Explained with ayahs 14–19
دوغلے لوگوں کا کردار
منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
سورة الْمُجَادِلَة 35
یعنی یہ صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے۔ جھوٹ اور فریب ان کے اندر اتنا گہرا اتر چکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے…
Read the full tafseer →(استحوذ علیھم الشیطن فانسھم ذکر اللہ اولیک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ھم الخسرون) (19)۔
(جو خدا کو بھلا بیٹھتا ہے وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے)۔ (استحوذ علیھم) کے معنی ہیں (تسلط علیھم) شیطان نے ان پر اپنا پورا تسلط جما لیا ہے۔ شیطان جن پر پورا تسلط جما لیتا ہے ان کو خدا کو یاد سے بالکل غافل کردیتا ہے اور جو خدا کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ وہ شیطان کی پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ جہاں تک وسوسہ اندازی کا تعلق ہے شیطان سب سے اپنا یہ ہنر آزمایا ہے لیکن اس کا تسلط انہی پر جمتا ہے جو اس کی وسوسہ اندازیوں کے لیے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیتے اور اس کو اپنا ناصح و مرشدسمجھنے لگتے ہیں۔…
Read the full tafseer →19۔ 1 استحوذ کے معنی ہیں گھیر لیا احاطہ کرلیا جمع کرلیا اسی کا ترجمہ غلبہ حاصل کرلیا کیا جاتا ہے کہ غلبے میں یہ سارے مفہوم آجاتے ہیں۔
19۔ 2 یعنی اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان سے شیطان نے ان کو غافل کردیا ہے اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے، ان کا وہ ارتکاب کرواتا ہے، انہیں خوبصورت دکھلا کر یا مغالطوں میں ڈال کر یا تمناؤں اور آرزاؤں میں مبتلا کر کے۔
19۔ 3 یعنی مکمل خسارا انہی کے حصے میں آئے گا۔ گویا دوسرے ان کی نسبت خسارے میں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے جنت کا سودا گمراہی لے کر کرلیا، اللہ پر جھوٹ بولا اور دنیا و آخرت میں جھوٹی قسمیں کھاتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
11: یعنی جس طرح ڈھال سے تلوار کے وار کو روکا جاتا ہے یہ لوگ سازشیں کرنے کے باوجود قسمیں کھاکر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی طرف سے کسی جوابی کاروائی سے بچ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
یوم یبعثھم ................ لکم (85 : 81) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔
ویحسبون ................ شیئ (85 : 81) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔
الا انھم…
Read the full tafseer →10 شیطان جس پر پوری طرح قابو کرلے اس کا دل و دماغ اسی طرح مسخ ہوجاتا ہے اسے کچھ یاد نہیں رہتا کہ خدا بھی کوئی چیز ہے۔ بھلا اللہ کی عظمت اور بزرگی و مرتبہ کو وہ کیا سمجھے۔ شاید محشر میں بھی جھوٹ پر قدرت دے کر اس کی بےحیائی اور حماقت کا اعلان کرنا ہو کہ اس ممسوخ کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کے آگے میرا جھوٹ کیا چلے گا۔
11 شیطانی لشکر کا انجام یقینا خراب ہے۔ نہ دنیا میں ان کے منصوبے آخری کامیابی کا منہ دیکھ سکتے ہیں، نہ آخرت میں عذاب شدید سے نجات پانے کی کوئی سبیل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 19{ اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰٹہُمْ ذِکْرَ اللّٰہِ } ”شیطان نے ان کے اوپر قابو پا لیا ہے ‘ پس انہیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے۔“
شیطان ان پر مسلط ہوچکا ہے اور اس نے انہیں اللہ کی یاد سے غافل کردیا ہے۔
{ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ } ”یہ لوگ ہیں شیطان کی جماعت۔“
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں شیطان کی یہ جماعت تین گروہوں پر مشتمل تھی۔ ان میں شیطان کا سب سے طاقتور ہتھیار مشرکین عرب تھے۔ انہوں نے اسلام کی مخالفت اور اپنے ”دین“ کی حمایت میں ہر طرح کی قربانیاں دیں ‘ جنگیں بھی لڑیں اور اپنے باطل معبودوں کے لیے گردنیں بھی کٹوائیں۔ دوسرا گروہ یہود مدینہ کا تھا ‘ جبکہ تیسرا گروہ منافقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
22 استحوذ کا لغوی مفہوم :۔ إسْتَحْوَذَ ۔ حَاذ بمعنی سختی کے ساتھ ہانکنا اور حاذ الدَّابَۃُ بمعنی جانور کو تیزی سے چلانا اور اِسْتَحْوَذَ کے معنی کسی پر مسلط ہو کر اسے سختی سے ہانکنا ہے۔ کہتے ہیں استحوذ العیر علی الاتان یعنی گدھے کا گدھی کی پشت پر چڑھ کر اسے دونوں جانب سے دبا لینا ہے (مفردات) یعنی شیطان نے ان منافقوں پر مسلط ہو کر انہیں کچھ اس طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ انہیں اللہ کبھی بھولے سے بھی یاد نہیں آتا اور وہ اسی کے آلہ کار بن کر رہ گئے ہیں۔
23 اسلامی نقطہ نظر سے سیاسی پارٹیاں صرف دو ہوسکتی ہے ایک حزب اللہ دوسری حزب الشیطان :۔ حِزْبٌ بمعنی پارٹی، گروہ جتھا، جن کے خیالات میں ہم آہنگی نیز…
Read the full tafseer →33۔ (آخرت میں تو یقیناً ، اور دنیا میں بھی احیانا) (آیت) ” استحوذ علیھم الشیطن “۔ چناچہ اسی کے چھا جانے سے انہوں نے اس کے اثر اضلال واغواء کو قبول کرلیا ہے۔ (آیت) ’ فانسھم ذکر اللہ “۔ چناچہ یہ احکام الہی کو بالکل چھوڑے بیٹھے ہیں۔ ذکر الہی سے غفلت اور شیطانی تسلط کی خاص علامت یہ ہے کہ انسان کو احکام الہی سے غفلت کی صحبتوں میں غفلت ومعصیت ہی کے مشغلوں اور چرچوں میں لگنے لگتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
یوم یبعثھم اللہ جمیعاً فیحلفون لہ کما یحلفون لکم مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ، کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے، جھوٹ اور فریب ان کی رگ رگ اور نس نس میں اس طرح پیوست ہوچکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔
Read the full tafseer →استحوذ علیھم الشیطان فانسھم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطان الا ان حزب الشیطان ھم الخسرون . ” ان پر شیطان غالب آگیا ہے ‘ شیطان نے ان کو اللہ کی یاد بھلا دی ہے۔ یہ لوگ
شیطان کا گروہ ہیں۔ خوب سن لو ‘ شیطان کا گروہ ضرور برباد ہونے والا ہے۔ “
اِسْتَحْوَذَ : ان پر شیطان غالب آگیا ہے ‘ ان پر شیطان کا تسلط ہوگیا ہے۔
فَاَنْسٰھُمْ ذِکْرَ اللہ : شیطان نے ان کو یاد خدا فراموش کر ادی اور ان کو غافل بنا دیا۔ اس قدر کہ یہ اللہ کے عذاب سے بھی نہیں ڈرتے۔ ان کو خیال نہیں آتا کہ اللہ ان کو سزا دے گا۔ یہ جانتے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام پوشیدہ اسرار سے واقف ہے۔
حِزْبُ الشَّیْطَانِ : شیطان کا لشکر ‘ شیطان کا…
Read the full tafseer →ان پر شیطان نے پورا قبضہ جما کر کے اپنی پیروی کا ان کو حکم دیا ہے سو یہ اسی کی پیروی کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے خفیہ طور پر اطاعت خداوندی اور اس کی یاد کو بھلا دیا ہے واقعہ ہی یہود و منافقین شیطان کا گروہ ہے اور شیطان کا گروہ دنیا و آخرت کے ضائع ہونے سے ضرور برباد ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰہُمْ ذِکْرَ اللہ ِ ط۔۔۔: یعنی منافقین کے ان اعمال کی وجہ سے ان پر شیطان غالب آگیا اور اس طرح مسلط ہوگیا ہے کہ اس نے انہیں اللہ کی یاد تک بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطانی گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ ہی کامل خسارے والے لوگ ہیں۔
2۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان کا آدمی پر غلبہ ہوجاتا ہے ، ان اعمال میں سے ایک نماز با جماعت کا ترک ہے۔ ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ما من ثلاثۃ فی قریۃ ولا بدولا تقام فیھم الصلاۃ الا قداستحوذ علیھم الشیطان فعلیک بالجماعۃ فانما یا کل الذئب القاصیۃ) (ابوداؤد ، الصلاۃ باب الشدید فی ترک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آیات 17۔ 19
تفسیر
لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولاد ھم من اللہ شیاء یعنی اس کے عذاب سے کچھ نفع نہ دے گا۔ مقاتل نے کہا : منافقوں نے کہا (حضرت) محمد ﷺ گمان کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کی مدد کی جائے گی تو اس وقت یقینا ہم بدبخت ہوں گے اللہ کی قسم ! اگر قیامت ہوئی تو قیامت کے روز ہماری مدد کی جائے گی ہماری ذاتوں، ہماری اولادوں اور ہمارے اموال کی وجہ سے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
یوم یبعثنم اللہ جمیعا اللہ تعالیٰ انہیں جس روز دوبارہ اٹھائے گا ان کے لئے ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب ہوگا۔ فیحلفون لہ کما یحلفون لکم وہ اس روز اسی طرح اس کے لئے قسم اٹھائیں گے جس طرح آج وہ تمہارے لئے قسم اتھاتے ہیں۔ یہ عجب امر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1۔ ابو داوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردوی نے ابوداوٗد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی گاؤں یا کسی جنگل میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ کیا جاتا ہو۔ تو ان پر شیطان تسلط جمالیتا ہے۔ اس لیے جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا دور رہ جانے والی علیحدہ رہ جانے والی بکری کو کھاجا تا ہے۔
Read the full tafseer →[اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ : قابو پایا ان پر ][ الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ][ فَانسٰـىهُمْ : تو اس نے بھلا دی ان لوگوں کو ][ ذِكْرَ اللّٰهِ : اللہ کی یاد ][ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ : وہ لوگ شیطان کا جتھا ہیں ][اَلَآ ان حِزْبَ الشَّيْطٰنِ : سن لو ! یقینا شیطان کا جتھا ][ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خساری پانے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
مخالفین پر شیطان کا غلبہ، آخرت میں خسارہ اور رسوائی :
﴿اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ ﴾ (الآیۃ) ، (شیطان نے ان پر غلبہ پالیا سوا نہیں اللہ کی یاد بھلا دی) اللہ کی یاد سے غافل ہیں تو آخرت کے مواخذہ اور محاسبہ سے بھی غافل ہیں بس ان کے سامنے دنیا ہی دنیا ہے چونکہ شیطان کا ان پر غلبہ ہے وہ ان پر برے اعمال کو اچھا کر کے پیش کرتا ہے اور کفر اور شرک اور معاصی میں ان کا فائدہ بتاتا ہے اس لیے یہ لوگ شیطان ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ ﴾ (ان کا گروہ شیطان کا گروہ ہے) یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں ان کی یہ غلط فہمی قیامت کے دن دور ہوجائے گی جب ﴿ خَسِرُوْۤا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…
Read the full tafseer →20:۔ ” استحوذ علیہم الشیطان “ شیطان ان کے دل و دماغ پر غالب آچکا ہے اور وہ اس کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ اس نے ان کو یاد الٰہی سے بالکلیہ غافل کر رکھا ہے اور وہ شیطان کے پورے پورے فرمانبردار اور اس کی ٹولی بن چکے ہیں اور یاد رکھو شیطان کی ٹولی انتہائی خسارے میں رہے گی کیونکہ آخرت میں اس کو نعیم مقیم (دائمی نعمتوں) کے بجائے عذاب الیم (ابدی اور دردناک عذاب) نصیب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
یہودی اور عمل واعتقادی منافق :
گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ…
Read the full tafseer →اِسْتَحْوَذَ عَلَيْہِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰـىہُمْ ذِكْرَ اللہِ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ 0 ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ 19
حوذ
الحَوْذُ : أن يتبع السّائق حاذيي البعیر، أي : أدبار فخذيه فيعنّف في سوقه، يقال : حَاذَ الإبلَ يَحُوذُهَا، أي : ساقها سوقا عنیفا، وقوله : اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطانُ [ المجادلة/ 19] ، استاقهم مستولیا عليهم، أو من قولهم : استحوذ العیر علی الأتان، أي : استولی علی حَاذَيْهَا، أي : جانبي ظهرها، ويقال : استحاذ، وهو القیاس، واستعارة ذلک کقولهم :
اقتعده الشیطان وارتکبه، والأَحْوَذِيّ : الخفیف الحاذق بالشیء، من الحوذ أي : السّوق .
( ح…
Read the full tafseer →3 ؎ استحوذ لم یبدل الواؤ بالالف مع وجود الفائدۃ۔
Read the full tafseer →اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰھُمْ ذِکْرَاللّٰہِ ط اُوْلٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ ط اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 19)
(شیطان ان پر مسلط ہوگیا، پس اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے، یہ لوگ شیطان کی پارٹی ہیں، جان لو کہ شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ )
منافقین پر شیطان کا تسلط
منافقین کا جو حال اوپر کی آیت میں بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فکری اور عملی سلامتی سے بالکل محروم ہوگئے ہیں۔ ایک گیا گزرا آدمی بھی کبھی نہ کبھی حقیقت کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ یا کم از کم اس کی تلاش کی فکر کرتا ہے۔ لیکن یہ لوگ جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسمیں اٹھانے کی وجہ سے منافق اور برے شخص پر شیطان مسلّط ہوجاتا ہے جس وجہ سے یہ لوگ اللہ کی ذات اور بات کو بھول جاتے ہیں۔
استحوذ کا معنٰی اثر کرنا، زیر کرنا، قابو پانا، قبضہ کرنا اور غصب کرنا ہے۔
منافق کی منافقت اور برے کی مسلسل برائی کی وجہ سے شیطان اس پر اس طرح مسلّط ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو اللہ کی یاد کی طرف آنے ہی نہیں دیتا حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ شیطان کا لشکر ہوتے ہیں، یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شیطان کا لشکر بالآخر نقصان پائے گا۔ بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ہر صورت ذلیل ہوں گے۔ قرآن مجید میں لفظ ذکر کئی معنوں…
Read the full tafseer →19 : اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ (ان پر شیطان غالب آگیا) مسلط ہوگیا۔ فَاَنْسٰھُمْ ذِکْرَ اللّٰہِ (شیطان نے ان کو اللہ تعالیٰ کی یاد بھلا دی ہے)
قول علامہ کرمانی (رح) :
بندے پر شیطان کے غلبہ کی علامت یہ ہے کہ اس کو ظاہری بناوٹ کھانے، پینے اور پہننے میں مشغول کر دے۔ اور اللہ تعالیٰ کے انعام پر غور کرنے سے اس کے دل کو مشغول کردے اور اس کے شکر کی ادائیگی سے غافل کردے اور اس کی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہٹا کر جھوٹ ‘ غیبت ‘ بہتان پر لگا دے اور دل کو سوچ وبچار اور توجہ سے دنیا کی تدبیر اور اس کے جمع کرنے کی وجہ سے مشغول کر دے۔
اُولٰٓپکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ (یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں) اس…
Read the full tafseer →18 ۔” یوم یبعثھم اللہ جمیعا فیحلفون لہ “ جھوٹی کہ وہ مشرک نہ تھے۔ ” کما یحلفون لکم “ دنیامیں۔ ” ویحسبون انھم علی شیئ “ اپنی جھوٹی قسموں سے۔ ” الاانھم ھم الکاذبون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…
Read the full tafseer →(اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) یہ شیطان کی پارٹی ہے، سن لو، شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین ودنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا
قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…
Read the full tafseer →[ 60] شیطان کا گروہ قطعی طور پر خسارے والا گروہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تنبیہ و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں اور آگاہ رہو کہ شیطان کا گرہ ہی خسارے والا ہے، کہ وہ حق سے محروم اور حق کا دشمن گروہ ہے، اور انہوں نے فرصت عمر تو اپنی بدنیتی کی وجہ سے حق سے محرومی میں گزاری، اور اس کے نتیجے میں اب آخرت میں یہ لوگ دائمی نعمتوں سے محروم ہو کر ہمیشہ کے عذاب کا ایندھن بن گئے ہیں، سو اس سے بڑھ کر محرومی اور خسران اور کیا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس دنیا میں اگرچہ اللہ تعالیٰ کے قانون امہال کے مطابق ایسے لوگوں کو ایک وقت تک ڈھیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
منافقین اور ان کا انجام
تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔
آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔
کفار سے معاہدہ۔
عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…
Read the full tafseer →“4 انہیں دنیا کی رنگ رلیوں میں ایسا مست کردیا کہ وہ بھول گئے کہ کوئی خدا بھی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور اس کے احکام و فرامین پر عمل کرنا چاہیے5 اس سے بڑھ کر تباہی کیا ہوگی کہ انہوں نے جنت کو دوزخ کے بدلے اور ہدایت کو گمراہی کے بدلے بیچ ڈالا۔
Read the full tafseer →(58:19) استحوذ علیہم : ماضی واحد مذکر غائب استحواذ (استفعال) مصدر۔ بمعنی قابو میں کرکے ہانکنا (شیطان نے ان پر قابو پا لیا ہے) ۔ فانسھم ذکر اللہ :سببیہ ہے انسی ماضی واحد مذکر غائب انساء (افعال) مصدر بمعنی بھلا دینا ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ذکر اللہ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مفعول ثانی انسی کا۔ پس اس نے (یعنی شیطان نے) ان کو اللہ کی یاد بھلادی۔
حزب الشیطن : مضاف مضاف الیہ۔ حزب گروہ، جماعت، ٹولہ، احزاب جمع۔ شیطان کا گروہ۔
الا : ملاحظہ ہو آیت 18 متذکرۃ الصدر۔
الخسرون : خسرو خسران : سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ نقصان اٹھانے والے۔ گھاٹا پانے والے۔ زیاں کار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
لغات القرآن۔
یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔
تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
کافروں سے دوستی کی ممانعت۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[21] یعنی یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے رہنے کی جھوٹی قسم کھا کر عذاب جہنم سے بچ جائیں گے جیسے دنیا میں قانون شریعت کی گرفت میں آنے سے جھوٹ بول بول کر اور قسمیں کھا کھا کر بچ جاتے تھے۔
[22] یعنی ایسے جھوٹے کہ دنیا میں بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے نہ شرمائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
منافق جھوٹے ہیں
1: یہودیوں کو اسلام کے ساتھ قلبی عناد تھا ۔ منافقین ان کے ساتھ ساز بازرکھتے ۔ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ۔ اور اکل وشرب کی محفلوں میں شریک ہوتے ۔ اس ارتباط اور دوستی کا مقصد محض یہ تھا ۔ کہ مسلمانوں کی مذمت کریں ان کے اسراران تک پہنچائیں ۔ اور اس طرح دونوں مل کر دل جلے پھپھولے توڑیں ۔ اور پھر جب حضور ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوجاتا ۔ اور آپ ان لوگوں سے باز پرس کرتے ۔ تو وہ صاف انکار کردیتے ۔ اور کہتے ۔ بخدا ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم ان تک آپ کی باتیں قطعاً نہیں پہنچاتے اور اس طرح وہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ۔ کہ ہم آپ کے دشمن اور بدخواہ نہیں ہے ۔ فرمایا آج ان یہودیوں اور…
Read the full tafseer →(19) ان لوگوں پر شیطان نے پوری طرح قابو پالیا ہے سو اس شیطان نے ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد بھلا رہی ہے یہ لوگ شیطان کا لشکر ہیں اور یہ جماعت شیطان کا گروہ ہے خوب سن لوگروہ شیطان کا یقینا خسارہ اٹھانے والا اور برباد ہونے والا ہے۔ یعنی ان منافقوں اور مشرکوں پر شیطان نے پورا پورا غلبہ حاصل کرلیا ہے اور اس کا یہ اثر ہے کہ ان کے دل سے خدا کی یاد بالکل نکل گئی اور یہ شیطان اثرات نے اللہ تعالیٰ کی یاد کو بھلا دیا اور یہ صرف شیطان کے ہورہے بھولے سے بھی کبھی اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے یہ سب لوگ شیطان کا ایک گروہ ہے اور شیطانی گروہ یقینا ٹوٹا پانے والا اور برباد ہونے والا ہے آخرت میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 1۔ یعنی اس کے احکام کو چھوڑ بیٹھے۔
2۔ آخرت میں تو ضرور اور گاہے دنیا میں بھی۔
Read the full tafseer →شیطان نے ان پر کس طرح تسلط جما لیا ہے اس کی مکمل وضاحت
19 ؎ (استحوذ) کا اصل مادہ ح و ذ ہے جس کے معنی ہیں کہ اس نے قابو میں کرلیا ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ فرمایا دراصل شیطان نے ان لوگوں پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے اور وہ اپنا قبضہ جما کر بیٹھ گیا ہے اور اس نے ان لوگوں کو اللہ کی یاد سے بالکل غافل کردیا ہے اور دنیا کی ہو ہوا میں اس قدر اس نے ان کو مست کردیا ہے کہ وہ ادھرادھر کسی طرف کبھی دیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ دن رات ، سوتے جاگتے میں ان کو نہ تو کبھی موت یاد آئی ہے اور نہ ہی کبھی آخرت کی فکر لا حق ہوئی ہے۔ وہ خود سوچنے سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں ۔ جو مت و ظالم ان کو دیتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
Commentary
Chastising the Hypocrites for their Secret Alliance with the Jews
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم (Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry? ....58:14) Allah condemns the hypocrites who secretly formed an alliance with the Jews who challenge Allah and His Apostle, while in effect they belong neither to the Muslims nor to the Jews. Consequently, Allah has prepared for them a humiliating and condign chastisement. It is not permissible to have a friendly intimacy with the enemies of Allah and His…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
35 That is, "Not being content with swearing oaths before the people in this world, they will swear false oaths also.before AIIah Himself in the Hereafter, for falsehood and fraud has become second nature with them, which they wilt not give up even after death."
Read the full tafseer →