Explained with ayahs 20–22
جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کرچکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کرچکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 37
اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک بات اصولی ہے، اور دوسری امر واقعی کا بیان۔ اصولی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے دین کی محبت، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ اجتماع کسی طرح قابل تصور نہیں ہے۔ یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ ایمان اور دشمنان خدا و رسول کی محبت ایک دل میں جمع ہوجائیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک آدمی کے دل میں اپنی ذات کی محبت اور اپنے دشمن کی محبت بیک وقت جمع نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ ایمان کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس نے ایسے لوگوں سے محبت کا رشتہ بھی جوڑ رکھا ہے جو اسلام کے مخالف ہیں تو یہ غلط فہمی…
Read the full tafseer →مسلمان کی دلی دوستی کسی کافر سے نہیں ہو سکتی
(آیت) لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ الایتہ، پہلی آیات میں کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والوں پر غضب الٰہی اور عذاب شدید کا ذکر تھا، اس آیت میں مومنین مخلصین کا حال ان کے مقابل بیان فرمایا کہ وہ کسی ایسے شخص سے دوستی اور دلی تعلق نہیں رکھتے جو اللہ کا مخالف یعنی کافر ہے، اگرچہ وہ ان کا باپ یا اولاد یا بھائی یا اور قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔
صحابہ کرام سب ہی کا حال یہ تھا، اس جگہ مفسرین نے بہت سے صحابہ کرام کے واقعات ایسے بیان کئے ہیں جن میں…
Read the full tafseer →(لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاذ اللہ ورسولہ ولو گانو اباء ھم اوا بناء ھم اوا حوانھم او عشیرتھم اولیک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ ویدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا رضی اللہ عنھم ورضواعنہ اولیک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون (22)۔
(منافقین کے سامنے ایک واضح کسوٹی)۔ اب یہ آخر میں ایک نہایت واضح کسوٹی منافقین کے سامنے رکھ دی تاکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان کوئی التباس باقی نہ رہے اور وہ جس کا بھی ساتھ دیں علی وجہ البصیرت ساتھ دیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں میں سے وہ ایک ہی کو اختیار کرسکتے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ بیک وقت وہ دونوں کے ساتھ چل سکیں۔…
Read the full tafseer →22۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں وہ اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے گویا ایمان اور اللہ رسول ﷺ کے دشمنوں کی محبت ونصرت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلا (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 28) 3۔ آل عمران :28) (قُلْ اِنْ كَانَ…
Read the full tafseer →12:: سورة آل عمران : 28 کے حاشیہ میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ غیر مسلموں سے کس قسم کی دوستی جائز اور کس قسم کی ناجائز ہے۔
Read the full tafseer →لا تجدوقوما ............................ المفلحون (85 : 22) ” تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو ، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاں…
Read the full tafseer →1 یعنی ایمان ان کے دلوں میں جما دیا اور پتھر کی لکیر کی طرح ثبت کردیا۔
2 یعنی غیبی نور عطا فرمایا جس سے قلب کو ایک خاص قسم کی معنوی حیات ملتی ہے یا روح القدس ( جبرائیل) سے ان کی مدد فرمائی۔
3 یعنی یہ لوگ اللہ کے واسطے سب سے ناراض ہوئے تو اللہ ان سے راضی ہوا۔ پھر جس سے اللہ راضی ہو اسے اور کیا چاہیے۔
4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں۔ ان کو یہ درجے ملتے ہیں۔ " صحابہ ؓ کی شان یہ ہی تھی کہ اللہ و رسول کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی، اسی سلسلہ میں ابو عبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔ جنگ " احد " میں…
Read the full tafseer →آیت 22{ لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ } ”تم نہیں پائو گے ان لوگوں کو جو حقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت کر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی“
یہ حکم ان کفار و مشرکین کے لیے ہے جو اسلام کی مخالفت میں فعال active اور سرگرم عمل ہوں۔ جہاں تک ان کفار و مشرکین کا تعلق ہے جو ایسی کسی جدوجہد میں بالفعل فعال نہ ہوں ‘ ان کے بارے میں حکم آگے سورة الممتحنہ میں آئے گا۔
{ وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَآئَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْط } ”خواہ وہ ان…
Read the full tafseer →26 کافروں سے دوستی رکھنا بھی کفر ہے :۔ یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت دو متضاد باتیں ہیں جو ایک دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں جیسے دن اور رات یا روشنی اور تاریکی ایک ہی وقت میں جمع نہیں ہوسکتے۔ لیکن منافقوں کی فریب کاری یہ ہے کہ وہ دونوں کام بیک وقت کر رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک ہی بات درست ہوسکتی ہے۔ اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے دوستی رکھ ہی نہیں سکتے۔ اور اگر دوستی رکھتے ہیں تو کبھی ایماندار نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہی ہوتا ہے۔ پھر اللہ کے…
Read the full tafseer →36۔ چناچہ وہ لوگ ظاہر میں احکام پر عمل کرتے رہتے ہیں۔ اور باطن میں اسی سے سکون بھی حاصل کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” لاتجد ...... عشیرتھم “۔ مومن کامل ومخلص کی ایک خاص علامت یہ ہوتی ہے۔ کہ وہ دوست بھی اپنے محبوب حقیقی کے دوستوں اور مخلصوں ہی کو رکھتا ہے اور اس کے باغیوں، منکروں کو اپنا بھی دشمن سمجھتا ہے، یہاں تک کہ اس کی طبعی محبتوں پر بھی حق تعالیٰ کی عقلی محبت غالب آجاتی ہے، یہ چند رشتے صرف نمونہ کے طور پر گنادئے گئے، انہوں رشتوں کی تعیین و تخصیص مراد نہیں۔ ولیس المراد من ذکر خصوصھم وانما المرادالاقارب مطلقا (روح) (آیت) ” بروح منہ “۔ یعنی وہ سکینت یا نورانیت جو حیات معنوی کو قائم رکھتی اور ترقی…
Read the full tafseer →لاتجدقوما یومنون باللہ والیوم الاخریو ادون من حاد اللہ و رسولہ ولوکانوا آبائھم پہلی آیت میں کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والوں یعنی غیر مخلصین (منافق) مسلمانوں کا ذکر تھا جن کے لئے غضب الٰہی اور عذاب شدید کا ذکر تھا، اس آیت میں مومنین مخلصین کا ان کے مقابل ذکر فرمایا کہ وہ کسی ایسے شخص سے دوستی اور دلی تعلق نہیں رکھتے جو اللہ کا مخالف یعنی کافر ہے اگرچہ وہ ان کا باپ یا بیٹا یا بھائی یا اور قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔
اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں، ایک بات اصولی ہے اور دوسری امرواقعی، اصولی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے حق کی محبت، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ…
Read the full tafseer →لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ ولو کانوا اباء ھم او ابناء ھم او اخوانھم او عشیرتھم اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ و یدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ؓ و رضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون .
” جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں ‘ آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں ‘ خواہ وہ مخالفت کرنے والے ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے کنبے والے ہوں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان جما دیا ہے اور ان کو اپنے نور…
Read the full tafseer →اگلی آیت حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے مکہ والوں کو رسول اکرم کی کچھ خفیہ باتوں سے مطلع کرنے کے لیے خط لکھا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں یعنی حضرت حاطب آپ انہیں ایسا نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے افراد سے خیر خواہی کریں اور دین میں ان سے دوستی رکھیں یعنی مکہ والوں سے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین میں مخالفت کرتے ہیں گو ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی محبت اور ان کی تصدیق کو ثبت کردیا ہے اور اپنی رحمت یا یہ کہ اپنی مدد سے…
Read the full tafseer →1۔ لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ۔۔۔۔۔۔: یعنی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں ، خواہ وہ آدمی کے کتنے قریبی رشتہ دار ہوں ، اس لیے منافقین جو ایمان کے دعوے کے باوجود کفار سے دوستی رکھتے ہیں ان کا ایمان کا دعویٰ غلط ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (28) اور سورة ٔ توبہ (23، 24)
2۔ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ : یعنی یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے ، خواہ وہ کتنے قریبی رشتہ دار ہوں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے…
Read the full tafseer →آیات۔ 22
تفسیر
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔……………یعنی وہ محبت کرتے ہوں اور ان سے دوسری رکھتے ہو۔
من حاد اللہ ورسولہ اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ ولو کانو اباھ ھم سدی نے کہا : یہ آیت عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی کے حق میں نازل ہوئی وہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے پانی نوش کیا انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ آپ اپنے پانی میں سے کوئی چیز باقی چھوڑتے جسے میں اپنے باپ کو پلاتا ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کے دل کو پاکیزہ بنا دیتا ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے پانی چھوڑ دیا تو وہ پانی عبد اللہ بن ابی کے پاس لے آیا۔ عبد اللہ بن ابی نے کہا : یہ کیا چیز ہے ؟ بیٹے…
Read the full tafseer →6۔ آیت لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ۔ جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں ج واللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ سفیان نے کہا کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بادشاہ سے میل جول رکھتے ہیں۔
7۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا اللہ کی رضا کے لیے محبت کر، اللہ کی رضا کے لیے بغض رکھ۔ اللہ کی رضا کے لیے دشمنی رکھ۔ اور اللہ کی رضا کے لیے دوستی قائم کر۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دوستی اور ولایت اسی…
Read the full tafseer →[لَا تَجِدُ قَوْمًا : تو نہیں پائے گا کسی ایسی قوم کو جو ][ يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : ایمان لاتی ہو اللہ پر اور آخری دن پر ][ يُوَاۗدُّوْنَ : خیر خواہی کرتے ہوئے ][ مَنْ : اس کی جس نے ][ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول کی ][وَلَوْ كَانوْٓا : اور اگرچہ وہ لوگ ہوں ][ اٰبَاۗءَهُمْ : ان کے باپ دادا ][ اَوْ اَبْنَاۗءَهُمْ : یا ان کے بیٹے ][ اَوْ اِخْوَانهُمْ : یا ان کے بھائی ][ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ : یا ان کی برادری کے ][ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ][ كَتَبَ : اس نے لکھ دیا ][ فِيْ قُلُوْبِهِمُ : جن کے دلوں میں ][الْاِيْمَان : ایمان ][ وَاَيَّدَهُمْ…
Read the full tafseer →غزوہٴ بدر میں حضرات صحابہ نے ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کافر رشتہ داروں کو قتل کردیا
حضرات صحابہ ؓ کو ایسے متعد دواقعات پیش آئے کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دشمن اسلام کو یہ جانتے ہوئے قتل کردیا کہ یہ میرا باپ ہے یا بھائی ہے یاکنبہ کا فرد ہے چناچہ غزوہ بدر میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے اپنے باپ جراح کو قتل کردیا تھا اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اور حضرت عمر ؓ نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو قتل کردیا تھا۔
مفسر ابن کثیر نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں یہ مثالیں لکھی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے بیٹے عبدالرحمن نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے والد سے کہا کہ ابا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
تنبیہ ووعید برموالات ودوستی از قوم مغضوب علیہم وذلت وناکامی حزب الشیطان و فلاح وکامیابی حزب اللہ :۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان منافقین و یہود کا ذکر تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اور مسلمان کو ایذا پہنچانا چاہتے تھے اور مختلف طریقوں سے یہی چاہتے تھے کہ رسول خدا ﷺ کی توہین وبہحرمتی کی جائے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ ایسے گستاخوں اور مغضوب علیہم لوگوں کے ساتھ کسی طرح موالات ودوستی نہ رکھی جائے مقصود یہ کہ جو اسلام اور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے دوست ہیں ان کے واسطے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ایسے گستاخوں اور اسلام دشمن عناصر سے تعلقات ودوستی قائم کریں اسی…
Read the full tafseer →23:۔ ” لاتجد قوما “ آخر میں حزب الشیطان (شیطانی ٹولے) کے مقابلے میں حزب اللہ (اللہ کی جماعت) یعنی مخلص مؤمنین کی مدح اور ان کے لیے دنیوی و اخروی بشارت کا ذکر ہے۔ یہ منافقین جن کا گٹھ جوڑ اور جن کی در پردہ دوستی کفار و یہود سے ہے جو خدا اور رسول کے سخت دشمن ہیں، کیا یہ مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں ؟ حالانکہ تم دنیا میں کہیں بھی ایسے لوگ نہیں پاؤ گے جو دل و جان سے مؤمن ہوں اور پھر ایسے لوگوں سے دوستی بھی کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی اور قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ” کتب فی قلوبہم الایمان “ ایمان کو ان کے دلوں میں محکم کردیا۔ روح سے مراد…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ مغضوب علیہ قوم یعنی یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں مگر مسلمانوں کے سامنے اپنے خلوص کا اظہار کے لئے جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو شیطان کے گروہ میں شمار کیا ہے اور یہ گروہ یقینا نقصان اٹھانے والا ہے پھر اللہ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل لوگ ہیں مگر بالانتہا غلبہ اہل ایمان کو ہی حاصل ہوگا کیونکہ ساری عزت اور قوت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہ اپنے بندوں کی ضرور مدد کرے گا۔ اس کے بعد اللہ نے سچے اور مخلص مومنوں کے اوصاف اور ان کا مرتبہ بھی بیان فرمایا کہ یہ لوگ حزب…
Read the full tafseer →لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِہِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ 0 ۭ وَيُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا 0 ۭ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ حِزْبُ اللہِ 0 ۭ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 22 ۧ
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه .
ووجدت صوته، ووجدت…
Read the full tafseer →1 ؎ حزب اللہ ہونا صحابہ ؓ کا یہاں تک ہے کہ اہل بدر کے اسماء گرامی سحر و جادو و دفع غلبہ عداد شیاطین کے لیے عجب خاصیت رکھتے ہیں بارہا تجربہ یہ ہوا ہے ان کی روحانیت و اسمائے شریفہ میں یہ تاثیر خدا نے دی ہے۔ 12 منہ
2 ؎ دوسری جگہ غالبون بھی آیا ہے کہ اللہ کا گروہ غالب رہے گا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّاللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَآئَ ھُمْ اَوْاَبْنَـآئَ ھُمْ اَوْاِخْوَانَھُمْ اَوْعَشِیْرَتَھُمْ ط اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ط وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط اُوْلٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ ط اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 22)
(تم کوئی ایسی قوم نہیں پاسکتے کہ جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ دوستی رکھے ان سے جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کا لشکر اس لیے غالب آتا ہے کیونکہ وہ لوگ سب سے کٹ کر ” اللہ “ کے ہوجاتے ہیں۔
حقیقی ایمان کا تقاضا ہے کہ مسلمان کسی خوف اور لالچ کی پرواہ کیے بغیر صرف ” اللہ “ کے ہوجائیں یعنی وہ ہر حال میں دین اسلام پر قائم رہیں کیونکہ جرأت اور استقامت کے بغیر مسلمان حزب الشیطان پر غالب نہیں آسکتے۔ اس لیے لازم ہے کہ وہ ایمان کے رشتے کو دنیا کے تمام تعلقات اور رشتوں پر ترجیح دیں، جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان لاتے ہیں ان میں یہ وصف بدرجہ اتم پایا جاتا ہے کہ وہ ایمان اور مسلمانوں کے مقابلے میں کسی رشتہ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کے لیے سب سے پہلے کامل اور اکمل نمونہ صحابہ ؓ…
Read the full tafseer →22 : لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآ دُّوْنَ (جو لوگ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں۔ آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہوں) یوادونؔ یہ تجد کا مفعول ثانی ہے۔ یا حال ہے یا قوما کی صفت ہے۔ اور تجدؔ کا معنی مقابل پانا ہے۔ مَنْ حَآ دَّ اللّٰہَ (جو اللہ تعالیٰ کے مخالف ہوں) مخالفت اور عداوت رکھنے والا وَرَسُوْلَہٗ (اور اس کے رسول کے)
مومن مشرک سے موالات نہیں کرسکتا :
مطلب یہ ہے کہ یہ بات ناممکن ہے کہ مومن ہو کر مشرکین سے موالات ومودت قائم کرنے والا ہو۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمنوں کیلئے یہ مناسب نہیں ہے۔ اور مومن کا…
Read the full tafseer →21 ۔” کتب اللہ “ اللہ تعالیٰ ثابت قضاء کی۔ ” لا غلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز “ اس کی نظیر اللہ کا قول ” ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انھم لھم المنصورون “ زجاج (رح) فرماتے ہیں رسولوں کا غلبہ دو قسم پر ہے جو ان میں سے جنگ کے ساتھ مبعوث کیے گئے۔ پس وہ جنگ کے ذریعے غالب ہیں اور جو جنگ کا حکم نہیں دیئے گئے پس وہ دلیل کے ذریعے غالب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
14۔ 22۔ معتبر سند سے مسند امام احمد تفسیر ابن 4 ؎ ابی حاتم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ منافقوں میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا عبداللہ بن بنتل جو بڑا فسادی تھا آنحضرت ﷺ کے پاس آن کر اکثر بیٹھا کرتا اور پھر آنحضرت ﷺ کی مجلس کی باتیں برائی کے طور پر اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا۔ ایک روز آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تھوڑی دیر میں ایک شخص کرنجی آنکھوں کا بڑا فسادی آنے والا ہے جب وہ آئے تو تم میں سے کوئی شخص اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں عبداللہ بن بنتل آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا…
Read the full tafseer →اے نبی آپ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے یعنی یہ دونوں رویے ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے بندہ اس وقت تک اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایمان کے تقاضوں اور اس کے لوازم پر عمل نہیں کرتا ایمان کو قائم کرنے والے کے ساتھ محبت اور موالات رکھنا یہ ہے کہ اس شخص کے ساتھ بغض اور عداوت رکھی جائے جو ایمان کو قائم نہیں کرتا خواہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس کے قریب ہی کیوں نہ ہو یہ ہے وہ حقیقی ایمان، جس کا پھل ملتا ہے اور جس مقصود حاصل ہوتا ہے اس وصف کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے…
Read the full tafseer →اہل حرب سے دوستی کی ممانعت
قول باری ہے (لا تجد قوما یومنون باللہ ولایوم الاخریوادون من حاد اللہ وورسولہ جو لوگ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہیں آپ نہیں نہیں پائیں گے کہ وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ محاورہ کے معنی یہ ہیں کہ فریقین میں سے ہر فریق ایک حد اور مقام میں ہو جو دوسرے فریق کی حد اور مقام سے الگ اور جدا ہو۔ ظاہر آیت اس امر کا مقتضی ہے کہ مذکورہ لوگوں سے اہل حرب مراد ہیں۔ کیونکہ ان کی حد الگ ہے اور ہماری حد الگ ۔ یہ بات اہلحرب سے خواہ وہ اہل کتاب ہی کیوں نہ ہوں شادی بیاہ کی کراہت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ مناکحت ایک دوسرے کی…
Read the full tafseer →[ 64] ایمان و کفر کی دوستی کبھی یکجا نہیں ہوسکتی :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان والے خدا کے دشمنوں سے کبھی دوستی نہیں کر رکھ سکتے، پس جہاں کہیں مسلمانوں کو ظاہری طور پر ایسے لوگوں سے میل جول رکھنا پڑے وہ الگ چیز ہے، لیکن باطن کا تعلق اور دلوں کی محبت خدا و رسول کے دشمنوں، باغیوں اور سرکشوں اور ملحدوں منکروں سے ایک مومن صادق کے لیے ممکن ہی نہیں، پس جو شخص ایک محبوب سے بھی دوستی رکھے اور اس کے دشمن سے محبت بھی رکھے وہ اپنے دعوی ایمان میں یقینا جھوٹا ہے، سو اس ارشاد سے منافقین کے سامنے حق اور باطل کے درمیان کے پرکھ اور تمیز کیلئے ایک واضح کسوٹی رکھ دی گئی، بہرکیف اس سے یہ اہم اور…
Read the full tafseer →سچے مسلمان کی نشانی
تشریح : اس آیت میں پھر پیشین گوئی مل رہی ہے کہ سچے مسلمان ہی اللہ کا لشکر کہلاتے ہیں تو بھلا اللہ کے لشکر کو کون شکست دے سکتا ہے۔ یعنی بالآخر اسلام کا جھنڈا ہی پوری دنیا پر لہرانے والا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان سیدناابوبکر صدیق ؓ سیدناعمر ؓ ، سیدناعثمان ؓ اور سیدناعلی ؓ جیسے سچے مسلمان ہوں۔ اس کو حدیث کی مدد سے واضح کرتے ہیں۔
سیدناابو حازم عروج (رح) نے زہری (رح) کو لکھا کہ، جاہ دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی، جن کی صفت اللہ کے رسول ﷺ نے بھی فرمائی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
نفاق کی ایک خطرناک صورت آج کے مسلم حکمران جس کے عمومی شکار ہیں۔ (اعاذنا اللہ منھا) ۔
آپ ﷺ ایسے لوگوں سے وقف ہیں جنہوں نے ان اقوام کو دوست بنارکھا ہے جن سے اللہ سخت ناراض ہیں یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود یہ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں کہ ان کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں اور کافر انہیں اپنا نہیں سمجھتے بلکہ مسلمان جانتے ہیں لہذایہ ادھر کے ہیں اور نہ ادھر کے اور یہ بات خود ان کو بھی پتہ ہے مگر جھوٹی قسمیں کھائے جاتے ہیں کہ ہم یہ مسلمانوں کے بھلے کی خاطر کر رہے ہیں۔
کفار سے معاہدہ۔
عموما ہمارے حکمران عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ کا حوالہ دے کر یہود اور…
Read the full tafseer →ف 7 مطلب یہ یہ کہ اللہ و آخرت پر ایمان اور اللہ و رسول کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔8 یہ آیت صحابہ کرام کی شان میں نازل ہوئی۔ چناچہ حدیث و سیرت کی کاتبوں میں ہے کہ جنگ بدر میں حضرت ابوعبیدہ نے اپنے والد کو قتل کیا۔ جنگ اس میں حضرت ابوبکر صدق اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے مقابلے میں نکلے۔ حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمر کو اور حضرت عمر نے اپنے ماموں قاص بن ہشام کو اور حضرت علی حمزہ اور عبیدہ بن حارث نے عتبہ شبیہ اور ولید بن قلبہ کو (جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے) قتل کیا رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ نے جو مخلص مسلمان تھے آنحضرت سے عرض…
Read the full tafseer →(58:22) لاتجد : مضارع منفی۔ واحد مذکر حاضر وجود (باب ضرب) مصدر۔ تو نہیں پائے گا۔
قوما : لا تجد کا مفعول یؤمنون باللہ والیوم الاخر جملہ صفت ہے قوما کی یعنی ایسے لوگ جو اللہ پر اور روز قیامت پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں۔
یوادون من حاد اللہ ورسولہ : قوما کی صفت ثانی۔ ترجمہ ہوگا :۔ آپ ایسی کوئی قوم نہیں پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں۔ (تفسیر حقانی) یا یہ جملہ قوما سے حال ہے۔ اور ترجمہ یوں ہے :۔ جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
لغات القرآن۔
یحلفون۔ وہ قسم کھاتے ہیں۔ اعد۔ اس نے تیار کیا ہے۔ جنۃ ۔ ڈھال۔ بچنے کا سہارا۔ استحعوذ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ حزب۔ جماعت۔ گروہ۔ اذلین۔ ذلیل ترین لوگ۔ یوادون۔ وہ دوستی کرتے ہیں۔ عشیرۃ۔ خاندان والے۔ اید۔ اس نے قوت دی۔
تشریح : کفار کے ساتھ عام زندگی میں حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، حسن اخلاق اور احسان کرنا۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی تعلق رکھنا رواداری ہے جو ہر مومن کو ہر شخص کے ساتھ کرنا چاہیے لیکن کفار و مشرکین اور یہودو نصاریٰ یعنی اللہ و رسول کے دشمنوں سے قلبی تعلق رکھنا یا اپنے مفاد کے لئے دو کشتیوں میں سوار ہونا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ اسی طرح تجارتی، اقتصادی لین دین اور سیاسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
کافروں سے دوستی کی ممانعت۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی باتیں اپنے دوست یہودیوں سے بیان کیا کرتا، ایک روز حضور اقدس ﷺ دولت سرائے اقدس میں تشریف لائے حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت ہے اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں، سرکاردوجہاں نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا، ان سب نے مل کر بہت جھوٹی قسمیں کھائیں کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →[23] روح سے مراد نور ہے جو منجانب اللہ مومن کو ملتا ہے اور وہی اس کے عمل صالح اور قلب کے سکون و اطمینان کا ذریعہ ہوتا ہے۔
[24] بہ سبب ان کے ایمان و اخلاص و اطاعت کے۔
[25] یعنی وہ اپنے رب کے جن وعدوں پر دنیا میں جئے اور مرے وہ سارے وعدے ان کی امیدوں سے کہیں بہتر شکل میں ان کے سامنے آئیں گے اور وہ نہال ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →اصل دین محبت وعشق ہے
1: اسلام دنیا میں پہلا اور آخری مذہب ہے ۔ جس نے انسان کو فطرت کو بدل دیا ہے اور نفسیات تک تبدیل کردی ہیں ۔ یہی وہ مذہب ہے جس نے حریت انگیز طور پر محسوسات کی دنیائے سے روح انسانی کو لاہوت کی دنیا سے وابستہ کردی ہے ۔ بلکہ یوں کہیے ۔ کہ بھی وہ قوت ہے جس نے قلوب میں تمام رشتوں کی اہمیت کو اس تعلق کے مقابلہ میں گھٹادیا ہے ۔ جو ایک مرد مسلمان کا اس کے اللہ اور رسول کے ساتھ ہے ۔ چناچہ اسلام نے بھی محبت اسی شفقت اور اسی تحقیق کو معیاد ایمان قرار دیا ہے ۔ یہ جس سے دل میں اسلامی کی محبت ہے ۔ جو خدا اور اس نے رسول کو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب سمجھتا ہے ۔ چناچہ منافقین کو مخاطب…
Read the full tafseer →(22) اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے محبت کرتے ہوئے نہ دیکھیں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں خواہ وہ مخالفت کرنے والے ان اہل ایمان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے اور عزیز اقارب ہوں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ثبت کردیا ہے اور مضبوط کردیا ہے اور جما دیا ہے اور اپنے غیبی فیضان سے ان کی مدد اور تائید فرمائی ہے اور آخرت میں ان کو ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جن کے پائیں نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان باغوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 3۔ مقصود یہاں غلبہ بیان کرنا انبیاء کا ہے، اپنا ذکر تشریف انبیاء کے لئے فرمادیا۔
4۔ اس لئے وہ جس کو چاہئے غالب کردے۔
Read the full tafseer →سچے اور پکے مومنوں کی نشانی جس سے ان کی شناخت کی جاسکتی ہے
22 ؎ بلا شبہ جہاں اصل ہوتی ہے وہاں اس کی نقل بھی موجود ہوتی ہے وہاں اس کی نقل بھی موجود ہوتی ہے۔ جہاں کھرا ہوتا ہے وہاں کھوٹا بھی لیکن یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اصل اور نقل ، کھرے اور کھوٹے کی پہچان کریں ۔ بیوقوف ہیں وہ جو نقل کی شناخت کرنے کی بجائے اصل کو بھی چھوڑ دیں اور کھوٹے کی شناخت کرنے کی بجائے کھرے کو پھینک دیں ۔ آپ پیچھے سے بھی بڑھتے چلے آ رہے ہیں اور زیر نظر سورت میں بھی وضاحت سے پڑھ چکے ہیں کہ ہجرت مدینہ کے بعد جہاں ایمان لانے والوں میں بہت اضافہ ہوا وہاں ان ایمان لانے والوں میں ایک منافقوں کا گروہ بھی پیدا ہوگیا وہ اس طرح کہ…
Read the full tafseer →Believers cannot entertain intimacy with non-Believers
لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ (You shall not find those who believe in Allah and in the Hereafter having friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers....58:22). The preceding verses showed that those [ hypocrites ] who are in intimate friendship with unbelievers and pagans shall incur Allah's wrath, indignation and severe torment. This verse describes the condition of sincere believers…
Read the full tafseer →37 Two things have been stated in this verse: first, a matter of principle, and the second, a statement of fact. The matter of principle is that faith in the true Religion and love of the opponents of the Religion are contradictory things, which cannot conceivably co-exist in one and the same place. It is absolutely impossible that love of the Faith and love of the enemies of Allah and His Messenger should co-exist in one and the same heart, just as a person's love for himself and his love for his enemy cannot co-exist in his heart simultaneously This is as if to say: 'lf you sec a person who…
Read the full tafseer →