Al-Mujaadila 58:20

Al-Mujaadila · from ayah 20

58:20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓىِٕكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِى الۡاَذَلِّيۡنَ

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the ones who oppose Allah and His Messenger - those will be among the most humbled.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mujaadila

All translations of 58:20

یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ سب سے زیاده ذلیلوں میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل ترین لوگوں میں شامل ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے عداوت رکھتے ہیں وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یقینا یہی لوگ ذلیل ترین ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے بر سر مخالفت ہیں، وہی لوگ ذلیل ہونے والوں میں ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی وہ (خواہ بظاہر کچھ بھی بنے پھرتے ہوں حقیقت میں وہ) ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ ذلیل ترین ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت پر ُ تلے بیٹھے ہیں وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily those who oppose Allah and His Messenger will be among the most abject beings.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, those who oppose Allah and His Messenger, they are among the lowest.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, those who oppose Allah and His Messenger, they are among the lowest.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who oppose Allah and His Messenger, they will be among those most humiliated.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who oppose Allah and His messenger, they will be among the lowest.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the ones who oppose Allah and His Messenger - those will be among the most humbled.

— Saheeh International

Disgrace will strike those who oppose God and His Messenger.

— Muhammad Sarwar

Surely (as for) those who are in opposition to Allah and His Apostle; they shall be among the most abased.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those; who oppose Allah and His apostle - they are among the lowest.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who resist Allah and His Messenger will be among those most humiliated.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 58:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–22

جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کرچکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کرچکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–20

سورة الْمُجَادِلَة 35 یعنی یہ صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے۔ جھوٹ اور فریب ان کے اندر اتنا گہرا اتر چکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–21

خلاصہ تفسیر کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ان الذین یحادون اللہ ورسولہ اولیک فی الاذلین) (20) شیطان کی پارٹی کا اصل کام اللہ و رسول کی مخالفت اور ان کے مقابل میں محاذ آرائی ہے۔ فرمایا کہ ان کو جتنی ڈھیل ملتی ہے یہ اللہ اور رسول کے خلاف زور آزمائی کرتے ہیں لیکن بالآخر یہ انہی ذلیل ہونے والی میں شامل ہوتے ہیں جو ان سے پہلے یہ زور آزمائی کر کے ذلیل ہوچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 محادۃ، ایسی شدید مخالفت عناد اور جھگڑے کو کہتے ہیں کہ فریقین کا باہم ملنا نہایت مشکل ہو گویا دونوں دو کناروں پر ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں اسی سے یہ ممانعت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اسی لیے دربان اور پہرے دار کو بھی حداد کہا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔ 20۔ 2 یعنی جس طرح گزشتہ امتوں میں سے اللہ اور رسول ﷺ کے مخالفوں کو ذلیل اور تباہ کیا گیا ان کا شمار بھی انہیں اہل ذلت میں ہوگا اور ان کے حصے میں بھی دنیا وآخرت کی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–21

11: یعنی جس طرح ڈھال سے تلوار کے وار کو روکا جاتا ہے یہ لوگ سازشیں کرنے کے باوجود قسمیں کھاکر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی طرف سے کسی جوابی کاروائی سے بچ سکیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

ان الذین ........................ قوی عزیز (12) (85 : 02۔ 12) ” یقینا ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوکر رہیں گے۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے “۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو سچا ہوکر رہا ہے۔ اور آئندہ بھی سچا ہوکر رہے گا۔ اگرچہ بظاہر اس سچے وعدے کے حالات مخالف نظر آئیں۔ عملاً جو جزیرة العرب میں جو ہوا ، وہ یہی تھا کہ ایمان اور توحید غالب آگئے۔ کفر اور شرک مغلوب ہوئے اور جزیرة العرب میں اسلامی نظریہ حیات غالب ہوگیا۔ اور کفر اور شرک کے ساتھ ایک طویل کشمکش کے بعد اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 20–21

12 یعنی اللہ و رسول کا مقابلہ کرنے والے جو حق و صداقت کے خلاف جنگ کرتے ہیں سخت ناکام اور ذلیل ہیں۔ اللہ لکھ چکا ہے کہ آخرکار حق ہی غالب ہو کر رہے گا اور اس کے پیغمبر ہی مظفر و منصور ہوں گے۔ اس کی تقریر پہلے کئی جگہ گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اُولٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ۔ } ”یقینا جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت پر ُ تلے بیٹھے ہیں ‘ وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہوں گے۔“ ذلت کے ذکر کے لیے اَذَلِّیْن ذلیل ترین یہاں ”تفضیل کل“ superlative degree کے طور پر آیا ہے۔ سورة النساء کی اس آیت میں بھی منافقین کے لیے بالکل یہی اسلوب اختیار فرمایا گیا ہے : { اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا۔ } ”یقینا منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ‘ اور تم نہ پائو گے ان کے لیے کوئی مدد گار۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–20

22 استحوذ کا لغوی مفہوم :۔ إسْتَحْوَذَ ۔ حَاذ بمعنی سختی کے ساتھ ہانکنا اور حاذ الدَّابَۃُ بمعنی جانور کو تیزی سے چلانا اور اِسْتَحْوَذَ کے معنی کسی پر مسلط ہو کر اسے سختی سے ہانکنا ہے۔ کہتے ہیں استحوذ العیر علی الاتان یعنی گدھے کا گدھی کی پشت پر چڑھ کر اسے دونوں جانب سے دبا لینا ہے (مفردات) یعنی شیطان نے ان منافقوں پر مسلط ہو کر انہیں کچھ اس طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ انہیں اللہ کبھی بھولے سے بھی یاد نہیں آتا اور وہ اسی کے آلہ کار بن کر رہ گئے ہیں۔ 23 اسلامی نقطہ نظر سے سیاسی پارٹیاں صرف دو ہوسکتی ہے ایک حزب اللہ دوسری حزب الشیطان :۔ حِزْبٌ بمعنی پارٹی، گروہ جتھا، جن کے خیالات میں ہم آہنگی نیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ (جس کا کامل ومستقل ظہور آخرت میں ہو کر رہے گا، اور کبھی کبھی دنیا میں بھی) ساری مخلوقات میں اس سے بڑھ کر ذلیل و حقیر کون ہوگا جو خود امن وصداقت کے خلاف جنگ کررہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 18–21

یوم یبعثھم اللہ جمیعاً فیحلفون لہ کما یحلفون لکم مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ، کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے، جھوٹ اور فریب ان کی رگ رگ اور نس نس میں اس طرح پیوست ہوچکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین یحادون اللہ و رسولہ اولئک فی الاذلین جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سخت ذلیل لوگوں میں سے ہیں۔ فِی الْاَذَلِّیْنَ : یعنی اللہ کی ذلیل ترین مخلوق میں اس کا شمول ہے۔ اس سے زیادہ ذلیل اور کوئی مخلوق نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ منافقین اور یہودی دین میں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ دوزخ میں ذلیل لوگوں کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ میں اور محمد فارس و روم اور یہود و منافقین پر غالب رہیں گے بیشک اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کرام کی مدد کرنے میں قوت والا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللہ وَرَسُوْلَـہٗٓ۔۔۔۔: یہ حزب الشیطان کے اس خسارے کا بیان ہے جو پچھلی آیت میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں۔ مزید دیکھئے اسی سورت کی آیت (5، 6) اور سورة ٔ توبہ کی آیت (23) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

آیات۔ 20۔ 21 تفسیر ان الذین یحادون اللہ ورسولہ سورت کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے اولئک فی الاذلین۔ وہ ذلیل لوگوں میں سے ہیں ان سے بڑھ کر کوئی ذلیل نہیں کتب اللہ لا غلبن یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے کہ انہیں ضرور غالب کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ؛ یہ قتادہ سے مروی ہے۔ فراء نے کہا : کتب یہ قال کے معنی میں ہے۔ انا یہ ضمیر تاکید کے لئے ہے۔ ورسلی جس کو جہاد کے حکم کے ساتھ مبعوث کیا گیا وہ جہاد کے ساتھ غالب آئے گا، جس کو حجت کے ساتھ مبعوث کیا گیا وہ حجت کے ساتھ غالب آئے گا۔ مقاتل نے کہا : مومنوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکہ مکرمہ، طائف، خیبر اور اس کے ارد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

1۔ ابو داوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردوی نے ابوداوٗد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی گاؤں یا کسی جنگل میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ کیا جاتا ہو۔ تو ان پر شیطان تسلط جمالیتا ہے۔ اس لیے جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا دور رہ جانے والی علیحدہ رہ جانے والی بکری کو کھاجا تا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الَّذِينَ يُحَاۗدُّوْنَ : بیشک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں ][ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ: اللہ اور اس کے رسول کی ][ اُولٰۗىِٕكَ فِي الْاَذَلِيْنَ : وہ ذلیل ترین لوگوں میں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–20

مخالفین پر شیطان کا غلبہ، آخرت میں خسارہ اور رسوائی : ﴿اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ ﴾ (الآیۃ) ، (شیطان نے ان پر غلبہ پالیا سوا نہیں اللہ کی یاد بھلا دی) اللہ کی یاد سے غافل ہیں تو آخرت کے مواخذہ اور محاسبہ سے بھی غافل ہیں بس ان کے سامنے دنیا ہی دنیا ہے چونکہ شیطان کا ان پر غلبہ ہے وہ ان پر برے اعمال کو اچھا کر کے پیش کرتا ہے اور کفر اور شرک اور معاصی میں ان کا فائدہ بتاتا ہے اس لیے یہ لوگ شیطان ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ ﴾ (ان کا گروہ شیطان کا گروہ ہے) یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں ان کی یہ غلط فہمی قیامت کے دن دور ہوجائے گی جب ﴿ خَسِرُوْۤا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–22

تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

21:۔ ” ان الذین یحادون “ یہ ابتدائے سورت کے ساتھ متعلق ہے اور کفار و منافقین کیلئے زجر و تخویف ہے جو خدا تعالیٰ اور رسول ﷺ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کی ذلیل ترین اور بغوض ترین مخلوق میں شامل ہیں اس لیے شدید ترین عذاب کے مستحق ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–21

یہودی اور عمل واعتقادی منافق : گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَاۗدُّوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اُولٰۗىِٕكَ فِي الْاَذَلِّيْنَ۝ 20 حدَّ الحدّ : الحاجز بين الشيئين الذي يمنع اختلاط أحدهما بالآخر، يقال : حَدَدْتُ كذا : جعلت له حدّا يميّز، وحَدُّ الدار : ما تتمیز به عن غيرها، وحَدُّ الشیء : الوصف المحیط بمعناه المميّز له عن غيره، وحَدُّ الزنا والخمر سمّي به لکونه مانعا لمتعاطيه من معاودة مثله، ومانعا لغیره أن يسلک مسلکه، قال اللہ تعالی: وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ [ الطلاق/ 1] ، وقال تعالی: تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوها [ البقرة/ 229] ، وقال : الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً وَأَجْدَرُ أَلَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–21

ترکیب : اولئک الجملۃ خبر ان الذین لاتجد امامتعدالیٰ اثنین فقولہ تعالیٰ یوادون مفعولہ الثانی وامامتعدالی واحد فقولہ یوادون حال من مفعولہ لتحضصہ بالصفۃ وقیل صفۃ لقومٍ ولوکان متصلۃ بقولہ لاتجد الخ اولئک مبتداء کتب خبرہ وایدھم ویدخلھم معطوف علیہ۔ تفسیر : یہ کفار کی اسی دوستی کے متعلق بیان ہے کہ جس کا پہلے بیان ہوا تھا کہ خدا کے دشمنوں سے دوستی کرنا اللہ کو ناراض کرنا ہے اور جو اللہ کو ناراض کرتے ہیں وہ ذلیل ہیں۔ منافق یہود سے یارانہ اس لیے رکھتے ہیں کہ اس سے ہم کو عزت ہوگی اور ہم اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے۔ انہیں دونوں باتوں سے ان کا محروم رہنا بیان فرما دیا۔ پہلی بات کا اولئک فی الاذلین میں ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗٓ اُوْلٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ ۔ (المجادلۃ : 20) (بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ ذلیل ہونے والوں میں ہوں گے۔ ) اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے مخالفین کی ذلت جیسے پہلے ہم نے عرض کیا ہے کہ شیطانی قوتوں کو اس وقت تک کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کی قوت میدان میں نہیں آتی۔ اور جب مسلسل آویزش سے حق و باطل میں تصادم پیدا ہوتا ہے تو پھر جو لوگ اللہ تعالیٰ اور رسول کیخلاف زورآزمائی کررہے ہوتے ہیں وہی آخرکار ذلیل ہونے والوں میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی جو ان سے پہلے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے مقابلے میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–20

فہم القرآن ربط کلام : جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسمیں اٹھانے کی وجہ سے منافق اور برے شخص پر شیطان مسلّط ہوجاتا ہے جس وجہ سے یہ لوگ اللہ کی ذات اور بات کو بھول جاتے ہیں۔ استحوذ کا معنٰی اثر کرنا، زیر کرنا، قابو پانا، قبضہ کرنا اور غصب کرنا ہے۔ منافق کی منافقت اور برے کی مسلسل برائی کی وجہ سے شیطان اس پر اس طرح مسلّط ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو اللہ کی یاد کی طرف آنے ہی نہیں دیتا حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ شیطان کا لشکر ہوتے ہیں، یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شیطان کا لشکر بالآخر نقصان پائے گا۔ بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ہر صورت ذلیل ہوں گے۔ قرآن مجید میں لفظ ذکر کئی معنوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

20 : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآ دُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُولٰٓپکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ (جولوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سخت ذلیل لوگوں میں سے ہیں) یعنی وہ من جملہ ان لوگوں میں سے ہونگے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے ذلیل ترین ہیں۔ ان سے بڑھ کر تم کسی کو ذلیل نہ پائو گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19 ۔” استحوذ “ غالب ومسلط ہوگیا۔ ” علیھم الشیطان فانساھم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطان الا ان حزب الشیطان ھم الخاسرون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–22

14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–21

یہ وعدہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے ہے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرتا ہے کہ وہ بےیارومددگار اور ذلیل ورسوا ہے اس کا انجام اچھا ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے اور جو کچھ انبیا ومرسلین لے کر آئے ہیں ان کی اتباع کرتا ہے پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہوگیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے ان کے لیے فتح ونصرت اور دنیا وآخرت میں غلبہ ہے یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر وتبدل کیا جائے گا کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی اور نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے وہ ہستی جو چاہتی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–21

حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 61] شیطان کی پارٹی کے کام کی نشاندہی، والعیاذ باللّٰہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ شیطان کی پارٹی کا اصل کام اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور ان کے مقابلے میں محاذ آرائی ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے سب سے زیادہ ذلیل لوگ ہیں، کہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول ہی کیلئے ہے، پس جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا، اور اس کے اوامرو نواہی کی خلاف ورزی کرے گا، تو اس نے لازماً ذلیل و خوار ہی ہونا ہے، والعیاذ باللّٰہ اور شیطان کی پارٹی کا تو کام ہی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور ان کے خلاف محاذ آرائی کرنا ہے، اس لیے انہوں نے آخر کار بہرحال ان ذلیل ترین لوگوں میں شامل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–21

منافقین اور ان کا انجام تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–22

آیات 14 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔ آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔ کفار سے معاہدہ۔ عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 20–21

ف 6 یعنی جن پیغمبروں کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے وہ بذریعہ تلوار اور دلیل اور جن کو جہاد کا حکم نہیں دیا گیا وہ بذریعہ دلیل دوسروں پر غالب آ کر رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(58:20) یحا دون۔ وہ مخالفت کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو آیت 5 متذکرۃ الصدر۔ الاذلین۔ یہ اذل کی جمع ہے ذلۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ ذلیل۔ زیادہ کمزور۔ اذلین۔ سب سے زیادہ ذلیل یا بےقدر لوگ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–22

لغات القرآن۔ یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–22

کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–21

[21] یعنی یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے رہنے کی جھوٹی قسم کھا کر عذاب جہنم سے بچ جائیں گے جیسے دنیا میں قانون شریعت کی گرفت میں آنے سے جھوٹ بول بول کر اور قسمیں کھا کھا کر بچ جاتے تھے۔ [22] یعنی ایسے جھوٹے کہ دنیا میں بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے نہ شرمائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–21

منافق جھوٹے ہیں 1: یہودیوں کو اسلام کے ساتھ قلبی عناد تھا ۔ منافقین ان کے ساتھ ساز بازرکھتے ۔ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ۔ اور اکل وشرب کی محفلوں میں شریک ہوتے ۔ اس ارتباط اور دوستی کا مقصد محض یہ تھا ۔ کہ مسلمانوں کی مذمت کریں ان کے اسراران تک پہنچائیں ۔ اور اس طرح دونوں مل کر دل جلے پھپھولے توڑیں ۔ اور پھر جب حضور ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوجاتا ۔ اور آپ ان لوگوں سے باز پرس کرتے ۔ تو وہ صاف انکار کردیتے ۔ اور کہتے ۔ بخدا ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم ان تک آپ کی باتیں قطعاً نہیں پہنچاتے اور اس طرح وہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ۔ کہ ہم آپ کے دشمن اور بدخواہ نہیں ہے ۔ فرمایا آج ان یہودیوں اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) جولوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ترین اور بےقدر لوگوں میں سے ہیں۔ یعنی قیامت میں نہ ان کی کوئی عزت نہ قدروقیمت ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–20

ف 1۔ یعنی اس کے احکام کو چھوڑ بیٹھے۔ 2۔ آخرت میں تو ضرور اور گاہے دنیا میں بھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کی مخالفت کرنے والے ذلیل ہوں گے 20 ؎ اس سورت کی آیت 5 میں جن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مخالفین کا ذکر گزر چکا ہے ان ہی کا ذکر دوبارہ کیا جا رہا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا دعویٰ تو ایمان کا ہے لیکن ان کے کام کفر کے ہیں اور اسلام کی زبان میں ان کو منافق کہا جاتا ہے۔ گزشتہ آیت 5 میں ارشاد فرمایا تھا کہ ان لوگوں کو منہ کے بل گرایا جائے گا اور اس جگہ ان کے متعلق ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ان کا شمار ذلیل ترین لوگوں میں ہوگا کیونکہ یہ لوگ دوہرے مجرم ہیں کہ ان کے اعمال تو کفر کے اعمال ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے انہوں نے بظاہر اسلام قبول کرلیا ہے اور اس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–21

Commentary Chastising the Hypocrites for their Secret Alliance with the Jews أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم (Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry? ....58:14) Allah condemns the hypocrites who secretly formed an alliance with the Jews who challenge Allah and His Apostle, while in effect they belong neither to the Muslims nor to the Jews. Consequently, Allah has prepared for them a humiliating and condign chastisement. It is not permissible to have a friendly intimacy with the enemies of Allah and His…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–20

35 That is, "Not being content with swearing oaths before the people in this world, they will swear false oaths also.before AIIah Himself in the Hereafter, for falsehood and fraud has become second nature with them, which they wilt not give up even after death."

Read the full tafseer →