Explained with ayahs 12–13
نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کی منسوخ شرط
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہوجاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کرسکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔ پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرمایا اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 30
یہ دوسرا حکم اوپر کے حکم کے تھوڑی مدت بعد ہی نازل ہوگیا اور اس نے صدقہ کے وجوب کو منسوخ کردیا۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ صدقہ کا یہ حکم کتنی دیر رہا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ایک دن سے بھی کم مدت تک باقی رہا پھر منسوخ کردیا گیا۔ مقاتل بن حیّان کہتے ہیں دس دن تک رہا۔ یہ زیادہ سے زیادہ اس حکم کے بقا کی مدت ہے جو کسی روایت میں بیان ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ الایة، رسول اللہ ﷺ تعلیم و اصلاح خلق کے کام میں تو شب و روز مشغول رہتے ہی تھے، مجالس عامہ میں سب حاضرین مجلس آپ کے ارشادات سے فائدہ اٹھاتے تھے، اس سلسلے میں ایک صورت یہ بھی تھی کہ بعض لوگ آپ سے علیحدگی میں خفیہ بات کرنا چاہتے اور آپ وقت دے دیتے تھے، یہ ظاہر ہے کہ ایک ایک شخص کو الگ وقت دینا بڑا وقت بھی چاہتا ہے اور محنت بھی، اس میں کچھ منافقین کی شرارت بھی شامل ہوگئی کہ مخلص مسلمانوں کو ایذاء پہنچانے کے لئے آپ سے علیحدگی اور سرگوشی کا وقت مانگتے اور اس میں مجلس کو طویل کردیتے تھے، بعض ناواقف مسلمان بھی بات لمبی کر کے مجلس…
Read the full tafseer →(اشفقتما ان تقدموا بین یدی تجولکم صداقت فاذلکم تفعلوا و تاب اللہ علیکم فاقیموالصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ واطیعوا اللہ ورسولہ واللہ خبیر بما تعملون) (13)۔
(ناسخ اور منسوخ دونوں یکجا ہیں)۔ یہ آیت کچھ عرصہ کے بعد سابق آیت کے حکم کو منسوخ کرنے کے لیے نازل ہوئی لیکن اس کو جگہ یہیں سورة کے بیچ میں اصل ابتدائی حکم کے ساتھ ہی دی گئی تاکہ منسوخ اور ناسخ دونوں آیتیں یکجا ہوجائیں۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں آیتوں کے درمیان اتنا وقفہ گزرا ہوگا کہ سابق حکم کا مقصد فی الجملہ پورا ہوگیا ہوگا یعنی منافقین کی سرگوشیوں کا وہ فتنہ دب گیا ہوگا جس کو دبانے کے لیے صدقہ کا مذکورہ بالا حکم نازل ہوا۔ لیکن بعض تفسیری روایات سے کچھ…
Read the full tafseer →13۔ 1 یہ امر گو استحاباً تھا، پھر بھی مسلمانوں کے لئے شاق تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے جلدی اسے منسوخ فرما دیا۔
13۔ 2 یعنی فرائض و احکام کی پابندی، اس صدقے کا بدل بن جائے گی، جسے اللہ نے تمہاری تکلیف کے لئے معاف فرما دیا۔
Read the full tafseer →9: صدقہ کرنے کا جو حکم پچھلی آیت میں دیا گیا تھا، اس آیت نے اس کو منسوخ کردیا، کیونکہ جس مقصد سے وہ حکم دیا گیا تھا، وہ پورا ہوچکا تھا، لوگ آنحضرت ﷺ کا وقت لینے سے احتیاط کرنے لگے تھے، اور منافقین کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر وہ اب بھی پہلے جیسا طرز عمل جاری رکھیں تو ان کا راز کھل جائے گا۔ چنانچہ اس آیت نے فرمایا کہ اب صدقہ کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ اپنے دوسرے دینی فرائض مثلاً نماز اور زکوٰۃ وغیرہ ادا کرتے رہو۔
Read the full tafseer →ءاشفقتم ................ بما تعملون (85 : 31) ” کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ اچھا ، اگر تم ایسا نہ کرو ........ اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا ........ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوة دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس بےباخبر ہے۔ “
ان دونوں آیات اور ان کے شان نزول میں وارد احادیث کے فلسفے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے بڑے معاملات میں مسلمانوں کی تربیت کے لئے اور اسلامی جماعت کو تیار کرنے کے لئے کس قدر جدوجہد کی گئی۔
اب سیاق کلام منافقین کی طرف پھرتا ہے۔ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ گہری دوستی اور راہ ورسم…
Read the full tafseer →1 یعنی صدقہ کا حکم دینے سے جو مقصد تھا، حاصل ہوگیا۔ اب ہم نے یہ وقتی حکم اٹھا لیا ہے چاہیے کہ ان احکام کی اطاعت میں ہمہ تن لگے رہو جو کبھی منسوخ ہونے والے نہیں۔ مثلاً نماز و زکوٰۃ وغیرہ اسی سے کافی تزکیہ نفس ہوجائے گا۔ (تنبیہ) " فَاِذْلَمْ تَفْعَلُوا " سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم پر عام طور سے عمل کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ بعض روایات میں حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس حکم پر امت میں سے صرف میں نے عمل کیا۔
Read the full tafseer →آیت 13{ ئَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰٹکُمْ صَدَقٰتٍ } ”کیا تم ڈر گئے اس سے کہ رسول ﷺ کے ساتھ اپنی تنہائی کی باتوں سے پہلے صدقات پیش کرو ؟“
{ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ } ”پھر جب تم نے یہ نہیں کیا اور اللہ نے بھی تم پر نظر ِ عنایت فرما دی“
{ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”تو بس نماز قائم رکھو ‘ زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو۔“
{ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ } ”اور اللہ باخبر ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔“
اس آیت کے ذریعے اس حکم کو جلد ہی منسوخ بھی کردیا گیا ‘…
Read the full tafseer →17 آپ سے سرگوشی کی عام اجازت کے نقصانات :۔ اس حکم سے بہت جلد وہ مقاصد حاصل ہوگئے۔ جن کی بنا پر یہ حکم دیا گیا تھا۔ یہ حکم اس وقت نازل ہوا جب عرب بھر کے کفار مسلمانوں کی دشمنی پر اتر آئے تھے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سرگوشی کرتا۔ تو فوراً منافق یہ مشہور کردیتے کہ یہ شخص فلاں قبیلے کے مدینہ پر حملہ کی تیاریوں کی خبر لایا تھا۔ پھر ایسی افواہیں بہت جلد مدینہ میں گشت کرنے لگتیں اور ایک ہراس سا پھیل جاتا۔ اس کا دوسرا نقصان یہ تھا کہ خواہ مخواہ بدظنی کے احتمال پیدا ہوجاتے تھے اور تیسرا اور سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ لوگ معمولی اور بےکار قسم کی باتوں میں آپ کا قیمتی وقت ضائع کرتے رہتے تھے۔ سرگوشیاں کرنے…
Read the full tafseer →26۔ یعنی اس حکم منسوخی کے بعد بھی قرب ووصول کے لئے تمہارے لئے دوسرے احکام شریعت پر عمل و مداومت عمل کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ (آیت) ” وتاب اللہ علیکم “۔ چناچہ حق تعالیٰ نے اسے بالکل ہی منسوخ کرکے اس حکم کی تعمیل سے معاف کردیا۔ (آیت) ” ءاشفقتم .... صدقت “۔ روایات حدیث میں آتا ہے کہ جب حکم تخلیہ رسول سے قبل صدقہ پیش کرنے کا نازل ہوا تو بہت سے صحابی ڈر گئے، اور ضروری باتیں پوچھنے سے بھی رک گئے، یہ صحابی یقیناً نادار ہوں گے، انہیں ایک طرف تو یہ احساس کہ ہم اپنی ناداری کی بناء پر ادائے صدقہ کے قابل نہیں، دوسری طرف فرط خشیت سے اپنے متعلق اس میں بھی شک کہ آیا ہم حقیقۃ مقدور اور اس حکم صدقہ سے مستثنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
یایھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجوا کم صدقۃ حضرت عبداللہ بن عباس رضیا للہ تعالیٰ عنہما اس حکم کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مسلمان آپ ﷺ سے تخلیہ یعنی تنہائی میں زیادہ باتیں کرنے لگے تھے جس کی وجہ سے عام مسلمانوں کو دقت ہوتی تھی اور عمومی مجلس کا حرج بھی ہوتا تھا ہر شخص یہ کوشش کرتا تھا کہ میں آپ سے تنہائی میں زیادہ سے زیادہ باتیں کروں اس سے آپ ﷺ کو بھی تکلیف ہوتی تھی، اس دقت سے نجات کی اور اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ شکل نکالی کہ جو لوگ آپ ﷺ سے تخلیہ میں باتیں کرنا چاہیں وہ پہلے کچھ صدقہ کریں، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ حکم نازل ہوا تو حضور ﷺ نے مجھے…
Read the full tafseer →ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ ۭ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَاب اللّٰهُ عَلَيْكُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭوَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ ” کیا تم اپنی سرگوشی کے قبل
خیرات دینے سے ڈر گئے ‘ سو (خیر) جب تم اس کو نہ کرسکے اور اللہ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی تو تم نماز کے پابند رہو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے پورے طور پر باخبر ہے۔ “
ءَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا : یعنی کیا تم کو مفلسی کا اندیشہ ہوگیا یا یہ مطلب ہے کہ شیطان نے جو…
Read the full tafseer →جب صدقے کا حکم ہوا تو بعض آدمی ضروری بات کرنے سے بھی رک گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ اے مالدارو کیا تم حضور کے ساتھ سرگوشی سے پہلے غریبوں میں خیرات کرنے سے ڈر گئے خیر جب تم صدقہ نہ دے سکے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اس صدقہ کے حکم کو منسوخ کردیا تو پانچوں نمازوں کے پابند رہو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی تعمیل کرو اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے جب حکم نازل ہوا تو سب رک گئے اور حضرت علی کے علاوہ اور کسی نے صدقہ کر کے گفتگو نہیں کی، حضرت علی نے ایک دینار خیرات کر کے آپ سے دس باتیں دریافت کیں اور وہ دینار دس درہموں کے عوض فروخت…
Read the full tafseer →ئَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقٰتٍ ط : اس سے ظاہر ہے کہ اس حکم کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ علیحدگی میں گفتگو کا رجحان ، جو بہت بڑھ گیا تھا ، رگ گیا۔ منافقین اپنے بخل کی وجہ سے رک گئے اور مخلص مسلمان ، جو نادار تھے ، غربت کی وجہ سے محتاط ہوگئے۔
2۔ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللہ ُ عَلَیْکُمْ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کے نزول کے بعد کسی نے نہ تو رسول اللہ ﷺ سے کوئی راز دارانہ بات کرنے کی جرأت کی اور نہ اس مقصد کے لیے صدقہ دینے کی نوبت آئی ، بلکہ انہیں احساس ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ سے راز دارانہ گفتگو کے بارے میں ان کی روش اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی ،…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ ء اشفقتم یہ جملتہ استفہامیہ ہے اور کلمہ استفہام قد کے معنی میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے تم صدقہ کرے میں بخل کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم ڈرتے ہو۔ اشفاق سے مراد ناپسندیدہ چیز سے خوف کھانا ہے (1) ء یعنی تم ڈر گئے، صدقہ میں بخل کیا اور یہ امر تم پر شاق گزرا۔ ان قتدموا بین یدی نجولکم صدقت مقاتل بن حیان نے کہا : یہ حکم دس دن تک رہا پھر اسے منسوخ کردیا گیا۔ کلبی نے کہا : یہ حکم صرف ایک دن کے لئے رہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ حکم دن کی چند گھڑیوں کے لئے رہا یہاں تک کہ منسوخہوگیا ؛ قتادہ نے اسی طرح کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا ناجیت الرسول جب تم رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرو سے مراد ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے کثرت سے سوال پوچھتے تھے یہاں تک کہ آپ پر یہ معاملہ سخت ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے نبی اکرم ﷺ سے اس بوجھ کو ہلکا کردے۔ چناچہ سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا تو بہت سے لوگ سوال کرنے سے اور مسائل پوچھنے سے رک گئے۔ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ءا شفقتم کیا تم ڈرگئے الایۃ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وسعت فرمادی اور ان پر تنگی نہیں فرمائی۔
مشورہ کے لیے صدقہ کرنے کا حکم
2۔ ابن…
Read the full tafseer →[ءَاَشْفَقْتم : کیا تم لوگ ڈر گئے ][ ان تُقَدِّمُوْا : (اس سے) کہ تم لوگ پیش کرو ][بَيْنَ يَدَيْ نَجوٰىكُمْ : اپنی سرگوشی سے پہلے ][صَدَقٰتٍ : کچھ صدقات ][ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا : پھر جب تم لوگ نہ کرو ][ وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ : اس حال میں کہ معاف کیا اللہ نے تمہیں ][ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : تو قائم کرو نماز کو ][وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ : اور پہنچائو زکوٰۃ کو ][ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی ][وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ: اور اللہ باخبر ہے ][ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس سے جو تم لوگ کرتے ہو یا کرو گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے صدقہ کا حکم اور اس کی منسوخی یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حکم دیا ہے کہ مومنین جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کوئی بات کرنے کے لئے آئیں اور سرگوشی کے طور پر خفیہ بات کرنا چاہیں تو اس سے پہلے صدقہ دے دیا کریں اور دوسری آیت میں اس حکم کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے۔ مفسر قرطبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے سوالات کیا کرتے تھے۔ جب سوالات کا سلسلہ زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کو شاق گزرنے لگا اللہ تعالیٰ شانہ نے ان سوالات میں تخفیف کرانے کے لیے یہ حکم دیا کہ صدقہ کرکے آپ کی خدمت میں آیا کریں جب ایسا ہوا تو بہت سے لوگ سوال کرنے سے رک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں…
Read the full tafseer →16:۔ ” ءاشفقتم “ کیا تمہیں ڈر ہے کہ مشورے سے پہلے صدقہ دینے تم محتاج ہوجاؤ گے ؟ اچھا اگر تم اس حکم صدقہ پر عمل نہیں کرسکے اور اللہ نے بلاوجہ مشورہ کرنے کی اجازت دیدی ہے، تو اب فرائض میں کوتاہی نہ کرنا، نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا، اللہ تعالیٰ اور اس کے سول ﷺ کے دیگر تمام احکام کی پیروی کرنا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور ہر عمل کی پوری پوری جزا و سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کا ذکر ہوا ، پھر یہودیوں اور منافقوں کی مذمت بیان ہوئی۔ یہ لوگ مجلسوں میں تکلیف دہ باتیں کرتے تھے۔ وہ مجلس میں آکر سلام بھی غلط طریقے سے کرتے تھے جس سے مخلص مسلمانوں کی دل آزاری ہو ان کی اس حرکت کو اللہ نے بداخلاقی سے تعبیر کیا کہ وہ سلام کی بجائے سام کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ مجلس میں بیٹھ کر سرگوشیاں بھی کرتے تھے۔ اور اہل ایمان کی اذیت کا باعث بنتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مجلس کے بعض آداب سکھائے ہیں۔ دو قسم کے آداب میں سے پہلی قسم عام مومنوں سے متعلق ہے جب کہ دوسری قسم کا ادب پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات کے ساتھ خاص…
Read the full tafseer →ءَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ 0 ۭ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللہُ عَلَيْكُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ 0 ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 13 ۧ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ترکیب : اذا ناجیتم الخ شرط فقدموا جو ابہ والجملۃ نداء بین یدی بمعنی قبل ای قبل نجوٰکم۔ ھوظرف لقدمو اوصدقہ مفعولہ۔ ذٰلک مبتداء خیرلکم خبرہ و اطہر خبر بعد خبروشفقۃ مہربانی شفق کذلک۔ اشفاق ترسیدن از کسے یا چیزے ازمہربانی بروے صلہ بعلٰی وبمعنی ترسیدن ازک سے وصلتہ بمن۔
تفسیر : پہلے صرف سرگوشی کی برائی بیان فرمائی تھی کہ یہ شیطانی کام اور رنج دہندہ بات ہے۔ خیر یہ تو ان کی باہمی مشورت کے لیے حکم تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں خواہ مخواہ سرگوشیاں کر کے مسلمانوں کو وحشت دلاتے تھے۔ مگر منافق تو عجب حیلہ گر تھے۔ اب آنحضرت ﷺ سے سرگوشی کرنی اختیار کی۔ بات کچھ نہیں یوں ہی مشیخت جتانے کے لیے اور اس لیے کہ اس…
Read the full tafseer →ئَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقٰتٍ ط فَاِذْلَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتوُا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 13)
(کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تم صدقات پیش کرو گے، پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا، تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔ )
یہ آیت پہلی آیت کی ناسخ ہے اور دونوں حکموں میں فاصلہ
پیشِ نظر آیت کریمہ کے نزول سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو منافقین کی گستاخیوں سے بچانے کے لیے خصوصی حکم۔
اسی سورت کی آیت 8 میں ا رشاد ہوا ہے کہ کچھ لوگ آپ ﷺ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں سلام کہنے کی تعلیم دی ہے اس طرح سلام نہ کہنے والے عام طور پر منافق تھے۔ منافقین کو نبی ﷺ سے دور رکھنے اور ان کی گستاخیوں سے بچانے کے لیے حکم ہوا کہ اے مومنو ! جب تم نے اللہ کے رسول سے علیحدگی میں بات کرنا ہو تو آپ ﷺ سے ملاقات کرنے سے پہلے صدقہ کیا کرو یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزگی کا عمل ہے، اگر کوئی مومن صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیزنہ پائے اور وہ نبی ﷺ سے علیحدگی میں ملاقات کرنا چاہے تو اسے ملاقات کرنے کی اجازت ہے…
Read the full tafseer →13 : ئَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقٰتٍ (کیا تم اپنی سرگوشی کے قبل خیرات دینے سے ڈر گئے) کیا تم صدقات پیش کرنے سے ڈر گئے اس لئے کہ اس میں وہ انفاق ہے جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا (جب تم اس کو نہ کرسکے) جس کا تمہیں حکم دیا گیا اور وہ تم پر گراں گزرا۔ وَتَابَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی) یعنی تخفیف کردی گئی اور اس پر مواخذہ کو اٹھا لیا گیا۔ جیسا کہ نائب سے مؤاخذہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (پس تم نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور…
Read the full tafseer →تین اشخاص ہوں تو ان میں سے دو کو سر گوشی کرنے کا کیا حکم ہے
12” یایھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم “ اپنی سرگوشی کے آگے ” صدقہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اس وجہ سے کہا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کثرت کردی تھی کہ آپ (علیہ السلام) پر گراں گزرا تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ اپنے نبی (علیہ السلام) پر تخفیف کردیں اور ان کو اس سے روک دیں۔ پھر ان کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیں اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں یہ مال داروں کے کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آتے تھے تو کثرت سے سرگوشی کرتے تھے اور فقراء پر مجلس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 13۔ اوپر گزر چکا ہے کہ بڑی تحقیقات کے بعد علماء مفسرین نے قرآن شریف بھر میں فقط پانچ آیتیں منسوخ قرار دی ہیں یہ آیت بھی ان پانچ آیتوں میں کی ایک آیت ہے۔ تفسیر 3 ؎ عبد الرزاق مجاہد سے روایت ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 327 ج 4۔ ) کہ اس آیت کا عمل ایک دن کچھ دیر تک رہا۔ پھر آگے کی آیت سے یہ آیت منسوخ ہوگئی اور سوا حضرت علی ؓ کے اور کسی صحابی کو اس آیت پر عمل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس واسطے حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے 1 ؎ کہ قرآن شریف میں ایک ایسی آیت ہے کہ نہ مجھ سے پہلے کسی نے اس پر عمل کیا نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گا۔ اس آیت پر حضرت علی ؓ کے عمل کرنے کی حدیث کو ترمذی 2 ؎ نے حسن کہا ہے…
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ کے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ ان بڑے بڑے احکام کی تعمیل کریں جو فی نفسہ مقصود ہیں چناچہ فرمایا ( فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا) چناچہ جب تم نے یہ نہ کہا۔ یعنی صدقہ پیش کرنا تمہارے لیے آسان نہیں تھا اور نہ یہ کافی ہی تھا کیونکہ کسی کام کا بندے پر آسان ہونا شرط نہیں ہے اسی لیے اللہ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے مقید فرمایا (وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ ) یعنی اس نے صدقہ کرنا تم پر معاف کردیا۔ (فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ) پس تم نماز کو اس کے تمام ارکان و شرائط اور اس کی تمام حدود لوازم کے ساتھ قائم کرو (وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ) اور مستحق لوگوں کو زکوۃ ادا کرو جو تمہارے مال میں سے تم پر فرض ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا
قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…
Read the full tafseer →[ 43] ہنگامی حکم کی منسوخی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ایسے نہیں کرسکتے اور اللہ تعالیٰ نے عنایت فرما دی تمہارے حال پر، تو تمہیں معاف کردیا گیا اور اس نے یہ پابندی تم سے اٹھادی، کیونکہ اس سے مخلص و منافق اور کھرے کھوٹے کے درمیان تمیز کا مقصد پورا ہوگیا تھا کہ یہ حکم بنیادی طور پر تھا ہی ایک وقتی مصلحت کیلئے، اور جب وہ پوری ہوگئی، اور وہ مقصد حاصل ہوگیا، تو اس کو اٹھا لیا گیا، سو اس طرح وہ وقتی اور ہنگامی حکم منسوخ فرما دیا گیا، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ حکم کتنی دیر رہا، قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ حکم ایک دن سے بھی کم مدت تک رہا، پھر اس کو منسوخ کردیا گیا، اور مقاتل بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آداب مجلس
تشریح : بہت سی احادیث ان آیات کے بارے ملتی ہیں مثلاً سیدناابو مسعود ؓ فرماتے ہیں باوجود اس حکم کے تم اب بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو (مسلم، ابو داؤد، اور نسائی)
تفسیر ابن کثیر میں ان آیات کا بڑا پیارا مفہوم ملتا ہے بدری صحابہ ؓ کے مسجد میں آنے پر آپ ﷺ نے چاہا کہ یہ بھی آرام سے بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور علم الٰہی حاصل کرلیں تو آپ نے لوگوں کو تھوڑا ہٹا کر بدری صحابہ ؓ کو بہتر جگہ دلوائی اس طرح امت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس ( بہترین جگہ) بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔ ان مختصر مگر انتہائی جامع آیات میں امت مسلمہ کو تمدن، اخلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔
نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی کیا ڈر گئے کہ ہمارا سارا مال ہی صدقہ میں خرچ ہوجائو گا ؟7 یعنی صدقہ دینے کے حکم سے جو مقصد تھا وہ حاصل ہوگیا اس لئے ہم نے یہ حکم جو وقتی طور پر دیا گیا تھا منسوخ کردیا لیکن اس کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ ان احکام کو پوری پابندی سے بجا لاتے رہو جو کبھی منسوخ ہونے والے نہیں ہیں جیسے نماز زکوۃ اور ہر عاملہ میں اللہ رسول کی اطاعت اسی سے تزکیہ نفس ہوتا رہے گا۔ فان لم تفعلوا تو خیر جب تم ایسا نہ کرسکے) سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے کا یہ حکم بہت تھڑوی مدت اور عام مسلمانوں کے اس پر عمل کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اس لئے بعض روایات میں حضرت علی فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کاتب میں ایک آیتی ایسی ہے جس…
Read the full tafseer →(58:13) ء اشفقتم۔ ہمزہ استفہامیہ۔ اشفقتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ اشفاق (افعال) مصدر۔ اشفاق علی کے صلہ کے ساتھ کسی کی خیر خواہی کے لئے اس پر تکلیف آنے سے ڈرنا۔ کیونکہ مشفق ہمیشہ مشفق علیہ کو محبوب سمجھتا ہے اور اسے تکلیف پہنچنے سے ڈرتا رہتا ہے۔ جب یہ فعل حرف من کے واسطہ سے متعدی ہو تو اس میں خوف کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔ ترسیدن از کسے۔ کسی سے ڈرنا۔
ان تقدموا : ان مصدریہ ہے ۔ تقدموا مضارع منصوب۔ جمع مذکر حاضر ۔
بین یدی نجوکم : ملاحظہ ہو آیت 13 متذکرہ الصدر۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیا تم اس سے کہ پیغمبر ﷺ کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے ہو ؟
فاذ :عاطفہ۔ اذ (ظرفیہ للماضی) پھر جب۔
لم تفعلوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔
تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔
مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(ف 1) شان نزول :
نبی ﷺ کی بارگاہ میں جب اغنیاء نے عرض معروض کا سلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا جب کوئی رئیس امیرمشورہ کر ارادہ کرے تو پہلے صدقہ دے کہ اس کے سبب سے فقراء کا دل بھی خوش ہوجائے اور روئسا بھی بیکار باتوں میں حضرت کے اوقات ضائع نہ کریں اور تکلیف نہ دیں غربا کو رنج بھی نہ ہوا کہ اور ان کی باتوں کے لیے بھی وقت نکل آئے اور فقراء کو اس بات کا حکم نہ دیا گیا کہ بلکہ اختیار رہا کہ جب چاہیں بلاتکلف مشورہ کریں جب یہ قید لگی روسا جو بیکار اور مشورہ کرتے تھے…
Read the full tafseer →[18] یعنی صدقہ دینے سے جو مقصد تھا حاصل ہوگیا۔ اب ہم نے یہ وقتی حکم اٹھا لیا ہے تو تمہیں چاہئے کہ ان احکام کی اطاعت میں لگے رہو جو کبھی منسوخ ہونے والے نہیں، مثلاً نماز، زکوٰۃ وغیرہ کہ اس سے کافی تزکیہ نفس ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
پہلے خیرات دو پھر سرگوشی کرو
1: باوجود اس کے کہ حضور کائنات میں سب سے بڑے انسان تھے ۔ سادگی رحمت اور عفو کا یہ عالم تھا ۔ کہ آپ تک پہنچنے کے لئے کسی توسل کی حاجت نہ تھی ۔ کوئی صاحب اور دربان نہ تھا ۔ جہاں بیٹھتے ۔ لوگوں کا ایک ہجوم آپ کے ساتھ ہوتا ۔ ہر شخص کو ہر وقت آزادی حاصل تھی ۔ کہ وہ آپ سے مسائل پوچھے ۔ آپ کو مخاطب کرے ۔ آپ کا سارا وقت خلق اللہ کی خدمت کے لئے وقف تھا ۔ اس سے جہاں یہ فائدہ ہوا ۔ کہ فیضان نبوت عام ہوا ۔ اور برکات کا دریا امڈا ۔ تو ہر جگہ سیراب ہوگئی ۔ وہاں اہل غرض اور باب تعلق نے یہ چاہا ۔ کہ آپ کی سادگی سے ناجائز استفادہ کیا جائے ۔ اور آپ کو اس طرح گفتگو میں سرگوشیوں میں…
Read the full tafseer →(13) کیا تم اس حکم سے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو ڈر گئے پس جب تم نے اس کو نہ کیا اور تم ایسا نہ کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو درگزر بھی فرمادیا تو اب تم نماز کی پابندی کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کیا کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی پوری خبر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں منافق بےفائدہ باتیں حضرت سے کان میں کرتے کہ لوگوں میں اپنی بڑائی جتائیں حضرت خلق کے سبب منع نہ کرتے جب یہ حکم اترا منافقوں نے مارے بخل کے وہ عادت چھوڑدی پیچھے پھر وہ حکم موقوف ہوا۔
پھر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ حکم جو ہرگز ہیں یعنی وہ حکم جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 2۔ خیرات کی مقدار آیت میں منصوص نہیں، اور روایات میں مختلف مقداریں آئی ہیں ظاہرا غیر مقدر معلوم ہوتی ہے لیکن معتدبہ ہونا ضرور ہے۔
3۔ غالبا یہ صدقہ علانیہ ہوگا ورنہ ہر شخص دعوی تقدیم صدقہ کا کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →13 ؎ صدقہ و خیرات کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی مزید وضاحت فرما دی کہ صدقہ و خیرات کرنے کا حکم تو ان کو ہے جو صدقہ اور خیرات کی طاقت و قوت رکھتے ہیں اور معاشرہ میں جہاں صدقہ و خیرات دینے والے موجود ہوتے ہیں وہاں لینے والے بھی ہوتے ہیں ۔ اب ان لوگوں کو جن کو پہلے صدقہ اور خیرات لینے کا حق دیا گیا ہے ان کی تفہیم کرائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کے پاس مال ہی نہیں ہے ان کو نبی کریم ﷺ سے بات کرنے کی ممانعت نہیں کی جا رہی تم اس حکم سے کیوں ڈر گئے ؟ اللہ تعالیٰ کسی پر ایسی پابندی تو نہیں لگاتا جو اس کی برداشت سے باہر ہو۔ معاشرہ کے اندر جو لوگ پہلے ہی اس کے مستحق ہیں کہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ (0 those who believe, when you consult the Messenger of Allah, ...58:12) The Messenger of Allah ﷺ was preoccupied day and night with educating the people and improving their quality of life. In his general assemblies, all the members of the audience benefited from his teachings. However, there were people who wanted private meetings with the Holy Prophet ﷺ and he would grant them that. Obviously, it was not possible to grant everyone's request as it required time and effort, and that was difficult. The hypocrites made matters worse…
Read the full tafseer →30 This second Command was sent down some time after the first Command, and it concelled the injunction of giving something in charity. However, there is a difference of opinion as to how long the injunction remained in force. Qatadah says it remained in force for less than a day and then was abrogated. Muqatil bin Hayyan says that it remained in force for ten days; and this is the longest period of its life mentioned in any tradition.
Read the full tafseer →