Al-Mujaadila 58:14

Al-Mujaadila · from ayah 14

58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ؕ— مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلَا مِنْهُمْ ۙ— وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْكَذِبِ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ ۟ۚاَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمؕۡ مَّا هُمۡ مِّنۡكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡۙ وَيَحۡلِفُوۡنَ عَلَى الۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا۔ وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں۔ اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have you not considered those who make allies of a people with whom Allah has become angry? They are neither of you nor of them, and they swear to untruth while they know [they are lying].

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mujaadila

All translations of 58:14

کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا۔ وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں۔ اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہوچکا ہے، نہ یہ (منافق) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں باوجود علم کے پھر بھی جھوٹ پر قسمیں کھا رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا ہوا ہے جن پر اللہ کا غضب ہے ؟ یہ نہ تو تمہارے ہیں اور نہ ان کے، اور یہ جانتے بوجھتے جھوٹی باتوں پر قسمیں کھا جاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے وہ نہ تم میں سے نہ ان میں سے وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسی جماعت کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا، نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ اُن میں سے ہیں اور جھوٹی قَسمیں کھاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے ان لوگوں کو دوست بنا لیا جن پر اللہ غصے ہوگیا، وہ نہ تم سے ہیں اور نہ ان سے اور وہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں سے دوستی لگائی جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ نہ تو وہ تم میں سے ہیں اور نہ ہی ان میں سے۔ اور وہ دیدہ دانستہ جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس قوم سے دوستی رکھنے ہیں جس پر اللہ کا غضب ہوا ! یہ لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور یہ جھوٹی بات پر جانتے بوجھتے قسم کھاتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایک ایسی قوم سے دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے یہ لوگ نہ تمہارے ساتھ ہیں نہ ان کے ساتھ اور یہ (ایسے بدبخت ہیں کہ) قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر جانتے بوجھتے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں کی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے یہ لوگ نہ تو تم میں ہیں اور نہ انہیں میں ہیں جھوٹی بات پر قسم کھا جاتے ہیں درآنحالیکہ (اسے خوب) جانتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں (کے طرزِعمل) پر جنہوں نے دوستی گانٹھی ہے ان لوگوں سے جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور وہ جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں اٹھاتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you not see those who took for friends a people whom Allah is wroth with? They neither belong to you nor you to them. They swear to a falsehood, and they do so knowingly.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry. They are neither of you nor of them. They swear false oaths while they know.

— Muhammad Taqi Usmani

Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry. They are neither of you nor of them. They swear false oaths while they know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have you not seen those who take as friends a people upon whom is the wrath of Allah They are neither of you nor of them, and they swear to a lie while they know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen those who take for friends a folk with whom Allah is wroth? They are neither of you nor of them, and they swear a false oath knowingly.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have you not considered those who make allies of a people with whom Allah has become angry? They are neither of you nor of them, and they swear to untruth while they know [they are lying].

— Saheeh International

Have you not seen those who have established friendship with the people who are subject to the wrath of God? They do not belong to you nor you to them, yet they knowingly try to prove their point by using false oaths.

— Muhammad Sarwar

Have you not seen those who befriend a people with whom Allah is wroth? They are neither of you nor of them, and they swear falsely while they know.

— Muhammad Habib Shakir

Beholdest thou not those who take for friends a people with whom Allah is angered? They are neither of you nor of them, and they swear to a lie while they know.

— Abdul Majid Daryabadi

Turnest thou not thy attention to those who turn (in friendship) to such as have the Wrath of Allah upon them? They are neither of you nor of them, and they swear to falsehood knowingly.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 58:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–19

دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–15

سورة الْمُجَادِلَة 31 اشارہ ہے مدینے کے یہودیوں کی طرف جنہیں منافقین نے دوست بنا رکھا تھا۔ سورة الْمُجَادِلَة 32 یعنی مخلصانہ تعلق ان کا نہ اہل ایمان سے ہے نہ یہود سے۔ دونوں کے ساتھ انہوں نے محض اپنی اغراض کے لیے رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ سورة الْمُجَادِلَة 33 یعنی اس بات پر کہ وہ ایمان لائے ہیں اور محمد ﷺ کو اپنا ہادی و پیشوا مانتے ہیں اور اسلام و اہل اسلام کے وفادار ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–21

خلاصہ تفسیر کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

6۔ آگے آیات 14۔ 22 کا مضمون بیچ میں جو ناسخ آیت آگئی تھی اس کی نوعیت جملہ معترضہ کی تھی۔ اس کے ختم ہوتے ہی مسئلہ کلام پھر منافقین کے ذکر سے مربوط ہوگیا اور یہ بتایا گیا کہ ان منافقین کا اصل رشتہ اسلام کے ساتھ نہیں بلکہ اسلام کے دشمن یہود کے ساتھ ہے۔ یہ ان سے دوستی رکھتے ہیں اور اپنی جھوٹی قسموں کے بل پر مسلمانوں کے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ ان کی اصل بیماری دنیا کی محبت ہے جس کے سبب سے یہ شیطان کے ساتھی بنے ہوئے ہیں اور اللہ کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ غلبہ اللہ اور اس کے رسول کر حاصل ہوگا اور شیطان کی پارٹی شکست کھائے گی۔ ایمان باللہ کے ساتھ اعدائے دین کی دوستی جمع نہیں ہو سکتی۔ سچے اہل ایمان وہی ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ قرآن کریم کی صراحت کے مطابق یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مدینے میں منافقین کا بھی زور تھا اور یہودیوں کی سازشیں بھی عروج پر تھیں ابھی یہود کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا۔ 14۔ 2 یعنی یہ منافقین مسلمان ہیں اور نہ دین کے لحاظ سے یہودی ہیں۔ پھر یہ کیوں یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں۔ ؟ صرف اس لیے کہ ان کے اور یہود کے درمیان نبی ﷺ اور اسلام کی عداوت قدر مشترک ہے۔ 14۔ 3 یعنی قسمیں کھا کر مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ ہم تمہاری طرح مسلمان ہیں یا یہودیوں سے انکے رابطے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

10: اس سے مراد منافقین ہیں جنہوں نے یہودیوں سے ایسی دوستی گانٹھی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم ترالی ........................................ ھم المفلحون یہ منا یقین پر ایک تنقیدی حملہ ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ایک ایسی قوم سے دوستی کررہے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین مسلمانوں کے خلاف نہایت گہری چالیں چلتے تھے اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمنوں یعنی یہودیوں کے ساتھ مل کر یہ سازشیں تیار کرتے تھے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اقتدار مستحکم ہوگیا تھا۔ کیونکہ جب ان پر رسول اللہ اور مسلمان تنقید کرتے تھے اور ان سے باز پرس کرتے تھے تو یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ حالانکہ رسول اللہ اور مسلمان جو بات کرتے تھے وہ اللہ کی طرف سے فراہم کردہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہ لوگ منافق ہیں اور وہ قوم یہود ہے۔ 3 یعنی منافق نہ پوری طرح تم مسلمانوں میں شامل کیونکہ دل سے کافر ہیں، اور نہ پوری طرح ان میں شریک کیونکہ بظاہر زبان سے اپنے کو مسلمان کہتے ہیں۔ (مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ ) 4 ۔ النساء :143) 4 یعنی بیخبر ی اور غفلت سے نہیں، جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ مسلمان سے کہتے ہیں۔ " انہم لمنکم " کہ وہ تم میں سے ہیں اور تمہاری طرح سچے ایماندار ہیں۔ حالانکہ ایمان سے کوئی دور کی نسبت بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ } ”کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے طرزِعمل پر جنہوں نے دوستی گانٹھی ہے ان لوگوں سے جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔“ اللہ کے غضب کے حوالے سے یہاں قوم یہود مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ کی طرف اشارہ ہے اور ان سے دوستیاں گانٹھنے والے اوس اور خزرج کے منافقین تھے جو ان کے ساتھ اپنے پرانے حلیفانہ تعلقات کو ابھی تک نبا ہے چلے جا رہے تھے۔ { مَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْ } ”نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں“ منافقین کے اس دوغلے کردار کا ذکر سورة النساء آیت 143 میں اس طرح ہوا ہے : { لَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

18 منافقوں کی یہود سے ملی بھگت :۔ ان لوگوں سے سے مراد مدینہ کے منافق ہیں اور مغضوب علیہ قوم سے مراد مدینہ کے یہودی ہیں۔ منافقوں کی اصل دوستی اور ہمدردی یہودیوں سے تھی۔ کیونکہ اندر سے منافق بھی مسلمانوں کے ایسے ہی دشمن تھے جیسے یہودی۔ اسی اسلام دشمنی کی مشترک قدر نے ان دونوں کو دوستی کے رشتہ میں منسلک کردیا تھا۔ ان دونوں میں بدتر حالت منافقوں کی تھی جن کے زبانی دعویٰ ایمان پر مسلمانوں کا اعتبار اٹھ چکا تھا۔ چونکہ یہ لوگ اسلام کے دعویٰ کی وجہ سے مسلمانوں سے کئی قسم کے مفادات حاصل کر رہے تھے۔ لہذا مسلمانوں میں انہیں اپنا اعتماد بحال رکھنے کے لیے جھوٹی قسمیں بھی کھانا پڑتی تھیں۔ مگر ان کی کرتوتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ (کہ حلف جھوٹا اٹھالیتے ہیں) (آیت) ” الذین تولوا “۔ مراد منافقین ہیں۔ جس میں سے بہت سے خود بھی یہود تھے اور میل جول بھی یہود ہی سے زیادہ رکھتے تھے ، (آیت) ” قوما غضب اللہ علیہم “۔ مراد یہود ومشرکین ہیں۔ زیادہ ترمراد یہود ہی لئے گئے ہیں۔ وھم الیھود (روح) (آیت) ” ما ..... منھم “۔ یعنی یہ نہ ادھر کے نہ ادھر کے، منافقین نہ تو امت اسلامی ہی کے جزو ہیں، اور نہ ان کا شمار کھلے ہوئے باغیوں اور منکروں میں ہے۔ (آیت) ” منکم “۔ ضمیر جمع مخاطب سے مراد مومنین ہیں، اور ” منھم “۔ میں ضمیر جمع غائب سے مراد وہی قوم مغضوب۔ (آیت) ” یحلفون علی الکذب “۔ اور ان کا سب سے بڑا کذب ان کا یہی دعوی اسلام و ایمان تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–15

ترجمہ :۔ کیا آپ نے ان لوگوں منافقوں کو دیکھا جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے اور وہ یہود ہیں، یہ منافق نہ تم میں سے ہیں یعنی مومنین میں سے اور نہ ان میں سے یعنی یہود میں سے بلکہ مذبذب ہیں چھوٹی قسم کھاتے ہیں یعنی اس بات پر کہ وہ مومن ہیں حالانکہ وہ (خود بھی) جانتے ہیں کہ وہ (اپنی) اس قسم میں جھوٹے ہیں اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے بلاشبہ جو یہ نافرمانی کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکا ہے یعنی اپنی جان اور اپنے مال کے لئے ڈھال بنا رکھا ہے سو قسموں کے ذریعہ مومنین کو اپنے ساتھ جہاد کرنے سے یعنی خود کو قتل ہونے اور اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ۭ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلَا مِنْهُمْ ۙ وَيَحْلِفُوْنَ عَلَي الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ ۔ ” کیا آپ نے ان لوگوں (کی حالت) کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے۔ یہ (منافق لوگ) نہ تو (پورے پورے) تم میں سے ہیں اور نہ ان (کافروں) میں سے اور دانستہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔ اَلَمْ تَرَ : استفہام انکاری ہے اور نفی کا انکار موجب اثبات ہوتا ہے اس لیے اَلَمْ تَرَ کا مطلب ہوا ” آپ نے دیکھا “۔ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا . الّذین : سے مراد ہیں منافق یعنی عبداللہ بن نبتل اور اس کے ساتھی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کی جو یہودیوں کے ساتھ دوستی تھی اگلی آیات اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نازل فرمائی ہیں۔ محمد کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی، یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے یہ منافق اندرونی طور پر نہ تو تم میں ہیں کہ تمہارے لیے جو چیزیں واجب ہیں وہ ان کے لیے واجب ہوں اور نہ علانیہ طور پر یہودیوں ہی میں ہیں کہ ان پر جو غصہ ہے وہ ان پر بھی ہو اور اپنے مسلمان ہونے اور ایمان کے دعوے کرنے پر جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں اور وہ خود بھی جانتے ہیں کہ وہ اپنی قسموں میں جھوٹے ہیں۔ شان نزول : اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا (الخ) ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قوْمًا غَضِبَ اللہ ُ عَلَیْہِمْ : اس آیت میں منافقین کے تین اواف بان کرتے ہوئے ان کی حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے ، ان میں سے پہلا وصف یہ ہے کہ ایمان کے دعوے کے باوجود ان کی دوستی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ایمان والوں کے بد ترین دشمن ہیں اور جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اگرچہ تمام کفار ہی پر اللہ کا غضب ہے اور منافقین تمام کفار سے درستی کرتے تھے ، مگر ”مغضوب علیھم“ خاص طور پر یہود کا لقب ہے ، جیسا کہ ”غیر المغضوب علیھم“ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ بقرہ (16، 90) ، آل عمران (112) ، اعراف (152) ، مائدہ (160) اور سورة ٔ ممتحنہ (13) حالانکہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

آیات۔ 14۔ 16 تفسیر الم تر الی الذین تولو قوما غضب اللہ علیھم قتادہ نے کہا : مراد منافق ہیں جنہوں نے یہودیوں سے دوستی کی ماھم منکم ولا منھم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : منافق یہودیوں اور مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ وہ ان دونوں طبقات کے درمیان مذبذب ہیں۔ وہ مسلمانوں کی خبریں ان تک پہنچاتے تھے۔ سدی اور مقاتل نے کہا : یہ آیت عبد اللہ بن ابی اور عبد اللہ بن نبتل منافق کے حق میں نالز ہوئی ان میں سے ایک نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا تھا پھر آپ کی گفتگو یہودیوں تک پہنچاتا تھا۔ اس اثناء میں کہ نبی کریم ﷺ اپنے حجرون میں سے ایک حجرہ میں تھے کہ فرمایا : ” ابھی تم پر ایک ایسا آدمی داخل ہوگا جس کا دل جبارکا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–18

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت الم تر الی الذین تولوا کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن نبتل کے بارے میں نازل ہوئی اور منافقین میں سے تھا۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا اور وہ یہودی اور منافق ہیں اور وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور وہ اپنی قسموں کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لوگ تم میں سے ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت الم تر الی الذین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِينَ : کیا تو نے غور کیا ان لوگوں کی طرف جنھوں نے ][تَوَلَوْا قَوْمًا : دوستی کی ایک ایسی قوم سے ][غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ : غضب کیا اللہ نے جس پر ][مَا هُمْ مِّنْكُمْ : وہ لوگ نہیں ہیں تم میں سے ][ وَلَا مِنْهُمْ : اور نہ ان (کافروں) میں سے ][ وَيَحْلِفُوْنَ : اور وہ قسم کھاتے ہیں ][ عَلَي الْكَذِبِ : جھوٹ بات پر ][ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ : اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 14) یہاں تَوَلَّوْا روگردانی کرنے کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ دوست بنانے کے معنی میں ہے۔ استثناء کو چھوڑ کر عام قاعدہ یہ ہے کہ تولی کے ساتھ اگر کوئی مفعول مذکور نہ ہو یا عن کے صلہ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منافقین کا بدترین طریق کار، جھوٹی قسمیں کھانا، اور یہودیوں کو خبریں پہنچانا معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ یہ آیات منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں جنہوں نے ظاہراً اسلام کا دعویٰ کیا لیکن اندر سے یہودیوں سے دوستی جاری رکھی مومنین کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے جو ان کے راز معلوم ہوجایا کرتے تھے وہ یہودیوں تک پہنچا دیا کرتے تھے، اس کے بعد ایک قصہ یوں نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن نبتل نامی ایک یہودی تھا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر بیٹھا کرتا تھا پھر آپ کی باتیں (جو عام کرنے کی نہ تھیں) یہودیوں کو پہنچا دیتا تھا ایک دن یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے حجرہ میں تشریف رکھتے تھے آپ نے خود ہی فرمایا کہ ابھی ایک شخص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–22

تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ ” الم تر الی الذین تولوا “ یہ منافقین پر تیسرا زجر ہے۔ ” مغضوب علیہم “ (جن پر اللہ کا غضب ہوا) سے یہود مراد ہے۔ ” الکذب “ جھوٹ اور خلاف حقیقت بات، اس سے منافقین کا ادعائے اسلام مراد ہے وہ دعوی کرتے کہ ہم مؤمن ہیں لیکن ان کے دلوں میں بدستور کفر جاگزیں تھا اور ایمان کا ان کے دلوں میں شائبہ تک نہ تھا۔ (الکذب) وھو ادعاء الاسلام (مظہری ج 9 ص 227) ۔ منافقین کا اسلام چونکہ دنیوی منافع اور وقتی مصالح کی بنا پر تھا، اس لیے در پردہ ان کا گٹھ جوڑ یہودیوں سے تھا جو اپنی سرکشی اور شرارتوں کی وجہ سے غضب خداوندی کے مستحق ٹھہر چکے تھے دوسری طرف مسلمانوں کے سامنے قسمیں کھاتے کہ وہ مخلص مومن ہیں۔ فرمایا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–21

یہودی اور عمل واعتقادی منافق : گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہُ عَلَيْہِمْ۝ 0 ۭ مَا ہُمْ مِّنْكُمْ وَلَا مِنْہُمْ۝ 0 ۙ وَيَحْلِفُوْنَ عَلَي الْكَذِبِ وَہُمْ يَعْلَمُوْنَ۝ 14 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–18

ترکیب : ماھم منکم ولامنہم جملۃ مستانفۃ اوحال من فاعل تولوا و یحلفون عطف علی تولواداخل فی حکم التعجب وصیغۃ المضارع للدلالۃ علی تکرار الحلف و تجددہ۔ وھم یعلمون حال من فاعل یحلفون لتفید شناعۃ قولھم لان الحلف علی مایعلم انہ کذب فی غایۃ القبح۔ یوم یبعثھم قیل ظرف لقولہ تعالیٰ لھم عذاب مھین۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقوں کے اعمالِ بد کا ذکر تھا جو اہل ایمان کی ایذاء اور پریشانی خاطر کے باعث ہوتے تھے یعنی کانا پھونسی کرنا۔ اب اس جگہ ان کی دوسری بدعات ایذا دینے والی ذکر کرتا ہے تاکہ اس سے باز آئیں اور دیگر مسلمان بھی دور رہیں فقال الم تر الخ اور وہ بدبات یہ تھی کہ منافق اس قوم سے (کہ جس پر غضب الٰہی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ ط مَاھُمْ مِّنْـکُمْ وَلاَ مِنْھُمْ لا وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْـکَذِبِ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 14) (کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس قوم سے دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا، یہ لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسم کھاتے ہیں۔ ) جملہ معترضہ کے بعد اصل مضمون سے ربط اور منافقین کی اصل حقیقت منافقین کے بعض کرتوتوں سے پردہ اٹھایا جارہا تھا، درمیان میں دو آیتیں جملہ معترضہ کے طور پر آگئیں اب ان کے بعد دوبارہ سلسلہ کلام منافقین کے ذکر سے مربوط ہوگیا ہے کہ یہ منافقین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–15

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس رسول کی اطاعت اور محبت کا تقاضا ہے کہ مسلمان ان لوگوں کے ساتھ دلی دوستی نہ رکھیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ نبی (علیہ السلام) کے دور میں منافقوں کی حالت یہ تھی کہ اگر انہیں مسلمانوں کی طرف سے فائدہ پہنچتا تو وہ سر عام مسلمانوں کی حمایت کرتے اگر انہیں کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا اور دوسروں کی طرف سے فائدہ پہنچتا دکھائی دیتا تو وہ کفار اور یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے۔ اس پر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو ارشاد ہوا کہ کیا تم نے ان لوگوں کے بارے میں غور نہیں کیا جو ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ (کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا ہے) منافقین یہود سے دوستی کا دم بھرتے تھے۔ اور یہود پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ من لعنہ اللّٰہ وغضب علیہ ] المائدہ : 60[ اور منافقین ایمان والوں کے راز یہود کی طرف منتقل کرتے تھے۔ مَاھُمْ مِّنْکُمْ (وہ اے مسلمانوں تم میں سے نہیں) وَلَا مِنْہُمْ (اور نہ وہ یہود میں سے ہیں) جیسا کہ ارشاد فرمایا۔ مذبذبین بین ذلک لا الٰی ھؤلاء ولا الٰی ھؤلاء ] النساء : 143[ وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” ا اشفقتم ان تقدموا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کیا تم بخیل ہوگئے ؟ اور معنی یہ ہے کہ کیا تم فقر اور فاقہ سے ڈر گئے، اگر تم پہلے صدقہ دو تو ؟” بین یدی نجواکم صدقات فاذلم تفعلوا “ جو تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ” وتاب اللہ علیکم “ تم سے درگزر کیا اور تم پر صدقہ چھوڑنے کا عقاب نہیں کیا اور کہا گیا ہے وائو صلہ ہے اس کا مجاز ” فان لم تفعلوا اوتاب اللہ علیکم “ تم سے تجاوز کیا اور تم سے تخفیف کی اور صدقہ کو منسوخ کردیا۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں یہ حکم دس راتیں رہا، پھر منسوخ ہوگیا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں یہ حکم صرف دن کی ایک گھڑی رہا۔ ” فاقیموا الصلوٰۃ “ فرض کی ہوئی۔ ” وآلوالزکاۃ “ واجب۔ ” واطیعوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–22

14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–15

اللہ تبارک وتعالی نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاری اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے ہیں نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ (مذبذبین بین ذالک لا الی ھولاء۔ النساء 143) وہ ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں نہ پورے مومنین کی طرف ہیں اور نہ پورے کفار کی طرف۔ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–21

حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 46] منافقوں کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا یعنی منافقین کو جو دعوی تو ایمان کا کرتے ہیں اور دوستی اسلام کے دشمنوں سے رکھتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس میں ان منافقوں کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ یہ لوگ دعوی تو اسلام کا کرتے ہیں، اور دم ایمان کا بھرتے ہیں، مگر محبت ان لوگوں سے کرتے ہیں جو اسلام کے دشمن ہیں، بھلا یہ دونوں باتیں کس طرح جمع ہوسکتی ہیں ؟ کہ آدمی ایماندار بھی ہو اور اس کی دوستی دین و ایمان کے دشمنوں سے بھی ہو ؟ [ 47] دعوی ایمان کا اور دوستی اسلام کے دشمنوں سے ؟ والعیاذ باللّٰہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ دعوی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–21

منافقین اور ان کا انجام تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–22

آیات 14 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔ آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔ کفار سے معاہدہ۔ عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 بلکہ دونوں کے درمیان لٹک کر رہ گئے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : ” مذبذبین بین ذلک لا الی ھولاء ولا الی ھو لاء ومن تصل اللہ فلن تجدلہ سبیلاً وہ اس کے درمیان لٹکے ہوئے ہیں، نہ ان کی طرف ہیں اور نہ ان کی طرف اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لئے تم کوئی نجات کی راہ نہ پائو گے۔ “ (نساء 183)9 یعنی مسلمانوں کو قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور یہودیوں سے ہماری ہرگز دوستی نہیں ہے، حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(58:14) الم تر : استفہام انکاری ہے۔ نفی کا انکار موجب اثبات ہوتا ہے۔ اسلئے الم ترکا مطلب ہوا۔ تو نے دیکھا۔ تو نے دیکھا ہے۔ الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم : الذین اسم موصول تولوا اس کا صلہ۔ قوما مفعول تولوا کا۔ غضب اللہ علیہم صفت قوما کی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب قوما کی طرف راجع ہے۔ تولوا ماضی جمع مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی :۔ (1) کسی سے دوستی رکھنے۔ (2) کسی کام کو اٹھانے۔ (3) والیو حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ (1) کی مثال۔ قرآن مجید میں ہے :۔ ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی رکھے وہ ان میں سے ہے۔ (2) کی مثال :۔ والذی تولی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–22

لغات القرآن۔ یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–22

کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[19] جن لوگوں پر اللہ کا غضب ہے ان سے مراد یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

پہلے خیرات دو پھر سرگوشی کرو 1: باوجود اس کے کہ حضور کائنات میں سب سے بڑے انسان تھے ۔ سادگی رحمت اور عفو کا یہ عالم تھا ۔ کہ آپ تک پہنچنے کے لئے کسی توسل کی حاجت نہ تھی ۔ کوئی صاحب اور دربان نہ تھا ۔ جہاں بیٹھتے ۔ لوگوں کا ایک ہجوم آپ کے ساتھ ہوتا ۔ ہر شخص کو ہر وقت آزادی حاصل تھی ۔ کہ وہ آپ سے مسائل پوچھے ۔ آپ کو مخاطب کرے ۔ آپ کا سارا وقت خلق اللہ کی خدمت کے لئے وقف تھا ۔ اس سے جہاں یہ فائدہ ہوا ۔ کہ فیضان نبوت عام ہوا ۔ اور برکات کا دریا امڈا ۔ تو ہر جگہ سیراب ہوگئی ۔ وہاں اہل غرض اور باب تعلق نے یہ چاہا ۔ کہ آپ کی سادگی سے ناجائز استفادہ کیا جائے ۔ اور آپ کو اس طرح گفتگو میں سرگوشیوں میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اے پیغمبر کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں ملاحظہ فرمایا جو اس قوم سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا ہے اور جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوا یعنی یہود یہ لوگ پوری طرح نہ تم سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور یہ لوگ جھوٹی بات پر قسم کھا جاتے ہیں حالانکہ یہ جانتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ غصہ ہوا کافروں پر خصوصی یہود اور ان کے رفیق منافق۔ خلاصہ : یہ کہ منافق مسلمانوں سے ملے رہتے اور حضور کی خدمت میں آتے جاتے پھر یہاں کے بھید یہود کو بتاتے اور جب ان سے کہا جاتا تو قسمیں کھاتے کہ ہم نے نہیں کہا عبداللہ بن نبتل کے متعلق مشہور ہے کہ وہ منافق تھا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–18

ف 5۔ پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں، اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور معلوم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کو مزید تسلی دی جا رہی ہے اور منافقین کے عمل کی مزید وضاحت 14 ؎ ایمان والوں کو مخاطب کر کے ان کو مزید تسلی دی جا رہی ہے کہ تم کو ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہے جنہوں نے اپنے مسلمانوں کو چھوڑ کر پیار کی پینگیں غیروں سے چڑھا رکھی ہیں اور اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ وہ قوم بھی ایسی قوم ہے جس کو اللہ نے من حیث القوم اپنے غضب کا مستحق قرار دیا ہے کہ ان میں نیکی کی قطعا ً صلاحیت ہی نہیں رہی اور اسی کے باعث وہ در بدر ٹھوکریں کھاتے ہوئے یہاں آ کر آباد ہوگئے ہیں اور ذہن و فکر کے لحاظ سے وہ مہاجن ہیں کہ حالات کچھ بھی ہوں ان کو بلا سے ان کو تو محض ملا و دولت کے سمے ٹنھ کی دھن ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–21

Commentary Chastising the Hypocrites for their Secret Alliance with the Jews أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم (Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry? ....58:14) Allah condemns the hypocrites who secretly formed an alliance with the Jews who challenge Allah and His Apostle, while in effect they belong neither to the Muslims nor to the Jews. Consequently, Allah has prepared for them a humiliating and condign chastisement. It is not permissible to have a friendly intimacy with the enemies of Allah and His…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

31 The allusion is to the Jews of Madinah whom the hypocrites had taken for friends. 32 That is, they are neither sincere in their connections with the believers, nor with the Jews: their relations with both are based on selfish interests. 33 "A falsehood": that they have believed in and have accepted Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) as their guide and leader and are faithful to Islam and the Muslims

Read the full tafseer →