Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح تقدیس تمجید تکبیر توحید میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ فرمان ہے (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا 44) 17۔ الإسراء :44) یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور ثناء خوانی کرتی ہے، وہ غلبہ والا اور بلند جناب والا اور عالی سرکار والا ہے اور اپنے تمام احکام و فرمان میں حکمت والا ہے۔ جس نے اہل کتاب کے کافروں یعنی قبیلہ بنو نضیر کے یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر حضور ﷺ نے ان یہودیوں سے صلح…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 1
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة الحدید، حاشیہ۔ 1، و 2، بنی نضیر کے اخراج پر تبصرہ شروع کرنے سے پہلے یہ تمہیدی فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود ذہن کو یہ حقیقت سمجھنے کے لیے تیار کرنا ہے کہ اس طاقتور یہودی قبیلے کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا وہ مسلمانوں کی طاقت کا نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا۔
Read the full tafseer →ربط سورت اور شان نزول
پچھلی سورت میں یہود کی دوستی جو منافقین نے اختیار کر رکھی تھی اس کی مذمت کا بیان تھا، اس سورت میں یہود پر دنیا میں جلا وطنی کی سزا اور آخرت کا عذاب مذکور ہے اور قصہ ان یہود کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب مدینہ طیبیہ میں تشریف لائے تو یہود سے معاہدہ صلح کا ہوچکا تھا اور ان یہودیوں کے مختلف قبائل میں ایک قبیلہ بنو نضیر کا تھا وہ بھی معاہدہ صلح میں داخل تھا اور یہ لوگ مدینہ طیبہ سے دو میل پر رہتے تھے، ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ سے دو قتل ہوگئے تھے جس کا خون بہا سب کو مل کر ادا کرنا تھا، آپ نے اپنے مسلمانوں سے اس کے لئے چندہ حاصل کیا، پھر یہ ارادہ ہوا…
Read the full tafseer →1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔۔ (سبح للہ ما فی السموات وما فی الارض، وھو العزیز الحکیم (1)
(اس آیت کی اہمیت اور حکمت)۔ یہ آیت سورة حدید کے شروع میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے مضمرات کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں خاص توجہ کی چیز یہ ہے کہ اس سورة کا آغاز اور اختتام دونوں، نہایت معمولی فرق کے ساتھ، اسی آیت پر ہوا ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس میں جو حقائق بیان ہوئے ہیں وہ اس آیت کے مضمرات کی تائید و تصدیق کرتے ہیں۔ گویا یہ سورة اپنے اصل دعوے کو بھی ثابت کرتی ہے جو سابق سورة میں بیان ہوا اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی شہادت بھی فراہم کرتی ہے جو تمہید کی اس آیت میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ آیت جس حقیقت…
Read the full tafseer →یہ سورت یہود کے ایک قبیلے بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی، اس لئے اسے سورة النضیر بھی کہتے ہیں۔ صحیح بخاری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: پہلے اجتماع کا مطلب بعض مفسرین نے یہ بتلایا ہے کہ اس سے مسلمانوں کا لشکر مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان سے جنگ کرنی نہیں پڑی، بلکہ پہلے اجتماع ہی پر وہ قابو میں آگئے، لیکن بیشتر مفسرین نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد جلاوطنی کے لئے بنو نضیر کا اجتماع ہے، اور مطلب یہ ہے کہ یہ ان یہودیوں کے لئے پہلا موقع تھا کہ وہ جلا وطنی کے لئے جمع ہوئے ہوں، اس سے پہلے کبھی ان کو ایسے اجتماع کا موقع پیش نہیں آیا تھا، اور اس لفظ میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی ہے کہ یہ بنو نضیر کی پہلی جلا وطنی تھی، اس کے بعد ان کو ایک اور جلا وطنی سے بھی سابقہ پیش آئے گا ؛ چنانچہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ان کو…
Read the full tafseer →سورت کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے اور یہ ایک عظیم ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور یہ اللہ کی پاکی اور بڑائی بیان کرتے ہوئے اس ایک اللہ کی طرف توجہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے افراد کی کہانی جنہوں نے اہل کتاب ہونے کے باوجود کفر کیا۔ نقص عہد کیا۔ ذرا دیکھو ، کس طرح ان کے گھروں سے اس ذات نے ان کو نکالا۔ اور جو لوگ رات اور دن اللہ کی تمہید کرتے ہیں وہ سب کچھ ان کو عطا کردیا۔ اور فی الواقعہ۔
وھوالعزیز الحکیم (95 : 1) ” وہی غالب و حکیم ہے “۔ وہ اس قسم کے اسباب فراہم کرتا ہے جن سے اس کے دوستوں کی امداد ہوتی ہے اور ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ دشمن اپنے ہاتھوں تباہ ہوتے ہیں۔ وہ تقدیر…
Read the full tafseer →5 چناچہ اس کے زبردست غلبہ اور حکمت کے آثار میں سے ایک واقعہ آگے بیان کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 1{ سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِج } ”تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمان میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔“
المُسَبِّحات کے سلسلے کی پہلی سورة یعنی سورة الحدید کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے : { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج }۔ یہاں ”مَا فِی“ کا اضافہ ہے ‘ جس سے گویا مفہوم میں مزید زور emphasis پیدا ہوگیا ہے۔ باقی ساری آیت کے الفاظ وہی ہیں۔
{ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اور وہ زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔“
اس کے اختیارات مطلق ہیں ‘ لیکن وہ اپنے اختیارات کا استعمال بہت حکمت سے کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 مدینہ کے تینوں یہودی قبائل کا تعارف :۔ ان آیات میں غزوہ بنو نضیر کا مجملاً ذکر آیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے اس وقت یہود کے تین قبائل مدینہ میں آباد تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ بنو قینقاع مدینہ کے اندر آباد تھے۔ زرگری یا سنار کا کام کرتے تھے۔ قبیلہ خزرج کے حلیف تھے۔ اور نسبتاً زیادہ مالدار تھے۔ اور بنو نضیر اور بنو قریظہ انصار کے قبیلہ اوس کے حلیف تھے۔ ان کا کام یہ تھا کہ اوس و خزرج کو ہمیشہ برسرپیکار رکھتے اور اس طرح پورے مدینہ پر اپنا سیاسی تفوق برقرار رکھتے تھے اور چونکہ یہ سب قبائل مالدار اور سود خور بھی تھے لہذا معاشی لحاظ سے بھی انہیں کافی…
Read the full tafseer →1۔ (ایسا حکمت والا کہ ہر مخلوق سے اطاعت وطاعت کا وہی کام لیتا ہے جس کی وہ اہل ہے۔ (آیت) ” سبح “۔ تسبیح سے یہاں اختیاری تقییدی تسبیح مراد نہیں جا کا مکلف انسان وجنات کو کیا گیا ہے بلکہ تکوینی تسخیری تسبیح مراد ہے، جس پر ساری مخلوق یکساں مضطر ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہر ہر مخلوق بلااستثناء تسبیح حق اپنے اپنے مرتبہ وجود کے مطابق کیا کرتی ہے۔ ما۔ ما بےجان کے لئے آتا ہے۔ اس لئے ترجمہ بجائے ” جو کوئی “ کے ” جو کچھ “ سے کیا گیا ہے۔ (آیت) ” العزیز “۔ اسم لاکر یاد دلادیا کہ بڑی سے بھی بڑی مخلوق کونسی ایسی ہے جو اس کے حلقہ، طاعت و اطاعت سے باہر رہ سکے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آسمان اور زمین میں جو شئی بھی ہے وہ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی اس کی پاکی بیان کرتی ہے، لام زائدہ ہے اور من کے بجائے ما لانا اکثر (یعنی غیر ذوی العقول) کو غلبہ دینے کی بناء پر ہے، وہ اپنے ملک انتظام میں غالب اور حکمت والا ہے اور وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو کہ وہ بنو نضیر کے یہودی تھے، مدینہ میں ان کے گھروں سے پہلے ہی حشر میں نکالا، ان کا یہ اخراج (مدینہ) سے خیبر کی جانب تھا اور دوسرا حشر وہ تھا کہ جب حضرت عمر ؓ نے ان کو اپنے دور خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا تھا۔
نوٹ :۔ متن میں تسامح ہے، جس کو ترجمہ میں درست…
Read the full tafseer →سبح للہ مافی السموت وما فی الارض وھو العزیز الحکیم
” اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں وہ سب چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہی غالب (اور بڑی) حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →جتنی بھی آسمانوں اور زمین میں مخلوقات ہیں وہ سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اور اس کا ذکر کرتی ہیں۔ اور وہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں زبردست اور اپنے فیصلہ میں حکمت والا ہے کیا ہی خوب حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے۔
شان نزول : سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ (الخ)
امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ سورة انفال غزوہ بدر کے بارے میں اور سورة حشر بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ واقعہ بنی نضیر غزوہ بدر کے چھ ماہ بعد ہوا ہے اور یہ یہودیوں کی ایک جماعت تھی ان کے مکانات اور نخلستان مدینہ منورہ کے ایک…
Read the full tafseer →سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج۔۔۔۔۔۔: اس آیت کی تفسیر سورة ٔ حدید کی پہلی آیت اور سورة ٔ بنی اسرائیل کی آیت (44) میں گزر چکی ہے ، یہاں صرف چند باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس مقام سے متعلق ہیں :(1) سورة ٔ حدید میں ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ والارض“ ہے ، جب کہ یہاں ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ ہے۔ ابن عاشور ؒ تعالیٰ نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ سورة ٔ حدید کی ابتداء میں زمین و آسمان کی ہر چیز کے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے کو بطور دلیل بیان کیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی توحید اور ان صفات کے ثبوت کے لیے جو بعد کی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ چونکہ وہ سب کچھ جو زمین و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیات۔ 1۔ 2
تفسیر
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ ھو الذی اخرج الذی کفروا من اھل الکتب من دیارھم حضرت سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا ؛ یہ سورة حشر ہے ؟ فرمایا : کہو سورة ٔنضیر یہ ؛ یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھا جب بنو سرائیل مصائب کا شکار ہوئے تو یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے انتظار میں مدینہ طیبہ آکر رہائش پذیر ہوئے۔ انہوں نے یہ اس لئے کیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) پر اس امر کو بیان کیا تھا (1) ۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ لاول الحشر حشر کا معنی جمع ہونا ہے۔ اس کی چار صورتیں ہیں : دو حشر دنیا میں اور دو حشر آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حشر مدینہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
3۔ عبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس کے سامنے کہا سورة الحشر تو انہوں نے فرمایا کہ تو یوں کہہ سورة النضیر۔
سورۃ حشر کا شان نزول
4۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا سورة الحشر تو فرمایا فرمایا کہ یہ سورة قبیلہ بنو نصیر کے بارے میں نازل ہوئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
1۔ حام وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے دلائل میں…
Read the full tafseer →[سَبَّحَ للّٰهِ : تسبیح کرتا ہے اللہ کی ][ مَا فِي السَّمٰوٰتِ : وہ جو (کچھ) آسمانوں میں ہے ][ وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور وہ جو (کچھ) زمین میں ہے ][وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہ ہی بالادست ہی حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →یہودیوں کی مصیبت اور ذلت اور مدینہ منورہ سے جلا وطنی
یہاں سے سورة الحشر شروع ہو رہی ہے حشر عربی میں جمع کرنے کو کہتے ہیں اپنی جگہ چھوڑ کر جب کسی جگہ کوئی قوم جمع ہوجائے اس کو حشر کہا جاتا ہے قیامت کے دن کو بھی حشر اس لئے کہا جاتا ہے کہ دنیا کے مختلف اطراف واکناف کے لوگ جمع ہوں گے۔ یہاں اول الحشر سے یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر کا مدینہ منورہ سے نکالا جانا اور خیبر میں جمع ہونا مراد ہے۔ جو مدینہ منورہ سے سومیل کے فاصلہ پر شام کے راستہ میں پڑتا ہے ان لوگوں کا یہ ترک وطن رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوا تھا پھر دوبارہ ان کو حضرت عمر ؓ نے خبیر سے بھی نکال دیا اور شام کے علاقہ اریحاء اور تیماء اور اذرعات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جلاوطنی یہود از ارض حجاز و غلبہ رسول خدا ﷺ برباغات وقلعہائے بنی نضیر :
قال اللہ تعالیٰ : سبح للہ مافی السموت وما فی الارض ...... الی ...... ان اللہ شدید العقاب “۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اختتامی مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والوں پر وعید تھی اور ان کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور خداوند عالم کی عزت وقدرت اور کبریائی کا ذکر تھا تو اب اس سورة حشر میں اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ اور دشمنی کرنے والوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے، اور یہودیوں کی ذلت ورسوائی ذکر کی جارہی ہے کہ ان کی طاقت و شوکت اور ان کے محفوظ قلعے انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے ارشاد فرمایا۔
پاکی بیان کرتی…
Read the full tafseer →2:۔ ” سبح للہ ما فی السموات “ یہ دعوائے توحید کا اعادہ ہے تاکہ یہ حقیقت مسلمانوں کے ذہنوں میں رہے کہ جہاد و قتال سب اسی مسئلہ کی خاطر ہے اور جہاد سے کوئی دنیوی غرض مقصود نہیں۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات کی ہر چیز اللہ کی وحدانیت پر شاہد ہے اور ہر چیز زبان حال وقال سے اللہ کی تسبیح و تنزیہ میں مصروف ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ شریکوں سے پاک ہے وہ سب پر غالب اور تدبیر محکم کا مالک ہے۔ اے بنی آدم ! جس طرح کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا معترف اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہے تم بھی صرف اسی ہی کو اپنا معبود اور کارساز سمجھو اور صفات کارسازی میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحشر ہے جو کہ اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ الحشر سے ماخوذ ہے۔ حشر کا معنی اکٹھا ہونا ہے۔ مدینہ کے یہودیوں بنی نضیر نے جب معاہدہ مدینہ کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے خلاف غداری کی تو ان کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔ اس کام کے لئے اہل ایمان کا جو لشکر اکٹھا ہوا تھا اس کو اول الحشر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی یہ اسلامی لشکر کا پہلا اجتماع تھا۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے لشکر اسلام جمع ہوتارہا۔ چناچہ بعض مفسرین کے نزدیک خیبر کے یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے جو لشکر جمع ہوا تھا اس کو حشرثانی کہا جاتا ہے۔ اور پھر آخری حشر قیامت والے دن…
Read the full tafseer →سَبَّحَ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 1
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترکیب : مانعتھم بالرفع علی انہ خبر۔ مقدم و حصونھم مبتداء موخر والجملۃ خبران من اللہ متعلق بالخبر۔ ویمکن ان یکون مانعتھم خبران و حصونھم مرتفع علیٰ الفاعلیۃ یخربون الجملۃ حال او تفسیر للرعب فلامحل لھا۔ وقریٔ یخربون بالتشدید التکثیر وقیل الاحزاب التعطیل والخریب الھدم۔
تفسیر : پچھلے سورة میں منافقوں کے افعال ناشائستہ کا ذکر تھا اس سورة میں ان کے معین و مددگار یہود کی نالائق حرکت اور اس کا یہ نتیجہ ذکر فرماتا ہے کہ عبرت ہو فقال سبح اللہ۔ ان آیات میں اور نیز ان کے بعد آیات میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ مورخین نے یوں بیان کیا ہے کہ جب پچھلے زمانوں میں یہود پر مصائب پڑے کچھ لوگ ان میں کے عرب میں…
Read the full tafseer →سَبَّحَ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الحشر : 1)
(اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔ )
تسبیح کا مفہوم
تسبیح اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کے افعال کو ہر عیب سے منزہ ٹھہرانے کا نام ہے۔ یعنی اس کا اصل استعمال اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کے لیے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی مخلوقات ہیں چاہے وہ ہمارے نزدیک ذی روح ہوں یا جامد اور مردہ، سب اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے افعال کی پاک بیان کرتی ہیں۔ اور یہ کام مخلوقات نے ہر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورت : دنیا اور آخرت میں کامیابی کے اسباب میں ایک بڑا سبب ” اللہ “ کی یاد ہے۔ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کو یاد کرتی ہے۔ اس میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ اے انسان ! تجھے بھی ” اللہ “ کو یاد کرنا چاہیے۔
یہ بات سورة الحدید کی ابتدا میں عرض ہوچکی ہے کہ ” سَبَّحَ یُسَبِّحُ “ سے شروع ہونے والی چھ سورتیں ہیں جنہیں مسبِّحات کہتے ہیں۔ چناچہ سورة حشر کی ابتدا ” سَبَّحَ “ کے پرجلال اور با رعب لفظ سے ہو رہی ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتی ہے جو اپنی ذات، صفات اور حکم کے حوالے سے پوری مخلوق پر غالب ہے لیکن اس کے غلبہ میں ظلم کی بجائے شفقت پائی جاتی ہے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ…
Read the full tafseer →غزوئہ بنی نضیر :
1 : روایت میں ہے یہ تمام سورت مکمل طور پر بنی نضیر کے متعلق نازل ہوئی۔ اور اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ تشریف آوری پر بنونضیر سے صلح کرلی۔ اور شرط یہ قرار پائی کہ وہ نہ ان کی مخالفت کریں گے اور نہ آپ کی حمایت میں کسی سے لڑیں گے۔ جب بدر کے دن غلبہ آیا تو وہ کہنے لگے یہ وہ پیغمبر ہیں جن کی صفت تورات میں موجود ہے۔ اور اگلے سال احد میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تو انہوں نے آپ کی نبوت میں شک کیا اور معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ چناچہ کعب بن اشرف چالیس سوار لے کر مکہ پہنچا اور بیت اللہ کے پاس ابوسفیان سے معاہدہ کرلیا۔ آپ ﷺ نے اس غداری پر محمد بن مسلمہ کو حکم دیا۔ انہوں نے کعب…
Read the full tafseer →سورة الحشر
یہ سورة مدنی ہے، اس میں 24 آیات اور 3 رکوع ہیں
سعید بن جبیر کا بیان ہے، میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا سورة الحشر، فرمایا : سورة العضیرکہو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ مستدرک 3 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے چھ مہینے بعد بنی نضیر کا محاصرہ ہوا اور پھر ان کی جلا وطنی ہوئی اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے بنی نضیر نے مشرکین مکہ اور مدینہ کے منافقوں سے مسلمانوں کی بدخواہی کی غرض سے میل جول پیدا کرنے میں تو اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی تھی مگر بنی نضیر کی ایک بہت بڑی مخالفت یہ تھی کہ بیر 1 ؎ معونہ کی بدعہدی کے جھگڑے میں جب بڑے بڑے عالم ستر صحابہ شہید ہوئے اور صحابیوں میں سے عمرو بن امیہ ایک صحابی بچ کر مدینہ کو آرہے تھے راستہ میں ان کو بنی عامر قبیلہ کے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، (مَا ظَنَنْتُمْ ) اے مسلمانو ! تمہارے خیال میں بھی نہ تھا (اَنْ يَّخْرُجُوْا) کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصؤن تھے اور وہ ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے۔ (وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ ) اور وہ گمان کررہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے انہیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کررکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جاسکتا ہے اور نہ ان پر کوئی قابو پاسکتا ہے اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کردیا جس سے انہیں ان کی محفوظ پناہ…
Read the full tafseer →[ 1] کائنات پوری اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اپنی زبان قال سے جس کو ہم نہیں سمجھ سکتے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { یسبح لہٗ السموٰت السبع والارض ومن فیہن ط وان من شیئٍ الا یسبح بحمدہٖ ولکن لاتفقھون تسبیحھم انہٗ کان حلیما غفورًا } [ بنی اسرائیل : 44 پ 15] یعنی اپنی زبان حال سے کہ ان میں سے ہر چیز ہر حالت میں اللہ پاک کی عظمت وقدرت اور اس کی حکمت وحدانیت کی گواہی دے رہی، ففی کل شیء لہ شاھد یدل علی انہ واحد۔ یعنی ہر چیز کے اندر ایک شاہد موجود ہے، جو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ وحدہٗ لاشریک ہے، سبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
” بنی نضیر “ کا عبرت ناک انجام
تشریح : سب سے پہلے مالک کل جہاں کی حکمت اور اس کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس طرح کہ کائنات کی ہر چیز چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے یہ تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں اللہ کے غالب، زور آور اور قادر ہونے کا ثبوت یوں دیا جا رہا ہے کہ اس نے بنو نضیر کے قبیلے کو کتنی آسانی سے اکھیڑ باہر کیا جبکہ وہ لوگ مدتوں سے وہاں آباد تھے۔ ان کا ٹھکانہ مدینہ کے مشرق کی طرف مدینہ سے کئی میل کے فاصلے پر تھا وہ مالی، تجارتی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے بڑے مضبوط تھے۔ وہ اسلحہ کے لحاظ سے بڑے مضبوط تھے اور انہوں نے بڑے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے اور ان کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →ف 2 یہ سورة بالاتفاق غزوہ بنی نفسیر کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ (شوکانی)3 یعنی بعض زبان حال سے اور بعض زبان قال سے گواہی ہی دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →(59:1) سبح : ماضی واحد مذکر غائب ۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ یہاں فعل ماضی بمعنی مضارع آیا ہے۔ پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ بعض جگہ بصیغہ مضارع آیا ہے جیسے سورة ہذا کی آخری آیت (59:24) سورة الجمعہ (62:1) سورة التغابن (64:1) وغیرہ۔ صیغہ مضارع دوام و استمراء پر دلالت کرتا ہے۔
صاحب اضواء البیان نے لکھا ہے :۔ التسبیح اصل میں مادہ سبح سے ہے۔ سباحۃ و تسبیح میں مادہ مشترک ہے ان کے معانی میں بھی اشتراک ہے سباحۃ فی الماء (پانی میں تیرنا) تیرنے والے کو پانی میں ڈوبنے سے بچانا ہے اسی طرح اللہ کی تسبیح اور تنزیہہ کرنے والا شرک سے نجات پاتا ہے (نیز ملاحظہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
اول الحشر۔ پہلا مقابلہ۔ مانعت۔ بچانے والی۔ حصون (حصن) ۔ قلعے۔ قذف۔ پھینکا۔ ڈالا۔ یخربون۔ وہ برباد کرتے ہیں۔ الجلائ۔ (وطن سے) نکلنا۔ شاقوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ ماقطعتم۔ تم نے نہیں کاٹا۔ لینۃ۔ کھجور ( مدینہ منورہ کی مشہور کھجور) ۔ اصول۔ بنیاد۔ جڑ۔
تشریح : مکہ مکرمہ سے جب آپ نے یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے مدینہ کے آس پاس رہنے والے یہودیوں اور مختلف قبیلوں سے برابری کی بنیاد پر ایک ایسا معاہدہ کیا جس سے سب اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مذہب پر پوری آزادی سے عمل کریں اور اگر مدینہ منورہ پر کسی طرف سے بھی حملہ ہو تو سب مل کر اس کا دفاع اور ایک دوسرے کی خیر خوہای کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] اہل کتاب کے کفار سے مراد یہاں یہود کا قبیلہ بنی نضیر ہے جو مدینے سے دو میل کے فاصلے پر تھا۔ یہ لوگ بڑے جتھے والے اور سرمایہ دار تھے اور ان کو اپنے مضبوط قلعوں پر بڑا ناز تھا۔ نبی ﷺ جب ہجرت کر کے مدینے تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ سے صلح کا معاہدہ کیا جس کی ایک شرط یہ تھی کہ وہ آپ کے خلاف کسی کی مدد نہ کریں گے لیکن درپردہ کفار مکہ سے سازباز کرنے لگے۔ یہ لوگ چندماہ پہلے غزوہ احد کے موقع پر بھی مسلمانوں کے ساتھ غداری کرچکے تھے۔ آخرکار آپ ﷺ نے ان کو نوٹس دیا کہ یا تو مدینے سے نکل جائیں یا پھر جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ انہوں نے نکلنے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کے ایک لشکر کے ساتھ ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الحشر
1: اس سورت میں اولاً یہ بتایا ہے ۔ کہ بنی نضیر جن کے پاس مضبوط قلعے تھے ۔ اور جو ہر طرح سامان جنگ سے مسلح تھے ۔ جب انہوں نے اسلام کی دشمنی میں ابوسفیان سے معاہدہ کیا ۔ اور پہلے عہد کو توڑا ۔ تو کیونکر اللہ نے ان کو ذلیل کیا ۔ اور کس طرح ان سب کو ذلیل کیا ۔ اور کس طرح ان سب کو جلاوطنی پر مجور کردیا ۔ اس کے بعد دوسرے مباحث کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے غلبہ واقتدار زقیل مقدارات سے
مقام عبرت
یہودی مالدار بھی تھے ۔ اور محفوظ قلعوں میں پناہ گزین بھی ۔ مگر جب عساکر اسلامی نے محاصرہ کیا ۔ اور لڑائی کے لئے للکارا ۔ تو ان کی ہمتیں پست ہوگئیں ۔ اللہ تعالیٰ کچھ…
Read the full tafseer →(1) جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق روحانی ہر یا مادی سب اپنی مخلوق کے اعتبار سے خالق اور صانع کی پاکی بیان کرتی ہے اسی طرح زبان سے بھی مخلوق اس کی پاکی بیان کرتی ہے۔
بہرحال تسبیح زبان حال سے ہو یا زبان قال سے ہو سب اس کی تسبیح کرتے اور اسی کے ثناخواں ہیں اس کی تسخیر اور مخلوق کا مطیع اور زیر فرمان ہونا یہ بھی اسی کی تسبیح اور تحمید ہے عزیز کمال قوت کا مالک حکیم کمال علم اور حکمت کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 5۔ یہ قصہ یہود بنو نضیر کا بعد بدر کے ربیع الاول 4 ھ میں ہوا، یہ لوگ مدینہ سے دو میل پر رہتے تھے، پھر حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت میں ان کو مع دیگر یہود کے ملک شام کی طرف نکال دیا۔ یہ دونوں جلا وطنی حشر اول و حشر ثانی کہلاتی ہیں۔
1۔ یعنی اپنے قلعوں کے استحکام پر ایسے مطئمن تھے کہ ان کے دل میں انتقام غیبی کا خطرہ بھی نہ آتا تھا۔
2۔ مراد اس جگہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکالے گئے جن کی بےسرو سامانی پر نظر کر کے اس کا احتمال بھی نہ ہوتا تھا کہ یہ بےسامان ان باسامانوں پر غالب آجاویں گے۔
3۔ یعنی عبرت حاصل کرو کہ انجام خدا و رسول کی مخالفت کا بعض اوقات دنیا میں بھی نہایت برا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کا تسبیح خواں ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے ، وہ غالب آنے والا ، حکمت والا ہے
1 ؎ (سبح) اس نے پاکیزگی بیان کی ۔ تسبیح سے جس کے معنی سبحان اللہ کہنے اور اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ یہ لفظ انہی اعراب اور اسی مقصد کے لیے قرآن کریم میں تین بار استعمال ہوا ہے۔ ایک جگہ تو یہی ہے اور اس سے پہلے ایک بار سورة الحدید کے شروع میں گزر چکا ہے اور ایک بار اس کے بعد سورة الصف کی پہل آیت میں آئے گا ۔ بلا شبہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی آسمانوں اور زمین میں سب کا سب اللہ رب کریم کا تسبیح خواں ہے بعض کا سجدہ تسخیری ہوتا ہے اور بعض کا اختیاری ۔ آسمانوں ،…
Read the full tafseer →Commentary
Sequencing of Surahs
The preceding Surah had condemned the close friendship developed by the hypocrites with the Jews. The present Surah describes the punishment faced by the Jews in this world in the form of exile and in the Hereafter in the form of grievous torment.
Cause of Revelation
The story of their banishment from Madinah is that when the Messeger of Allah ﷺ migrated to Madinah, he concluded a peace treaty with the Jews. Banu Nadir, one of the Jew tribes living around Madinah, were one of the three signatories. The latter tribe lived about two miles away from Madinah. Once…
Read the full tafseer →1 For explanation, see E.N.'s 1, 2 of Surah AI-Hadid. The object of this introductory sentence before making an appraisal of the banishment of the Ban; an-Nadir is to prepare the mind to understand the truth that the fate this powerful tribe met was not the result of the power of the Muslims but a manifestation of the power of Allah.
Read the full tafseer →