Explained with ayahs 14–19
دوغلے لوگوں کا کردار
منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة الْمُجَادِلَة 34
مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ اپنے ایمان اور اپنی وفاداری کی قسمیں کھا کر مسلمانوں کی گرفت سے بچے رہتے ہیں، اور دوسری طرف اسلام اور اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ہر طرح کے شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ کر اسلام قبول کرنے سے باز رہیں کہ جب گھر کے بھیدی یہ خبریں دے رہے ہیں تو ضرور اندر کچھ دال میں کالا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے…
Read the full tafseer →(اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ فلھم عذاب مھین) (16)۔
(جھوٹی قسموں کی آڑ میں چھپنے کی کوشش)۔ انہوں نے قسموں کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے ان کی جس غلطی پر بھی گرفت کی جائے اس کے بارے میں جھوٹی قسموں سے یہ اطمینان دہانی کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح اپنی دانست میں اپنے کو بچا لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان قسموں کی آڑ میں انہوں نے اپنے لیے جائے پناہ بنائی ہے تاکہ دین کے مطالبات سے اپنے کو بچائے رکھیں، ایمان کا اظہار کر کے اللہ کی راہ میں انہوں نے جو قدم اٹھایا تھا اس کو روک لیا اور اب آگے بڑھنے کے بجائے قسموں کے ذریعہ سے اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ اس طرح کب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
1 6 ۔ 1 ایمان، یمین، کی جمع ہے بمعنی قسم۔ یعنی قسم جس طرح ڈھال سے دشمن کے وار کو روک کر اپنا بچاؤ کرلیا جاتا ہے اسی طرح انہوں نے اپنی قسموں کو مسلمانوں کی تلواروں سے بچنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے۔
1 6 ۔ 2 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر یہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں حقیقت واقعیہ کا علم نہیں ہوتا اور وہ ان کے غرے میں آکر قبول اسلام سے محروم رہتے ہیں اور یوں یہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا جرم بھی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
11: یعنی جس طرح ڈھال سے تلوار کے وار کو روکا جاتا ہے یہ لوگ سازشیں کرنے کے باوجود قسمیں کھاکر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی طرف سے کسی جوابی کاروائی سے بچ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اعداللہ .................... یعملون (85 : 51) ” اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے ، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو یہ کررہے ہیں۔ “ اور آگے ہے :
فلھم ........ مھین (85 : 61) ” اس پر ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے “۔ آگے ہے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
7 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں کے ہاتھوں سے اپنی جان و مال کو بچاتے ہیں اور اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے دوستی کے پیرایہ میں دوسروں کو اللہ کی راہ پر آنے سے روکتے ہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ لوگ اس طرح کچھ عزت نہیں پاسکتے۔ سخت ذلت کے عذاب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور جب سزا کا وقت آئے گا، اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، جن کی حفاظت کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے پھرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 16{ اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً } ”انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے“
یہ لوگ جھوٹی قسموں کو اپنی کمزوریوں کی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ جہاں کہیں کسی کی کسی بات پر گرفت ہوتی ‘ وہ فوراً قسمیں کھانا شروع کردیتا کہ اللہ کی قسم اصل میں یہ معاملہ یوں نہیں تھا بلکہ یوں تھا۔ اس طرح اس کا مخاطب مروّت میں آکر خاموشی اختیار کرلیتا۔
{ فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ۔ } ”پس وہ اللہ کے راستے سے رک گئے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں پس ان کے لیے اہانت آمیز عذاب ہے۔“
صَدَّ یَصُدُّ کے معنی خود رکنا بھی ہیں اور دوسروں کو روکنا بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
20 یعنی ایک طرف تو منافق مسلمانوں کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی قسمیں کھا کر ان کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے جان اور مال محفوظ ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف وہ اسلام، اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ہر طرح کے شکوک و شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ کر اسلام قبول کرنے سے باز رہیں کہ جب گھر کے بھیدی ایسی خبریں دے رہے ہیں تو ضرور دال میں کچھ کالا ہوگا۔
Read the full tafseer →29۔ عذاب شدید کا ذکر ابھی آچکا ہے، اسی کی تاکید ہے کہ وہ عذاب شدید ہونے کے ساتھ ہی ذلیل ورسوا کرنے والا بھی ہوگا، گویا آزار جسمانی واذیت قلبی کا جامع ، (آیت) ” اتخذوا ایمانھم جنۃ “۔ یعنی اپنے بچاؤ کے لئے اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ مسلمانوں کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی جھوٹی قسمیں کھانے سے جانتے تھے کہ اب مسلمان ان کے جان ومال سے تعرض نہ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اتخذوا ایمانھم جنۃ، ایمانھم کو جمہور نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ یمیمین کی جم ہے بمعنی قسم یعنی یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہ وہ مسلمان ہیں مسلمانوں کی گرفت سے بچے ہوئے ہیں اور حسن رحمتہ اللہ تعالیٰ اور ابوالعالیہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ان منافقوں نے اپنے ظاہری ایمان کو اپنے اور اپنے اموال کے لئے ڈھال اور وقایہ بنا رکھا ہے۔
Read the full tafseer →اتخذوا و ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ فلھم عذاب مھین : انہوں نے اپنی قسموں کو (اپنے
بچاؤ کے لیے) سپر بنا رکھا ہے۔ پھر خدا کی راہ سے (دوسروں کو) روکتے ہیں۔ سو ان کے لیے ذلت کا عذاب ہونے والا ہے۔ ان کے مال و اولاد اللہ کے عذاب سے ان کو ذرا نہ بچا سکیں گے اور یہ لوگ دوزخی ہیں ‘ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “
اَیْمَانَھُمْ : اپنی جھوٹی قسموں کو۔
جُنَّۃً : جان و مال کے بچاؤ اور حفاظت کا ذریعہ۔
فَصَدُّوْا : امن کی حالت میں لوگوں کو اللہ کی اطاعت اور ایمان سے انہوں نے روکا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کا مال لوٹنے کی وجہ سے جہاد سے روکا۔
فَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ : اوّل الذکر وعید…
Read the full tafseer →انہوں نے اپنی جھوٹٰ قسموں کو قتل سے بچاؤ کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے اور خفیہ طور پر لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے لیے ذلت والا عذاب ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً۔۔۔۔۔: یعنی ایک طرف انہوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال بچانے کے لیے مسلمان ہونے کی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور دوسری طرف وہ مسلمانوں کے اندر رہ کر جب موقع ملتا ہے شکوک و شبہات پیدا کر کے بہت سے لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے روک دیتے ہیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (156، 168) نساء (72) اور سورة ٔ احزاب (18)۔
2۔ فَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ : دنیا میں یہ رسوائی کہ نہ مسلمانوں میں ان کی کوئی عزت ہے اور نہ کفار میں سے کوئی ان پر اعتماد کرتا ہے اور قیامت کے دن ان کے لیے ”الدرک الاسفل من النار“ کی شکل میں عذاب تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
آیات۔ 14۔ 16
تفسیر
الم تر الی الذین تولو قوما غضب اللہ علیھم قتادہ نے کہا : مراد منافق ہیں جنہوں نے یہودیوں سے دوستی کی ماھم منکم ولا منھم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : منافق یہودیوں اور مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ وہ ان دونوں طبقات کے درمیان مذبذب ہیں۔ وہ مسلمانوں کی خبریں ان تک پہنچاتے تھے۔ سدی اور مقاتل نے کہا : یہ آیت عبد اللہ بن ابی اور عبد اللہ بن نبتل منافق کے حق میں نالز ہوئی ان میں سے ایک نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا تھا پھر آپ کی گفتگو یہودیوں تک پہنچاتا تھا۔ اس اثناء میں کہ نبی کریم ﷺ اپنے حجرون میں سے ایک حجرہ میں تھے کہ فرمایا : ” ابھی تم پر ایک ایسا آدمی داخل ہوگا جس کا دل جبارکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت الم تر الی الذین تولوا کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن نبتل کے بارے میں نازل ہوئی اور منافقین میں سے تھا۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا اور وہ یہودی اور منافق ہیں اور وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور وہ اپنی قسموں کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لوگ تم میں سے ہیں۔
3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت الم تر الی الذین…
Read the full tafseer →[اِتَّخَذُوْٓا : انھوں نے بنایا ][ اَيْمَانهُمْ جُنَّةً : اپنی قسموں کو ایک ڈھال ][ فَصَدُّوْا : پھر وہ رک گئے ][ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ سے ][فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ: تو ان کے لیے ایک ذلیل کرنے ولا عذاب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
پھر فرمایا ﴿ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا ﴾ (الآیات الثلث) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار فرمایا ہے، یہ برے عمل کرتے تھے جھوٹی قسموں کو اپنے لئے ڈھال بنالیتے تھے اور اس طرح اللہ کی راہ سے روکتے تھے ان کے لئے عذاب شدید بھی ہے اور عذاب مہین بھی یعنی ” ذلیل کرنے والا عذاب “ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے جو منافقانہ طرز اختیار کیا ہے اس میں ہمارے مالوں کی حفاظت بھی ہے اور ہماری اولاد کی بھی، ان کا یہ سمجھنا غلط ہے جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ انہیں دوزخ میں لے جاؤ تو وہاں عذاب سے چھڑانے کے لئے نہ کوئی مال نفع دے گانہ اولاد کام آئے گی جن کی حفاظت کے لئے یہ مکرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
18:۔ ” اعد اللہ “ یہ منافقین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ دنیا میں وقتی منافع حاصل کرلیں، لیکن آخرت میں ان کے لیے نہایت ہی سخت سزا تیار ہے کیونکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں نہایت ہی برا کر رہے ہیں۔ ” اتخذوا ایمانہم جنۃ “ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے کہ جب کبھی ان کی کسی شرارت پر ان کا مؤاخذہ ہوتا ہے تو قسمیں کھا کھا کر اپنے اخلاص ایمان اور اپنی براءت کا اظہار کرتے ہیں اور جب انہیں ان قسموں کی آڑ میں امن مل جاتا ہے تو طرح طرح سے مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کرتے ہیں اور جو لوگ اسلام میں داخل ہونا چاہیں ان کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ ان خبثاء کے لیے نہایت ہی ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
یہودی اور عمل واعتقادی منافق :
گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ…
Read the full tafseer →اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ فَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ 16
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ترکیب : ماھم منکم ولامنہم جملۃ مستانفۃ اوحال من فاعل تولوا و یحلفون عطف علی تولواداخل فی حکم التعجب وصیغۃ المضارع للدلالۃ علی تکرار الحلف و تجددہ۔ وھم یعلمون حال من فاعل یحلفون لتفید شناعۃ قولھم لان الحلف علی مایعلم انہ کذب فی غایۃ القبح۔ یوم یبعثھم قیل ظرف لقولہ تعالیٰ لھم عذاب مھین۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقوں کے اعمالِ بد کا ذکر تھا جو اہل ایمان کی ایذاء اور پریشانی خاطر کے باعث ہوتے تھے یعنی کانا پھونسی کرنا۔ اب اس جگہ ان کی دوسری بدعات ایذا دینے والی ذکر کرتا ہے تاکہ اس سے باز آئیں اور دیگر مسلمان بھی دور رہیں فقال الم تر الخ اور وہ بدبات یہ تھی کہ منافق اس قوم سے (کہ جس پر غضب الٰہی…
Read the full tafseer →اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (المجادلۃ : 16)
(انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں تو ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ )
جھوٹی قسموں سے منافقین فریب دیتے تھے
منافقین کا یہ طریقہ تھا کہ جب کبھی نبی کریم ﷺ یا مسلمان ان کی کسی غلطی پر گرفت کرتے یا ان کی بعض باتوں پر شبے کا اظہار کرتے تو وہ جھوٹی قسموں سے یہ اطمینان دلانے کی کوشش کرتے کہ ہم ہر طرح آپ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے ہیں اس لیے آپ کو ہمارے بارے میں فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔ اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : منافق صرف جھوٹ ہی نہیں بولتا بلکہ اکثر طور پر جھوٹی قسمیں بھی اٹھاتا ہے۔
قرآن مجید نے منافقین کے بارے میں کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ منافقین نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں انہیں ذلّت ناک عذاب ہوگا اور قیامت کے دن ان کے مال اور اولاد ” اللہ “ کے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے، یہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے دن اپنے حضور پیش کرے گا تو وہ اس کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے جس طرح لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں اٹھایا کرتے تھے۔ وہ خیال کریں گے کہ جس طرح دنیا میں جھوٹی قسمیں اٹھانے…
Read the full tafseer →16 : اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَھُمْ (انہوں نے اپنی قسموں کو بنا لیا ہے) قسموں سے جھوٹی قسمیں مراد ہیں۔ جُنَّۃً (ڈھال) اپنے اموال و دماء کو محفوظ کرنے کیلئے وہ قسمیں کھاتے ہیں۔ فَصَدُّوْا ( پھر وہ روکتے ہیں) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ سے امن و سلامتی کے زمانہ میں عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) طاعت و ایمان مراد ہے۔ فَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ (پس ان کے لئے ذلت کا عذاب ہونے والا ہے) ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے ان کے ساتھ رسوا کن عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللّٰہ زدناھم عذابًا فوق العذاب ] النحل : 88[
Read the full tafseer →15 ۔” اعداللہ لھم عذابا شدیدا انھم سآء ماکانوا یعملون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…
Read the full tafseer →(اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً ) یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے (فصدوا) وہ روکتے ہیں اپنے آپ کو اور دوسروں کو (عن سبیل اللہ) اللہ کے راستے سے یہ وہ راستہ ہے جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے تو یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے۔ (فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ) چناچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ پر ایمان نہ لائے اور انہوں نے اس کی آیات کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا تو اللہ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا
قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…
Read the full tafseer →[ 52] منافقوں کے اپنی قسموں کو ڈھال بنانے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے کہ ان سے یہ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کا سامان کرتے ہیں، ان کی جس غلطی پر بھی گرفت کی جائے، یہ اس کے بارے میں جھوٹی قسمیں کھا کر یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں، کہ نہیں، بلکہ ہم ٹھیک ہیں، اور اس طرح یہ لوگ اپنی دانست میں سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوگئے، مگر ان کو پتہ نہیں کہ اس طرح یہ لوگ اپنے نفاق کے جال کو اور پکار کرتے اور اس میں مزید از مزید الجھتے اور پھنستے جا رہے ہیں، اور دولت ایمان و یقین سے مزید از مزید اور محروم ہوتے جارہے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
منافقین اور ان کا انجام
تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔
آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔
کفار سے معاہدہ۔
عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی جیسے ڈھال سے تلوار کا حملہ روکا جاتا ہے، اسی طرح یہ منافقین جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں سے اپنی جان اور اپنا مال بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(58:16) اتخذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے ٹھہرا لیا۔ انہوں نے اختیار کرلیا۔
ایمانھم : مضاف مضاف الیہ۔ اپنی قسموں کو۔ ایمان جمع ہے اس کا واحد یمین ہے۔ یمین کے معنی اصل میں تو وہ اپنے ہاتھ کے ہیں۔ معاہدہ کرنے والا حلیف جو دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے۔ یمین حلف کے معنی میں اسی فعل سے مستعار لیا گیا ہے۔
جنۃ : سپر، ڈھال، آڑ، پردہ، جنن جمع ہے۔ جن سے مشتق ہے چونکہ ڈھال سے جسم کو چھپایا جاتا ہے اس لئے اس کو جنۃ کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (اپنے بچاؤ کے لئے) ۔
فصدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ صدو صدود (باب نصر) مصدر سے پھر خڈا کی راہ سے دوسروں کو روکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
لغات القرآن۔
یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔
تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
کافروں سے دوستی کی ممانعت۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[20] مطلب یہ ہے کہ درپردہ اسلام کی بیخ کنی میں لگے رہتے ہیں اور مسلمانوں کے آگے جھوٹی قسم کھالیتے ہیں تاکہ ان کے مواخذہ سے محفوظ رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
پہلے خیرات دو پھر سرگوشی کرو
1: باوجود اس کے کہ حضور کائنات میں سب سے بڑے انسان تھے ۔ سادگی رحمت اور عفو کا یہ عالم تھا ۔ کہ آپ تک پہنچنے کے لئے کسی توسل کی حاجت نہ تھی ۔ کوئی صاحب اور دربان نہ تھا ۔ جہاں بیٹھتے ۔ لوگوں کا ایک ہجوم آپ کے ساتھ ہوتا ۔ ہر شخص کو ہر وقت آزادی حاصل تھی ۔ کہ وہ آپ سے مسائل پوچھے ۔ آپ کو مخاطب کرے ۔ آپ کا سارا وقت خلق اللہ کی خدمت کے لئے وقف تھا ۔ اس سے جہاں یہ فائدہ ہوا ۔ کہ فیضان نبوت عام ہوا ۔ اور برکات کا دریا امڈا ۔ تو ہر جگہ سیراب ہوگئی ۔ وہاں اہل غرض اور باب تعلق نے یہ چاہا ۔ کہ آپ کی سادگی سے ناجائز استفادہ کیا جائے ۔ اور آپ کو اس طرح گفتگو میں سرگوشیوں میں…
Read the full tafseer →(16) ان منافقوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں پس ان لوگوں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے۔ یعنی سخت بھی اور رسوا کن بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ف 5۔ پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں، اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور معلوم ہے۔
Read the full tafseer →ایمان کو ان لوگوں نے محض ایک ڈھال بنا رکھا تھا ، اس کے بدلہ میں ان کو عذاب دیا جائے گا
16 ؎ کافر ایسے مومن سے کیوں بہتر ہے ؟ اس لیے کہ وہ کافر ہے اور وہ بھی اپنے کفر کو جانتا ہے اور اہل ایمان بھی اس کے کفر سے واقف ہیں ۔ اس لیے اس سے کبھی وہ دھوکا نہیں کھائیں گے اور نہ ہی وہ کبھی دھوکا ان کو دے سکے گا لیکن جس نے بظاہر اسلام قبول کیا ہے اور عمل کے لحاظ سے وہ پکا کافر ہے اس نے ایک تو کفر کیا ہے اور دوسرا دھوکا بھی دیا ہے کہ اہل ایمان اس کو اہل اسلام میں سے سمجھتے اور جانتے ہیں ۔ اس طرح گویا وہ گھر کا بھیدی ہے اور مسلمانوں کو رازوں سے اچھی طرح با خبر ہے اور اس کا نقصان بھی اسلام کو زیاد ہے۔ غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
Commentary
Chastising the Hypocrites for their Secret Alliance with the Jews
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم (Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry? ....58:14) Allah condemns the hypocrites who secretly formed an alliance with the Jews who challenge Allah and His Apostle, while in effect they belong neither to the Muslims nor to the Jews. Consequently, Allah has prepared for them a humiliating and condign chastisement. It is not permissible to have a friendly intimacy with the enemies of Allah and His…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
34 That is on the one hand, they swear oaths to their faith and fidelity to make the Muslims believe that they belong to them, and on the other, they sow doubts and suspicions against Islam and the followers of Islam and the Prophet of Islam in the hearts of the people, so that they should turn away from Islam in disgust taking their word to be a true inside picture of Islam, coming from the 'Muslims" them selves.
Read the full tafseer →