Explained with ayahs 8–10
مال فے کے حقدار
اوپر بیان ہوا تھا کہ فے کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آگیا ہو اس کے مالک رسول اللہ ﷺ ہیں پھر آپ یہ مال کسے دیں گے ؟ اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس کے حق دار وہ غریب مہاجر ہیں جنہوں نے اللہ کو رضامند کرنے کے لئے اپنی قوم کو ناراض کرلیا یہاں تک کہ انہیں اپنا وطن عزیز اور اپنے ہاتھ کا مشکلوں سے جمع کیا ہوا مال وغیرہ سب چھوڑ چھاڑ کر چل دینا پڑا، اللہ کے دین اور اس کے رسول ﷺ کی مدد میں برابر مشغول ہیں، اللہ کے فضل و خوشنودی کے متلاشی ہیں، یہی سچے لوگ ہیں جنہوں نے اپنا فعل اپنے قول کے مطابق کر دکھایا، یہ اوصاف سادات مہاجرین میں تھے ؓ۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 16
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس وقت مکہ معظمہ اور عرب کے دوسرے علاقوں سے صرف اس بنا پر نکال دیے گئے تھے کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ بنی النضیر کا علاقہ فتح ہونے سے پہلے تک ان مہاجرین کے لیے گزر بسر کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا۔ اب حکم دیا گیا کہ یہ مال جو اس وقت ہاتھ آیا ہے، اور آئندہ جو اموال بھی فَے کے طور پر ہاتھ آئیں۔ ان میں عام مساکین، یتامیٰ اور مسافروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا حق بھی ہے، ان سے ایسے سب لوگوں کو سہارا دیا جانا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کی خاطر ہجرت پر مجبور ہو کر دار الاسلام میں آئیں۔ اس حکم کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے بنی النضیر کی…
Read the full tafseer →لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ. ان چند آیات میں آخر رکوع تک فقراء مہاجرین و انصار اور ان کے بعد آنے والی عام امت کے افراد کا بیان ہے، ترکیب نحوی کے اعتبار سے للفقراء کو لذی القربیٰ کا بدل قرار دیا گیا جو اس سے پہلی آیت میں مذکور ہے (مظہری) اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ پچھلی آیت میں جو عام یتیموں، مساکین اور مسافرین کو ان کے فقر و احتیاج کی بنا پر مال فئی کے مستحقین میں شمار کیا گیا ہے ان آیات میں اس کی مزید تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ اگرچہ حقدار اس مال میں تمام ہی فقراء و مساکین ہیں لیکن پھر ان میں یہ حضرات اور سب لوگوں سے مقدم ہیں جن کی دینی خدمات اور ذاتی اوصاف و کمالات دینیہ معروف ہیں۔
اموال…
Read the full tafseer →(للفقراء المھجرین الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا ویتصرون اللہ ورسولہ اولیک ھم الصدقون) (8)۔
(اموال فے کا ایک ہنگامی مصرف)۔ اموال فے کا عام مصرف بتانے کے بعد یہ اس کے ایک خاص مصرف کی طرف اشارہ فرمایا جو وقت کا سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا مصرف اور تمام مسلمانوں کی یکساں توجہ کا مستحق تھا۔ یعنی مہاجرین کی امداد جو اس وقت ہر طرف سے اپنے گھروں سے اجڑ کھڑا کر مدینہ آ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کو از سر نو بسانے اور ان کو معاشی زندگی کو پھر سے متحرک کرنے کی ذمہ داری اس چھوٹے سے اسلامی معاشرہ ہی پر عائد ہوتی تھی جو ابھی نیا نیا مدینہ کی سر زمین میں ابھر رہا تھا۔ یہ صورت بھی…
Read the full tafseer →8۔ 1 اس میں مال فیء کا ایک صحیح ترین مصرف بیان کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی مہاجرین کی فضیلت، ان کے اخلاص اور ان کی راست بازی کی وضاحت ہے، جس کے بعد ان کے ایمان میں شک کرنا، گویا قرآن کا انکار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6: یعنی وہ صحابہ جنہیں کافروں نے مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کیا، اور وہ اپنے گھروں اور جائیدادوں سے محروم ہوگئے۔
Read the full tafseer →للفقرائ ........................ الصدقون (95 : 8) ” ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمربستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں “۔
یہ ایک ایسی تصویر ہے جس میں مہاجرین کے خدوخال اچھی طرح ثبت کردیئے گئے ہیں وہ اپنے گھروں اور مال سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ ان کی مشرکین کی اذیت اور ان کی سختی نیز رشتہ داروں اور اہل خاندان کی طرف سے سرد مہری کی وجہ سے گھر بار چھوڑنا پڑا اور ان کا کوئی قصور اس کے سوا نہ تھا کہ وہ کلمہ طیبہ کے قائل تھے اور صرف اللہ کو رب جانتے تھے۔
یبتغون…
Read the full tafseer →2 یعنی یوں تو اس مال سے عام مسلمانوں کی ضروریات و حوائج متعلق ہیں۔ لیکن خصوصی طور پر ان ایثار پیشہ جاں نثاروں اور سچے مسلمانوں کا حق مقدم ہے۔ جنہوں نے محض اللہ کی خوشنودی اور رسول کی محبت و اطاعت میں اپنے گھر بار اور مال و دولت سب کو خیر باد کہا اور بالکل خالی ہاتھ ہو کر وطن سے نکل آئے تاکہ اللہ و رسول کے کاموں میں آزادانہ مدد کرسکیں۔
Read the full tafseer →آیت 8{ لِلْفُقَرَآئِ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ } ”یہ خاص طور پر اُن تنگ دست مہاجرین کے لیے ہے جو نکال دیے گئے اپنے گھروں اور اپنے اموال سے“
{ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ ط } ”وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کر رہے ہیں۔“
{ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ۔ } ”یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔“
یہاں سورة الحدید کی آیت 25 کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَیْبِط } یعنی حق و باطل کی کشمکش سے دراصل اللہ…
Read the full tafseer →10 اموال فے میں محتاجوں اور مہاجرین کا حصہ :۔ مال فے کی تقسیم میں پہلے محتاجوں کا عمومی ذکر فرمایا۔ اس کے بعد بالخصوص ان مہاجر محتاجوں کا ذکر فرمایا۔ جنہوں نے محض اسلام اور اللہ کی رضا کی خاطر اپنا گھر بار مال و دولت اور جائیدادیں سب کچھ چھوڑ کر مدینہ آگئے۔ جبکہ یہاں ان کی آباد کاری اور معاش کے مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا تو عملی طور پر اسے سچ کر دکھایا۔ اور ہر وقت ہی اللہ کے دین کی مدد کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ ایسے محتاج عام محتاجوں کی نسبت اموال فے کے زیادہ حقدار ہیں۔
Read the full tafseer →16۔ (اپنے دعوی ایمان وحب خدا اور رسول میں) یہ صاف وصریح قرآنی مدح صحابہ ہے۔ اشارہ ہورہا ہے کہ یہ ہجرت کسی دنیوی غرض سے نہیں۔ محض اللہ کی رضا جوئی کے لئے کررہے ہیں۔ ان کے ایمان میں کسی طرح کھوٹ نہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت ونصرت ہی ان کی زندگی کا مشن ہے۔ (آیت) ” الذین .... اموالھم “۔ یعنی جبراوظلما اپنے گھروں سے نکالے، اور اپنی جائدادوں سے بےدخل کئے گئے، مشرکوں نے انہیں اتنا تنگ اور مجبور کیا کہ یہ گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر آمادہ ہوگئے۔ لفظ فقرآء سے فقہاء نے یہ استنباط کیا ہے کہ کافر جب مال مسلم پر قابض ومسلط ہوجائیں، تو وہ اس قانونا مالک سمجھ لئے جائیں گے۔ چناچہ شرفاء مسل میں جو مکہ…
Read the full tafseer →للفقراء الماجرین ترکیب نحوی کے اعتبار سے للفقراء کو لذی القربی کا بدل قرار دیا گیا ہے جو اس سے پہلی آیت میں مذکور ہے۔ (مظہری) اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ پچھلی آیت میں جو عام تیموں مسکینوں اور سمافروں کو ان کے فقر و احتیاج کی بناء پر مال فئی کے مستحقین میں شمار کیا گیا ہے ان آیات میں اس کی مزید تشریح اس طرح کی گئی ہے اگرچہ حقدار اس مال میں تمام ففقراء و مساکین ہیں لیکن پھر بھی ان میں یہ حضرات اور سب لوگوں سے مقدم ہیں، جن کی دینی خدمات اور ذاتی اوصاف کمالات دینیہ معروف ہیں، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے للماجرین کو ولذی القربی سے بدل قرار دینے کے بجائے فعل محذوف سے متعلق مانا ہے، اسی کے پیش نظر…
Read the full tafseer →للفقراء المھجرین الذین اخرجوا من دیارھم و اموالھم یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا و ینصرون اللہ و رسولہ اولئک ھم الصدقون . ” اور ان حاجت مند مہاجروں کا
(بالخصوص) حق ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور (جبراً ) اپنے مالوں سے (جدا کردیئے گئے) وہ اللہ کے فضل اور رضامندی کے طالب ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے دین کی مدد کرتے ہیں ‘ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ “
لِلْفُقَرَآءِ الْمُھٰجِرِیْنَ...... یہ جملہ (للرسول سے بدل نہیں ہے بلکہ) ذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ سے بدل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو فقیر مہاجر نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے علاوہ اگلی آیت میں اللہ نے فرمایا ہے : یَنْصُرُوْنَ اللہ وَ…
Read the full tafseer →اور مال بنی نضیر کے بارے میں صحابہ کرام نے حضور سے فرمایا کہ اس میں سے آپ اپنا حصہ لے لیجیے اور باقی ہمارے لیے رہنے دیجیے، اس پر اللہ تعالیٰ ان سے فرما رہا ہے کہ یہ مال فی بالخصوص حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جن کو مکہ والوں نے ان کے گھروں سے نکال دیا ہے اور یہ تقریبا سو آدمی تھی کیونکہ یہ حضرات جہاد کے ذریعے سے ثواب اور اپنے پروردگار کی رضا کے طالب ہیں اور جہاد کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں اور یہی لوگ ایمان اور جہاد کے سچے ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ لِلْفُقَرَآئِ : یہ پچھلی آیت میں مذکور :”وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ“ سے بدل ہے۔ گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ ان چاروں سے مراد فقراء مہاجرین ہیں اور انصار اور ان کے بعد آنے والے جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے ، ان سے محبت کرنے والے اور ان کے لیے دعا کرنے والے ہیں۔
2۔ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ : یعنی ایک تو وہ فقراء ہیں پھر مہاجر ہیں۔ مراد ان سے وہ لوگ ہیں جو اس وقت مکہ معظمہ اور عرب کے دوسرے علاقوں سے صرف اس جرم میں نکال دیے گئے تھے کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ یہ لوگ اپنے وطن میں گھر بار اور جائیداد…
Read the full tafseer →تفسیر
مال فئی اور غنیمتیں مہاجر فقراء کے لئے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اغنیاء میں ہی گردش کناں نہ رہے بلکہ یہ فقراء کے لئے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل کا بیان ہے۔ جب ان کی اصناف کا ذکر کیا گیا تو کہا گیا : مال ان لوگوں کیلئے ہے، کیونکہ یہ فقراء، مہاجر ہیں انہیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے، یہ دوسرے لوگوں کی نسبت اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا معنی یہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ مہاجر فقراء کے لئے اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے تاکہ یہ اموال دنیا داروں میں سے اغنیاء کے درمیان ہی گردش نہ کرتے رہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت للفقراء المہجرین الذین اخرجوا۔ ان فقراء مہاجرین کے یے جن کو وطن سے نکالا گیا۔ سے مراد وہ مہاجرین ہیں جنہوں نے گھروں کو، مالوں، اہل و عیال کو اور اپنے خاندانوں کو چھوڑا۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور سختی کے باوجود انہوں نے اسلام کو اختیار کیا۔ یہاں تک کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ کوئی آدمی اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا۔ تاکہ وہ اس کے ذریعہ بھوک کی وجہ سے اپنی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکے۔ اور کوئی آدمی سردی کے موسم میں ایک گڑھا بنالیتا تھا کیو کہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی لحاف وغیرہ نہ ہوتا تھا آیت والذین تبوؤ…
Read the full tafseer →[لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِينَ : (خصوصاً ) ان ہجرت کرنے والے محتاجوں کے لیے ہے جو ][اُخْرِجوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ : نکالے گئے اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے ][ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانا : تلاش کرتے ہوئے فضل کو اللہ سے اور رضامندی کو ][وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : اور مدد کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی ][اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ : وہ لوگ ہی سچ کہنے والے ہیں ]
نوٹ۔ 3 : آیات نمبر آٹھ، نو اور دس میں فقراء مہاجرین و انصار اور ان کے بعد آنے والے امت کے افراد کا بیان ہے اور ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی آیت میں جو یتیموں، مسکین اور…
Read the full tafseer →حضرات مہاجرین کرام کی فضیلت اور اموال فئی میں ان کا استحقاق
اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ اموال فئی میں ان لوگوں کا بھی حصہ ہے جو ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے، مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے اپنے گھر بار اور اموال چھوڑ کر چلے آئے جب مدینہ منورہ پہنچے تو حاجت مند اور تنگ دست تھے ان پر بھی اموال فئی خرچ كئے جائیں۔ اموال اور گھر بار چھوڑ کر ان کا مدینہ آنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ انہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی مطلوب ہے ان کی ہجرت کسی دنیاوی غرض سے نہیں ہے وہ جو تکلیفیں ان کو پہنچی تھیں وہ اپنی جگہ ہیں ان کے علاوہ مدینہ منورہ آکر بھی جہاد میں شریک ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور کافروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
استحقاق مہاجرین وانصار ومحبین و مخلصین صحابہ کرام کرام ؓ درمال فئی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” للفقرآء المھجرین الذین اخرجوا ...... الی ...... انک رء وف رحیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں بنو نضیر کی جلاوطنی کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کے اموال جو بطور فئی حاصل ہوئے ہیں ان کا متولی و متصرف کلیۃ اللہ نے اپنے پیغمبر کو بنایا پیغمبر ہی کو ان پر تسلط و غلبہ عطا کیا گیا اب ان ہی کے اختیار میں ہے کہ جس کو چاہیں اور جتنا چاہیں عطا کریں کسی کو اس میں ذرہ برابر نکتہ چینی کا حق نہیں، اور اللہ نے ان اموال کے مستحق، ذوی القربی، یتامی و مساکین اور اب السبیل بنائے ہیں ان مصارف کے ذکر کے بعد خاص طور پر اب ان آیات میں…
Read the full tafseer →8:۔ ” للفقراء “ ای انفقوا للفقراء یہاں تبعاً ان جماعتوں پر انفاق کی ترغیب ہے یا یہ مع المعطوفین، لذی القربی مع المعطوفات سے بدل الکل ہے یعنی ان انواع اربعہ سے فقراء مہاجرین وانصار مراد ہیں۔ فکانہ اقیل اعنی باولئک الاربعۃ ھؤلاء الفقراء والمھاجرین (کبیر ) ۔ بدل من قولہ تعالیٰ (لذی القربی) والمعطوف علیہ (کشاف) اس ضمن میں مہاجرین اور انصار کے فضائل بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ ” الذین اخروجو “ وہ مہاجرین جن کو مشرکین مکہ نے اپنے گھروں سے نکلنے اور اپنے مالوں کو چھوڑنے پر مجبور کیا چونکہ وہ بےوطن ہیں اور سارا مال چھوڑ کر آگئے ہیں اس لیے مال فیئ میں ان ک ابھی حصہ ہے۔ اس کے بعد ان کی عظمت شان کا ذکر ہے۔ ”…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ درس میں اللہ نے مال فے کے مصارف کا ذکر کیا کہ اس کا حقیقی مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے بعد اللہ کا رسول اس کے حکم کے مطابق اس مال میں تصرف کرتا ہے۔ یہ مال خود اللہ کے نبی اور اس کے ان قرابتداروں کے لئے ہے جن پر زکوٰۃ وصدقات حرام ہیں مگر وہ اللہ کے رسول کے مددگار ہیں۔ اس مال کے مزید حقدار یتیم ، مسکین اور مسافر ہیں۔ اللہ نے اس تقسیم کی غرض یہ بیان فرمائی تاکہ یہ مال محض مالدار لوگوں میں ہی گردش نہ کرتا رہے ، بلکہ اس کا دوران اس قدر وسیع ہونا چاہیے کہ یہ طبقے کے کمزور ترین آدمی تک بھی پہنچے۔ گزشتہ درس میں یہ بات بھی واضح کردی گئی تھی کہ اللہ کے رسول کی مذکورہ…
Read the full tafseer →لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُہٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ 8 ۚ
لام
اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه :
الأول :
الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
فے اور غنیمت کے معنی :
تفسیر : اس کے بعد بنی نضیر کے مال و اسباب کی بابت فرماتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور جس کو وہ نہ لے جاسکے۔ فقال وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما ادجفتم علیہ من خیل دلارکاب الخ۔ مبرد کہتے ہیں فاء یفیٔ کے معنی ہیں رجوع کے اور افاء اللہ جب کہتے ہیں کہ جب اللہ بھیجے۔ ازہری کہتے ہیں فیٔ اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ مخالفوں سے حاصل ہو خواہ اس طور سے کہ کفار چھوڑ کر چلے جائیں یا جزیے کے طور ادا کریں یا رعب میں آ کر جان بچانے کے لیے کچھ رقم یا چیزیں دیں ‘ یہ سب فیٔ ہے۔ اس کو لغوی معنی کے لحاظ سے فی اس لیے کہتے ہیں کہ کفار سے اللہ نے مسلمانوں کے پاس بھیجا ہے۔ برخلاف غنیمت…
Read the full tafseer →لِلْفُقَرَآئِ الْمُھٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ ۔ (الحشر : 8)
(یہ مال) ان غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے املاک سے نکالے گئے، یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی راست باز لوگ ہیں۔ )
مالِ فے کا ایک خصوصی مصرف
اموالِ فے کے عام مصارف بیان کرنے کے بعد ایک خصوصی مصرف بیان فرمایا گیا ہے جو بعض دفعہ بہت اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی ہے تو اس وقت یقینا ان مصارف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : مال فئی میں غریب مہاجرین اور مستحق انصار کا حصہ بھی شامل ہوگا۔
مالِ فئی میں ان مسلمانوں کو بھی حصہ ملنا چاہیے جنہیں ان کے مالوں اور گھروں سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں۔ یہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ مال فئی میں وہ ایماندار بھی حصہ دار ہیں جو پہلے سے مدینہ میں مقیم ہیں اور اپنے ہاں آنے والے مہاجرین کے ساتھ محبت رکھنے والے ہیں وہ مہاجرین کے لیے ایثار کرتے ہیں حالانکہ وہ خود بھی ضرورت مند ہیں۔ اپنی ضرورت کے باوجود اپنے آپ پر مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں جو شخص شح سے بچا لیا گیا وہ کامیاب ہوگا۔ یاد رہے کہ انسان بخل، گناہ اور ہر…
Read the full tafseer →8 : لِلْفُقَرَآ ئَ (اور ان فقراء)
نحو : یہ لذی القربٰی اور معطوف علیہ سے بدل ہے۔ یہ للّٰہ وللرسول سے بدل نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو فقیر مہاجر نہیں کہا جاسکتا۔ علاوہ ازیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ینصرون اللّٰہ ورسولہ اور ظاہر ہے کہ اگر رسول کو فقراء میں بدل قرار دے کر شامل کیا جائے تو معنی اس طرح ہوجائے گا کہ رسول اللہ ﷺ اور دوسرے فقراء مہاجرین اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یعنی رسول خود اپنی مدد کرتے ہیں۔ اور یہ مطلب درست نہیں پس یہ بدل بنانا اللہ عزوجل کی جو تعظیم واجب ہے اس کے خلاف بنتا ہے۔ الْمُھٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِ ھِمْ…
Read the full tafseer →7 ۔” ماافاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ “ یعنی بستیوں والے کفار کے اموال سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ قریظہ، نضیر، فدک ، خیبر اور عرینہ کی بستیاں ہیں۔ ” فللہ وللرسول ولذی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل “ اور تحقیق ہم نے سورة الانفال میں غنیمت کے حکم کو ذکر کردیا ہے اور فئی کا حکم بیشک فئی کا مال آپ (علیہ السلام) کی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ہوگا جہاں چاہیں اس کو خرچ کریں اور آپ (علیہ السلام) اس میں سے اپنے اہل کو ان کا سالانہ خرچ دیتے تھے اور جو باقی بچتا اس کو اللہ تعالیٰ کے مال کی جگہ رکھتے اور اہل علم کا رسول اللہ ﷺ کے بعد فئی کے مصرف میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
6۔ 9۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے جلا وطن ہونے کا ذکر فرما کر اس جلا وطنی کے بعد بغیر لڑائی اور بغیر مقابلہ کے جو مال ہاتھ آیا ان آیتوں میں اس کا یہ حکم فرمایا کہ جس طرح بغیر لڑائی کے بنی نضیر کا مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا اس مال میں اور آگے کو اسی طرح جو مال بغیر لڑائی کے ہاتھ لگے ایسے سب مال میں وہ پانچ حصے نہ ہوں گے جو پانچ حصے لڑائی کے بعد غنیمت کے مال کے سورة انفال میں بیان ہوئے کہ ان پانچ حصوں میں سے چار خمس لشکر اسلام میں تقسیم کئے جائیں گے اور ایک خمس اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا بلکہ یہ بغیر لڑائی کے ہاتھ آیا ہوا تمام مال اللہ کے رسول کے اختیار…
Read the full tafseer →پھر اللہ تبارک وتعالی نے فے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا اس کے موجب ور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فے میں سے حصہ مقرر کیا جائے اور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنہوں نے اللہ میں رغبت اور رسول اللہ کی محبت کی خاطر اپنے محبوب ومالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا اعمال صالحۃ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان کا دعوی کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
قول باری ہے (ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو دوسری بستیوں والوں سے بطور فئے دلوادے سو وہ اللہ ہی کا حق ہے اور رسول کا) تا آخر آیت
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اس فئے کا حکم بیان کیا جس کے حضول کے لئے مسلمانوں کو نہ گھوڑے دوڑانے پڑے تھے اور نہ ہی اونٹ اور پھر اس فئے کو حضور ﷺ کے لئے مخصوص کردیا تھا جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں بیان کر آئے ہیں۔
پھر اس فئے کا ذکر ہوا جس پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے تھے۔ اس فئے کو اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکورہ اصناف کے لئے مخصوص کردیا۔ یہ پانچ اصناف ہیں جن کا ذکر دوسری آیات میں بھی ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →[ 23] اموال فئی کا ایک خاص مصرف فقراء مہاجرین :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ حق ہے ان ضرورت مند مہاجریں کا جن کو نکال باہر کیا گیا ان کے گھروں اور ان کے مالوں سے۔ یعنی " للفقرائ " یہاں پر بدل ہے " ذوی القربی وما بعدہ " سے یعنی اوپر جن چار قسموں کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ اپنے فقر وا حتیاج کی بناء پر مال فیئی کے مستحق ہیں، مگر ان میں سے یہ حضرات جن کا ذکر اب کیا جا رہا ہے بطور خاص زیادہ استحقاق رکھتے ہیں، جس میں فقراء مہاجرین و انصار اور ان کے بعد قیامت تک آنے والی سب امت کے مستحقین شامل و داخل ہیں، [ معارف، وغیرہ ] سو اموال فئی کا عام مصرف بیان کرنے کے بعد اب اس کے ایک خاص اور اہم مصرف کی طرف اشارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
مال غنیمت اور مال فَیْ کی تقسیم انصار کی فراخدلی
تشریح : سب سے پہلے تو یہودیوں کو اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ بیشک پھل دار درخت کاٹنے کی مسلمان کو ممانعت ہے مگر اب جو مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹ دئیے ہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہی کاٹے ہیں کچھ تو جنگی مصلحت کی بنا پر اور کچھ دشمنوں کو ان کے باغات کی تباہی و بربادی دکھا کر جلانے اور پریشان کرنے کیلئے۔ دوسرا بڑا اہم مسئلہ فی، اور مال غنیمت کی تقسیم کا تھا۔ مال غنیمت اور فَیْ ، دونوں ہی دشمن کے چھوڑے ہوئے منقولہ وغیر منقولہ مال کو کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فَیْوہ مال ہے جو بغیر جنگ و جدل بغیر خون خرابے کے حاصل ہو اور غنیمت وہ ہے جو جنگ و جدل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی جنہیں کفار مکہ نے ان کے گھر بار سے نکال دیا اور مال و دولت سے محروم کردیا۔6 اللہ کے فضل سے مراددنیا کی روزی اور اس کی رضا مندی سے مراد آخرت کا ثواب ہے۔7 یعنی دین اسلام کی راہ میں کفار سے جہاد کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(59:8) للفقراء المھجرین : لام تملیک کا ہے۔ الفقراء المھجرین موصوف صفت۔ مہاجر حاجت مند۔ یعنی ایسے مہاجر جو غریب حاجت مند اور نادار تھے۔ الذین اسم موصول، اخرجوا صلہ۔ ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ، جو نکالے گئے۔
تتبعون : مضارع جمع مذکر غائب ابتغاء (افتعال) مصدر۔ وہ ڈھونڈھتے ہیں۔ وہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں۔
فضلا : بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ بمعنی روزی، رزق، فضل ۔ جیست اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لتبتغوا فضل من ربکم (17:12) تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی روزی) تلاش کرو۔ الفضل کے معنی کسی چیز کے اقتصاد (متوسط درجہ) سے زیادہ ہونے کے ہیں۔ اور یہ دو قسم پر ہے :۔
(1) محمود : جیسے علم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
لغات القرآن۔
افائ۔ اس نے لوٹایا۔ اوجفتم۔ تم نے بھگایا۔ تم نے دوڑایا۔ دولۃ۔ مال و دولت۔ نھی۔ منع کردیا۔ تبوئ۔ انہوں نے ٹھکانا بنایا۔ حاجۃ۔ ضرورت۔ یوثرون۔ وہ ترجیح دیتے ہیں۔ خصاصۃ۔ ضروریات زندگی۔ فقر وغربت۔ شح۔ کنجوسی۔ لالچ۔ غلا۔ کینہ۔ بغض۔
تشریح : جنگ میں فتھ کے بعد کفار سے جو مال مجاہدین کے ہاتھ لگتا ہے اگر باقاعدہ جنگ کے ذریعہ حاصل ہو تو اس کو ” مال غنیمت “ اور ” انفال “ کہا جاتا ہے اور بغیر جنگ کے صلح کے ذریعہ مال و دولت ، زمین و جائیداد ہاتھ آتی ہے اس کو ” مال فے “ کہا جاتا ہے۔ مال غنیمت اور مال فے کو کس طرح صرف کیا جائے گا اس کے الگ الگ احکامات ہیں۔
دور جہالت میں عربوں کا دستور یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[13] یعنی مدینے میں۔
[14] مراد ہیں انصار یعنی وہ مسلمان جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینے میں آباد تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 1: ان آیات میں ان لوگوں کی تفصیل بیان کی ہے ۔ جو اموال غنیمت کا استحقاق رکھتے ہیں ۔ فرمایا ۔ اس مال میں ان غریب مہاجرین کا حصہ ہے ۔ جو اپنے گھر اور اپنے مال و سامان سے جبرا جدا کردیئے گئے ۔ جو محض اللہ کی رضامندی کے طالب ہیں ۔ اور وقتاً فوقتاً جب ضرورت پڑے میدان جہاد میں بطور سپاہی کے لڑتے ہیں ۔ اور اپنی صداقت ایمانی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ پھر وہ انصار بھی اس کا ستحقاق رکھتے ہیں ۔ جو مدینہ میں پہلے سے قیام پذیر ہیں ۔ اور ایمان کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے ۔ جو مہاجرین کو وقعت کی کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی آسودگی سے نہ صرف خوش ہوتے ۔ بلکہ بسا اوقات ان کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ۔…
Read the full tafseer →(8) اس مال فی میں ان فقرائے مہاجرین کا بھی خاص طور سے حق ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور اپنے مالوں سے بےدخل کئے گئے دراں حالیکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضامندی کی متلاشی اور طلب گار ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کیا کرتے ہیں یہی لوگ ہیں حقیقی سچے اور راست بازی۔ یعنی یوں تو تمام مساکین اس مال فئے کے مستحق ہیں لیکن وہ فقراء خاص طور پر حق دار ہیں جو کفار کے تنگ کرنے کی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے اور اپنا گھر بار مکہ معظمہ سے چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور اس کے فضل کی جستجو میں نکل آئے اور مدینے میں آکر اللہ تعالیٰ کے دین کی اور اس کے پیغمبر کی حتیٰ المقدور مدد…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی انہوں نے کسی دنیوی غرض سے ہجرت نہیں کی۔
Read the full tafseer →جن لوگوں پر اموال فے خرچ ہوں گے ان کا مزید ذکر
8 ؎ گزشتہ آیت میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا ( الفقر او المھاجرین) بھی ان میں داخل ہیں یا یہ لوگ ان سے زائد ہیں ؟ اس پر ہمارے مفسرین نے بہت بحث کی ہے اور اس سلسلہ میں بہت لمبا اور مفصل بیان دیا ہے۔ ہم ان لوگوں کو گزشتہ لوگوں سے زائد لوگ سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان کی اہمیت کے پیش نظر ان کو الگ کر کے بیان کیا گیا ہے تا ہم یہ اس وقت کی وقتی ضرورت تھی جس کو ہمیشہ باقی نہیں رہتا تھا کیونکہ مہاجرین جب نئے نئے آباد ہوئے اس وقت تو ان کی اہمیت سب دوسرے لوگوں سے اولیت رکھتی تھی لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ضروری نہیں تھا کہ مہاجرین فقرا ہی رہیں…
Read the full tafseer →The Merits of al-Muhajirin [ The Emigrants ]
لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ
([ And fai' is especially ] for the poor emigrants who were expelled from their homes and properties, while they were seeking the grace of Allah and (His) pleasure, and were helping Allah and His Messenger. They are the truthful.... 59:8)
This verse describes all the characteristics of the emigrants. The first of them is that they were driven…
Read the full tafseer →13 In the preceding verse what was pointed out was why these properties should not be distributed among the fighting army like the spoils, and why the legal injunction concerning them is different from that concerning the spoils Now in this verse it is being stated as to who are entitled to have a sha. re in these properties.
The first share in these is of AIIah and His Messenger. The dctail of how the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) acted on this injunction has been related by Malik bin Aus bin al-Hadathan on the authority of Hadrat 'Umar (may Allah be pleased with him), thus: The…
Read the full tafseer →