Al-Mujaadila 58:22

Al-Mujaadila · from ayah 22

58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ؕ— وَیُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ— رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ ؕ— اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۟۠لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے۔ (اور) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

You will not find a people who believe in Allah and the Last Day having affection for those who oppose Allah and His Messenger, even if they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred. Those - He has decreed within their hearts faith and supported them with spirit from Him. And We will admit them to gardens beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. Allah is pleased with them, and they are pleased with Him - those are the party of Allah. Unquestionably, the party of Allah - they are the successful.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Mujaadila

All translations of 58:22

تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ اُن کے باپ ہوں، یا اُن کے بیٹے، یا اُن کے بھائی یا اُن کے اہل خاندان یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار رہو، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے۔ (اور) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں یہ خدائی لشکر ہے، آگاه رہو بیشک اللہ کے گروه والے ہی کامیاب لوگ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے د لوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے، اور انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔ یہ اللہ کا گروہ ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں، یاد رکھو ! یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ کبھی انہیں ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی لگائیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی یا کنبہ والے ہوں، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعہ انہیں قوت بخشی ہے۔ اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہی اللہ کی پارٹی ہے۔ سن لو ! اللہ کی پارٹی کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم کوئی ایسی قوم نہیں پا سکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ دوستی رکھے ان سے جو اللہ اور اس کے رسول سے برسر مخالفت ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا اہل کنبہ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک فیضان خاص سے ان کی تائید فرمائی ہے اور ان کو داخل کرے گا ایسے باغوں میں جن کے اندر نہریں جاری ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی لوگ اللہ کی پارٹی ہیں، سن رکھو کہ اللہ کی پارٹی ہی فلاح پانے والے ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ جو لوگ (سچے دل سے) ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر وہ دوستی رکھتے ہوں ان لوگوں سے جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ (قبیلہ) ہی کیوں نہ ہوں (کیونکہ) یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے نقش فرمادیا (دولت) ایمان کو اور اس نے ان کی تائید (وتقویت) فرمادی اپنی طرف سے ایک عظیم الشان روح کے ذریعے اور وہ ان کو داخل فرمائے گا ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی نہریں جن میں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا اللہ ان سے راضی ہوگیا اور یہ اس سے راضی ہوگئے یہ لوگ ہیں اللہ کی جماعت آگاہ رہو کہ اللہ کی جماعت ہی یقینی طور پر فلاح پانے والی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ انہیں نہ پائیں گے کہ وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے پیغمبر کے مخالف ہیں خواہ وہ لوگ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے کنبے والے ہی کیوں نہ ہوں یہ وہ لوگ ہیں کہ (اللہ نے) ان کے دلوں میں ایمان ثبت کردیا ہے اور انہیں اپنے فیض سے قوت دی ہے۔ اور انہیں ایسے باغوں میں جا داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اللہ سے خوش ہوں گے یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں خوب سن لو کہ اللہ ہی کے گروہ والے فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم نہیں پائو گے ان لوگوں کو جو حقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت کر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتے دار ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور وہ داخل کرے گا انہیں ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ یہ لوگ ہیں اللہ کی جماعت ! آگاہ ہو جائو ! یقینا اللہ کی جماعت کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کو اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے۔ اور روح قدس کے ذریعے سے ان کی مدد کی ہے اور وہ ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش۔ یہی گروہ اللہ کا لشکر ہے۔ اور سن رکھو کہ اللہ ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You shall not find a people who believe in Allah and the Last Day befriending those who oppose Allah and His Messenger even though they be their fathers or their sons or their brothers or their kindred. He has inscribed faith in their hearts and has strengthened them with a spirit from Him, and He shall make them enter Gardens beneath which rivers flow. Therein they shall abide. Allah is well-pleased with them, and they are well-pleased with Him. They belong to Allah's party. Verily Allah's party shall prosper.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You will not find those who believe in Allah and in the Hereafter having friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they may be their fathers or their sons or their brothers or their clan. They are such that Allah has inscribed faith on their hearts, and has supported them with a spirit from Him. He will admit them to gardens beneath which rivers flow, in which they will live forever. Allah is pleased with them, and they are pleased with Allah. Those are the party of Allah. Be assured that it is (the members of) the party of Allah that are the successful.

— Muhammad Taqi Usmani

You will not find those who believe in Allah and in the Hereafter having friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they may be their fathers or their sons or their brothers or their clan. They are such that Allah has inscribed faith on their hearts, and has supported them with a spirit from Him. He will admit them to gardens beneath which rivers flow, in which they will live forever. Allah is pleased with them, and they are pleased with Allah. Those are the party of Allah. Be assured that it is (the members of) the party of Allah that are the successful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred. For such He has written faith in their hearts, and strengthened them with Ruh from Himself. And He will admit them to Gardens under which rivers flow, to dwell therein (forever). Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him. They are the party of Allah. Verily, the party of Allah will be the successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thou wilt not find folk who believe in Allah and the Last Day loving those who oppose Allah and His messenger, even though they be their fathers or their sons or their brethren or their clan. As for such, He hath written faith upon their hearts and hath strengthened them with a Spirit from Him, and He will bring them into Gardens underneath which rivers flow, wherein they will abide. Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him. They are Allah's party. Lo! is it not Allah's party who are the successful?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

You will not find a people who believe in Allah and the Last Day having affection for those who oppose Allah and His Messenger, even if they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred. Those - He has decreed within their hearts faith and supported them with spirit from Him. And We will admit them to gardens beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. Allah is pleased with them, and they are pleased with Him - those are the party of Allah. Unquestionably, the party of Allah - they are the successful.

— Saheeh International

You will not find any people of faith in God and the Day of Judgment who would establish friendship with those who oppose God and His Messenger, even if it would be in the interest of their fathers, sons, brothers, and kinsmen. God has established faith in their hearts and supported them by a Spirit from Himself. He will admit them to Paradise wherein streams flow to live therein forever. God is pleased with them and they are pleased with God. These are members of the party of God and the party of God will certainly have everlasting happiness.

— Muhammad Sarwar

You shall not find a people who believe in Allah and the latter day befriending those who act in opposition to Allah and His Apostle, even though they were their (own) fathers, or their sons, or their brothers, or their kinsfolk; these are they into whose hearts He has impressed faith, and whom He has strengthened with an inspiration from Him: and He will cause them to enter gardens beneath which rivers flow, abiding therein; Allah is well-pleased with them and they are well-pleased with Him these are Allah's party: now surely the party of Allah are the successful ones.

— Muhammad Habib Shakir

Thou shalt not find a people who believe in Allah and the Last Day befriending those who oppose Allah and His apostle, even though they be their fathers or their sons or their brethren or their kindred. These! He hath inscribed faith on their hearts and hath strengthened them with a spirit from Him: and He shall make them enter Gardens whereunder rivers flow as abiders therein. Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him. These are Allah's band. Lo! verily it is the Allah's band that are the blissful.

— Abdul Majid Daryabadi

Thou wilt not find any people who believe in Allah and the Last Day, loving those who resist Allah and His Messenger, even though they were their fathers or their sons, or their brothers, or their kindred. For such He has written Faith in their hearts, and strengthened them with a spirit from Himself. And He will admit them to Gardens beneath which Rivers flow, to dwell therein (for ever). Allah will be well pleased with them, and they with Him. They are the Party of Allah. Truly it is the Party of Allah that will achieve Felicity.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 58:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–22

جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کرچکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کرچکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُجَادِلَة 37 اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک بات اصولی ہے، اور دوسری امر واقعی کا بیان۔ اصولی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے دین کی محبت، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ اجتماع کسی طرح قابل تصور نہیں ہے۔ یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ ایمان اور دشمنان خدا و رسول کی محبت ایک دل میں جمع ہوجائیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک آدمی کے دل میں اپنی ذات کی محبت اور اپنے دشمن کی محبت بیک وقت جمع نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ ایمان کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس نے ایسے لوگوں سے محبت کا رشتہ بھی جوڑ رکھا ہے جو اسلام کے مخالف ہیں تو یہ غلط فہمی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مسلمان کی دلی دوستی کسی کافر سے نہیں ہو سکتی (آیت) لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ الایتہ، پہلی آیات میں کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والوں پر غضب الٰہی اور عذاب شدید کا ذکر تھا، اس آیت میں مومنین مخلصین کا حال ان کے مقابل بیان فرمایا کہ وہ کسی ایسے شخص سے دوستی اور دلی تعلق نہیں رکھتے جو اللہ کا مخالف یعنی کافر ہے، اگرچہ وہ ان کا باپ یا اولاد یا بھائی یا اور قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ صحابہ کرام سب ہی کا حال یہ تھا، اس جگہ مفسرین نے بہت سے صحابہ کرام کے واقعات ایسے بیان کئے ہیں جن میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاذ اللہ ورسولہ ولو گانو اباء ھم اوا بناء ھم اوا حوانھم او عشیرتھم اولیک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ ویدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا رضی اللہ عنھم ورضواعنہ اولیک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون (22)۔ (منافقین کے سامنے ایک واضح کسوٹی)۔ اب یہ آخر میں ایک نہایت واضح کسوٹی منافقین کے سامنے رکھ دی تاکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان کوئی التباس باقی نہ رہے اور وہ جس کا بھی ساتھ دیں علی وجہ البصیرت ساتھ دیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں میں سے وہ ایک ہی کو اختیار کرسکتے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ بیک وقت وہ دونوں کے ساتھ چل سکیں۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں وہ اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے گویا ایمان اور اللہ رسول ﷺ کے دشمنوں کی محبت ونصرت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلا (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 28) 3۔ آل عمران :28) (قُلْ اِنْ كَانَ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

12:: سورة آل عمران : 28 کے حاشیہ میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ غیر مسلموں سے کس قسم کی دوستی جائز اور کس قسم کی ناجائز ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لا تجدوقوما ............................ المفلحون (85 : 22) ” تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو ، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ایمان ان کے دلوں میں جما دیا اور پتھر کی لکیر کی طرح ثبت کردیا۔ 2 یعنی غیبی نور عطا فرمایا جس سے قلب کو ایک خاص قسم کی معنوی حیات ملتی ہے یا روح القدس ( جبرائیل) سے ان کی مدد فرمائی۔ 3 یعنی یہ لوگ اللہ کے واسطے سب سے ناراض ہوئے تو اللہ ان سے راضی ہوا۔ پھر جس سے اللہ راضی ہو اسے اور کیا چاہیے۔ 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں۔ ان کو یہ درجے ملتے ہیں۔ " صحابہ ؓ کی شان یہ ہی تھی کہ اللہ و رسول کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی، اسی سلسلہ میں ابو عبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔ جنگ " احد " میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22{ لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ } ”تم نہیں پائو گے ان لوگوں کو جو حقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت کر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی“ یہ حکم ان کفار و مشرکین کے لیے ہے جو اسلام کی مخالفت میں فعال active اور سرگرم عمل ہوں۔ جہاں تک ان کفار و مشرکین کا تعلق ہے جو ایسی کسی جدوجہد میں بالفعل فعال نہ ہوں ‘ ان کے بارے میں حکم آگے سورة الممتحنہ میں آئے گا۔ { وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَآئَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْط } ”خواہ وہ ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 کافروں سے دوستی رکھنا بھی کفر ہے :۔ یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت دو متضاد باتیں ہیں جو ایک دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں جیسے دن اور رات یا روشنی اور تاریکی ایک ہی وقت میں جمع نہیں ہوسکتے۔ لیکن منافقوں کی فریب کاری یہ ہے کہ وہ دونوں کام بیک وقت کر رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک ہی بات درست ہوسکتی ہے۔ اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے دوستی رکھ ہی نہیں سکتے۔ اور اگر دوستی رکھتے ہیں تو کبھی ایماندار نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہی ہوتا ہے۔ پھر اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

36۔ چناچہ وہ لوگ ظاہر میں احکام پر عمل کرتے رہتے ہیں۔ اور باطن میں اسی سے سکون بھی حاصل کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” لاتجد ...... عشیرتھم “۔ مومن کامل ومخلص کی ایک خاص علامت یہ ہوتی ہے۔ کہ وہ دوست بھی اپنے محبوب حقیقی کے دوستوں اور مخلصوں ہی کو رکھتا ہے اور اس کے باغیوں، منکروں کو اپنا بھی دشمن سمجھتا ہے، یہاں تک کہ اس کی طبعی محبتوں پر بھی حق تعالیٰ کی عقلی محبت غالب آجاتی ہے، یہ چند رشتے صرف نمونہ کے طور پر گنادئے گئے، انہوں رشتوں کی تعیین و تخصیص مراد نہیں۔ ولیس المراد من ذکر خصوصھم وانما المرادالاقارب مطلقا (روح) (آیت) ” بروح منہ “۔ یعنی وہ سکینت یا نورانیت جو حیات معنوی کو قائم رکھتی اور ترقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

لاتجدقوما یومنون باللہ والیوم الاخریو ادون من حاد اللہ و رسولہ ولوکانوا آبائھم پہلی آیت میں کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والوں یعنی غیر مخلصین (منافق) مسلمانوں کا ذکر تھا جن کے لئے غضب الٰہی اور عذاب شدید کا ذکر تھا، اس آیت میں مومنین مخلصین کا ان کے مقابل ذکر فرمایا کہ وہ کسی ایسے شخص سے دوستی اور دلی تعلق نہیں رکھتے جو اللہ کا مخالف یعنی کافر ہے اگرچہ وہ ان کا باپ یا بیٹا یا بھائی یا اور قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں، ایک بات اصولی ہے اور دوسری امرواقعی، اصولی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے حق کی محبت، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ ولو کانوا اباء ھم او ابناء ھم او اخوانھم او عشیرتھم اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ و یدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ؓ و رضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون . ” جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں ‘ آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں ‘ خواہ وہ مخالفت کرنے والے ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے کنبے والے ہوں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان جما دیا ہے اور ان کو اپنے نور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اگلی آیت حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے مکہ والوں کو رسول اکرم کی کچھ خفیہ باتوں سے مطلع کرنے کے لیے خط لکھا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں یعنی حضرت حاطب آپ انہیں ایسا نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے افراد سے خیر خواہی کریں اور دین میں ان سے دوستی رکھیں یعنی مکہ والوں سے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین میں مخالفت کرتے ہیں گو ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی محبت اور ان کی تصدیق کو ثبت کردیا ہے اور اپنی رحمت یا یہ کہ اپنی مدد سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ۔۔۔۔۔۔: یعنی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں ، خواہ وہ آدمی کے کتنے قریبی رشتہ دار ہوں ، اس لیے منافقین جو ایمان کے دعوے کے باوجود کفار سے دوستی رکھتے ہیں ان کا ایمان کا دعویٰ غلط ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (28) اور سورة ٔ توبہ (23، 24) 2۔ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ : یعنی یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے ، خواہ وہ کتنے قریبی رشتہ دار ہوں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیات۔ 22 تفسیر اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔……………یعنی وہ محبت کرتے ہوں اور ان سے دوسری رکھتے ہو۔ من حاد اللہ ورسولہ اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ ولو کانو اباھ ھم سدی نے کہا : یہ آیت عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی کے حق میں نازل ہوئی وہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے پانی نوش کیا انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ آپ اپنے پانی میں سے کوئی چیز باقی چھوڑتے جسے میں اپنے باپ کو پلاتا ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کے دل کو پاکیزہ بنا دیتا ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے پانی چھوڑ دیا تو وہ پانی عبد اللہ بن ابی کے پاس لے آیا۔ عبد اللہ بن ابی نے کہا : یہ کیا چیز ہے ؟ بیٹے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

6۔ آیت لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ۔ جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں ج واللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ سفیان نے کہا کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بادشاہ سے میل جول رکھتے ہیں۔ 7۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا اللہ کی رضا کے لیے محبت کر، اللہ کی رضا کے لیے بغض رکھ۔ اللہ کی رضا کے لیے دشمنی رکھ۔ اور اللہ کی رضا کے لیے دوستی قائم کر۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دوستی اور ولایت اسی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَا تَجِدُ قَوْمًا : تو نہیں پائے گا کسی ایسی قوم کو جو ][ يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : ایمان لاتی ہو اللہ پر اور آخری دن پر ][ يُوَاۗدُّوْنَ : خیر خواہی کرتے ہوئے ][ مَنْ : اس کی جس نے ][ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول کی ][وَلَوْ كَانوْٓا : اور اگرچہ وہ لوگ ہوں ][ اٰبَاۗءَهُمْ : ان کے باپ دادا ][ اَوْ اَبْنَاۗءَهُمْ : یا ان کے بیٹے ][ اَوْ اِخْوَانهُمْ : یا ان کے بھائی ][ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ : یا ان کی برادری کے ][ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ][ كَتَبَ : اس نے لکھ دیا ][ فِيْ قُلُوْبِهِمُ : جن کے دلوں میں ][الْاِيْمَان : ایمان ][ وَاَيَّدَهُمْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غزوہٴ بدر میں حضرات صحابہ نے ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کافر رشتہ داروں کو قتل کردیا حضرات صحابہ ؓ کو ایسے متعد دواقعات پیش آئے کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دشمن اسلام کو یہ جانتے ہوئے قتل کردیا کہ یہ میرا باپ ہے یا بھائی ہے یاکنبہ کا فرد ہے چناچہ غزوہ بدر میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے اپنے باپ جراح کو قتل کردیا تھا اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اور حضرت عمر ؓ نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو قتل کردیا تھا۔ مفسر ابن کثیر نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں یہ مثالیں لکھی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے بیٹے عبدالرحمن نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے والد سے کہا کہ ابا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–22

تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23:۔ ” لاتجد قوما “ آخر میں حزب الشیطان (شیطانی ٹولے) کے مقابلے میں حزب اللہ (اللہ کی جماعت) یعنی مخلص مؤمنین کی مدح اور ان کے لیے دنیوی و اخروی بشارت کا ذکر ہے۔ یہ منافقین جن کا گٹھ جوڑ اور جن کی در پردہ دوستی کفار و یہود سے ہے جو خدا اور رسول کے سخت دشمن ہیں، کیا یہ مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں ؟ حالانکہ تم دنیا میں کہیں بھی ایسے لوگ نہیں پاؤ گے جو دل و جان سے مؤمن ہوں اور پھر ایسے لوگوں سے دوستی بھی کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی اور قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ” کتب فی قلوبہم الایمان “ ایمان کو ان کے دلوں میں محکم کردیا۔ روح سے مراد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ مغضوب علیہ قوم یعنی یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں مگر مسلمانوں کے سامنے اپنے خلوص کا اظہار کے لئے جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو شیطان کے گروہ میں شمار کیا ہے اور یہ گروہ یقینا نقصان اٹھانے والا ہے پھر اللہ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل لوگ ہیں مگر بالانتہا غلبہ اہل ایمان کو ہی حاصل ہوگا کیونکہ ساری عزت اور قوت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہ اپنے بندوں کی ضرور مدد کرے گا۔ اس کے بعد اللہ نے سچے اور مخلص مومنوں کے اوصاف اور ان کا مرتبہ بھی بیان فرمایا کہ یہ لوگ حزب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِہِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ۝ 0 ۭ وَيُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝ 0 ۭ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللہِ۝ 0 ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝ 22 ۧ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ حزب اللہ ہونا صحابہ ؓ کا یہاں تک ہے کہ اہل بدر کے اسماء گرامی سحر و جادو و دفع غلبہ عداد شیاطین کے لیے عجب خاصیت رکھتے ہیں بارہا تجربہ یہ ہوا ہے ان کی روحانیت و اسمائے شریفہ میں یہ تاثیر خدا نے دی ہے۔ 12 منہ 2 ؎ دوسری جگہ غالبون بھی آیا ہے کہ اللہ کا گروہ غالب رہے گا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّاللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَآئَ ھُمْ اَوْاَبْنَـآئَ ھُمْ اَوْاِخْوَانَھُمْ اَوْعَشِیْرَتَھُمْ ط اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ط وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط اُوْلٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ ط اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 22) (تم کوئی ایسی قوم نہیں پاسکتے کہ جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ دوستی رکھے ان سے جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کا لشکر اس لیے غالب آتا ہے کیونکہ وہ لوگ سب سے کٹ کر ” اللہ “ کے ہوجاتے ہیں۔ حقیقی ایمان کا تقاضا ہے کہ مسلمان کسی خوف اور لالچ کی پرواہ کیے بغیر صرف ” اللہ “ کے ہوجائیں یعنی وہ ہر حال میں دین اسلام پر قائم رہیں کیونکہ جرأت اور استقامت کے بغیر مسلمان حزب الشیطان پر غالب نہیں آسکتے۔ اس لیے لازم ہے کہ وہ ایمان کے رشتے کو دنیا کے تمام تعلقات اور رشتوں پر ترجیح دیں، جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان لاتے ہیں ان میں یہ وصف بدرجہ اتم پایا جاتا ہے کہ وہ ایمان اور مسلمانوں کے مقابلے میں کسی رشتہ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کے لیے سب سے پہلے کامل اور اکمل نمونہ صحابہ ؓ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآ دُّوْنَ (جو لوگ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں۔ آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہوں) یوادونؔ یہ تجد کا مفعول ثانی ہے۔ یا حال ہے یا قوما کی صفت ہے۔ اور تجدؔ کا معنی مقابل پانا ہے۔ مَنْ حَآ دَّ اللّٰہَ (جو اللہ تعالیٰ کے مخالف ہوں) مخالفت اور عداوت رکھنے والا وَرَسُوْلَہٗ (اور اس کے رسول کے) مومن مشرک سے موالات نہیں کرسکتا : مطلب یہ ہے کہ یہ بات ناممکن ہے کہ مومن ہو کر مشرکین سے موالات ومودت قائم کرنے والا ہو۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمنوں کیلئے یہ مناسب نہیں ہے۔ اور مومن کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” کتب اللہ “ اللہ تعالیٰ ثابت قضاء کی۔ ” لا غلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز “ اس کی نظیر اللہ کا قول ” ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انھم لھم المنصورون “ زجاج (رح) فرماتے ہیں رسولوں کا غلبہ دو قسم پر ہے جو ان میں سے جنگ کے ساتھ مبعوث کیے گئے۔ پس وہ جنگ کے ذریعے غالب ہیں اور جو جنگ کا حکم نہیں دیئے گئے پس وہ دلیل کے ذریعے غالب ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–22

14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اے نبی آپ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے یعنی یہ دونوں رویے ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے بندہ اس وقت تک اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایمان کے تقاضوں اور اس کے لوازم پر عمل نہیں کرتا ایمان کو قائم کرنے والے کے ساتھ محبت اور موالات رکھنا یہ ہے کہ اس شخص کے ساتھ بغض اور عداوت رکھی جائے جو ایمان کو قائم نہیں کرتا خواہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس کے قریب ہی کیوں نہ ہو یہ ہے وہ حقیقی ایمان، جس کا پھل ملتا ہے اور جس مقصود حاصل ہوتا ہے اس وصف کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

اہل حرب سے دوستی کی ممانعت قول باری ہے (لا تجد قوما یومنون باللہ ولایوم الاخریوادون من حاد اللہ وورسولہ جو لوگ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہیں آپ نہیں نہیں پائیں گے کہ وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ محاورہ کے معنی یہ ہیں کہ فریقین میں سے ہر فریق ایک حد اور مقام میں ہو جو دوسرے فریق کی حد اور مقام سے الگ اور جدا ہو۔ ظاہر آیت اس امر کا مقتضی ہے کہ مذکورہ لوگوں سے اہل حرب مراد ہیں۔ کیونکہ ان کی حد الگ ہے اور ہماری حد الگ ۔ یہ بات اہلحرب سے خواہ وہ اہل کتاب ہی کیوں نہ ہوں شادی بیاہ کی کراہت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ مناکحت ایک دوسرے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 64] ایمان و کفر کی دوستی کبھی یکجا نہیں ہوسکتی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان والے خدا کے دشمنوں سے کبھی دوستی نہیں کر رکھ سکتے، پس جہاں کہیں مسلمانوں کو ظاہری طور پر ایسے لوگوں سے میل جول رکھنا پڑے وہ الگ چیز ہے، لیکن باطن کا تعلق اور دلوں کی محبت خدا و رسول کے دشمنوں، باغیوں اور سرکشوں اور ملحدوں منکروں سے ایک مومن صادق کے لیے ممکن ہی نہیں، پس جو شخص ایک محبوب سے بھی دوستی رکھے اور اس کے دشمن سے محبت بھی رکھے وہ اپنے دعوی ایمان میں یقینا جھوٹا ہے، سو اس ارشاد سے منافقین کے سامنے حق اور باطل کے درمیان کے پرکھ اور تمیز کیلئے ایک واضح کسوٹی رکھ دی گئی، بہرکیف اس سے یہ اہم اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

سچے مسلمان کی نشانی تشریح : اس آیت میں پھر پیشین گوئی مل رہی ہے کہ سچے مسلمان ہی اللہ کا لشکر کہلاتے ہیں تو بھلا اللہ کے لشکر کو کون شکست دے سکتا ہے۔ یعنی بالآخر اسلام کا جھنڈا ہی پوری دنیا پر لہرانے والا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان سیدناابوبکر صدیق ؓ سیدناعمر ؓ ، سیدناعثمان ؓ اور سیدناعلی ؓ جیسے سچے مسلمان ہوں۔ اس کو حدیث کی مدد سے واضح کرتے ہیں۔ سیدناابو حازم عروج (رح) نے زہری (رح) کو لکھا کہ، جاہ دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی، جن کی صفت اللہ کے رسول ﷺ نے بھی فرمائی ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–22

آیات 14 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔ آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔ کفار سے معاہدہ۔ عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 مطلب یہ یہ کہ اللہ و آخرت پر ایمان اور اللہ و رسول کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔8 یہ آیت صحابہ کرام کی شان میں نازل ہوئی۔ چناچہ حدیث و سیرت کی کاتبوں میں ہے کہ جنگ بدر میں حضرت ابوعبیدہ نے اپنے والد کو قتل کیا۔ جنگ اس میں حضرت ابوبکر صدق اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے مقابلے میں نکلے۔ حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمر کو اور حضرت عمر نے اپنے ماموں قاص بن ہشام کو اور حضرت علی حمزہ اور عبیدہ بن حارث نے عتبہ شبیہ اور ولید بن قلبہ کو (جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے) قتل کیا رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ نے جو مخلص مسلمان تھے آنحضرت سے عرض…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(58:22) لاتجد : مضارع منفی۔ واحد مذکر حاضر وجود (باب ضرب) مصدر۔ تو نہیں پائے گا۔ قوما : لا تجد کا مفعول یؤمنون باللہ والیوم الاخر جملہ صفت ہے قوما کی یعنی ایسے لوگ جو اللہ پر اور روز قیامت پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں۔ یوادون من حاد اللہ ورسولہ : قوما کی صفت ثانی۔ ترجمہ ہوگا :۔ آپ ایسی کوئی قوم نہیں پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں۔ (تفسیر حقانی) یا یہ جملہ قوما سے حال ہے۔ اور ترجمہ یوں ہے :۔ جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–22

لغات القرآن۔ یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–22

کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[23] روح سے مراد نور ہے جو منجانب اللہ مومن کو ملتا ہے اور وہی اس کے عمل صالح اور قلب کے سکون و اطمینان کا ذریعہ ہوتا ہے۔ [24] بہ سبب ان کے ایمان و اخلاص و اطاعت کے۔ [25] یعنی وہ اپنے رب کے جن وعدوں پر دنیا میں جئے اور مرے وہ سارے وعدے ان کی امیدوں سے کہیں بہتر شکل میں ان کے سامنے آئیں گے اور وہ نہال ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اصل دین محبت وعشق ہے 1: اسلام دنیا میں پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے انسان کو فطرت کو بدل دیا ہے اور نفسیات تک تبدیل کردی ہیں ۔ یہی وہ مذہب ہے جس نے حریت انگیز طور پر محسوسات کی دنیائے سے روح انسانی کو لاہوت کی دنیا سے وابستہ کردی ہے ۔ بلکہ یوں کہیے ۔ کہ بھی وہ قوت ہے جس نے قلوب میں تمام رشتوں کی اہمیت کو اس تعلق کے مقابلہ میں گھٹادیا ہے ۔ جو ایک مرد مسلمان کا اس کے اللہ اور رسول کے ساتھ ہے ۔ چناچہ اسلام نے بھی محبت اسی شفقت اور اسی تحقیق کو معیاد ایمان قرار دیا ہے ۔ یہ جس سے دل میں اسلامی کی محبت ہے ۔ جو خدا اور اس نے رسول کو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب سمجھتا ہے ۔ چناچہ منافقین کو مخاطب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے محبت کرتے ہوئے نہ دیکھیں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں خواہ وہ مخالفت کرنے والے ان اہل ایمان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے اور عزیز اقارب ہوں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ثبت کردیا ہے اور مضبوط کردیا ہے اور جما دیا ہے اور اپنے غیبی فیضان سے ان کی مدد اور تائید فرمائی ہے اور آخرت میں ان کو ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جن کے پائیں نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان باغوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–22

ف 3۔ مقصود یہاں غلبہ بیان کرنا انبیاء کا ہے، اپنا ذکر تشریف انبیاء کے لئے فرمادیا۔ 4۔ اس لئے وہ جس کو چاہئے غالب کردے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سچے اور پکے مومنوں کی نشانی جس سے ان کی شناخت کی جاسکتی ہے 22 ؎ بلا شبہ جہاں اصل ہوتی ہے وہاں اس کی نقل بھی موجود ہوتی ہے وہاں اس کی نقل بھی موجود ہوتی ہے۔ جہاں کھرا ہوتا ہے وہاں کھوٹا بھی لیکن یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اصل اور نقل ، کھرے اور کھوٹے کی پہچان کریں ۔ بیوقوف ہیں وہ جو نقل کی شناخت کرنے کی بجائے اصل کو بھی چھوڑ دیں اور کھوٹے کی شناخت کرنے کی بجائے کھرے کو پھینک دیں ۔ آپ پیچھے سے بھی بڑھتے چلے آ رہے ہیں اور زیر نظر سورت میں بھی وضاحت سے پڑھ چکے ہیں کہ ہجرت مدینہ کے بعد جہاں ایمان لانے والوں میں بہت اضافہ ہوا وہاں ان ایمان لانے والوں میں ایک منافقوں کا گروہ بھی پیدا ہوگیا وہ اس طرح کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Believers cannot entertain intimacy with non-Believers لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ (You shall not find those who believe in Allah and in the Hereafter having friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers....58:22). The preceding verses showed that those [ hypocrites ] who are in intimate friendship with unbelievers and pagans shall incur Allah's wrath, indignation and severe torment. This verse describes the condition of sincere believers…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

37 Two things have been stated in this verse: first, a matter of principle, and the second, a statement of fact. The matter of principle is that faith in the true Religion and love of the opponents of the Religion are contradictory things, which cannot conceivably co-exist in one and the same place. It is absolutely impossible that love of the Faith and love of the enemies of Allah and His Messenger should co-exist in one and the same heart, just as a person's love for himself and his love for his enemy cannot co-exist in his heart simultaneously This is as if to say: 'lf you sec a person who…

Read the full tafseer →