Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح تقدیس تمجید تکبیر توحید میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ فرمان ہے (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا 44) 17۔ الإسراء :44) یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور ثناء خوانی کرتی ہے، وہ غلبہ والا اور بلند جناب والا اور عالی سرکار والا ہے اور اپنے تمام احکام و فرمان میں حکمت والا ہے۔ جس نے اہل کتاب کے کافروں یعنی قبیلہ بنو نضیر کے یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر حضور ﷺ نے ان یہودیوں سے صلح…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 9
یہ اشارہ ہے اس معاملہ کی طرف کہ مسلمانوں نے جب محاصرہ شروع کیا تو بنی نضیر کی بستی کے اطراف میں جو نخلستان واقع تھے ان کے بہت سے درختوں کو انہوں نے کاٹ ڈالا یا جلا دیا تاکہ محاصرہ بآسانی کیا جاسکے، اور جو درخت فوجی نقل و حرکت میں حائل نہ تھے ان کو کھڑا رہنے دیا۔ اس پر مدینہ کے منافقین اور بنی قریظہ اور خود بنی نضیر نے شور مچا دیا کہ محمد ﷺ تو فساد فی الارض سے منع کرتے ہیں۔ مگر یہ دیکھ لو، ہرے بھرے پھل دار درخت کاٹے جارہے ہیں، یہ آخر فساد فی الارض نہیں تو کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ تم لوگوں نے جو درخت کاٹے اور جن کو کھڑا رہنے دیا، ان میں سے کوئی فعل بھی…
Read the full tafseer →(آیت) مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَاۗىِٕمَةً عَلٰٓي اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ ، لفظ لینہ کجھور کے ہر درخت یا عجوہ کے علاوہ وہ باقی درختوں کے لئے بولا جاتا ہے، بنو نضیر کے باغات کجھور کے تھے جب قلعہ بند ہوگئے تو بعض صحابہ کرام نے ان لوگوں کو غیظ دلانے اور ان پر رعب ڈالنے کے لئے ان کی کھجوروں کے چند درختوں کو کاٹ کر جلا کر ختم کردیا اور بعض دوسرے صحابہ کرام نے خیال کیا کہ انشاء اللہ فتح ہماری ہوگی اور یہ درخت اور باغات مسلمانوں کے ہاتھ آئیں گے تو کیوں ان کو ضائع کیا جائے وہ ان کے کاٹنے جلانے سے باز رہے، یہ ایک رائے کا اختلاف تھا، بعد میں…
Read the full tafseer →2۔ آگے آیات 5۔ 10 کا مضمون
آگے اصل سلسلہ مضمون سے ذرا ہٹ کر بطورجملہ معترضہ، یہود اور منافقین کے بعض اعتراضات و شبہات کے جواب دیئے ہیں جو اسی واقعہ بنی نضیر کے تعلق سے پیدا ہوئے۔ ایک اعتراض تو یہود نے اٹھایا کہ مسلمانوں نے انکے باغوں کے بہت سے بار آور درخت کاٹ دیئے۔ یہ درخت اگرچہ جنگی مصلحت سے کاٹے گئے تھے لیکن یہود اور ان کے ہمدردوں نے اس کو یہ رنگ دینے کی کوشش کی کہ یہ افساد فی الارض ہے درآنحالیکہ مسلمان اصلاح فی الارض کے مدعی ہیں۔ اس اعتراض سے ان کا مقصود یہ تھا کہ اسلام کی دعوت کو لوگوں کی نگاہوں میں مشکوک بنائیں کہ یہ دین کی دعوت نہیں بلکہ حصول اقتدار کی کشمکش ہے، جس میں دین کا نام محض…
Read the full tafseer →5۔ 1 لینۃ۔ کھجور کی ایک قسم ہے جیسے عجوہ برنی وغیرہ کھجوروں کی قسمیں ہیں یا عام کھجور کا درخت مراد ہے۔ دوران محاصرہ نبی ﷺ کے حکم سے مسلمانوں نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درختوں کو آگ لگا دی، کچھ کاٹ ڈالے اور کچھ چھوڑ دیئے۔ جس سے مقصود دشمن کی آڑ کو ختم کرنا۔ اور یہ واضح کرنا تھا کہ اب مسلمان تم پر غالب ہیں، وہ تمہارے اموال و جائیداد میں جس طرح چاہے، تصرف کرنے پر قادر ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی مسلمانوں کی اس حکمت عملی کی تصویب فرمائی اور اسے یہود کی رسوائی کا ذریعہ قرارا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4: جب آنحضرت ﷺ نے بنو نضیر کے قلعے کا محاصرہ فرمایا تو آس پاس کے کچھ کھجور کے درخت کاٹنے پڑے تھے، اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ پھل دار درخت کاٹنا مناسب نہیں تھا، اس کے جواب میں اس آیت نے فرمایا کہ جو درخت کاٹے گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم سے کاٹے گئے ہیں اور جنگی حکمت عملی کے طور پر اگر کسی برحق جہاد میں ایسا کرنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →لینہ (95 : 5) کھجور کے بہترین درختوں کو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بہترین قسم تھے جسے سب جانتے تھے۔ مسلمانوں نے یہودیوں کے باغات میں سے بعض کو کاٹا تھا۔ بعض کو چھوڑدیا تھا۔ ان کے دلوں میں ایک خلجان تھا ، یعنی کاٹنے پر ، اور چھوڑنے پر۔ جبکہ اس سے قبل اور اس کے بعد مسلمانوں کے لئے جنگی ضابطہ یہی رہا کہ تحریق اور بربادی سے گریز کیا جائے۔ اس لئے اس واقعہ میں جو کچھ ہوا اس کی استثنائی حالت کے لئے یہ آیت آئی تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں۔ آیت نے کہہ دیا کہ اگر باغات جلانے کو تم نے چھوڑا ہے اور اس سے اجتناب کیا ہے تو یہ بھی اللہ کا اذن تھا اور اگر کاٹ کر جلایا ہے تو یہ بھی اذن الٰہی تھا۔ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →6 جب وہ لوگ قلعہ بند ہوگئے تو حضرت محمد ﷺ نے اجازت دی کہ ان کے درخت کاٹے جائیں اور باغ اجاڑے جائیں تاکہ اس کے درد سے باہر نکل کر لڑنے پر مجبور ہوں اور کھلی ہوئی جنگ کے وقت درختوں کی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اس پر کچھ درخت کاٹے گئے اور کچھ چھوڑ دیے گئے کہ فتح کے بعد مسلمانوں کے کام آئیں گے۔ کافروں نے طعن کرنا شروع کیا کہ خود تو فساد سے منع کرتے ہیں، کیا درختوں کا کاٹنا اور جلانا فساد نہیں ؟ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی یہ سب کچھ اللہ جل شانہ کے حکم سے ہے۔ حکم الٰہی کی تعمیل کو فساد نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ گہری حکمتوں اور مصلحتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعض مصالح اوپر بیان ہو چکیں۔
7 یعنی تاکہ…
Read the full tafseer →آیت 5{ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْتَرَکْتُمُوْہَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِہَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ }
لِینہ ایک خاص قسم کی کھجور کے درخت کو کہتے ہیں۔ یہودیوں کی گڑھیوں اور حویلیوں کے گرد یہ درخت باڑ کی شکل میں کثرت سے موجود تھے۔ مسلمانوں نے جب ان کا محاصرہ کیا تو حملہ کے لیے راستے بنانے کی غرض سے حسب ِضرورت ان میں سے کچھ درختوں کو انہوں نے کاٹ ڈالا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے اس عمل کو ہدفِ تنقید بنایا اور پروپیگنڈا کیا کہ یہ لوگ خود کو مومنین کہتے ہیں اور ان کے قائد اللہ کے رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ‘ لیکن ان لوگوں کی اخلاقیات کا معیار یہ ہے کہ پھل دار درختوں کو بھی کاٹنے سے دریغ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
4 محاصرہ کے وقت مسلمانوں کا درخت کاٹنا اور مخالفین کا شورو غوغا :۔ مدینہ کے گرد بنو نضیر کا ایک نہایت خوبصورت باغ تھا۔ جسے بویرہ کہتے تھے اس میں بہت سے کھجوروں کے درخت تھے۔ جب مسلمانوں نے بنونضیر کا محاصرہ کرنا چاہا تو یہ درخت کام میں آڑے آرہے تھے۔ چناچہ جو جو درخت رکاوٹ بن سکتے تھے مسلمانوں نے ان کو کاٹ کر اور جہاں زیادہ گنجان تھے وہاں انہیں آگ لگا کر محاصرہ کرنے کے لیے اپنی راہ صاف کرلی۔ جب آگ کے شعلوں نے اس باغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت سیدنا حسان بن ثابتص نے یہ شعر پڑھا۔
وَھَانَ عَلٰی سَرَاۃِ بَنِی لُؤیٍّ ۔۔ حَرِیْقٌ بالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیْرٌ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی…
Read the full tafseer →8۔ یعنی شرعا دونوں ہی کی گنجائش تھی، دشمن کو تکلیف پہنچانے کے لئے درختوں کے کاٹ دینے کی بھی، اور اپنے آئندہ نفع کے خیال سے ان کے باقی رکھنے کی بھی۔ (آیت) ” من لینۃ “۔ لینۃ ہر کھجور کو کہتے ہیں۔ اور ایک قول ہے کہ عمدہ قسم کے کھجوروں کو، قال مجاھد وعمر وبن میمون کل نخلۃ لینۃ وقیل اللینۃ کرام النخل (جصاص) من نخلۃ ناعمۃ (راغب) وھی اجود النخل (کشاف) فقہاء نے یہیں سے استنباط کیا ہے کہ اختلاف مسلک جبکہ حدود شرعی کے اندر اور اخلاص کے ساتھ ہو، مضر نہیں، اور ایک کو دوسرے پر عیب لگانے کا حق نہیں۔
9۔ (اور مسلمانوں کو عزت دے) چناچہ ترک باغات میں بھی مسلمانوں کی کامیابی کا تیقن تھا اور قطع باغات میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ماقطعتم من لینۃ اوترکتموھا قائمۃ الخ مسلمانوں نے جب محاصرہ شروع کیا تو بنی نضیر کی بستی کے اطراف میں نخلستان واقع تھے ان کے بہت سے درختوں کو کاٹ ڈالا یا جلا ڈالا گیا تھا، تاکہ محاصرہ با آسانی کیا جاسکے اور درخت فوجی نقل و حرکت میں حائل نہ ہوں، چناچہ جو درخت حائل نہیں تھے انہیں کھڑا رہنے دیا گیا تھا اس پر مدینہ کے منافقوں اور بنو قریظہ اور خود بنو نضیر نے شور مچا دیا کہ محمد ﷺ تو فساد فی الارض سے منع کرتے ہیں مگر خود ہرے اور پھلدار درختوں کو کاٹے جا رہے ہیں، یہ آخر فساد فی الارض نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ تم لوگوں نے جو درخت کاٹے اور جن کو کھڑا رہنے دیا ان…
Read the full tafseer →ما قطعتم من لینۃ او ترکتموھا قائمۃ علی اصولھا فباذن اللہ و لیخزی الفاسقین .
” جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو ان کی جگہ کھڑا رہنے دیا۔ سو یہ (سب) اللہ (کے حکم اور اس) کی اجازت سے ہوا اور یہ (اس لیے ہوا) کہ اللہ کافروں کو رسوا کر دے۔ “
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ : جو درخت تم نے کاٹے جیسے ابو لیلیٰ نے عجوہ کے درخت کاٹے یا درختوں کو نہیں کاٹا ‘ کھڑا چھوڑ دیا جیسے عبداللہ بن سلام نے عجوہ کے درخت کھڑے چھوڑ دیئے۔
لِّیْنَۃٍ : لُون سے مشتق ہے۔ اس کی جمع الوان آتی ہے ‘ بعض کے نزدیک لین سے مشتق ہے۔ (کذا فی الصحاح)
بغوی نے لکھا ہے کہ علماء نے لینۃٍ کے مختلف معنی بیان کیے ہیں ‘ بعض اہل علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اور رسول اکرم نے ان لوگوں کا محاصرہ کرنے کے بعد اپنے صحابہ کرام کو عجوہ کھجور کے علاوہ ان کے اور کھجور کے درخت کاٹنے کا حکم دیا تو اس پر بنو نضیر نے طعن کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے یا عجوہ کھجور کے رہنے دیے تو یہ دونوں باتیں اللہ ہی کے حکم سے ہیں تاکہ بنو نضیر کو اللہ تعالیٰ ان کے درخت کٹوا کر ذلیل کرے۔
اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فتح کروا کر اموال بنو نضیر سے اپنے رسول کو دلوا دیے وہ رسول اکرم ہی کے ہیں تم نے نہ اس پر گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ کیوں کہ یہ جگہ مدینہ منورہ سے قریب تھی اس لیے پیادہ ہی چلے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد کو یہود اور…
Read the full tafseer →1۔ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ۔۔۔۔:”لینۃ“ کے متعلق تین قول ہیں ، ایک یہ کہ اس سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”لینۃ“ برنی اور عجوہ کے سوا کھجور کا درخت ہے اور تیسرا قول یہ کہ ہر درخت کو ”لینۃ“ کہا جاتا ہے ، کیونکہ جب تک وہ زندہ ہے اس میں ”لیونۃ“ (نرمی) پائی جاتی ہے۔ (شنقیطی) بنو نضیر کی بستیوں کے ساتھ ان کا ایک نہایت خوب صورت باغ تھا جسے ”بویرہ“ کہتے تھے ، اس میں کھجوروں کے بہت سے درخت تھے (یہ آج کل بھی بویرہ کے نام سے معروف ہے جو مسجد قباء کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ شنقیطی) رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا تو بعض ضرورتوں اور حکمتوں کے پیش نظر بعض…
Read the full tafseer →آیات۔ 5۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ ماقطعتم من لینۃ، ما محل نصب میں ہے اس کو قطعتم نصب دے رہا ہے (1) گویا فرمایا : تم نے کس چیز کاٹا ؟ اس کی وجہ یہ نبی جب نبی کریم ﷺ نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ وہ بویرہ تھے یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے حضور ﷺ کے خلاف غزوہ احد کے موقع پر قریش کی مدد ی۔ آپ نے ان کے کھجوروں کے درخت کاٹنے اور انہیں جلانے کا حکم دیا۔ علماء نے اس کی تعداد میں اختلاف کیا ہے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : صحابہ نے ان کے چھ کھجوروں کے درختوں کو کاٹا اور انہیں جلایا۔ محمد بن اسحاق نے کہا : صحابہ نے ایک درکت کو کاٹا اور اسے جلایا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے منع نہ کرنے کی وجہ سے تھا یا…
Read the full tafseer →تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ماقطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اللہ ولیخزی الفسقین۔ جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ دالے یا ان کو ان کی جگہ کھڑا رہنے دیا سو یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ کافروں کو رسوا کردے۔
12۔ الترمذی وحسنہ والنسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ماقطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا کے بارے میں فرمایا کہ ” لینۃ “ سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ آیت ” ولیخزی الفسقین “۔ یعنی ان کو ان کے قلعوں سے اتارا اور کھجوروں کے کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ بات ان کے دلوں میں بیٹھ گئی تو مسلمانوں نے کہا کہ ہم نے بعض کھجوروں کو کاٹ…
Read the full tafseer →[مَا قَطَعْتم : جو تم لوگوں نے کاٹا ][ مِّنْ لِيْنَةٍ : کوئی بھی کھجور کا درخت ][اَوْ تَرَكْتموْهَا : یا تم نے چھوڑا ان کو ][قَاۗىِٕمَةً : کھڑا ہوا ][عَلٰٓي اُصُوْلِهَا : اپنی جڑوں پر ][فَبِاِذْنِ اللّٰهِ : تو (وہ) اللہ کی اجازت سے تھا ][وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ : اور تاکہ وہ رسوا کرے نافرمانوں کو ]
Read the full tafseer →یہودیوں کے متروکہ درختوں کو کاٹ دینا یا باقی رکھنا دونوں کام اللہ کے حکم سے ہوئے
حضرات صحابہ ؓ نے جب یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر کا محاصرہ کیا اور وہ لوگ اپنے قلعوں میں اپنے خیال میں محفوظ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے کھجوروں کے درختوں کو کاٹنے اور جلانے کا حکم دے دیا اس پر یہودیوں نے کہا کہ اے ابو القاسم آپ تو زمین میں فساد سے منع کرتے ہیں کیا یہ درختوں کا کاٹنا فساد نہیں ہے اور بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ بعض مہاجرین نے مسلمانوں کو منع کیا کہ کھجوروں کے درختوں کو نہ کاٹیں، کیونکہ یہ مسلمانوں کو بطور غنیمت مل جائیں گے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے کھجوروں کے درختوں کو کاٹنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جلاوطنی یہود از ارض حجاز و غلبہ رسول خدا ﷺ برباغات وقلعہائے بنی نضیر :
قال اللہ تعالیٰ : سبح للہ مافی السموت وما فی الارض ...... الی ...... ان اللہ شدید العقاب “۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اختتامی مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والوں پر وعید تھی اور ان کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور خداوند عالم کی عزت وقدرت اور کبریائی کا ذکر تھا تو اب اس سورة حشر میں اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ اور دشمنی کرنے والوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے، اور یہودیوں کی ذلت ورسوائی ذکر کی جارہی ہے کہ ان کی طاقت و شوکت اور ان کے محفوظ قلعے انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے ارشاد فرمایا۔
پاکی بیان کرتی…
Read the full tafseer →5:۔ ” ماقطعتم “ جب بنی نضیر کا محاصرہ کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ یہودیوں کے باغوں کو اجاڑ دیں چناچہ مسلمانوں نے کھجوروں کے درخت کاٹنے شروع کردئیے بعض صحابہ نے خراب خراب درخت کاٹے اور بعض نے اچھے اچھے یہودیوں نے اعتراض کیا کہ اے محمد تم تو فساد سے منع کرتے ہو اور باغوں کو اجاڑنا سراسر فساد ہے۔ ممکن ہے اس قسم کا وسوسہ بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوا ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے بطور تسلیہ فرمایا تم نے جو کچھ کیا ہے سب ٹھیک ہے۔ تم نے جو کھجور کے درخت کاٹے ہیں اور جو کھڑے چھوڑ دئیے ہیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی مشیت سے ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قبیلہ بنی نضیر کی بدعہدی کا ذکر ہوا۔ یہ قبیلہ مدینہ کے اطراف میں آباد ان قبیلوں میں سے ایک تھا جنہوں نے معاہدہ مدینہ پر دستخط کر رکھے تھے اور جس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان اور یہ قبائل اپنے اپنے مذاہب پر قائم رہتے ہوئے کسی بیرونی حملہ کی صورت میں اکٹھے دفاع کریں گے اور معاہدہ میں شامل کوئی فریق کسی دوسرے فریق کے خلاف دشمن کی مدد نہیں کرے گا۔ بنی نضیر نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے ساتھ ساز باز کی اور انہیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دی دوسری طرف مدینہ میں مسلمانوں کو طرح طرح سے تکالیف پہنچانے لگے ۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ کو بالکل…
Read the full tafseer →مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَۃٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْہَا قَاۗىِٕمَۃً عَلٰٓي اُصُوْلِہَا فَبِـاِذْنِ اللہِ وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ 5
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما…
Read the full tafseer →فائدہ : پیغمبر خدا ﷺ نے جہاد کے موقعوں پر منع کردیا ہے کہ میوہ اور سبز درخت نہ کاٹو نہ کھیتی اجاڑ و کارآمد جانوروں کو نہ مارو۔ مگر ضرورت کے موقع پر ایسا کرنا جائز ہے۔ ممانعت تو اس لیے ہے کہ ان کارآمد چیزوں کو برباد کرنا فساد فی الارض اور اپنی قسمت میں آنے والی چیز کو مفت برباد کرنا ہے اور اجازت کسی خاص موقع پر اس لیے ہے کہ مخالفین کو صدمہ پہنچے یا وہ اسباب معیشت کے منقطع ہونے سے صلح پر یا اطاعت پر آمادہ ہوں جیسا کہ بنی نضیر کے نخلستان میں ہوا۔
Read the full tafseer →مَاقَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَـآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (الحشر : 5)
(کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، تو یہ اللہ ہی کے اذن سے تھا تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔ )
لِیْنَۃٌ …کھجور کے پھلدار درخت کو کہتے ہیں۔
ایک اعتراض کا جواب
اس آیت کریمہ میں یہود اور ان کے حلیفوں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا۔ اعتراض کا پس منظر یہ ہے کہ مسلمانوں نے جب بنونضیر کی بستی کا محاصرہ کیا تو اس کے اطراف میں جو نخلستان واقع تھے ان میں بہت سے درخت فوجی کارروائی کے سلسلے میں رکاوٹ پیدا کررہے تھے۔ چناچہ مسلمانوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مدینہ سے یہودیوں کے اخراج کا ذکرجاری ہے۔
نبی معظم ﷺ نے بنونضیر کا محاصرہ کرنے کے لیے کھجوروں کے کچھ درخت کاٹنے کا حکم دیا جس پر منافقین اور یہودیوں نے پراپیگنڈہ کیا کہ ” محمد “ نے جہاد کے نام پر فساد فی الارض شروع کردیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے درخت کاٹنے کے عمل کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے مومنو ! تم نے جو کھجور کے درخت کاٹے یا جنہیں اپنی حالت پر کھڑے رہنے دیا یہ اللہ کا حکم تھا اور یہ حکم اس لیے دیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ناگزیر حالات میں دشمن کی جائیداد اور فصل کو تباہ کیا جاسکتا ہے البتہ اہم مجبوری کی صورت کے…
Read the full tafseer →5 : مَاقَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ (جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے) یہ ماقطعتم کا بیان ہے۔
نحو : ماؔ قطعتم کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا تم نے کیا چیز کاٹ ڈالی۔ ماؔ کی طرف راجع ضمیر اَوْتَرَکْتُمُوْھَا میں مؤنث لائے کیونکہ وہ لینۃ کے معنی میں ہے۔ اللِّینَۃُ کھجور کو کہتے ہیں۔ یہ الالوانؔ سے لیا گیا ہے۔ ماقبل کسرہ کی وجہ سے وائو کو یاءؔ سے بدل دیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اَللِّینَۃ عمدہ کھجور کو کہتے ہیں۔ گویا انہوں نے اس کو اللین سے لیا ہے جس کا معنی نرمی ہے۔ قَآئِمَۃٍ عَلٰٓی اُصُوْلِھِا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ (یا ان کو ان کی جگہ کھڑا رہنے دیا۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اجازت سے…
Read the full tafseer →4 ۔” ذلک “ جوان کو لاحق ہوا۔ ” بانھم شاقوا اللہ ورسولہ ومن یشاق اللہ فان اللہ شدید العقاب “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ مستدرک 3 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے چھ مہینے بعد بنی نضیر کا محاصرہ ہوا اور پھر ان کی جلا وطنی ہوئی اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے بنی نضیر نے مشرکین مکہ اور مدینہ کے منافقوں سے مسلمانوں کی بدخواہی کی غرض سے میل جول پیدا کرنے میں تو اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی تھی مگر بنی نضیر کی ایک بہت بڑی مخالفت یہ تھی کہ بیر 1 ؎ معونہ کی بدعہدی کے جھگڑے میں جب بڑے بڑے عالم ستر صحابہ شہید ہوئے اور صحابیوں میں سے عمرو بن امیہ ایک صحابی بچ کر مدینہ کو آرہے تھے راستہ میں ان کو بنی عامر قبیلہ کے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی ؟ پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال ومتاع منتقل ہوا۔ چناچہ (وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ ) اور جو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔ یعنی اس بستی کے لوگوں سے، اس سے مراد، بنونضیر کے لوگ ہیں۔ (فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ ) یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں یعنی تمہیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمہارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ…
Read the full tafseer →مجتہد اپنے اجتہاد سے دشمن کے باغوں کو اجاڑ دے یا باقی رکھے اسے اختیار ہے
قول باری ہے (ما قطعتم من لیلۃ اوترکتموھا قائمۃ علی اصولھا فباذن اللہ کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹے یا انہیں ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا۔ سو یہ دونوں اللہ ہی کے اذن سے تھا) ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ کھجور کا ہر درخت لینہ کہلاتا ہے البتہ عمدہ قسم کی عجوہ کھجور کا درخت اس میں داخل نہیں ہے۔
مجاہد اور عمرو بن میمون کا قول ہے کہ کھجور کا ہر درخت لینہ کہلاتا ہے ……ایک قول کے مطابق کھجور کے عمدہ قسم کے درخت لینہ کہلاتے ہیں۔ ابن جریج نے مجاہد سے آیت کی تفسیر روایت کی ہے کہ بعض مہاجرین نے کھجور کے درخت کاٹنے سے منع کیا تھا…
Read the full tafseer →[ 13] منکرین کے ایک اعتراض کا جواب :
سو اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ جو کچھ بھی تم لوگوں نے اس دوران کیا اے مسلمانو ! وہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا، جو اللہ پاک نے اپنے پیغمبر کو وحی کے ذریعے ارشاد فرمایا تھا، سو اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن حکیم کے علاوہ بھی وحی آتی تھی، کیونکہ یہ اذن و حکم جس کا ذکر یہاں پر فرمایا جا رہا ہے، قرآن پاک میں کہیں بھی مزکور نہیں، جس کا لازمی مطلب یہی ہے کہ حکم آنحضرت ﷺ کو وحی خفی یعنی حدیث ہی میں دیا گیا تھا ﷺ روایات کے مطابق بنو نضیر کے محاصرے کے دوران آنحضرت ﷺ نے کھجور کے کچھ درختوں کو کاٹنے کا حکم دیا جن کو جنگی نقطہ نظر سے کاٹنا ضروری تھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
مال غنیمت اور مال فَیْ کی تقسیم انصار کی فراخدلی
تشریح : سب سے پہلے تو یہودیوں کو اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ بیشک پھل دار درخت کاٹنے کی مسلمان کو ممانعت ہے مگر اب جو مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹ دئیے ہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہی کاٹے ہیں کچھ تو جنگی مصلحت کی بنا پر اور کچھ دشمنوں کو ان کے باغات کی تباہی و بربادی دکھا کر جلانے اور پریشان کرنے کیلئے۔ دوسرا بڑا اہم مسئلہ فی، اور مال غنیمت کی تقسیم کا تھا۔ مال غنیمت اور فَیْ ، دونوں ہی دشمن کے چھوڑے ہوئے منقولہ وغیر منقولہ مال کو کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فَیْوہ مال ہے جو بغیر جنگ و جدل بغیر خون خرابے کے حاصل ہو اور غنیمت وہ ہے جو جنگ و جدل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 6 جب اسلامی لشکر نے جنگی تدبیر کے طور پر بنی نضیر کے درخت کاٹے اور آگ بھی لگائی تو یہود نے یہ صورت حال دیکھ کر آنحضرت کو آواز دی اور کہا ” اے محمد آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ اللہ کے بنی ہیں اور اصلاح کرنی چاہتے ہیں۔ کیا ان درختوں کا کاٹنا اور جلانا بھی اصلاح ہے ؟ “ ان کی یہ بات آنحضرت اور مسلمانوں پر شاق گزری۔ ان کے جواب میں یہ آیت اتری (شوکانی) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کو قرآن کے علاوہ اور احکام بھی دیئے گئے ہیں کیونکہ یہاں جس کے متعلق فرمایا ہے کہ ” انہوں نے اللہ کے حکم سے کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ قرآن میں نہیں ہے بلکہ وحی کے ذریعہ سے دیا گیا ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے مطلب یہ…
Read the full tafseer →(59:5) ما قطعتم من لینۃ : ما شرطیہ قطعتم۔ ماضٰ جمع مذکر حاضر قطع (باب فتح) مصدر۔ تم نے کاٹا۔ من لینۃ میں من بیانیہ ہے
لینۃ لون سے مشتق ہے اس کی جمع الوان آتی ہے۔ بعض کے نزدیک لین سے مشتق ہے۔ علماء نے لینۃ کے مختلف معانی بیان کئے ہیں :۔
(1) بعض نے کہا کہ ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو لینہ کہتے ہیں ۔ اس میں عجوہ کے درخت شامل نہیں ہیں۔ یہ قول عکرمہ اور قتادہ کا ہے۔ زاذان کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔
(2) زہری نے کہا کہ :۔ عجوہ اور برنیہ کے علاوہ دوسرے تمام اقسام کے کھجور کے درختوں کو الوان کہا جاتا ہے۔
(3) مجاہد اور عطیہ نے کہا کہ :۔ بغیر تحقیق کے ہر کھجور کے درخت کو لینہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
اول الحشر۔ پہلا مقابلہ۔ مانعت۔ بچانے والی۔ حصون (حصن) ۔ قلعے۔ قذف۔ پھینکا۔ ڈالا۔ یخربون۔ وہ برباد کرتے ہیں۔ الجلائ۔ (وطن سے) نکلنا۔ شاقوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ ماقطعتم۔ تم نے نہیں کاٹا۔ لینۃ۔ کھجور ( مدینہ منورہ کی مشہور کھجور) ۔ اصول۔ بنیاد۔ جڑ۔
تشریح : مکہ مکرمہ سے جب آپ نے یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے مدینہ کے آس پاس رہنے والے یہودیوں اور مختلف قبیلوں سے برابری کی بنیاد پر ایک ایسا معاہدہ کیا جس سے سب اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مذہب پر پوری آزادی سے عمل کریں اور اگر مدینہ منورہ پر کسی طرف سے بھی حملہ ہو تو سب مل کر اس کا دفاع اور ایک دوسرے کی خیر خوہای کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[5] جب وہ قلعہ بند ہوگئے تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ان کے کچھ درخت کاٹے جائیں تاکہ محاصرہ آسانی سے کیا جاسکے اور کھلی جنگ کے وقت درختوں کی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اس پر کافروں نے طعن کرنا
شروع کیا کہ خود تو فساد سے منع کرتے ہیں تو کیا درخت کا کاٹنا فساد نہیں ؟ یہاں اسی واقعے کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 1: یہودیوں کے پاس بہت سے باغات تھے ۔ جو ان کی دولت اور تمول کا سبب تھے ۔ اس محاصرہ کے دوران میں مسلمانوں نے ان کو غیرت دلانے کے لئے یا اس لئے کہ وہ ان درختوں کو بطور کمین گاہوں کے استعمال نہ کرسکیں ۔ ان کو کاٹ ڈالا ۔ اور پھر دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا ۔ کہ کہیں ہم نے معصیت کا ارتکاب تو نہیں کیا ۔ کیونکہ اسلامی قانون جنگ میں صرف محارب تو ان کو ہدف ہلاکت بنایا جاتا ہے ۔ اور بلا ضرورت تخریب اور تباہی ممنوع ہے ۔ اس آیت میں بتایا کہ جنگ کی مصلحت کا تقاضا یہی تھا ۔ کہ تم لوگ درمیان میں ان درختوں کو کاٹ ڈالو ۔ تاکہ میدان صاف ہوجائے ۔ اور دشمن دھوکہ نہ دے سکے ۔ اور چھپ کر حملہ کرسکے ۔ یاقلعوں میں…
Read the full tafseer →(5) اے مسلمانو ! کھجور کے جن درختوں کو تم نے کاٹ ڈالا یا جن درختوں کو تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا ہوا چھوڑ دیا اور جڑوں پر ان کو کھڑا چھوڑے رکھا تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہوا اور اس لئے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ کافروں اور بےحکموں کو رسوا کرے۔ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ محاصرے کے زمانے میں بعض مسلمانوں نے پھل دار درخت کاٹ دیئے تھی اور اگرچہ پھل دار درختوں کا کٹنا معیوب سمجھا جاتا تھا بعض مسلمانوں نے محض اس بنا پر کہ یہود کو اس سے قلبی اذیت پہنچے گی کچھ درخت کاٹ دیئے اور بعض مسلمانوں نے یہ خیال کرکے کہ یہ درخت ان کو جلاوطنی کے بعد ہمارے ہی کام آئیں گے ان کو ان کی…
Read the full tafseer →ف 5۔ (مسئلہ) اہل حرب کے اموال کا احراق یا افساد و قطع اشجار وغیرہ جب اس میں مصلحت ہو جائز ہے۔
Read the full tafseer →کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے یا ان کو چھوڑ جو ہوا اللہ ہی کے حکم سے ہوا
5 ؎ (لینۃ) کا اصل مادہ ل ی ن ہے اور ( لینۃ) کا لفظ ایک ہی بار قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ اسم جنس ہے کھجورتر و تازہ اور شاداب پھل دینے والے بار آور درخت کو کہا جاتا ہے خواہ وہ کسی قسم کا بھی ہو۔ جب بنی نضیر نے اپنے محلوں اور گڑھیوں سے نکلنے سے انکار کیا تو مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرنا چاہا ، ان کے باغات جو گھنے کھجوروں کے تھے اس گھیرائو میں مزاحم ہوئے اور آپ ﷺ نے ان درختوں کو کاٹ دینے کا حکم دیا اور اتنے حصہ کو کاٹ دیا گیا جتنا حصہ مزاحمت کرتا تھا۔ زیر نظر آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ یہ درخت کتنے یہ پھل دار…
Read the full tafseer →مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ (Whatever palm-trees you have cut down, or have left them standing on their roots, it was with Allah's permission, and so that He might disgrace the transgressors....59:5). The word linah refers to a 'palm-tree'. Another opinion states that besides ` ajwah, all other palm trees are referred to as linah. Banu Nadir's orchards were comprised of palm trees. The reference in the verse is to the cutting, by the orders of the Holy Prophet ﷺ ، of the palm trees of Banu Nadir…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8 "Would have chastised them in the world": world have caused them to be annihilatcd. That is, had they fought instead of surrendering to save their lives, they would have been completely wiped out. Their men would have perished in the war and their womenfolk and children would have been taken prisoners and there would be no one to have them ransomed.
Read the full tafseer →