Explained with ayahs 14–19
دوغلے لوگوں کا کردار
منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
سورة الْمُجَادِلَة 35
یعنی یہ صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے۔ جھوٹ اور فریب ان کے اندر اتنا گہرا اتر چکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے…
Read the full tafseer →(یوم یبعثھم اللہ جمعیاً فیحلفون لہ کما یحلفون لکم یحسبلون انھم علی شی الا انھم ھم الکذبون) (18)
اگر یہ اسی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنسے ہوئے دین کے تقاضوں سے بھاگتے رہے تو اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ ان کو اور ان کی اولاد کو اٹھائے گا اور اس دن بھی ان کے پاس اس جھوٹی قسم کے سوا کوئی اور سہارا نہیں ہوگا جس کا سہارا انہوں نے آج لے رکھا ہے۔ اس دن وہ اپنے رب کے سامنے اپنی بریت میں اسی طرح جھوٹی قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھا رہے ہیں۔ سورة انعام کی آیت 23 میں مشرکین کے بارے میں مشرکین کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ جب عذاب دیکھیں گے تو قسم کھا کر اپنی بےگناہی کا اظہار کریں گے کہ (واللہ…
Read the full tafseer →18۔ 1 یعنی ان کی بدبختی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ قیامت والے دن، جہاں کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی، وہاں بھی اللہ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے کی شوخ چشمانہ جسارت کریں گے
18۔ 2 یعنی جس طرح دنیا میں وہ وقتی طور پر جھوٹی قسمیں کھا کر کچھ فائدے اٹھا لیتے تھے وہاں بھی سمجھیں گے کہ یہ جھوٹی قسمیں ان کے لیے مفید رہیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
11: یعنی جس طرح ڈھال سے تلوار کے وار کو روکا جاتا ہے یہ لوگ سازشیں کرنے کے باوجود قسمیں کھاکر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی طرف سے کسی جوابی کاروائی سے بچ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
یوم یبعثھم ................ لکم (85 : 81) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔
ویحسبون ................ شیئ (85 : 81) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔
الا انھم…
Read the full tafseer →8 یعنی یہاں کی عادت پڑی ہوئی وہاں بھی نہ جائے گی۔ جس طرح تمہارے سامنے جھوٹ بول کر بچ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہوشیار ہیں اور بڑی اچھی چال چل رہے ہیں، اللہ کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھانے کو تیار ہوجائیں گے کہ پروردگار ! ہم تو ایسے نہ تھے، ویسے تھے۔ شاید وہاں بھی خیال ہو کہ اتنا کہہ دینے سے رہائی ہوجائے گی۔
9 بیشک اصل اور ڈبل جھوٹا وہ ہی ہے جو خدا کے سامنے بھی جھوٹ کہنے سے نہ شرمائے۔
Read the full tafseer →آیت 18{ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَـیَحْلِفُوْنَ لَـہٗ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَـکُمْ } ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جیسے آج تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں“
یعنی یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھانے کے اس حد تک عادی ہوچکے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سامنے بھی اسی طرح جھوٹی قسمیں کھانا شروع ہوجائیں گے کہ ہم ایسے نہیں کہتے تھے اور ہم ویسے نہیں کرتے تھے۔
{ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّـہُمْ عَلٰی شَیْئٍ } ”اور وہ سمجھیں گے کہ وہ کسی بات پر ہیں۔“
اللہ کی عدالت میں کھڑے ہو کر بھی وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہمارے اعمال کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت تو ہے۔ آخر ہم مسلمان ہوئے تھے…
Read the full tafseer →21 منافقوں کی قسمیں کھانے کی پختہ عادت :۔ قسمیں اٹھانے کی عادت صرف اس شخص کی ہوتی ہے جو ہر وقت جھوٹ بولتا ہو اور لوگوں میں اپنا اعتماد کھو چکا ہو۔ سچے اور راست باز انسان کو کبھی قسم اٹھانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ لوگ اس کی بات پر ویسے ہی اعتماد کرلیتے ہیں اور ان منافقوں کی یہ حالت اور قسمیں کھانے کی عادت اس قدر پختہ ہوچکی ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہو کر بھی قسمیں کھانا شروع کردیں گے اور یہ بھی نہ سوچیں گے کہ جب مسلمانوں کو بھی ان کی قسموں پر اعتماد نہ تھا تو اللہ کیسے اعتماد کرلے گا جو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔
Read the full tafseer →31۔ یعنی یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے رہنے کی جھوٹی قسم کھا کر عذاب جہنم سے بچ جائیں گے۔ جیسے دنیا میں قانون شریعت کی گرفت میں آنے سے، جھوٹ بول بول کر اور مکر کر کرکے بچ جاتے تھے۔
32۔ (کہ حق تعالیٰ کے سامنے تک جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسم کھانے سے نہ چوکے) جن لوگوں کی ساری عمر مسلسل کذب ومنافقت کی نذر ہو ہی، عجب کیا، جو حشر میں اپنی اسی عادت مستمر کی بنا پر، ان کی زبان جھوٹ پر کھل جائے، اور حق تعالیٰ اس طرح عرصۂ حشر میں ان کی مزید تفضیح ورسوائی کا سامان کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
یوم یبعثھم اللہ جمیعاً فیحلفون لہ کما یحلفون لکم مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ، کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے، جھوٹ اور فریب ان کی رگ رگ اور نس نس میں اس طرح پیوست ہوچکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔
Read the full tafseer →یوم یبعثھم اللہ جمیعا فیحلفون لہ کما یحلفون لکم و یحسبون انھم علی شی ءٍ الا انھم ھم الکذبون .
” جس روز اللہ ان سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا ‘ پھر اس کے سامنے وہ (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے ‘ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور خیال کریں گے کہ وہ کسی اچھی حالت پر ہیں۔ سن لو وہ بلاشبہ جھوٹے ہیں۔ “
یَوْمَ یَبْعَثُھُمُ اللہ : یعنی یہ عذاب مہین اس دن ہوگا ‘ جب اللہ ان کو زندہ کر کے اٹھائے گا اور وہ اللہ کے سامنے قسمیں کھا کھا کر کہیں گے ‘ بخدا ! ہم مشرک نہیں تھے جس طرح اب دنیا میں قسمیں کھا کر تم سے کہتے ہیں کہ ہم تم میں سے ہیں (کافر ‘ غیر مسلم نہیں ہیں)
وَیَحْسَبُوْنَ.... اور خیال کرتے ہیں کہ یہ ان…
Read the full tafseer →قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ ان منافقین اور یہودیوں کو دوبارہ زندہ کرے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھوٹٰ قسمیں کھائیں گے کہ ہم کافر اور منافق نہیں تھے جس طرح دنیا میں تمہارے سامنے قسمیں کھا جاتے ہیں اور یوں خیال کریں گے کہ ہم دین پر قائم ہیں خوب سن لو یہ اللہ کے نزدیک بڑے ہی جھوٹے ہیں۔
شان نزول : يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا (الخ)
امام احمد اور اسی طرح امام حاکم کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم اپنے حجرہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے اور سایہ ختم ہوتا جارہا تھا اتنے میں آپ نے فرمایا تمہارے پاس عنقریب ایک شخص آنے والا ہے اور میں اپنی آنکھوں سے اسے شیطان دیکھتا ہوں جب…
Read the full tafseer →یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہ ُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ۔۔۔۔۔ یعنی منافقین کی جھوٹ بولنے اور اس پر قسم کھانے کی عادت اتنی پکی ہے کہ موت اور حشر و نشر کے بعد کمی بھی نہیں جائے گی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے جس طرح دنیا میں مسلمانوں کے سامنے کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ قسم کی صورت میں ان کے پاس کچھ نہ کچھ بنیاد موجود ہے، جس پر وہ قائم ہیں۔ فرمایا سن لو ، وہی اصل اور کامل جھوٹے ہیں کہ غلام الغیوب کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔ دیکھئے سورة ٔ انعام (22 تا 24)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آیات 17۔ 19
تفسیر
لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولاد ھم من اللہ شیاء یعنی اس کے عذاب سے کچھ نفع نہ دے گا۔ مقاتل نے کہا : منافقوں نے کہا (حضرت) محمد ﷺ گمان کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کی مدد کی جائے گی تو اس وقت یقینا ہم بدبخت ہوں گے اللہ کی قسم ! اگر قیامت ہوئی تو قیامت کے روز ہماری مدد کی جائے گی ہماری ذاتوں، ہماری اولادوں اور ہمارے اموال کی وجہ سے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
یوم یبعثنم اللہ جمیعا اللہ تعالیٰ انہیں جس روز دوبارہ اٹھائے گا ان کے لئے ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب ہوگا۔ فیحلفون لہ کما یحلفون لکم وہ اس روز اسی طرح اس کے لئے قسم اٹھائیں گے جس طرح آج وہ تمہارے لئے قسم اتھاتے ہیں۔ یہ عجب امر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت الم تر الی الذین تولوا کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن نبتل کے بارے میں نازل ہوئی اور منافقین میں سے تھا۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم تر الی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیہم۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا اور وہ یہودی اور منافق ہیں اور وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور وہ اپنی قسموں کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لوگ تم میں سے ہیں۔
3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت الم تر الی الذین…
Read the full tafseer →[يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ : جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ ][جَمِيْعًا : سب کے سب کو ][فَيَحْلِفُوْنَ : پھر وہ لوگ قسم کھائیں گے ][ لَهٗ : اس (اللہ) کے لیے ][كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ : جیسے یہ قسم کھاتے ہیں تمہارے لیے ][ وَيَحْسَبُوْنَ : اور گمان کرتے ہیں ][ انهُمْ عَلٰي شَيْءٍ : کہ وہ لوگ کسی (بڑی) چیز پر ہیں ][ اَلَآ : خبردار ][ انهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ : یہ لوگ ہی جھوٹ کہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →اس کے بعد ان لوگوں کی جھوٹی قسم کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو ! اتنی ہی سی بات نہیں ہے کہ دنیا میں تمہارے سامنے یہ جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں ان کی بدحالی کا تو یہ عالم ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ انہیں قبروں سے اٹھائے گا اور میدان حشر میں حاضر فرمائے گا اور وہاں ان سے ان کے کفر اور ان کی شرارتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے۔
﴿ َلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ 0018﴾ خوب سمجھ لیا جائے کہ یہ لوگ جھوٹے ہی جھوٹے ہیں، جھوٹ بھی بولتے ہیں اور اسے کمال بھی سمجھتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ دیکھو ہم کیسے اچھے رہے جھوٹ بولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
19:۔ ” لن تغنی عنہم “ ان کے اموال و اولاد جن پر ان کو فخر و غرور ہے عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ان کے کسی کام نہیں آئیں گے ان کی سزا جہنم ہے اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ” یوم یبعثھم اللہ “ ظرف ” لن تغنی “ سے متعلق ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا فلھم عذاب مھین سے متعلق ہے (مظیر) ۔ خالدون سے متعلق نہیں، کیونکہ اس سے مفہوم درست نہیں ہوتا۔ یہ منافقین جس طرح مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر دنیا میں مؤاخذے سے بچ جاتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن خداوند تعالیٰ کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے اور سمجھیں گے کہ ان جھوٹی قسموں سے انہیں کچھ فائدہ ہوجائیگا جیسا کہ دنیا میں پہنچ جاتا تھا لیکن بےسود قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
یہودی اور عمل واعتقادی منافق :
گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَبْعَثُہُمُ اللہُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَہٗ كَـمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ عَلٰي شَيْءٍ 0 ۭ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْكٰذِبُوْنَ 18
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ترکیب : ماھم منکم ولامنہم جملۃ مستانفۃ اوحال من فاعل تولوا و یحلفون عطف علی تولواداخل فی حکم التعجب وصیغۃ المضارع للدلالۃ علی تکرار الحلف و تجددہ۔ وھم یعلمون حال من فاعل یحلفون لتفید شناعۃ قولھم لان الحلف علی مایعلم انہ کذب فی غایۃ القبح۔ یوم یبعثھم قیل ظرف لقولہ تعالیٰ لھم عذاب مھین۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقوں کے اعمالِ بد کا ذکر تھا جو اہل ایمان کی ایذاء اور پریشانی خاطر کے باعث ہوتے تھے یعنی کانا پھونسی کرنا۔ اب اس جگہ ان کی دوسری بدعات ایذا دینے والی ذکر کرتا ہے تاکہ اس سے باز آئیں اور دیگر مسلمان بھی دور رہیں فقال الم تر الخ اور وہ بدبات یہ تھی کہ منافق اس قوم سے (کہ جس پر غضب الٰہی…
Read the full tafseer →یَوْمَ یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَـہٗ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَـکُمْ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ عَلٰی شَیْ ئٍ ط اَ لَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْـکٰذِبُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 18)
(جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ ایک بنیاد پر ہیں، خوب جان لو کہ یہ لوگ بالکل ہی جھوٹے ہیں۔ )
قیامت کے روز منافقین کی حسب عادت کوشش
جھوٹ اس طرح ان کے رگ و پے میں اتر گیا ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ انھیں ازسرنو زندہ کرے میدانِ حشر میں لا کھڑا کرے گا اور وہاں ان سے جواب طلبی ہوگی تو وہاں اللہ کریم کے سامنے بھی جھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : منافق صرف جھوٹ ہی نہیں بولتا بلکہ اکثر طور پر جھوٹی قسمیں بھی اٹھاتا ہے۔
قرآن مجید نے منافقین کے بارے میں کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ منافقین نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں انہیں ذلّت ناک عذاب ہوگا اور قیامت کے دن ان کے مال اور اولاد ” اللہ “ کے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے، یہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے دن اپنے حضور پیش کرے گا تو وہ اس کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے جس طرح لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں اٹھایا کرتے تھے۔ وہ خیال کریں گے کہ جس طرح دنیا میں جھوٹی قسمیں اٹھانے…
Read the full tafseer →18 : یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ (جس روز اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا پھر اس کے سامنے وہ جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے) اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن کہ وہ دنیا میں مخلص تھے منافق نہ تھے۔ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ (جیسا کہ وہ تمہارے سامنے کھاتے ہیں) اس بات پر دنیا میں وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ (اور خیال کریں گے کہ وہ) دنیا میں عَلٰی شَیْ ئٍ (کسی اچھی حالت پر ہیں) یعنی نفع بخش یا ان کا خیال یہ ہے کہ ان کو کچھ نفع حاصل ہوجائے گا جیسا کہ اپنی جھوٹی قسموں سے یہاں ان کو فائدہ پہنچا۔ اَ لَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (یقینا یہ انتہائی جھوٹے ہیں) اس میں کہ ان…
Read the full tafseer →17 ۔” لن تغنی عنھم “ قیامت کے دن۔” اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـــــًٔا ۭ ) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہیں آئیں گی یعنی وہ ان سے عذاب کو ہٹا سکیں نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کرسکیں گے۔ّاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۭ ) وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گے اور ( هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں تو جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ سب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا
قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…
Read the full tafseer →[ 57] جھوٹی قسموں کی لت کا برا نتیجہ، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منافقوں کی جھوٹی قسموں کی لت جو ان کو دنیا میں پڑگئی تھی، وہ قیامت کے روز بھی ان سے جائیگی نہیں، بلکہ یہ وہاں پر اسی طرح کی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ منافق لوگ قیامت کے روز اللہ کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، سو یہاں کی پڑی ہوئی بری عادت ان سے وہاں بھی نہیں چھوٹے گی جیسا کہ ایک حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ جس طرح تم زندگی گزارو گے اسی طرح تمہیں موت آئے گی، اور جس حالت میں تمہیں موت آئے گی، اسی حالت میں تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، بہرکیف یہاں پر ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
منافقین اور ان کا انجام
تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔
آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔
کفار سے معاہدہ۔
عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…
Read the full tafseer →“3 جو اللہ تعالیٰ کے حضور بھی جھوٹ بولنے سے باز نہ آئیں گے۔ حالانکہ وہ تو دلو تک کا حال جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →(58:18) یوم : مفعول فیہ۔ جس دن۔
یبعثھم : یبعث فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ بعث (باب فتح) مصدر۔ بمعنی بھیجنا۔ اٹھانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو (مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے) اٹھائے گا۔
جمیعا سب کو۔
فیحلفون لہ :تعقیب کا ہے یحلفون مضارع جمع مذکر غائب، خلف (باب ضرب) مصدر۔ وہ قسمیں کھائیں گے۔ لہ اس کے سامنے ۔ پھر اس (خدا) کے سامنے وہ قسمیں کھائیں گے۔ ای قائلین واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ بخدا ہم مشرک نہیں تھے
کام یحلفون لکم : کاف تشبیہ کا ہے۔ لکم تمہارے سامنے۔ یعنی جیسا کہ وہ اب تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تم سے ہیں کافر یا غیر مسلم نہیں ہیں۔
ویحسبون انھم علی شیء واؤ عاطفہ۔ یحسبون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
لغات القرآن۔
یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔
تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
کافروں سے دوستی کی ممانعت۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[21] یعنی یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے رہنے کی جھوٹی قسم کھا کر عذاب جہنم سے بچ جائیں گے جیسے دنیا میں قانون شریعت کی گرفت میں آنے سے جھوٹ بول بول کر اور قسمیں کھا کھا کر بچ جاتے تھے۔
[22] یعنی ایسے جھوٹے کہ دنیا میں بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے نہ شرمائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
منافق جھوٹے ہیں
1: یہودیوں کو اسلام کے ساتھ قلبی عناد تھا ۔ منافقین ان کے ساتھ ساز بازرکھتے ۔ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ۔ اور اکل وشرب کی محفلوں میں شریک ہوتے ۔ اس ارتباط اور دوستی کا مقصد محض یہ تھا ۔ کہ مسلمانوں کی مذمت کریں ان کے اسراران تک پہنچائیں ۔ اور اس طرح دونوں مل کر دل جلے پھپھولے توڑیں ۔ اور پھر جب حضور ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوجاتا ۔ اور آپ ان لوگوں سے باز پرس کرتے ۔ تو وہ صاف انکار کردیتے ۔ اور کہتے ۔ بخدا ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم ان تک آپ کی باتیں قطعاً نہیں پہنچاتے اور اس طرح وہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ۔ کہ ہم آپ کے دشمن اور بدخواہ نہیں ہے ۔ فرمایا آج ان یہودیوں اور…
Read the full tafseer →(18) یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو قبروں سے اٹھائے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا پھر یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھایا کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے روبرو قسمیں کھائیں گے اور یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ کچھ بھلی راہ پر ہیں آگاہ رہو بلا شبہ یہ لوگ بہت جھوٹے ہیں اور یہی ہیں اصل جھوٹے۔ یعنی ان کے حقیقی عذاب کا اور سزا بھگتنے کا وہ دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے گا اور سب کو جمع کرے گا سو یہ لوگ اس وقت خدا کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں یعنی دنیا میں کہ ہم کسی بھلی بات پر ہیں۔ یا قیامت میں یہ سمجھتے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ف 5۔ پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں، اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور معلوم ہے۔
Read the full tafseer →ایسے جھوٹوں کی کیا ہی بات ہے کہ یہ نہ آج مانتے ہیں اور نہ ہی آنے والے کل مانیں گے
18 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ تو انکی دنیوی زندگی کی بات ہے جس میں ان کے ساتھ جو ہوا سو ہوا اور انہوں نے جو کیا سو کیا ، ہم آپ ﷺ کو بتاتے ہیں کہ یہ لوگ تو جھوٹ میں اتنے ماہر ہیں کہ جس روز اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ اٹھائے گا تو وہ اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جیسا کہ آج وہ تمہارے سامنے قسمیں کھا کھا کر باور کراتے ہیں ۔ وہ اسی رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے بھی اس جرم سے باز نہیں آئیں گے اور اس طرح وہ سمجھیں گے کہ ہم یہاں بھی انہی قسموں کے سہارے نجات پا جائیں گے حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے۔ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
Commentary
Chastising the Hypocrites for their Secret Alliance with the Jews
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم (Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry? ....58:14) Allah condemns the hypocrites who secretly formed an alliance with the Jews who challenge Allah and His Apostle, while in effect they belong neither to the Muslims nor to the Jews. Consequently, Allah has prepared for them a humiliating and condign chastisement. It is not permissible to have a friendly intimacy with the enemies of Allah and His…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
35 That is, "Not being content with swearing oaths before the people in this world, they will swear false oaths also.before AIIah Himself in the Hereafter, for falsehood and fraud has become second nature with them, which they wilt not give up even after death."
Read the full tafseer →