Al-Hashr 59:7

Al-Hashr · from ayah 7

59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰی رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰكِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ۙ— كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةً بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ ؕ— وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۗ— وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ— وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۟ۘمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِۙ كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ‌ ؕ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌ۘ

جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what Allah restored to His Messenger from the people of the towns - it is for Allah and for the Messenger and for [his] near relatives and orphans and the [stranded] traveler - so that it will not be a perpetual distribution among the rich from among you. And whatever the Messenger has given you - take; and what he has forbidden you - refrain from. And fear Allah; indeed, Allah is severe in penalty.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hashr

All translations of 59:7

جو کچھ بھی اللہ اِن بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وه اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ ره جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ اپنے رسول کو (دوسری) بستیوں سے جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوا دے، تو وہ اللہ کا حق ہے اور اس کے رسول کا، اور قرابت داروں کا، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا، تاکہ وہ مال صرف انہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو تم میں دولت مند لوگ ہیں۔ اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ جائے (ف۹۲۱ اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو، اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو (اَموالِ فَے) اللہ نے (قُرَیظہ، نَضِیر، فِدَک، خَیبر، عُرَینہ سمیت دیگر بغیر جنگ کے مفتوحہ) بستیوں والوں سے (نکال کر) اپنے رسول ﷺ پر لوٹائے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہیں اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں (یعنی بنو ہاشم اور بنو المطّلب) کے لئے اور (معاشرے کے عام) یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہیں، (یہ نظامِ تقسیم اس لئے ہے) تاکہ (سارا مال صرف) تمہارے مال داروں کے درمیان ہی نہ گردش کرتا رہے (بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرے)۔ اور جو کچھ رسول ﷺ تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم و عطا پر کبھی زبانِ طعن نہ کھولو)، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا تو وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے، تاکہ وہ تم میں سے مال داروں کے درمیان ہی گردش کرنے والا نہ ہو اور رسول تمہیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمہیں روک دے تو رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ان دیہات والوں سے جو (مال) بھی اپنے رسول کو مفت میں دلا دے وہ مال اللہ، رسول، قرابت والوں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ (مال) تمہارے دولت مندوں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ اور جو کچھ تمہیں رسول دے وہ لے لو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقینا سخت سزا دینے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو کچھ اللہ بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول کی طرف لوٹائے تو وہ اللہ اور رسول اور قرابت مندوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے تاکہ اس کی گردش تمہارے مال داروں ہی کے اندر محدود ہو کر نہ رہ جائے اور رسول جو تمہیں دے اس کو لو اور جس سے روکے اس سے رک جائو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سخت پاداش والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو بھی کچھ اللہ نے ان بستیوں کے لوگوں سے لوٹا دیا اپنے رسول کی طرف تو وہ حق ہے اللہ کا، اس کے رسول کا اور رشتہ داروں یتیموں مسکینوں اور مسافروں کا تاکہ وہ (مال) تمہارے مال دار لوگوں کے درمیان ہی گردش کرتا نہ رہ جائے اور جو بھی کچھ رسول تمہیں عطا فرمائیں اسے لے لیا کرو اور جس سے وہ تمہیں روکیں اس سے رک جایا کرو اور (ہمیشہ) ڈرتے رہا کرو اللہ سے بیشک اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

جو کچھ اللہ اپنے رسول کو (دوسری) بسیتوں والوں سے بطور فئے دلوا دے سو وہ اللہ ہی کا حق ہے اور رسول کا اور (رسول کے) عزیزوں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا۔ تاکہ وہ (مال فئے) تمہارے تونگروں ہی کے قبضہ میں نہ آجائے۔ تو رسول جو کچھ تمہیں دے دیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس سے وہ تمہیں روک دیں رک جایا کرو۔ اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو مال بھی ہاتھ لگا دے اللہ اپنے رسول ﷺ کے بستیوں والوں سے تو وہ ہے اللہ کے لیے رسول ﷺ کے لیے قرابت داروں یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے تاکہ وہ تم میں سے مال داروں ہی کے درمیان گردش میں نہ رہے۔ اور جو کچھ رسول ﷺ تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ اللہ کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابتداروں کے، یتیموں، حاجتمندوں، اور مسافروں کے لیے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولتمند ہیں انہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تمہیں پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Whatever (from the possessions of the towns people) Allah has bestowed on His Messenger belongs to Allah, and to the Messenger, and to his kinsfolk, and to the orphans, and to the needy, and to the wayfarer so that it may not merely circulate between the rich among you. So accept whatever the Messenger gives you, and refrain from whatever he forbids you. And fear Allah: verily Allah is Most Stern in retribution.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whatever fai‘ Allah has passed on to His Messenger from the people of the towns is for Allah and for the Messenger, and for the kinsmen and the orphans and the needy and the wayfarer, so that it may not circulate only between the rich among you. And whatever the Messenger gives you, take it, and whatever he forbids you from, abstain (from it). And fear Allah. Indeed Allah is severe in punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Whatever fai‘ Allah has passed on to His Messenger from the people of the towns is for Allah and for the Messenger, and for the kinsmen and the orphans and the needy and the wayfarer, so that it may not circulate only between the rich among you. And whatever the Messenger gives you, take it, and whatever he forbids you from, abstain (from it). And fear Allah. Indeed Allah is severe in punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

What Allah gave as booty (Fai') to His Messenger from the people of the townships -- it is for Allah, His Messenger, the kindred, the orphans, the poor, and the wayfarer, in order that it may not become a fortune used by the rich among you. And whatsoever the Messenger gives you, take it; and whatsoever he forbids you, abstain (from it). And have Taqwa of Allah, verily, Allah is Severe in punishment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That which Allah giveth as spoil unto His messenger from the people of the townships, it is for Allah and His messenger and for the near of kin and the orphans and the needy and the wayfarer, that it become not a commodity between the rich among you. And whatsoever the messenger giveth you, take it. And whatsoever he forbiddeth, abstain (from it). And keep your duty to Allah. Lo! Allah is stern in reprisal.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what Allah restored to His Messenger from the people of the towns - it is for Allah and for the Messenger and for [his] near relatives and orphans and the [stranded] traveler - so that it will not be a perpetual distribution among the rich from among you. And whatever the Messenger has given you - take; and what he has forbidden you - refrain from. And fear Allah; indeed, Allah is severe in penalty.

— Saheeh International

Whatever God grants to His Messenger (out of the property) of the people of the towns, belongs to God, the Messenger, the kinsfolk, the orphans, the destitute and to those who may become needy while on a journey, so that it will not circulate only in the hands of rich ones among them. Take only what the Messenger gives to you and desist from what he forbids you. Have fear of God; God is severe in His retribution.

— Muhammad Sarwar

Whatever Allah has restored to His Apostle from the people of the towns, it is for Allah and for the Apostle, and for the near of kin and the orphans and the needy and the wayfarer, so that it may not be a thing taken by turns among the rich of you, and whatever the Apostle gives you, accept it, and from whatever he forbids you, keep back, and be careful of (your duty to) Allah; surely Allah is severe in retributing (evil):

— Muhammad Habib Shakir

Whatsoever Allah may restore Unto His apostle from the people of the cities is due Unto Allah and Unto the apostle and Unto the near of kin and the orphans and the needy and the wayfarer, so that it may not be confined to the rich among you. And whatsoever the apostle giveth you, take; and whatsoever he forbiddeth you, refrain from. And fear Allah; verily Allah is Stern in chastisement.

— Abdul Majid Daryabadi

What Allah has bestowed on His Messenger (and taken away) from the people of the townships,- belongs to Allah,- to His Messenger and to kindred and orphans, the needy and the wayfarer; In order that it may not (merely) make a circuit between the wealthy among you. So take what the Messenger assigns to you, and deny yourselves that which he withholds from you. And fear Allah; for Allah is strict in Punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 59:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–7

مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول ﷺ کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے۔ فے کس مال کو کہتے ہیں ؟ اس کی صفت کیا ہے ؟ اس کا حکم کیا ہے ؟ یہ سب یہاں بیان ہو رہا ہے۔ فے اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آجائے، جیسے بنو نضیر کا یہ مال تھا جس کا ذکر اوپر گذر چکا کہ مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ اس پر نہیں دوڑائے تھے یعنی ان کفار سے آمنے سامنے کوئی مقابلہ اور لڑائی نہیں ہوئی بلکہ انکے دل اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی ہیبت سے بھر دیئے اور وہ اپنے قلعہ خالی کر کے قبضہ میں آگئے، اسے " فے " کہتے ہیں اور یہ مال حضور ﷺ کا ہوگیا، آپ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں، پس آپ نے نیکی اور اصلاح کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَشْر 13 پچھلی آیت میں صرف اتنی بات ارشاد ہوئی تھی کہ ان اموال کو حملہ آور فوج میں غنائم کی طرح تقسیم نہ کرنے کی وجہ کیا ہے، اور کیوں ان کا شرعی حکم غنائم سے الگ ہے۔ اب اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان اموال کے حقدار کون ہیں۔ ان میں سب سے پہلا حصہ اللہ اور رسول کا ہے۔ اس حکم پر رسول اللہ ﷺ نے جس طرح عمل کیا اس کی تفصیل مالک بن اوس بن الحدثان نے حضرت عمر ؓ کی روایت سے یہ نقل کی ہے کہ حضور ﷺ اس حصہ میں سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا نفقہ لے لیتے تھے اور باقی آمدنی جہاد کے لیے اسلحہ اور سواری کے جانور فراہم کرنے پر خرچ فرمائے تھے (بخاری، مسلم، مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی وغیرہ)۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ الآیہ، لفظ افاء فئی سے مشتق ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں، اس لئے دوپہر کے بعد جو چیزوں کا سایہ مشرق کی طرف لوٹتا ہے اس کو بھی فئی کہا جاتا ہے، اموال غنیمت جو کفار سے حاصل ہوتے ہیں ان سب کی اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے باغی ہوجانے کی وجہ سے ان کے اموال بحق سرکار ضبط ہوجاتے ہیں اور ان کی ملکیت سے نکل کر پھر مالک حقیقی حق تعالیٰ کی طرف لوٹ جاتے ہیں، اس لئے ان کے حاصل ہونے کو افا کے لفظ سے تعبیر کیا گیا، اس کا تقاضا یہ تھا کہ کفار سے حاصل ہونے والے تمام قسم کے اموال کو فئی ہی کہا جاتا، مگر جو مال جہاد و قتال کے ذریعہ حاصل ہوا اس میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم وما اتکم الرسول فخذوہ وما فھکم عنہ فانتھوا واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب) (7)۔ مال غنیمت اور مال فے کے درمیان فرق واضح کرنے کے بعد یہ مال فے کا مصرف بتا دیا کہ یہ کل کا کل اللہ، رسول، رسول کے متعلقین، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہوگا۔ یعنی اس میں جنگ کرنے والوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہاں جو مصارف بیان ہوئے ہیں وہ سب سورة انفال میں اموال غنیمت کے سلسلہ میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ اس وجہ سے یہاں ہم صرف خاص خاص باتوں ہی کی طرف توجہ دلائیں گے۔ تفصیل کے طالب تفسیر سورة…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

6۔ 1 بنو نضیر کا یہ علاقہ، جو مسلمانوں کے قبضے میں آیا، مدینے سے تین چار میل کے فاصلے پر تھا، یعنی مسلمانوں کو اس کے لئے لمبا سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یعنی اس میں مسلمانوں کو اونٹ اور گھوڑے دوڑانے نہیں پڑے۔ اسطرح لڑنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور صلح کے ذریعے سے یہ علاقہ فتح ہوگیا، یعنی اللہ نے اپنے رسول کو بغیر لڑے ان پر غالب فرما دیا۔ اس لئے یہاں سے حاصل ہونے والے مال کو فَیْء قرار دیا گیا، جس کا حکم غنیمت سے مختلف ہے یعنی جو مال بغیر لڑے دشمن چھوڑ کر بھاگ جائے یا صلح کے ذریعے سے حاصل ہو، اور جو مال باقاعدہ لڑائی اور غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملے، وہ غنیمت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–8

6: یعنی وہ صحابہ جنہیں کافروں نے مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کیا، اور وہ اپنے گھروں اور جائیدادوں سے محروم ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ما افاء اللہ .................... العقاب (95 : 7) ” جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہ آیت اس حکم کو بتارہی جس کا ذکر ہم نے پہلے کردیا ہے۔ اس حکم کی علت بیان کرتے ہوئے اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ دراصل اسلام کے نظام اقتصادی کا ایک عظیم اصول ہے۔ کئی لا یکون ........................ منکم (95 : 7) ” تاکہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 پہلی آیت میں صرف اموال " بنی نضیر " کا ذکر تھا۔ اب اموال " فئے " کے متعلق عام ضابطہ بتلاتے ہیں۔ یعنی " فئے " پر قبضہ رسول کا اور رسول کے بعد امام کا اسی پر یہ خرچ پڑتے ہیں۔ باقی اللہ کا ذکر تبرکاً ہوا۔ وہ تو سب ہی کا مالک ہے۔ وہاں کعبہ کا خرچ اور مسجدوں کا بھی جو اللہ کے نامزد ہیں ممکن ہے اس میں درج ہو۔ 10 یعنی حضرت کے قرابت والوں کے۔ چناچہ حضور ﷺ اپنے زمانہ میں اس مال میں سے ان کو بھی دیتے تھے۔ اور ان میں فقیر کی بھی قید نہیں تھی۔ اپنے چچا حضرت عباس ؓ کو جو دولت مند تھے آپ ﷺ نے حصہ عطا فرمایا۔ اب آپ ﷺ کے بعد حنفیہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے قرابتدار جو صاحب حاجت ہوں امام کو چاہیے کہ انہیں دوسرے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ مَآ اَفَــآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰی } ”جو مال بھی ہاتھ لگا دے اللہ اپنے رسول ﷺ کے بستیوں والوں سے“ { فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِلا } ”تو وہ ہے اللہ کے لیے ‘ رسول ﷺ کے لیے ‘ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے“ واضح رہے کہ اللہ اور رسول ﷺ سے مراد یہاں اسلامی ریاست ہے۔ پھر چونکہ رسول اللہ ﷺ کا اپنا ذاتی ذریعہ معاش تو کوئی تھا نہیں ‘ اس لیے یہ مال آپ ﷺ کے ذاتی اخراجات مثلاً ازواجِ مطہرات - کے نان نفقہ اور دوسری معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بھی تھا۔ اس کے علاوہ اس میں حضور ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 اموال فے بیت المال کی ملکیت ہوتے ہیں :۔ سابقہ آیت میں حکم صرف بنو نضیر کی متروکہ جائیداد سے متعلق تھا۔ اس آیت میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو اموال بھی جنگی کارروائیوں کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ بیت المال کی ملکیت متصور ہوں گے۔ اس میں مجاہدین کو کچھ نہیں ملے گا۔ کیونکہ یہ ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی قوت کا نتیجہ ہے جو اللہ نے اپنے رسول اس کی امت اور اس کے قائم کردہ نظام کو عطا فرمائی ہے۔ لہذا یہ اموال، اموال غنیمت سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ان اموال پر مسلمانوں کے امیر کا تصرف حاکمانہ ہوتا ہے۔ اور اموال فے کا اطلاق منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ (اور یہ سب حصے بس اسی حیثیت سے قائم ہوں گے، جو یہاں بیان کردیئے گئے، یعنی یا بحیثیت شریک جہاد کے، اور پھر یہ سب بھی رسول ﷺ ہی کی حسب صوابدید) (آیت) ” ما .... القری “۔ جیسا کہ بعد کو فدک اور نصف خیبر بھی اللہ نے اسی طرح اپنے رسول کو دلوا دیا۔ (آیت) ” فللہ “۔ اللہ ہی جس طرح چاہے اس کے بارے میں حکم دے دے۔ تمہیں کوئی استحقاق تملک کا نہیں، تمہیں تو جہاد تک میں نہیں شریک ہونا پڑا۔ 13۔ (جیسا کہ جاہلیت میں سب غنیمتیں مالدار اور ذی اختیار ہی لوگ کھا جاتے تھے، اور نادار سپاہی بدستور نادار ہی رہ جاتے تھے، جیسا کہ اس ” تہذیب و تمدن “ کے دور میں بھی ادنی واعلی سپاہیان لشکر ہر حصہ غنیمت سے محروم ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ما افآء اللہ علی رسولہ منھم (الآیۃ) افآء فی سے مشتق ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں، اسی لئے زوال کے وقت کے سایہ کو فئی کہتے ہیں، اس لئے کہ زوال سے پہلے جو سایہ مغرب کی طرف تھا زوال کے بعد وہ سایہ مشرق کی طرف لوٹتا ہے، جو اموال غنیمت کفار سے حاصل ہوتے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ کفار کے باغی ہوجانے کی وجہ سے ان کے اموال بحق سرکار ضبط ہوجاتے ہیں اور ان کی ملکیت سے نکل کر پھر مالک حقیقی کی طرف لوٹ آتے ہیں، اس لئے ان کے حاصل ہونے کو افآء کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ کفار سے حاصل ہونے والے تمام قسم کے اموال کو فئی کہا جائے، مگر جو مال جہاد و قتال کے ذریعہ حاصل ہو اس میں انسانی عمل اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ و للرسول ولذی القربی والیتمی والمساکین و ابن السبیل کی لایکون دولۃ بین الاغنیاء منکم وما اتاکم الرسول فخذ وہ وما نھاکم عنہ فانتھوا واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب . ( اس سے پہلی آیت میں فرمایا : ” اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا ‘ سو تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے ‘ نہ اونٹ لیکن اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت حاصل ہے “ ) جو کچھ اللہ (اس طور پر) اپنے رسول کو دوسری بستیوں کے کافر لوگوں سے دلوائے سو وہ بھی اللہ کا حق ہے اور رسول کا اور اس کے قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور غریبوں کا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ فدک خیبر عرینہ قریظہ اور نضیر کی بستیوں سے اپنے رسول کو دلوا دے تو وہ ابھی اللہ کا حق ہے اور رسول کا حق ہے یعنی جس طرح رسول اکرم چاہیں اس میں حکم دیں۔ چناچہ آپ نے فدک اور خیبر کا حصہ تو اللہ کی راہ میں مساکین کے لیے وقف کردیا تھا اور اس حصے کی نگرانی آپ کی زندگی میں آپ کے ہاتھ میں رہی اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر کے ہاتھ میں اور اسی طرح سے حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی کے ہاتھوں میں رہی اور آج تک اسی طرح سے ہے اور قریضہ کے مال غنیمت کو آپ نے غریب مہاجرین کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیا تھا اور آپ نے بعض حصہ بنی عبدالمطلب کے غرباء کو دے دیا تھا اور بعض حصہ یتیموں اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ مَآ اَفَآئَ اللہ ُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰی :”القریٰ“ میں الف لام عہد کا ہے ، اس لیے ترجمہ ”ان بستیوں“ کیا گیا ہے۔ 2۔ فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی۔۔۔۔: اس آیت میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو اموال بھی جنگی کاروائیوں کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ بیت المال کی ملکیت تصور ہوں گے ، ان میں سے مجاہدین کو کچھ نہیں ملے گا ، کیونکہ یہ ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس اجتماع قوت کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ ، اس کی امت اور اس کے قائم کردہ نظام کو عطاء فرمائی ہے۔ لہٰذا یہ اموال اموال غنیمت سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں ، انہیں اموال فے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

آیات۔ 6۔ 7 تفسیر ان دو آیات میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر بنو نضیر کے اموال لٹکا دیے تم نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے۔ ایجاف سے مر اور رفتار میں تیزی دکھانا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : وجف الفرس جب گھوڑا تیز دوڑا، او جفتہ انا میں نے اسے حرکت دی، میں نے اسے کسی کے پیچھے لگایا ؛ اسی معنی میں تمیم بن مقبل کا قول ہے : اذا الرکب او جفوا جب اونٹ تیزی سے چل پڑے۔ رکاب کا معنی اونٹ ہے اس کی واحد راحلہ ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : تم نے وہاں تک پہنچنے میں کوئی لمبا سفر طے نہیں کیا، نہ وہ ان جنگ اور کسی مشقت کا سامنا کیا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

46۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری (جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو بستی والوں سے دلوایا) یعنی قریظہ سے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قریش کے مہاجرین کے لیے خاص کردیا۔ 47۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے زہری (رح) سے آیت ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری کے بارے میں روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس مال سے مراد جزیہ اور خراج ہے۔ 48۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے خیبر میں سے اپنے رسول کو دلوایا وہ آدھا اللہ اور اس کے رسول کے لیے تھا۔ اور دوسرا آدھا مسلمانوں کے لیے تھا۔ جو حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے تھا۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ : جو لوٹایا اللہ نے ][عَلٰي رَسُوْلِهٖ : اپنے رسول پر ][ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى: ان بستی والوں سے (لے کر)][ فَللّٰهِ : تو (وہ) اللہ کے لیے ہے ][ وَ لِلرَّسُوْلِ : اور ان رسول کے لیے ہے ][ وَ لِذِي الْقُرْبٰى: اور قرابت والوں کے لیے ہے ][ وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ : اور یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے ][ كَيْ لَا يَكُوْنَ : تاکہ وہ نہ ہوجائے ][ دُوْلَةًۢ: ایک گردش میں رہنے والی چیز ][ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ : تم میں سے غنی لوگوں کے مابین ][وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ : اور وج دیں تم کو یہ رسول ][فَخُذُوْهُ : تو تم لوگ پکڑ لو اس کو ][…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد اموال فئی کے مصارف بیان فرمائے ارشاد فرمایا ﴿ مَاۤ اَفَآء اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى ﴾ (الایۃ) اللہ نے جو کچھ اپنے رسولوں کو بستیوں کے رہنے والوں سے بطور فئی دلوا دیا سو وہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ہے۔ اموال بنی نصیر کے علاوہ بعض دیگر بستیاں بھی بطور مال فئی رسول اللہ ﷺ کے قبضہ میں آگئی تھیں جن میں سے فدک زیادہ مشہور ہے۔ خیبر کے نصف حصہ کا اور بنی عرینہ کے اموال کا ذکر بھی مفسرین کرام نے لکھا ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں اموال فئی کے مصارف بتائے ہیں اول فَلِلّٰہِ فرمایا بعض حضرات نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

جلاوطنی یہود از ارض حجاز و غلبہ رسول خدا ﷺ برباغات وقلعہائے بنی نضیر : قال اللہ تعالیٰ : سبح للہ مافی السموت وما فی الارض ...... الی ...... ان اللہ شدید العقاب “۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اختتامی مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والوں پر وعید تھی اور ان کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور خداوند عالم کی عزت وقدرت اور کبریائی کا ذکر تھا تو اب اس سورة حشر میں اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ اور دشمنی کرنے والوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے، اور یہودیوں کی ذلت ورسوائی ذکر کی جارہی ہے کہ ان کی طاقت و شوکت اور ان کے محفوظ قلعے انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے ارشاد فرمایا۔ پاکی بیان کرتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ ” فللہ وللرسول “ یہ تقسیم فئی کا دستور العمل ہے۔” للہ “ اللہ کیلئے، اللہ تعالیٰ کا ذکر تبرک و تشرف کیلئے ہے اور مقصد یہ ہے کہ اس مال کا مالک حقیقی اللہ ہے وہ جس طرح چاہے اس کی تقسیم کا حکم نافذ فرمائے اور بعض کے نزدیک ایک حصہ اللہ کے نام کا نکالا جائے جو خانہ کعبہ اور دوسری مسجدوں پر صرف کیا جائے۔ یصرف سہم اللہ فی عمارۃ الکعبۃ و سائر المساجد وقیل ذکر اللہ للتعظیم (بیضاوی) ۔” وللرسول “ رسول اللہ ﷺ کا حصہ آپ کی زندگی میں تھا جسے آپ اپنی ذات پر، اور ازواج مطہرات پر خرچ فرماتے جو بچ جاتا اسے رفاہ مسلمین پر خرچ فرما دیتے۔ آپ کی زندگی کے بعد آپ کا حصہ ختم ہوچکا ہے اور ازواج مطہرات کے لیے بیت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی نضیر کی عہد شکنی کی وجہ سے اہل ایمان نے ان کی بستیوں کا محاصرہ کرلیا اور ان کے کچھ درخت بھی کاٹے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر وہ صلح پر آمادہ ہوئے۔ چناچہ اس شرط پر ان کی جان بخشی کی گئی کہ وہ ملک بدر ہوجائیں اور اپنا جس قدر سامان اٹھا کرلے جانا چاہیں لے جائیں چناچہ ایسا ہی ہوا بنی نضیر کے یہودی اپنی بستیوں اور قلعوں سے نکل کر چلے گئے اور ان کی زمینوں ، باغات اور جانوروں پر مسلمانوں نے قبضہ کرلیا۔ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اس طریقے سے حاصل ہونے والا مال مال فے کہلاتا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ نے اس مال کی تقسیم کا فارمولہ بتایا ہے۔ مال فے کی حصص…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝ 0 ۙ كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ۝ 0 ۭ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝ 0 ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝ 0 ۚ وَاتَّقُوا اللہَ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝ 7 ۘ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

فے اور غنیمت کے معنی : تفسیر : اس کے بعد بنی نضیر کے مال و اسباب کی بابت فرماتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور جس کو وہ نہ لے جاسکے۔ فقال وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما ادجفتم علیہ من خیل دلارکاب الخ۔ مبرد کہتے ہیں فاء یفیٔ کے معنی ہیں رجوع کے اور افاء اللہ جب کہتے ہیں کہ جب اللہ بھیجے۔ ازہری کہتے ہیں فیٔ اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ مخالفوں سے حاصل ہو خواہ اس طور سے کہ کفار چھوڑ کر چلے جائیں یا جزیے کے طور ادا کریں یا رعب میں آ کر جان بچانے کے لیے کچھ رقم یا چیزیں دیں ‘ یہ سب فیٔ ہے۔ اس کو لغوی معنی کے لحاظ سے فی اس لیے کہتے ہیں کہ کفار سے اللہ نے مسلمانوں کے پاس بھیجا ہے۔ برخلاف غنیمت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَآ اَفَـآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ لا کَیْ لاَ یَکُوْنَ دُوْلَـۃً م بَیْنَ الْاَغْنِیَـآئِ مِنْـکُمْ ط وَمَـآ اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ ق وَمَا نَھٰـکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا ج وَاتَّقُواللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُالْعِقَابِ ۔ (الحشر : 7) (جو کچھ اللہ بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول کی طرف لوٹا دے تو وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے، اور کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–7

فہم القرآن ربط کلام : بنو نضیر کے چھوڑے ہوئے مال کے بارے میں حکم۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر پر مسلمانوں کا اس طرح دبدبہ اور رعب طاری کیا کہ انہوں نے مسلمانوں کے حملہ کیے بغیر ہی اپنے گھر بار اور پورا علاقہ خالی کردیا۔ اس طرح مسلمان ان کے گھروں اور زمینوں پر قابض ہوگئے۔ جب بنو نضیر اپنی جائیدادیں چھوڑ کر نکل گئے تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اس مال کی کس طرح تقسیم کی جائے بالخصوص جب منافقین نے مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی مال غنیمت سے حصہ دیا جائے۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ یہ مال غنیمت نہیں بلکہ اسکی حیثیت مال فئی کی ہے کیونکہ اس پر مسلمانوں نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ یعنی مسلمانوں کے حملہ کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : مَآ اَفَآ ئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ (جو کچھ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو دوسری بستیوں کے کافر لوگوں سے دلوائے۔ پس وہ بھی اللہ کا حق ہے اور رسول کا اور رسول کے قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور غریبوں کا اور مسافروں کا) اس جملے اور پہلے جملے کے درمیان عاطف نہیں لائے کیونکہ یہ پہلے جملے کا بیان ہے پس یہ جملہ اس سے اجنبی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ پر وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مال فئی دیا ہے۔ اس سے کیا کریں۔ آپ کو حکم دیا کہ اس کا مصرف وہی ہے۔ جو خمس غنائم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” وما افاء اللہ علی رسولہ “ یعنی جس کو اپنے رسول پر لوٹا دے۔ کہاجاتا ہے ” فاء یفتی “ یعنی وہ لوٹ آیا ” منھم “ بنو نضیر کے یہود سے۔ ” فما اوجفتم “ تم نے رکھا۔ ” علیہ من خیل والرکاب “ کہا جاتا ہے ” وجف الفرس والیعیر یحف وجیفا “ اور وہ تیز دوڑتا ہے۔ ” واو جفہ صاحبہ “ جب اس کو دوڑنے پر ابھارے اور رکاب سے وہ اونٹ مراد ہیں جو قوم کو اٹھاتے ہیں کیونکہ جب بنو نضیر نے اپنے جانور اور سامان چھوڑ دیا تو مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے درمیان تقسیم کردیا جائے جیسا کہ خیبر کے مال غنیمت کے ساتھ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا کہ یہ فئی ہے مسلمانوں نے اس پر اپنے گھوڑے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–9

6۔ 9۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے جلا وطن ہونے کا ذکر فرما کر اس جلا وطنی کے بعد بغیر لڑائی اور بغیر مقابلہ کے جو مال ہاتھ آیا ان آیتوں میں اس کا یہ حکم فرمایا کہ جس طرح بغیر لڑائی کے بنی نضیر کا مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا اس مال میں اور آگے کو اسی طرح جو مال بغیر لڑائی کے ہاتھ لگے ایسے سب مال میں وہ پانچ حصے نہ ہوں گے جو پانچ حصے لڑائی کے بعد غنیمت کے مال کے سورة انفال میں بیان ہوئے کہ ان پانچ حصوں میں سے چار خمس لشکر اسلام میں تقسیم کئے جائیں گے اور ایک خمس اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا بلکہ یہ بغیر لڑائی کے ہاتھ آیا ہوا تمام مال اللہ کے رسول کے اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

مال فے کا حکم۔ فے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا (مَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى) جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے عمومی طور پر خواہ رسول اللہ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو (فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ ) تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے رسول کے لیے اور رسول کے رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورة انفال میں مذکور ہیں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–8

قول باری ہے (ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو دوسری بستیوں والوں سے بطور فئے دلوادے سو وہ اللہ ہی کا حق ہے اور رسول کا) تا آخر آیت ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اس فئے کا حکم بیان کیا جس کے حضول کے لئے مسلمانوں کو نہ گھوڑے دوڑانے پڑے تھے اور نہ ہی اونٹ اور پھر اس فئے کو حضور ﷺ کے لئے مخصوص کردیا تھا جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں بیان کر آئے ہیں۔ پھر اس فئے کا ذکر ہوا جس پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے تھے۔ اس فئے کو اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکورہ اصناف کے لئے مخصوص کردیا۔ یہ پانچ اصناف ہیں جن کا ذکر دوسری آیات میں بھی ہوا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

[ 15] مال فئی سے سرفرازی بغیر جہاد و قتال کے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کچھ مال اللہ نے ان لوگوں کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول پر لوٹا یا اس پر تمہاری کوئی محنت نہیں لگی، اسے مسلمانو ! کیونکہ یہ لفظ یعنی " افائ " اصل میں فئی سے ماخوذ ہے جس کے معنی لوٹنے اور واپس ہونے کے آتے ہیں، یعنی یہ مال جو ان یہود وغیرہ و دشمنان اسلام سے لیا جاتا ہے، یہ دراصل اللہ پاک ہی کا تھا، اور اسی کا ہے، کیونکہ زمین و آسمان کی پوری کائنات کی ہر چیز دراصل اسی وحدہٗ لاشریک کی ملکیت ہے، وہ اپنی مشیت ومرضی سے جس کو چاہتا ہے دنیا کے اس عارضی تصریف کے لئے عطا فرما دیتا ہے، اور جو کوئی شخص یا قوم اپنے تمرو سرکشی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–10

مال غنیمت اور مال فَیْ کی تقسیم انصار کی فراخدلی تشریح : سب سے پہلے تو یہودیوں کو اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ بیشک پھل دار درخت کاٹنے کی مسلمان کو ممانعت ہے مگر اب جو مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹ دئیے ہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہی کاٹے ہیں کچھ تو جنگی مصلحت کی بنا پر اور کچھ دشمنوں کو ان کے باغات کی تباہی و بربادی دکھا کر جلانے اور پریشان کرنے کیلئے۔ دوسرا بڑا اہم مسئلہ فی، اور مال غنیمت کی تقسیم کا تھا۔ مال غنیمت اور فَیْ ، دونوں ہی دشمن کے چھوڑے ہوئے منقولہ وغیر منقولہ مال کو کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فَیْوہ مال ہے جو بغیر جنگ و جدل بغیر خون خرابے کے حاصل ہو اور غنیمت وہ ہے جو جنگ و جدل کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10۔ اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی اس کی تقسیم کے جو مصارف بیان کئے گئے ہیں وہ اس لئے ہیں کہ یتیموں، بیکسوں کی خبر گیری ہوتی رہے اور یہ محض دولت مندوں ہی کلٹ پھیر میں پڑ کر انہی کی جاگیریں کر نہ رہ جائے۔4 یعنی زندگی کے کسی معاملے کے متعلق آنحضرت کا جو حکم ہوا اس پر عمل کرو۔ اور جس سے آپ منع فرمائیں اس سے باز ہو۔ اس آیت نے آنحضرت کے حکم کو ایک مستقل تشریع کی حیثیت دی ہے اور اسے قرآن کی معوافقت کے ساتھ مقید نہیں فرمایا۔ لہٰذا آنحضرت کا جو حکم بذریعہ صحیح روایت ثابت ہوگا وہ واجب العمل ہوگا اور کسی حکم کے قرآن میں بالتصریح مذکور نہ ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ حکم قرآن کے خلاف ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعودنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(59:7) ما افاء اللہ علی رسولہ من اہل القری۔۔ یعنی اہل قری کا جو مال اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو عطا فرمایا۔ اہل قری میں بنی نضیر بھی شامل ہیں اور دوسری بستیوں والے بھی۔ یہ جملہ سابق جملہ وما افاء اللہ علی رسولہ کا بیان ہے اس لئے دونوں کے درمیان حرف عطف ذکر نہیں کیا گیا (معطوف اور معطوف علیہ الگ الگ ہوتے ہیں اس لئے اگر حرف عطف لایا جاتا تو سابق وما افاء اللہ میں مراد دوسرا مال ہوتا۔ اور اس جملہ میں دوسرا مال مراد ہوتا) ۔ البتہ اس جملہ میں عام اہل قریٰ مراد ہیں خواہ بنی نضیر ہوں یا دوسری بستیوں والے۔ (تفسیر مظہری) امام رازی (رح) لکھتے ہیں :۔ لم یدخل العاطف علی ھذہ الجم (رح) ۃ لانھا بیان للاولی۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–10

لغات القرآن۔ افائ۔ اس نے لوٹایا۔ اوجفتم۔ تم نے بھگایا۔ تم نے دوڑایا۔ دولۃ۔ مال و دولت۔ نھی۔ منع کردیا۔ تبوئ۔ انہوں نے ٹھکانا بنایا۔ حاجۃ۔ ضرورت۔ یوثرون۔ وہ ترجیح دیتے ہیں۔ خصاصۃ۔ ضروریات زندگی۔ فقر وغربت۔ شح۔ کنجوسی۔ لالچ۔ غلا۔ کینہ۔ بغض۔ تشریح : جنگ میں فتھ کے بعد کفار سے جو مال مجاہدین کے ہاتھ لگتا ہے اگر باقاعدہ جنگ کے ذریعہ حاصل ہو تو اس کو ” مال غنیمت “ اور ” انفال “ کہا جاتا ہے اور بغیر جنگ کے صلح کے ذریعہ مال و دولت ، زمین و جائیداد ہاتھ آتی ہے اس کو ” مال فے “ کہا جاتا ہے۔ مال غنیمت اور مال فے کو کس طرح صرف کیا جائے گا اس کے الگ الگ احکامات ہیں۔ دور جہالت میں عربوں کا دستور یہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–9

منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔ (ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[8] اللہ تعالیٰ تو تمام دنیا و آخرت اور تمام مخلوقات کا مالک حقیقی ہے۔ یہاں اس کا نام مبارک محض تبرگاً اس فائدے کے لئے ہے کہ اس سے اس مال کی فضیلت اور حلال و طیب ہونے کی طرف اشارہ ہوجائے۔ [9] رسول ﷺ کا حصہ فے میں بحیثیت رسول ﷺ کے نہیں بلکہ بحیثیت اسلامی حکومت کے سربراہ کے ہے۔ رسول کی حیثیت سے آپ ﷺ کی کفالت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لے لی تھی جس کی تصریح خود قرآن میں ہے۔ البتہ جب اسلامی حکومت وجود میں آئی اور اس کے فرائض کا بوجھ آپ ﷺ کے کندھوں پر پڑا تو ضروری ہوا کہ سرکاری خزانے سے آپ ﷺ کو بھی اپنی ضروریات کے مطابق لینے کا حق ہو۔ آپ ﷺ کا یہ حق چونکہ بحیثیت سربراہ حکومت کے تھا اس…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–7

ف 1: یہ آیت سیاق وسباق کے لحاظ سے تواموال غنیمت کی تقسیم کے متعلق ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ جس شخص کو جس قدر ازراہ انصاف وعدل دیتے ہیں ۔ اس کو بلا تکلف اور بغیر اعتراض کے قبول کرلینا چاہیے ۔ اور جس کو محروم رکھتے ہیں ۔ اسے اپنی محرومی پر قانع رہنا چاہیے ۔ اور جس کو محروم رکھتے ہیں ۔ اسے اپنی محرومی پر قانع رہنا چاہیے ۔ اور حرف شکایت لبوں تک نہیں لانا چاہیے ۔ کیونکہ پیغمبر ﷺ کے عدل و انصاف پر اعتماد نہ کرنا تقویٰ کے منافی ہے ۔ نور ایمان کا فقدان وضیاع ہے ۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے ۔ کہ اس خصوصی منی کی وجہ سے آیت میں تقسیم باقی نہ رہے ۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے ۔ کہ آیت میں اصالتہ عموم اسی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور دوسری بستیوں سے بطور فئے دلوائے اس میں بھی تمہارا حق نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور رسول اللہ ﷺ کا حق ہے اور رسول اللہ ﷺ ککا حق ہے اور رسول کے قرابت داروں کا حق ہے اور یتیموں کا حق ہے اور مساکین یعنی محتاجوں کا حق ہے اور مسافروں کا حق ہے تاکہ وہ مال فئے تم میں سے سرمایہ داروں اور دولت مندوں کے ہاتھوں میں دست گرداں اور دائر اور ہر تا پھرتا نہ رہ جائے اور رسول جو کچھ تم کو دیدیا کرے اسے لے لیا کرو اور جس چیز سے تم کو منع کردیا کرے اس سے باز رہا کرو اور رک جایا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے اور اس کی مار سخت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 8۔ یعنی یہ سب حسب صوابدید رسول اللہ ﷺ کے اس کے مصرف ہیں جیسا کہ اور بھی اس کے مصرف ہیں، پس تخصیص ذکری بناء پر رفع شبہ کے ہوسکتی ہے کہ یہ لوگ بدون شرکت جہاد کے بدرجہ اولی مستحق نہ ہوں گے۔ اس شبہ کو رفع کردیا کہ ان کا مصرف ہونا خاص اوصاف کے اعتبار سے ہے نہ بوجہ شرکت جہاد کے، پس وہ وصف جس میں ہوگا وہ مصڑف ہوگا، اور ان مصارف میں سے یتامی و مساکین وا ابن السبیل میں تو حکم مطلقا باقی ہے، اور رسول و ذوی القربی من حیث نصرة الرسول کا سہم وفات نبوی سے مرتفع ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کے رسول کے مال ہونے سے اصل مراد بھی واضح کردی 7 ؎ جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا ہے کہ مال فے اور مال غنیمت میں فرق ہے اور یہ بھی عرض کیا ہے کہ وہ فرق کیا ہے ؟ زیرنظر آیت میں اس کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مال کہنے اور اللہ کے رسول کا مال کہنے کا مطلب کیا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ تو بےناتز ہے اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے جو اموال اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی طرف لوٹاتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے لیے بحیثیت سربراہ مملکت اسلامی ہے اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے لیے ہے ، یتیموں کے لیے ہے ، مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ہے ۔ ان اموال کے متعلق جو نبی اعظم و آخر ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The Concept of Fai' and its Law of Distribution وَمَا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَ‌سُولِهِ مِنْهُمْ (And whatever fai' [ left over property ] Allah has passed on to His Messenger from them, ...59:6). The word afa'a is derived from fai'un which means 'to return'. Thus the time of the afternoon when the shade of things returns to the east is referred to as fai'. The real ownership of the entire universe belongs to Allah. The ownership of things can be ascribed to human beings when Allah Himself declares them, through His Law, to be under the ownership of a human being. However, when…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 From here to the end of verse 10, Allah explains how the lands and properties that were restored bto the Islamic State after the exile of the Ban; an- Nadir, are to be managed and administered. As it was the first occasion that a land was conquered and included in the Islamic territory, and many more lands were destined to be conquered in the future, the law governing the conquered lands was enunciated at the outset. Here, a note-worthy point is that AIIah at this place has used the words: Ma af'-Allahu ala Rasuli-hi min-hum "whatever AIIah restored to His Messenger from them." These words…

Read the full tafseer →