربانی شفق کذلک۔ اشفاق ترسیدن از کسے یا چیزے ازمہربانی بروے صلہ بعلٰی وبمعنی ترسیدن ازک سے وصلتہ بمن۔
تفسیر : پہلے صرف سرگوشی کی برائی بیان فرمائی تھی کہ یہ شیطانی کام اور رنج دہندہ بات ہے۔ خیر یہ تو ان کی باہمی مشورت کے لیے حکم تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں خواہ مخواہ سرگوشیاں کر کے مسلمانوں کو وحشت دلاتے تھے۔ مگر منافق تو عجب حیلہ گر تھے۔ اب آنحضرت ﷺ سے سرگوشی کرنی اختیار کی۔ بات کچھ نہیں یوں ہی مشیخت جتانے کے لیے اور اس لیے کہ اس…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً ط ذٰلِکَ خَیْرٌلَّـکُمْ وَاَطْھَرُ ط فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (المجادلۃ : 12)
(اے ایمان والو ! جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرنا چاہو تو اپنی رازدارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ دو ، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر اور پاکیزہ تر ہے، پس اگر تم کوئی صدقہ نہ پائو تو بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ )
نجویٰ کو روکنے کے لیے ایک ہنگامی حکم
سابقہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ منافقین کو سرگوشیاں کرنے سے روکا گیا اور وہ جن ارادوں سے سرگوشیاں کرتے تھے ان محرکات کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو منافقین کی گستاخیوں سے بچانے کے لیے خصوصی حکم۔
اسی سورت کی آیت 8 میں ا رشاد ہوا ہے کہ کچھ لوگ آپ ﷺ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں سلام کہنے کی تعلیم دی ہے اس طرح سلام نہ کہنے والے عام طور پر منافق تھے۔ منافقین کو نبی ﷺ سے دور رکھنے اور ان کی گستاخیوں سے بچانے کے لیے حکم ہوا کہ اے مومنو ! جب تم نے اللہ کے رسول سے علیحدگی میں بات کرنا ہو تو آپ ﷺ سے ملاقات کرنے سے پہلے صدقہ کیا کرو یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزگی کا عمل ہے، اگر کوئی مومن صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیزنہ پائے اور وہ نبی ﷺ سے علیحدگی میں ملاقات کرنا چاہے تو اسے ملاقات کرنے کی اجازت ہے…
Read the full tafseer →12 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا نَا جَیْتُمُ الرَّسُوْلَ (جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کا ارادہ کرو) جب تمہارا ارادہ ان سے سرگوشی کرنے کا ہو۔ فَقَدِّ مُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً (تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات کردیا کرو) یعنی نجوٰکم ای قبل نجوٰکم سرگوشی سے قبل۔ یہ استعارہ ان کے لئے ہے جن کو قدرت حاصل ہے۔ جیسا کہ عمرفاروق ؓ کا قول ہے من افضل ما اوتیت العرب الشعر۔ اہل عرب کو افضل ترین چیز شعر ملے ہیں۔ جن کو اپنی ضرورت سے قبل امیر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اور انہی اشعار سے سخی کی سخاوت اس سے طلب کی جاتی ہے۔ اور انہی سے کمینہ کو نیچے اتارا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →تفسحوا فی المجلس فافسحوا کی تفسیر
11 ۔” یایھا الذین امنوا اذاقلیل لکم تفسحوا فی المجالس فافسحوا “ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ مہاجرین و انصار میں سے اہل بدر کا اکرام کرتے تھے۔ پس ان میں سے کچھ لوگ آئے ایک دن اور وہ مجلس میں سبقت کیے گئے تھے تو وہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور آپ (علیہ السلام) پر سلام کیا۔ آپ (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیا پھر انہوں نے جماعت پر سلام کیا، انہوں نے بھی جواب دیا پھر وہ اپنے پائوں پر کھڑے رہ گئے، اس کا انتظار کرتے رہے کہ ان کے لئے مجلس میں وسعت کی جائے گی لیکن ان کی جگہ نہ بنائی گئی حتیٰ کہ یہ بات نبی کریم ﷺ پر گراں ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے اردگرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 13۔ اوپر گزر چکا ہے کہ بڑی تحقیقات کے بعد علماء مفسرین نے قرآن شریف بھر میں فقط پانچ آیتیں منسوخ قرار دی ہیں یہ آیت بھی ان پانچ آیتوں میں کی ایک آیت ہے۔ تفسیر 3 ؎ عبد الرزاق مجاہد سے روایت ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 327 ج 4۔ ) کہ اس آیت کا عمل ایک دن کچھ دیر تک رہا۔ پھر آگے کی آیت سے یہ آیت منسوخ ہوگئی اور سوا حضرت علی ؓ کے اور کسی صحابی کو اس آیت پر عمل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس واسطے حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے 1 ؎ کہ قرآن شریف میں ایک ایسی آیت ہے کہ نہ مجھ سے پہلے کسی نے اس پر عمل کیا نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گا۔ اس آیت پر حضرت علی ؓ کے عمل کرنے کی حدیث کو ترمذی 2 ؎ نے حسن کہا ہے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی اہل ایمان کی تادیب وتعلیم اور رسول اللہ کی تعظیم کے لیے انکو حکم دیتا ہے کہ رسول اللہ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیا کریں کیونکہ یہ تعظیم اہل ایمانکے لیے بہتر اور زیادہ پاکیز ہے یعنی ایسا کرنے سے تمہاری بھلائی اور اجر میں اضافہ ہوگا، نیز ہر قسم کی گندگی سے طہارت حاصل ہوگی۔ بےفائدہ سرگوشی کے ذریعے سے رسول اللہ کے ادب واحترام کو ترک کرنا بھی اسی گندگی میں شمار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ نے رسول اللہ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ کرنے کا حکم دیا تو یہ چیز اس شخص کی پرکھ کے لیے میزان بن گئی جو علم اور بھلائی کا خواہش مند ہے تو وہ صدقے کی پرواہ نہیں کرے گا جسے بھلائی کی حرص ہے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا
قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…
Read the full tafseer →[ 40] غیر ضروری سرگوشیوں سے روکنے کیلئے ایک ہنگامی حکم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو اگر تمہیں رسول سے کوئی بات تخلیے میں کرنی ہو تم لوگ ایسے موقع پر کچھ صدقہ کرلیا کرو، یعنی جتنا بھی ہوسکے، روایات میں ہے کہ بعض مالدار اور کھڑ پینچ قسم کے لوگ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ جاتے، تاکہ اس طرح وہ دوسروں پر اپنی بڑائی اور اپنا تقرب جتلا سکیں، اس سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف الگ ہوتی، اور وقت کا ضیاع الگ، اور فقراء کا حق بھی الگ مارا جاتا، تو اس پر صدقہ دینے کا یہ حکم نازل ہوا جو کہ ایک ہنگامی نوعیت کا حکم تھا، سو اس ایسے لوگوں کا یہ ہجوم چھٹ گیا، اور پھر اس مقصد کے پورا ہوجانے کے بعد یہ حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آداب مجلس
تشریح : بہت سی احادیث ان آیات کے بارے ملتی ہیں مثلاً سیدناابو مسعود ؓ فرماتے ہیں باوجود اس حکم کے تم اب بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو (مسلم، ابو داؤد، اور نسائی)
تفسیر ابن کثیر میں ان آیات کا بڑا پیارا مفہوم ملتا ہے بدری صحابہ ؓ کے مسجد میں آنے پر آپ ﷺ نے چاہا کہ یہ بھی آرام سے بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور علم الٰہی حاصل کرلیں تو آپ نے لوگوں کو تھوڑا ہٹا کر بدری صحابہ ؓ کو بہتر جگہ دلوائی اس طرح امت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس ( بہترین جگہ) بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔ ان مختصر مگر انتہائی جامع آیات میں امت مسلمہ کو تمدن، اخلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔
نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی ایسے شخص پر صدقہ دینا فرض نہیں۔ وہ اس کے بغیر بھی نبی ﷺ کے کان میں کچھ کہہ سکتا ہے ہوا یہ کہ بہت سے منافقی نے محض اپنی بڑائی جس نے کے لئے نبی ﷺ سے سرگوشیاں کرنی شروع کردیں۔ اس سے دوسرے لوگوں کو بھی تکلیف ہوتی کیونکہ انہیں استفادہ کا موقع نہ ملتا اور خود نبی ﷺ پر بھی ان کا یہ طرز عمل شاق گزرتا لیکن آپ مروت و الخقا کے سبب کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو شخص بھی آپ سے علیحدگی میں گفتگو کرنا چاہیے۔ وہ اس سے پہلے صدقہ دے کر آیا کرے۔ منافقین نے بخل کے مارے آپ ہی آپ سرگوشی کم کردی۔ اور مطلب حاصل ہوگیا اور بعد میں یہ حکم منسوخ بھی ہوگیا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے۔…
Read the full tafseer →(58:12) اذا ناجیتم الرسول جملہ شرطیہ ہے۔ ناجیتم ماضی جمع مذکر حاضر مناجاۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ الرسول مفعول۔ رسول کریم ﷺ ۔ ترجمہ :۔ جب تم رسول کریم ﷺ سے راز دارانہ بات کان میں کرنا چاہو۔
فقدموا بین یدی نجوکم صدقۃ۔جواب شرط کے لئے۔ قدموا امر کا صیغہ، جمع مذکر حاضر۔ تقدیم (تفعیل) مصدر سے۔ تم آگے بھیجو۔ تم پہلے ادا کردو (صدقہ)
بین۔ درمیان۔ بیچ۔ جدائی۔ ملاپ۔ اسم ظرف مکان ہے۔ دو چیزوں کے درمیان اور بیچ کو بنانے کے لئے اس کی وضع عمل میں آئی ہے۔ منجملہ دیگر استعمال کے اس کا استعمال بین یدی اور بین ایدی آتا ہے۔ پہلے کے لغوی معنی ہیں دونوں ہاتھوں کے درمیان ۔ اور دوسرے کے معنی ہاتھوں کے درمیان ۔ مطلب دونوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔
تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔
مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(ف 1) شان نزول :
نبی ﷺ کی بارگاہ میں جب اغنیاء نے عرض معروض کا سلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا جب کوئی رئیس امیرمشورہ کر ارادہ کرے تو پہلے صدقہ دے کہ اس کے سبب سے فقراء کا دل بھی خوش ہوجائے اور روئسا بھی بیکار باتوں میں حضرت کے اوقات ضائع نہ کریں اور تکلیف نہ دیں غربا کو رنج بھی نہ ہوا کہ اور ان کی باتوں کے لیے بھی وقت نکل آئے اور فقراء کو اس بات کا حکم نہ دیا گیا کہ بلکہ اختیار رہا کہ جب چاہیں بلاتکلف مشورہ کریں جب یہ قید لگی روسا جو بیکار اور مشورہ کرتے تھے…
Read the full tafseer →[17] منافقین بےفائدہ باتیں آپ ﷺ کے کان میں کرتے تاکہ لوگوں میں اپنی بڑائی جتائیں۔ نیز بعض مسلمان سرگوشی کر کے اتنا وقت لے لیتے کہ دوسروں کو آپ ﷺ سے مستفید ہونے کا موقع نہ ملتا۔ یا کسی وقت آپ خلوت چاہتے تو اس میں بھی تنگی ہوتی تھی لیکن مروت و اخلاق کے سبب کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس لئے یہ حکم آیا کہ جو مقدرت والا شخص آپ ﷺ سے سرگوشی کرنا چاہے وہ اس سے پہلے خیرات کر کے آیا کرے اس میں کئی فائدے ہیں، غریبوں کی مدد، صدقہ کرنے والے کے نفس کا تزکیہ، مخلص مسلمان اور منافق کی تمیز وغیرہ۔ جب یہ حکم اترا تو منافقین نے مارے بخل کے سرگوشی کی عادت چھوڑ دی اور مسلمان بھی سمجھ گئے کہ زیادہ سرگوشیاں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آدمب مجلس
1: صحابہ کو حضور ﷺ سے بدرجہ غایت محبت تھی ۔ اس لئے مجالس نبوی ﷺ میں خوب بھیڑ رہتی ۔ اور ہر شخص یہ کوشش کرتا کہ اس کو زیادہ قریب جگہ ملے ۔ تاکہ جمال نبوت سے وہ دل ودیدہ کی تسکین کا سامان بہم پہنچائے اس میں سبقت ہوتی ۔ اور بڑھ بڑھ کر لوگ آگے پہنچنے کی کوشش کرتے ۔ اور جب آدمی آکر یہ کہتے ۔ کہ بھائی ہمیں بھی جگہ دو ۔ تو انہیں ناگوار ہتا ۔ اور وہیں جمے رہتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ کہ جب مجالس کا اہتمام کرو ۔ تو نشستیں کشادہ رکھو ۔ تاکہ بعد میں آنے والے لوگ بھی سماعت اور دیدار کی لذتوں سے استفادہ کرسکیں ۔ اور اگر تمہیں یہ کہا جائے ۔ کہ نشست بدل لو ۔ یا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہو ۔ تو…
Read the full tafseer →(12) اے دین حق کی دعوت کو قبول کرنے والو ! جب تم رسول سے کوئی سرگوشی اور خفیہ مشورہ کرنا چاہو تو اس سرگوشی اور خفیہ بات چیت سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو اور صدقہ کردیا کرو یہ صدقہ دے دینا تمہارے لئے بہتر اور بہت پاکیزہ ہے پھر اگر تم کو کچھ میسر نہ ہو اور تم کچھ نہ پائو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 2۔ خیرات کی مقدار آیت میں منصوص نہیں، اور روایات میں مختلف مقداریں آئی ہیں ظاہرا غیر مقدر معلوم ہوتی ہے لیکن معتدبہ ہونا ضرور ہے۔
3۔ غالبا یہ صدقہ علانیہ ہوگا ورنہ ہر شخص دعوی تقدیم صدقہ کا کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →عام مسلمانوں کو اگر نبی اعظم و آخر ﷺ سے مشورہ طلب کرنا ہے تو اس کے لیے ہدایت
12 ؎ محاورہ ہے کہ ” چور کی داڑھی میں تنکا “ گزشتہ آیات جب نازل ہوئی اور وہ پڑھی جانے لگیں تو جن جن لوگوں کے اندر اس طرح کی بیماری موجود تھی انکے کان کھڑے ہوگئے حالانکہ قرآن کریم نے کسی انسان کا نام نہیں لیا بلکہ ایک عام حکم دیا ہے اور سب کو مخاطب کر کے ایک ہدایت دی ہے اور کسی کو مخاطب کرکے کچھ نہیں کہا لیکن جب ان آیات کی تلاوت ہوت تو منافقین کے چہرے اتر جاتے کیونکہ ان ہی لوگوں کی عادت یہ تھی کہ جس مجلس میں بٹھتے سرگوشیاں کرتے اور سر جوڑتے اگر ان کے ساتھ کوئی غریب مسلمان بیٹھ جاتا تو ان کو اس کا بیٹھنا اچھا نہ لگتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ (0 those who believe, when you consult the Messenger of Allah, ...58:12) The Messenger of Allah ﷺ was preoccupied day and night with educating the people and improving their quality of life. In his general assemblies, all the members of the audience benefited from his teachings. However, there were people who wanted private meetings with the Holy Prophet ﷺ and he would grant them that. Obviously, it was not possible to grant everyone's request as it required time and effort, and that was difficult. The hypocrites made matters worse…
Read the full tafseer →29 according to Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas, this Command was sent down because the Muslims had started requesting the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) for private counsel much too frequently; and this put him to great inconvenience. At last, Allah willed to relieve His Prophet of this burden.. (Ibn Jarir). Zaid. bin Aslam says that the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) would never turn down the request of anyone, who wanted to consult him in private. Whoever desired to have private counsel with him, he would oblige him Often it so happened that the people would ask for…
Read the full tafseer →