Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح تقدیس تمجید تکبیر توحید میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ فرمان ہے (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا 44) 17۔ الإسراء :44) یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور ثناء خوانی کرتی ہے، وہ غلبہ والا اور بلند جناب والا اور عالی سرکار والا ہے اور اپنے تمام احکام و فرمان میں حکمت والا ہے۔ جس نے اہل کتاب کے کافروں یعنی قبیلہ بنو نضیر کے یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر حضور ﷺ نے ان یہودیوں سے صلح…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 2
اصل الفاظ ہیں لِاَوَّلِ الْحَشْرِ۔ حشر کے معنی ہیں منتشر افراد کو اکٹھا کرنا، یا بکھرے ہوئے اشخاص کو جمع کر کے نکالنا۔ اور لِاَوَّلِ الْحَشْر کے معنی ہیں پہلے حشر کے ساتھ یا پہلے حشر کے موقع پر۔ اب رہا یہ سوال کہ اس جگہ اول حشر سے مراد کیا ہے، تو اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک اس سے مراد بنی نضیر کا مدینہ سے اخراج ہے، اور اس کو ان کا پہلا حشر اس معنی میں کہا گیا ہے کہ ان کا دوسرا حشر حضرت عمر کے زمانے میں ہوا جب یہود و نصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکالا گیا، اور آخری حشر قیامت کے روز ہوگا۔ دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے مراد مسلمانوں کی فوج کا اجتماع ہے جو بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(آیت) لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ، بنو نضیر کی اس جلاوطنی کو قرآن کریم نے اول حشر فرمایا، حشر کے معنی اٹھ جانے کھڑے ہوجانے کے ہیں، اول حشر کہنے کی ایک وجہ خلاصہ تفسیر میں بیان ہوچکی ہے کہ یہ لوگ زمانہ قدیم میں ایک جگہ آباد تھے، نقل مکانی اور جلاوطنی کا یہ واقعہ ان کو پہلی بار پیش آیا اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام کا اصل حکم آگے یہ آنے والا تھا کہ جزیرة العرب کو غیر مسلموں سے خالی کرایا جائے، تاکہ وہ اسلام کا ایک مستحکم قلعہ بن سکے، اس کے نتیجہ میں ایک دوسرا حشر آئندہ بشکل جلاوطنی ہونے والا تھا، جو عملاً حضرت فاروق اعظم کے عہد خلافت میں ہوا کہ ان میں سے جو لوگ منتقل ہو کر خیبر میں آباد ہوگئے تھے…
Read the full tafseer →(ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیار ھم لاول الحشر ما ظننتم ان یحرجوا وظنوا انھم ما نعتھم حصونھم من اللہ فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبو وقذن فی قلوبھم الرغب یخربون بیوتھم بایدیھم وایدی المومنین فاعتبروا یاولی الابصار) (2)۔
(بنی نفیر کی غدامی اور ان کا حشر)۔ (الذین کفروا من اھل الکتب) سے مراد مفسرین کے نزدیک یہود بنی نفیر ہیں جو مدینہ منورہ کے قریب آباد تھے۔ بخاری ؒ کے بیان کے مطابق مختصراً ان کا واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ اگرچہ صلح دامن کا معاملہ کر رکھا تھا لیکن بدر کے چھٹے مہینہ معاہدے کے خلاف انہوں نے اسلام کے دشمنوں سے ساز باز بھی کی اور آنحضرت ﷺ کے قتل کی ایک ناکام…
Read the full tafseer →2۔ 1 مدینے کے اطراف میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے، بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع، ہجرت مدینہ کے بعد نبی نے ان سے معاہدہ بھی کیا لیکن یہ لوگ درپردہ سازشیں کرتے رہے اور کفار مکہ سے بھی مسلمانوں کے خلاف رابطہ رکھا، حتیٰ کے ایک موقع پر جب کہ آپ ان کے پاس گئے ہوئے تھے، بنو نضیر نے رسول اللہ پر اوپر سے پتھر پھینک کر آپ کو مار ڈالنے کی سازش تیار کی، جس سے وحی کے ذریعے سے آپ بروقت اطلاع کردی گئی، اور آپ وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے رسول اللہ ان پر لشکر کشی کی، یہ چند دن اپنے قعلوں میں محصور رہے، بالآخر انہوں نے جان بخشی کی صورت میں جلا وطنی پر آمادگی کا اظہار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: پہلے اجتماع کا مطلب بعض مفسرین نے یہ بتلایا ہے کہ اس سے مسلمانوں کا لشکر مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان سے جنگ کرنی نہیں پڑی، بلکہ پہلے اجتماع ہی پر وہ قابو میں آگئے، لیکن بیشتر مفسرین نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد جلاوطنی کے لئے بنو نضیر کا اجتماع ہے، اور مطلب یہ ہے کہ یہ ان یہودیوں کے لئے پہلا موقع تھا کہ وہ جلا وطنی کے لئے جمع ہوئے ہوں، اس سے پہلے کبھی ان کو ایسے اجتماع کا موقع پیش نہیں آیا تھا، اور اس لفظ میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی ہے کہ یہ بنو نضیر کی پہلی جلا وطنی تھی، اس کے بعد ان کو ایک اور جلا وطنی سے بھی سابقہ پیش آئے گا ؛ چنانچہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ان کو…
Read the full tafseer →ھوالذی ........................ شدید العقاب (4) (95 : 2 تا 4) ” وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے ، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی۔ مگر ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینار رکھنے والو !
اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں…
Read the full tafseer →6 مدینہ سے مشرقی جانب چند میل کے فاصلہ پر ایک قوم یہود بستی تھی جس کو " بنی نضیر " کہتے تھے۔ یہ لوگ بڑے جتھے والے اور سرمایہ دار تھے، اپنے مضبوط قلعوں پر ان کو ناز تھا۔ حضور ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو شروع میں انہوں نے آپ ﷺ سے صلح کا معاہدہ کرلیا، کہ ہم آپ کے مقابلہ پر کسی کی مدد نہ کریں گے۔ پھر مکہ کے کافروں سے نامہ و پیام کرنے لگے۔ حتی کہ ان کے ایک بڑے سردار کعب بن اشرف نے چالیس سواروں کے ساتھ مکہ پہنچ کر بیت اللہ شریف کے سامنے مسلمانوں کے خلاف قریش سے عہد و پیمان باندھا۔ آخر چند روز بعد اللہ و رسول کے حکم سے محمد بن مسلمہ نے اس غدار کا کام تمام کردیا۔ پھر بھی " بنی نضیر " کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت 2{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } ”وہی ہے جس نے نکال باہر کیا ان کافروں کو جو اہل کتاب میں سے تھے ان کے گھروں سے ‘ پہلے جمع ہونے کے وقت۔“
یہ یہودی قبیلہ بنو نضیر کی مدینہ منورہ سے جلاوطنی کے واقعہ کا ذکر ہے۔ اس واقعہ کا پس منظر یوں ہے کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت مدینہ یثرب میں تین یہودی قبائل بنو قینقاع ‘ بنونضیر ُ اور بنوقریظہ آباد تھے۔ حضور ﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد ان قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو تاریخ میں ”میثاقِ مدینہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بنیادی طور پر یہ مدینہ کے ”مشترکہ دفاع“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 مدینہ کے تینوں یہودی قبائل کا تعارف :۔ ان آیات میں غزوہ بنو نضیر کا مجملاً ذکر آیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے اس وقت یہود کے تین قبائل مدینہ میں آباد تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ بنو قینقاع مدینہ کے اندر آباد تھے۔ زرگری یا سنار کا کام کرتے تھے۔ قبیلہ خزرج کے حلیف تھے۔ اور نسبتاً زیادہ مالدار تھے۔ اور بنو نضیر اور بنو قریظہ انصار کے قبیلہ اوس کے حلیف تھے۔ ان کا کام یہ تھا کہ اوس و خزرج کو ہمیشہ برسرپیکار رکھتے اور اس طرح پورے مدینہ پر اپنا سیاسی تفوق برقرار رکھتے تھے اور چونکہ یہ سب قبائل مالدار اور سود خور بھی تھے لہذا معاشی لحاظ سے بھی انہیں کافی…
Read the full tafseer →2۔ مراد یہود مدینہ کا قبیلہ بنی نضیر ہے۔ یہود کا یہ قبیلہ مدینہ سے دو (2) میل کے فاصلہ پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے، تو منجملہ اور یہود کے ان سے بھی معاہدہ صلح کا ہوگیا تھا۔ ربیع الاول 4 ھ میں آپ ﷺ ایک بار ان کے ہاں گئے، تاکہ خوں بہا کے چندہ میں انہیں بھی شریک کرلیں۔ انہوں نے ایک جگہ آپ کو بٹھا کر سازش یہ کی کہ اوپر سے ایک پتھر آپ پر گرا کر آپ کو ہلاک کردیں، اور مرگ اتفاقیہ کی شہرت دے دیں، خدائے حافظ وناصر نے آپ ﷺ کو وحی سے مطلع کردیا، اور آپ ﷺ سازشوں کے قریب بچ کر نکل آئے، یہ بنو نضیر والے چند ماہ قبل غزوۂ احد کے موقع پر بھی مسلمانوں کے ساتھ غداری کرچکے تھے۔ اب اس تازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آسمان اور زمین میں جو شئی بھی ہے وہ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی اس کی پاکی بیان کرتی ہے، لام زائدہ ہے اور من کے بجائے ما لانا اکثر (یعنی غیر ذوی العقول) کو غلبہ دینے کی بناء پر ہے، وہ اپنے ملک انتظام میں غالب اور حکمت والا ہے اور وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو کہ وہ بنو نضیر کے یہودی تھے، مدینہ میں ان کے گھروں سے پہلے ہی حشر میں نکالا، ان کا یہ اخراج (مدینہ) سے خیبر کی جانب تھا اور دوسرا حشر وہ تھا کہ جب حضرت عمر ؓ نے ان کو اپنے دور خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا تھا۔
نوٹ :۔ متن میں تسامح ہے، جس کو ترجمہ میں درست…
Read the full tafseer →ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر .
وہی ہے جس نے ان کفار اہل کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی بار اکٹھا کر کے نکال دیا۔ “
مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ : یعنی خاندان بنی نضیر جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھا۔
مِنْ دِیَارِھِمْ : ان کے گھروں سے جو مدینہ میں تھے۔
ابن اسحاق نے بیان کیا کہ بنی نضیر کی جلا وطنی کا واقعہ اس وقت ہوا جب رسول اللہ ﷺ احد سے واپس آئے تھے اور بنی قریظہ کا واقعہ جنگ احزاب سے واپسی کے وقت ہوا۔ ان دونوں واقعات کے درمیان دو سال کی مدت ہوئی۔ بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا سبب یہ ہوا کہ (ہجرت کے بعد) جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو بنی…
Read the full tafseer →وہی ہے جس نے بنی نضیر کو ان کے گھروں اور قلعوں سے پہلی بار اکٹھا کر کے نکال دیا۔ یعنی جب غزوہ احد کے بعد جب انہوں نے رسول اکرم کے ساتھ عہد شکنی کی تو ان یہودیوں کو مدینہ منورہ سے شام اریحاء و اذرعات کی طرف جلاوطن کردیا۔
اے گروہ مسلمین تمہارا گمان بھی نہیں تھا کہ بنی نضیر مدینہ منورہ سے شام کی طرف چلے جائیں گے اور خود بھی نضیر نے یہ گما کر رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو عذاب الہی سے بچا لیں گے سو ان پر اللہ کا عذاب اور اس کی طرف سے ذلت و رسوائی ایسے مقام پر سے پہنچی کہ ان کو اس گمان بھی نہیں تھا کہ ان کا سردار کعب بن اشرف قتل کردیا جائے گا اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم اور صحابہ…
Read the full tafseer →1۔ ہُوَالَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ :”ھو“ مبتداء کے بعد ”الذی“ خبر معرفہ لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز بھی جو زمین میں ہے اور جو اکیلا ہی عزیز و حکیم ہے، اسی نے اہل کتاب میں سے ان لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا جنہوں نے کفا کیا ، اس کے سوا انہیں نکالنے والا اور کوئی نہیں۔ یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان جنگ کے بغیر ان کے جلا وطن ہوجانے کو اپنی بہادری نہ سمجھیں ، بلکہ اللہ کا انعام سمجھ کر اس کی تسبیح و تحمید کریں اور اسی کا شکر بجا لائیں۔ ابن کثیر ؒ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیات۔ 1۔ 2
تفسیر
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ ھو الذی اخرج الذی کفروا من اھل الکتب من دیارھم حضرت سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا ؛ یہ سورة حشر ہے ؟ فرمایا : کہو سورة ٔنضیر یہ ؛ یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھا جب بنو سرائیل مصائب کا شکار ہوئے تو یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے انتظار میں مدینہ طیبہ آکر رہائش پذیر ہوئے۔ انہوں نے یہ اس لئے کیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) پر اس امر کو بیان کیا تھا (1) ۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ لاول الحشر حشر کا معنی جمع ہونا ہے۔ اس کی چار صورتیں ہیں : دو حشر دنیا میں اور دو حشر آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حشر مدینہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
3۔ عبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس کے سامنے کہا سورة الحشر تو انہوں نے فرمایا کہ تو یوں کہہ سورة النضیر۔
سورۃ حشر کا شان نزول
4۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا سورة الحشر تو فرمایا فرمایا کہ یہ سورة قبیلہ بنو نصیر کے بارے میں نازل ہوئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
1۔ حام وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے دلائل میں…
Read the full tafseer →[هُوَ الَّذِيٓ اَخْرَجَ : وہ، وہ ہے جس نے نکالا ][ الَّذِينَ كَفَرُوْا : ان کو جو مکر گئے ][ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ][ مِنْ دِيَارِهِمْ : ان کے گھروں سے ][لِاَوَّلِ الْحَشْرِ : حشر کی پہل کے یے ][مَا ظَنَنْتم : تمہیں گمان نہیں تھا ][ ان يَّخْرُجوا : کہ وہ لوگ نکلیں گے ][ وَظَنُّوْٓا : اور انھیں گمان تھا ][ انهُمْ : کہ وہ (وہ) ہیں ] [مَانعَتُهُمْ : جن کا بچائو کرنے والے ہیں ][ حُصُوْنُهُمْ : ان کے قلعے ][ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ][ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ : تو پہنچا ان کے پاس اللہ[ مِنْ حَيْثُ : وہاں سے جہاں سے ][ لَمْ يَحْتَسِبُوْا : انھیں خیال تک نہ تھا ][وَقَذَفَ فِيْ…
Read the full tafseer →جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے تین قبیلے موجود تھے :
(1) قبیلہ بنی نضیر (2) قبیلہ بنی قریظہ (3) قبیلہ بنی قینقاع
یہ قبیلے ذرا قوت والے تھے آنحضرت ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہود نے آپ سے معاہدہ کرلیا تھا کہ ہم آپ سے جنگ نہیں کریں گے اور اگر کوئی فریق حملہ آور ہوگا تو آپ کے ساتھ مل کر اس کا دفاع کریں گے پھر ان لوگوں نے معاہدہ کو توڑ دیا قبیلہ بنی قریظہ کا انجام سورة الاحزاب کے رکوع نمبر 3 میں گزر چکا ہے اور قبیلہ قینقاع کا انجام سورة آل عمران کی آیت شریفہ ﴿ قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ 1ؕ﴾ کے ذیل میں گزر چکا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جلاوطنی یہود از ارض حجاز و غلبہ رسول خدا ﷺ برباغات وقلعہائے بنی نضیر :
قال اللہ تعالیٰ : سبح للہ مافی السموت وما فی الارض ...... الی ...... ان اللہ شدید العقاب “۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اختتامی مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والوں پر وعید تھی اور ان کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور خداوند عالم کی عزت وقدرت اور کبریائی کا ذکر تھا تو اب اس سورة حشر میں اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ اور دشمنی کرنے والوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے، اور یہودیوں کی ذلت ورسوائی ذکر کی جارہی ہے کہ ان کی طاقت و شوکت اور ان کے محفوظ قلعے انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے ارشاد فرمایا۔
پاکی بیان کرتی…
Read the full tafseer →3:۔ ” ھو الذی اخرج “ یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے اور ” الذین کفروا “ سے یہود بنی نضیر مراد ہیں جو خیبر اور مدینہ کے نواح میں آباد تھے یہ اللہ تعالیٰ ہی کا تصرف تھا کہ اس نے اپنی قدرت کاملہ اور تدبیر عمیق سے یہود بنی نضیر کو مسلمانوں کے ایک ہی حملے سے ان کو گھروں سے نکال دیا اور ان کو مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈالدینے پر مجبور کردیا۔ یود بنی نضیر کی قوت و کثرت، دولت و ثروت، سامان جنگ اور مضبوط قلعوں کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے قلعوں سے بیدخل ہوسکیں گے اور خود یہود کو بھی یہی گمان تھا کہ ان کے محکم قلعے ان کو اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ ” من اللہ “ یعنی اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحشر ہے جو کہ اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ الحشر سے ماخوذ ہے۔ حشر کا معنی اکٹھا ہونا ہے۔ مدینہ کے یہودیوں بنی نضیر نے جب معاہدہ مدینہ کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے خلاف غداری کی تو ان کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔ اس کام کے لئے اہل ایمان کا جو لشکر اکٹھا ہوا تھا اس کو اول الحشر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی یہ اسلامی لشکر کا پہلا اجتماع تھا۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے لشکر اسلام جمع ہوتارہا۔ چناچہ بعض مفسرین کے نزدیک خیبر کے یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے جو لشکر جمع ہوا تھا اس کو حشرثانی کہا جاتا ہے۔ اور پھر آخری حشر قیامت والے دن…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْٓ اَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِيَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ۭ ؔ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ يَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُمْ مِّنَ اللہِ فَاَتٰىہُمُ اللہُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا 0 ۤ وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَہُمْ بِاَيْدِيْہِمْ وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ 0 ۤ فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ 2
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترکیب : مانعتھم بالرفع علی انہ خبر۔ مقدم و حصونھم مبتداء موخر والجملۃ خبران من اللہ متعلق بالخبر۔ ویمکن ان یکون مانعتھم خبران و حصونھم مرتفع علیٰ الفاعلیۃ یخربون الجملۃ حال او تفسیر للرعب فلامحل لھا۔ وقریٔ یخربون بالتشدید التکثیر وقیل الاحزاب التعطیل والخریب الھدم۔
تفسیر : پچھلے سورة میں منافقوں کے افعال ناشائستہ کا ذکر تھا اس سورة میں ان کے معین و مددگار یہود کی نالائق حرکت اور اس کا یہ نتیجہ ذکر فرماتا ہے کہ عبرت ہو فقال سبح اللہ۔ ان آیات میں اور نیز ان کے بعد آیات میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ مورخین نے یوں بیان کیا ہے کہ جب پچھلے زمانوں میں یہود پر مصائب پڑے کچھ لوگ ان میں کے عرب میں…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ مِنْ دِیَارِھِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ؔ ط مَاظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ مَّانِعَتُھُمْ حُصُوْنُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَاَتٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا ق وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ یُحْزِبُوْنَ بُیُوْتَھُمْ بِاَیْدِیْہِمْ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ ق فَاعْتَبِرُوْا یٰٓـاُولِی الْاَبْصَارِ ۔ (الحشر : 2)
(وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، ان کے گھروں سے حشراول کے لیے، تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، ان کا گمان بھی یہ تھا کہ ان کے قلعے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر چیز پر ہر اعتبار سے غالب ہے اس کے غالب ہونے کا ایک ثبوت۔
نبی معظم ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے اس کا نام یثرب تھا۔ یثرب میں رہنے والوں کی غالب اکثریت یہود پر مشتمل تھی۔ یہودیوں کا ہر لحاظ سے مدینہ اور اس کے گرد پیش کے علاقے پر تسلط تھا۔ نبی معظم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے بقائے باہمی کے اصول پر یہودیوں سے ایک معاہدہ کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں ایک شرط یہ تھی کہ آپس میں مل جل کر رہیں گے اور خطرہ کی صورت میں اکٹھے ہو کر مدینہ کا دفاع کریں گے۔ لیکن یہودیوں نے غزوہ بدر، اُحد، خندق اور دیگر مواقعوں پر…
Read the full tafseer →حشر اوّل ‘ دوم ‘ سوم :
2 : ھُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ (وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو ان کے گھروں سے نکالا) اہل کتاب سے یہاں یہود بن نضیر مراد ہیں۔ مِنْ دِیَارِ ھِمْ سے مراد مدینہ منورہ ہے لِاَوَّ لِ الْحَشْرِ (پہلی بار اکٹھا کر کے) لام اخرج کے متعلق ہے۔ یہ اس طرح کی لام ہے جیسی اس ارشاد میں ہے۔ یالیتنی قدمت لحیاتی ] الفجر : 24[ اور عرب کہتے ہیں۔ جئتہ لوقت کذا میں فلاں وقت آیا مطلب یہ ہے اخرج الذین کفروا عند اول الحشر کافروں کو پہلے اکٹھ میں نکال دیا۔ اول الحشرکا مطلب یہ ہے کہ شام کی طرف یہ انکا پہلا اکٹھ ہے۔ یہ ایسے لوگوں کی اولاد تھے۔ جن کو پہلے جلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تفسیر : (صحیحین) بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ سورة انفال بدر کے بیان میں نازل ہوئی اور سورت حشر بنی نضیر کے بیان میں۔ ” سبح للہ مافی السموات ومافی الارض وھوالعزیز الحکیم ۔ ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر “ (اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں وہ سب چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہی غالب (اور بڑی) حکمت والا ہے۔ وہی ہے جس نے ان کفار اہل کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی بار اکٹھا کرکے نکال دیا) ۔
” من اھل الکتب “ یعنی خاندان بنی نضیر جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھا۔ ” من دیارھم “ ان کے گھروں میں جو مدینہ میں تھے۔ ابن اسحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ مستدرک 3 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے چھ مہینے بعد بنی نضیر کا محاصرہ ہوا اور پھر ان کی جلا وطنی ہوئی اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے بنی نضیر نے مشرکین مکہ اور مدینہ کے منافقوں سے مسلمانوں کی بدخواہی کی غرض سے میل جول پیدا کرنے میں تو اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی تھی مگر بنی نضیر کی ایک بہت بڑی مخالفت یہ تھی کہ بیر 1 ؎ معونہ کی بدعہدی کے جھگڑے میں جب بڑے بڑے عالم ستر صحابہ شہید ہوئے اور صحابیوں میں سے عمرو بن امیہ ایک صحابی بچ کر مدینہ کو آرہے تھے راستہ میں ان کو بنی عامر قبیلہ کے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، (مَا ظَنَنْتُمْ ) اے مسلمانو ! تمہارے خیال میں بھی نہ تھا (اَنْ يَّخْرُجُوْا) کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصؤن تھے اور وہ ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے۔ (وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ ) اور وہ گمان کررہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے انہیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کررکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جاسکتا ہے اور نہ ان پر کوئی قابو پاسکتا ہے اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کردیا جس سے انہیں ان کی محفوظ پناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
سورة الحشر
کیا کفار کو جلا وطن کیا جاسکتا ہے
قول باری ہے (ھوالذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتاب من دیارھم لااول الحشر، وہ وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا)
مجاہدہ اور قتادہ کا قول ہے کہ اول الحشر سے یہود بنی نضیر کی جلاوطنی مراد ہے۔ ان میں سے کچھ تو خیبر کی طرف جلاوطن ہوگئے اور کچھ شام کی طرف۔ زہری کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے قتال کیا اور پھر جلاوطنی کی شرط پر صلح ہوگئی اور انہیں شام کی طرف جلاوطن کردیا گیا انہیں اپنے ساتھ ہتھیاروں کے سوا اتنا سامان لے جانے کی اجازت دے دی گئی جو اونٹوں پر لادا جاسکتا ہو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں اس سے دو باتیں معلوم…
Read the full tafseer →[ 3] یہود بنو نضیر کی غداری اور ان کے حشر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اللہ ہے جس نے نکال باہر کیا اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے، ان لوگوں سے مراد ہے یہود بنو نضیر، جن کو ان کی غداری اور بدعہدی کی بناء پر مدینہ منورہ سے ذلیل و خوار کرکے نکال باہر کیا گیا تھا اور ان کے شر و فساد اور خباثت و نجاست سے اس بقعہ مبارکہ کو ہمیشہ کے لیے پاک اور صاف کردیا گیا، ان لوگوں نے حضور ﷺ سے امن و صلح کا معاہدہ کیا ہوا تھا لیکن اپنی مشہور و معروف عہد شکنی اور دھوکہ بازی کی خصلت کی بناء پر انہوں نے غزوہء بدر کے چھے مہینے میں اسلام کے دشمنوں سے سازباز کرتے ہوئے اپنے اس عہد و پیمان کی خلاف ورزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
” بنی نضیر “ کا عبرت ناک انجام
تشریح : سب سے پہلے مالک کل جہاں کی حکمت اور اس کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس طرح کہ کائنات کی ہر چیز چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے یہ تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں اللہ کے غالب، زور آور اور قادر ہونے کا ثبوت یوں دیا جا رہا ہے کہ اس نے بنو نضیر کے قبیلے کو کتنی آسانی سے اکھیڑ باہر کیا جبکہ وہ لوگ مدتوں سے وہاں آباد تھے۔ ان کا ٹھکانہ مدینہ کے مشرق کی طرف مدینہ سے کئی میل کے فاصلے پر تھا وہ مالی، تجارتی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے بڑے مضبوط تھے۔ وہ اسلحہ کے لحاظ سے بڑے مضبوط تھے اور انہوں نے بڑے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے اور ان کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →ف 4 بنو نضیر یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مدینہ منورہ کی مشرقی جانب چند میل کے فاصلہ پر آباد تھا۔ یہ لوگ بڑے طاقتور اور سرمایہ دار تھے اور انہیں اپنے مضبوط قلعوں پر بڑا ناز تھا دراصل ان کے آباء و اجداد فتنہ بنی اسرائیل کے زمانہ میں اس نیت سے مدینہ منورہ میں آباد ہوئی تھے کہ جب نبی آخر الزمان کا ظہور ہوگا تو وہ ان پر ایمان لائیں گے۔ مگر آنحضرت کی بعثت کے بعد انہوں نے نہ صرف ایمان لانے سے انکار کردیا بلکہ الٹے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ جب آنحضرت نے ہجرت کر کے مدینہ تشریف بےگئے تو بظاہر انہوں نے معاہدہ کرلیا مگر در پردہ قریش مکہ کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے رہے اور ایک موقع پر انہوں نے اسکیم…
Read the full tafseer →(59:2) اس آیت اور مابعد کو سمجھنے کے لئے اس کے پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے اس کا ذکر بھی ضروری ہے۔
یہ سورة غزوہ بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بنی نصیر فلسطین کے باشندے تھے۔ 132 ء میں رومیوں کی سخت روی کی وجہ سے یہودیوں کے چند قبائل جن میں میں بنی نضیر اور بنو قریظہ شامل تھے فلسطین کو چھوڑ کر یثرب میں آکر آباد ہوگئے۔ بنی نضیر مدینہ میں قباء کے قریب مشرقی جانب آکر آباد ہوگئے تھے۔ اس وقت مدینہ میں عرب قبائل میں سے بنی اوس اور بنی خزرج ممتاز قبائل تھے یہ دونوں یہودی قبائل بنی نضیر اور بنو قریظہ اوس کے حلیف بن گئے۔ اور بنی اوس اور بنی خزرج کی باہمی لڑائیوں میں اول الذکر کا ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
اول الحشر۔ پہلا مقابلہ۔ مانعت۔ بچانے والی۔ حصون (حصن) ۔ قلعے۔ قذف۔ پھینکا۔ ڈالا۔ یخربون۔ وہ برباد کرتے ہیں۔ الجلائ۔ (وطن سے) نکلنا۔ شاقوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ ماقطعتم۔ تم نے نہیں کاٹا۔ لینۃ۔ کھجور ( مدینہ منورہ کی مشہور کھجور) ۔ اصول۔ بنیاد۔ جڑ۔
تشریح : مکہ مکرمہ سے جب آپ نے یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے مدینہ کے آس پاس رہنے والے یہودیوں اور مختلف قبیلوں سے برابری کی بنیاد پر ایک ایسا معاہدہ کیا جس سے سب اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مذہب پر پوری آزادی سے عمل کریں اور اگر مدینہ منورہ پر کسی طرف سے بھی حملہ ہو تو سب مل کر اس کا دفاع اور ایک دوسرے کی خیر خوہای کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] اہل کتاب کے کفار سے مراد یہاں یہود کا قبیلہ بنی نضیر ہے جو مدینے سے دو میل کے فاصلے پر تھا۔ یہ لوگ بڑے جتھے والے اور سرمایہ دار تھے اور ان کو اپنے مضبوط قلعوں پر بڑا ناز تھا۔ نبی ﷺ جب ہجرت کر کے مدینے تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ سے صلح کا معاہدہ کیا جس کی ایک شرط یہ تھی کہ وہ آپ کے خلاف کسی کی مدد نہ کریں گے لیکن درپردہ کفار مکہ سے سازباز کرنے لگے۔ یہ لوگ چندماہ پہلے غزوہ احد کے موقع پر بھی مسلمانوں کے ساتھ غداری کرچکے تھے۔ آخرکار آپ ﷺ نے ان کو نوٹس دیا کہ یا تو مدینے سے نکل جائیں یا پھر جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ انہوں نے نکلنے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کے ایک لشکر کے ساتھ ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الحشر
1: اس سورت میں اولاً یہ بتایا ہے ۔ کہ بنی نضیر جن کے پاس مضبوط قلعے تھے ۔ اور جو ہر طرح سامان جنگ سے مسلح تھے ۔ جب انہوں نے اسلام کی دشمنی میں ابوسفیان سے معاہدہ کیا ۔ اور پہلے عہد کو توڑا ۔ تو کیونکر اللہ نے ان کو ذلیل کیا ۔ اور کس طرح ان سب کو ذلیل کیا ۔ اور کس طرح ان سب کو جلاوطنی پر مجور کردیا ۔ اس کے بعد دوسرے مباحث کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے غلبہ واقتدار زقیل مقدارات سے
مقام عبرت
یہودی مالدار بھی تھے ۔ اور محفوظ قلعوں میں پناہ گزین بھی ۔ مگر جب عساکر اسلامی نے محاصرہ کیا ۔ اور لڑائی کے لئے للکارا ۔ تو ان کی ہمتیں پست ہوگئیں ۔ اللہ تعالیٰ کچھ…
Read the full tafseer →(2) وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو ان کے گھروں سے پہلی مرتبہ اکٹھا کرکے نکال دیا ہے اے مسلمانو ! تم کو ان کے نکل جانے کا گمان بھی نہ تھا اور تم کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ وہ کبھی نکلیں گے اور وہ اہل کتاب یہ گمان کرتے تھے اور یہ خیال کئے بیٹھے تھے کہ ان کے مضبوط قلعے ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ یعنی اس کے عذاب سے بچالیں گے پھر اللہ تعالیٰ یعنی اس کا عذاب ایسی جگہ سے آیا جس کا ان اہل کتاب کا خیال بھی نہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب میں اور ان اہل کتاب کے دلوں میں ایسا رغب ڈال دیا کہ وہ منکر اہل کتاب اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی برباد کررہے تھے اور اجاڑ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 5۔ یہ قصہ یہود بنو نضیر کا بعد بدر کے ربیع الاول 4 ھ میں ہوا، یہ لوگ مدینہ سے دو میل پر رہتے تھے، پھر حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت میں ان کو مع دیگر یہود کے ملک شام کی طرف نکال دیا۔ یہ دونوں جلا وطنی حشر اول و حشر ثانی کہلاتی ہیں۔
1۔ یعنی اپنے قلعوں کے استحکام پر ایسے مطئمن تھے کہ ان کے دل میں انتقام غیبی کا خطرہ بھی نہ آتا تھا۔
2۔ مراد اس جگہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکالے گئے جن کی بےسرو سامانی پر نظر کر کے اس کا احتمال بھی نہ ہوتا تھا کہ یہ بےسامان ان باسامانوں پر غالب آجاویں گے۔
3۔ یعنی عبرت حاصل کرو کہ انجام خدا و رسول کی مخالفت کا بعض اوقات دنیا میں بھی نہایت برا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کے کافروں کو مدینہ سے نکال کر باہر کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے
2 ؎ زیر نظر آیت میں جن اہل کتاب کے کافروں کا ذکر کرنا مقصود ہے وہ مدینہ اور اس کے مضافات میں رہنے والے یہود کے ایک بہت بڑے قبیلہ بنو نضیر کا ہے لیکن اس سے پہلے کہ ان کے یہاں سے نکلنے کی وجہ ہم عرض کریں اہل کتاب اور مدینہ کے جوڑ کے متعلق عرض کرنا ضروری خیال سمجھا گیا ہے تاکہ حقیقت کے سمجھنے میں آسانی ہو اور مسلمانوں کے ساتھ بد گمانی کرتے ہوئے بعض لوگ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ جس طرح اہل مکہ نے ان مہاجروں کو مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا بالکل اسی طرح اہل مدینہ کے مسلمانوں نے قدرے طاقت حاصل کر کے مدینہ کے یہودیوں کو ہجرت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(1) The original word used in the text is 'hashr' which means 'gathering' or 'mustering' and after which this Surah is named. In the present context, it may be interpreted in two different ways. One, that it refers to the gathering of the Muslims who ordered the Jews to leave Madinah due to their constant conspiracies and breaches of the treaty they had with the Muslims. According to this interpretation, the verse means that the Jews of Bani Nadir were made to leave the city at the first gathering of the Muslims without fighting and without any further attempt to attack them. The second…
Read the full tafseer →2 Here, the reader should understand one thing at the outset so as to avoid any confusion about the banishment of the Bani an-Nadir. The Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) had concluded a formal written treaty with the Bani an-Nadir. They had not broken this agreement as such that it should have become void But the reason why they were attacked was that after making different kinds of minor violations of it, they at last committed such an offence which amounted to the breach of trust. That'is, they plotted to kill the leader of the other party to the treaty, i. e. the Islamic State of…
Read the full tafseer →