Al-Mujaadila 58:17

Al-Mujaadila · from ayah 17

58:17

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْـًٔا ؕ— اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ؕ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟لَنۡ تُغۡنِىَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـئًـا‌ ؕ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌ ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی)۔ یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Never will their wealth or their children avail them against Allah at all. Those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mujaadila

All translations of 58:17

اللہ سے بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد وہ دوزخ کے یار ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی)۔ یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یہ تو جہنمی ہیں ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ یہ دوزخ والے ہیں۔ یہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ دیں گے وہ دوزخی ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ (کے عذاب) سے ہرگز نہ ہی اُن کے مال انہیں بچا سکیں گے اور نہ اُن کی اولاد ہی (انہیں بچا سکے گی)، یہی لوگ اہلِ دوزخ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے اموال اللہ کے مقابلے میں ہرگز ان کے کسی کام نہ آئیں گے اور نہ ہی ان کی اولاد۔ یہ لوگ آگ میں رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کے سامنے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے مال اور ان کی اولاد ان کو اللہ کے عذاب سے ذرا بھی بچانے والے نہیں بنیں گے۔ یہ لوگ دوزخ والے ہیں یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کے مقابلے میں نہ تو ان کے مال ان کے کچھ کام آسکیں گے اور نہ ہی ان کی اولادیں یہ جہنمی ہیں انہیں ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے انہیں ذرا نہ بچا سکیں گی یہ لوگ دوزخ والے ہیں اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے ان کے اموال اور نہ ہی ان کی اولادیں اللہ سے بچانے کے لیے۔ یہ آگ والے ہیں اسی میں یہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کے عذاب کے سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی کچھ فائدہ دے گی یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ جلتے رہیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Neither their possessions nor their offspring will be of any avail to them against Allah. They are the people of the Fire; therein they shall abide.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Their riches and their children will never benefit them against Allah. They are the inmates of the Fire. They will live there forever,

— Muhammad Taqi Usmani

Their riches and their children will never benefit them against Allah. They are the inmates of the Fire. They will live there forever,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their children and their wealth will avail them nothing against Allah. They will be the dwellers of the Fire to dwell therein forever.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their wealth and their children will avail them naught against Allah. Such are rightful owners of the Fire; they will abide therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Never will their wealth or their children avail them against Allah at all. Those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally

— Saheeh International

Neither their wealth nor their children will be able to protect them against God. They will be the dwellers of hell fire wherein they will live forever.

— Muhammad Sarwar

Neither their wealth nor their children shall avail them aught against Allah; they are the inmates of the fire, therein they shall abide.

— Muhammad Habib Shakir

There will not avail them against Allah their riches or their children at all. Th are the fellows of the Fire; therein they will be abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

Of no profit whatever to them, against Allah, will be their riches nor their sons: they will be Companions of the Fire, to dwell therein (for aye)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 58:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–19

دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة الْمُجَادِلَة 34 مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ اپنے ایمان اور اپنی وفاداری کی قسمیں کھا کر مسلمانوں کی گرفت سے بچے رہتے ہیں، اور دوسری طرف اسلام اور اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ہر طرح کے شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ کر اسلام قبول کرنے سے باز رہیں کہ جب گھر کے بھیدی یہ خبریں دے رہے ہیں تو ضرور اندر کچھ دال میں کالا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–21

خلاصہ تفسیر کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(لن تغنی عنھم امرالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا اولیک اصحب النار ھم فیھا خلدون) (17)۔ یہ ان بیڑیوں کی طرف اشارہ ہے جو ان کے پائوں میں پڑی ہوئی ہیں اور جو اللہ کی راہ میں ان کو آگے نہیں بڑھنے دے رہی ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اموال و املاک اور بیوی بچوں کی محبت میں گرفتار ہیں اس وجہ سے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ ان کے مال اور ان کی اولاد خدا کے عذاب سے ان کو ذرا بھی بچانے والے نہیں ہیں۔ (من اللہ) میں مضاف مخذوف ہے یعنی (من عذاب اللہ)۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اسی طرح مال و اولاد کی محبت میں گرفتار رہے تو یہ چیز ان کو جہنم میں لے جائے گی اور پھر یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

1 6 ۔ 1 ایمان، یمین، کی جمع ہے بمعنی قسم۔ یعنی قسم جس طرح ڈھال سے دشمن کے وار کو روک کر اپنا بچاؤ کرلیا جاتا ہے اسی طرح انہوں نے اپنی قسموں کو مسلمانوں کی تلواروں سے بچنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے۔ 1 6 ۔ 2 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر یہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں حقیقت واقعیہ کا علم نہیں ہوتا اور وہ ان کے غرے میں آکر قبول اسلام سے محروم رہتے ہیں اور یوں یہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا جرم بھی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–21

11: یعنی جس طرح ڈھال سے تلوار کے وار کو روکا جاتا ہے یہ لوگ سازشیں کرنے کے باوجود قسمیں کھاکر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی طرف سے کسی جوابی کاروائی سے بچ سکیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لن تغنی .................... خلدون (85 : 71) ” اللہ سے بچانے کے لئے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں ، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور ان آیات میں روز قیامت ان کی جو تصویر کھینچی گئی ہے وہ بہت ہی بھدی اور توہین آمیز ہے۔ وہ جس طرح دنیا میں جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں اسی طرح وہ اللہ کے ہاں بھی قسمیں اٹھاتے نظر آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

7 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں کے ہاتھوں سے اپنی جان و مال کو بچاتے ہیں اور اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے دوستی کے پیرایہ میں دوسروں کو اللہ کی راہ پر آنے سے روکتے ہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ لوگ اس طرح کچھ عزت نہیں پاسکتے۔ سخت ذلت کے عذاب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور جب سزا کا وقت آئے گا، اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، جن کی حفاظت کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے پھرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17{ لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا } ”ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے ان کے اموال اور نہ ہی ان کی اولادیں اللہ سے بچانے کے لیے۔“ { اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ۔ } ”یہ آگ والے ہیں ‘ اسی میں یہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔“ مقامِ عبرت ہے کہ یہ ”نوید“ ان لوگوں کو سنائی جا رہی ہے جو بظاہر حضور ﷺ کے ماننے والے تھے ‘ آپ ﷺ کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے تھے ‘ اسلام کا دم بھرتے تھے ‘ خود کو مسلمان کہتے تھے اور زبانوں سے گواہی دیتے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ سورة المنافقون کی پہلی آیت میں ان کی اس ”شہادت“ کا خصوصی طور پر ذکر کر کے ان کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

20 یعنی ایک طرف تو منافق مسلمانوں کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی قسمیں کھا کر ان کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے جان اور مال محفوظ ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف وہ اسلام، اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ہر طرح کے شکوک و شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ کر اسلام قبول کرنے سے باز رہیں کہ جب گھر کے بھیدی ایسی خبریں دے رہے ہیں تو ضرور دال میں کچھ کالا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ آج بھی دنیا میں جو قومیں آخرت کی طرف سے غافل وبیخبر ہیں، انہیں بڑا غرہ اپنی وسیع مالیانہ اور کثیر آبادی ہی کا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–17

اتخذوا ایمانھم جنۃ، ایمانھم کو جمہور نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ یمیمین کی جم ہے بمعنی قسم یعنی یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہ وہ مسلمان ہیں مسلمانوں کی گرفت سے بچے ہوئے ہیں اور حسن رحمتہ اللہ تعالیٰ اور ابوالعالیہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ان منافقوں نے اپنے ظاہری ایمان کو اپنے اور اپنے اموال کے لئے ڈھال اور وقایہ بنا رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا اولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ : یعنی قیامت کے دن یہ دولت و اولاد ان کے کچھ کام نہیں آئے گی اور اللہ کے عذاب سے نہیں بچائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ان منافقین اور یہودیوں کے اموال اور اولاد کی کثرت اللہ کے عذاب سے ان کو بالکل نہیں بچا سکے گی یہ منافقین اور یہودی جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھْمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ۔۔۔۔: نفاق کا بڑا باعث مال و اولاد کی محبت ہے ، اس لیے فرمایا قیامت کے دن یہ اموال و اولاد ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (116، 117)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

آیات 17۔ 19 تفسیر لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولاد ھم من اللہ شیاء یعنی اس کے عذاب سے کچھ نفع نہ دے گا۔ مقاتل نے کہا : منافقوں نے کہا (حضرت) محمد ﷺ گمان کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کی مدد کی جائے گی تو اس وقت یقینا ہم بدبخت ہوں گے اللہ کی قسم ! اگر قیامت ہوئی تو قیامت کے روز ہماری مدد کی جائے گی ہماری ذاتوں، ہماری اولادوں اور ہمارے اموال کی وجہ سے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یوم یبعثنم اللہ جمیعا اللہ تعالیٰ انہیں جس روز دوبارہ اٹھائے گا ان کے لئے ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب ہوگا۔ فیحلفون لہ کما یحلفون لکم وہ اس روز اسی طرح اس کے لئے قسم اٹھائیں گے جس طرح آج وہ تمہارے لئے قسم اتھاتے ہیں۔ یہ عجب امر ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–18

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت الم تر الی الذین تولوا کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن نبتل کے بارے میں نازل ہوئی اور منافقین میں سے تھا۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا اور وہ یہودی اور منافق ہیں اور وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور وہ اپنی قسموں کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لوگ تم میں سے ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت الم تر الی الذین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ : ہرگز کام نہ آئیں گے ان کے ][ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ : ان کے اموال اور ان کی اولاد ][ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـــــًٔا : اللہ سے کچھ بھی ][اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَارِ : وہ لوگ آگ والے ہیں ][ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ : وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–17

پھر فرمایا ﴿ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا ﴾ (الآیات الثلث) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار فرمایا ہے، یہ برے عمل کرتے تھے جھوٹی قسموں کو اپنے لئے ڈھال بنالیتے تھے اور اس طرح اللہ کی راہ سے روکتے تھے ان کے لئے عذاب شدید بھی ہے اور عذاب مہین بھی یعنی ” ذلیل کرنے والا عذاب “ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے جو منافقانہ طرز اختیار کیا ہے اس میں ہمارے مالوں کی حفاظت بھی ہے اور ہماری اولاد کی بھی، ان کا یہ سمجھنا غلط ہے جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ انہیں دوزخ میں لے جاؤ تو وہاں عذاب سے چھڑانے کے لئے نہ کوئی مال نفع دے گانہ اولاد کام آئے گی جن کی حفاظت کے لئے یہ مکرو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–22

تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–18

19:۔ ” لن تغنی عنہم “ ان کے اموال و اولاد جن پر ان کو فخر و غرور ہے عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ان کے کسی کام نہیں آئیں گے ان کی سزا جہنم ہے اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ” یوم یبعثھم اللہ “ ظرف ” لن تغنی “ سے متعلق ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا فلھم عذاب مھین سے متعلق ہے (مظیر) ۔ خالدون سے متعلق نہیں، کیونکہ اس سے مفہوم درست نہیں ہوتا۔ یہ منافقین جس طرح مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر دنیا میں مؤاخذے سے بچ جاتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن خداوند تعالیٰ کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے اور سمجھیں گے کہ ان جھوٹی قسموں سے انہیں کچھ فائدہ ہوجائیگا جیسا کہ دنیا میں پہنچ جاتا تھا لیکن بےسود قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–21

یہودی اور عمل واعتقادی منافق : گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَنْ تُغْنِيَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللہِ شَيْـــــًٔا۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝ 0 ۭ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ 17 غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–18

ترکیب : ماھم منکم ولامنہم جملۃ مستانفۃ اوحال من فاعل تولوا و یحلفون عطف علی تولواداخل فی حکم التعجب وصیغۃ المضارع للدلالۃ علی تکرار الحلف و تجددہ۔ وھم یعلمون حال من فاعل یحلفون لتفید شناعۃ قولھم لان الحلف علی مایعلم انہ کذب فی غایۃ القبح۔ یوم یبعثھم قیل ظرف لقولہ تعالیٰ لھم عذاب مھین۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقوں کے اعمالِ بد کا ذکر تھا جو اہل ایمان کی ایذاء اور پریشانی خاطر کے باعث ہوتے تھے یعنی کانا پھونسی کرنا۔ اب اس جگہ ان کی دوسری بدعات ایذا دینے والی ذکر کرتا ہے تاکہ اس سے باز آئیں اور دیگر مسلمان بھی دور رہیں فقال الم تر الخ اور وہ بدبات یہ تھی کہ منافق اس قوم سے (کہ جس پر غضب الٰہی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَا لُھُمْ وَلَآ اَوْلاَ دُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ط ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 17) (ہرگز کام نہیں آئیں گے ان کے مال اور ان کی اولاد، ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے، یہ لوگ دوزخ والے ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ) سیاقِ کلام کو سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ منافقین کو درحقیقت آخرت سے زیادہ اپنی ذات اور اپنی ذات کے علائق سے دلچسپی ہے۔ مخلصانہ ایمان چونکہ ایثار اور قربانی کا تقاضا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی کامل اطاعت سے ہٹ کر اس کا وجود ہی بےمعنی ہوجاتا ہے۔ اس لیے وہ ایسے ایمان سے جی چراتے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : منافق صرف جھوٹ ہی نہیں بولتا بلکہ اکثر طور پر جھوٹی قسمیں بھی اٹھاتا ہے۔ قرآن مجید نے منافقین کے بارے میں کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ منافقین نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں انہیں ذلّت ناک عذاب ہوگا اور قیامت کے دن ان کے مال اور اولاد ” اللہ “ کے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے، یہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے دن اپنے حضور پیش کرے گا تو وہ اس کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے جس طرح لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں اٹھایا کرتے تھے۔ وہ خیال کریں گے کہ جس طرح دنیا میں جھوٹی قسمیں اٹھانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ (ان کے مال و اولاد اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کو ذرا نہ بچا سکیں گے) من اللہ یعنی من عذاب اللہ شَیْئًا (ذرا بھر) ذرا سا فائدہ بھی نہ دیں گے۔ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (یہ لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” اتخذوا ایمانھم “ جھوٹی ۔ ” جنۃ “ اس کے ذریعے قتل سے بچتے ہیں اور اپنے جان اور مال کا دفاع کرتے ہیں۔ ” قصدوا عن سبیل اللہ “ مومنین کو ان کے جہاد بالقتل اور ان کے مال لینے سے روک دیا ہے۔ ” فلھم عذاب مھین “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–22

14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–18

(لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـــــًٔا ۭ ) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہیں آئیں گی یعنی وہ ان سے عذاب کو ہٹا سکیں نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کرسکیں گے۔ّاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۭ ) وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گے اور ( هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں تو جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ سب کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–21

حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 55] منکرین و منافقین کے ایک دھوکے اور مغالطے کا ازالہ : سو منکرین و منافقین کو اپنے مالوں اور اولادوں کی بناء پر جو دھوکے لگے ہوئے ان کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کے مقابلے میں نہ تو ان کے مال ان کے کچھ کام آسکیں گے، اور نہ ہی ان کی اولادیں۔ جن کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے انہوں نے منافقت کو اپنایا، وقت آنے پر وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے، اور اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے ان کو کسی طرح چھڑا اور بچا نہیں سکیں گے، اور یہ مال ودولت سب کچھ یہیں رہ جائے گا، اور اپنا عقیدہ و عمل ہی ساتھ جائے گا، جبکہ اس مال و دولت کا مآل و انجام یہ ہوگا کہ اس سے فائدہ دوسرے اٹھائیں گے مگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–21

منافقین اور ان کا انجام تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–22

آیات 14 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔ آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔ کفار سے معاہدہ۔ عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(58:17) لن تغنی : مضارع نفی تاکید بلن (منصوب بوجہ عمل لن) صیغہ واحد مؤنث غائب اغناء (افعال) مصدر سے بمعنی کام آنا۔ کفایت کرنا۔ وہ ہرگز کفایت نہیں کرے گی۔ وہ ہرگز کام نہیں آئے گی۔ لن تغنی کا فاعل اموالہم واولادھم ہے ان کے مال اور ان کی اولاد ان کا مال اور ان کی اولادیں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی اللہ کے مقابلہ میں ۔ اولئک۔ اسم اشارہ بعید جمع مذکر۔ وہی لوگ۔ اصحب النار۔ مضاف مضاف الیہ۔ دوزخی۔ جہنمی۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع اولئک ہے۔ وہی لوگ جہنمی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ فیہا : میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع النار ہے۔ خلدون : اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے خلود (باب نصر) مصدر۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–22

لغات القرآن۔ یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–22

کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[20] مطلب یہ ہے کہ درپردہ اسلام کی بیخ کنی میں لگے رہتے ہیں اور مسلمانوں کے آگے جھوٹی قسم کھالیتے ہیں تاکہ ان کے مواخذہ سے محفوظ رہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

پہلے خیرات دو پھر سرگوشی کرو 1: باوجود اس کے کہ حضور کائنات میں سب سے بڑے انسان تھے ۔ سادگی رحمت اور عفو کا یہ عالم تھا ۔ کہ آپ تک پہنچنے کے لئے کسی توسل کی حاجت نہ تھی ۔ کوئی صاحب اور دربان نہ تھا ۔ جہاں بیٹھتے ۔ لوگوں کا ایک ہجوم آپ کے ساتھ ہوتا ۔ ہر شخص کو ہر وقت آزادی حاصل تھی ۔ کہ وہ آپ سے مسائل پوچھے ۔ آپ کو مخاطب کرے ۔ آپ کا سارا وقت خلق اللہ کی خدمت کے لئے وقف تھا ۔ اس سے جہاں یہ فائدہ ہوا ۔ کہ فیضان نبوت عام ہوا ۔ اور برکات کا دریا امڈا ۔ تو ہر جگہ سیراب ہوگئی ۔ وہاں اہل غرض اور باب تعلق نے یہ چاہا ۔ کہ آپ کی سادگی سے ناجائز استفادہ کیا جائے ۔ اور آپ کو اس طرح گفتگو میں سرگوشیوں میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کو ذرا بھی نہ بچا سکیں گے اور یہ لوگ اہل دوزخ اور دوزخ والے ہیں یہ اس آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یعنی اس سخت اور رسوا کن عذاب سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیار کررکھا ہے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ ان کے اموال کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد کچھ کام آئے گی یہ لوگ اہل جہنم ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–18

ف 5۔ پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں، اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور معلوم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے مالوں اور اولادوں نے نہ تو ان کو اس جگہ کفایت کیا اور نہ آخرت میں 17 ؎ فرمایا دنیا میں ترقیاں پانے کے جو اصول اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہیں ان کے باعث یہ لوگ اور ان کے علاوہ دوسرے کھلے کافر اگر ترقیاں حاصل کر رہے ہیں تو یہ محض اس لیے کہ ان ترقیوں کے لیے جو اصول اللہ نے مقرر کیے ہیں ان میں یہ طے نہیں کیا کہ اگر کوئی مسلمان ان اصولوں کے مطابق دنیوی زندگی گزارے گا تو اس کو ترقی ملے گی اور کوئی دوسرا ان ہی اصولوں کو اپنائے گا تو اس کو ترقی نہیں دی جائے گی۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ دنیا کے لیے اصول خدا وندی یہ ہے کہ جو بھی ان اصولوں کو اپنائے گا اس کو ترقی دی جائے گی خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–21

Commentary Chastising the Hypocrites for their Secret Alliance with the Jews أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم (Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry? ....58:14) Allah condemns the hypocrites who secretly formed an alliance with the Jews who challenge Allah and His Apostle, while in effect they belong neither to the Muslims nor to the Jews. Consequently, Allah has prepared for them a humiliating and condign chastisement. It is not permissible to have a friendly intimacy with the enemies of Allah and His…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

34 That is on the one hand, they swear oaths to their faith and fidelity to make the Muslims believe that they belong to them, and on the other, they sow doubts and suspicions against Islam and the followers of Islam and the Prophet of Islam in the hearts of the people, so that they should turn away from Islam in disgust taking their word to be a true inside picture of Islam, coming from the 'Muslims" them selves.

Read the full tafseer →