Al-Mujaadila 58:15

Al-Mujaadila · from ayah 15

58:15

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ؕ— اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا‌ ؕ اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں یقیناً برا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah has prepared for them a severe punishment. Indeed, it was evil that they were doing.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mujaadila

All translations of 58:15

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں یقیناً برا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، تحقیق جو کچھ یہ کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت برے ہیں وہ کام جو یہ کرتے رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ نے اُن کے لئے سخت عذاب تیار فرما رکھا ہے، بیشک وہ برا (کام) ہے جو وہ کر رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار کیا ہے، بیشک یہ لوگ، برا ہے جو کچھ کرتے رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بلاشبہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں بہت برا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بیشک نہایت برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ نے تیار کر رکھا ہے ان کے لئے ایک بڑا ہی سخت (اور ہولناک) عذاب بیشک بڑے ہی برے ہیں وہ کام جو یہ لوگ کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے بیشک (بہت) برے ہیں دو کام جو وہ کیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے سخت عذاب یقینا بہت ہی برا ہے وہ طرزعمل جو وہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں یقینا ان کے لیے برا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah has prepared for them a grievous chastisement. Indeed, evil are the acts in which they are engaged.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah has prepared a severe punishment for them. Indeed, evil is what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah has prepared a severe punishment for them. Indeed, evil is what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah hath prepared for them a dreadful doom. Evil indeed is that which they are wont to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah has prepared for them a severe punishment. Indeed, it was evil that they were doing.

— Saheeh International

God has prepared a severe torment for them. What an evil deed they have committed!

— Muhammad Sarwar

Allah has prepared for them a severe punishment; surely what they do is evil.

— Muhammad Habib Shakir

Allah hath gotten ready for them a torment grievous; verily vile is that which they have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah has prepared for them a severe Penalty: evil indeed are their deeds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 58:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–19

دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–15

سورة الْمُجَادِلَة 31 اشارہ ہے مدینے کے یہودیوں کی طرف جنہیں منافقین نے دوست بنا رکھا تھا۔ سورة الْمُجَادِلَة 32 یعنی مخلصانہ تعلق ان کا نہ اہل ایمان سے ہے نہ یہود سے۔ دونوں کے ساتھ انہوں نے محض اپنی اغراض کے لیے رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ سورة الْمُجَادِلَة 33 یعنی اس بات پر کہ وہ ایمان لائے ہیں اور محمد ﷺ کو اپنا ہادی و پیشوا مانتے ہیں اور اسلام و اہل اسلام کے وفادار ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–21

خلاصہ تفسیر کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(اعد اللہ لھم عذابا شدید انھم ساء ما گانو یعملون) (15)۔ یعنی یہ بد قسمت لوگ سمجھے رہے ہیں کہ انہوں نے بڑی دانشمندانہ سیاست اختیار کی ہے کہ اپنی قسموں کے ذریعہ سے دونوں کو مطمئن کر رکھا ہے حالانکہ یہ دانشمندانہ سیاست نہیں بلکہ نہایت مہلک کھیل ہے جو یہ کھیل رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس سے یہ دو چار ہوں گے۔ اللہ اور رسول کے دشمنوں پر اس دنیا میں جو عذاب آئے گا۔ یہ اس میں بھی پائیں گے اور آخرت میں ان کے لیے جو عذاب ہے وہ تو ہے کی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

10: اس سے مراد منافقین ہیں جنہوں نے یہودیوں سے ایسی دوستی گانٹھی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–16

اعداللہ .................... یعملون (85 : 51) ” اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے ، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو یہ کررہے ہیں۔ “ اور آگے ہے : فلھم ........ مھین (85 : 61) ” اس پر ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے “۔ آگے ہے :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 جس کو دوسری جگہ فرمایا۔ " (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) 4 ۔ النسآء :145) 6 یعنی خواہ ابھی ان کو نظر نہ آئے لیکن نفاق کے کام کر کے وہ اپنے حق میں بہت برا بیج بو رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15{ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا } ”اللہ نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے سخت عذاب۔“ { اِنَّہُمْ سَآئَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ } ”یقینا بہت ہی برا ہے وہ طرزعمل جو وہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

18 منافقوں کی یہود سے ملی بھگت :۔ ان لوگوں سے سے مراد مدینہ کے منافق ہیں اور مغضوب علیہ قوم سے مراد مدینہ کے یہودی ہیں۔ منافقوں کی اصل دوستی اور ہمدردی یہودیوں سے تھی۔ کیونکہ اندر سے منافق بھی مسلمانوں کے ایسے ہی دشمن تھے جیسے یہودی۔ اسی اسلام دشمنی کی مشترک قدر نے ان دونوں کو دوستی کے رشتہ میں منسلک کردیا تھا۔ ان دونوں میں بدتر حالت منافقوں کی تھی جن کے زبانی دعویٰ ایمان پر مسلمانوں کا اعتبار اٹھ چکا تھا۔ چونکہ یہ لوگ اسلام کے دعویٰ کی وجہ سے مسلمانوں سے کئی قسم کے مفادات حاصل کر رہے تھے۔ لہذا مسلمانوں میں انہیں اپنا اعتماد بحال رکھنے کے لیے جھوٹی قسمیں بھی کھانا پڑتی تھیں۔ مگر ان کی کرتوتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ ظاہر ہے کہ کفر اور پھر منافقت کے ساتھ اخفائے کفر سے بڑھ کر برا کام اور کون سا ہوگا۔ ؛ (آیت) ” انھم ..... یعملون “۔ اس فقرہ نے یہ بتادیا کہ ان کے معذب ہونے کی بنیاد و باعث ان کا یہی کفر وسوء عمل ہے۔ (آیت) ” عذابا شدیدا “۔ سے یہاں مراد عذاب قبر بھی لی گئی ہے۔ والمراد منہ عند بعض المحققین عذاب البقر (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–15

ترجمہ :۔ کیا آپ نے ان لوگوں منافقوں کو دیکھا جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے اور وہ یہود ہیں، یہ منافق نہ تم میں سے ہیں یعنی مومنین میں سے اور نہ ان میں سے یعنی یہود میں سے بلکہ مذبذب ہیں چھوٹی قسم کھاتے ہیں یعنی اس بات پر کہ وہ مومن ہیں حالانکہ وہ (خود بھی) جانتے ہیں کہ وہ (اپنی) اس قسم میں جھوٹے ہیں اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے بلاشبہ جو یہ نافرمانی کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکا ہے یعنی اپنی جان اور اپنے مال کے لئے ڈھال بنا رکھا ہے سو قسموں کے ذریعہ مومنین کو اپنے ساتھ جہاد کرنے سے یعنی خود کو قتل ہونے اور اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اعد اللہ لھم عذابا شدیدا انھم ساء ما کانوا یعملون . اللہ نے ان لوگوں کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ‘ بیشک وہ برے کام کیا کرتے تھے۔ “ سَآءَ مَا کَانُوْا : جو کام وہ پہلے کرتے تھے وہ برے تھے اور انہیں اعمال پر وہ جمے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ان منافقین کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیاو آخرت میں سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے کیونکہ وہ اپنے نفاق برے کام کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَعَدَّ اللہ ُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ط۔۔۔۔۔: عذاب شدید سے مراد ”الدرک الاسفل من النار“ ہے۔ دیکھئے سورة ٔ نسائ (145)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

آیات۔ 14۔ 16 تفسیر الم تر الی الذین تولو قوما غضب اللہ علیھم قتادہ نے کہا : مراد منافق ہیں جنہوں نے یہودیوں سے دوستی کی ماھم منکم ولا منھم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : منافق یہودیوں اور مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ وہ ان دونوں طبقات کے درمیان مذبذب ہیں۔ وہ مسلمانوں کی خبریں ان تک پہنچاتے تھے۔ سدی اور مقاتل نے کہا : یہ آیت عبد اللہ بن ابی اور عبد اللہ بن نبتل منافق کے حق میں نالز ہوئی ان میں سے ایک نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا تھا پھر آپ کی گفتگو یہودیوں تک پہنچاتا تھا۔ اس اثناء میں کہ نبی کریم ﷺ اپنے حجرون میں سے ایک حجرہ میں تھے کہ فرمایا : ” ابھی تم پر ایک ایسا آدمی داخل ہوگا جس کا دل جبارکا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–18

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت الم تر الی الذین تولوا کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن نبتل کے بارے میں نازل ہوئی اور منافقین میں سے تھا۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا اور وہ یہودی اور منافق ہیں اور وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور وہ اپنی قسموں کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لوگ تم میں سے ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت الم تر الی الذین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ : تیار کیا اللہ نے ان کے لیے ][ عَذَابًا شَدِيْدًا : ایک سخت عذاب ][انهُمْ : بیشک وہ لوگ !][ سَاۗءَ مَا : بُرا ہے وہ جو ][ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کیا کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–17

پھر فرمایا ﴿ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا ﴾ (الآیات الثلث) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار فرمایا ہے، یہ برے عمل کرتے تھے جھوٹی قسموں کو اپنے لئے ڈھال بنالیتے تھے اور اس طرح اللہ کی راہ سے روکتے تھے ان کے لئے عذاب شدید بھی ہے اور عذاب مہین بھی یعنی ” ذلیل کرنے والا عذاب “ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے جو منافقانہ طرز اختیار کیا ہے اس میں ہمارے مالوں کی حفاظت بھی ہے اور ہماری اولاد کی بھی، ان کا یہ سمجھنا غلط ہے جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ انہیں دوزخ میں لے جاؤ تو وہاں عذاب سے چھڑانے کے لئے نہ کوئی مال نفع دے گانہ اولاد کام آئے گی جن کی حفاظت کے لئے یہ مکرو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–22

تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

18:۔ ” اعد اللہ “ یہ منافقین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ دنیا میں وقتی منافع حاصل کرلیں، لیکن آخرت میں ان کے لیے نہایت ہی سخت سزا تیار ہے کیونکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں نہایت ہی برا کر رہے ہیں۔ ” اتخذوا ایمانہم جنۃ “ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے کہ جب کبھی ان کی کسی شرارت پر ان کا مؤاخذہ ہوتا ہے تو قسمیں کھا کھا کر اپنے اخلاص ایمان اور اپنی براءت کا اظہار کرتے ہیں اور جب انہیں ان قسموں کی آڑ میں امن مل جاتا ہے تو طرح طرح سے مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کرتے ہیں اور جو لوگ اسلام میں داخل ہونا چاہیں ان کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ ان خبثاء کے لیے نہایت ہی ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–21

یہودی اور عمل واعتقادی منافق : گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَعَدَّ اللہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا۝ 0 ۭ اِنَّہُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 15 عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–18

ترکیب : ماھم منکم ولامنہم جملۃ مستانفۃ اوحال من فاعل تولوا و یحلفون عطف علی تولواداخل فی حکم التعجب وصیغۃ المضارع للدلالۃ علی تکرار الحلف و تجددہ۔ وھم یعلمون حال من فاعل یحلفون لتفید شناعۃ قولھم لان الحلف علی مایعلم انہ کذب فی غایۃ القبح۔ یوم یبعثھم قیل ظرف لقولہ تعالیٰ لھم عذاب مھین۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقوں کے اعمالِ بد کا ذکر تھا جو اہل ایمان کی ایذاء اور پریشانی خاطر کے باعث ہوتے تھے یعنی کانا پھونسی کرنا۔ اب اس جگہ ان کی دوسری بدعات ایذا دینے والی ذکر کرتا ہے تاکہ اس سے باز آئیں اور دیگر مسلمان بھی دور رہیں فقال الم تر الخ اور وہ بدبات یہ تھی کہ منافق اس قوم سے (کہ جس پر غضب الٰہی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَعَدَّاللّٰہُ لَھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ط اِنَّھُمْ سَآئَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 15) (اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بہت ہی بری حرکتیں ہیں جو وہ کررہے ہیں۔ ) یہ ایسے بیوقوف لوگ ہیں کہ اپنی روش کو بڑی کامیاب سیاست سمجھتے ہیں اور انھیں اس بات پر بڑا ناز ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو کس طرح فریب دے رکھا ہے۔ وہ ہمارے اخلاص پر اعتماد رکھتے ہیں جبکہ ہمارا ان سے کوئی قلبی رشتہ نہیں، ایک مجبوری ہے جسے ہم نبھا رہے ہیں، ہمارے اصل رشتے اور روابط تو اعدائے دین کے ساتھ ہیں۔ یہ سراسر ان کی حماقت ہے کیونکہ انھیں اندازہ ہی نہیں کہ جن لوگوں سے انھوں نے تعلقات پیدا کر رکھے ہیں اگر انھوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–15

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس رسول کی اطاعت اور محبت کا تقاضا ہے کہ مسلمان ان لوگوں کے ساتھ دلی دوستی نہ رکھیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ نبی (علیہ السلام) کے دور میں منافقوں کی حالت یہ تھی کہ اگر انہیں مسلمانوں کی طرف سے فائدہ پہنچتا تو وہ سر عام مسلمانوں کی حمایت کرتے اگر انہیں کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا اور دوسروں کی طرف سے فائدہ پہنچتا دکھائی دیتا تو وہ کفار اور یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے۔ اس پر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو ارشاد ہوا کہ کیا تم نے ان لوگوں کے بارے میں غور نہیں کیا جو ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کیلئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے) ان کے لئے عذاب کی خاص قسم کا غلبہ پالینے والا عذاب ہوگا۔ اِنَّھُمْ سَآ ئَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (بیشک وہ برے کام کیا کرتے تھے) وہ زمانہ ماضی میں بد عملی پر مصر تھے۔ یہ دراصل قیامت کے دن کہی جانے والی بات کی حکایت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” الم ترالی الذین تو لوا قوما غضب اللہ علیھم “ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے یہود سے دوستی کی اور ان کی خیر خواہی کی اور مومنین کے راز ان کی طرف منتقل کرتے اور ” غضب اللہ علیھم “ سے مراد یہود ہیں۔ ” ماھم منکم ولا منھم “ یعنی منافقین جو دین اور دوستی میں مومنین میں سے نہیں تھے اور یہود و کفار میں سے تھے۔ جیسا کہ فرمایا : ” مذبذبین بن ذلک، لاالی ھوالیٰ ھولائ “…” ویحلفون علی الکذب وھم یعلمون “ سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ عبداللہ بن نبتل منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھتا تھا، پھر آپ (علیہ السلام) کی باتیں یہود کی طرف نقل کرتا۔ پس اسی اثناء…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–22

14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–15

اللہ تبارک وتعالی نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاری اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے ہیں نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ (مذبذبین بین ذالک لا الی ھولاء۔ النساء 143) وہ ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں نہ پورے مومنین کی طرف ہیں اور نہ پورے کفار کی طرف۔ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–21

حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 50] منافقوں کیلئے سخت عذاب تیار۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان کیلئے تیار کر رکھا ہے بڑ اہی سخت عذاب۔ والعیاذ باللّٰہ، دنیاوی ذلت و محرومی کے ساتھ ساتھ آخرت میں ان کو دوزخ کے درک اسفل میں جلنا ہوگا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسے بدبخت لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت ہوشیار اور چالاک ہیں، لیکن حقیقت میں یہ بڑے ہی احمق اور محروم لوگ ہیں، کہ دولت ایمان و یقین سے محروم ہو کر یہ ہلاکت و تباہی کی راہ پر گامزن ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور " الا " کے حرف تنبیہ کے ساتھ فرمایا گیا۔ { الا انھم ھم السفھائُولکن لا یعلمون } [ البقرہ : 13 پ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–21

منافقین اور ان کا انجام تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–22

آیات 14 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔ آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔ کفار سے معاہدہ۔ عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 اسی کو دوسری آیت میں یوں فرمایا ان المنافقین فی الدزک الاسفل من الناس ولن تجدلھم نصیراً بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور تم ان کے لئے کوئی مددگار نہ پائو گے۔ (النساء 125)10 یعنی منافقین جن کی مخالفت کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(58:15) اعد : ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) مصدر۔ بمعنی تیار کرنا ۔ اعداد یہ عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اعداد کے معنی کسی چیز کے اس طرح تیار کرنے کے ہیں کہ وہ شمار کی جاسکے۔ اعد اس نے تیار کیا ہے۔ اس نے تیار کر رکھا ہے۔ انھم : ان حرف مشبہ بالفعل ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ بیشک وہ سب لوگ۔ ساء فعل ذم ہے سوء (باب نصر) مصدر ہے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب برا ہے۔ ما کانوا یعملون : ما موصولہ۔ کانوا یعلمون صلہ۔ جو وہ کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ برے کام کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–22

لغات القرآن۔ یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–22

کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[19] جن لوگوں پر اللہ کا غضب ہے ان سے مراد یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

پہلے خیرات دو پھر سرگوشی کرو 1: باوجود اس کے کہ حضور کائنات میں سب سے بڑے انسان تھے ۔ سادگی رحمت اور عفو کا یہ عالم تھا ۔ کہ آپ تک پہنچنے کے لئے کسی توسل کی حاجت نہ تھی ۔ کوئی صاحب اور دربان نہ تھا ۔ جہاں بیٹھتے ۔ لوگوں کا ایک ہجوم آپ کے ساتھ ہوتا ۔ ہر شخص کو ہر وقت آزادی حاصل تھی ۔ کہ وہ آپ سے مسائل پوچھے ۔ آپ کو مخاطب کرے ۔ آپ کا سارا وقت خلق اللہ کی خدمت کے لئے وقف تھا ۔ اس سے جہاں یہ فائدہ ہوا ۔ کہ فیضان نبوت عام ہوا ۔ اور برکات کا دریا امڈا ۔ تو ہر جگہ سیراب ہوگئی ۔ وہاں اہل غرض اور باب تعلق نے یہ چاہا ۔ کہ آپ کی سادگی سے ناجائز استفادہ کیا جائے ۔ اور آپ کو اس طرح گفتگو میں سرگوشیوں میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے سخت عذاب تیارکررکھا ہے بیشک وہ کام بہت برے ہیں جو وہ کررہے ہیں۔ یعنی نفاق اور کفر وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–18

ف 5۔ پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں، اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور معلوم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان لوگوں کے لیے سخت عذاب ہے اور بہت برے اعمال ان کے 15 ؎ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ عمل اور اس کا نتیجہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ اگر ان کے اعمال اچھے نہیں تو ان کا نتیجہ کیسے اچھا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب ان کے اعمال برے ہیں تو ان کے اعمال کا نتیجہ بھی یقینا برا ہی ہوگا اور وہی عذاب کی صورت میں ان کی سامنے لایا جائے گا جس کی پاداش میں وہ دوزخ میں داخل کرا دیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–21

Commentary Chastising the Hypocrites for their Secret Alliance with the Jews أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم (Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry? ....58:14) Allah condemns the hypocrites who secretly formed an alliance with the Jews who challenge Allah and His Apostle, while in effect they belong neither to the Muslims nor to the Jews. Consequently, Allah has prepared for them a humiliating and condign chastisement. It is not permissible to have a friendly intimacy with the enemies of Allah and His…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

31 The allusion is to the Jews of Madinah whom the hypocrites had taken for friends. 32 That is, they are neither sincere in their connections with the believers, nor with the Jews: their relations with both are based on selfish interests. 33 "A falsehood": that they have believed in and have accepted Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) as their guide and leader and are faithful to Islam and the Muslims

Read the full tafseer →