Explained with ayahs 6–7
مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول ﷺ کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے۔
فے کس مال کو کہتے ہیں ؟ اس کی صفت کیا ہے ؟ اس کا حکم کیا ہے ؟ یہ سب یہاں بیان ہو رہا ہے۔ فے اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آجائے، جیسے بنو نضیر کا یہ مال تھا جس کا ذکر اوپر گذر چکا کہ مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ اس پر نہیں دوڑائے تھے یعنی ان کفار سے آمنے سامنے کوئی مقابلہ اور لڑائی نہیں ہوئی بلکہ انکے دل اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی ہیبت سے بھر دیئے اور وہ اپنے قلعہ خالی کر کے قبضہ میں آگئے، اسے " فے " کہتے ہیں اور یہ مال حضور ﷺ کا ہوگیا، آپ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں، پس آپ نے نیکی اور اصلاح کے…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 11
اب ان جائدادوں اور املاک کا ذکر ہو رہا ہے جو پہلے بنی نضیر کی ملک تھیں اور ان کی جلا وطنی کے بعد اسلامی حکومت کے قبضے میں آئیں۔ ان کے متعلق یہاں سے آیت 10 تک اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ان کا انتظام کس طرح کیا جائے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک علاقہ فتح ہو کر اسلامی مقبوضات میں شامل ہوا، اور آگے بہت سے علاقے فتح ہونے والے تھے، اس لیے فتوحات کے آغاز ہی میں اراضی مفتوحہ کا قانون بیان فرما دیا گیا۔ اس جگہ قابل غور بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مَا اَفَآء اللہُ عَلیٰ رَسُوْلِہ مِنْھُمْ (جو کچھ پلٹا دیا ان سے اللہ نے اپنے رسول کی طرف) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ان الفاظ سے خود بخود…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اوپر جو بیان ہوا وہ تو بنی نضیر کی جانوں کے ساتھ معاملہ تھا) اور (ان کے اموال کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کا بیان یہ ہے کہ) جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوا دیا سو (اس میں تم کو کوئی مشقت نہیں پڑی، چنانچہ) تم نے اس پر (یعنی اس کے حاصل کرنے پر) نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ (مطلب یہ کہ نہ سفر کی مشقت ہوئی، کیونکہ مدینہ سے دو میل پر ہے اور نہ قتال کی اور برائے نام جو مقابلہ کیا گیا وہ غیر معتدبہ تھا کذافی الروح، اس لئے اس مال میں تمہارا استحقاق تقسیم و تملیک کا نہیں، جس طرح مال غنیمت میں ہوتا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) اپنے رسولوں کو (اپنے دشمنوں میں سے) جس پر چاہے (خاص…
Read the full tafseer →(وما اناء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من جبل ولا رکاب ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشا واللہ علی کل شی قدیر) (6)۔
(ایک دوسرے سوال کا جواب)۔۔۔ یہ دوسرے سوال کا جواب ہے جو بنی نضیر کی متروکہ املاک سے متعلق پیدا ہوا اور جس کو منافقین نے اپنی حرص مال کی وجہ سے زیادہ شدت کے ساتھ ہوا دی۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ بھی دشمن سے حاصل شدہ مال ہے اس وجہ سے اس کو بھی مال غنیمت کی طرح پانچواں حصہ نکال کر باقی ہر چیز فوجیوں میں تقسیم کردی جائے۔ اس سے کچھ ہی پہلے جنگ بدر کے موقع پر ایسا ہی کیا گیا تھا۔ اسی کو سامنے رکھ کر اس کے بارے میں بھی مطالبہ کیا گیا لیکن قرآن نے دونوں صورتوں میں نمایاں فرق ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6۔ 1 بنو نضیر کا یہ علاقہ، جو مسلمانوں کے قبضے میں آیا، مدینے سے تین چار میل کے فاصلے پر تھا، یعنی مسلمانوں کو اس کے لئے لمبا سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یعنی اس میں مسلمانوں کو اونٹ اور گھوڑے دوڑانے نہیں پڑے۔ اسطرح لڑنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور صلح کے ذریعے سے یہ علاقہ فتح ہوگیا، یعنی اللہ نے اپنے رسول کو بغیر لڑے ان پر غالب فرما دیا۔ اس لئے یہاں سے حاصل ہونے والے مال کو فَیْء قرار دیا گیا، جس کا حکم غنیمت سے مختلف ہے یعنی جو مال بغیر لڑے دشمن چھوڑ کر بھاگ جائے یا صلح کے ذریعے سے حاصل ہو، اور جو مال باقاعدہ لڑائی اور غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملے، وہ غنیمت ہے۔
Read the full tafseer →5: فئی اس مال کو کہتے ہیں جو کوئی دشمن ایسی حالت میں چھوڑ جائے کہ مسلمانوں کو اس سے باقاعدہ لڑائی کرنی نہ پڑی ہو، بنو نضیر کے یہودیوں کو حضور اقدس ﷺ نے اپنا مال و دولت ساتھ لے جانے کی اجازت دی تھی، اس لئے وہ جو کچھ ساتھ لے جاسکتے تھے لے گئے ؛ لیکن ان کی جو زمینیں تھیں ظاہر ہے کہ وہ ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے، اس لئے وہ چھوڑ کر گئے یہ زمینیں مال فئی کے طور پر مسلمانوں کے قبضے میں آئیں، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی یہ نعمت یاد دلا رہے ہیں کہ یہ مال فئی اللہ تعالیٰ نے اس طرح عطا فرمادیا کہ مسلمانوں کو باقاعدہ لڑائی کی محنت بھی اٹھانی نہیں پڑی، آیت میں گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانے سے مراد لڑائی کی…
Read the full tafseer →وما افاء اللہ .................................... رحیم (01) (95 : 6 تا 01)
” اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے ، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ…
Read the full tafseer →8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کہ یہ ہی فرق رکھا ہے " غنیمت " میں اور " فئے " میں۔ جو مال لڑائی سے ہاتھ لگا وہ غنیمت ہے اس میں پانچواں حصہ اللہ کی نیاز (جس کی تفصیل دسویں پارہ کے شروع میں گزر چکی ہے) اور چار حصے لشکر کو تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اور جو بغیر جنگ کے ہاتھ آیا وہ سب کا سب مسلمانوں کے خزانہ میں رہے (ان کی مصالح عامہ میں) اور جو کام ضروری ہو اس پر خرچ ہو۔ " (تنبیہ) اگر قدرے جنگ ہونے کے بعد کفار مرعون ہو کر صلح کی طرف مسارعت کریں اور مسلمان قبول کرلیں۔ اس صورت میں جو اموال صلح سے حاصل ہوں گے وہ بھی حکم " فئے " میں داخل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں اموال " فئے " خالص حضور ﷺ کے اختیار و…
Read the full tafseer →آیت 6{ وَمَـآ اَفَـآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ } ”اور جو مال کہ ہاتھ لگا دیا ہے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ان بنونضیر سے“
{ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلَا رِکَابٍ } ”تو اے مسلمانو ! تم نے اس پر نہیں دوڑائے گھوڑے اور نہ اونٹ“
{ وَّلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُط } ”لیکن مسلط کردیتا ہے اللہ اپنے رسولوں علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے۔“
{ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْــرٌ۔ } ”اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔“
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت اور قدرت سے بنونضیر کے حوصلے پست کردیے اور انہوں نے تم لوگوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس مہم میں ان کے خلاف تمہیں…
Read the full tafseer →6 اموال فے میں مجاہدین کا حصہ کچھ نہیں :۔ اموال غنیمت میں سے پانچواں حصہ خالصتاً رسول اللہ کے لیے مختص ہوتا تھا جسے آپ اپنی ذات، اپنے گھر والوں رشتہ داروں اور دوسروں میں اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کرتے تھے۔ لیکن جو اموال جنگ کئے بغیر ہی دستیاب ہوجائیں جنہیں اموال فے کہا جاتا ہے، وہ سارے کے سارے رسول اللہ کی تحویل میں دیئے جاتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا عمر کہتے ہیں کہ بنی نضیر کے مال ان اموال میں سے تھے جو اللہ نے لڑائی کے بغیر اپنے پیغمبر کو دلا دیئے۔ مسلمانوں نے ان پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ اس قسم کے مال خاص رسول اللہ کے گنے جاتے تھے۔ ایسے اموال سے آپ اپنے گھر…
Read the full tafseer →10۔ یعنی اس کے لئے یہ تمہیں منزل در منزل سفر کی مشقتیں طے کرنا پڑیں، اور نہ قتل و قتال کی نوبت آئی۔ اس لئے تمہارا کوئی حق ہی اس مال کی تملیک وتقسیم پر قائم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ جنگ و قتال کے بعد مال غنیمت کے جیتنے پر ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” ومآافآء اللہ “۔ فئے اصطلاح فقہ میں وہ مال ہے جو اہل حرب سے بلاقتل حاصل ہوجائے۔ قال الازھری الفیء ما ردہ اللہ علی اھل دینہ من اموال من خالف اھل دینہ بلا قتال (کبیر) بنی نضیر سے یہ حاصل کیا ہوامال اسی قبیل سے تھا، اور فدک اور نصف خیبر بھی اسی کے تحت میں آتے ہیں۔ (آیت) ’ علی رسول اللہ ﷺ کی ملک تھیں۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد یہ محل میراث نہ تھیں، بلکہ وقف تھیں۔ اور یہ حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ماقطعتم من لینۃ اوترکتموھا قائمۃ الخ مسلمانوں نے جب محاصرہ شروع کیا تو بنی نضیر کی بستی کے اطراف میں نخلستان واقع تھے ان کے بہت سے درختوں کو کاٹ ڈالا یا جلا ڈالا گیا تھا، تاکہ محاصرہ با آسانی کیا جاسکے اور درخت فوجی نقل و حرکت میں حائل نہ ہوں، چناچہ جو درخت حائل نہیں تھے انہیں کھڑا رہنے دیا گیا تھا اس پر مدینہ کے منافقوں اور بنو قریظہ اور خود بنو نضیر نے شور مچا دیا کہ محمد ﷺ تو فساد فی الارض سے منع کرتے ہیں مگر خود ہرے اور پھلدار درختوں کو کاٹے جا رہے ہیں، یہ آخر فساد فی الارض نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ تم لوگوں نے جو درخت کاٹے اور جن کو کھڑا رہنے دیا ان…
Read the full tafseer →وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء واللہ علی کل شیء قدیر .
” اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا۔ سو تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے ‘ نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور ہر چیز پر اللہ کو پوری قدرت حاصل ہے۔ “
فَیْ : لوٹنا۔ اَفَاءَ : لوٹایا۔ جوہری نے لکھا ہے : فَئٌکا معنی ہے اچھی حالت کی طرف لوٹنا۔ اللہ نے فرمایا ہے : حَتّٰی تَفِیْٓءَ الآی اَمْرِ اللہ ِ. فَاِنْ فَآءَ تْ فَاصْلِحُوْا . فَاِنْ فَآءُ وْا فَاِنَّ اللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔
ایک شبہ اللہ نے اپنے رسول کو لوٹا کر (یعنی مکرر اور دوبارہ) بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اور رسول اکرم نے ان لوگوں کا محاصرہ کرنے کے بعد اپنے صحابہ کرام کو عجوہ کھجور کے علاوہ ان کے اور کھجور کے درخت کاٹنے کا حکم دیا تو اس پر بنو نضیر نے طعن کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے یا عجوہ کھجور کے رہنے دیے تو یہ دونوں باتیں اللہ ہی کے حکم سے ہیں تاکہ بنو نضیر کو اللہ تعالیٰ ان کے درخت کٹوا کر ذلیل کرے۔
اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فتح کروا کر اموال بنو نضیر سے اپنے رسول کو دلوا دیے وہ رسول اکرم ہی کے ہیں تم نے نہ اس پر گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ کیوں کہ یہ جگہ مدینہ منورہ سے قریب تھی اس لیے پیادہ ہی چلے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد کو یہود اور…
Read the full tafseer →1۔ وَمَآ اَفَآئَ اللہ ُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ۔۔۔۔:”فاء یفیء فیئا“ (ض) جیسا کہ فرمایا :(حَتّٰی تَفِیْٓئَ اِلٰٓی اَمْرِ اللہ ِ) (الحجرات : 9) ”یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔“”افاء یفیی“ (افعال) لوٹانا۔ ”فے“ ان اموال کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے ساتھ حاصل ہوں انہیں غنیمت کہا جاتا ہے (بعض اوقات غنیمت پر بھی فے کا لفظ بول دیا جاتا ہے)۔ ان اموال کو ”فے“ اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام اموال حقیقت میں مسلمانوں کی ملکیت ہیں اور ان پر کفار کا قبضہ ناجائز ہے ، جب مسلمان انہیں حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنے اموال واپس لیتے ہیں۔”اوجفتم“ ”وجف یجف وجفا ووجیفا“ (ض) ”الفرش“ گھوڑے کا دوڑنا۔”او جف یوجف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیات۔ 6۔ 7
تفسیر
ان دو آیات میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر بنو نضیر کے اموال لٹکا دیے تم نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے۔ ایجاف سے مر اور رفتار میں تیزی دکھانا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : وجف الفرس جب گھوڑا تیز دوڑا، او جفتہ انا میں نے اسے حرکت دی، میں نے اسے کسی کے پیچھے لگایا ؛ اسی معنی میں تمیم بن مقبل کا قول ہے : اذا الرکب او جفوا جب اونٹ تیزی سے چل پڑے۔ رکاب کا معنی اونٹ ہے اس کی واحد راحلہ ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : تم نے وہاں تک پہنچنے میں کوئی لمبا سفر طے نہیں کیا، نہ وہ ان جنگ اور کسی مشقت کا سامنا کیا۔ یہ…
Read the full tafseer →بنو نضیر کے مال غنیمت کی تقسیم
40۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کا مال غنیمت قریش اور مہاجرین میں تقسیم فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ماقطعتم من لینۃ اور یہ عجوہ اور فنیق اور نخیل ہیں۔ یہ دونوں قسم کی کھجوریں کشتی میں نوح (علیہ السلام) کے پاس تھیں۔ اور یہ دونوں کھجور کی اصل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انصار میں سے کسی کو مال غنیمت نہیں دیا مگر دو آدمیوں کو ابو دجانہ اور سہل بن حنیف ؓ کو۔
41۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے پاس ایک یہودی آیا اور مشیت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا مشیت تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔…
Read the full tafseer →[وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ : اور جو لوٹایا اللہ نے ][عَلٰي رَسُوْلِهٖ : اپنے رسول پر ][مِنْهُمْ : ان لوگوں سے ( لے کر)][ فَمَآ اَوْجَفْتم : تو نہیں دوڑایا تم لوگوں نے ][ عَلَيْهِ : اس پر ][مِنْ خَيْلٍ : کوئی بھی گھوڑا [ وَّلَا رِكَابٍ : اور نہ ہی کوئی اونٹ ][وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِــطُ : اور لیکن اللہ غلبہ دیتا ہے ][رُسُلَهٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ : اپنے رسولوں کو اس پر جس پر وہ چاہتا ہے ][وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1 : بنی نضیر کی متروکہ املاک کے متعلق ایک خیال یہ تھا کہ یہ دشمن سے حاصل شدہ مال ہے اس لیے اس کو بھی مال غنیمت کی طرح پانچواں…
Read the full tafseer →اموال فئی کے مستحقین کا بیان
لفظ افاء یفی باب افعال سے ماضی کا صیغہ ہے فاء لوٹا۔ فاء لوٹایا، چونکہ کافروں کا مال مسلمانوں کو مل جاتا ہے ان کی املاک ختم ہوجاتی ہیں اور مسلمانوں کی ملک میں آجاتی ہیں۔ اس لیے جو مال جنگ کیے بغیر بطور صلح مل جائے اس کو فئی کہتے ہیں اور جو مال جنگ کر کے ملے اس مال کو غنیمت کہتے ہیں۔
مال غنیمت کے مصارف دسویں پارے کے شروع میں بیان فرما دیئے گئے ہیں اور مال فئی کے مصارف یہاں بیان فرمائے ہیں۔
بنی نضیر کے مال بطور صلح مل گئے اور اس میں کوئی جنگ لڑنی نہیں پڑی تھی لہٰذا ان اموال میں کسی کو کسی حصہ کا استحقاق نہیں تھا۔ بعض صحابہ ؓ کے دلوں میں یہ بات آئی کہ ہمیں ان اموال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جلاوطنی یہود از ارض حجاز و غلبہ رسول خدا ﷺ برباغات وقلعہائے بنی نضیر :
قال اللہ تعالیٰ : سبح للہ مافی السموت وما فی الارض ...... الی ...... ان اللہ شدید العقاب “۔
(ربط) گزشتہ سورت کے اختتامی مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والوں پر وعید تھی اور ان کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور خداوند عالم کی عزت وقدرت اور کبریائی کا ذکر تھا تو اب اس سورة حشر میں اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ اور دشمنی کرنے والوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے، اور یہودیوں کی ذلت ورسوائی ذکر کی جارہی ہے کہ ان کی طاقت و شوکت اور ان کے محفوظ قلعے انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے ارشاد فرمایا۔
پاکی بیان کرتی…
Read the full tafseer →6:۔ ” وما افاء “ یہ مبتداء ہے اور ” ما افاء اللہ “ بعد عہد کی وجہ سے اعادہ ہے اور درمیان میں ” فما اوجفتم “ سے فئ کی تشریح کی گئی ہے اور ” فللہ ولرسول الخ “ اس کی خبر ہے۔ یہاں سے لے کر ” انک رؤوف رحیم “ تک مال فئ کی تقسیم کا دستور بیان کیا گیا ہے۔ بنی نضیر کے اموال چونکہ بطور فیئ حاصل ہوئے اس لیے ان کی تقسیم کار کا دو تور بیان فرمایا۔ مال فئ اس مال کو کہا جاتا ہے جو قتادل و جہاد کے بغیر کفار سے مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ جیسا کہ یہود بنی نضیر نے مسلمانوں کے حملے سے مرعوب ہو کر صلح کرلی اور اپنے اموال بلا قتال مسلمانوں کے حوالے کردئیے اس کا زکر ” وما افاء اللہ علی رسولہ منہم “ میں ہے یہود بنی نضیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قبیلہ بنی نضیر کی بدعہدی کا ذکر ہوا۔ یہ قبیلہ مدینہ کے اطراف میں آباد ان قبیلوں میں سے ایک تھا جنہوں نے معاہدہ مدینہ پر دستخط کر رکھے تھے اور جس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان اور یہ قبائل اپنے اپنے مذاہب پر قائم رہتے ہوئے کسی بیرونی حملہ کی صورت میں اکٹھے دفاع کریں گے اور معاہدہ میں شامل کوئی فریق کسی دوسرے فریق کے خلاف دشمن کی مدد نہیں کرے گا۔ بنی نضیر نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے ساتھ ساز باز کی اور انہیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دی دوسری طرف مدینہ میں مسلمانوں کو طرح طرح سے تکالیف پہنچانے لگے ۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ کو بالکل…
Read the full tafseer →وَمَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْہِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللہَ يُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 6
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
فے اور غنیمت کے معنی :
تفسیر : اس کے بعد بنی نضیر کے مال و اسباب کی بابت فرماتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور جس کو وہ نہ لے جاسکے۔ فقال وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما ادجفتم علیہ من خیل دلارکاب الخ۔ مبرد کہتے ہیں فاء یفیٔ کے معنی ہیں رجوع کے اور افاء اللہ جب کہتے ہیں کہ جب اللہ بھیجے۔ ازہری کہتے ہیں فیٔ اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ مخالفوں سے حاصل ہو خواہ اس طور سے کہ کفار چھوڑ کر چلے جائیں یا جزیے کے طور ادا کریں یا رعب میں آ کر جان بچانے کے لیے کچھ رقم یا چیزیں دیں ‘ یہ سب فیٔ ہے۔ اس کو لغوی معنی کے لحاظ سے فی اس لیے کہتے ہیں کہ کفار سے اللہ نے مسلمانوں کے پاس بھیجا ہے۔ برخلاف غنیمت…
Read the full tafseer →وَمَآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْھُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلاَ رِکَابٍ وَّلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَـہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الحشر : 6)
(اور جو مال اللہ نے ان کی طرف سے اپنے رسول کی طرف لوٹایا، تو تم نے اس پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
بنو نضیر کے اموال اور باغات کی حیثیت
یہاں سے آیت 10 تک اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کی ملک سے نکلنے والے باغات، اموال اور زمینوں کی حیثیت اور ان کے انتظامی معاملات کے سلسلے میں احکام دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : بنو نضیر کے چھوڑے ہوئے مال کے بارے میں حکم۔
اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر پر مسلمانوں کا اس طرح دبدبہ اور رعب طاری کیا کہ انہوں نے مسلمانوں کے حملہ کیے بغیر ہی اپنے گھر بار اور پورا علاقہ خالی کردیا۔ اس طرح مسلمان ان کے گھروں اور زمینوں پر قابض ہوگئے۔ جب بنو نضیر اپنی جائیدادیں چھوڑ کر نکل گئے تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اس مال کی کس طرح تقسیم کی جائے بالخصوص جب منافقین نے مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی مال غنیمت سے حصہ دیا جائے۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ یہ مال غنیمت نہیں بلکہ اسکی حیثیت مال فئی کی ہے کیونکہ اس پر مسلمانوں نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ یعنی مسلمانوں کے حملہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →مالِ فئی :
6 : وَمَآ اَفَآ ئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (اور جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو ان سے دلوایا) اس کو آپ ﷺ کیلئے فئی قرار دیا۔ مِنْھُمْ ھمؔ سے مراد بنو نضیر ہیں۔ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِکَابٍ (پس تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ) یہ اموال بنی نضیر کا حصول تمہارے گھوڑے دوڑانے اور سواریوں چڑھانے کی وجہ سے نہیں ہوا۔ الرکابؔ اونٹ۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو حاصل کرنے کیلئے اور اس کو غنیمت بنانے کیلئے گھوڑوں اور سواروں کی ضرورت نہ پڑی اور نہ ان کے ساتھ لڑائی کر کے تمہیں تھکنا پڑا۔ بلکہ تم وہاں پیدل گئے کیونکہ یہ مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر قباء کے پاس ہی…
Read the full tafseer →5 ۔” ماقطعتم من لینۃ “ جب رسول اللہ ﷺ بنو نضیر پر اترے اور انہوں نے اپنے قلعوں میں پناہ لے لی تو آپ (علیہ السلام) نے ان کے درخت کاٹنے اور ان کو جلانے کا حکم دیا تو اللہ کے دشمنوں نے اس وقت واویلا کیا اور کہنے لگے۔ اے محمد ( ﷺ ) آپ نے گمان کیا کہ آپ صلاح و خیرخواہی کا ارادہ کرتے ہیں۔ کیا صلاح میں سے درختوں کا اکھاڑنا اور کھجوروں کو کافی ہے ؟ پس کیا تونے پایا ہے اس میں جو تجھ پر اتارا گیا ہے زمین میں فساد مچانا۔ پس مسلمانوں نے ان کے قول کی وجہ سے اپنے دل میں کچھ پایا اور ڈرے کہ یہ فساد نہ ہوا اور اس میں اختلاف کیا تو بعض نے کہا تم نہ کاٹو کیونکہ یہ اس میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ ہمارے لئے ۔۔۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
6۔ 9۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے جلا وطن ہونے کا ذکر فرما کر اس جلا وطنی کے بعد بغیر لڑائی اور بغیر مقابلہ کے جو مال ہاتھ آیا ان آیتوں میں اس کا یہ حکم فرمایا کہ جس طرح بغیر لڑائی کے بنی نضیر کا مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا اس مال میں اور آگے کو اسی طرح جو مال بغیر لڑائی کے ہاتھ لگے ایسے سب مال میں وہ پانچ حصے نہ ہوں گے جو پانچ حصے لڑائی کے بعد غنیمت کے مال کے سورة انفال میں بیان ہوئے کہ ان پانچ حصوں میں سے چار خمس لشکر اسلام میں تقسیم کئے جائیں گے اور ایک خمس اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا بلکہ یہ بغیر لڑائی کے ہاتھ آیا ہوا تمام مال اللہ کے رسول کے اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی ؟ پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال ومتاع منتقل ہوا۔ چناچہ (وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ ) اور جو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔ یعنی اس بستی کے لوگوں سے، اس سے مراد، بنونضیر کے لوگ ہیں۔ (فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ ) یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں یعنی تمہیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمہارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ…
Read the full tafseer →مال غنیمت
قول باری ہے (وما آفاء اللہ علی رسولہ منھم فما او جفتم علیہ من خیل ولا رکاب ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشآء اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے بطور فئے دلوایا سو تم نے اس کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ بلکہ اللہ اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہے غلبہ دے دیتا ہے)
فئے رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی سے ایلاء میں ہونے والے رجوع کو فی کہا جاتا ہے۔ چناچہ قول باری ہے (فان فائوا ، اگر وہ رجوع کرلیں) جب کوئی چیز کسی کو واپس کردی جائے تو کہا جاتا ہے ” افلوہ علیہ “ اس نے فلاں چیز اسے لوٹا دی۔
اس مقام پر فئے سے مراد اہل شرک کے وہ اموال ہیں جو مسلمانوں کے ہاتھ آجاتے ہیں اس لئے مال غنیمت ، جزیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
[ 15] مال فئی سے سرفرازی بغیر جہاد و قتال کے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کچھ مال اللہ نے ان لوگوں کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول پر لوٹا یا اس پر تمہاری کوئی محنت نہیں لگی، اسے مسلمانو ! کیونکہ یہ لفظ یعنی " افائ " اصل میں فئی سے ماخوذ ہے جس کے معنی لوٹنے اور واپس ہونے کے آتے ہیں، یعنی یہ مال جو ان یہود وغیرہ و دشمنان اسلام سے لیا جاتا ہے، یہ دراصل اللہ پاک ہی کا تھا، اور اسی کا ہے، کیونکہ زمین و آسمان کی پوری کائنات کی ہر چیز دراصل اسی وحدہٗ لاشریک کی ملکیت ہے، وہ اپنی مشیت ومرضی سے جس کو چاہتا ہے دنیا کے اس عارضی تصریف کے لئے عطا فرما دیتا ہے، اور جو کوئی شخص یا قوم اپنے تمرو سرکشی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
مال غنیمت اور مال فَیْ کی تقسیم انصار کی فراخدلی
تشریح : سب سے پہلے تو یہودیوں کو اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ بیشک پھل دار درخت کاٹنے کی مسلمان کو ممانعت ہے مگر اب جو مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹ دئیے ہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہی کاٹے ہیں کچھ تو جنگی مصلحت کی بنا پر اور کچھ دشمنوں کو ان کے باغات کی تباہی و بربادی دکھا کر جلانے اور پریشان کرنے کیلئے۔ دوسرا بڑا اہم مسئلہ فی، اور مال غنیمت کی تقسیم کا تھا۔ مال غنیمت اور فَیْ ، دونوں ہی دشمن کے چھوڑے ہوئے منقولہ وغیر منقولہ مال کو کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فَیْوہ مال ہے جو بغیر جنگ و جدل بغیر خون خرابے کے حاصل ہو اور غنیمت وہ ہے جو جنگ و جدل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی غالب کرتا ہے۔2 مسلمان کافروں سے جو مال لڑکر حاصل کریں۔ اسے غنیمت کہا جاتا ہے جس کے احکام سورة انفال آیت 41 میں گزر چکے ہیں اور جو مال لڑائی کے بغیر حاصل ہوا سے قے کہا جاتا ہے۔ اس میں فوج کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ وہ خلاصہ اللہ و رسول اور ان لوگوں کا حصہ ہوتا ہے جن کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔ بنو نضیر کے اموال چونکہ صلح نامہ کے تحت حاصل ہوئے تھے۔ اس لئے قرآن نے اسے اموال فے قرار دیا۔ ان کو آنحضرت نے مہاجرین میں تقسیم کردیا۔ اس طرح انصار پر سے ان کا بار ہلکا ہوگیا اور کچھ حصہ آنحضرت نے رکھ لیا اس سے جو آمدنی ہوتی اس سے اپنے گھر والوں کے لئے سال بھر کا خرچ نکال لیتے اور جو بچتا اے اللہ کی…
Read the full tafseer →(59:6) وما افاء اللہ علی رسولہ منہم : واؤ عاطفہ۔ ما موصولہ، مبتداء ۔ افاء اللہ علی رسولہ منہم صلہ۔ اس کے بعد اگلا جملہ مبتدا کی خبر ہے۔
افاء ماضی واحد مذکر غائب۔ افاء ۃ (افعال) مصدر۔ اس نے لوٹای۔ اس نے ہاتھ لگوایا۔ اس نے فئی میں عطا کیا۔ی ء مادہ۔ فاء یفیی (باب ضرب) فیئی لوٹنا (کسی چیز کی طرف) (سایہ کا) ہٹ جانا۔ فیئی کے اصول معنی کسی اچھی حالت کی طرف لوٹنا کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے حتی تفیئی الی امر اللہ فان فاءت (49:9) یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس جب وہ رجوع لائے : جو مال غنیمت بلا مشقت حاصل ہو وہ بھی فئے کہلاتا ہے۔
علامہ ناصر بن عبد السید المطرزی المغرب میں رقمطراز ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
لغات القرآن۔
افائ۔ اس نے لوٹایا۔ اوجفتم۔ تم نے بھگایا۔ تم نے دوڑایا۔ دولۃ۔ مال و دولت۔ نھی۔ منع کردیا۔ تبوئ۔ انہوں نے ٹھکانا بنایا۔ حاجۃ۔ ضرورت۔ یوثرون۔ وہ ترجیح دیتے ہیں۔ خصاصۃ۔ ضروریات زندگی۔ فقر وغربت۔ شح۔ کنجوسی۔ لالچ۔ غلا۔ کینہ۔ بغض۔
تشریح : جنگ میں فتھ کے بعد کفار سے جو مال مجاہدین کے ہاتھ لگتا ہے اگر باقاعدہ جنگ کے ذریعہ حاصل ہو تو اس کو ” مال غنیمت “ اور ” انفال “ کہا جاتا ہے اور بغیر جنگ کے صلح کے ذریعہ مال و دولت ، زمین و جائیداد ہاتھ آتی ہے اس کو ” مال فے “ کہا جاتا ہے۔ مال غنیمت اور مال فے کو کس طرح صرف کیا جائے گا اس کے الگ الگ احکامات ہیں۔
دور جہالت میں عربوں کا دستور یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…
Read the full tafseer →[6] فَے کے معنی لوٹانے کے ہیں اور اصطلاح فقہ میں وہ مال ہے جو دشمن سے بغیر لڑے حاصل ہو۔ بنی نضیر سے حاصل کیا ہوا مال اسی قبیل سے تھا اور فدک اور اموال خیبر بھی اسی کے تحت آتے ہیں۔
[7] یعنی اس کے لئے نہ تمہیں منزل درمنزل سفر کی مشقتیں اٹھانا پڑیں اور نہ لڑائی کی نوبت آئی۔ اس لئے تمہارا حق ہی اس مال پر قائم نہیں ہوتا جیسا کہ جنگ و قتال کے بعد مال غنیمت کے جیتنے پر ہوجاتا ہے۔ فے کے مصارف کا حکم جو اگلی آیت میں آ رہا ہے اسی طرح کا ہے جیسے اہل نصاب کے لئے زکوٰۃ کے مصارف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 1: یہ آیت سیاق وسباق کے لحاظ سے تواموال غنیمت کی تقسیم کے متعلق ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ جس شخص کو جس قدر ازراہ انصاف وعدل دیتے ہیں ۔ اس کو بلا تکلف اور بغیر اعتراض کے قبول کرلینا چاہیے ۔ اور جس کو محروم رکھتے ہیں ۔ اسے اپنی محرومی پر قانع رہنا چاہیے ۔ اور جس کو محروم رکھتے ہیں ۔ اسے اپنی محرومی پر قانع رہنا چاہیے ۔ اور حرف شکایت لبوں تک نہیں لانا چاہیے ۔ کیونکہ پیغمبر ﷺ کے عدل و انصاف پر اعتماد نہ کرنا تقویٰ کے منافی ہے ۔ نور ایمان کا فقدان وضیاع ہے ۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے ۔ کہ اس خصوصی منی کی وجہ سے آیت میں تقسیم باقی نہ رہے ۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے ۔ کہ آیت میں اصالتہ عموم اسی…
Read the full tafseer →(6) اور جو مال اللہ تعالیٰ نے بطور نے اپنے رسول کو یہود سے دلوادیا اور جو ہاتھ لگایا اس میں تمہارا کوئی حق نہیں کیونکہ اس پر نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ دوڑائے بلکہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنے رسولوں کو مسلط کردیتا ہے اور غالب فرمادیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہی فرق رکھا غنیمت میں اور فئے میں جو مال لڑائی سے ہاتھ لگا وہ غنیمت ہے اس میں پانچواں حصہ اللہ کی نیاز اور چار حصے لشکر کو بانٹتے اور جو بغیر جنگ ہاتھ لگا وہ سارا خزانوں میں مسلمانوں کے ہے جو کام ضرور ہوا اس پر خرچ ہو۔
خلاصہ : یہ کہ جو مال اہل حرب سے بلا قتال ہاتھ لگے وہ فئے ہے…
Read the full tafseer →ف 6۔ جو مال اہل حرب سے بلا قتال حاصل ہو وہ فئے ہے۔
7۔ مطلب یہ کہ نہ سفر کی مشقت ہوئی، کیونکہ مدینہ سے دو میل پر ہے، اور نہ قتال کی اور برائے نام جو مقابلہ کیا گیا وہ غیر معتد بہ تھا اس لئے اس میں تمہارا استحقاق تقسیم و تملیک کا نہیں جس طرح غنیمت کے چار خمس میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →بنی نضیر کے ہاں سے جو کچھ تم کو حاصل ہوا دراصل یہ محض رسول اللہ ﷺ ہی کا حق تھا
6 ؎ جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بنی نضیر کے یہود کو جو یہاں سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا وہ ان ہی کے کیے کی سزا تھی لیکن جب ان کو الٹی میٹم (Ultimatum) دیا گیا تو ایک بار انہوں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور پھر جب ان پر مسلمانوں کو باقاعدہ چڑھائی کا حکم دیا گیا اور مسلمانوں نے چڑھائی کردی تو انہوں نے مزاحمت کی کوشش بھی کی ۔ اس مزاحمت کو روکنے کے لیے ان کے وہ مخصوص درخت کاٹ کر رکھ دیئے گئے اور جوں ہی ان درختوں کے کاٹ دینے کا حکم دیا گیا اور وہ کٹ چکے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اپیل کردی کہ اگر ان کو…
Read the full tafseer →[ 1] fai' is a term for the properties left over by the non-Muslims and possessed by a Muslim state without fighting. As opposed to this, ghanimah (booty) is a property taken over by fighting. The properties of Bani Nadir were taken over without fighting, hence the word fai'. That is why we did not translate fai' as 'booty'. (Muhammad Taqi Usmani)
Read the full tafseer →9 The reference is to the fact that the Muslims cut down or burnt many of the palm-trees that stood in the oases around the settlement of the Bani an Nadir in order to facilitate the siege, However, they left those trees standing which did not obstruct the military operations. At this the hypocrites of Madinah and the Bani Quraizah, and the Bani an-Nadir themselves, raised a clamour, saying that, on the one hand, Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) prohibited spreading disorder in the world, but, on the other, fruit trees were being cut down by his command, which amounted to…
Read the full tafseer →