Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح تقدیس تمجید تکبیر توحید میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ فرمان ہے (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا 44) 17۔ الإسراء :44) یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور ثناء خوانی کرتی ہے، وہ غلبہ والا اور بلند جناب والا اور عالی سرکار والا ہے اور اپنے تمام احکام و فرمان میں حکمت والا ہے۔ جس نے اہل کتاب کے کافروں یعنی قبیلہ بنو نضیر کے یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر حضور ﷺ نے ان یہودیوں سے صلح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الْحَشْر 8
دنیا کے عذاب سے مراد ہے ان کا نام و نشان مٹا دینا۔ اگر وہ صلح کر کے اپنی جانیں بچانے کے بجائے لڑتے تو ان کا پوری طرح قلع قمع ہوجاتا۔ ان کے مرد مارے جاتے اور ان کی عورتیں اور ان کے بچے لونڈی غلام بنا لیے جاتے جنہیں فدیہ دے کر چھڑانے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(آیت) لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ، بنو نضیر کی اس جلاوطنی کو قرآن کریم نے اول حشر فرمایا، حشر کے معنی اٹھ جانے کھڑے ہوجانے کے ہیں، اول حشر کہنے کی ایک وجہ خلاصہ تفسیر میں بیان ہوچکی ہے کہ یہ لوگ زمانہ قدیم میں ایک جگہ آباد تھے، نقل مکانی اور جلاوطنی کا یہ واقعہ ان کو پہلی بار پیش آیا اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام کا اصل حکم آگے یہ آنے والا تھا کہ جزیرة العرب کو غیر مسلموں سے خالی کرایا جائے، تاکہ وہ اسلام کا ایک مستحکم قلعہ بن سکے، اس کے نتیجہ میں ایک دوسرا حشر آئندہ بشکل جلاوطنی ہونے والا تھا، جو عملاً حضرت فاروق اعظم کے عہد خلافت میں ہوا کہ ان میں سے جو لوگ منتقل ہو کر خیبر میں آباد ہوگئے تھے…
Read the full tafseer →(ولو لا ان کتب اللہ علیھم الجلاء لعذبھم فی الدنیا ولھم فی الاخرۃ عذاب النار (3)۔ یعنی یہ تو اللہ نے ان کے ساتھ رعایت فرمائی کہ ان کو جلا وطنی ہی کی سزا دی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ اس تنبیہ پر کفایت کی جائے کہ ان کے اندر عبرت پذیری کی کچھ صلاحیت ہو تو وہ اپنے رویہ کی اصلاح کریں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس دنیا ہی میں ان پر اس طرح کا کوئی فیصلہ کن عذاب بھیج دیتا جس طرح کے عذاب عاد وثمود اور فرعون وغیرہ پر آئے جن سے ان کا قصہ ہی پاک ہوگیا۔
(ولھم فی الاخرۃ عذاب النار)۔ یعنی اس سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو معاملہ اس جلا وطنی ہی پر ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ آخرت میں انکے لیے دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 یعنی اللہ کی تقدیر میں پہلے سے ہی اس طرح ان کی جلاوطنی لکھی ہوئی نہ ہوتی تو ان کو دنیا میں ہی سخت عذاب سے دوچار کردیا جاتا جیسا کہ بعد میں ان کے بھائی یہود کے ایک دوسرے قبیلے بنو قریظہ کو ایسے ہی عذاب میں مبتلا کیا گیا کہ ان کے جوان مردوں کو قتل کردیا گیا دوسروں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کا مال مسلمانوں کے لیے غنیمت بنادیا گیا۔
Read the full tafseer →3: یعنی انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کروا دیتا۔
Read the full tafseer →ولولا .................... النار (95 : 3) ” اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی “۔ لہٰذا اللہ کا عذاب ان پر آنا ہی تھا۔ جس طرح کہ ان پر آگیا اگر یہ صورت اللہ نے لکھ نہ دی ہوتی تو دوسری صورت میں آتا۔ یہ عذاب دنیا بھی ان کے لئے طے تھا اور قیامت کا عذاب تو بہرحال مقدر ہے ، کیوں ؟
Read the full tafseer →4 یعنی ان کی قسمت میں جلا وطنی کی سزا لکھی تھی۔ یہ بات نہ ہوتی تو کوئی دوسری سزا دنیا میں دی جاتی۔ مثلاً بنی قریظہ کی طرح مارے جاتے۔ غرض سزا سے بچ نہیں سکتے۔ یہ خدا کی حکمت ہے قتل کے بجائے محض جلا وطنی پر اکتفا کیا گیا۔ لیکن یہ تخفیف صرف دنیاوی سزا میں ہے آخرت کی ابدی سزا کسی طرح ان کافروں سے ٹل نہیں سکتی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جب یہ قوم ملک شام سے بھاگ کر یہاں آئی تھی تو ان کے بڑوں نے کہا تھا کہ ایک دن تم کو یہاں سے ویران ہو کر پھر شام میں جانا پڑے گا۔ چناچہ اس وقت اجڑ کر (بعض شام میں چلے گئے اور بعض) خیبر میں رہے۔ پھر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں وہاں سے اجڑ کر شام میں گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت 2{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } ”وہی ہے جس نے نکال باہر کیا ان کافروں کو جو اہل کتاب میں سے تھے ان کے گھروں سے ‘ پہلے جمع ہونے کے وقت۔“
یہ یہودی قبیلہ بنو نضیر کی مدینہ منورہ سے جلاوطنی کے واقعہ کا ذکر ہے۔ اس واقعہ کا پس منظر یوں ہے کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت مدینہ یثرب میں تین یہودی قبائل بنو قینقاع ‘ بنونضیر ُ اور بنوقریظہ آباد تھے۔ حضور ﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد ان قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو تاریخ میں ”میثاقِ مدینہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بنیادی طور پر یہ مدینہ کے ”مشترکہ دفاع“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
4 محاصرہ کے وقت مسلمانوں کا درخت کاٹنا اور مخالفین کا شورو غوغا :۔ مدینہ کے گرد بنو نضیر کا ایک نہایت خوبصورت باغ تھا۔ جسے بویرہ کہتے تھے اس میں بہت سے کھجوروں کے درخت تھے۔ جب مسلمانوں نے بنونضیر کا محاصرہ کرنا چاہا تو یہ درخت کام میں آڑے آرہے تھے۔ چناچہ جو جو درخت رکاوٹ بن سکتے تھے مسلمانوں نے ان کو کاٹ کر اور جہاں زیادہ گنجان تھے وہاں انہیں آگ لگا کر محاصرہ کرنے کے لیے اپنی راہ صاف کرلی۔ جب آگ کے شعلوں نے اس باغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت سیدنا حسان بن ثابتص نے یہ شعر پڑھا۔
وَھَانَ عَلٰی سَرَاۃِ بَنِی لُؤیٍّ ۔۔ حَرِیْقٌ بالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیْرٌ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی…
Read the full tafseer →6۔ جلاوطنی سے بھی سخت ترسزا آخر یہود ہی کے ایک دوسرے قبیلہ کو مل کر رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آسمان اور زمین میں جو شئی بھی ہے وہ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی اس کی پاکی بیان کرتی ہے، لام زائدہ ہے اور من کے بجائے ما لانا اکثر (یعنی غیر ذوی العقول) کو غلبہ دینے کی بناء پر ہے، وہ اپنے ملک انتظام میں غالب اور حکمت والا ہے اور وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو کہ وہ بنو نضیر کے یہودی تھے، مدینہ میں ان کے گھروں سے پہلے ہی حشر میں نکالا، ان کا یہ اخراج (مدینہ) سے خیبر کی جانب تھا اور دوسرا حشر وہ تھا کہ جب حضرت عمر ؓ نے ان کو اپنے دور خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا تھا۔
نوٹ :۔ متن میں تسامح ہے، جس کو ترجمہ میں درست…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاۗءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ۭ وَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَاب النَّارِ ۔
” اور اگر اللہ ان کی قسمت میں جلا وطن ہونا نہ لکھ چکا ہوتا تو دنیا میں ہی ان کو (قتل و قید) کی سزا دیتا اور ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب تیار ہے
کَتَبَ اللہ : یعنی لوح محفوظ میں اگر اللہ نے لکھ نہ دیا ہوتا۔
اَلْجَلَآءَ : جلا وطنی ‘ دیس نکالا۔
لَعَذَّبَھُمْ فِی الدُّنْیَا : یعنی دنیا میں ہی ان کو قتل و قید کی سزا دے دیتا جیسا بنی قریظہ کے ساتھ کیا۔
وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَاب النَّارِ : یہ الگ جملہ ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ عذاب دنیا (قتل و قید) سے بچ بھی گئے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3۔ 4) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ چکتا تو ان کو دنیا ہی میں قتل کی سزا دیتا اور قتل سے سخت ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے اور یہ جلا وطنی اور عذاب اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دین میں مخالفت کی اور جو شخص دین میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں سخت سزا دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ وَلَوْ لَآ اَنْ کَتَبَ اللہ ُ عَلَیْہِمُ الْجَلَآئَ۔۔۔۔۔:”جلال یجلوجلائ“ (ن) ”الرجل“ آدمی کو اس کے شہر سے نکال دینا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ان کے متعلق پہلے سے فیصلہ انہیں جلا وطن کرنے پر اکتفا کا تھا ، تا کہ انہیں عبرت ہو اور وہ اپنی اصلاح کرسکیں۔ اگر اس نے پہلے یہ نہ لکھا ہوتا تو انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا ، ان کے مرد قتل کیے جاتے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی اور غلام بنا لیا جاتا ، جیسے بعد میں بنو قریظہ کو عبرت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ (دیکھئے بخاری : 4032) یہاں ایک سوال ہے کہ جلا وطنی بھی تو عذاب ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ عذاب سے مراد جسمانی سزا ہے ، جس کا احساس واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیات۔ 3۔ 4
ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلاء یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں جلاوطنی کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور وہ ایک عرصہ وہاں ہی رہتے تو ان میں سے بعض ایمان لاتے اور ان کے ہاں ایسے بچے جنم لیتے جو ایمان لاتے۔
لعذ بھم فی الدنیا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں انہیں قتل اور قید کی صورت میں عذاب دیتا جس طرح اس نے بنی قریضہ کے ساتھ کیا ہے۔ جلا وطنی سے مراد اپنے وطن کو چھوڑنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے :۔ جلا بنفسہ جلاء اجلاہ غیر اجلائ۔
جلاء اور اخراج اگرچہ دونوں کا معنی دور کرنا ہے تاہم دو وجوہ سے فرق ہے۔ (1) جلا وطنی اہل اور اولاد کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور اخراج کبھی اہل اور اولاد کو وہاں ہی رکھنے کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حشر مدینہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
3۔ عبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس کے سامنے کہا سورة الحشر تو انہوں نے فرمایا کہ تو یوں کہہ سورة النضیر۔
سورۃ حشر کا شان نزول
4۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا سورة الحشر تو فرمایا فرمایا کہ یہ سورة قبیلہ بنو نصیر کے بارے میں نازل ہوئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
1۔ حام وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے دلائل میں…
Read the full tafseer →[وَلَوْلَآ ان : اور اگر نہ ہوتا کہ ][كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ : لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر ][الْجَلَاۗءَ : جلاوطن کیا جانا ][ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا : تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا میں ][وَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ : اور ان کے لیے آخرت میں ][عَذَابُ النَارِ : آگ کا عذاب ہے ]
Read the full tafseer →ان لوگوں کا ایمان قبول کرنے سے منکر ہونا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے کے لیے تیار ہوجانا ایسا عمل تھا کہ ان کو دنیا میں عذاب دے دیا جاتا جیسا کہ قریش مکہ بدر میں قتل کیے گئے، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے لکھ دیا تھا کہ ان کو دنیا میں جلا وطنی کا عذاب دیا جائے گا (جس میں ذلت بھی ہے اور اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے توڑنا بھی ہے اور اپنے مالوں کو چھوڑ کر جانا بھی ہے) اس لیے دنیا میں اس وقت جلاوطنی کی سزا دی گئی اور آخرت میں بہرحال ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ اس مضمون کو ﴿ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَآءَ ﴾ میں بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جلاوطنی یہود از ارض حجاز و غلبہ رسول خدا ﷺ برباغات وقلعہائے بنی نضیر :
قال اللہ تعالیٰ : سبح للہ مافی السموت وما فی الارض ...... الی ...... ان اللہ شدید العقاب “۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اختتامی مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والوں پر وعید تھی اور ان کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور خداوند عالم کی عزت وقدرت اور کبریائی کا ذکر تھا تو اب اس سورة حشر میں اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ اور دشمنی کرنے والوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے، اور یہودیوں کی ذلت ورسوائی ذکر کی جارہی ہے کہ ان کی طاقت و شوکت اور ان کے محفوظ قلعے انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے ارشاد فرمایا۔
پاکی بیان کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4:۔ ” ولولا ان کتب “ یہود کو جلا وطن ہونا پڑا اگر دنیا میں جلا وطنی کی ذلت ورسوائی ان کے لیے مقدر نہ ہوتی تو دنیا میں ان کو کسی دوسری نوح کے ذلت آمیز عذاب میں مبتلا کردیا جاتا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ ذالک بانہم، دنیا اور آخرت میں ان یہودیوں کے لیے ذلت آمیز اور دردناک عذاب اس لیے مقدر کیا گیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی پوری پوری مخالفت کی ہے، دعوت اسلام کو ٹھکرادیا ہے، اسلام، پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کے خلاف خطرناک سازشیں کی ہیں اور ایسے سرکش لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب نہایت سخت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحشر ہے جو کہ اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ الحشر سے ماخوذ ہے۔ حشر کا معنی اکٹھا ہونا ہے۔ مدینہ کے یہودیوں بنی نضیر نے جب معاہدہ مدینہ کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے خلاف غداری کی تو ان کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔ اس کام کے لئے اہل ایمان کا جو لشکر اکٹھا ہوا تھا اس کو اول الحشر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی یہ اسلامی لشکر کا پہلا اجتماع تھا۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے لشکر اسلام جمع ہوتارہا۔ چناچہ بعض مفسرین کے نزدیک خیبر کے یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے جو لشکر جمع ہوا تھا اس کو حشرثانی کہا جاتا ہے۔ اور پھر آخری حشر قیامت والے دن…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اَنْ كَتَبَ اللہُ عَلَيْہِمُ الْجَلَاۗءَ لَعَذَّبَہُمْ فِي الدُّنْيَا 0 ۭ وَلَہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ 3
«لَوْلَا»
يجيء علی وجهين :
أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] .
والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن .
( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اس کے بعد فرماتا ہے ولولاان کتب اللہ علیہم الجلاء کہ اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا میں ان کو عذاب دیتا اور اس عذاب سے آخرت کے عذاب میں کمی نہ ہوتی بلکہ وہاں بھی عذاب ہوتا یعنی دونوں ہوتے اس جلاوطنی سے دونوں نہ ہوئے بلکہ صرف آخرت کا ہوگا۔ دنیا میں عذاب دیتا یا تو بنی قریظہ کی طرح قتل کراتا یا لونڈی غلام بنواتا یا تنگدستی و بیماری میں مبتلا کرتا یا زلزلہ یا برق یا کسی اور آسمانی بلا سے ہلاک کرتا اس کے دنیاوی عذاب صدہا قسم کے ہیں اس کی امان فرماتا ہے۔ ذلک بانہم شاقوا اللہ الخ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے گردن کشی کی اور جو ایسا کرتا ہے تو اللہ اس کو سخت سزا…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اَنْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْجَلَآئَ لَعَذَّبَھُمْ فِی الدُّنْیَا ط وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ ۔ (الحشر : 3)
(اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انھیں عذاب دے ڈالتا، اور ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ )
دنیا کے عذاب سے مراد وہ عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں قوموں پر آتا رہا ہے اور جس عذاب کے نتیجے میں ان کی جڑ اکھاڑ دی جاتی ہے۔ اسی عذاب کے حوالے سے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر پر رعایت فرمائی کہ انھیں صرف جلاوطنی کی سزا دی، تاکہ اگر ان کے اندر کچھ بھی عبرت پذیری کی صلاحیت موجود ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر چیز پر ہر اعتبار سے غالب ہے اس کے غالب ہونے کا ایک ثبوت۔
نبی معظم ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے اس کا نام یثرب تھا۔ یثرب میں رہنے والوں کی غالب اکثریت یہود پر مشتمل تھی۔ یہودیوں کا ہر لحاظ سے مدینہ اور اس کے گرد پیش کے علاقے پر تسلط تھا۔ نبی معظم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے بقائے باہمی کے اصول پر یہودیوں سے ایک معاہدہ کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں ایک شرط یہ تھی کہ آپس میں مل جل کر رہیں گے اور خطرہ کی صورت میں اکٹھے ہو کر مدینہ کا دفاع کریں گے۔ لیکن یہودیوں نے غزوہ بدر، اُحد، خندق اور دیگر مواقعوں پر…
Read the full tafseer →3 : وَلَوْلَآ اَنْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْجَلَآ ئَ (اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں جلا وطن ہونا نہ لکھ دیا ہوتا) الجلاءؔ اہل و عیال سمیت وطن سے نکلنا۔ لَعَذَّبَہُمْ فِی الدُّنْیَا (تو دنیا میں ہی ان کو سزا دیتا) یعنی قتل اور قید کی سزا۔ جیسا کہ بنو قریظہ کے ساتھ پیش آیا۔ وَلَھُمْ (اور ان کے لئے) خواہ وہ جلا وطن ہوں یا قتل کئے جائیں۔ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ (آخرت میں آگ کا عذاب ہے) ۔ جس سے زیادہ سخت کوئی سزا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تفسیر : (صحیحین) بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ سورة انفال بدر کے بیان میں نازل ہوئی اور سورت حشر بنی نضیر کے بیان میں۔ ” سبح للہ مافی السموات ومافی الارض وھوالعزیز الحکیم ۔ ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر “ (اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں وہ سب چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہی غالب (اور بڑی) حکمت والا ہے۔ وہی ہے جس نے ان کفار اہل کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی بار اکٹھا کرکے نکال دیا) ۔
” من اھل الکتب “ یعنی خاندان بنی نضیر جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھا۔ ” من دیارھم “ ان کے گھروں میں جو مدینہ میں تھے۔ ابن اسحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ مستدرک 3 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے چھ مہینے بعد بنی نضیر کا محاصرہ ہوا اور پھر ان کی جلا وطنی ہوئی اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے بنی نضیر نے مشرکین مکہ اور مدینہ کے منافقوں سے مسلمانوں کی بدخواہی کی غرض سے میل جول پیدا کرنے میں تو اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی تھی مگر بنی نضیر کی ایک بہت بڑی مخالفت یہ تھی کہ بیر 1 ؎ معونہ کی بدعہدی کے جھگڑے میں جب بڑے بڑے عالم ستر صحابہ شہید ہوئے اور صحابیوں میں سے عمرو بن امیہ ایک صحابی بچ کر مدینہ کو آرہے تھے راستہ میں ان کو بنی عامر قبیلہ کے دو…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کردی ہے (وَلَوْلَآ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاۗءَ ) اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انہیں سامانا کرنا پڑا اور جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر انکی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں لہذا کبھی بھی ان کے خواب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
سورة الحشر
کیا کفار کو جلا وطن کیا جاسکتا ہے
قول باری ہے (ھوالذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتاب من دیارھم لااول الحشر، وہ وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا)
مجاہدہ اور قتادہ کا قول ہے کہ اول الحشر سے یہود بنی نضیر کی جلاوطنی مراد ہے۔ ان میں سے کچھ تو خیبر کی طرف جلاوطن ہوگئے اور کچھ شام کی طرف۔ زہری کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے قتال کیا اور پھر جلاوطنی کی شرط پر صلح ہوگئی اور انہیں شام کی طرف جلاوطن کردیا گیا انہیں اپنے ساتھ ہتھیاروں کے سوا اتنا سامان لے جانے کی اجازت دے دی گئی جو اونٹوں پر لادا جاسکتا ہو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں اس سے دو باتیں معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[ 11] جلا وطنی یہود بنو نضیر کیلئے ایک رعایت :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہودی بنی نضیر کے لئے اخراج و جلاطنی کی سزا ایک رعایت تھی جو ان کو دی گئی، ورنہ اگر ایسے نہ ہوتا تو اللہ ان کو دنیا میں کوئی ایسا سخت ہی عذاب دے دیتا، جو اس سے کہیں بڑھ کر سخت اور رسوا کن اور ہولناک ہوتا، جیسے قتل، اور قید، وغیرہ۔ جیسا کہ مشرکین مکہ کے ساتھ بدر میں ہوا، اور یہود بنو قریظہ کے ساتھ مدینہ میں ہوا، [ المراغی، المحاسن، الکازن، الصفوۃ وغیرہ ] سو یہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ رعایت فرما دی کہ ان کو صرف جلاوطنی کی سزا دی اور بس، تاکہ اس طرح ان کو تنبیہ بھی ہوجائے، جن کے اندر عبرت پذیری کی صلاحیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
” بنی نضیر “ کا عبرت ناک انجام
تشریح : سب سے پہلے مالک کل جہاں کی حکمت اور اس کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس طرح کہ کائنات کی ہر چیز چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے یہ تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں اللہ کے غالب، زور آور اور قادر ہونے کا ثبوت یوں دیا جا رہا ہے کہ اس نے بنو نضیر کے قبیلے کو کتنی آسانی سے اکھیڑ باہر کیا جبکہ وہ لوگ مدتوں سے وہاں آباد تھے۔ ان کا ٹھکانہ مدینہ کے مشرق کی طرف مدینہ سے کئی میل کے فاصلے پر تھا وہ مالی، تجارتی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے بڑے مضبوط تھے۔ وہ اسلحہ کے لحاظ سے بڑے مضبوط تھے اور انہوں نے بڑے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے اور ان کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →ف 5 جن قتل ہوتے یا قید ہوتے یا بیماری وغیرہ سے ہلاک ہوتے جیسا کہ بنو قریظہ کا یہی حشر ہوا۔
Read the full tafseer →(59:3) لولا مرکب ہے لو شرطیہ اور لا نافیہ سے۔ اگر نہ ہوتا۔
ان مصدریہ ہے۔ کہ۔
کتب اللہ علیہم (کہ) لکھ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف۔ کتب علی۔ کسی چیز کو کسی چیز پر فرض کرنا۔ واجب کردینا۔ ضروری کردینا۔ جیسے اور جگہ فرمایا :۔ کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ (6:54) تمہارے رب نے اپنی ذات (مبارک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔
الجلائ : جلا وطنی، جلا وطن ہونا۔ اجڑنا۔ ملک بدر ہونا۔ جلا یخلو (باب نصر) کا مصدر ہے منصوب بوجہ مفعول ہے۔ مادہ جلو ہے۔ الجلو کے اصل معنی ہیں کسی چیز کا نمایاں طور پر ظاہر ہونا۔ جلوہ دکھانا۔ جملہ لولا ۔۔ الجلاء شرطیہ ہے۔ اگلا جملہ جواب شرط ہے
لعذبھم : لام جواب شرط کا ہے۔ عذب ماضی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
اول الحشر۔ پہلا مقابلہ۔ مانعت۔ بچانے والی۔ حصون (حصن) ۔ قلعے۔ قذف۔ پھینکا۔ ڈالا۔ یخربون۔ وہ برباد کرتے ہیں۔ الجلائ۔ (وطن سے) نکلنا۔ شاقوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ ماقطعتم۔ تم نے نہیں کاٹا۔ لینۃ۔ کھجور ( مدینہ منورہ کی مشہور کھجور) ۔ اصول۔ بنیاد۔ جڑ۔
تشریح : مکہ مکرمہ سے جب آپ نے یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے مدینہ کے آس پاس رہنے والے یہودیوں اور مختلف قبیلوں سے برابری کی بنیاد پر ایک ایسا معاہدہ کیا جس سے سب اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مذہب پر پوری آزادی سے عمل کریں اور اگر مدینہ منورہ پر کسی طرف سے بھی حملہ ہو تو سب مل کر اس کا دفاع اور ایک دوسرے کی خیر خوہای کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…
Read the full tafseer →[4] یعنی یہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ رعایت فرمائی کہ ان کو جلا وطنی کی سزا دی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ اسی تنبیہ پر کفایت کی جائے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں ان پر اسی طرح کا فیصلہ کن عذاب بھیج دیتا جس طرح کے عذاب عاد وثمود وغیرہ پر آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 1: یہودیوں کے پاس بہت سے باغات تھے ۔ جو ان کی دولت اور تمول کا سبب تھے ۔ اس محاصرہ کے دوران میں مسلمانوں نے ان کو غیرت دلانے کے لئے یا اس لئے کہ وہ ان درختوں کو بطور کمین گاہوں کے استعمال نہ کرسکیں ۔ ان کو کاٹ ڈالا ۔ اور پھر دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا ۔ کہ کہیں ہم نے معصیت کا ارتکاب تو نہیں کیا ۔ کیونکہ اسلامی قانون جنگ میں صرف محارب تو ان کو ہدف ہلاکت بنایا جاتا ہے ۔ اور بلا ضرورت تخریب اور تباہی ممنوع ہے ۔ اس آیت میں بتایا کہ جنگ کی مصلحت کا تقاضا یہی تھا ۔ کہ تم لوگ درمیان میں ان درختوں کو کاٹ ڈالو ۔ تاکہ میدان صاف ہوجائے ۔ اور دشمن دھوکہ نہ دے سکے ۔ اور چھپ کر حملہ کرسکے ۔ یاقلعوں میں…
Read the full tafseer →(3) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے جلاوطن مقدر نہ کردیتا اور ان کی قسمت میں جلاوطن نہ ہوتی تو ان کی دنیا ہی میں سزا دیتا اور آخرت میں تو بہرحال ان کے لئے عذاب ہے۔ یعنی اگر ان کے لئے جلاوطن ہوجانا مقدر نہ ہوتا اور اللہ تعالیٰ ان کی قسمت میں جلاوطن نہ لکھ دیتا مدعا یہ ہے کہ اگر یہ ترک وطن نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں عذاب کرتا اور قتل ہوتے اور قید کئے جاتے اور اس جلاوطنی نہ لکھ دیتا مدعا یہ ہے کہ اگر یہ ترک وطن نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں عذاب کرتا اور قتل ہوتے اور قید کئے جاتے اور اس جلاوطنی کے باوجود آخرت میں ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4۔ آگے یہود کے ایک طعن کا جواب ہے جو ان کے درختوں کا کاٹنے اور جلانے کے باب میں کیا تھا کہ یہ فساد ہے اور فساد مذموم ہے۔
Read the full tafseer →اگر یہ لوگ جلا وطن نہ ہوتے تو بھی عذاب ِ الٰہی میں مبتلا ہو جاتے
3 ؎ (الجلاء) کا اصل مادہ ج ل ا ہے اور جلاء مصدر ہے جس کے معنی جلاوطن ہونے اور اجڑنے کے ہیں ۔ یہ لفظ ایک بار اس جگہ استعمال ہوا ہے اور اس مادہ کے الفاظ جو قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں وہ ( جلاھا) الشمس 19 : 3) ( یجلیھا) ( الاعراف : 178) اور (تجلی) (الاعراف : 142) اور ( اللیل 92 : 2) میں ۔ فرمایا اگر یہ لوگ جلا وطن ہونا قبول نہ کرتے تو بھی جو حرکت انہوں نے کی تھی اس کے باعث وہ یقینا عذاب میں مبتلا کیے جاتے یعنی اگر وہ جنگ پر آمادہ ہوجاتے تو اس سے بھی زیادہ تکلیف اٹھاتے اور ان کا نجام بڑا ہی ہولناک ہوتا اور مسلمان ان کو یقینا تہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(1) The original word used in the text is 'hashr' which means 'gathering' or 'mustering' and after which this Surah is named. In the present context, it may be interpreted in two different ways. One, that it refers to the gathering of the Muslims who ordered the Jews to leave Madinah due to their constant conspiracies and breaches of the treaty they had with the Muslims. According to this interpretation, the verse means that the Jews of Bani Nadir were made to leave the city at the first gathering of the Muslims without fighting and without any further attempt to attack them. The second…
Read the full tafseer →6 That is, ”The destruction occurred in two ways: from outside the Muslims besieged them and started demolishing their fortifications, and from within, first they raised obstacles of stone and wood to stop the Muslims from advancing, and for this purpose broke their own houses for the material; then, when they became certain that they would have to vacate the place, they started pulling down their houses, which they had so fondly built and decorated, with their own hands, so as to render them useless for the Muslims Later, when they settled peace with the Holy Prophet (upon whom be Allah's…
Read the full tafseer →