Explained with ayahs 8–10
مال فے کے حقدار
اوپر بیان ہوا تھا کہ فے کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آگیا ہو اس کے مالک رسول اللہ ﷺ ہیں پھر آپ یہ مال کسے دیں گے ؟ اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس کے حق دار وہ غریب مہاجر ہیں جنہوں نے اللہ کو رضامند کرنے کے لئے اپنی قوم کو ناراض کرلیا یہاں تک کہ انہیں اپنا وطن عزیز اور اپنے ہاتھ کا مشکلوں سے جمع کیا ہوا مال وغیرہ سب چھوڑ چھاڑ کر چل دینا پڑا، اللہ کے دین اور اس کے رسول ﷺ کی مدد میں برابر مشغول ہیں، اللہ کے فضل و خوشنودی کے متلاشی ہیں، یہی سچے لوگ ہیں جنہوں نے اپنا فعل اپنے قول کے مطابق کر دکھایا، یہ اوصاف سادات مہاجرین میں تھے ؓ۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 17
مراد ہیں انصار۔ یعنی فَے میں صرف مہاجرین ہی کا حق نہیں ہے، بلکہ پہلے سے جو مسلمان دار الاسلام میں آباد ہیں وہ بھی اس میں سے حصہ پانے کے حق دار ہیں۔
سورة الْحَشْر 18
یہ تعریف ہے مدینہ طیبہ کے انصار کی۔ مہاجر جب مکہ اور دوسرے مقامات سے ہجرت کر کے ان کے شہر میں آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ پیش کش کی کہ ہمارے باغ اور نخلستان حاضر ہیں، آپ انہیں ہمارے اور ان مہاجر بھائیوں کے درمیان بانٹ دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ تو باغبانی نہیں جانتے، یہ اس علاقے سے آئے ہیں جہاں باغات نہیں ہیں کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اپنے ان باغوں اور نخلستانوں میں کام تم کرو اور پیداوار میں سے…
Read the full tafseer →فضائل انصار
(آیت) وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ الایتہ، تبوء کے معنی ٹھکانے بنانے کے ہیں اور دار سے مراد دار ہجرت یا دار ایمان یعنی مدینہ طیبہ ہے اسی لئے حضرت امام مالک ایک حیثیت سے مدینہ طیبہ کو باقی دنیا کے سب شہروں سے افضل قرار دیتے تھے، فرماتے تھے کہ دنیا کے تمام شہر اور ملک جہاں جہاں اسلام پہنچا اور پھیلا ہے سب جہاد کے ذریعہ فتح ہوئے ہیں یہاں تک کہ مکہ مکرمہ بھی، بجز مدینہ طیبہ کے یہ صرف ایمان سے فتح ہوا ہے (قرطبی)
اس آیت میں تبو کے تحت میں دار کے ساتھ ایمان کا بھی ذکر فرمایا ہے، حالانکہ ٹھکانا پکڑنے کا تعلق کسی مقام اور جگہ سے ہوتا ہے، ایمان کوئی ایسی…
Read the full tafseer →(والذین تبو والداروالایمان من قبلھم یحبون من ھاجرالیھم ولا یجدون فی صدور ھم حاجۃ لما اوتو اویوثرون علی انفسھم ولو گان بھم خاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولیک ھم الفلحون) (9)۔
(انصار اور مہاجرین اولین کی سیر چشمی کی تحسین)۔ یہ انصار ومہاجرین اولین کی سیر چشمی اور ان کی فراخ دلی کی تعریف ہے کہ اس بات سے ان کے دل تنگ نہیں ہو رہے ہیں کہ مہاجروں کے قافلے پر قافلے ان کے غنائم و فے میں حصہ بٹانے کے لیے چلے آ رہے ہیں بلکہ وہ بڑی فراخ دلی سے ان کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور ان کی جو مدد کی جا رہی ہے اس سے اپنے دلوں میں کوئی رشک و حسد محسوس کرنے کے بجائے وہ اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود ضرورت لا…
Read the full tafseer →9۔ 1 ان سے انصار مدینہ مراد ہیں جو مہاجرین کے مدینہ آنے سے قبل مدینے میں آباد تھے اور مہاجرین کے ہجرت کر کے آنے سے قبل امین بھی ان کے دلوں میں قرار پکڑ چکا تھا یہ مطلب نہیں ہے کہ مہاجرین کے ایمان لانے سے پہلے یہ انصار ایمان لا چکے تھے کیونکہ ان کی اکثریت مہاجرین کے ایمان لانے کے بعد ایمان لائی ہے یعنی من قبلھم کا مطلب من قبل ھجرتھم ہے اور دار سے دار الھجرۃ یعنی مدینہ مراد ہے۔
9۔ 2 یعنی مہاجرین کو اللہ کا رسول ﷺ جو کچھ دے، اس پر حسد محسوس نہیں کرتے، جیسے فیء کا اولین مستحق بھی ان کو قرار دیا گیا۔ لیکن انصار نے برا نہیں منایا۔
9۔ 3 یعنی اپنے مقابلے میں مہاجرین کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں خود…
Read the full tafseer →7: اس سے مراد وہ انصاری صحابہ ہیں جو مدینہ منورہ کے اصل باشندے تھے، اور انہوں نے مہاجرین کی مدد کی۔
8: اگرچہ سارے ہی انصار کی یہی کیفیت تھی کہ وہ ایثار سے کام لیتے تھے، لیکن روایات میں ایک صحابی (حضرت ابو طلحہ ؓ کا خاص طور پر ذکر آیا ہے جن کے گھر میں کھانا بہت تھوڑا سا تھا، پھر بھی جب آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ کچھ مہمانوں کو اپنے گھر لے جائیں، اور انہیں کھانا کھلائیں تو یہ کچھ مہمان اپنے ساتھ لے گئے، اور ان کی تواضع اس طرح کی کہ خود کچھ نہیں کھایا، اور چراغ بجھا کر مہمانوں کو بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کچھ نہیں کھا رہے۔ اس آیت میں ان کے ایثار کی بھی تعریف فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →والذین ........................ المفلحون (95 : 9) ” جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں “۔
یہ ہے انصار کی ایک خوبصورت تصویر جس کے اندر ان کے اہم خدوخال نہایت ہی نمایا کرکے دکھائے گئے ہیں یہ مجموعہ صفات اگر عملاً مدینہ میں واقع نہ ہوا تھا اور عملاً اپنے انتہاؤں تک نہ…
Read the full tafseer →3 اس گھر سے مراد ہے مدینہ طیبہ اور یہ لوگ انصار مدینہ ہیں جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینہ میں سکونت پذیر تھے۔ اور ایمان و عرفان کی راہوں پر بہت مضبوطی کے ساتھ مستقیم ہوچکے تھے۔
4 یعنی محبت کے ساتھ مہاجرین کی خدمت کرتے ہیں حتی کہ اپنے اموال وغیرہ میں ان کو برابر کا شریک بنانے کے لیے تیار ہیں۔
5 یعنی مہاجرین کو اللہ تعالیٰ جو فضل و شرف عطا فرمائے یا اموال فئے وغیرہ میں سے حضور ﷺ جو کچھ عنایت کریں، اسے دیکھ کر انصار دل تنگ نہیں ہوتے نہ حسد کرتے ہیں۔ بلکہ خوش ہوتے ہیں اور ہر اچھی چیز میں ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں۔ خود سختیاں اور فاقے اٹھا کر بھی اگر ان کو بھلائی پہنچا سکیں تو دریغ نہیں…
Read the full tafseer →آیت 9{ وَالَّذِیْنَ تَـبَـوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَـبْلِہِمْ } ”اور اس مال میں ان کا بھی حق ہے جو آباد تھے اپنے گھروں میں اور جن کے پاس ایمان بھی تھا ان مہاجرین کی آمد سے پہلے“
یہ انصارِ مدینہ کا ذکر ہے کہ مہاجرین کی آمد پر ان کا طرزعمل کیا تھا :
{ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَـیْہِمْ } ”وہ محبت کرتے ہیں ان سے جنہوں نے ہجرت کی ان کی طرف“
مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے مکہ مکرمہ سے آنے والے مہاجرین کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ ان میں سے کسی کے دل میں قطعاً کوئی ایسا خیال نہیں آیا کہ ان لوگوں کے آنے سے ہماری آبادی بڑھ جائے گی اور ان کی ناداری و محرومی ہماری معیشت پر بوجھ بن جائے گی۔
{…
Read the full tafseer →11 انصار کا مہاجرین کے لیے ایثار اور فے میں ان کا حصہ :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی کمال فضیلت بیان فرمائی جو مسلمانوں کے ہجرت کرکے مدینہ آنے سے پیشتر بیعت عقبہ کی رو سے ایمان لاچکے تھے اور انہوں نے مہاجر مسلمانوں کو آتے ہی اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔ اور مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلہ میں وہ مثال قائم کی جس کی مثال پیش کرنے سے پوری دنیا کی تاریخ قاصر ہے۔ ان اولین انصار نے مہاجرین کو اپنی جائیداد، گھر بار اور نخلستانوں میں شریک کرلیا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت انصار مدینہ نے آپ سے عرض کیا : ہم میں اور ہمارے مہاجر بھائیوں میں کھجور کے درخت تقسیم کر دیجئے تو آپ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →17۔ صحابیوں میں مہاجرین کے بعد اب یہ مناقب و فضائل حضرات انصار کے بیان ہورہے ہیں۔ قرآنی مدح کا دوسرا جزو۔ (آیت) ” الدار “۔ دارالاسلام یا مدینہ منورہ۔ (آیت) ” من قبلھم “۔ یعنی مہاجرین کے ورود مدینہ سے قبل۔ اے من قبل قدوم المھاجرین علیھم (معالم) دارالہجرت اصلا تو مدینہ منورہ ہی تھا۔ باقی ہر دوسرا مقام بھی دارا الہجرت ہوسکتا ہے، جہاں توحید پرستی کے لئے پناہ و فراغت مل سکے۔ (آیت) ’ ’ لا ..... اوتوا۔ حاجۃ “۔ کے اصل معنی طلب کے ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ مہاجرین کو تقسیم غنیمت وغیرہ میں سے جو کچھ ملتا رہتا ہے، یا اور انہیں جو شرف و مرتبہ حاصل ہوچکا ہے، اس کی طرف یہ انصار کبھی اپنا خیال بھی نہیں لے…
Read the full tafseer →والذین تبواء و الدار والایمان من قبلھم، تبوء کے معنی ٹھکانے بنان کے ہیں اور دار سے مراد دار ہجرت یاد اریمان یعنی مدینہ طیبہ ہے مدینہ طیبہ کو دار ایمان کہنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عرب کے تمام علاقہ جہاد اور فوج کشی کے ذریعہ فتح ہوئے مگر مدینہ طیبہ ایمان کے ذریعہ فتح ہوا۔ (قرطبی)
اس آیت میں ایمان کا دار پر عطف کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انصار نے دار ہجرت میں ٹھکانہ بنایا اور ایمان میں ٹھکانہ بنایا حالانکہ ٹھکانہ بنانا کسی مقام اور جگہ میں ہوتا ہے ایمان کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس میں ٹھکانہ بنایا جاسکے، اس لئے بعض حضرات نے کہا کہ یہاں ایک لفظ مخذوف ہے یعنی اخلصوا الایمان یعنی یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →والذین تبو وا الدار والایمان من قبلھم یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا و یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون . ” اور ان لوگوں کا بھی حق ہے جو دارالسلام (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان مہاجروں کے آنے سے
پہلے جاگزین تھے (اور) جو مہاجر ان کے پاس ہجرت کر کے آتے ہیں ‘ ان سے یہ محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ لوگ اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے اور ان کو اپنے سے مقدم رکھتے ہیں۔ خواہ ان پر (خود) فاقہ ہی ہو اور جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے ‘ پس وہی لوگ کامیاب ہیں۔ “
بخاری (رح) نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے حدیث…
Read the full tafseer →اس پر رسول اکرم نے انصار سے فرمایا کہ یہ غنیمتیں اور باغات بالخصوص فقرا مہاجرین کا حق ہیں اب اگر تمہاری مرضی ہو تو تمہارے گھروں کو اور مالوں کو ان مہاجرین میں تقسیم کردوں اور تمہیں یہ غنیمتیں دے دوں اور اگر چاہو تو تمہارے پاس تمہارے اموال اور گھر بدستور رہیں اور یہ غنیمت میں ان فقرا مہاجرین پر تقسیم کردوں اس پر انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ان کے درمیان اپنے اور گھروں کو بھی تقسیم کردیتے ہیں اور خود پر مال غنیمت میں ان ہی کو ترجیح دیتے ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے انصار کی تعریف فرمائی کہ ان لوگوں کا بھی حق ہے جو دار الہجرت اور دار الایمان یعنی مدینہ منورہ میں مہاجرین کے آنے سے پہلے ہی…
Read the full tafseer →1۔ وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُالدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ :”بوا یبوی“ (تفعیل) جگہ دینا ، ٹھکانہ دینا ، جیسا کہ فرمایا :(وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ) (یونس : 93) ’ ’ اور بلا شبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانہ دیا ، با عزت ٹھکانہ۔”تبوا یتبوا“ کسی جگہ میں ٹھکانہ بنانا ، مقیم ہونا۔”الدار“ میں الف لام عہد کا ہے ، اس گھر میں جہاں مہاجرین ہجرت کر کے پہنچے۔ ”دار ہجرت“ مدینہ منورہ کا لقب ہے ، امام مالک ؒ تعالیٰ کو اسی لیے ”امام دار الجھرۃ“ کہا جاتا ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں رہتے تھے۔ یعنی اموال فے فقراء مہاجرین کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مہاجرین کے…
Read the full tafseer →آیات۔ 9۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ والذین تبو والدار ولایمان من قبلھم اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ الذین تبوا الدار سے مراد انصر ہیں جنہوں نے مہاجرین سے قبل مدینہ طیبہ کو اپنا وطن بنایا تھا۔ الایمان کا لفظ تبو وا کی بجائے کسی اور فعل کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ تبئوا کا تعلق مکان سے ہوتا ہے۔ من قبلھم، من تبو وا کے متعلق ہے معنی ہے جنہوں نے مہاجرین سے منصوب ہے کیونکہ تبئوک تعلق مکان سے ہوتا ہے۔ من قبلھم، منو بتو وا کے متعلق ہے معنی ہے جنہوں نے مہاجرین سے پہلے یہاں رہائش اختیار کی، ایمان کا اعتقاد رکھا اور اسکے لئے اخلاص کا مظاہرہ کیا کیونکہ ایمان ایسی چیز نہیں جس کو ٹھکانہ بنایا…
Read the full tafseer →2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت والذین تبوؤ الدار والایمان (آیت کے آخر تک) کے بارے میں روایت کیا کہ آیت میں انصار کے قبیلے کے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے گھروں میں مشرف باسلام ہوئے اور نبی ﷺ کی تشریف آوری کے دو سال پہلے انہوں نے مسجدیں بنالیں تھیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہاں تعریف فرماکر ان پر احسان فرمایا اور یہی وہ پہلی دو جماعتیں ہیں جنہوں نے اس آیت سے اپنی فضیلت کو پالیا۔ اور دونوں اس خیر اور بھلائی پر چلتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کا حصہ اس مال فئی میں بیان فرمادیا پھر تیسری جماعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آیت والذین جاء و من بعدہم یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا۔ اور وہ لوگ…
Read the full tafseer →[وَالَّذِينَ : اور ان کے لیے ہے جنھوں نے ][ تَبَوَّؤُ : اقامت اختیار کی ][الدَّارَ وَالْاِيْمَان : اس گھر (شہر مدینہ) میں اور ایمان میں ][مِنْ قَبْلِهِمْ : ان (مہاجرین) سے پہلے ][يُحِبُّوْنَ : وہ لوگ محبت کرتے ہیں ][ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ : اس سے جس نے ہجرت کی ان کی طرف ][وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ : اور وہ لوگ نہیں پاتے اپنے سینوں میں ][ حَاجَةً مِّمَآ : کوئی حاجت اس میں سے جو ][ اُوْتُوا : ان (مہاجرین) کو دیا گیا ][ وَيُؤْثِرُوْنَ : اور وہ لوگ ترجیح دیتے ہیں (ان کو)][ عَلٰٓي انفُسِهِمْ : اپنی جانوں پر ][ وَلَوْ كَان بِهِمْ : اور اگرچہ ہو ان پر ][ خَصَاصَةٌ: کوئی محتاجی ][وَمَنْ…
Read the full tafseer →حضرات انصار ؓ کے اوصاف جمیلہ
صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ اکثر علماء فرماتے ہیں کہ ﴿ وَ الَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِيْمَانَ ﴾ مہاجرین پر عطف ہے اور ان سے حضرات انصار مدینہ مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ فئی کے جو اموال ہیں انصار بھی اس کے مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ انصار کی تعریف کرتے ہوئے اولایوں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مدینہ منورہ کو پہلے ہی سے اپنا ٹھکانا بنالیا تھا، یہ حضرات رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے برس ہابرس پہلے ہی مدینہ منورہ میں یمن سے آکر آباد ہوگئے تھے۔ جو بعد میں دار الایمان بن گیا پھر جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور حج کے موقعہ پر منیٰ میں آپ سے ملاقات ہوگئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
استحقاق مہاجرین وانصار ومحبین و مخلصین صحابہ کرام کرام ؓ درمال فئی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” للفقرآء المھجرین الذین اخرجوا ...... الی ...... انک رء وف رحیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں بنو نضیر کی جلاوطنی کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کے اموال جو بطور فئی حاصل ہوئے ہیں ان کا متولی و متصرف کلیۃ اللہ نے اپنے پیغمبر کو بنایا پیغمبر ہی کو ان پر تسلط و غلبہ عطا کیا گیا اب ان ہی کے اختیار میں ہے کہ جس کو چاہیں اور جتنا چاہیں عطا کریں کسی کو اس میں ذرہ برابر نکتہ چینی کا حق نہیں، اور اللہ نے ان اموال کے مستحق، ذوی القربی، یتامی و مساکین اور اب السبیل بنائے ہیں ان مصارف کے ذکر کے بعد خاص طور پر اب ان آیات میں…
Read the full tafseer →9:۔ ” ولذین تبوؤا الدار “ یہ ” الفقراء “ پر معطوف ہے اور اس میں انصار ؓ کے فضل وشرف کا ذکر ہے۔ ” الدار “ سے مدینہ منورہ مراد ہے جو دار الہجرت ہے۔ الایمان کا عامل مقدر ہے۔ ای حصلوا (الشیخ) یا اخلصوا (روح) ۔ اور یہ علفتہا تبنا وماء باردا کے قبیل سے ہے۔ الکلام من باب علفتہا تبنا وماء باردا، ای تبوؤا الدار واخلصو الایمان (روح ج 28 ص 51) ۔ مہاجرین کے علاوہ اس مال فیئ سے انصار پر بھی خرچ کرو جو مہاجرین کی مدینہ میں آمد سے پہلے اس میں سکونت پذیر تھے اور ان کے آنے سے پہلے مخلصانہ ایمان لا چکے تھے۔ ” یحبون من ھاجر الیہم “ مہاجرین سے ان کو دلی محبت ہے اور ان کے دلوں میں مہاجرین کے لیے ہمدردی اور…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ آیات میں مال فے کی تعریف اور اس کے مختلف مصارف کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ نے اس مال میں اللہ ، اس کے رسول ، رسول کے قرابتداروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا حصہ رکھا ہے۔ اللہ نے اس تقسیم کی حکمت بھی بیان فرمائی کہ مال و دولت صرف اغنیاء میں ہی نہ گردش کرتا رہے بلکہ اس کادوران معاشرے کے نچلے طبقوں تک پہنچنا چاہیے۔ اللہ نے اہل ایمان کو تلقین کی کہ وہ اپنے نبی کی تقسیم کو بخوشی خاطر قبول کریں اور جو چیز اللہ کا نبی دے دے اس کو قبول کرلو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جائو۔ اس کے بعد اللہ نے نادار مہاجرین کے حصے کا ذکر کیا جو لوگ اپنا گھر بار اور مال متاع چھوڑ کر دارالحجرت میں پہنچ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَيْہِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ كَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ 0 ۭ ۣ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 9 ۚ
بَوءَ
أصل البَوَاء : مساواة الأجزاء في المکان، خلاف النّبو الذي هو منافاة الأجزاء . يقال : مکان بَوَاء : إذا لم يكن نابیا بنازله، وبَوَّأْتُ له مکانا : سوّيته فَتَبَوَّأَ ، وبَاءَ فلان بدم فلان يَبُوءُ به أي : ساواه، قال تعالی: وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّءا لِقَوْمِكُما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
فے اور غنیمت کے معنی :
تفسیر : اس کے بعد بنی نضیر کے مال و اسباب کی بابت فرماتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور جس کو وہ نہ لے جاسکے۔ فقال وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما ادجفتم علیہ من خیل دلارکاب الخ۔ مبرد کہتے ہیں فاء یفیٔ کے معنی ہیں رجوع کے اور افاء اللہ جب کہتے ہیں کہ جب اللہ بھیجے۔ ازہری کہتے ہیں فیٔ اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ مخالفوں سے حاصل ہو خواہ اس طور سے کہ کفار چھوڑ کر چلے جائیں یا جزیے کے طور ادا کریں یا رعب میں آ کر جان بچانے کے لیے کچھ رقم یا چیزیں دیں ‘ یہ سب فیٔ ہے۔ اس کو لغوی معنی کے لحاظ سے فی اس لیے کہتے ہیں کہ کفار سے اللہ نے مسلمانوں کے پاس بھیجا ہے۔ برخلاف غنیمت…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُالدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِھِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ھَاجَرَ اِلَیْھِمْ وَلاَ یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ قف ط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الحشر : 9)
(اور یہ مال ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے دارالہجرت میں ٹھکانہ بنا چکے ہیں اور اپنے ایمان کو محکم کرچکے ہیں، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کی طرف آرہے ہیں، اور جو کچھ ان کو دیا جارہا ہے وہ اس کی اپنے دلوں میں کوئی حاجت محسوس نہیں کرتے، اور اپنی ذات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : مال فئی میں غریب مہاجرین اور مستحق انصار کا حصہ بھی شامل ہوگا۔
مالِ فئی میں ان مسلمانوں کو بھی حصہ ملنا چاہیے جنہیں ان کے مالوں اور گھروں سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں۔ یہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ مال فئی میں وہ ایماندار بھی حصہ دار ہیں جو پہلے سے مدینہ میں مقیم ہیں اور اپنے ہاں آنے والے مہاجرین کے ساتھ محبت رکھنے والے ہیں وہ مہاجرین کے لیے ایثار کرتے ہیں حالانکہ وہ خود بھی ضرورت مند ہیں۔ اپنی ضرورت کے باوجود اپنے آپ پر مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں جو شخص شح سے بچا لیا گیا وہ کامیاب ہوگا۔ یاد رہے کہ انسان بخل، گناہ اور ہر…
Read the full tafseer →مدینہ دارالمہاجرین اور دارالہجرۃ :
9 : وَالَّذِیْنَ (اور ان لوگوں کا بھی حق ہے) اس کا عطف المہاجرین پر ہے۔ اور اس سے مراد انصار ہیں۔ تَبَوَّؤُا لدَّارَ (جو دارالاسلام) (مدینہ میں) ان مہاجروں کے آنے سے پہلے جاگزیں تھے) یعنی مدینہ میں رہائشی تھی۔ وَالْاِیْمَانَ (اور ایمان مخلصانہ لائے) یہ اس قول کے مطابق ہے۔ جو عرب کہتے ہیں۔ علفتھا تبنا و ماء باردًا یا انہوں نے اپنا مستقر و متوطن قرار دیا کیونکہ وہ اس پر پختہ اور مضبوط ہوگئے۔ جیسا کہ انہوں نے مدینہ کو بھی اسی طرح بنایا یا دارالھجرات کو دارالایمان قرار دیا۔ تو الدار کی لام تعریف کو مضاف الیہ کے قائم مقام رکھا اور دارالایمان سے مضاف کو حذف کردیا…
Read the full tafseer →8 ۔ پس فرمایا ” للفقراء المھاجرین الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم یبتغون فضلا “ رزق ” من اللہ ورضوانا “ یعنی وہ دار ہجرت کی طرف نکالے گئے اللہ تعالیٰ کی رضا کو طلب کرنے کے لئے۔ ” وینصرون اللہ ورسولہ اولئک ۔۔۔۔۔ “ اپنے ایمان قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ مہاجرین لوگ جنہوں نے گھروں، اموال اور خاندانوں کو چھوڑا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں نکلے اور اسلام کو اختیار کیا ان سختیوں کے باوجود جن پر وہ تھے حتیٰ کہ ہمیں ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔۔ اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا تاکہ بھوک سے اپنی پیٹھ کو سیدھا کرے اور آدمی سردیوں میں حفیرہ لے لیتا تھا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی لبادہ نہ ہوتا تھا۔ امیہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
6۔ 9۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے جلا وطن ہونے کا ذکر فرما کر اس جلا وطنی کے بعد بغیر لڑائی اور بغیر مقابلہ کے جو مال ہاتھ آیا ان آیتوں میں اس کا یہ حکم فرمایا کہ جس طرح بغیر لڑائی کے بنی نضیر کا مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا اس مال میں اور آگے کو اسی طرح جو مال بغیر لڑائی کے ہاتھ لگے ایسے سب مال میں وہ پانچ حصے نہ ہوں گے جو پانچ حصے لڑائی کے بعد غنیمت کے مال کے سورة انفال میں بیان ہوئے کہ ان پانچ حصوں میں سے چار خمس لشکر اسلام میں تقسیم کئے جائیں گے اور ایک خمس اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا بلکہ یہ بغیر لڑائی کے ہاتھ آیا ہوا تمام مال اللہ کے رسول کے اختیار…
Read the full tafseer →پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا حتی کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر وسناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کرلی جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں۔ (يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ ) وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں ( وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا) اور وہ اپنے دلوں میں اس مال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →[ 26] مال " فئی " کا دوسرا مصرف حضرات انصار ؓ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیز یہ مال حق ہے ان لوگوں کو جنہوں نے جگہ پکڑی ایمان و سلامتی کے اس گھر میں اور وہ پختہ کار ہوگئے اپنے ایمان و یقین میں۔ سو یہ ترکیب " علفتھا تبنا ومائً باردًا " کے قبیل سے ہے، جہاں ایک فعل کو محذوفس کردیا جاتا ہے کہ وہ دوسرے مناسب فعل سے سمجھ میں آجاتا ہے، جیسے اس مثال میں " علفتھا " کے بعد اس پر معطوف فعل " وسقی تھا " محذوف ہے، اسی طرح یہاں پر " تبوء والدار " کے بعد احکمو الایمان یا اس جیسا کوئی فعل محذوف و مقدر ہے، اور اس ارشاد ربانی کا اولین مصداق حضرات انصار ہیں، رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین، اور ان کے پاس آنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
مال غنیمت اور مال فَیْ کی تقسیم انصار کی فراخدلی
تشریح : سب سے پہلے تو یہودیوں کو اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ بیشک پھل دار درخت کاٹنے کی مسلمان کو ممانعت ہے مگر اب جو مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹ دئیے ہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہی کاٹے ہیں کچھ تو جنگی مصلحت کی بنا پر اور کچھ دشمنوں کو ان کے باغات کی تباہی و بربادی دکھا کر جلانے اور پریشان کرنے کیلئے۔ دوسرا بڑا اہم مسئلہ فی، اور مال غنیمت کی تقسیم کا تھا۔ مال غنیمت اور فَیْ ، دونوں ہی دشمن کے چھوڑے ہوئے منقولہ وغیر منقولہ مال کو کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فَیْوہ مال ہے جو بغیر جنگ و جدل بغیر خون خرابے کے حاصل ہو اور غنیمت وہ ہے جو جنگ و جدل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →ف 8 بلکہ خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے یہ مہاجر بھائی آرام سے آیت میں مہاجرین مراد ہیں اور اس آیت میں انصار، (از موضح)9 صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت کی خدمت میں ایک شخصحاض رہوا اور اس نے اپنی محتاجی کا ذکر کیا … حضرت ابوطلحہ اسے اپنے ساتھ لے گئے اور بیوی سے کہا یہ اللہ و رسول کا مہمان ہے۔ بیوی نے کہا۔ واللہ میرے پاس صرف بچوں کا کھانا ہے۔ ابو طلحہ نے کہا کہ بچوں کو سلا دو اور جب کھانا رکھو تو چراغ بجھا دینا تاکہ وہ ان کھالے اور ہم بھوکے رہیں۔ صبح کی قوت مہان آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ” رات ان دونوں نے جو کام کیا اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوا اور ان کے بارے میں یہ آیت…
Read the full tafseer →(59:9) والذین ۔۔ خصاصۃ یہ معطوف ہے اور اس کا معطوف علیہ للفقراء المھاجرین ہے۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ اموال فی حق دار صرف مہاجرین ہی نہیں بلکہ یہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر اس آیت میں کیا جا رہا ہے ۔ اور یہ انصار ہیں۔
والذین : واؤ عاطفہ ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ تبوء والدار صلہ ۔
تبوء ا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ تبوء (تفعیل) مصدر۔ ب د ء مادہ۔ انہوں نے ٹھکانہ بنا لیا۔ تبوء کہتے ہیں نذل واقام کہیں اترنا۔ اور وہاں اقامت گزیں ہوجانا۔ (لسان العرب)
المفردات میں ہے :۔ البواء کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی ہونا۔ (ساز گار و موافق ہونا) کے ہیں۔ مکان بواء اس مقام کو کہتے ہیں جو اس جگہ پر اترنے والے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
لغات القرآن۔
افائ۔ اس نے لوٹایا۔ اوجفتم۔ تم نے بھگایا۔ تم نے دوڑایا۔ دولۃ۔ مال و دولت۔ نھی۔ منع کردیا۔ تبوئ۔ انہوں نے ٹھکانا بنایا۔ حاجۃ۔ ضرورت۔ یوثرون۔ وہ ترجیح دیتے ہیں۔ خصاصۃ۔ ضروریات زندگی۔ فقر وغربت۔ شح۔ کنجوسی۔ لالچ۔ غلا۔ کینہ۔ بغض۔
تشریح : جنگ میں فتھ کے بعد کفار سے جو مال مجاہدین کے ہاتھ لگتا ہے اگر باقاعدہ جنگ کے ذریعہ حاصل ہو تو اس کو ” مال غنیمت “ اور ” انفال “ کہا جاتا ہے اور بغیر جنگ کے صلح کے ذریعہ مال و دولت ، زمین و جائیداد ہاتھ آتی ہے اس کو ” مال فے “ کہا جاتا ہے۔ مال غنیمت اور مال فے کو کس طرح صرف کیا جائے گا اس کے الگ الگ احکامات ہیں۔
دور جہالت میں عربوں کا دستور یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
منافقوں کا ذکر اور یہودیوں کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : یہ سورت بنی نضیر کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ یہودی تھے، جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہوکر کسی لڑیں، نہ آپ سے جنگ کریں جب جنگ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضیر نے کہایہ وہی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے پھر جب احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے نبی ﷺ اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور جو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچا اور کعبہ معظمہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[13] یعنی مدینے میں۔
[14] مراد ہیں انصار یعنی وہ مسلمان جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینے میں آباد تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 1: ان آیات میں ان لوگوں کی تفصیل بیان کی ہے ۔ جو اموال غنیمت کا استحقاق رکھتے ہیں ۔ فرمایا ۔ اس مال میں ان غریب مہاجرین کا حصہ ہے ۔ جو اپنے گھر اور اپنے مال و سامان سے جبرا جدا کردیئے گئے ۔ جو محض اللہ کی رضامندی کے طالب ہیں ۔ اور وقتاً فوقتاً جب ضرورت پڑے میدان جہاد میں بطور سپاہی کے لڑتے ہیں ۔ اور اپنی صداقت ایمانی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ پھر وہ انصار بھی اس کا ستحقاق رکھتے ہیں ۔ جو مدینہ میں پہلے سے قیام پذیر ہیں ۔ اور ایمان کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے ۔ جو مہاجرین کو وقعت کی کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی آسودگی سے نہ صرف خوش ہوتے ۔ بلکہ بسا اوقات ان کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ۔…
Read the full tafseer →(9) اور اس مال فئے کہ وہ لو گ بھی حقدار ہیں جو ان مہاجرین کی ہجرت کے پہلے سے مدینے میں ٹھکانا رکھتے ہیں اور قرار پکڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایمان میں اپنی ایک جگہ پیدا کرلی ہے جو شخص ان کے پاس ہجرت کرکے آتا ہے اس سے محبت کرتے اور نہیں پاتے خواہ ان کو کتنی ہی احتیاج اور کتنا ہی فقرو فاقہ کیوں نہ ہو وہ ان مہاجرین کو اپنی ذات سے مقدم رکھتے ہیں اور باوجود سخت احتیاج کے ان مہاجرین کو اپنے پر ترجیح دیتے ہیں اور جو اپنے طبعی بخل وحرص سے بچالیا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلی آیت سے مہاجرین مراد ہیں اور اس آیت سے انصار اور جو اس گھر میں رہتے ہیں پہلے سے یعنی…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی خود بسا اوقات فاقہ سے بیٹھ رہتے ہیں اور مہاجرین کو کھلا دیتے ہیں۔
3۔ یہ دعا معاصرین کو بھی عام ہے، مجموعہ کا حاصل یہ ہوا کہ متقدمین کے فضل کے معتقد ہیں اور محبت معاصرین کے لئے بھی عام ہے۔
Read the full tafseer →انصار مدینہ کی تعریف رب ذوالجلال والاکرام کے کلام میں
9 ؎” اور یہ حال ان لوگوں کا بھی ہے جو مدینہ میں پہلے سے موجود ہیں “ ہجرت مدینہ سے پہلے وہی لوگ مدینہ میں موجود تھے جو بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانی میں شامل تھے اور انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی اور آپ ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی اس طرح حفاظت کریں جس طرح ہم اپنے بال بچوں اور اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہیں اور اسلام کے نام پر کٹ مرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے۔ قرآن کریم کی زبان میں ان کو انصار کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ان کے ایمان اور ایمان میں ثابت قدمی کی شہادت دی گئی ہے اور فرمایا جا…
Read the full tafseer →The Merits of Ansar [ The Helpers ]
وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ ( And [ fai' is also for ] those who established themselves in the homeland [ of Madinah ] and in faith before the former ones [ arrived in Madinah ] ...59:9). The word tabawwu' means 'to make dwelling in the abode'. The word dar refers to Madinah which has a special distinction. Therefore, Imam Malik (رح) ، from one point of view, regarded Madinah Tayyibah as the most distinguishable of all the cities in the world. He used to say that wherever Islam reached and any city that was conquered, it…
Read the full tafseer →16 This implies those people who at `that time had been expelled from Makkah and other parts of Arabia only because they had embraced Islam. Before the conquest of the territory of the Ban; an-Nadir these emigrants had no permanent means of sustenance. Therefore. it was commanded that in the properties which were then taken, and in the fai properties which are taken in future there is also a share of these people along with the common poor people and the orphans and the wayfarers. With these properties all such people should be helped, who are forced to emigrate for the cause of AIlah and His…
Read the full tafseer →