Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح تقدیس تمجید تکبیر توحید میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ فرمان ہے (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا 44) 17۔ الإسراء :44) یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور ثناء خوانی کرتی ہے، وہ غلبہ والا اور بلند جناب والا اور عالی سرکار والا ہے اور اپنے تمام احکام و فرمان میں حکمت والا ہے۔ جس نے اہل کتاب کے کافروں یعنی قبیلہ بنو نضیر کے یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر حضور ﷺ نے ان یہودیوں سے صلح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الْحَشْر 8
دنیا کے عذاب سے مراد ہے ان کا نام و نشان مٹا دینا۔ اگر وہ صلح کر کے اپنی جانیں بچانے کے بجائے لڑتے تو ان کا پوری طرح قلع قمع ہوجاتا۔ ان کے مرد مارے جاتے اور ان کی عورتیں اور ان کے بچے لونڈی غلام بنا لیے جاتے جنہیں فدیہ دے کر چھڑانے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(آیت) لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ، بنو نضیر کی اس جلاوطنی کو قرآن کریم نے اول حشر فرمایا، حشر کے معنی اٹھ جانے کھڑے ہوجانے کے ہیں، اول حشر کہنے کی ایک وجہ خلاصہ تفسیر میں بیان ہوچکی ہے کہ یہ لوگ زمانہ قدیم میں ایک جگہ آباد تھے، نقل مکانی اور جلاوطنی کا یہ واقعہ ان کو پہلی بار پیش آیا اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام کا اصل حکم آگے یہ آنے والا تھا کہ جزیرة العرب کو غیر مسلموں سے خالی کرایا جائے، تاکہ وہ اسلام کا ایک مستحکم قلعہ بن سکے، اس کے نتیجہ میں ایک دوسرا حشر آئندہ بشکل جلاوطنی ہونے والا تھا، جو عملاً حضرت فاروق اعظم کے عہد خلافت میں ہوا کہ ان میں سے جو لوگ منتقل ہو کر خیبر میں آباد ہوگئے تھے…
Read the full tafseer →(ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ ومن یشاق اللہ فان اللہ شدید العقاب) (4)۔ یہی یہ غضب ان پر اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور سنت الٰہی یہی ہے کہ جو اللہ کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کی شدید پاداش سے دو چار ہوتے ہیں۔ اس آیت میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ (ومن یشاق اللہ) میں (ورسولہ) کہ حذف کردیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ رسول سے مخاصمت در حقیقت اللہ سے مخاصمت ہے اور جو اللہ سے مخاصمت کے لیے اٹھتا ہے وہ اچھی طرح سوچ لے کہ اس کا کیا انجام ہوسکتا ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 یعنی اللہ کی تقدیر میں پہلے سے ہی اس طرح ان کی جلاوطنی لکھی ہوئی نہ ہوتی تو ان کو دنیا میں ہی سخت عذاب سے دوچار کردیا جاتا جیسا کہ بعد میں ان کے بھائی یہود کے ایک دوسرے قبیلے بنو قریظہ کو ایسے ہی عذاب میں مبتلا کیا گیا کہ ان کے جوان مردوں کو قتل کردیا گیا دوسروں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کا مال مسلمانوں کے لیے غنیمت بنادیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4: جب آنحضرت ﷺ نے بنو نضیر کے قلعے کا محاصرہ فرمایا تو آس پاس کے کچھ کھجور کے درخت کاٹنے پڑے تھے، اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ پھل دار درخت کاٹنا مناسب نہیں تھا، اس کے جواب میں اس آیت نے فرمایا کہ جو درخت کاٹے گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم سے کاٹے گئے ہیں اور جنگی حکمت عملی کے طور پر اگر کسی برحق جہاد میں ایسا کرنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →ذلک ................ العقاب (95 : 4) ” یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا ، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کی سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ المشاقہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کی طرف اور اس کی سائیڈ لینے کی بجائے جانب مخالف میں چلے گئے ہیں۔ اللہ کی جانب یہ تھی کہ وہ رسول اللہ کی طرف ہوجاتے۔ کیونکہ یہی اللہ کی طرف تھی۔ آیت کے آخر میں یہ کہا کہ جو اللہ کے مقابلہ کرتا ہے تو اس میں ضمنار سول کا مقابلہ بھی آجاتا ہے۔ یہ عجیب اور مضحکہ خیز منظر ہے کہ کمزور بندے رب ذوالجلال کے مقابلے پر اتر آئیں اور اللہ کے مقابلے میں قلعہ بند ہوں۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہے جس کی…
Read the full tafseer →5 یعنی ایسے مخالفوں کو ایسی سخت سزا ملتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
آیت 2{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } ”وہی ہے جس نے نکال باہر کیا ان کافروں کو جو اہل کتاب میں سے تھے ان کے گھروں سے ‘ پہلے جمع ہونے کے وقت۔“
یہ یہودی قبیلہ بنو نضیر کی مدینہ منورہ سے جلاوطنی کے واقعہ کا ذکر ہے۔ اس واقعہ کا پس منظر یوں ہے کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت مدینہ یثرب میں تین یہودی قبائل بنو قینقاع ‘ بنونضیر ُ اور بنوقریظہ آباد تھے۔ حضور ﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد ان قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو تاریخ میں ”میثاقِ مدینہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بنیادی طور پر یہ مدینہ کے ”مشترکہ دفاع“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
4 محاصرہ کے وقت مسلمانوں کا درخت کاٹنا اور مخالفین کا شورو غوغا :۔ مدینہ کے گرد بنو نضیر کا ایک نہایت خوبصورت باغ تھا۔ جسے بویرہ کہتے تھے اس میں بہت سے کھجوروں کے درخت تھے۔ جب مسلمانوں نے بنونضیر کا محاصرہ کرنا چاہا تو یہ درخت کام میں آڑے آرہے تھے۔ چناچہ جو جو درخت رکاوٹ بن سکتے تھے مسلمانوں نے ان کو کاٹ کر اور جہاں زیادہ گنجان تھے وہاں انہیں آگ لگا کر محاصرہ کرنے کے لیے اپنی راہ صاف کرلی۔ جب آگ کے شعلوں نے اس باغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت سیدنا حسان بن ثابتص نے یہ شعر پڑھا۔
وَھَانَ عَلٰی سَرَاۃِ بَنِی لُؤیٍّ ۔۔ حَرِیْقٌ بالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیْرٌ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی…
Read the full tafseer →7۔ دنیا وآخرت دونوں میں ہر سزا دینے پر قادر۔ یہود کا یہ جرم دہرا تھا ایک تو سرے سے انکار وتکذیب رسالت، دوسرے غدروبدعہدی۔ سزا بھی اسی مناسبت سے دہری ملی، ایک تو جلاوطنی دوسرے عذاب دوزخ۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی سزا جو انہیں مل چکی، اور جو آیندہ بھی ملنے والی ہے۔ اے ماحاق بھم وما سیحیق (ابوسعود)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آسمان اور زمین میں جو شئی بھی ہے وہ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی اس کی پاکی بیان کرتی ہے، لام زائدہ ہے اور من کے بجائے ما لانا اکثر (یعنی غیر ذوی العقول) کو غلبہ دینے کی بناء پر ہے، وہ اپنے ملک انتظام میں غالب اور حکمت والا ہے اور وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو کہ وہ بنو نضیر کے یہودی تھے، مدینہ میں ان کے گھروں سے پہلے ہی حشر میں نکالا، ان کا یہ اخراج (مدینہ) سے خیبر کی جانب تھا اور دوسرا حشر وہ تھا کہ جب حضرت عمر ؓ نے ان کو اپنے دور خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا تھا۔
نوٹ :۔ متن میں تسامح ہے، جس کو ترجمہ میں درست…
Read the full tafseer →ذلک بانھم شاقوا اللہ و رسولہ ومن یشاق اللہ فان اللہ شعید العقاب .
‘ یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرتا ہے ‘ اللہ اس کو سخت سزا دینے والا ہے۔ “
فَاِنَّ اللہ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : یعنی اللہ ان کو سخت عذاب دے گا ‘ کیونکہ وہ سخت عذاب والا ہے۔
ابن اسحاق نے یزید بن رومان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بنی نضیر کے میدان میں جا کر اترے تو بنی نضیر اپنے قلعوں کے اندر گھس گئے اور قلعہ بند ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے نخلستانوں کو کاٹنے اور جلا ڈالنے کا حکم دے دیا۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو لیلیٰ مازفی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3۔ 4) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ چکتا تو ان کو دنیا ہی میں قتل کی سزا دیتا اور قتل سے سخت ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے اور یہ جلا وطنی اور عذاب اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دین میں مخالفت کی اور جو شخص دین میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں سخت سزا دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنّہُمْ شَآقُّوا اللہ َ وَرَسُوْلَہ۔۔۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ انفال (13) کی تفسیر۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں ”ومن یشاق اللہ“ کے بعد ”ورسولہ“ کو حذف کردیا ہے ، اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ رسول کی مخالفت اللہ تعالیٰ ہی کی مخالفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیات۔ 3۔ 4
ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلاء یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں جلاوطنی کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور وہ ایک عرصہ وہاں ہی رہتے تو ان میں سے بعض ایمان لاتے اور ان کے ہاں ایسے بچے جنم لیتے جو ایمان لاتے۔
لعذ بھم فی الدنیا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں انہیں قتل اور قید کی صورت میں عذاب دیتا جس طرح اس نے بنی قریضہ کے ساتھ کیا ہے۔ جلا وطنی سے مراد اپنے وطن کو چھوڑنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے :۔ جلا بنفسہ جلاء اجلاہ غیر اجلائ۔
جلاء اور اخراج اگرچہ دونوں کا معنی دور کرنا ہے تاہم دو وجوہ سے فرق ہے۔ (1) جلا وطنی اہل اور اولاد کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور اخراج کبھی اہل اور اولاد کو وہاں ہی رکھنے کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حشر مدینہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
3۔ عبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس کے سامنے کہا سورة الحشر تو انہوں نے فرمایا کہ تو یوں کہہ سورة النضیر۔
سورۃ حشر کا شان نزول
4۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا سورة الحشر تو فرمایا فرمایا کہ یہ سورة قبیلہ بنو نصیر کے بارے میں نازل ہوئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
1۔ حام وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے دلائل میں…
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ بِانهُمْ : یہ اس سبب سے کہ انھوں نے ][ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول کی ][ وَمَنْ يُّشَاۗقِّ اللّٰهَ : اور جو مخالفت کرے گا اللہ کی ][ فَان اللّٰهَ : (تو وہ یاد رکھے کہ) پھر اللہ ][شَدِيْدُ الْعِقَابِ : سزا دینے کا سخت ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ 1ۚ﴾ (الایۃ) یعنی یہ سزا ان کو اس لیے دی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرے گا سو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے، بنی قینقاع کو پہلے جلا وطن کردیا گیا تھا اور بنی نضیر اپنے اس معاہدہ شکنی پر جلا وطن کیے گئے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کا باہمی مشورہ کر کے خفیہ پروگرام بنایا تھا۔ بنی قریظہ کا حال سورة احزاب کے تیسرے رکوع کی تفسیر میں بیان کیا جا چکا ہے ان لوگوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر قریش مکہ اور ان کے ساتھ آنے والی جماعتوں کی مدد کی تھی۔ ان تینوں قبیلوں کے علاوہ یہود کے چھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جلاوطنی یہود از ارض حجاز و غلبہ رسول خدا ﷺ برباغات وقلعہائے بنی نضیر :
قال اللہ تعالیٰ : سبح للہ مافی السموت وما فی الارض ...... الی ...... ان اللہ شدید العقاب “۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اختتامی مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والوں پر وعید تھی اور ان کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور خداوند عالم کی عزت وقدرت اور کبریائی کا ذکر تھا تو اب اس سورة حشر میں اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ اور دشمنی کرنے والوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے، اور یہودیوں کی ذلت ورسوائی ذکر کی جارہی ہے کہ ان کی طاقت و شوکت اور ان کے محفوظ قلعے انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے ارشاد فرمایا۔
پاکی بیان کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4:۔ ” ولولا ان کتب “ یہود کو جلا وطن ہونا پڑا اگر دنیا میں جلا وطنی کی ذلت ورسوائی ان کے لیے مقدر نہ ہوتی تو دنیا میں ان کو کسی دوسری نوح کے ذلت آمیز عذاب میں مبتلا کردیا جاتا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ ذالک بانہم، دنیا اور آخرت میں ان یہودیوں کے لیے ذلت آمیز اور دردناک عذاب اس لیے مقدر کیا گیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی پوری پوری مخالفت کی ہے، دعوت اسلام کو ٹھکرادیا ہے، اسلام، پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کے خلاف خطرناک سازشیں کی ہیں اور ایسے سرکش لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب نہایت سخت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحشر ہے جو کہ اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ الحشر سے ماخوذ ہے۔ حشر کا معنی اکٹھا ہونا ہے۔ مدینہ کے یہودیوں بنی نضیر نے جب معاہدہ مدینہ کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے خلاف غداری کی تو ان کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔ اس کام کے لئے اہل ایمان کا جو لشکر اکٹھا ہوا تھا اس کو اول الحشر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی یہ اسلامی لشکر کا پہلا اجتماع تھا۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے لشکر اسلام جمع ہوتارہا۔ چناچہ بعض مفسرین کے نزدیک خیبر کے یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے جو لشکر جمع ہوا تھا اس کو حشرثانی کہا جاتا ہے۔ اور پھر آخری حشر قیامت والے دن…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ شَاۗقُّوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ 0 ۚ وَمَنْ يُّشَاۗقِّ اللہَ فَاِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 4
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اس کے بعد فرماتا ہے ولولاان کتب اللہ علیہم الجلاء کہ اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا میں ان کو عذاب دیتا اور اس عذاب سے آخرت کے عذاب میں کمی نہ ہوتی بلکہ وہاں بھی عذاب ہوتا یعنی دونوں ہوتے اس جلاوطنی سے دونوں نہ ہوئے بلکہ صرف آخرت کا ہوگا۔ دنیا میں عذاب دیتا یا تو بنی قریظہ کی طرح قتل کراتا یا لونڈی غلام بنواتا یا تنگدستی و بیماری میں مبتلا کرتا یا زلزلہ یا برق یا کسی اور آسمانی بلا سے ہلاک کرتا اس کے دنیاوی عذاب صدہا قسم کے ہیں اس کی امان فرماتا ہے۔ ذلک بانہم شاقوا اللہ الخ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے گردن کشی کی اور جو ایسا کرتا ہے تو اللہ اس کو سخت سزا…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَمَنْ یُّشَآقِّ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُالْعِقَابِ ۔ (الحشر : 4)
(یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، اور جو اللہ کا مقابلہ کرے، اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ )
یہود کو عبرت بنانے کے لیے نرم سزا دی گئی
رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر نرمی فرمائی کہ دنیا میں ایسا عذاب ان پر نہیں بھیجا جو ان کی مکمل بیخ کنی کردیتا، تو پھر یہ جلاوطنی کی سزا انھیں کیوں دی گئی۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ سزا ان کو اس لیے دی گئی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مخاصمت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنو نضیر دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں انہیں شدید عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والی تھے، جو بھی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چلے گا وہ آخرت میں سزا پائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ صرف یہودی نہیں بلکہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے شدید عذاب میں مبتلا کرے گا۔ آیت کے پہلے حصے میں یہ ارشاد ہے کہ یہودیوں کو دنیا میں اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں لیکن آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنا نام لیا گیا ہے۔ اکیلا اپنا نام اس لیے لیا ہے کیونکہ رسول کی مخالفت آپ کی ذات کی…
Read the full tafseer →4 : ذٰلِکَ بِِاَنَّھُمْ (یہ اس سبب سے ہے کہ) ان کو یہ سزا اس سبب سے ملی کہ شَآ قُّوا اللّٰہَ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کی) وَرَسُوْلَہٗ وَمَنْ یُّشَآ قِّ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اور اسکے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دینے والے ہیں)
Read the full tafseer →3 ۔” ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلائ “ وطن سے نکلنا۔ ” لعذبھم فی الدنین “ قتل اور قید کے ۔۔۔۔ جیسا کہ بنو قریظہ کے ساتھ کیا گیا۔ ” ولھم فی الآخرۃ عذاب النار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ مستدرک 3 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے چھ مہینے بعد بنی نضیر کا محاصرہ ہوا اور پھر ان کی جلا وطنی ہوئی اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے بنی نضیر نے مشرکین مکہ اور مدینہ کے منافقوں سے مسلمانوں کی بدخواہی کی غرض سے میل جول پیدا کرنے میں تو اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی تھی مگر بنی نضیر کی ایک بہت بڑی مخالفت یہ تھی کہ بیر 1 ؎ معونہ کی بدعہدی کے جھگڑے میں جب بڑے بڑے عالم ستر صحابہ شہید ہوئے اور صحابیوں میں سے عمرو بن امیہ ایک صحابی بچ کر مدینہ کو آرہے تھے راستہ میں ان کو بنی عامر قبیلہ کے دو…
Read the full tafseer →(ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ ) اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالف کی ان کے ساتھدشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے یہ ان لوگوں کے بارے میں عادت اور سنت الٰہی ہے جو اللہ کی مخالفت کرتے ہیں۔
وَمَنْ يُّشَاۗقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ) اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ جب بنونضیر نے رسول اللہ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انہوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا، تب اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
سورة الحشر
کیا کفار کو جلا وطن کیا جاسکتا ہے
قول باری ہے (ھوالذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتاب من دیارھم لااول الحشر، وہ وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا)
مجاہدہ اور قتادہ کا قول ہے کہ اول الحشر سے یہود بنی نضیر کی جلاوطنی مراد ہے۔ ان میں سے کچھ تو خیبر کی طرف جلاوطن ہوگئے اور کچھ شام کی طرف۔ زہری کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے قتال کیا اور پھر جلاوطنی کی شرط پر صلح ہوگئی اور انہیں شام کی طرف جلاوطن کردیا گیا انہیں اپنے ساتھ ہتھیاروں کے سوا اتنا سامان لے جانے کی اجازت دے دی گئی جو اونٹوں پر لادا جاسکتا ہو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں اس سے دو باتیں معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[ 11] جلا وطنی یہود بنو نضیر کیلئے ایک رعایت :
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہودی بنی نضیر کے لئے اخراج و جلاطنی کی سزا ایک رعایت تھی جو ان کو دی گئی، ورنہ اگر ایسے نہ ہوتا تو اللہ ان کو دنیا میں کوئی ایسا سخت ہی عذاب دے دیتا، جو اس سے کہیں بڑھ کر سخت اور رسوا کن اور ہولناک ہوتا، جیسے قتل، اور قید، وغیرہ۔ جیسا کہ مشرکین مکہ کے ساتھ بدر میں ہوا، اور یہود بنو قریظہ کے ساتھ مدینہ میں ہوا، [ المراغی، المحاسن، الکازن، الصفوۃ وغیرہ ] سو یہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ رعایت فرما دی کہ ان کو صرف جلاوطنی کی سزا دی اور بس، تاکہ اس طرح ان کو تنبیہ بھی ہوجائے، جن کے اندر عبرت پذیری کی صلاحیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
” بنی نضیر “ کا عبرت ناک انجام
تشریح : سب سے پہلے مالک کل جہاں کی حکمت اور اس کی بڑائی بیان کی گئی ہے اس طرح کہ کائنات کی ہر چیز چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے یہ تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں اللہ کے غالب، زور آور اور قادر ہونے کا ثبوت یوں دیا جا رہا ہے کہ اس نے بنو نضیر کے قبیلے کو کتنی آسانی سے اکھیڑ باہر کیا جبکہ وہ لوگ مدتوں سے وہاں آباد تھے۔ ان کا ٹھکانہ مدینہ کے مشرق کی طرف مدینہ سے کئی میل کے فاصلے پر تھا وہ مالی، تجارتی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے بڑے مضبوط تھے۔ وہ اسلحہ کے لحاظ سے بڑے مضبوط تھے اور انہوں نے بڑے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے اور ان کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 6 جب اسلامی لشکر نے جنگی تدبیر کے طور پر بنی نضیر کے درخت کاٹے اور آگ بھی لگائی تو یہود نے یہ صورت حال دیکھ کر آنحضرت کو آواز دی اور کہا ” اے محمد آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ اللہ کے بنی ہیں اور اصلاح کرنی چاہتے ہیں۔ کیا ان درختوں کا کاٹنا اور جلانا بھی اصلاح ہے ؟ “ ان کی یہ بات آنحضرت اور مسلمانوں پر شاق گزری۔ ان کے جواب میں یہ آیت اتری (شوکانی) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کو قرآن کے علاوہ اور احکام بھی دیئے گئے ہیں کیونکہ یہاں جس کے متعلق فرمایا ہے کہ ” انہوں نے اللہ کے حکم سے کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ قرآن میں نہیں ہے بلکہ وحی کے ذریعہ سے دیا گیا ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے مطلب یہ…
Read the full tafseer →(59:4) ذلک : یعنی وہ عذاب جو ان پر نازل ہوا یا نازل ہوگا۔
بانھم : ب سببیہ ہے یہ بہ سبب اس امر کے کہ انہوں نے۔
شاقوا اللہ ورسولہ۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ شاقوا ماضی جمع مذکر غائب۔ شقاق و مشاقۃ (مفاعلۃ) مصدر بمعنی مخالفت ، ضد، مقابلہ۔ اپنے دوست کی شق کو چھوڑ کر دوسری شق میں ہونا۔ شق بمعنی طرف۔
من۔ شرطیہ ہے۔ جو۔
یشاق۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب۔ شقاق (مفاعلۃ) مصدر۔ اصل میں یشاق تھا۔ ق کو ق میں ادغام کیا گیا (اور جو) مخالفت کرتا ہے (اللہ کی) من یشاق اللہ جملہ شرط ہے۔
فان اللہ شدید العقاب :جواب شرط کے لئے ہے اللہ منصوب بوجہ عمل اسم ان ہے۔ شدید العقاب مضاف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
اول الحشر۔ پہلا مقابلہ۔ مانعت۔ بچانے والی۔ حصون (حصن) ۔ قلعے۔ قذف۔ پھینکا۔ ڈالا۔ یخربون۔ وہ برباد کرتے ہیں۔ الجلائ۔ (وطن سے) نکلنا۔ شاقوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ ماقطعتم۔ تم نے نہیں کاٹا۔ لینۃ۔ کھجور ( مدینہ منورہ کی مشہور کھجور) ۔ اصول۔ بنیاد۔ جڑ۔
تشریح : مکہ مکرمہ سے جب آپ نے یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے مدینہ کے آس پاس رہنے والے یہودیوں اور مختلف قبیلوں سے برابری کی بنیاد پر ایک ایسا معاہدہ کیا جس سے سب اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مذہب پر پوری آزادی سے عمل کریں اور اگر مدینہ منورہ پر کسی طرف سے بھی حملہ ہو تو سب مل کر اس کا دفاع اور ایک دوسرے کی خیر خوہای کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[5] جب وہ قلعہ بند ہوگئے تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ان کے کچھ درخت کاٹے جائیں تاکہ محاصرہ آسانی سے کیا جاسکے اور کھلی جنگ کے وقت درختوں کی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اس پر کافروں نے طعن کرنا
شروع کیا کہ خود تو فساد سے منع کرتے ہیں تو کیا درخت کا کاٹنا فساد نہیں ؟ یہاں اسی واقعے کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 1: یہودیوں کے پاس بہت سے باغات تھے ۔ جو ان کی دولت اور تمول کا سبب تھے ۔ اس محاصرہ کے دوران میں مسلمانوں نے ان کو غیرت دلانے کے لئے یا اس لئے کہ وہ ان درختوں کو بطور کمین گاہوں کے استعمال نہ کرسکیں ۔ ان کو کاٹ ڈالا ۔ اور پھر دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا ۔ کہ کہیں ہم نے معصیت کا ارتکاب تو نہیں کیا ۔ کیونکہ اسلامی قانون جنگ میں صرف محارب تو ان کو ہدف ہلاکت بنایا جاتا ہے ۔ اور بلا ضرورت تخریب اور تباہی ممنوع ہے ۔ اس آیت میں بتایا کہ جنگ کی مصلحت کا تقاضا یہی تھا ۔ کہ تم لوگ درمیان میں ان درختوں کو کاٹ ڈالو ۔ تاکہ میدان صاف ہوجائے ۔ اور دشمن دھوکہ نہ دے سکے ۔ اور چھپ کر حملہ کرسکے ۔ یاقلعوں میں…
Read the full tafseer →(4) یہ سزائی دینا اور آخرت کی اس بنا پر ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ اور اس کے رسول کے مخالف بنے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مار سخت ہے اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4۔ آگے یہود کے ایک طعن کا جواب ہے جو ان کے درختوں کا کاٹنے اور جلانے کے باب میں کیا تھا کہ یہ فساد ہے اور فساد مذموم ہے۔
Read the full tafseer →انہوں نے اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور مخالفت کرنے والوں کا انجام یہی ہے
4 ؎ بنو نضیر کے لوگوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ انہوں نے اللہ رب ذولجلال والاکرام اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی مخالفت کی تھی اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے اگرچہ اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور جب تک وہ وقت آ نہیں جاتا اس وقت تک مخالفت جا ری رہتی ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کے مخالفین کا انجام بہر حال خراب ہی ہوتا ہے کوئی مان لینے کے دعویٰ کے بعد مخالفت جاری رکھے یا کوئی کفر پر قائم رہتے ہوئے مخالفت پر ڈٹا رہے ، دونوں کے لیے یہی حکم ہے ، چونکہ اللہ رب کریم کی مخالفت ہی دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(1) The original word used in the text is 'hashr' which means 'gathering' or 'mustering' and after which this Surah is named. In the present context, it may be interpreted in two different ways. One, that it refers to the gathering of the Muslims who ordered the Jews to leave Madinah due to their constant conspiracies and breaches of the treaty they had with the Muslims. According to this interpretation, the verse means that the Jews of Bani Nadir were made to leave the city at the first gathering of the Muslims without fighting and without any further attempt to attack them. The second…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8 "Would have chastised them in the world": world have caused them to be annihilatcd. That is, had they fought instead of surrendering to save their lives, they would have been completely wiped out. Their men would have perished in the war and their womenfolk and children would have been taken prisoners and there would be no one to have them ransomed.
Read the full tafseer →