Explained with ayahs 20–22
جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کرچکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کرچکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 36
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 93۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے…
Read the full tafseer →(کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز) (21)۔
(رسول کے باب میں سنت الٰہی)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا اعلان فرمایا ہے جو ازل ہے اس نے لکھ رکھی ہے کہ جو کشمکش اللہ و رسول اور حزب الشیطان کے درمیان برپا ہوگی اس میں غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کو حاصل ہوگا، شیطان کی پارٹی ذلیل و خوار ہوگی۔ اس سنت اللہ کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ رسول جتنے بھی دنیا میں آئے وہ جس قوم کے اندر آئے اس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آئے۔ اس کے بعد اس قوم کا لازماً فیصلہ ہوگیا۔ اگر قوم نے بحیثیت مجموعی رسول کی تکذیب کردی تو اس کے اندر سے رسول اور اس پر ایمان لانے والے افراد کو الگ کر کے باقی قوم کو اللہ…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی تقدیر اور لوح محفوظ میں جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہ مضمون سورة مومن میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
21۔ 2 جب یہ بات لکھنے والا، سب پر غالب اور نہایت زورآور ہے تو پھر اور کون ہے جو اس فیصلے میں تبدیلی کرسکے۔ ؟ مطلب یہ ہوا کہ یہ فیصلہ قدر محکم اور امر مبرم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
11: یعنی جس طرح ڈھال سے تلوار کے وار کو روکا جاتا ہے یہ لوگ سازشیں کرنے کے باوجود قسمیں کھاکر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی طرف سے کسی جوابی کاروائی سے بچ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ان الذین ........................ قوی عزیز (12) (85 : 02۔ 12) ” یقینا ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوکر رہیں گے۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے “۔
یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو سچا ہوکر رہا ہے۔ اور آئندہ بھی سچا ہوکر رہے گا۔ اگرچہ بظاہر اس سچے وعدے کے حالات مخالف نظر آئیں۔
عملاً جو جزیرة العرب میں جو ہوا ، وہ یہی تھا کہ ایمان اور توحید غالب آگئے۔ کفر اور شرک مغلوب ہوئے اور جزیرة العرب میں اسلامی نظریہ حیات غالب ہوگیا۔ اور کفر اور شرک کے ساتھ ایک طویل کشمکش کے بعد اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
12 یعنی اللہ و رسول کا مقابلہ کرنے والے جو حق و صداقت کے خلاف جنگ کرتے ہیں سخت ناکام اور ذلیل ہیں۔ اللہ لکھ چکا ہے کہ آخرکار حق ہی غالب ہو کر رہے گا اور اس کے پیغمبر ہی مظفر و منصور ہوں گے۔ اس کی تقریر پہلے کئی جگہ گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 21{ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ } ”اللہ نے لکھ دیا ہے کہ یقینا میں غالب رہوں گا اور میرے رسول۔“
میں اور میرے رسول لازماً غالب ہو کر رہیں گے۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة الصافات کی ان آیات میں بھی آچکا ہے : { وَلَقَدْ سَبَـقَتْ کَلِمَتُـنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ - اِنَّـہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ - وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔ } ”اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں ‘ کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی ‘ اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“
اس بارے میں قبل ازیں بھی متعدد بار ذکر ہوچکا ہے کہ اہم مضامین…
Read the full tafseer →25 اہل حق کا غلبہ کن کن معنوں میں ہوتا ہے ؟ :۔ غالب رہنے سے مراد صرف سیاسی غلبہ نہیں بلکہ یہ صرف اس غلبہ کا ایک پہلو ہے اور یہ بھی بسا اوقات اللہ کی پارٹی کو حاصل ہوجاتا ہے اور کبھی نہیں بھی ہوتا۔ اور جو یقینی غلبہ ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کی پارٹی کا اخلاقی تفوق بہرحال ایک مسلمہ امر ہے۔ راست بازی اور مکروفریب سے اجتناب اس پارٹی کے زریں اصول ہیں۔ جنہیں ہر قسم کے لوگ دل سے پسند کرتے ہیں۔ دوسرا پہلو نظریات کا استقلال اور غلبہ ہے۔ باطل نظریات ہر دور میں نئے نئے بنتے بگڑتے اور آپ ہی اپنی موت مرتے رہتے ہیں۔ جبکہ اللہ کی پارٹی کے نظریات و عقائد سیدنا آدم سے لے کر آج تک بدستور قائم اور…
Read the full tafseer →35۔ (اس کے لئے کیا دشوار ہے کہ خلاف اسباب ظاہر بھی جس کو چاہے غلبہ دے دے) حق و باطل کے معرکہ میں حق کا غلبہ بلحاظ قوت دلائل تو ہمیشہ ہی رہتا ہے، اور بہت موقعوں پر اس کا ظہور مادی وظاہری حیثیت سے بھی ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” کتب اللہ “۔ یہ وعدۂ حق لوح محفوظ میں مکتوب ہے، اے فی اللوح (مدارک) اے اثبت فی اللوح المحفوظ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
یوم یبعثھم اللہ جمیعاً فیحلفون لہ کما یحلفون لکم مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ، کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے، جھوٹ اور فریب ان کی رگ رگ اور نس نس میں اس طرح پیوست ہوچکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا۔
Read the full tafseer →کتب اللہ لاغلبن انا و رسلی ان اللہ قوی عزیز
اللہ نے
(لوح محفوظ میں) لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر (آخر کار) غالب رہیں گے۔ بلاشک اللہ قوّت والا (اور) غلبہ والا ہے۔ “
کَتَبَ اللہ : یعنی اللہ نے لوح محفوظ میں یہ اٹل فیصلہ لکھ دیا ہے۔
لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ : زجاج نے کہا : رسولوں کا غلبہ دو صورتوں میں ہے۔ جن پیغمبروں کو کافروں سے لڑنے کا حکم دیا گیا وہ لڑائی میں غالب آئے اور جن کو لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ان کو دلائل وبراہین کے ذریعے سے غلبہ حاصل ہوا۔
قَوِیٌّ : یعنی ایسا طاقتور ہے کہ کوئی اس کی مشیت میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔
عَزِیْزٌ : ایسا غالب ہے کہ کوئی اس پر غلبہ نہیں پاسکتا۔
Read the full tafseer →یہ آیت خاص طور پر عبداللہ بن ابی منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے مومنین مخلصین سے کہا تھا کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے ہاتھ پر فارس و روم فتح ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →1۔ کَتَبَ اللہ ُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط : کفار کے ”الاذلین“ ہونے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اہل ایمان کی عزت اور ان کے غلبے کا بیان فرمایا، تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (71 تا 173) کی تفسیر۔
2۔ اِنَّ اللہ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ : یہ اللہ اور اس کے رسولوں کے غالب آنے کی علت ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت قوت والا اور سب پر غالب ہے ، پھر اس پر غالب کون آسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیات۔ 20۔ 21
تفسیر
ان الذین یحادون اللہ ورسولہ سورت کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے اولئک فی الاذلین۔ وہ ذلیل لوگوں میں سے ہیں ان سے بڑھ کر کوئی ذلیل نہیں کتب اللہ لا غلبن یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے کہ انہیں ضرور غالب کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ؛ یہ قتادہ سے مروی ہے۔ فراء نے کہا : کتب یہ قال کے معنی میں ہے۔ انا یہ ضمیر تاکید کے لئے ہے۔ ورسلی جس کو جہاد کے حکم کے ساتھ مبعوث کیا گیا وہ جہاد کے ساتھ غالب آئے گا، جس کو حجت کے ساتھ مبعوث کیا گیا وہ حجت کے ساتھ غالب آئے گا۔ مقاتل نے کہا : مومنوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکہ مکرمہ، طائف، خیبر اور اس کے ارد…
Read the full tafseer →2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں کھ دیا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر آخر کار غالب رہیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو تحریر لکھ دی ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔
بدر کی لڑائی میں ایمانی غیرت کا واقعہ۔
3۔ ابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وابو نعیم فی الحلیۃ والبیہقی فی سننہ وابن عساکر نے عبداللہ بن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ ابوعبیدہ بن جراح ؓ کے والد ابو عبیدہ کو بدر کی لڑائی کے دن چیلنج کرتے رہے لیکن حضرت عبیدہ اس سے بچتے رہے لیکن جب ان کی طرف سے بار بار بکثرت ایسا ہوتا رہا تو ابوعبیدہ نے ان کو قتل کردیا تو یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →[كَتَبَ اللّٰهُ : لکھ دیا اللہ نے ][ لَاَغْلِبَنَّ : (کہ) میں لازماً غالب ہوں گا ][ انا وَرُسُلِيْ : میں بھی اور میرے رسول بھی ][ ان اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ: یقینا اللہ قوی ہے بالا دست ہے ]
نوٹ۔ 1 : آیت۔ 21 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا اعلان فرمایا ہے جو اس نے ازل سے لکھ رکھی ہے کہ جو کشمکش اللہ و رسول اور حزب الشیطان کے درمیان برپا ہوگی اس میں غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کو حاصل ہوگا۔ جتنے بھی رسول (یہاں نبی اور رسول کے درمیان فرق ملحوظ رہے) دنیا میں آئے، وہ جس قوم کے اندر آئے، اس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آئے۔ اس کے بعد اس قوم کا لازماً فیصلہ ہوگیا۔ اگر قوم نے بحیثیت مجموعی اپنے…
Read the full tafseer →ایمان والے اللہ تعالیٰ کے دشمن سے دوستی نہیں رکھتے اگرچہ اپنے خاندان والا ہی کیوں نہ ہو
یہ دو آیات کا ترجمہ ہے ان سے پہلی آیات میں منافقین کی حرکتوں اور شرارتوں کا اور جو لوگ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کریں ان کی بد حالی اور بربادی کا ذکر تھا، ان آیات میں اہل ایمان کی بعض صفات خاصہ کا اور ان کی کامیابی کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ایسا نہیں کرسکتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے اس سے دوستی کریں، جب اللہ پر ایمان لے آئے جو پیدا فرمانے والا ہے سب سے بڑا ہے تو اس کے مخالفوں سے دوستی کرنے کا کوئی موقع نہیں رہا سچے مومن کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…
Read the full tafseer →22:۔ ” کتب اللہ “ یہ اہل اسلام کے لیے بشارت فتح ہے اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں لکھ چکا یا فیصلہ فرما چکا ہے کہ آخر غلبہ میرے پیغمبر اور ان کے متبعین ہی کو نصیب ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی قوت و شوکت اور عزت و غلبہ کا مالک ہے اور وہ ہمیشہ اپنی جماعت (حزب اللہ) کو شیطانی جماعتوں (حزب الشیطان) پر غلبہ عطا فرماتا ہے۔ اثبت فی اللوح المحفوط او قضی وحکم (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
یہودی اور عمل واعتقادی منافق :
گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ…
Read the full tafseer →كَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21
كتب ( لکھنا)
الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام الله۔ وإن لم يُكْتَبْ- كِتَاباً کقوله : الم ذلِكَ الْكِتابُ
[ البقرة/ 1- 2] ، وقوله : قالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ [ مریم/ 30] .
( ک ت ب ) الکتب ۔ کے اصل معنی کھال کے دو ٹکڑوں کو ملاکر سی دینے کے ہیں چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ترکیب : اولئک الجملۃ خبر ان الذین لاتجد امامتعدالیٰ اثنین فقولہ تعالیٰ یوادون مفعولہ الثانی وامامتعدالی واحد فقولہ یوادون حال من مفعولہ لتحضصہ بالصفۃ وقیل صفۃ لقومٍ ولوکان متصلۃ بقولہ لاتجد الخ اولئک مبتداء کتب خبرہ وایدھم ویدخلھم معطوف علیہ۔
تفسیر : یہ کفار کی اسی دوستی کے متعلق بیان ہے کہ جس کا پہلے بیان ہوا تھا کہ خدا کے دشمنوں سے دوستی کرنا اللہ کو ناراض کرنا ہے اور جو اللہ کو ناراض کرتے ہیں وہ ذلیل ہیں۔ منافق یہود سے یارانہ اس لیے رکھتے ہیں کہ اس سے ہم کو عزت ہوگی اور ہم اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے۔ انہیں دونوں باتوں سے ان کا محروم رہنا بیان فرما دیا۔ پہلی بات کا اولئک فی الاذلین میں ان…
Read the full tafseer →کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط اِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (المجادلۃ : 21)
(اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے، بیشک اللہ ہی قوی و عزیز ہے۔ )
رسولوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت
پہلے روز سے اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ فرما چکا ہے یعنی یہ اس کی سنت قرار پائی ہے کہ جب بھی حق و باطل میں کشمکش ہوگی تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کو غلبہ دے گا۔ اور اس کی مقابل قوت ہمیشہ ناکام ہو کر ذلیل و خوار ہوگی یا تباہ و برباد ہوجائے گی۔ رسول دنیا میں جب بھی لوگوں کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں تو دو ہی صورتیں سامنے آتی ہیں کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حزب الشیطان کے بعد حزب اللہ کا بیان۔
کردار کے حوالے سے دنیا میں بنیادی طور پر دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک اللہ اور اس کے رسول کے نافرمانوں کی جماعت اور دوسری اللہ اور اس کے رسول کے تابعداروں کی جماعت ہے۔ یہاں نافرمانوں کو حزب الشیطان کہا گیا ہے اور تابعدار لوگوں کو حزب اللہ قرار دیا گیا ہے۔ (المجادلہ : 22) دوسرے مقام پر پہلے گروہ کو اولیاء الشیطان اور دوسرے کو اولیاء اللہ کا اعزاز بخشا گیا ہے۔ (البقرۃ : 257) دونوں گروہوں کے درمیان روز اوّل سے کشمکش جاری ہے کبھی حزب الشیطان کا شورو غوغا غالب آتا ہے اور کبھی حزب اللہ غالب آتے ہیں۔ یہاں تک حقائق اور دلائل کے اعتبار سے…
Read the full tafseer →21 : کَتَبَ اللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا) لوح محفوظ میں لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلْیِ (کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے) دلائل اور تلوار سے یا ان دونوں میں سے کسی ایک سے اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ (بلا شک اللہ تعالیٰ قوت والا ہے) اس کے ارادے کو کوئی موڑ نہیں سکتا۔ عَزِیْزٌ (وہ غلبہ والا ہے) وہ غالب ہے اس پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا۔
Read the full tafseer →20 ۔” ان الذین یحادون اللہ ورسولہ اولئک فی الاذلین “ نچلے درجوں میں یعنی وہ ان لوگوں میں ہیں جن کو وہ دنیا وآخرت میں ذلت کے لئے لاحق ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
یہ وعدہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے ہے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرتا ہے کہ وہ بےیارومددگار اور ذلیل ورسوا ہے اس کا انجام اچھا ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے اور جو کچھ انبیا ومرسلین لے کر آئے ہیں ان کی اتباع کرتا ہے پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہوگیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے ان کے لیے فتح ونصرت اور دنیا وآخرت میں غلبہ ہے یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر وتبدل کیا جائے گا کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی اور نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے وہ ہستی جو چاہتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
حضور ﷺ سے بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا
قول باری ہے (اذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ ، جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات دے دیا کرو) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں اور میرے بعد بھی اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کے درہم حاصل کرلیے، پھر میں جب بھی حضور ﷺ سے سرگوشی کرتا تو ایک درہم کا صدقہ کردیتا پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمان حضور ﷺ سے کثرت سے مسائل پوچھا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ…
Read the full tafseer →[ 62] غلبہ یقینا اللہ اور اس کے رسولوں ہی کیلئے ہے :
کہ غلبہ تو بہرحال حق ہی کیلئے ہے اور حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ فرمائے اور اسکا رسول بتائے، اور ظاہر اور سیاسی اعتبار سے بھی غلبہ حق ہی کا ہوتا ہے، جب کہ اس کیلئے کوشش صحیح طریقے سے کی جائے، اور اللہ پاک کی تائید و نصرت شامل حال رہے، بہرکیف اس ارشاد سے اس دستور الٰہی اور سنت خداوندی کو واضح فرما دیا گیا جو ازل سے اس نے طے کر رکھی ہے، کہ معرکہ حق و باطل میں انجام کار غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں ہی کو حاصل ہوگا، شیطان کی پارٹی بہرحال ذلیل و خوار ہوگی، اور اس دستور خداوندی اور سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ کے جو بھی رسول اس دنیا میں تشریف لائے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
منافقین اور ان کا انجام
تشریح : یہاں اس خبیث گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو اسلام کے وجود میں آنے پر مخالفین کے طور پر ظاہر ہوا اور وہ ہے منافقین کا گروہ کہ جو اپنے خیال میں تو بڑے ہوشیار ہوتے ہیں کہ دیکھو سب کو الو بنا رہے ہیں لیکن خود اپنی ہی تباہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ ایمان بلکہ یہ شیطان کے ساتھی گناہ و فریب، ظلم و زیادتی، شر و فساد اور کفروشرک پھیلانے کے علمبردار ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیغمبر رسول، متقی اور نیک بندوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہیں اور جھوٹ موٹ کی قسمیں کھا کر ان سے جھوٹی دوستی کرتے ہیں۔ اس طرح کے دشمن ملک و قوم اور ملت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔
آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔
کفار سے معاہدہ۔
عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 6 یعنی جن پیغمبروں کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے وہ بذریعہ تلوار اور دلیل اور جن کو جہاد کا حکم نہیں دیا گیا وہ بذریعہ دلیل دوسروں پر غالب آ کر رہیں گے۔
Read the full tafseer →(58:21) کتب اللہ۔ اللہ نے لکھ دیا ہے۔ اللہ نے فیصلہ دے دیا ہے۔ اللہ نے یہ فیصلہ لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔
لاغلبن۔ مضارع بالام تاکید ونون ثقیلہ۔ صیغہ واحد متکلم۔ غلبۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ میں ضرور غالب ہوں گا۔
ورسلی : واؤ عاطفہ۔ رسلی مضاف مجاف الیہ۔ میرے رسول۔ میرے پیغمبر فعل محذوف۔ اور میرے رسول بھی ضرور غالب رہیں گے۔ یا ترجمہ یوں ہوگا۔ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔
قوی : قوۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مذکر، زبردست، توانا۔ خدا تعالیٰ کا اسم صفت ہے۔ ایسا طاقت ور کہ کوئی اس کی مشیت میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔
عزیز : غالب، زبردست، قوی۔ ایسا غالب کہ کوئی اس پر غلبہ نہیں پاسکتا۔ عزۃ سے فعیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
لغات القرآن۔
یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔
تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
کافروں سے دوستی کی ممانعت۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[21] یعنی یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے رہنے کی جھوٹی قسم کھا کر عذاب جہنم سے بچ جائیں گے جیسے دنیا میں قانون شریعت کی گرفت میں آنے سے جھوٹ بول بول کر اور قسمیں کھا کھا کر بچ جاتے تھے۔
[22] یعنی ایسے جھوٹے کہ دنیا میں بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے نہ شرمائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
منافق جھوٹے ہیں
1: یہودیوں کو اسلام کے ساتھ قلبی عناد تھا ۔ منافقین ان کے ساتھ ساز بازرکھتے ۔ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ۔ اور اکل وشرب کی محفلوں میں شریک ہوتے ۔ اس ارتباط اور دوستی کا مقصد محض یہ تھا ۔ کہ مسلمانوں کی مذمت کریں ان کے اسراران تک پہنچائیں ۔ اور اس طرح دونوں مل کر دل جلے پھپھولے توڑیں ۔ اور پھر جب حضور ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوجاتا ۔ اور آپ ان لوگوں سے باز پرس کرتے ۔ تو وہ صاف انکار کردیتے ۔ اور کہتے ۔ بخدا ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم ان تک آپ کی باتیں قطعاً نہیں پہنچاتے اور اس طرح وہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ۔ کہ ہم آپ کے دشمن اور بدخواہ نہیں ہے ۔ فرمایا آج ان یہودیوں اور…
Read the full tafseer →(21) اللہ تعالیٰ یہ بات لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب ریں گے بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑا زور آور زبردست ہے۔ یعنی غلبہ تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو حاصل ہوتا ہے اور ان کے متبعین کو اللہ تعالیٰ کا ذکر یہاں تشریفاً کیا گیا ہے جیسا کہ سورة مومن میں گزرچکا ہے جب انبیاء (علیہم السلام) کو غلبہ ہوگا تو مومنین کی بھی عزت بلند ہوگی یہاں تک منافقین کی اس دوستی اور محبت کی مذمت تھی جو وہ خفیہ طور پر یہود اور کافروں کے ساتھ رکھتے تھے اور مسلمانوں کے بھید دشمنوں تک پہنچایا کرتے تھے اب آگے مخلفین اہل ایمان کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 3۔ مقصود یہاں غلبہ بیان کرنا انبیاء کا ہے، اپنا ذکر تشریف انبیاء کے لئے فرمادیا۔
4۔ اس لئے وہ جس کو چاہئے غالب کردے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا غالب آنا لازم قرار دیا گیا ہے
21 ؎ یہ گویا تحدی اور چیلنج ہے اور اس کو معجزہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ گویا تحدی اور چیلنج معجزہ کے لیے شرط خاص ہے۔ اگر معجزات کے شیدائی صرف اس بات کو ذہن میں رکھے تو ان کو سمجھنا آسان ہوجاتا کہ وہ جس کے متعلق معجزہ معجزہ کی رٹ لگا رہے ہیں وہ معجزہ کے نام سے موسوم بھی کیا جاسکتا یا نہیں ؟ آپ کسی شخص سے معجزہ کی تعریف پوچھ کر دیکھ لیں کہ اتنی بات تو بتا دو کہ معجزہ کی تعریف کیا ہے ؟ تاکہ اس کی پہچان آسان ہوجائے ۔ غور کرو کہ زیر نظر آیات میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں یہ طے شدہ امر ہے گویا اس کا خلاف ممکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
Commentary
Chastising the Hypocrites for their Secret Alliance with the Jews
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِم (Have you not seen those who have friendship with a people with whom Allah is angry? ....58:14) Allah condemns the hypocrites who secretly formed an alliance with the Jews who challenge Allah and His Apostle, while in effect they belong neither to the Muslims nor to the Jews. Consequently, Allah has prepared for them a humiliating and condign chastisement. It is not permissible to have a friendly intimacy with the enemies of Allah and His…
Read the full tafseer →36 For explanation, see E.N. 93 of Surah As-Saaffat.
Read the full tafseer →